شاعری اورفکشن میںمجھےنئی تخلیقی توانائی نظرنہیں آتی ہے : خالد علوی مضمون نگار: غلام قادر

January 16, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،نومبر 2025

ڈاکٹر خالد علوی اردو کے اہم نقاد اور دانشور ہیں۔ ان کی پیدائش20 جون 1962کو ضلع بجنورقصبہ چاند پورمیں ہوئی، ان کی ابتدائی تعلیم گلاب سنگھ کالج چاند پور میں ہوئی اور اعلی تعلیم کے لیے دہلی یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور پھر وہیں درس و تدریس سے وابستہ ہوگئے۔ان کی بارہ سے زائد تصانیف ہیں جن میں’غزل کے جدید رجحانات‘،’انگارے کا تاریخی پس منظر اور ترقی پسند تحریک‘ اور’اصطلاحات ذوق‘ وغیرہ اہم ہیں۔ ان کے مضامین بر صغیر کے معتبر رسائل و جرائد کے علاوہ اردو،ہندی اور انگریزی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

غلام قادر:آپ کا جس خطے سے تعلق ہے، ظاہر ہے کہ وہ بڑا مردم خیز علاقہ ہے۔ آپ کے بچپن اور جوانی کے دنوں میں وہاں کی سماجی اور تہذیبی صورت حال کیا تھی، خاص طور پر اردو معاشرہ کیسا تھا ؟کیا آپ اس میں کوئی نمایاں تبدیلی محسوس کرتے ہیں؟
خالد علوی:مغربی یوپی کے چھوٹے سے شہر بجنور کا ایک قصبہ چاند پور ہے، وہیں سے میرا تعلق ہے، آپ کو میں ایک واقعہ بتاؤں کہ نثار احمد فاروقی صاحب، ایک ہمارے قریب میں ریلوے اسٹیشن ہے گجرولہ، وہاں اپنی آوارگی کے دنوں میں ٹہلتے ہوئے میرے والد کو مل گئے تو میرے والد انھیں گھر لے آئے۔ کہیں سے واپس آرہے تھے تو میرے والد نے دیکھا کہ پڑھا لکھا آدمی ہے تو اپنے گھر لائے… نثار فاروقی نے میری ایک کتاب کے فلیپ پر لکھا ہے کہ اس گھر میں منشی نول کشور کی کوئی کتاب ایسی نہیں تھی جو وہاں نہ دیکھی ہو۔ اتنی کتابیں گھر میں تھیں، نگار کی فائلیں وہاں تھیں، ایک سمینار ہوا دہلی میں ذکاء اللہ پر… ذکاء اللہ کی تاریخ ہند بیس جلدوں میں ہے،مجھے ایک جلد کی تلاش تھی،کسی لائبریری میں مکمل نہیں ملی،وہ مجھے اپنے گھر میں مل گئی۔ بعد میں وہ ساری کتابیں دیوبند کو دے دی گئیں، تو گھر کا ماحول اس قدر علمی تھا۔ میرے چچا بہت لکھتے پڑھتے تھے،میرے دادا بھی تھوڑی بہت شاعری کرتے تھے،والد صاحب بھی اردو،فارسی کی شاعری کرتے تھے۔میرے چچا،والد صاحب اور تایا میاں جب تینوں لوگ بیٹھتے تھے تو میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا تھا۔ ایک دوسرے کو فارسی کا شعر سناتے تھے،اس کے علاوہ تین چار شخصیتیں چھوٹے سے شہر میں ایسی تھیں جو بہت عالم تھیں۔ ان میں ایک پروفیسر شبیر صاحب تھے۔ انھوں نے ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب کے زمانے میںجب ایم اے او کالج تھا اس وقت یونیورسٹی نہیں تھی، ایم اے فلاسفی کیا تھا۔ ریٹائر ہو گئے، میرے دادا کے دوست تھے۔ ان کے انتقال کے بعد پھر میرے والد کے دوست ہوئے اور ان کے انتقال کے بعد مجھے اپنا دوست کہنے لگے تھے۔ انھوں نے مجھے فارسی، انگریزی اور اردوپڑھائی۔زیادہ پریشانی یہ تھی کہ صبح کو مجھ سے پوچھتے تھے کہ آپ نے نماز پڑھی۔ میں ان سے جھوٹ بول نہیں پاتا تھا،اس لیے میرا رشتہ ان سے پڑھنے پڑھانے کا زیادہ دنوں تک چل نہیں سکا۔ اب میں سوچتا ہوں، اتنے عالم آدمی سے جس قدر استفادہ کرنا چاہیے تھا، نہیں کر سکا۔ کوثر چاند پوری بہت بڑے ادیب تھے پچاس ساٹھ کتابیں ہیں ان کی،وہ چاند پور سے بھوپال چلے گئے تھے پھر دہلی آئے۔ ان کے ایک بڑے بھائی حکیم علی اکبر صاحب تھے، وہ بعد میں نابینا ہوگئے تھے، لیکن وہ اردو کے مقبول رسائل جیسے شمع، بیسویں صدی وغیرہ بچوں سے پڑھوا کر سنتے تھے،با خبر رہتے تھے، اس کے بعد کے لوگوں میں بہت سارے ایسے لوگ تھے جو اردو،عربی اور فارسی وغیرہ کے عالم تھے۔ ہمارا ایک بھٹہ تھا اینٹوں کا،شہر سے باہر دس بارہ کلو میٹر دور،ایک بار میں اپنے دوست کے ساتھ گیا۔ وہاں ایک نمبر دار صاحب کہلاتے تھے، انھوں نے دیکھ کر کہا یک نہ شد دو شد۔ میرے دوست نے ان سے پوچھا آپ فارسی جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا ہم تو مولوی سلیم اللہ کے پڑھائے ہوئے ہیں ۔ چاند پور میں ایک سلیم اللہ علوی صاحب تھے جنھوں نے علاقے کے بہت سے ہندو مسلمانوں کو اردو فارسی پڑھائی تھی،اس زمانے میں آج کی طرح اسکول مدرسے تو تھے نہیں تو اس زمانے کے جو ہندو تھے وہ بھی اردو فارسی سیکھتے تھے۔اب افسوس کی بات یہ ہے کہ نہ تونئے لڑکے جانتے ہیں نہ پرانے کوئی بزرگ ایسے ملتے ہیں۔
شہر میں شاعری کا بہت چرچا تھا۔ مشاعرے ہوتے تھے،نشستیں ہوتی تھیں۔نشستیں اب بھی پانچ دس لوگ کرتے ہیں مگر پہلے جیسی بات نہیں رہی۔ وہ پورا ماحول ختم ہو گیا ہے۔جب تک میںنے ایم اے وغیرہ کیا، ادھر ہی رہتاتھا۔ دو دلت لڑکے ایک سنار شاعری کرتے تھے۔تو یہ نہیں کہ صرف مسلمان لوگ آتے تھے، اب وہ آہستہ آہستہ سب ختم ہو رہا ہے۔وہاں پر ایک ڈگری کالج ہے۔ میں نے اس میں اردو کی شروعات کرائی تھی، وہاں اردو چل رہی ہے مگر اب سب کچھ صرف برائے نام رہ گیا ہے،پہلے کی طرح اب اساتذہ نہیں ہیں۔
غ ق:آپ اپنے زمانے کے اساتذہ کے بارے میں کچھ بتائیں۔
خ ع:ہمارے زمانے میں خواجہ احمد فاروقی صاحب، جاوید وششٹ صاحب یہ سب اساتذہ تھے۔ عبادت بریلوی صاحب،شبیہ الحسن صاحب،عسکری صاحب وغیرہ ہمارے زمانے میں نہیں تھے یہ سب لوگ بہت پہلے تھے لیکن ہمارے کالج میں تھے۔جو ذرہ جس جگہ تھا وہیں آفتاب تھا۔جاوید وششٹ صاحب پنڈت تھے، شاعری بھی عمدہ کرتے تھے اور دکنی ادب پر ان کی گہری نظر تھی۔ انھوں نے مولوی عبدالحق سے دکنیات پڑھی تھی، جب میری تقرری ہوئی تو جاوید وششٹ صاحب ڈھونڈتے ہوئے مجھ سے ملنے آئے اور کافی دیر تک سمجھایا، وہ ہریانہ سے آتے تھے،ریٹائر ہو گئے تھے۔ ایک بار میں نے ان سے کہا کہ آپ وہیں اکاؤنٹ کھلوالیں، پیسے آتے رہیں گے تو انھوں کہا، یہ تو مجھے بھی معلوم ہے مگر مہینے میں ایک بار آجاتا ہوں تو کالج نظر آجاتا ہے، لوگوں سے ایک بار ملاقات ہو جاتی ہے۔ ذکیہ انجم صاحبہ نے مجھے بتایا کہ جب ان کا اپائنٹمنٹ ماتا سندری کالج میں ہوا تو اگلے دن ان سے پہلے جاوید وششٹ صاحب وہاں پہنچ گئے اور دروازے پر کھڑے تھے۔ ان سے کہا بیٹے آج پہلا دن ہے تمھارا، یہ نظم پڑھانا اور اس اس طرح پڑھا دینا اور کوئی دشواری ہو تو کالج کے بعد میرے پاس آجانا… دیکھیے اپنے اسٹوڈنٹس کا کتنا خیال کرتے تھے،نہ صرف پڑھنے اور لکھنے کے معاملے میں بلکہ کالج کے باہر دیگر مسائل کو بھی حل کرتے تھے۔اب شاید تھوڑی سی دوری آگئی ہے۔ استاد شاگرد کے رشتے کمزور پڑتے جا رہے ہیں، اگر ہمارے رابطے اچھے ہوں گے تو ہم زیادہ بہتر طریقے سے پڑھائیں گے بھی اوراسے قابل بنا پائیں گے، یہ سب چیزیں اردو کی صورت حال سے متعلق ہیں۔
اب ہم لوگوں کو تو بس نئے لوگوں سے امید ہے کہ خدا کرے جو خلا ہے اسے پر کریں اور اس کا تو صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ خوب پڑھیں،ہرطرح کی چیز یں پڑھیں، صرف اپنے موضوع پر نہیں پڑھیں، صرف اردو نہیں پڑھیں بلکہ اور بھی دوسری چیز پڑھیں جس سے ذہن کشادہ ہو۔
غ ق:موجودہ وقت میں اردو زبان کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟آیا اردو ریڈر شپ کم ہوئی ہے یا اس میں اضافہ ہوا ہے؟ اور اگر اس میں خاطر خواہ اضافہ یا کمی واقع ہوئی ہے تو اس کے کیا اسباب ہیں؟
خ ع:دیکھیے بڑا عجیب سا مسئلہ ہے۔ اردو سے پیا ر کرنے والوں کی تعدادہماری آبادی کے لحاظ سے ہی بڑھ رہی ہے، جو اردو رسم الخط ہے، اس کے پڑھنے والوں کی تعداد کم ہو رہی ہے۔ ہم لوگ ذمے داری سرکاروں پر ڈال دیتے ہیں کہ سرکا ر اردو کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے۔ کئی صوبوں میں اردو سرکاری زبان ہے، لیکن گھروں میں تو ہمیں ہی پڑھانی پڑے گی۔ اگر آپ دیکھیں بہادر شاہ ظفر مارگ سے لا تعداد اردو کے اخبارات نکلتے تھے وہ سب بند ہو گئے، پڑھنے والے کم ہوئے جبھی تو بند ہوئے۔شمع کی اشاعت ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ بیسویں صدی، مجرم، ہما، محراب، خاتون مشرق، آستانہ، دین دنیا یہ سب وہ رسائل تھے جو چالیس پچاس برسوں سے نکلتے تھے، وہ سب ختم ہو گئے۔ کھلونا بچوں کا رسالہ تھا، جس کی اشاعت بہت تھی اور میری جنریشن کے لوگ تو کھلونا پڑھ کر ہی بڑے ہوئے، اس لحاظ سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ریڈر شپ کم ہوئی ہے۔ رسم الخط جاننے والے کم ہوئے ہیں، اردو لٹریچر اور زبان سے دلچسپی بڑھی ہے، دیکھیے آپ جشن اردو کے پروگرام میں جائیں، وہاں بڑی تعداد میں لوگ جاتے ہیں، وہاں اردو سے محبت کرنے والے ہوتے ہیںمگر یہ جو جشن ہیں یا میلے ہیں یہ کوئی سنجیدہ لٹریری مسئلہ نہیں ہے، لیکن دلچسپی تو ہے، غزل سے، شاعری سے کسی طرح سے، اب یہ ہمارا کام ہے کہ ان کا جو شاعری کے بارے میں شعور ہے، اسے ہم بہتر بنائیں، جو ہم نہیں کر رہے ہیں۔دلچسپی تو ہے لوگوں میں لیکن ر سم الخط پڑھنے والے کم ہوتے جارہے ہیں۔
غ ق:رسم الخط جاننے والوں کی کمی کے کیا اسباب ہیں؟
خ ع:اس کو آپ ایک مثال سے سمجھیں کہ ہٹلر نے اپنے زمانے میںعبرانی (Hebrew) زبان پر پابندی لگا رکھی تھی کہ کوئی نہیں پڑھے گا، تو جو یہودی عورتیں تھیں، انھوں نے اپنا پورا طریقہ بدل دیا، دوسری عالمی جنگ جاری تھی تو لائٹ نہیں جلا سکتے تھے، جسے بلیک آوٹ کہتے ہیں کہ اگر لائٹ جلے گی تو بمباری ہو جائے گی۔تو وہ صبح چار بجے موم بتی جلا کر اپنے بچوں کو عبرانی زبان سکھاتی تھیں۔ وہاں سرکار دشمنی کررہی تھی، پڑھنے نہیں دے رہی تھی،یہاں تو کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے، ہم لوگ اپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے ہیں۔ کچھ ایسے کام ہوتے ہیں جو اسکول کے ہوتے ہیںکچھ کام گھر کے ہوتے ہیں۔ ہم نے گھروں والا کام بند کر دیا ہے۔میں اپنی مثال بھی آپ کو دے سکتا ہوںکہ میں سائنس کا طالب علم تھا، اردو کسی اسکول کالج میںنہیں پڑھی، ایم اے سے پہلے،مگر میں اوروں سے زیادہ جانتا تھا کیوں کہ گھر میں ویسا ماحول تھا،میں اپنی والدہ کے لیے اردو کتابیں لاتا تھا، وہ پڑھتی تھیں، پھر مجھے بھی وہ پڑھاتی تھیں۔ دراصل ہم نے بچوں کو گھروں پر پڑھانا چھوڑ دیا ہے اور تہذیب بھی چھوڑ دی ہے۔ اس لیے اردو پڑھنے والوں کی تعداد کم ہو تی جارہی ہے اور جہاں ایسا نہیں ہے وہاں کے حالات بہتر ہیں۔
غ ق:کہا جاتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور اربنائزیشن نے کتاب کلچر کو ختم کر دیا ہے، کیا عام قاری کو کتاب کی طرف واپس لانے کی کوئی سبیل ہو سکتی ہے؟
خ ع:دیکھیے میں سمجھتا ہوں کہ کتا ب کلچر کبھی ختم نہیں ہوگا، فی الحال ایسا لگ رہا ہے۔ ہر زبان کی ریڈر شپ بڑھ رہی ہے۔ البتہ اتنی نہیں بڑھ رہی ہے جتنی آبادی کے اعتبار سے بڑھنی چاہیے۔مگر اس ٹیکنالوجی کے با وجود بھی ہم کتابیں تو پڑھ ہی رہے ہیں، البتہ ان کی اشاعت اتنی تعداد میں نہیں ہورہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، اے آئی (Artificial Intelligence) اور سوشل میڈیا کے دور میں امریکہ میں رسائل کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ حد یہ ہے Designing, driving, cooking اور مے نوشی پر رسائل شائع ہو رہے ہیں اور فروغ بھی پا رہے ہیں۔ انگریزی اور ہندی کے بہت سے رسائل ہمارے پاس آتے تھے مگر اب نہیں آرہے ہیں کیونکہ وہ ساری اطلاعات جو ہمیں ایک مہینے بعد ملیں گی، وہ آج ہی انٹرنیٹ کے ذریعے فوراً مل جاتی ہیں۔
جہاں تک کتا بوں کا معاملہ ہے تو اس کی ریڈر شپ کم ہو سکتی ہے مگر ختم نہیں ہوگی، یہ میرا خیال ہے۔ ضرورت تو ہمیشہ رہے گی کیونکہ کتا بوں سے چیزیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ حالانکہ بہت ساری جگہوں پر اس کی موت کا اعلان ہو چکا ہے مگر مجھے لگتا ہے کہ کتابیں ضرور باقی رہیں گی۔
غ ق:اردو میں اس وقت لکھے جا رہے ادب کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں؟
خ ع:دیکھیے ہندوستان میں ابھی جو ادب لکھا جا رہا ہے، اس سے میں کا فی حد تک مایوس ہوں،نئی تخلیقی توانائی مجھے نظر نہیں آتی ہے۔ نہ شاعری میں اورنہ فکشن میں، میرے پاس روزانہ ڈاک سے کم از کم ایک کتاب آتی ہے۔ زیادہ تر شاعری کی کتابیں ہوتی ہیں لیکن عرفان صدیقی کے انتقال کے بعد اردو غزل ہندوستان سے ختم ہو گئی۔ ابھی تک تو کوئی نئی آواز نہیں آئی ہے۔ اس کا پیما نہ میں یہ بناتا ہوں جو کہ بہت ادبی پیمانہ نہیں ہے، عوامی پیمانہ ہے کہ ایک کتا ب پڑھی شاعری کی آپ نے، تو آپ فوراً چاہیں گے کہ اس کے بارے میں بات ہو۔ آپ نے کوئی شعراچھا یاد کیا تو آپ مجھے شعر سنائیں گے، وہ اب ختم ہو گیا ہے۔ پچھلے دس سال سے میں نے کوئی اچھا شعر نہیں سنا ہندوستانی شاعروں کا۔سرحد کے پار بہت تخلیقی کام ہو رہا ہے، نئے نئے لوگ بھی آرہے ہیںاور سارا تنقیدی کام ہندوستان میں ہو رہا ہے۔اچھی تنقید بھی ہمارے یہاں ہو رہی ہے۔
غ ق: جامعات میں اردو درس و تدریس کی صورت حال کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
خ ع:اگر ہم صرف اساتذہ کو دیکھیں، تو ہمارے زمانے میں شمیم حنفی صاحب تھے، ذاکر صاحب تھے،عنوان چشتی صاحب تھے، پروفیسر قمر رئیس صاحب تھے،تنویر احمد علوی صاحب اور شریف صاحب تھے، یہ لوگ اسٹال وارتھ تھے۔ ان لوگوں کا جو میدان تھا وہ پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کیا میدان ہے ان کا، ہرچیز کے متعلق اس قدر معلومات ہوتی تھیں، تنویر صاحب کے متعلق کہا جاتا تھا کہ Persian, Arabic, History teacher in the department of Urdu۔ ان سے کوئی بھی سوال کیا جاتا فارسی،اردو،عربی اور تاریخ کا، تو وہ اس طرح جواب دیتے تھے کہ جیسے ابھی پڑھ کر آئے ہیں۔عنوان چشتی صاحب کو دیکھیں، وہ عروض کے ماہر تھے،شمیم حنفی صاحب ماڈرن لٹریچر، ہندی میں بھی لکھتے تھے، انگریزی میں بھی لکھتے تھے اور اردو میں بھی لکھتے تھے۔ پروفیسر ذاکر صاحب جامعہ میں تھے۔ پروفیسر محمد حسن صاحب جے این یو میں تھے۔ تو ہمارے یہاں بہت سارے ایسے لوگ تھے جن کے علم کی قدر دوسرے شعبے کے لوگ بھی کرتے تھے، اب ایسے لوگ ناپید ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ اب ہم جیسے لوگ آرہے ہیں، تو ظاہر ہے کہ اس سے اثر پڑا ہے۔ اچھا پھر یونیورسٹیز ہی سب کچھ نہیں ہیں۔ اس کے باہر بھی بہت ایسے لوگ ہوتے تھے جیسے شمس الرحمن فاروقی صاحب، خلیق انجم صاحب،نثار فاروقی صاحب تھے، یہ سب بڑے عالم تھے۔ ان لوگوں نے نمایاں اور قابل قدر کام انجام دیے،جو اب ہمیں نظر نہیں آتے۔ میں بار بار دیکھتا ہوں کہ ایک طرف وہ لوگ تھے، ایک طرف ہم لوگ ہیںاور اب نئے لوگ آرہے ہیں تو اس میں زینہ جو ہے وہ نیچے ہی کی طرف جا تا نظر آرہاہے۔ اس میں ایسا نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ وہاں دس تھے تو یہاں ایک بھی آدمی اس معیار کا آجائے تو کافی تسلی ہو،جو نہیں ہے۔ میر کا شعر ہے ؎
مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر
ہو سکتا ہے نئے زمانے میں نئے لوگ آئیں، آپ لوگ آئیں تو ان سے بھی زیادہ آگے جائیں۔ خدا کرے ان سے بھی زیادہ کام کریں، تو بہت زیادہ مایوسی کی بات نہیں ہے مگر فی الحال جو تحقیقی، تخلیقی اور تنقیدی میدان میں صورت حال ہے وہ زیادہ حوصلہ افزابھی نہیں ہے۔
غ ق:فکشن، شاعری یا تنقید میں کچھ ایسے نئے نام جن سے مستقبل میں بہتر امید کی جا سکتی ہو؟
خ ع:اس طرح کی پیش گوئی تو میں نہیں کر سکتا لیکن میں پر امید بہت ہوں۔ دیکھیے، اردو کے جو مراکز ہیں، وہ بدلتے رہتے ہیں۔ آزادی سے پہلے اردو کا جو مرکز تھا وہ نہ دہلی تھا نہ لکھنؤ تھا نہ حیدرآباد تھا بلکہ لا ہور تھا۔ لاہور بڑا مرکز تھا رسائل کا، ادبی سر گر میوں کا،محاذ آرائی کا، معرکہ آرائی کا،تقسیم کے بعد بہت زیادہ اثر پڑا، اردو کے مراکز تبدیل ہوگئے۔سرحد کے اس پار جو ہو رہاہے اس پر تو میں بات نہیں کرنا چاہتا اور وہاں کے رسائل اور کتابوں سے مکمل طور پر واقف بھی نہیں ہوں، ہمارے یہاں بھی جو جنوبی علاقہ ہے مثلاً کرناٹک، مہاراشٹر وغیرہ وہاں ایسے ایسے مدرسے اور اسکول ہیں، جن میں آٹھ آٹھ ہزار بچے اردو میڈیم میں پڑھتے ہیں۔ تو ظاہر ہے اتنی تعداد میں جب پڑھ کر نکلیں گے تو ان میں کچھ تخلیق کار،کچھ شاعر اور نقاد بھی ہوں گے، یہاں ماحول ابھی ہلکا ہے مگر مجھے امید ہے کہ کچھ بہتر ہوگا۔

Ghulam Qadeer
Research Scholar, Dept of Urdu
Aligarh Muslim University
Aligarh- 202001 (UP)
Mob.: 8802164185
880glm@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *