،مضمون نگار: نامور سنگھ، مترجمء شیوپرکاشدلت ادب اور پریم چند

January 16, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،نومبر 2025

پریم چند کے سیاق میں دلتوں کے مسائل پر بحث ہوتی رہی ہے، آج بھی ہورہی ہے۔ لیکن دلت ادب کے سیاق و سباق میں پریم چند پر بہت کم بحث ہوئی ہے۔ پریم چند کے ادب میں بھلے ہی دلتوں کے مسائل پر لکھا گیا ہو،لیکن یہ حقیقت ہے کہ پریم چند دلت ادیب نہیں تھے۔اس سے پریم چند کی اہمیت کم نہیں ہوتی ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ماننا چاہیے۔ دلت ادب کے تصور اور پریم چند کو گڈمڈ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔پریم چند کے ادب میں دلتوں کی زندگی کا جو بھی خاکہ ملتا ہے،اسے وضاحت سے پیش کرتے ہوئے دلت ادب جو اپنی آزادی اور خود مختاری حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس پر مصرہے،اس کا پورا احترام کیا جانا چاہیے۔یہ میرا اپنا خیال ہے۔فکر کے میدان میں گھپلا کرنے اور حقائق کو خلط ملط کرنے کے بجائے واضح طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ اس نکتے کو ہمیشہ پیش نظر رکھا جانا چاہیے۔
میں پریم چند کے ادب میں دلتوں کی زندگی اور اس کے تئیں پریم چند کے وژن کا مختصر جائزہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔میری معلومات میں اس موضوع پر پہلی اور غالباً آخری کتاب ڈاکٹر کانتی موہن کی ’پریم چند اور اچھوت‘ نام سے ہے۔یہ 1982میں شائع ہوئی تھی۔اس میں پوری تفصیل ہے۔اتفاق سے یہ کتاب ایک ایسے ادارے سے شائع ہوئی تھی جو خود مالی اعتبار سے کم زور تھا۔ اس لیے اس کتاب کی اتنی تشہیر نہیں ہوسکی،جتنی ہونی چاہیے تھی۔ بہت کم لوگوں کی نظر سے یہ کتاب گزری ہے، لیکن آج بھی اس موضوع پر یہ سب سے اہم اور مستند کتاب ہے۔ڈاکٹر کانتی موہن دہلی یونیورسٹی کے ستیہ وتی کالج میں پروفیسر ہیں۔
یہ عجیب و غریب بات ہے کہ پریم چند کی پہلی تخلیق بھی دلتوں سے متعلق ہے اور آخری تخلیق بھی۔انھوں نے جو پہلی کہانی لکھی تھی،وہ کھوگئی،جسے انھوں نے بہت دنوں بعد یاد کیا، ’میری پہلی تخلیق میں‘۔ جب پریم چند بہت چھوٹے تھے اور بطور ادیب مشہور نہیں ہوئے تھے،تب ان کے خاندان میں ہوئے ایک واقعہ کو اس میں بیان کیا گیا ہے۔
پریم چند نے خود لکھا ہے کہ بڑھاپا اکثر بچپن کا اعادہ ہوا کرتا ہے اور وہ کئی طرح سے ہوتا ہے۔اس عمر میں آکر بچپن کی بہت سی پرانی باتیں اکثر یاد آتی ہیں۔ پریم چند کو گئودان لکھنے کے دوران اگر وہ واقعہ یاد آیا ہو تو کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔یہ اتفاق ہی ہے کہ پریم چند کی پہلی تخلیق کا تعلق اس بات سے ہے کہ اعلیٰ طبقہ کے لوگ کس طرح دلتوں کی عزت لوٹتے ہیں،ان کی عورتوں کے ساتھ ناجائز تعلق رکھتے ہیں۔یہ ایک طرح کے ظلم و استحصال کی شکل ہے۔آخری مکمل ناول ’گئودان‘ میں بھی پریم چند نے لکھا ہے کہ اعلیٰ طبقے کی دلت عورتوں کے ساتھ کس طرح کا برتائو کرتے ہیں۔ اس لیے پریم چند کی کہانیوں میں دلتوں کے بارے میں اگر کچھ ملے تو اس پر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ایک حساس اور باخبر ادیب کی بصیرت کی دین ہے۔
پریم چند کی زندگی اور ادب کا جو مقصد تھا اسے انھوں نے واضح لفظوں میں لکھا ہے:’’میری کوئی بہت بڑی خواہش نہیں ہے۔سب سے بڑی خواہش ہے سوراجیہ۔ہم آزاد ہوں اور وہ سوراجیہ مٹھی بھر لوگوں کا نہ ہو،بلکہ وہ سوراجیہ ہندوستان کے تمام عوام کے لیے سوراجیہ ہو،خوش حالی لے کر آئے،ان کی زندگی بہتر ہو۔‘‘یہ خاص مقصد پریم چند کی زندگی کا تھا۔شاید آزادی کے دور میں لکھنے والے تمام باخبر مصنفین کا اہم مسئلہ تھا۔سب سے باخبر مصنفین میں عموماً جن دو بڑے مصنفین کا شمار ہندی میں ہوتا ہے۔ ان میں ایک نرالا اور دوسرے پریم چند تھے۔نرالا اور پریم چند کے سامنے قومی آزادی کا جو تصور تھا،اس کا گہرا تعلق عوام سے تھا۔ سماج میں جو سب سے زیادہ دبے کچلے،استحصال زدہ اور غریب لوگ ہیں، اور جنھیں سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ان کے تئیں گہرا لگائو ہندی کے اِن دو مصنفین میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔
پریم چند کے ادب میں اور چیزیں چھوڑ دیجیے تو غالباً ہندی ادب کی تاریخ میں پہلی بار کسی ناول کا ہیرو ذات کا چمار ’سورداس‘ بنتا ہے۔متعدد لوگوں نے بیان کیاہے کہ سور داس ایک طرح سے فکشن میں گاندھی جی کی علامت ہے،طرح طرح سے لوگوں نے تجزیے بھی کیے ہیں۔لیکن یہ فخر تو پریم چند کو جاتا ہے کہ جس ادب میں تقریباً تمام بڑے اعلیٰ طبقہ کے لوگ ہوا کرتے تھے، پہلی بار ایک ناول کا ہیرو انھوں نے سورداس نام کے چمار کو بنایا۔ وہ گاندھی جی کی شبیہ دینے کے لیے سورداس چمار کی جگہ کسی برہمن،کسی ٹھاکر یا کسی کائستھ یا کسی ویشہ کو ہیرو بناسکتے تھے۔کسی نے نہیں روکا تھا لیکن پریم چند نے سورداس چمار کو ہیرو بنایا۔باوجود اس کے یہ سچ ہے کہ’رنگ بھومی‘ کا موضوع اچھوتوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ سورداس اس میں ایک کسان کی حیثیت سے آتا ہے۔ اگرچہ وہ ذات کا چمار ہے،لیکن اس کے پاس کافی زمین ہے،وہ لڑائی لڑتا ہے،اس میں اس کی زمین ہندوستان کی زمین کی علامت بن جاتی ہے۔اس زمین پر اس کا اپنا حق ہے۔یہ ویسا ہی ہے جیسے ہندوستانی عوام ہندوستان کو اپنی زمین سمجھتا ہے اور وہ حق نہیں دینا چاہتا کہ غیر ملکی آکر اس پر کارخانہ لگائیں۔اس لیے رنگ بھومی کا ہیرو ایک دلت ضرور ہے،لیکن رنگ بھومی کا اہم مسئلہ دلت کی اصلاح یا دلت مکتی نہیں ہے۔
’رنگ بھومی‘کا مسئلہ قومی آزادی ہے۔ یہ 1924 میں لکھا گیا ناول ہے اور 1925 میں شائع ہوا تھا۔ تب تک ہماری قومی تحریک آزادی میں دلت شامل نہیں ہوئے تھے۔عدم تعاون کی تحریک دلتوں کی تحریک نہیں تھی۔ ’چوری چور ا کا واقعہ‘ دلتوں کو لے کر نہیں ہوا تھا۔ ہماری قومی تحریک میں تب تک مرکز میں دلت تحریک نہیں آسکی تھی۔ باوجود اس کے کہ ایک عرصے سے بابا صاحب امبیڈکر اپنی لڑائی لڑ رہے تھے،وہ قومی تحریک یا کانگریس کا سیاسی و سماجی منشور نہیں بن سکا تھا۔یہ سچائی ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس قومی آزادی کے خواب اور جدوجہد کے شعور کے دوران پریم چند ’رنگ بھومی‘ میں جو تصویر پیش کرتے ہیں، وہ حقیقت سے کتنی بعید ہے۔مندر ہے جس میں پنڈا پروہت اور دوسرے اعلیٰ طبقے کے لوگ بھی آتے ہیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر دلت بھی کیرتن بھجن کرتے ہیں۔ بھیرو پاسی اور سورداس چمار بھی دوسرے طبقوں کے ساتھ مل جل کر مندر میں بھجن کیرتن کرتے ہیں۔اتنا ہی نہیں،سور داس کی موت کے بعد جو دعوت ہوئی،اس میں ایک ساتھ بیٹھ کر برہمنوں اور ٹھاکروں سمیت چمار اور پاسی،ڈوم ادنیٰ طبقے بھی ساتھ ساتھ کھانا کھاتے ہیں۔پریم چند آخر میں لکھتے ہیں کہ یہ سورداس کی فتح ہے۔ کاہے کی فتح ہے۔ مندر میں بھجن اور کیرتن کرتے آپ پہلے ہی دکھا چکے تھے۔ جب سورداس مرے نہیں تھے۔ سورداس کے مرنے کے بعد اگر سب لوگ ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں، پورے ناول میں یہ کہیں مسئلہ نہیں ہے اور آخر میں ایک جملہ جوڑ دیں کہ یہ سورداس کی فتح ہے۔ 1924 تک پریم چند کی یہی سوچ تھی۔ میرا خیال ہے کہ پریم چند کی سوچ و فکر اس دور قومی تحریک کے لیڈروں کے خیالات کا عکس تھی۔یہاں لگ بھگ وہی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ایسا آدرش واد اس دور میں تھا۔
لیکن اچانک ہم دیکھتے ہیں کہ پریم چند کی تخلیقات میں، ان کی کہانیوں،ان کے ناولوں میں 1931 کے آس پاس ایک بنیادی تبدیلی ہوتی ہے۔ 1931 اور1932 کا سال بہت اہم ہے۔گول میز کانفرنس ہوچکی تھی۔ بابا صاحب امبیڈکر دلتوں کے لیے ایک علیحدہ سیاسی قیادت اور انتخاب کا سوال اٹھا چکے تھے اور انگریز سرکار آزادی دینے کے لیے آمادہ تھی۔ گاندھی جی نے یرودا جیل آمرن انشن کیا تھا اور آخر میں طویل بحث اور مفاہمت کے دوران 1932 میں پونا پیکٹ (معاہدہ) ہوا۔
میرا خیال ہے کہ پریم چند کے ادب میں جو مسئلہ ’رنگ بھومی‘ جیسے عظیم ناول کے مرکز میں نہیں آسکا،وہ ’میدان عمل‘ کے مرکز میں آیا۔یہ مسئلہ ’میدان عمل‘ میں پہلی بار نظر آتا ہے۔دلتوں کا مندر میں داخلہ اور اس مندر میں رکاوٹ ڈالنے والی طاقتیں۔تب تک مہاراشٹر میں، غالباً ناسک میں،مندر میں دلتوں کے داخلے کی تحریک شروع ہو چکی تھی اور پریم چند پر اس کا اثر تھا جس کا اظہار پریم چند’رنگ بھومی‘میں کر چکے تھے کہ مندر میں سب ایک ساتھ بھجن کیرتن کرتے ہیں،انھیں پہلی بار سچ کا احساس ہوا،وہ حقیقت سے ٹکرائے۔کاشی میں رہتے ہوئے ان کی آنکھ کے نیچے وشوناتھ مندر تھا اور ان کا دھیان ہی نہیں گیا کہ وہاں دلت جاتے ہیں کہ نہیں جاتے۔جب انھیں لگا تو انھوں نے لکھا۔ ’میدان عمل‘ میں بھجن کیرتن کرنے والے برہما چاری نے یکایک دیکھا کہ ناظرین کے پیچھے کی قطاروں میں کچھ دلت بیٹھے ہوئے ہیں۔وہ اٹھے اور جوتا لے کر ان کی پٹائی کرنے لگے۔خود جب بیان کنندہ پٹائی کررہا ہو تو بھکت بھلا کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔پیروکار بھی اٹھ کر پٹائی کرنے لگے۔پریم چند نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ آخر میں بابا جی لوگ آئے تو ان کی پیٹھ پر ہاتھ رکھنے والے ٹھا کر صاحب کیوں نہیں آئیں گے۔ زمیندار بھی آگئے۔جب وہ ساتھ ہیں تو برطانوی حکومت بھی ان کے ساتھ ہوگی۔پولس آتی ہے تو گولی چلاتی ہے۔ کئی لوگ مارے جاتے ہیں۔ادھر سے شانتی کمار جیسے کچھ قومی خیال والے گاندھی جی کے نمائندہ لیڈران کے سامنے آتے ہیں اور روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ متعدددلتوں کے مارے جانے اور گھائل ہونے کے بعد گولی باری روکی جاتی ہے اور آخر میں امرکانت کے باپ سمر کانت اعلان کرتے ہیں۔اب مندر کا دروازہ دلتوں کے لیے بھی کھل گیا ہے اور اب چاہیں تو مندر میں جاسکتے ہیں۔پریم چند نے آخر میں تنقید کی ہے کہ اس دن پجاری بہت خوش تھا کہ چڑھاوا بہت زیادہ چڑھا تھا۔یہ جملہ پریم چند کا تھا۔مندر میں جانے کے لیے دلتوں کا اصرار اور گولی باری کی رواداری دکھاتے ہوئے اعلیٰ طبقوں اور اشرافیہ کا مندر کا دروازہ کھولنا اور آخر میں یہ تنقید کرنا کہ اس دن پجاری بہت خوش تھا کیونکہ چڑھاوا سب سے زیادہ چڑھا تھا،یہ بتادیا تھا کہ مندر میں تحریک ِ داخلہ سے فائدہ کن کو ہوگا۔یہ پریم چند نے سمجھ لیا تھا۔
1932 کے آس پاس وجود میں آئیں، پریم چند کی تخلیقات کو دیکھنے سے چند باتیں واضح طور پر نظر آتی ہیں، اور وہ یہ ہیں کہ دلتوں کا مندر میں داخلہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ پریم چند بہت پہلے سے دلتوں کو یا تو مزدور کے طور پر دیکھتے تھے یا کسان کے طور پر۔ ’کایا کلپ‘ میں انھوں نے خود دلتوں کو مزدور کہا ہے۔ بنیادی مسئلہ ہے دلتوں کی معاشی ترقی اور سماجی مساوات کا۔ اگر یہ نہیں ملتا تو باقی اچھوت کی اصلاح والی چیزیں جو ہیں،وہ احسان کرنے جیسی چیزیں ہیں۔ یہ پریم چند سمجھ گئے تھے۔پریم چند ایک عرصے سے مذہب کے نام پر ہندودھرم میں جو پاکھنڈ آگیا تھا،اس کے خلاف تھے،اس پاکھنڈ کے راکشش پروہت طبقہ تھے۔اس پاکھنڈ کے راکشش زمیندار بھی تھے جو اتفاق سے ذات میں یا تو راجپوت ہوتے تھے یا کچھ ساہوکار اور بنیا ہوتے تھے۔ سرمایہ، مذہب، سیاسی طاقت مل کر مذہب کا جو روپ بنتا تھا، وہ ذات پات کا زائیدہ تھا،پریم چند اسے پہچان گئے تھے۔ گاندھی جی سے پریم چند کا خیال الگ نظر آتا ہے۔ جب تک ذات پات کے نظام کو نہیں توڑا جائے گا، تب تک دلتوں کو آزادی نہیں ملے گی۔اس کی بنیاد مذہبی پاکھنڈ ہے۔مذہب کا دائرہ بڑھا ہے لیکن حقیقی مذہب نہیں رہ گیا ہے۔ اسی لیے جب تک حل کے طور پر قومی تحریک آزادی میں ایک واضح معاشی تبدیلی نہیں آتی، سماجی تبدیلی نہیں آتی یعنی سامراجیت اور سرمایہ دارانہ نظام کے ڈھانچے کے ساتھ اس سے جڑے ہوئے قانون میں تبدیلیاںپیدا نہیں ہوتیں، تب تک یہ مسئلہ دور نہیں ہوگا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ 1931 سے1936 کے مابین پریم چند ایک حقیقت نگار مصنف کے طور پر یہ تجربہ کرنے لگے تھے۔ اس کی جھلک ان کی کہانیوں اور ناولوں میں ہے۔
پریم چند کے اِن خیالات کو ’گئودان‘ کے ایک سیاق و سباق سے آپ دیکھ سکتے ہیں۔میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مذہب سے متعلق ان کے خیالات کیا تھے۔جب پنڈت ماتا دین کی پٹائی ہوگئی تھی،انھوں نے سلیا سے منھ پھیر لیا تھا۔آخر میں ایک دلچسپ بات ہوتی ہے۔پریم چند دکھاتے ہیں کہ گھر کے لوگ بھی سلیا کو نکال باہرکرتے ہیں۔ایسے میں حاملہ سلیا کو پناہ دیتی ہے پسماندہ طبقے کی ہوری مہتو کی بیوی دھنیا۔پسماندہ طبقہ کی ایک عورت۔کچھ دن بعد سلیا کا بچہ مرجاتا ہے اور آخر میں ماتا دین کا من بدلتا ہے۔ان کا پرائشچت کرایا گیا تھا،ان کی شدھی ہوئی تھی،ان کو پھر سے برہمن بنایا گیا تھا۔کاشی کے پنڈتوں نے کئی سو روپیہ لے کر،پنڈت جی کے منھ میں جو ہڈی وغیرہ ڈالی گئی تھی،اس پاپ سے انھیں مکتی دلائی تھی اور انھیں برہمن بنالیا تھا لیکن ماتا دین نے دیکھا کہ سب کچھ کرنے کے بعد بھی میرے ہاتھ کا چھوا پانی کوئی نہیں پیتا۔میرے ساتھ بیٹھ کر کوئی کھانا نہیں کھاتا۔اگرچہ پنڈتوں نے سند نامہ دے دیا ہے۔اسے عدم دلچسپی ہوئی ادھر سے بھی،ادھر سے بھی۔آخر میں سلیا کے پاس آتا ہے۔ سلیا کو تعجب بھی ہوتا ہے،جب ماتا دین کہتا ہے۔میں تمھارے ساتھ رہوں گا،تو وہ بولتی ہے تمھارا کھانا کون بنائے گا ؟بولے۔تم بنائوگی،میں کھائوں گا۔پہلے تو چماروں نے اس کا جنیو توڑا تھا اور منھ میں ہڈی ڈالی تھی۔پریم چند لکھتے ہیں کہ اس دن سے اسے دھرم سے چڑھ ہوگئی تھی۔اس نے جنیو اتار پھینکا اور پروہیتی کو گنگا میں ڈبا دیا۔اب وہ پکا کسان ہو گیا۔ماتا دین سلیا سے کہتا ہے۔میں برہمن نہیں،چمار ہی رہنا چاہتا ہوں جو اپنا دھرم پالے،وہی برہمن ہے،جو دھرم سے منھ موڑلے،وہی چمار ہے۔‘‘تو دھرم اور ذات پات کے بارے میں پریم چند کے خیال ایسے ہوگئے تھے۔
میرا خیال ہے کہ پریم چند کے ادب میں دلت زندگی کی جو تصویر پیش کی گئی ہے۔اس کی حقیقی تصویر ناولوں سے زیادہ کہانیوں میںملتی ہے۔میرے ذہن میں یہ سوال بھی ہے کہ کیوں ناولوں میں دلت زندگی کی حقیقی تصویر کم ملتی ہے،کہانیوں میں زیادہ۔مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناول کی بڑی آئیڈیالوجی کے ساتھ اس بڑے بیانیہ کے ڈھانچے میں دلت زندگی کی کہانی خاموش ہوتی ہے۔اس سیاق و سباق میں خصوصاً تین کہانیوں سدگتی،ٹھاکر کا کنواں اور دودھ کی قیمت کے ضمن میں بحث کروں گا۔سدگتی 1931 میں،ٹھاکر کا کنواں 1932 میں اور دودھ کی قیمت 1934 میں شائع ہوئی تھیں۔یہ نہیں کہوں گا کہ جس ترتیب سے کہانیاں شائع ہوئی ہیں،اسی ترتیب سے اچھی ہیں۔ ادب میں ایسا نہیں ہوتا۔لیکن یہ تین کہانیاں تین زاویوں سے دلت زندگی کی حقیقت کو بیان کرتی ہیں۔
’سدگتی‘ پر ستیہ جیت رے کی فلم آپ دیکھ چکے ہیں۔ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف دو چیزیں ہیں۔لکڑی کی گانٹھ چیرتے ہوئے دکھی مر جاتا ہے۔جب میں ستیہ جیت رے کی فلم میں اس گانٹھ کو توڑتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے باربار ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ گانٹھ محض گانٹھ نہیں ہے، وہ ذات پات کے نظام کی گانٹھ بھی ہے جسے توڑنے میں گاندھی جی بھی شہید ہو جاتے ہیں۔ اس گانٹھ کو توڑنے میں خود امبیڈکر کتنے کامیاب رہے،یہ آپ غور کریں۔اسے توڑنا آج بھی باقی ہے۔دوسری چیز پریم چند کی آئرنی ہے۔ ’’اگرچہ وہ مرگیا ہے لیکن پریت کی طرح منڈراتا رہتا ہے۔‘‘ اِدھر اس کی لاش کو گدھ اور کوّے کھاتے ہیں، ادھر ان کا مہابھوج ہورہا ہے۔آخر میں پریم چند کہتے ہیں کہ ’’جیون بھر کی بھکتی اور نشٹھا‘‘کا یہی انعام ہے۔یہ گہرے درد سے پر آئرنی ہے سدگتی کی۔ سدگتی اور ٹھاکر کا کنواں دونوں کہانیوں کو میں ساتھ ساتھ ملا کر پڑھنے کا مشورہ دوں گا۔سدگتی ایک پروہت کے ظلم وستم کی کہانی ہے اور ٹھاکر کا کنواں ایک راجپوت زمیندار کے ظلم کی کہانی ہے۔یہ دونوں کہانیاں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔صدیوں تک اس ملک میں مذہبی پاکھنڈیوں،برہمنوں اور حکومت کرنے والے چھتریوں نے مل کر باقی طبقوں کو لوٹنے اور ان کا استعمال کرنے کی کوشش کی۔پریم چند کی ان دونوں کہانیوں کو ساتھ رکھ کر دیکھنے سے یہ منظر نامہ ہمارے سامنے آتا ہے۔آپ لوگوں کو یاد ہوگا۔ٹھا کر کا کنواں میں جیسے ہی دروازہ کھلتا ہے،اس کے ہاتھ سے وہ کلش یا پانی کا گھڑا چھوٹتا ہے، اور کنویں میں گر جاتا ہے۔
پریم چند لکھتے ہیں کہ دروازہ کھلتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ شیر کا منھ بھی اتنا بھیانک نہ ہوگا۔کہانی کی ٹریجڈی یہ ہے کہ گنگی کا پتی جوکھوں سڑا ہوا گندہ پانی پی رہا ہے۔گنگی نے اس کو روک دیا کہ مت پیو، نہیں، بیمار تو تم ہو ہی،ٹھیک نہیں ہوگے۔میں تمھارے لیے اچھا پانی لائوں گی۔کہانی ختم ہوتی ہے اور جب گنگی گھر لوٹتی ہے تو وہی سڑا ہوا پانی کا لوٹا اس کے منھ سے لگا ہوا ملتا ہے۔
تیسری کہانی ہے ’دودھ کی قیمت‘۔اس کہانی میں دودھ کی قیمت کچھ اس طرح دی جاتی ہے کہ زمیندار کو بیٹیوں پر بیٹیاں ہی ہوتی چلی جارہی ہیں۔اتفاق سے بیٹا ہوا اور نار کاٹنے کے لیے بھنگن کو بلایا گیا۔ بچے کی ماں کو دودھ نہیں ہورہا تھا۔بڑے لوگوں کی عورتوں کو دودھ نہیں ہوتاکھانے پینے کے باوجودتو دودھ پلائی کا کام بھی اسی عورت کو کرنا پڑا۔خود اس کا اپنا بیٹا تھا،وہ بغیر دودھ کے پڑا رہا اور وہ مالکن کے بیٹے کو دودھ پلاتی رہی۔اس لڑکے کا نام منگل ہے۔وہ عورت ایک دن مرگئی اور منگل ان کے گھر میں ان کے ٹکڑوں پر پلتا رہا۔آخر میں منگل کو مار کر نکال دیا گیا۔پریم چند جانتے ہیں،ایسے وقت میں جب انسان ساتھ نہیں دیتا تو آدمی کا ساتھ کبھی کبھی آوارہ کتّادیا کرتا ہے۔ٹامی اور منگل دونوں بات کرتے ہیں۔یہیں پر کہانی ختم ہو جاتی ہے۔پریم چند نے لکھا ہے :’’منگل میں غیرت تو کیا تھی خوف ضرور تھا۔‘‘قابل توجہ بات ہے کہ دلت یا غریب آدمی کے ساتھ نظام کی سب سے بڑی حیوانیت ہے کہ اس میں غیرت یا احترام کا جذبہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔کہہ سکتے تھے کہ احترام اتنا ہونا چاہیے تھا کہ جب کھانا نہیں دیا تو جو جھوٹھا پھینکا جارہا تھا اسے کھانے سے منع کردیتا۔لیکن اس میں غیرت بھی ختم ہوگئی تھی۔منگل کہتا ہے،یہ لات کی ماری ہوئی روٹیاں بھی نہ ملتیں تو کیا کرتے ؟ٹامی نے پونچھ ہلائی۔کہتا ہے سریش کو اماں نے پالا تھا۔ٹامی نے پھر پونچھ ہلائی۔ لوگ کہتے ہیں دودھ کی قیمت کوئی نہیں چکا سکتا اور مجھے دودھ کی یہ قیمت مل رہی ہے۔ٹامی نے پھر پونچھ ہلائی۔ پریم چند کی کہانی فن کے اس نقطۂ عروج کو پہنچ چکی تھی جہاں بات تبصراتی یا تنقیدی زبان میں نہیں کی جاتی۔ ٹامی کی ہلتی ہوئی خاموش پونچھ کسی بڑے سے بڑے ادیب کی زبان سے زیادہ بولتی ہے اور قلم سے زیادہ لکھتی ہے۔
میں جانتا ہوں کہ ان تین کہانیوں -سدگتی،ٹھاکر کا کنواں اور دودھ کی قیمت میں پریم چند کی حقیقت نگاری اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی۔دلت زندگی پر ایک غیر دلت ادیب کے ذریعے لکھی ایسی عمدہ کہانیاں ہندی میں نہ اس وقت تھیں اور نہ آج ہیں۔خود دلت ادیبوں نے ایسی عمدہ کہانی دلتوں کی زندگی اور ان کے مسائل کو لے کر لکھی ہے یا نہیں،میں نہیں جانتا۔اس پر بحث ہونی چاہیے کہ کیا دلت زندگی پر لکھنے کی قوت و دسترس غیر دلت میں نہیں ہوسکتی؟ادب میں کیا اس طرح کا خیال ممکن نہیں ہے۔اگر کوئی ادیب دلت نہیں ہے،جس نے خود اپنی زندگی میں وہ سب کچھ بھوگا نہیں ہے،لیکن اس میں احساس ہے،وہ ہمدردی یا گہرا لگائو محسوس کرتا ہے۔اس شناخت کی کیا طاقت ہے اور کیا حد ہے؟پریم چند اپنے تخیل کی توسیع کر کے اس زندگی کے حقیقی خدوخال کی تفہیم میں کامیاب ہوئے تھے یا نہیں ہوئے تھے۔یہ ان کے فکری موقف اور اس کے تضاد کا سوال ہوسکتا ہے۔اگر کوئی کمی تھی تو وہ ان کے علم میں تھی، بھوگی ہوئی حقیقت سے ناواقف ہونے کی وجہ سے تھی،اس پر غور کیا جانا چاہیے۔
یہ حقیقت ہے کہ اس دوران خود دلت ادیبوں کی تخلیقات میں دلت سماج کی عکاسی نمایاں طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ مراٹھی سے بھی ہندی میں کافی ترجمے ہوئے ہیں۔ہندی میں نئی نسل سے متعدد نام سامنے آئے ہیں جن میں کچھ کہانی کار، شاعر اور مفکر ہمارے درمیان ہیں۔ان کی تخلیقات میں جسے کسی وقت ’’بھوگی ہوئی حقیقت‘‘ کہا جاسکتا تھا،نظر آتی ہے۔اس حقیقت سے ان لوگوں نے اپنے درد کے مابین ایک ادب پیدا کیا ہے۔اس میں جو طاقت ہے، جو تپش ہے،جو درد ہے،ساتھ ہی جو غصہ ہے اور جد و جہد کی ایک رفتار ہے۔اس سے پہلے ہندی ادب میں نہیں تھی۔ممکن ہے کہ نئی نسل کے ادیبوں میں وہ دلت ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ادب میں نئی نسل ہونے کی وجہ سے ہو۔جو ایک ناپختگی ہے۔کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ مسائل کے تئیں گہری واقفیت کے باوجودبھی تھوڑی خامی در آتی ہے۔معروضی اور مستحکم ہونے کے لیے تھوڑا صبرضروری ہے کیوں کہ کبھی کبھی ہم جس صورت میں جی رہے ہوتے ہیں،اس میں ہو کر بھی ہم نہیں دیکھ پاتے۔ اسے دیکھنے کے لیے ذرا دور جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ دونوں حالات ہوتے ہیں۔یہ وہ مسائل ہیں جو پریم چند کے ادب میں دلت زندگی کی تصویر پیش کرنے والے چیلنج کے طور پر سامنے آنے والے مسائل ہیں۔
بحث کا موضوع نہ یہ ہے اور نہ ہی وہ ہونا چاہیے کہ پریم چند ادب کو دلت ادب میں شامل کیا جائے یا نہیں۔اب تک دلت زندگی کو لے کر ادب میں غیر دلت ادیبوں نے جو لکھا ہے،وہ ہمارے ادب کا ایک باب ہے۔تاریخ ہے۔وہ تاریخ آج اس منزل پر پہنچی ہے،اب جو سچ مچ اور بڑا سوال ہے،انگریزی میں بھی جس کو لے کر نمائندگی کی۔ جہاں یہ سمجھا جارہا ہے کہ عورتوں کی نمائندگی عورتیں ہی کرسکتی ہیں،ان کی کوئی اور نمائندگی نہیں کرسکتا۔ ضروری نہیں کہ ہماری نمائندگی ہمارے درمیان کا ہی آدمی کرے۔اگر ایسا ہوتا تو پوری قومی تحریک میں کسی اور کی کوئی اورنمائندگی کیوں کرتا رہا ہے؟ آج بھی جمہوریت میں ہمارے جو نمائندے ہیں،وہ کن لوگوں کے نمائندے ہیں،جن لوگوں کے نام پر وہ گئے ہیں،ان کی نمائندگی کرتے ہیںکہ نہیں کرتے ہیں۔ادب نمائندگی کا ذریعہ ہے اور اس نمائندگی کی علمیات کیا ہوگی،اس نمائندگی کی جمالیات کیا ہوگی؟اس سے جڑا ہوا سوال ہے کہ کیا دلت زندگی کی تصویر پیش کرنے کا حق صرف دلتوں کو ہی ہے۔یہ انھیں تک محدود رہے یا دوسرے لوگوں کے لیے بھی یہ متبادل کھلا ہوا ہے اور کھلا ہونا چاہیے۔یہ ایک اہم سوال ہے۔ اس مسئلہ پر دلتوں اور غیر دلتوں کے مابین مکالمہ ہونا نہایت ضروری ہے۔یہ دلت ادب کے لیے بھی ضروری ہے۔

Dr.Shiv Prakash
Assistant Professor
CIL, SLL&CS, JNU
New Delhi-110067
shivprakash44@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

میر کی شاعری میں مستعمل تلمیحات اور مضمون آفرینی:عبدالرحمن

خیالات کوایک دوسرے تک پہونچانے کے عمل کو ترسیل کہا جاہے۔ براہ راست ترسیل خیال میں تحریر، تقریر اور اشارے کو اہمیت حاصل ہے۔یعنی تحریرو تقریر اظہار خیال کے دو

ولی کی زبان/عبدالستار صدیقی

عبدالستار صدیقی زبان ہمیشہ بدلتی رہتی ہے لفظوں کی جو صورتیں، جو ترکیبیں آج سے سو پچاس برس اُدھر عام تھیں، آج ان میں سے بہت سی ایسی ہیں کہ

وہاب اشرفی کی تنقیدی بصیرت،مضمون نگار:اسلم رحمانی

اردو دنیا وہاب اشرفی کا شمار اردو کے قابل ذکر ناقدوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تنقید نگاری ان کی ادبی زندگی کے دوسرے دور سے تعلق رکھتی ہے۔انھوں نے