اردو دنیا،نومبر 2025
انور جلالپوری کا آبائی وطن قصبہ جلالپورہے جو اجودھیا سے تقریباً 75 کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جلالپور کی جغرافیائی نقطۂ نظر سے تاریخی،علمی اور ادبی حیثیت آج بھی مسلم ہے، اسی علمی قصبے میں انور جلالپوری نے6جولائی 1047 کو اپنی آنکھیں کھولیں،ان کا اصل نام انوار احمد تھا،ابتدائی تعلیم جلالپور میں حاصل کی اور اس کے بعد اعلی تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سے انھوں نے ایم اے انگریزی کی سند حاصل کی ،اس کے بعد اودھ یونیورسٹی فیض آباد سے اردو میں ایم اے کیا، انھوں نے شاعری کا آغاز 1960 کی دہائی میں کیا، اور تقریبا نصف صدی تک تصنیف وتالیف کا سلسلہ چلتا رہا، انور جلالپوری کی تقریبا 24کتابیں منظر عام پر آئیں، جن میں کھارے پانیوں کا سلسلہ، خوشبو کی رشتے داری، جاگتی آنکھیں، روشنائی کے سفیر، اپنی دھرتی اپنے لوگ، ضرب لاالہ، جمال محمدؐ، بعد از خدا، حرف ابجد، راہرو سے راہنماتک، توشئہ آخرت، اردو شاعری میں گیتا، اردو شاعری میں گیتانجلی، اردو شاعری میں رباعیات خیام اور سیریل ’اکبر دی گریٹ‘ قابل ذکرہیں۔
انور جلالپوری کا مطالعہ نہایت وسیع ہے، ان کی شاعری میں فکر وفن کا حسین توازن اور امتزاج ملتا ہے، انور جلالپوری کی شاعری قومی یکجہتی،حب الوطنی، اخوت ومحبت، انسان دوستی ، قومی وملکی ترقی،ہندوستان کی ساجھی وراثت اور مشترکہ تہذیبی قدروں کی رفیق وپاسبان ہے، انور جلالپوری نے ہمیشہ منفی اور تحزیبی شاعری سے گریز کیا،ان کودور حاضر کا نظیراکبر آبادی کہا جاسکتا ہے، انھوں نے سماج کے ہر طبقے کو متاثر کیا،ان کی شاعری کسی علاقے، کسی ملک کی ترجمان نہیں بلکہ پوری عالمی انسانی برادری کی ترجمان ہے،ان کی شاعری ماضی کی داستان، حال کا آئینہ اور مستقبل کی پیشن گوئی ہے۔
انور جلالپوری ایک شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے نثر نگار تھے ،مولانا ابو الکلام آزاد ،علامہ اقبال کے حوالے سے ان کے مضامین نہایت اہمیت کے حامل ہیں،ان کی نثری تخلیقات غور و فکر کے در وا کرتی ہیں ،جہاں انھوں نے تاثراتی ،شخصی اور تنقیدی مضامین لکھے وہیں ایک مکالمہ نگار کی حیثیت سے بھی ادبی حلقے میں اپنی الگ شناخت قائم کی،ان کی افسانوی ورومانوی نثر ایک تاثراتی فضا ہموار کرتی ہے ،ان کا مکالماتی لہجہ قاری کو دعوت فکر دیتا ہے،انور جلالپوری جس طرح کی علمی وادبی تقریر مشاعرے میں کرتے تھے ان کے ادبی وشعری مضامین میں اس کا عکس جا بجا نظر آتا ہے، وہ فطری طور پر ایک خطیب تھے،خطیبانہ صلاحیت ان کو خدا کی طرف سے ودیعت ہوئی تھی۔
منظوم تراجم کے حوالے سے بھی انور جلالپوری کا نام اہم ہے،ان کے منظوم اردو تراجم عصری معنویت کی روح سے لبریز اور قومی یکجہتی وہندو مسلم بھائی چارے کی خوبصورت مثال ہیں۔
انور جلالپوری کے منظوم تراجم میں ’اردو شاعری میں گیتا(نغمۂ علم وعمل)‘، ’اردو شاعری میں گیتانجلی‘، ’اردو شاعری میں رباعیات خیام‘ اور ’توشۂ آخرت‘ جیسے اہم ترجمے شامل ہیں،ذیل میں انھیں تراجم کی روشنی میں انور جلالپوری کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
.1 اردو شاعری میں گیتا(نغمۂ علم وعمل)
میدان جنگ میں بھگوان شری کرشن اور مہارتھی ارجن کے درمیان طویل گفتگو اوربھگوان شری کرشن کے احکام وارشادات کو مہارشی وید ویاس نے دیووانی سنسکرت کے ساتھ 18 ابواب اور 700 اشلوکوں میں قلم بند کیا جن کا اسم مبارک ’شریمد بھگوت گیتا‘ ہے،یہ انسانی بھلائی کا عظیم منشور ہے،گیتا آدمی کو ایک مثالی اور قابل تقلید انسان بنانے کا ایک عالمی دستاویز ہے، اس کو پڑھنے میں لذت ہے،سمجھنے میں سکون ہے اور عمل کرنے میں نجات ہے ۔
آٹھویں صدی عیسوی میں آدی شنکر آچاریہ نے بڑے عالمانہ انداز میں ’شانکر بھاشیہ‘ (سنسکرت میں ’بھگوت گیتا‘ کی تفسیر) لکھی، شنکرآچاریہ ایک اعلیٰ سنیاسی بزرگ تھے جن کی تشریحات کو سمجھنا معمولی آدمی کے بس سے باہر کی بات تھی، فرانسیسی، جرمنی، انگریزی، ہندی کے علاوہ دنیا کی تقریباً تمام زبانوں میں اس مقدس کتاب کے ترجمے کیے جاچکے ہیں، ہندوستان کی اکثر علاقائی زبانوں میں اس کے ترجمے ہوچکے ہیں۔
جہاں تک گیتا کے اردو ترجمے کا تعلق ہے تو اس کی ایک شاندار روایت موجود ہے، اردو میں اس کے کم از کم 50 ترجمے ہوچکے ہیں، جن میں نظیر اکبر آبادی، مولانا حسرت موہانی، یگانہ چنگیزی، رئیس امروہوی وغیرہ کے تراجم بہت معروف ہیں۔ انور جلالپوری نے ’شریمد بھگوت گیتا‘کے مفہوم کو آزادانہ طور پر،کئی کئی شلوکوں کے مفہوم کو ایک ساتھ متعدد اشعار میں نظم کر کے مکمل بھگوت گیتاکے مفہوم کا اردو میں منظوم ترجمہ پیش کر دیا ہے،انھوں نے اس کے لیے بحر متقارب کا استعمال کیا ہے،جو ثقیل،دقیق اوربھاری بھرکم الفاظ کی متحمل نہیں ہوسکتی، یعنی ترجمہ سلیس ورواں،فصیح وبلیغ، آسان اور مترنم ہے، ترجمے کے شروع میں بھگوت گیتا سے لگاؤ، گیتا کی مختصر کہانی،گیتا کا مرکزی خیال، اس کے مخصوص پہلؤوں اور کرداروں کا مختصر تعارف بھی پیش کیا گیا ہے،یہ کتاب 18 ابواب پر مشتمل ہے،اور ہر باب کا تمہیدی خلاصہ پیش کیا گیا ہے جس سے اُس باب کے اشعار کوآسانی سے سمجھا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر گوپال داس نیرج رقمطراز ہیں:
’’میں نے گیتا کے ہندی وانگریزی بھاشاؤں کے کئی ترجمے پڑھے ہیں لیکن جیسا شری انور جلالپوری نے کیا ہے ویسامجھے کہیں دیکھنے کو نہیں ملا۔‘‘ 1
شعبۂ پولیٹیکل سائنس،لکھنؤ یونیورسٹی کے پروفیسر رمیش دکشت اس ترجمے کے حوالے سے لکھتے ہیں:
’’جناب انور جلالپوری کا بھاشاپر غضب کا کنٹرول ہے، ان کی بھاشا کی روانی گیتا کے شلوکوں کے معنوں کی پرت در پرت کھولتی چلی جاتی ہے۔‘‘2
ہنومان پرشاد عاجز ماتوی اس ترجمے کی سلاست وروانی کے تعلق سے کچھ یوں اپنے خیالات کا اظہار فرماتے ہیں:
’’موصوف (انور جلالپوری) نے نہایت سادہ، سلیس، رواں اور عام فہم زبان میں منظوم ترجمہ کر کے اپنی دوراندیشی اور بالغ النظری کا ثبوت پیش کیا ہے،کم اردو جاننے والے اور ہندی داں طبقہ بھی اسے بآسانی پڑھ اور سمجھ سکتا ہے ۔‘‘3
انور جلالپوری نے شری کرشن جی کے پیغام جنگ وشجاعت کو جو انھوں نے ارجن کو دیا تھا، کتنے آسان انداز میں شعری حلاوت ولذت کے ساتھ پہنچانے کی کوشش کی ہے، ملاحظہ ہو ؎
اے ارجن! ہواؤں کا رخ موڑ دے
یہ نامردی وبزدلی چھوڑ دے
یہ فطرت تمھیں زیب دیتی نہیں
ڈبو دے نہ تم کو یہ عادت کہیں
اٹھو جنگ کے واسطے اٹھ پڑو
لیے ہاتھ میں اسلحے اٹھ پڑو
ایک اور مثال دیکھیںکہ کس آسان اور فصیح وبلیغ انداز میں انور جلالپوری نے گیتا کے پیغام الوہیت ووحدانیت کی ترجمانی کی ہے، جسے پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ گیتا نہیں بلکہ قرآن عظیم کا ترجمہ ہے ؎
خدا ہے ازل سے ابد تک خدا
نہیں اس کی قدرت کی کچھ انتہا
وہ موجود ہے اور دیکھے سبھی
وہ اِک لمحے کو بھی نہ سوئے کبھی
.2 اردو شاعری میں گیتانجلی
’گیتا نجلی‘ رابندر ناتھ ٹیگور کی ایک شہرۂ آفاق تصنیف ہے، جو 1912 میں انگریزی میں شائع ہوئی، یہ ٹیگور کا103 نظموں پر مشتمل وہ ادبی شاہکار ہے جس پر 1913 میں انھیں دنیاکے ممتاز ترین ’نوبل پرائز‘سے نوازا گیا، گیتا نجلی کے موضوعات ہمارے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے واقعات سے لیے گئے ہیں، اس کے نغمے اور گیت موسیقیت، رمزیت اور حسن کی ایسی کیفیت رکھتے ہیں جن کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ گیتانجلی کی شعری کائنات کا خمیر موسیقی، شاعری اور محبت کے ابر نیساں میں گوندھا گیا ہے،گیتانجلی کی روحانیت سے بھرپور اور مادہ پرستی سے لاتعلق شاعری کی ہر طرف مقبولیت اور شہرت کا نتیجہ یہ ہوا کہ ٹیگور کی شاعری کے مختلف زبانوں میں تراجم ہونے لگے،اردو میں بھی اس کے کئی منثور اور منظوم تراجم ہوئے ہیں، اردو میں’گیتانجلی‘ کا پہلا نثری ترجمہ نیاز فتح پوری نے کیا ،اس کے بعد جوش ملیح آبادی اور فراق گورکھپوری نے بھی اس کے نثری تراجم کیے، ان نثری تراجم کے علاوہ کئی شعر ا نے ’گیتانجلی‘ کے منظوم تراجم کیے، ان میں عبد العزیز خالد،عبد الرحمن بجنوری،سہیل احمد فاروقی اورانور جلالپوری کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اردو شاعری میں گیتانجلی دراصل ’گیتا نجلی‘کے مفہوم کا منظوم اردو ترجمہ ہے۔ انور جلال پوری نے یہ ترجمہ کیوں کیا؟خود مترجم کے الفاظ میں دیکھیے:
’’ ٹیگور کی نظموں میں ایک خاص قسم کا روحانی نشہ ہے جو دماغ کی غذا بن جاتا ہے اور دل کے لیے شیرینی، ٹیگور کی ’گیتانجلی‘ کو پڑھتے پڑھتے میرے شاعرانہ ذوق نے مجھے مجبور کر دیا کہ میں اردو شاعری میں ان نظموں کا ترجمہ کروں۔‘‘4
دلچسپ بات یہ ہے کہ انور جلالپوری کو بنگلہ زبان سے براہ راست کوئی واقفیت نہیں تھی، اس لیے انھوں نے گیتانجلی کے ترجمے کے لیے انگریزی نسخے کا سہارا لیا، جس کو خود ٹیگور نے کیا تھا جو ڈبلیو بی ییٹس کے تعارف کے ساتھ1912 میں شائع ہوا، انور جلالپور ی نے لفظی ترجمے کا کوئی دعوی نہیں کیا،ٹیگور کا اصل بنگالی متن تھا اور انور جلالپوری نے اپنے ترجمے کو گیتا نجلی کے مفہوم کا شاعرانہ ترجمہ قرار دیا ہے،’گیتا نجلی‘ بنیادی طور پر ایک روحانی اور مذہبی دستاویز ہے ،لیکن اس میں کسی ایک عقیدے کو دوسرے پر ترجیح دینے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔
انور جلالپوری نے ’گیتانجلی‘کے ترجمے کا آغاز اس طرح کیا ہے ؎
تری مرضی بنایا تو نے لا محدود مجھ کو بھی
یہ عزت بخش دی ہے اے مرے معبود مجھ کو بھی
مری ہستی تو سچ مچ اک بہت کمزور پیالہ ہے
اسی پیالے میں میری زندگی بھر کا نوالہ ہے
خداوند تعالی نے انور جلالپوری کوعلمی اور ادبی بلندیوں کے ساتھ دل درد مند ،نگہ بلند اور فکر ارجمندبھی عطا کی تھی،ذیل کے اشعار کو گنگناتے جائیے اور سوز وگداز کو محسوس کرتے جائیے ؎؎
پہاڑوں،گھاٹیوں میں تو اسے لے لے کے جاتا ہے
یہ ہے وہ بانسری جس کا فضاؤں تک میں نغمہ ہے
جو اس کے سر، جو راگ اس کے، ہے کافی تازگی ان میں
نیا پن ہر طرح کا ہے، نئی ہے زندگی ان میں
جو تیری بخششیں ہیں وہ مرے ہاتھوں کو ملتی ہیں
ہزراوں سال تک یہ بخششیں مجھ پر برستی ہیں
ٹیگور کی شاعری کا اصل رنگ متصوفانہ ہے ، جس میں ہجر ووصال کے ساتھ موت وزندگی کے لافانی حقائق کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے،جذب وسرمستی،شیفتگی ووارفتگی کی لڑی میں پروئے ہوئے الفاظ میں ایسی باتیں کہی گئی ہیں جو فارسی کی شعری روایت سے در آمدکی گئی ہیں ؎؎
مرے مالک میں کیا جانوں کہ نغمہ تیرا کیسا ہے
بڑی حیرت سے میرا دل ترا سنگیت سنتا ہے
مری خواہش ہے تیری لے سے اپنی لے ملاؤں میں
مگر جو کامیابی ہے اسے ہرگز نہ پاؤں میں
ٹیگور کی شاعری کو سمجھنے کے لیے دریا کی موجوں، لہلہاتے کھیتوں، اڑتے پرندوں، مٹی سے اٹھتی خوشبوؤں اور بدلتے موسموں اور وقت کے متنوع رنگوں کو سمجھنا اور پہچاننا ضروری ہے،انور جلالپوری کے ترجمے سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے شاعری کے ترجمے کے لیے لفظوں کے لغوی معنی کو کافی نہیں سمجھا بلکہ ان کی روح میں اترنے کی کوشش کی ہے ؎؎
مجھے کشتی کو اب دریا کی موجوں میں چلانا ہے
مجھے بھی آج اپنے حوصلوں کو آزمانا ہے
مجھے افسوس ہے ساحل پہ میں بیکار بیٹھا ہوں
کوئی میرا نہیں ہے میں یہاں بے یار بیٹھا ہوں
سنوٹیگور! یہ کیسی خلا میں گھورتے ہو تم
کہاں پر ہے تمھارا ذہن، اور کیا سوچتے ہو تم
انور جلالپوری کے ترجمے میں ’گیتا نجلی‘روحانیت سے زیادہ انسانیت کی داعی اور پیامبر معلوم ہوتی ہے،انور جلالپوری کا یہ بنیادی امتیاز ہے کہ انھوں نے اپنی تحریروں، تقریروں اورمشاعروںکے توسط سے لوگوں کے درمیان دوریوں اور فاصلوں کو کم کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے،اور اس طرح وہ برصغیر میں سیکولر روایات کے پاسبان،گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار اور ہندوستان کی ساجھی وراثت اور تہذیب کے ایک بڑے وکیل کی حیثیت سے نمایاں ہوئے۔
3 توشۂ آخرت(منظوم مفہوم پارہ عمّ)
قرآن ایک کتاب ہدایت ہے، دستور ربانی ہے، صحیفۂ آسمانی ہے،کتاب عمل ہے،منشور زندگی ہے، اس کا ایک ایک حرف شک وشبہ سے بالاتر ہے،یہ دنیا کی واحد مذہبی کتاب ہے جو علم ورحمت کے تذکرے سے شروع ہوتی ہے،یہ کتاب دنیا کو نہ تو بر اعظموں میں بانٹتی ہے نہ عرب وعجم میں کوئی امتیاز رکھتی ہے،اس کی تعلیمات ہر اس شخص کے لیے ہے جو کرۂ ارض کے کسی بھی سرد وگرم علاقے یا سبزہ زار وریگزار میں سانسیں لے رہا ہو۔
قرآن پاک کے اردو نثری تراجم کے ساتھ ساتھ ایک اچھی خاصی تعداد اردوکے منظوم ترجموں کی بھی ہے،انھیں میں سے قرآن کے تیسویں پارے کا ایک بہترین اردو منظوم مفہوم ترجمہ ’توشۂ آخرت‘ کے نام سے انور جلالپوری کا بھی ہے،اس کے حوالے سے وہ خودلکھتے ہیں:
’’میرے پاؤں میں سیاسی دلچسپیوں کی ایک زنجیر پڑی ہوئی تھی میں نے اسے ایک لمحے کے فیصلے میں توڑ دیااور پختہ ارادہ کر لیا کہ اب کچھ اس جہان دائمی کے لیے کرنا چاہیے جو ہمیشہ کے لیے ایک ٹھکانہ ہے، لہٰذا میں نے قرآن پاک کے تیسویںپارے کے منظوم ترجمے کا نیک اور پاکیزہ کام شروع کردیا،رحمت باری میرے ساتھ رہی،اللہ کا شکر ہے کہ یہ مقدس کام میرے قلم سے مکمل ہوا۔‘‘5
دیکھیے قرآن کریم کی پہلی سورت سورۂ فاتحہ کی کس بلیغ اور آسان انداز میں ترجمانی کی ہے، چند اشعار ملاحظہ ہوں ؎
ہے تعریف ساری خدا کے لیے
جوکن کہہ دے اور ساری دنیا بنے
وہی رب تو سارے جہانوں کا ہے
مکانوں کا ہے لا مکانوں کا ہے
رحیم اور رحمن بھی اس کے نام
چلائے وہی سارے جگ کا نظام
قیامت کے دن کا بھی مالک وہی
اسی کے اشارے سے دنیا سجی
تری ہی عبادت سے ہے واسطہ
مددکے لیے ہے تجھی سے دعا
4 اردو شاعری میں رباعیات خیام
یہ مجموعہ عمر خیام کی 72 رباعیات کے مفہوم کے منظوم اردو ترجمے پر مشتمل ہے۔
عمر خیام بادشاہ طغرل کے دارالحکومت نیشاپور میں 1039 میں پیدا ہوئے تھے اور یہیں 1131 میں ان کا انتقال ہواتھا،عمر خیام کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف نہ صرف مشرق میں بلکہ مغرب میں بھی بڑے ذوق وشوق کے ساتھ کیا گیا،بلکہ کچھ دانشوروں کا تو یہ ماننا ہے کہ عمر خیام کی شاعری کا مغرب زیادہ دیوانہ ہے،دنیا کی بے شمار زبانوں میں ان کی شاعری،علمی اور سائنسی کارناموں کا ترجمہ ہوچکا ہے،یہ عجیب بات ہے کہ عوام انھیں صرف ایک شاعر سمجھتے ہیں اور وہ بھی جام و پیمانہ میں ڈوبا ہوا شاعر۔
عمر خیام کی رباعیات کا پہلا نسخہ 1423 میں مرتب ہوا تھا جبکہ ان کا انتقال 1131 میں ہواتھا،ان تین صدیوں میں ان کی شخصیت پر بڑے گرد وغبار جم چکے تھے۔
خیام کی رباعیات کو شہرت اس وقت ملی جب انگریز شاعر فٹز جیرالڈ نے 1859 میں خیام کی منتخب 75رباعیات کا انگریزی زبان میں بہترین ترجمہ کیا،اس کے علاوہ ہندوستان میں بھی ’رباعیات خیام‘ کے کئی ترجمے ہوچکے ہیں ،ان میں راجا مکھن لال ،عبد الحمید عدم اور واقف مرادآبادی کے ترجمے قابل ذکر ہیں،ان کے ترجموں نے ہندوستان میں عمر خیام کو بہت مقبول بنایا، انھیں ترجموں میں ایک اہم ترجمہ ’اردو شاعری میں رباعیات خیام‘کے نام سے انور جلالپوری کا بھی ہے، اپنے اس ترجمے کے حوالے سے انور جلالپور ی لکھتے ہیںــ:
’’میں نے عمر خیام کی رباعیات کا ہوبہو ترجمہ نہیں کیاہے،بلکہ ان کے مفہوم کا ترجمہ رباعیات یا قطعوں میں بھی نہیں کیا ہے، میں نے مفہوم کو اردو نظم میں پیش کر دیا ہے، اس کام کو میں نے بڑی شعری دلچسپی کے ساتھ کیا ہے، زبان اتنی آسان ہے کہ دیوناگری رسم الخط والے بھی پڑھ کر بے انتہا لطف اندوز ہوں گے، تقابلی مطالعہ طالب علمی کے زمانے سے میرا ذوق بھی تھا اور میرا شوق بھی ،یہ ترجمہ اسی کا نتیجہ ہے۔‘‘6
دیکھیے ذیل کے اشعار میں کس خوبصورت انداز میں انور جلالپوری نے جمشید کے دربار کا نقشہ کھینچا ہے ؎
جہاں کل شام تک جمشید کا دربار لگتا تھا
جہاں پر میکدے کا اک ہنسی ماحول سجتا تھا
وہاں پر آکے شیروں نے بھی اب مسکن بنایا ہے
وہاں کتوں نے بھی گھر جیسا اک آنگن بنایا ہے
وہاں بہرام جیسا شاہ جو مشہور عالم تھا
کبھی شعلہ تھی فطرت اور کبھی جو خود ہی شبنم تھا
وہ ساری طاقتیں لے کر کے زیر خاک سوتا ہے
وہ خر کے لات کھاتا ہے نہ ہنستا ہے نہ روتا ہے
ایک مثال اور دیکھیں جو شعری لطافت وحلاوت سے معمورہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی بے ثباتی کو بیان کرتی ہے ؎
یہ قصہ جو پینے پلانے کا ہے
گلاسوں سے آواز آنے کاہے
تماشا یہ ہے مختصر وقت کا
بڑا عارضی ہے سفر وقت کا
سبھی بے خبر اس کے انجام سے
ڈریں اچھے اچھے اسی نام سے
اب راہ عشق کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ؎
رہ عشق حد درجہ دشوار ہے
کہ اس رہ میں قربانی درکار ہے
در میکدہ سے ملے روشنی
تو بڑھ جائے انسان کی زندگی
اسی رہ پہ جلوے بھی قربان ہوں
عبادت کے رستے بھی قربان ہوں
در میکدہ عشق کا راستہ
یہیں سے ملے حسن کا فلسفہ
رباعیات عمر خیام کی اصل خوبی بیان کی تاثیر ہے جس نے ہمیشہ پڑھنے والوں کو مسحور کیا ہے، ان میں انسانی محبت کے معاملات سے لے کر فلسفیانہ افکار تک سب کچھ موجود ہے۔
اس مختصرسے جائزے کے بعد پورے وثوق ویقین کے ساتھ یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ انور جلالپوری کے منظوم اردو تراجم عصری روح،زمانے کے تقاضوں اور اس کی ضروریات، زبان وبیان،معنی ومفہوم، احساس وخیال، غنائیت وموسیقیت، ندرت وجدت، فصاحت وبلاغت، سلاست وروانی،لطافت وشیرینی غرضیکہ ہر اعتبار سے اردو ادب کے سب سے کامیاب ومنفردمنظوم تراجم کی فہرست میں جگہ دیے جانے کے قابل ہیں،یہ ترجمے بلاشبہ انور جلالپوری کی دنیا کی متعدد زبانوں پرگرفت، مختلف انسانی تہذیبوں اور قوموں کی تاریخ وتمد ن سے گہری واقفیت اور مختلف ادیان ومذاہب سے قلبی لگاؤ اور وابستگی کی شہادت دیتے ہیں۔
حواشی
1 انورجلالپوری، اردو شاعری میں گیتا (نغمۂ علم وعمل) نعمانی پرنٹنگ پریس ،گولہ گنج،لکھنؤ،جولائی 2013، ص10
2 ایضاً،ص19
3 ایضاً،ص25
4 انور جلالپوری، عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی، روشن پرنٹرس، دہلی، 2014، ص13
5 انورجلالپوری، توشۂ آخرت(منظوم مفہوم پارہ عمّ)، ص17
7 انور جلالپوری،اردو شاعری میں رباعیات خیام،ص8
Mohd Suhail
Research Scholar, Department Of Urdu
Lucknow University, Lucknow
Mukarim Nagar, Daliganj, Lucknow-226020 (UP)
Mobile: 8934069774
E-mail: sahilsayeed1990gmail.com