وہاب اشرفی کی تنقیدی بصیرت،مضمون نگار:اسلم رحمانی

January 14, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا

وہاب اشرفی کا شمار اردو کے قابل ذکر ناقدوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تنقید نگاری ان کی ادبی زندگی کے دوسرے دور سے تعلق رکھتی ہے۔انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نویسی سے کیا تھا،ان کے افسانے ملک کے مختلف رسالوں میں شائع ہو کر بے حد مقبول ہوئے۔لیکن قدرت نے شاید انھیں تنقید کے لیے پیدا کیا تھا۔ وہاب اشرفی نے اپنی تحقیق و تنقید میں جس آزادی و بے باکی کا ثبوت دیا ہے اس کی مثال ان کی تنقیدی کتابوں بطورخاص ملا وجہی کی ’قطب مشتری اور اس کا تنقیدی جائزہ‘،’قدیم ادبی تنقید‘، ’معنی کی تلاش‘، ’نقوش ادب‘، ’مثنویات میر کا تنقیدی جائزہ‘، ’مثنوی اور مثنویات‘، ’کاشف الحقائق‘ (ترتیب مع مقدمہ)، ’سہیل عظیم آبادی اور ان کے افسانے‘، ’پطرس اور ان کے مضامین‘،  ’راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری‘، ’کا شف الحقائق: ایک مطالعہ‘،’ تفہیم البلاغت‘، ’شاد عظیم آبادی اوران کی نثرنگاری‘، ’آگہی کا منظرنامہ‘ اور ’تاریخ ادبیات عالم‘، ’اردو فکشن اور تیسری آنکھ‘ میں جابجا ملتی ہے۔ وہاب اشرفی نے اردو فارسی اور انگریزی ادب کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ان کے زمانے سے بہت قبل مغربی تنقید اردو ب پر چھا چکی تھی۔ انگریزی تنقید کے ترجمے اردو تنقید کا حصہ بن چکے تھے۔ مغربی تنقید کا وہ پیمانہ تیار ہو چکا تھا جس سے اردو کے تخلیقی ادب کو ناپا جاتا ہے۔ وہاب اشرفی کی تنقید کی اہم ترین اور نمایاں خصوصیت ان کے تنقیدی نظریات کی وضاحت اور قطعیت ہے۔ یہی سبب ہے کہ تنقیدی دبستان میں ان کو قابل تحسین مقام حاصل ہے۔ وہ کسی فن پارے پر نقد یا تبصرہ بغیر دلیل یا شواہد کے نہیں کرتے بلکہ ان کے تنقیدی مضامین کے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ فن پارے کی روح میں مستغرق ہو کر اس کے جملہ معائب اور محاسن کا ایک نباض کی طرح پتا لگاتے ہیں۔ وہ جلد بازی یا عجلت میں تنقیصی پہلو اختیار نہیں کرتے۔

انھوں نے نہ صرف اپنے پیش رو نقادوں کے کام کو آگے بڑھایا بلکہ بذات خود کئی نئی جہات بھی دریافت کی ہیں۔ وہاب اشرفی 1967 میں بہار یونیورسٹی مظفر پور سے ایم اے کرنے کے بعد وہیں ریسرچ اسکالر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دینے میں مصروف ہو گئے۔اسی اثنا میں انھوں نے وجہی کی شہرہ آفاق مثنوی قطب مشتری پر ’قطب مشتری اور اس کاتنقیدی جائزہ‘ لکھی۔

جہاں تک ملاوجہی کی اہمیت اور قطب مشتری کی افادیت کا تعلق ہے،اس کا اندازہ اسی سے ہو سکتا ہے کہ اردو ادب کے مورخین، ناقدین اور محققین نے اردوئے قدیم کے سلسلے میں وجہی کی ادبی خدمات اور بالخصوص قطب مشتری کی خصوصیات کا اعتراف واعادہ کیا ہے،لیکن یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اردو ادب میں اب تک ادبی شخصیتوں اور ادبی کارناموں پرانفرادی طور پر شرح وبسط کے ساتھ تصنیف وتالیف کا رواج بہت کم رہا ہے۔ یہ اس کا نتیجہ ہے کہ قطب مشتری کے متعلق جستہ جستہ بیانات مل جاتے ہیں لیکن یکجا طور پر تشفی بخش مطالعہ کا مواد نہیں ملتا۔ لیکن یہاں یہ بات بھی ذہن نشیں رہنی چاہیے کہ ملا وجہی پر کتابوں کی کوئی قلت نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ کہنا بیجانہ ہوگا کہ ملا وجہی کی کتاب قطب مشتری پر وہاب اشرفی کی کتاب اس سلسلے کی اہم کڑی اور ان کا ایک بہتر ین ادبی کارنامہ ہے۔

وہاب اشرفی تنقید کی راہ میں تحقیق کو بھی شریک سفر بناتے ہیں لیکن یہاں بھی معروضیت کے پیش نظر یہ کہنا بے جانہ ہو گا کہ وہاب اشرفی کی پہلی تصنیف کئی زاویوں سے تنقیدی ضابطے کے مطابق مکمل نہیں ہے۔ اس کے قطع نظر یہ حقیقت بھی ناقابل فراموش ہے کہ وہاب اشرفی جس وقت قطب مشتری کا تنقیدی جائزہ پیش کر رہے تھے، اس وقت وہ ایک طالب علم تھے اس کے باوجود وہ یہ جانتے ہیں کہ قطب مشتری پر کہاں کہاں اور کیا کیا لکھا گیا ہے۔ انھیں یہ بھی اندازہ ہے کہ ان تحریروں میں کون سی تحریر قابل ذکر ہے اور کون سی نظر انداز کر دینے کے قابل، دوسری بات یہ کہ انھیں غیر ضروری خاکساری کے اظہار سے کوئی دلچسپی نہیں، وہ محسوس کرتے ہیں کہ انھوں نے محنت کی ہے ان کا دعوی بے دلیل نہیں، کیونکہ کتاب کے بغور مطالعہ کے بعد ہی وہ کسی نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ مجموعی طور پر وہاب اشرفی نے اپنی پہلی ہی تنقیدی کتاب میں اپنے تنقیدی شعور کا اظہار کیا ہے۔ وہاب اشرفی کا یہ کارنامہ اردو ادب کے طلبہ کے لیے مشعل راہ ہے۔

فکشن کی تنقید

اردو فکشن تنقید میں وہاب اشرفی ایک نظریہ ساز کی حیثیت رکھتے ہیں۔انھوں نے نہ صرف نظری بلکہ اردو فکشن کی عملی تنقید کے بھی نہایت عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ اپنے بیش تر تنقیدی سرمایوں سے اردو کی ادبی تنقید میں اضافہ کیا۔ وہاب اشرفی کا شمار اردو افسانے کے اہم نقادوں میں ہوتا ہے۔اگرچہ انھوں نے شاعری پر بھی خوب لکھا ہے اور اردو ادب کی تاریخ لکھ کر ادبی مورخین میں بھی ہمیشہ کے لیے اپنا نام لکھوایا ہے۔ مگر فکشن پر لکھے گئے ان کے مضامین اور کتابوں کی تعداد قابل ذکر ہے۔ اردو افسا نے پر ان کی نظر گہری ہے۔ جس کی وجہ سے افسانے کی تنقید میں ان کا نام بھی ایک معتبر حوالہ ہے۔

وہاب اشرفی کے یہاں فکشن کے فن اور فکر کو سامنے رکھتے ہوئے کردار نگاری،زبان، اسالیب، تکنیک اور نفسیاتی موضوعات کے علاوہ اساطیری قدروں اور سماجی جہتوں پر سیر حاصل بحث ملتی ہے۔ اس خصوص میں غیاث احمد گدی، جوگندر پال،شفیع جاوید، منظر کاظمی، را جندر سنگھ بیدی اور سہیل عظیم آبادی کے افسانے۔ اسی طرح شاد عظیم آبادی،اختر اورنیوی، قرۃ العین حیدر، عبد الصمد اور غضنفر کے ناولوں کی لسانی اور فکریاتی ساختوں کی گرہ کشائی شامل ہے۔ وہ اپنے مضامین میں درج بالا افسانہ گاروں اور ناول نگاروں کے ناولوں پر ذو معنی اور عمیق مطالعات کو سامنے لائے ہیں۔  لیکن یہاں بھی یہ ذکر بے جا نہ ہوگا کہ دیگر افسانوں کے ساتھ ساتھ بالخصوص بیدی کے افسانوں پر انھوں نے جو نقد کیا ہے۔ ان سے کسی گہری تنقیدی شعور کا اظہار نہیں ہوتا ہے۔

وہاب اشرفی کے افکار اور تنقیدی پہلو عام روایت سے مختلف، متفرد اور قدرے اچھوتے ہیں۔ وہاب اشرفی نے بیدی کے افسانوں کے مطالعے میں ان امور کو موضوع بحث بنایا ہے جو یقیناً بیدی کی نئی تکنیک ہے۔ جس میں سوچ کی کئی تہیں یا کئی آوازیں ایک ساتھ ابھرتی ہیں اور مصنف کرداروں کے مختلف نکتہ ہائے نظر کو آزادا نہ ابھر نے دیتا ہے۔ یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ بیدی مختلف آوازوں کو کسی ایک مرکزی آواز کے تابع نہیں رہنے دیتے۔ اس کے تمام کردار اپنے نکتۂ نظر سے داخلی ارتکاز کی کسی نئی اور غیر متوقع جہت کو پیش کرتے ہیں۔ وہاب اشرفی کے مطابق ’اپنے دکھ مجھے دے دو ‘میں چھوٹے بڑے سب کردارا اپنا رویہ، اپنا انداز، اپنے اطوار اور اپنی نفسیات رکھتے ہیں اور اپنے نکتہ نظر اپنی زبان اورا پنے محاورے میں بات کرتے ہیں۔ہرچند کہ بیدی کی افسانہ نگاری پر کئی کتا بیں لکھی گئیں۔ لیکن وہاب اشرفی کی کتاب ایک الگ نوعیت کی ہے اور اس میں جس طرح اختصار سے تمام امور پر روشنی ڈالی گئی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ وہاب اشرفی جب بیدی کے افسانوں کے تجزیے سے گزرتے ہیں توان کا طریقہ کار  یہ ہوتا ہے کہ سب سے پہلے اس کا پلاٹ پیش کرتے ہیں، اس طرح کہ پوری کہانی یا قصہ کا جزو اعظم سامنے آجائے۔ایک عام قاری بھی اس بات کو جانتا ہے کہ بیدی کا ’لاجو نتی‘ افسانہ فرقہ وارانہ فساد کے پس منظر میں لکھا گیا ایک شاہکار افسانہ ہے۔ لاجونتی افسانہ کی مرکزی کردار ہے،  جسے اغوا کر لیا جاتا ہے اور پھر ایک مدت کے بعد اسے اپنے ملک ہندوستان واپس لایا جاتا ہے۔ وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگتی ہے، لیکن اس کے شوہر کے کردار میں لاجونتی کے معاملے میں جو جارحیت تھی وہ سب ختم ہو جاتی ہے اور اب وہ اسے دیوی سمجھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ شوہر کے اندر اتنی تبدیلی کیسے اور کیوں آگئی اس جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے وہاب اشرفی اپنے جائزہ میں لکھتے ہیں :

’’لیکن یہاں مسئلہ محض کسی مغویہ عورت کے سماجی مرتبے کی تجدید کا نہیں ہے بلکہ نفسیات کا ہے۔ معاشرے میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ نہایت ہی آوارہ عورتوں کے لیے یہاں گنجائش نکالی گئی ہے اور نہ صرف سماج نے بلکہ ان کے شوہروں نے بھی پوری طرح انھیں قبول کر لیا ہے، لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ لاجونتی کا شوہر سندر لال بظاہر اسے قبول کرنے اور پہلے سے زیادہ عزت دینے کے باوجود وہ مقام نہیں دے پاتا جس کی صرف لا جو نئی نہیں بلکہ ہر عورت تمناکرتی ہے۔  اب لاجونتی شوہر کے گھر میں رہنے کے باوجود اس کی بیوی سے زیادہ ایک دیوی کا روپ اختیار کر چکی ہے جو اسے پسند نہیں۔ یہ عورت کا نفسیاتی مسئلہ ہے جسے بیدی نے بڑی چابکدستی سے اس افسانے میں پیش کیا ہے۔ یہاں ایک سوال یہ بھی ابھرتا ہے کہ آخر لاجونتی اپنے شوہر سے سلوک کی کیوں متمنی ہے اور پہلے سے زیادہ عزت و حترام پانے کے با وجود کیوں غیر مطمئن ہے۔ جواب بہت سیدھا ہے۔یعنی خود لاجونتی کا ذہن صاف نہیں ہے۔ اس کے ساتھ جو واقعات گزر چکے ہیں وہ اس کے ذہن سے محو نہیں ہوئے اور شوہر کے بہترین سلوک کے باوجود ان واقعات کو نہیں بھول پاتی جو اس پر گزر چکے ہیں۔ گو یا سندر لال سے زیادہ خود لاجونتی نفسیاتی مریض بن چکی ہے جو اسے ہونا بھی چاہیے تھا۔ ‘‘

(راجندرسنگھ بیدی کی افسانہ نگاری،ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی، ص 41-42)

لاجونتی افسانہ کے اس تجزیے پر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ بیدی کے شاہکار افسانہ پر وہاب اشرفی کا تجزیہ بھی ایک شاہکار ہے جس سے ادب کے طالب علموں کے لیے مباحث کے دروازے کھلتے ہیں۔

بیدی سمیت سہیل عظیم آبادی،اختر کاظمی وغیرہ کے افسانوں پر بھی وباب اشرفی نے بہت کچھ لکھا ہے۔ اس مختصر مقالہ میں سب کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔اختصار کے پیش نظر اسی پر اکتفا کرتا ہوں۔

افسانوں کے ساتھ ساتھ وہاب اشرفی نے چیدہ ناولوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

 وہاب اشرفی نے ناول کی تنقید کے لیے جو پیمانہ اور اسلوب اپنایا ہے اس کی وجہ سے انھیں اپنے ہم عصروں میں درجۂ امتیاز حاصل ہے۔انھوں نے اپنے منفرد تنقیدی میلان اور اسلوب سے ناول اور افسانے کی فنی خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کے لیے جو طریقہ اختیار کیا اس کی انفرادیت مسلم ہے۔ وہاب اشرفی کی تنقیدی تحریروں میں جہاں عمیق النظری، فلسفیانہ استدلال اور گہری بصیرت ملتی ہے وہیں اسلوب نگارش کا ایک ایسا حسن بھی پایا جاتا ہے جو ان کی تنقیدی تحریروں میں تخلیق کی سی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ وہاب اشرفی کی تنقید سے اختلاف کی گنجائش ہے، لیکن وہ جو رائے ظاہر کرتے ہیں، پورے استدلال اور مدلل انداز میں کرتے ہیں۔ان کی تحریروں میں، سلاست، فکر و نظر اور حسن بیان کی خوبی شامل ہے۔ادب کے کئی پہلوؤں سے ان کی تحریریں اہم اور دلچسپ ہو جاتی ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ نقاد کا کام صرف فن پارے کے تجزیے اور خوبی خامی بتانے تک ہی محدود نہیں ہوتابلکہ وہ  خلاق اور تخلیق کارکی طرح تخلیق معنی بھی کرتا ہے۔ اس نکتۂ نظر سے تنقید نگار کی زبان اور اسلوب میں بھی وہ حلاوت ہونی چاہیے جو قاری کو کسی فن پارے کی گرفت میں لے سکے۔اردو افسانے اور ناولوں پر وہاب اشرفی نے بہت کچھ لکھا ہے۔فکشن کی تنقید کے حوالے سے ان کی خدمات کو بھلایا نہیں جا سکتا ہے۔

Aslam Rahmani

Dept of Urdu, Nitihwar College

Muzaffarpur- 842002 (Bihar)

Mob.: 6201742128

rahmaniaslam9@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ولی کی زبان/عبدالستار صدیقی

عبدالستار صدیقی زبان ہمیشہ بدلتی رہتی ہے لفظوں کی جو صورتیں، جو ترکیبیں آج سے سو پچاس برس اُدھر عام تھیں، آج ان میں سے بہت سی ایسی ہیں کہ

جمیل مظہری کی شاعرانہ خصوصیات، مضمون نگار: اسلم رحمانی

اردو دنیا، مارچ 2025 جمیل مظہری (2ستمبر1904، 23جولائی 1979) کا نام اردوشاعری میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ وہ باکمال شاعر تھے۔ان کی شاعری معنی آفرینی،جدت طرازی اورمتنوع مضامین کا احاطہ کرتی

میر کی شاعری میں مستعمل تلمیحات اور مضمون آفرینی:عبدالرحمن

خیالات کوایک دوسرے تک پہونچانے کے عمل کو ترسیل کہا جاہے۔ براہ راست ترسیل خیال میں تحریر، تقریر اور اشارے کو اہمیت حاصل ہے۔یعنی تحریرو تقریر اظہار خیال کے دو