محمد یحییٰ تنہااور سیر المصنفین،مضمون نگار:ابراہیم افسر

January 16, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص:


میرٹھ میں تحقیقی کارواں کو آگے بڑھانے والوں میں محمد یحییٰ کا شمار صفِ اوّل کے قلم کاروں میں ہوتا ہے۔محمد یحییٰ تنہا نے اُردو نثر نگاروں کا پہلا تذکرہ’سیرالمصنّفین‘نام سے دو جلدوں میں شائع کیا۔اس نثری تذکرے میں تنہا صاحب نے نثر نگاروں کے حالاتِ زندگی اور اُردو زبان کی عہد بہ عہد ترقی و تبدیلی کا ذکرتفصیل سے کیا ہے۔محمد یحییٰ تنہا نے ’سیر المصنّفین ‘کی پہلی جلدکو 1924 میں منیجر دار الشاعت غازی آباد ،محبوب المطابع دہلی سے ایک ہزار کاپیاںچھپوا کرشائع کیا۔کتاب کی کل ضخامت 224صفحات ہے اورسائز18X22،21سطری ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ’ سیر المصنّفین‘ کی اشاعت سے قبل نثر نگاروں کا تذکرہ یا تاریخ نہیں لکھی گئی تھی۔اس کتاب کی اشاعت کے بعد نثر نگاروں کے ادبی حالات کو منظرِ عام پر لانے کا ڈول ڈالا گیا۔ محمد یحییٰ تنہا نے 21 ستمبر 1924کو لکھے ’سیر المصنّفین‘ کے دیباچہ میں اس بات کی وضاحت کی کہ انھیں اس کتاب کو لکھنے کا خیال’آبِ حیات‘ کے مطالعے کے بعد آیا جب وہ 1914میں لکھنؤ میں اقامت گزیں تھے۔‘اس دوران پہلی عالمی جنگ (28جولائی1914تا11نومبر1918)نے ان کے خیال کو کافی حد تک متاثر کیا۔محمد یحییٰ تنہا نے ’سیر المصنفین‘کی دوسری جلد کو1928میں مکتبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ،قرول باغ، دہلی پریس سے ایک ہزار کاپیاں چھپوا کر شائع کرایا۔جس میں نثاران اُردو کے حالات زندگی اور اُردو زبان کی عہد بہ عہد کی ترقی و تبدیلی کا ذکر کیا گیا ہے۔کتاب کی کُل ضخامت 642صفحات کو محیط ہے۔اس میں انھوں نے1857تا 1914کے نثر نگاروں کے علمی و ادبی کارناموں پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انھوں نے کتاب کی ابتدا میں ہی اُن کتابوں کی فہرست شامل کی جن سے سیر المصنفین کے لیے استفادہ کیا گیاتھا۔ساتھ ہی ’سیر المصنفین ‘ کے موضوعات کا اشاریہ بھی ابتدا ہی میں پیش کیا گیا ہے۔دوسری جلد میں محمد یحییٰ تنہا نے سر سید احمد خاں،نواب اعظم جنگ مولوی، مولوی محمد حسین آزاد،مولوی سید علی بلگرامی، خواجہ الطاف حسین حالی، علامہ شبلی نعمانی،مطبع نول کشور، پنڈت رتن ناتھ سرشار،مولوی عبدالحلیم شرر،مولوی عبدالرزاق اور نواب حاجی محمد اسماعیل خاں مرحوم کے نثری کارناموں کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔29نومبر1927کو’لکھے سیر المصنفین ‘جلد دوم کے دیباچے میں محمد یحییٰ تنہا نے اس کتاب کی اشاعت ،مقصد ،غرض و غایت کے بارے میں قارئین سے مکالمہ کرتے ہوئے بتایاکہ انھوں نے جلد اوّل کے لیے جو دیباچہ لکھا تھا در اصل وہ دونوں جلدوں کے لیے تھا۔محمد یحییٰ تنہا نے سیر المصنّفین جلد دوم کے دیباچے میں جلد اوّل پر کیے گئے اہلِ علم کے اعتراضات کا جواب بھی دیا۔ جلد اوّل پر سب سے بڑا اعتراض اُردو نثر کی ابتدا پر کیا گیا ۔بعض ناقدین نے اُردو کی پیدائش کو ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے تسلیم کیا ۔اس ضمن میںمحمد یحییٰ تنہا کا کہنا ہے کہ دنیا کی کسی بھی زبان کی نثر ،نظم سے پہلے معرضِ وجود میں نہیں آئی۔اپنی بات کی مدلل بنانے کے لیے موصوف نے اُردو کی شعری کتابوں کے حوالے دیے جو دکن اورشمالی ہندوستان میں لکھی گئی تھیں۔انھوں نے تاریخ زبان اُردو اور تذکرہ مصنفین اُردو کی شناخت اور پہچان کو علاحدہ تسلیم کیا ہے۔


کلیدی الفاظ

سیر المصنّفین، محمد یحییٰ تنہا،میرٹھ،غازی آباد، دہلی، تعلیم ،نثر ی دیباچہ ،نظم نگاری،فورٹ ولیم کالج، تذکرہ نگاری، تاریخ نگاری،تاریخ مغربی یورپ، مراۃ الشعر،رسالہ الناظر، رسالہ جامعہ، رسالہ نگار، غلام الثقلین ،الطاف حسین حالی،نیاز فتح پوری، مولوی عبدالحق وغیرہ ۔
————
میرٹھ میں تحقیقی کارواں کو آگے بڑھانے والوں میں محمد یحییٰ تنہا پیشے سے وکیل و معلم تھے۔ساتھ ہی وہ ترجمہ نگار، شاعر و تذکرہ نگار بھی تھے۔انھوں نے اپنے ادبی کارناموں سے اردو ادب کو نہ صرف مالا مال کیا بلکہ نثری تذکرہ نگاری کا سنگِ بنیاد رکھا۔محمد یحییٰ تنہا نے اردو نثر نگاروں کا پہلا تذکرہ ’سیرالمصنّفین‘ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا۔اس نثری تذکرے میں تنہا صاحب نے نثر نگاروں کے حالاتِ زندگی اور اردو زبان کی عہد بہ عہد ترقی و تبدیلی کا ذکرتفصیل سے کیا ہے۔محمد مشتاق شارق کے مطابق محمد یحییٰ تنہا کی پیدایش اندازاً1890کو مظفر نگر کے قصبہ شاہ پورمیں ہوئی۔1911میں غازی آباد میں وکالت شروع کی۔میرٹھ کو انھوں نے اپنا وطن ثانی بنایااور یہاں پر بھی انھوں نے 1947تک وکالت کی۔کچھ عرصہ پنجاب یونیورسٹی لاہور میں معلمی کے فرائض انجام دیے۔تقسیم وطن کے بعد کراچی چلے گئے۔کراچی میں ہی 10دسمبر1966کو ان کا انتقال ہوا۔1؎ان کی اہم کتابوں میںشاعرانہ خیالات، تاریخ مغربی یورپ(ترجمہ) خیالاتِ اروِنگ،(اسکیچ بک کاترجمہ)تاریخ امریکہ، مرأۃ الشعراوغیرہ شامل ہیں۔ حالاں کہ محمد یحییٰ تنہا نے اپنے سوانح کوائف مرأۃ الشعرا میں بھی درج کیے ہیں۔انھوں نے اپنے حسب نسب،پیشہ و شعر و ادب سے شغف کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔وہ لکھتے ہیں:
’’اس ہیچ مداں کا نام محمد یحییٰ اور تنہا تخلص ہے۔باپ کا نام منشی محمد حسن ہے۔غالباً 1890میں یہ خاکسار عالمِ وجود میں آیا۔بچپن میں اشعار پڑھنے کا شوق تھا۔انگریزی کی آٹھویں کلاس میں تعلیم پاتا تھا کہ مشاعروں کی شرکت نے شعر کہنے کی طرف طبیعت کو مائل کر دیا۔ ابتدا میں چند غزلیں کہیں۔اور نویں کلاس میں مقدمہ دیوان حالی پڑھ کر تغزل کو ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا اور انگریزی زبان کی تقلید میں نظمیں کہنے لگا۔ میں نویں یا دسویں کلاس میں پڑھتا تھا کہ میرا سب سے پہلا مضمون ’احسان فراموشی ‘ 1904کے عصر جدید میرٹھ میں چھپا جو زیر ادارت خواجہ غلام الثقلین مرحوم شائع ہوتا تھا۔اس پر خواجہ صاحب مرحوم نے یہ نوٹ دیا تھا کہ ایک ہونہار طالب علم کا مضمون ہے۔جیسا کہ مبتدیوں کا قاعدہ ہے،عبارت میں رنگینی زیادہ ہے لیکن خیالات نہایت اچھے ہیں۔مجھ کو خواجہ صاحب مرحوم کے ہونہار طالب علم کے لکھنے پر بے حد مسرت ہوئی اور میں نے ارادہ کر لیا کہ میں مضمون نگاری کیا کروں گا۔ ادھر 1905میں مولانا حالی مرحوم میرٹھ تشریف لائے اور ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا موقع ملا۔کچھ اپنے اشعار بھی ان کو سنائے۔اور اس طرح شاعری کا شوق بڑھتا ہی گیا۔سب سے پہلے روازانہ پیسہ اخبار،لاہور میں اور پھر 1907میں رسالہ آفتاب جھالرا پاٹن میں میری نظمیں چھپیں۔ اس کے بعد علی گڑھ منتھلی اور رسالہ زمانہ کان پور میں نظمیں شائع ہونی شروع ہوگئیں۔1911میں بی اے پاس کیا۔اور1912میں سب سے پہلی کتاب ’شاعرانہ خیالات ‘ شائع کی جس کی بے انتہا تعریف مولانا شبلی،مولانا حالی اور سید وحید الدین سلیم مرحومین نے کی۔ بعد ازاں ایل ایل بی پاس کر کے وکالت شروع کر دی۔پہلے غالی آباد منصفی میں وکالت کرتا تھا پھر1934سے میرٹھ ججی میں وکالت کر رہا تھاکہ تقسیمِ ہند کے بعد وطن چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔‘‘2؎
محمد یحییٰ تنہا نے ’سیر المصنّفین ‘کی پہلی جلدکو 1924میںمنیجر دار الاشاعت غازی آباد،محبوب المطابع دہلی سے ایک ہزار کاپیاںچھپوا کرشائع کیا۔کتاب کی کل ضخامت 224صفحات ہے اور سائز 18X22، 21سطری ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ’ سیر المصنّفین‘ کی اشاعت سے قبل نثر نگاروں کا تذکرہ یا تاریخ نہیں لکھی گئی تھی۔اس کتاب کی اشاعت کے بعد نثر نگاروں کے ادبی حالات کو منظرِ عام پر لانے کا ڈول ڈالا گیا۔ محمد یحییٰ تنہا نے21ستمبر1924کو لکھے’ سیر المصنّفین‘ کے دیباچے میں اس بات کی وضاحت کی کہ انھیں اس کتاب کو لکھنے کا خیال’آبِ حیات‘کے مطالعے کے بعد آیا جب وہ 1914میں لکھنؤ میں اقامت گزیں تھے۔‘اس دوران پہلی عالمی جنگ (28جولائی 1914 تا 11 نومبر 1918)نے ان کے خیال کو کافی حد تک متاثر کیا۔لیکن جیسے ہی حالات نے کروٹ بدلی تو ان کے ذہن میں نثر نگاروں کے تذکرے کو لکھنے اور شائع کرنے کے خیال نے زور پکڑااور 1924میں سیر المصنّفین کی پہلی جلد منظرِ عام پر آئی۔’سیر المصنّفین ‘کے منظرِ عام پر آنے کی روداد کو محمد یحییٰ تنہا نے کچھ یوںبیان کیا:
’’آج سے دس برس قبل یعنی1914میں جب کہ راقم لکھنؤ میں اقامت گزیں تھا یہ خیال پیدا ہوا کہ ’آبِ حیات‘کے نمونہ پر جو تاریخ نظمِ اردو کی مقبول کتاب ہے،نثرِ اردو کی تاریخ لکھی جائے یا با الفاظِ دیگر نثّارانِ با کمال کا تذکرہ تحریر کیا جائے۔ چناں چہ مصنفین اردو کے حالات ِ زندگی کی جستجو دامن گیر ہوئی،لیکن اسی زمانہ کے قریب جنگ یورپ چھڑ گئی اور سب لوگوں کی توجہ لڑائی کی خبروں کی طرف منعطف ہو گئی۔ کسی چیز کی جانب نہ وہ التفات رہا اور نہ وہ سر گرمی،بلکہ شب و روز جنگی خبروں کے معلوم کرنے میں انہماک ہو گیا کہ تصنیف و تالیف سے بھی مطلق دلچسپی نہ رہی،یہ حال نہ صرف میرا تھا بلکہ گرد و پیش کے سب لوگوں کو اسی مرض میں مبتلا دیکھتا تھا۔نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ دنوں تک اس قسم کی تصنیف کا خیال رہا اور پھر ایسا نسیاً منسیاً ہو گیا کہ 1923تک بھول کر بھی یاد نہ آیا۔آخر کار جون 1923میں پھر خیالِ رفتہ نے دل میں چٹکی لی اور اس مرتبہ مصمم قصد کر لیا کہ جو کچھ ہو اور جس طرح ہو اپنے پرانے خیال کو عملی جامہ پہناؤں گا۔اگرحسبِ خواہش حالات بہم نہ پہنچیں یا کتابیں دستیاب نہ ہوں تو جس قدر حالات فراہم ہو سکیں اور جس قدر کتابیں مل سکیں اور ان سے جیسی کچھ کتاب مرتب ہو سکے پبلک کی خدمت میں پیش کر دوں۔‘‘3؎
محمد یحییٰ تنہا نے سیر المصنّفین کی پہلی جلد کا انتخاب،کتاب شائع ہونے سے قبل،رسالہ الناظر، لکھنؤ اکتوبر تا نومبر1924میں صفحہ 49تا72شائع کیا تھا۔اس انتخاب کے شائع ہونے سے پہلے اسی رسالے میں سیر المصنّفین کے بعض حصے شائع ہو کر مقبول ہو چکے تھے۔سیر المصنّفین کے اس انتخاب میں اردو کی پیدائش، اردو کا عنفوانِ شباب(تیسرا دور:1857سے 1914تک)،فن زراعت،از حالات آنریبل ڈاکٹر سر سید احمد خاں،از حالات شمس العما خان بہادر مولوی ذکاء اللہ خاں،از حالات شمس العلما مولوی محمد شبلی نعمانی کو شامل کیا گیا۔سیر المصنفین کے اس انتخاب پرمدیر رسالہ الناظر ظفر الملک علوی نے اپنی آرا کا اظہار کرتے ہوئے لکھا:
’’مکرمی مولوی محمد یحییٰ تنہا بی اے (علیگ)وکیل غازی آباد نے سیر المصنّفین کے نام سے ایک تذکرہ مصنّفین اردو کا لکھا ہے۔جس کا حجم وہ 600صفحے بتاتے ہیں۔آزاد نے تذکرۂ آبِ حیات میں شعرا کے پانچ دور قائم کیے تھے۔تنہا صاحب نے اپنے تذکرے کو چار دور میں تقسیم کیا ہے۔جلد اوّل جو زیر طبع ہے،اس میں ابتدائی دو دوروں کے اور جلد دوم میں جو بعد کو چھپے گی تیسرے دور کے مصنفین کے حالات آئیں گے۔
اس کتاب پر تبصرے کا ابھی وقت نہیں ہے مگر بے شبہ یہ ایک نہایت ضروری کام ہے جس کے لیے تنہا صاحب دنیائے اردو کے شکریے کے مستحق ہیں۔تنہا صاحب نے ازراہِ کرم اپنے مسودہ کے بعض اجزا ارسال فرمائے ہیں جو شکریے کے ساتھ درج کیے جاتے ہیں۔کتاب سے متعلق امید دلائی گئی ہے کہ نومبر میں تیار ہو جائے گی۔‘‘4؎
محمدیحییٰ تنہا نے ’سیر المصنفین جلد اوّل میں نثر نگاروں کو دو ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا دور 1798 تا 1836،دوسرا دور1836تا1857کو محیط ہے۔ تیسرا دور1857 تا1914کو محیط ہے لیکن انھوں نے کتاب کا خاتمہ تیسرے دور پر کیا۔مولوی عبدالحق، مولوی عبدالرزاق اور نظام الملک طوسی اور دیگر لوگوں کی رائے تھی کہ محمد یحییٰ تنہا اس کتاب میں دورِ حاضر کے نثر نگاروں کے حالاتِ زندگی اور ادبی کارناموں پر بھی گفتگو کریں۔لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ایسا نہ ہو سکا۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی محمد یحییٰ تنہا کو اپنے ہم عصر نثر نگاروں کے حالاتِ زندگی اوران کی کتابوں کے بارے میں معلومات فراہم نہ ہو سکیں۔ موصوف نے اس بات پر افسوس و حیرانی کا اظہار کیا کہ’سیر المصنّفین ‘کی اشاعت کے واسطے بعض اصحاب نے انھیں مواد بہ خوشی فراہم کیا لیکن بعض لوگوں نے اس جانب توجہ ہی نہیں کی۔اس بارے میں تنہا صاحب رقم طراز ہیں:
’’مجھے اس کتاب کے لکھنے میں جو مشکلات پیش آئیں ان کو میرا دل ہی خوب جانتا ہے۔ہم میں بعض اصحاب عنایت ایزدی سے ایسے سعید ہیں جنھوں نے اپنے باپ کے بھی حالاتِ زندگی فراہم کرنے میں دریغ کیا اور اس قدر تکلیف گوارانہ کی کہ اپنے باپ کے سوانح تحریر فرما کر خاکسار کو روانہ کر دیتے۔راقم کو بہ لطائف الحیل ٹال دیا۔ بعض اصحاب نے دوسرے بزرگوں کے حالات جن سے واقف تھے قلم بند کر نے میں کوتاہی فرمائی اور جواب لکھنا کسرِ شان سمجھا ۔۔۔مجھے شرم آتی ہے کہ میں اپنے ہم وطن بھائیوں کی علمی عدم توجہی کی شکایت کر رہا ہوں۔لیکن واقعات مجبور کرتے ہیں کہ میں اس شکایت کو زبان پر لاؤں۔‘‘5؎
محمد یحییٰ تنہا نے ’سیر المصنّفین ‘کی پہلی جلد میں ’تمہید‘عنوان کے تحت ’اردو ہندوستان کی مشترکہ زبان،رسم الخط، لٹریچر،اردو کی پیدائش، نثر مرزا رفیع،اور اردو کا عالمِ طفولیت‘جیسے ذیلی عناوین قائم کیے۔موصوف نے پہلے دور میں 22نثر نگاروںجن میں میر محمد عطا حسین خاں تحسین، ڈاکٹر جان گل کرسٹ، سید حیدر بخش حیدری،مرزا علی لطف،میر بہادر علی حسینی،میر امن دہلوی، مولوی شیخ حفیظ الدین احمد، میر شیر علی افسوس، سید انشاء اللہ خاں انشا، مولوی شاہ رفیع الدین، مولوی شاہ عبدالقادر، مولوی اسماعیل دہلوی، نہال چند لاہوری، مرزا کاظم علی جواں، سری للو لال کوی، مظہر علی ولا، مولوی امانت اللہ، منشی بینی نرائن، مرزا جان طپش، محمد خلیل خاں اشک کے حالاتِ زندگی اور ان کی نثری خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔دوسرے دور میں انھوں نے صرف آٹھ نثر نگاروںمرزا رجب علی بیگ سرور،مرزا اسد اللہ خاں غالب، ماسٹر رام چندر، مولانا غلام امام شہید،خان بہادر منشی غلام غوث بے خبر،منشی عبدالکریم،منشی امیر احمد مینائی کی تصانیف کا محاکمہ کیا ہے۔یہ کتاب کا سب سے چھوٹا حصہ ہے۔
محمد یحییٰ تنہا نے ’اردو ہندوستان کی مشترکہ زبان ہے‘میں اردو اور ہندی کے باہمی رشتوں اور ان کی اصل پرگفتگو کی ہے۔اس ضمن میں انھوں نے گارساں دتاسی،جان بیمز،ڈاکٹر فیلن وغیرہ مستشرقین کی آرا کو شاملِ کتاب کیا ہے۔انھوں نے شمالی ہندوستان میں بولی جانے والی زبانوں اور بولیوں کے اشتراک سے پیدا ہونے والی زبانوں پر بھی تنقیدی گفتگو کی۔یہاں تک کہ اس علاقے میں تحریرکی گئی کتابوں بالخصوص رام چرت مانس کے حوالے سے لکھا کہ اس علاقے میں برج بھاشا کا راج تھا جس کے بطن سے ہندوستان کی مشہور زبانیں پیدا ہوئیں۔اس بارے میں وہ لکھتے ہیں:
’’یہ تھی برج بھاشا پرانی ہندی۔ظاہر ہے کہ آج کل کے بشریف ہندو ہوں یا مسلمان اس زبان میں بات چیت نہیں کرتے ہیں اور ہندی کے پجاری بھی اس زبان کو تمام ہندوستان کی زبان بنانا نہیں چاہتے ہیں۔ آج کل جس ہندی کا زور ہے اسے ’کھڑی بولی‘ کہتے ہیں۔ ‘‘6؎
محمد یحییٰ تنہا نے اردو اور ہندی کے رسم الخط کے بارے میں لکھا کہ بعض لوگ اردو کے مقابلے میں ہندی رسم الخط کو مفید تسلیم کرتے ہیں۔بعض لوگوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ اردو کی نسبت ہندی کو جلدی سیکھ جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کو جواب دیتے ہوئے موصوف رقم طراز ہیں کہ اردو شارٹ ہینڈ کا کام کرتی ہے اور اس میں مفہوم کی ادائیگی کے لیے کم لفظوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔انھوں نے اردو کے عالمی طرزِ تحریر میں یکسانیت کو خوش آیند اقدادم قرار دیا۔
لٹریچر کے بارے میں محمد یحییٰ تنہا کافی سنجیدہ ہیں۔وہ غیر اردو داں طبقے کے اس اعتراض سے نالاں ہیں کہ اس زبان میں عالمی معیاربالخصوص مغربی ادب کے مقابلے کا ادب تخلیق نہیں کیا گیا۔ انھوں نے سرمایۂ ادب کو اصل اور نقل(ترجمہ) میں تقسیم کیا ہے۔اس بارے میں انھوں نے اردو میں ترجمے کی روایت کو مستحکم قرار دیا اور دیگر زبانوں کے اردو زبان میں کیے گئے تراجم کو قارئین کے سامنے پیش کیا۔ انھوں نے اردو ادب کو اپنے خونِ جگر سے سینچنے والے ادبا و شعرا کی فہرست اور کارناموں پر بھی تحقیقی گفتگو کی۔انھوں نے عثمانیہ یونی ورسٹی، انجمن ترقی اردو،مجلس دارالمصنفین (شبلی اکیڈمی)کی ادبی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ اردو کی پیدایش کے بارے میں محمد یحییٰ تنہا نے لکھا کہ یہ زبان خالصتاً ہندوستانی زبان ہے۔اپنے مطمحِ نظر کی وضاحت کے لیے انھوں نے ’آبِ حیات‘ کے اقتباس قارئین کے سامنے پیش کیے ساتھ ہی ہندوستان میںمسلمانوں کی آمد کے بعد لکھی گئی کتابوں میں عربی فارسی زبانوں کے اختلاط سے پیدا ہوئے الفاظ کو بہ طور مثال پیش کیا۔امیر خسرو کی پہیلیوں اور کہہ مکرنیوں کے لفظوں میں اردو کے ابتدائی نمونوں پر بھی گفتگو کی۔انھوں نے لکھا کہ اردو میںسب سے پہلے نظم میں کتابیں لکھی گئیں اور نثر میں بہت بعد میں ادیبوں نے توجہ دی۔ محمد یحییٰ تنہا نے اردو نثر کی ابتدا اور کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں فورفٹ ولیم کالج کو اصل شر چشمہ قرار دیا ہے۔اس بارے میں وہ لکھتے ہیں:
’’تیرھویں صدی ہجری اور تقریباً انیسویں صدی کے آغاز سے نثرِ اردو کی در حقیقت ابتدا ہوئی۔جب کہ میر محمد عطا حسین خاں تحسین نے چار درویش کا قصہ اردو میں لکھ کر نو طرزِ مرصع نام رکھا۔ شجاع الدولہ کے عہد میں تصنیف شروع ہوئی، 1797(1212ھ) نواب آصف الدولہ کے عہد میں ختم ہوئی۔اس زمانے میں بہ عہد لارڈ ولزلی گورنر جنرل ڈاکٹر جان گل کرسٹ کے ما تحت فورٹ ولیم کالج کے مدرسہ میں اردو کتابوں کی تصنیف اور تالیف کا سر رشتہ قائم کیا گیا۔اور اردوکی تربیت کا سہرا صاحبانِ ذی شان ہی کے سر رہا۔‘‘7؎
محمد یحییٰ تنہا نے اردو کی نثری کتابوں کی اشاعت و فروغ میں مذہبی علما کے کردار کی ستائش کی ہے۔ ان کی نظر میں اس زبان کی اشاعت کے لیے مذہب نے اس کے سر پر برکت کا ہاتھ رکھا۔ مولوی شاہ عبدالقادر نے قرآن شریف کا ترجمہ اور مولوی اسماعیل نے کئی رسائل اردو نثر میں شائع کیے۔ یہاں تک کہ حکومتِ ہند نے 1835میں اردو کو سرکاری و دفتری زبان قرار دیا۔اس حکم نامے کا اثر یہ ہوا کہ فارسی کی جگہ اب اردو کا رواج عام ہوا اور لوگوں نے اس زبان کی جانب توجہ مبذول کی۔اخبارات و رسائل اور دیگر میدانوں میں اس زبان نے خاطر خواہ ترقی کی۔محمد یحییٰ تنہا نے اردو نثر کے پہلے دورانیے کو 1798تا1836محدود رکھا ہے۔اس دورانیے میں ہندوستان میں اردو نثر کے میدان میں کام کرنے والے نثر نگاروں کی تصانیف کا انھوں نے اجمالی جائزہ لیا ہے۔اس دور میں انھوں نے انشاء اللہ خاں انشا اور میر امن کی نثری کتابوں کو نثر کے فروغ میں میل کا پتھر قرار دیا۔انھوں نے اس دور کا نقشہ کھینچنے میں آبِ حیات کی طرز تحریر کو اختیار کیاہے۔اقتباس ملاحظہ کیجیے اور محمد یحییٰ تنہا کی نثری شیرینی اور انشا پردازی سے لطف اندوزی محسوس کیجیے:
’’آج نثر اردو کے با کمال اصحاب کا پہلا جلسہ منعقد ہو تا ہے۔نظمِ اردوکا تیسرا دور ختم ہو چکا ہے اور استادانِ فن اپنی شیریں کلامی اور سخن سنجی سے سب کو اپنا گرویدہ کر چکے ہیں۔چوتھے دور کے بادہ خوار خم خانۂ اردو میں اپنی جگہ آن بیٹھے ہیں اور غزل و قصیدہ کے شراب ارغوانی کے خم کے خم لنڈھارہے ہیں اور سامعین کو اپنے دل آویز نغموں سے مست الست بنا رہے ہیں۔ان اصحاب کے زمزمہ پردازیوں،ظرافت اور نکتہ چینیوں نے ایک عالم کو مسخر کر لیا ہے اور ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آیا جو ان کااثر پذیر اور دلگیر نہ ہو۔ نثر کی طرف کسی کو مطلق توجہ نہیں جس کو دیکھیے نظم میں کوسِ لمن الملک الیوم بجا رہا ہے اور ہمہ دانی کا دعوا کر رہا ہے۔سید انشا ء اللہ خاں انشاؔ کو جن کی طبیعت ہمہ گیری واقع ہوئی ہے اور لافِ زبان دانی ان اصحاب سے سننے کی متحمل نہیں ہے جو زبان اور اہلِ زبان سے کوسوں دور ہیں۔ان کی فہمایش اور ان کی غلطیوں کو طشت از بام کرنے کے لیے دریائے لطافت جو در اصل قواعدِ اردو ہے فارسی زبان میں تحریر کرتے ہیں اور ایک داستان اردو میں لکھتے ہیں جس میں عربی فارسی کا ایک لفظ بھی استعمال نہیں کیا۔ادھر میر امن کلکتہ میں بیٹھ کر اپنی صاف اور شستہ زبان میں وہ دلچسپ قصہ تحریر کرتے ہیں جو باغ و بہار کے نام سے موسوم ہے اور جس کی ادنیٰ صفت یہ ہے کہ زبان کے اس قدر تغیر و تبدل کے باوجود اب بھی اس سے بہترین زبان میں اس قصہ کا لکھا جانا ممکن نہیں ہے۔اس پہلے دور میں یہ دو اصحاب با کمال نظر آتے۔‘‘8؎
اس کے بعد محمد یحییٰ تنہا نے فورٹ ولیم کالج اور اس کے باہر لکھی گئی نثری کتابوں اور ان کے مصنّفین کے احوال پر تنقیدی گفتگو کی ہے۔انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ مغل دور میں فارسی کو راجا ٹوڈرمل اورانگریز حکومت میں اردو کو جان گل کرسٹ کی کوششوں سے سرکاری زبان بنایا گیا۔ انھوںنے فورٹ ولیم کالج میں لکھی گئی نثری کتابوں اور ان کے مصنفین کے سوانحی حالات کا اجمالی جائزہ پیش کیا۔
محمد یحییٰ تنہا کے مطابق دوسرے دور کا دورانیہ 1836تا1857کو محیط ہے۔اس دور میں انھوں نے فارسی زبان کے دور کے خاتمے اور اردو زبان کے دور کے عروج کی داستان بیان کی۔ساتھ ہی انھوں نے اس بات کو واضح کیا کہ جس طرح ناخن کو بدن کے گوشت سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا ویسے ہی اردو سے فارسی کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔اس بارے میں وہ لکھتے ہیں:
پہلے دور کے بزرگ اس دنیائے فانی سے منھ موڑ کر عالمِ بقا کو راہی ہوئے اور دوسرے دور کے نوجوانانِ عالی مقام نثرِ اردو کی بزم میں جلوہ افروز ہوئے۔اگر چہ پہلے دور کے بزرگوں نے اس خیال کو پیدا کرنے کی کوشش کی تھی کہ اب فارسی زبان کا عہدِ حکومت ختم ہوااور اردوکا طفلِ مکتب سر پر آرائے سلطنت ہوا۔ لیکن ان نوجوانوں کی رگوں میں فارسی زبان خون کی طرح پھیلی ہوئی تھی اور فارسی کو ان سے جدا کرنا گوشت سے ناخن جدا کرنا تھا۔ یہ فارسی کی بچھڑی ہوئی محفلوں کی یاد میں مست الست تھے اور ان کی نئی مجلس قائم کرنا دشوار تھا لیکن زمانہ بہ آواز بلند ان سے کہہ رہا تھا کہ نیند کے ماتو !اٹھواور اِس گری پڑی پریشان چیز یعنی ریختہ کی دست گیری کرو۔اب فارسی اور تمھارے درمیان منزلوں کا فاصلہ ہو گیاہے اور روز بہ روز تم سے فارسی دور ہوتی جائے گی۔ملک کی زبان اردو قرار پائے گی۔اور اب ہندوستان میں اردو ہی کا سکّہ رواں ہوگا۔دہلی اور لکھنؤ اس سکّہ کے دار الصرف قرار دیے گئے ہیں اور ان نئے شہروں کے علاوہ ہر جگہ کی بولی ٹکسال سے باہر سمجھی گئی۔‘‘9؎
اس کے بعد محمد یحییٰ تنہا نے فقیر محمد گویا،رجب علی بیگ سرور،مرزا غالب،غلام غوث بے خبر، منشی امیر احمد مینائی،ماسٹر رام چندر،مولانا غلام امام شہید،منشی عبدالکریم کے نثری کارناموں کا جائزہ قارئین کے سامنے پیش کیا۔انھوں نے سید سلیمان ندوی کے مضمون ’انڈیا آفس لائبریری میں اردو خزانہ‘ (اشاعت معارف،اعظم گڑھ،جون 1920) کے بارے میں لکھا ہے کہ اس مضمون میں سید سلیمان ندوی نے ان کتابوں کی فہرست پیش کی جنھیں انھوں نے اپنی آنکھوں سے لندن میں دیکھا تھا۔محمد یحییٰ تنہا نے موصوف کے مضمون کا ایک اقتباس نقل کیا جس میں کتابوں کی فہرست چھے عناوین علوم و فنون،تاریخ و جغرافیہ،ادبیات،کتب تعلیمی،الٰہیات اور متفرقات کے نام سے درج ہے۔اس اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ 1900میں انڈیا آفس لائبریری میں تین سو صفحے میں اردو کی کتابوں کی فہرست کا اندراج تھا۔جسے دیکھ کر سید سلیمان ندوی ششدر رہ گئے تھے۔انھوں نے اس بارے میں لکھا کہ یہ کتابیں ہندو اور مسلمان ادیبوں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہیں۔محمد یحییٰ تنہا نے اس دور میں مرزا اسد اللہ خاں غالب کی نثری کاشوں پر سب سے زیادہ صفحات (155تا192)صرف کیے ہیں۔
سیر المصنفین کے خاتمہ میں محمد یحییٰ تنہا نے لکھا ہے کہ دوسرے دور کے مصنفین کی تعداد بہت کم ہے لیکن پہلے دور سے زبان کی عمدگی اور شستگی میں یہ دور سبقت لے گیا ہے۔ان کے مطابق پہلے دور کی زبان سادہ اور عام فہم ہے اور اس دور میں قافیہ بندی کا بہت زور ہے۔انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس دور میں فورٹ ولیم کالج کی طرح دہلی کالج سوسائٹی نے ترجمہ نگاری کے میدان میں خاطر خواہ کار نامے انجام دیے،جس وجہ سے دیگر زبانوں کی کتابیں اردو میں ترجمہ کی گئی۔حالانکہ انھوں نے دوسرے دور میں مرزا غالب کی نثر کو سب سے عمدہ اور اعلا قرار دیا ہے۔انھوں نے یہ بھی لکھا کہ کچھ ادیبوں نے مرزا غالب کی تقلید میں مسجع اور مقفع عبارت کو ترک کر کے صاف اور شستہ الفاظ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔کتاب کے آخر میں انھوں نے مرزا غالب کی عظمت کا اعتراف یوں کیا ؎
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھّے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
خاتمے کے آخر میں ’جلد اوّل تمام شد‘(جری تحریر نمود)(1924)لکھا ہوا ہے۔
سیر المصنفین کی پہلی جلد کی اشاعت کے بعد اس پراہلِ علم نے تبصرے بھی کیے۔ان تبصروں میں سیر المصنفین میں در آئی تاریخی اغلاط کی جانب توجہ مبذول کرائی گئی۔رسالہ الناظر کے دسمبر 1924 کے شمارے میں مولوی محمد مسلم عظیم آبادی (ایم اے) نے سیر المصنفین جلد اوّل پر سخت تنقید کی۔انھوں نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ محمد یحییٰ تنہا نے زیر نظر کتاب کو مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب آبِ حیات کی طرز پر لکھا ہے۔انھوں نے یہ بھی لکھا کہ علامہ شبلی نعمانی کو انھوں نے مولانا عبدالحلیم شرر کے ساتھ رکھ کر تاریخی غلطی کی۔مسلم صاحب نے اپنے تبصرے میں تنہا صاحب کو مشورہ دیا کہ وہ اس کی مزید اقساط رسالہ الناظر میں شائع کرتے تاکہ اہلِ نظر اس پر اپنی تنقیدی آرا پیش کرتے۔اس تبصرے کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’الناظر کی تازہ اشاعت سے یہ اطلاع باعث مسرت ہے کہ ایک معروف اہلِ قلم مولوی محمد یحییٰ تنہا بی اے(علیگ) نے مصنفین اردو کا ایک کامل تذکرہ مرتب کر لیا ہے۔کتاب کی اشاعت سے پہلے اس کا جو انتخاب الناظر میں شائع ہوا ہے اس پر ابھی کوئی تبصرہ کرنا شاید قبل از وقت سمجھا جائے گا،مگر اس خیال سے کہ اس کے متعلق بعض مشورے اگر کوئی اہمیت رکھتے ہوں تو کتاب کی اشاعت سے پہلے ان کی طرف توجہ اور انسداد بہر حال اشاعت کے بعد رسمی تنقید و تبصرہ سے زیادہ سود مند ہوگا۔
مصنفین اردو کا کوئی تذکرہ اب تک مدوّن نہیں ہوا اور اس قسم کی تالیف مشکلات سے خالی نہیں۔شعرائے اردو کے تذکرہ میں بھی صرف دو تالیفیں دیکھی جاتی ہیں۔ایک تو آبِ حیات مولفہ شمس العلما محمد حسین آزاد اور دوسری خم خانۂ جاوید مرتبہ پنڈت سری رام مصنف۔ آبِ حیات اپنی اولیت اور زیادہ تر طرزِ بیان کی دل فریفی کے سبب بہت زیادہ مقبول ہے۔ خم خانہ میں نے بالاستیعاب پڑھی نہیں،سرسری نظرمیں مجھے یہ اردو کے بے شمار موزوں گو اشخاص کی انسائیکلو پیڈیا نہیں بلکہ ڈائرکٹری سی دکھائی دی۔مولف نے دورِ اوّل سے مرزا غالب تک کے حالات میں جہاں تک مجھے یاد آتا ہے آبِ حیات ہی کو ماخذ قرار دیا ہے۔تنہا صاحب نے بھی اسی کی بنیاد وں پر اپنی عمارت کھڑی کی ہے۔دسر حقیقت اس موضوع پر مواد کی کمیابی کے باعث ایک اردو تذکرہ نگار کو اس ہر دل عزیز پیش رو سے استفسار کرنا بہت حد تک ضروری ہے۔‘‘10؎
مذکورہ بالا تبصرہ شائع ہونے کے بعد محمد یحییٰ تنہا نے مولانا محمد حسین آزاد اور ان کی کتاب آبِ حیات دونوں کے بارے میں رسالہ الناظر لکھنؤ،فروری1925میں ’مولانا آزاد کی تحقیق و تدقیق‘ عنوان سے مضمون تحریر کیا۔اس مضمون میں انھوں نے مسلم عظیم آبادی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مولانا آزاد کی تحقیق و ادبی مرتبے پر سیر حاصل گفتگو کی۔تنہا صاحب نے ثابت کیا کہ انھوں نے آبِ حیات میں جو کچھ لکھا ہے اس میں شیخ محمد ابراہیم ذوق سے سنی ہوئی باتیں زیادہ ہیں۔لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ انھوں نے اپنی آبِ حیات کے لیے جو مشقت برداشت کی وہ قابلِ تعریف ہے اور اس کی زبان کے تو کیا ہی کہنے۔تنہا صاحب کے اس مضمون کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے جس میں انھوں نے مسلم عظیم آبادی کا کتاب میں در آئی خامیوںکی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے شکریہ ادا کیا:
’’پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
ابھی سیر المصنفین کی جلد اوّل ہی شائع ہوئی ہے اور جلد دوم کی اشاعت کی نوبت نہیں آئی کہ نکتہ چینی کا بازار گرم ہو گیا۔اور میرا تو خیال ہوتا ہے کہ مولوی محمد مسلم عظیم آبادی نے الناظر بابت اکتوبر و نومبر1924 ہی کو دیکھ کر میری ناچیز تصنیف یا تالیف کی طرف توجہ منعطف فرمائی ہے۔بہر حال مجھے سب سے پہلے مولوی صاحب موصوف کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کیوں کہ وہ سیر المصنفین کو غلطیوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں اور اپنے مفید مشوروں سے مجھے استفادہ کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔‘‘11؎
سیر المصنفین جلد اوّل پر رسالہ الناظر،ماہ اکتوبر تا دسمبر1925کے شمارے میں محترم’ش‘کا مختصر لیکن جامع تبصرہ شائع ہوا۔اس تبصرے میں فاضل تبصرہ نگار نے لکھا کہ معلوم ہوتا ہے محمد یحییٰ تنہا نے اپنے تذکرے کے لیے آب ِ حیات اور گلشنِ ہند سے ماخذلیے ہیں۔’ش‘ صاحب کی نظر میں آبِ حیات ایک ناقص کتاب ہے۔اس لیے وہ نثر کے اس پہلے تذکرے کو بھی مشکوک قرار دیتے ہیں۔البتہ انھوں نے تنہا صاحب کی محنت،تلاش و جستجو کی تعریف کی۔ ’ش‘صاحب نے اس تبصرے میں تنہا صاحب پر تنقید کرتے ہوئے یہ بھی لکھا کہ انھوں نے یورپ کے کتب خانوں کی(کتب اردوکی) مطبوعہ فہرستوں کو غور و توجہ سے ملاحظہ نہیں فرمایا بلکہ شاید انھیں جمع کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ ہندوستان کے بعض مشہور کتب خانوں،خاص کر ایشاٹک سوسائٹی کی قدیم اردو کتب اور مطبوعات سے خود جاکر یا کسی دوسری طرح واقفیت بہم نہیں پہنچائی کہ انھیں زبان کی قدامت یا قدیم اردو ادب کی وسعت کا صحیح اندازہ ہوتا۔ ’ش‘صاحب نے مزید یہ بھی لکھا کہ سیر المصنفین کے سہولت پسند مولف اردو کی نشوو نما کے بارے میں وہی آبِ حیات کی رام کہانی گائے جاتے ہیں جو نہ صرف بہت پرانی اور فرسودہ ہے بلکہ سراسر غیر معتبر ثابت ہو چکی ہے اور خود اس تذکرے کا سب سے ناقص حصہ ہے۔حالانکہ’ش ‘صاحب نے تبصرے کے آخر میں لکھا کہ طلبہ کے لیے سیر المصنفین مفید کتاب ہے۔12؎
محمد یحییٰ تنہا نے ’سیر المصنفین‘کی دوسری جلد کی1928میں مکتبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ،قرول باغ، دہلی پریس سے ایک ہزار کاپیاں چھپوا کر شائع کرایا۔جس میں نثاران اردو کے حالات زندگی اور اردو زبان کی عہد بہ عہد کی ترقی و تبدیلی کا ذکر کیا گیا ہے۔کتاب کی کل ضخامت 642صفحات کو محیط ہے۔ اس میں انھوں نے1857تا 1914کے نثر نگاروں کے علمی و ادبی کارناموں پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔ انھوں نے کتاب کی ابتدا میں ہی ان کتابوں کی فہرست شامل کی جن سے سیر المصنفین کے لیے استفادہ کیا گیاتھا۔ساتھ ہی ’سیر المصنفین ‘ کے موضوعات کا اشاریہ بھی ابتدا ہی میں پیش کیا گیا ہے۔ دوسری جلد میں محمد یحییٰ تنہا نے سر سید احمد خاں،نواب اعظم جنگ مولوی، مولوی محمد حسین آزاد،مولوی سید علی بلگرامی، خواجہ الطاف حسین حالی، علامہ شبلی نعمانی،مطبع نول کشور، پنڈت رتن ناتھ سرشار،مولوی عبدالحلیم شرر،مولوی عبدالرزاق اور نواب حاجی محمد اسماعیل خاں مرحوم کے نثری کارناموں کو اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔29نومبر1927کو’لکھے سیر المصنفین ‘جلد دوم کے دیباچے میں محمد یحییٰ تنہا نے اس کتاب کی اشاعت،مقصد،غرض و غایت کے بارے میں قارئین سے مکالمہ کرتے ہوئے بتایاکہ انھوں نے جلد اوّل کے لیے جو دیباچہ لکھا تھا در اصل وہ دونوں جلدوں کے لیے تھا۔حالاں کہ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ چوتھے دور کے نثر نگاروں پر کوئی کتاب لکھنے کا ان کا ارادہ نہیں ہے۔اس کی وجہ بتاتے ہوئے موصوف نے لکھا کہ دورِ حاضر کے اہل تصنیف ہمارے نزدیک مصنفین کی صف میں کھڑے ہونے کے لیے ضرور تیار نظر آتے ہیں لیکن ابھی وہ اعلا درجے کے مصنفین میں شمارنہیں کیے جاسکتے۔ فن تصنیف میں ان کی تصویر نا تمام ہے اور نا تمام تصویر کو مکمل کہہ کرپیش کرنا غلط بیانی ہے13؎۔ سیر المصنّفین کی دوسری جلد کے کچھ حصے رسالہ الناظر( لکھنؤ)14؎ رسالہ اردو( اورنگ آباد دکن)15؎، اور رسالہ جامعہ16؎(دہلی) میں شائع ہوئے تھے۔ان رسائل میں شائع ہونے والے مضامین میں تنہا صاحب نے دوسری جلد کی اشاعت کے واسطے بہت سی تبدیلیاں کیں۔حسن یحییٰ عندلیب میرٹھی نے سیر المصنّفین کی عدم دستیابی اور اس جلد میںمحمد یحییٰ تنہا کی جانب سے کی گئی ترمیمات حذف و اضافوں کے بارے میں لکھا کہ دوسری جلد مدت دراز سے بازار میں نہیں ملتی۔چنانچہ مرحوم نے اس جلد کی طبع ثانی کے لیے کتاب میں ضروری ترمیمات اور اضافے کر دیے تھے تاکہ اس کو دوبارہ شائع کیا جا سکے۔ کچھ دن سے وہ روپیہ کی فراہمی کا انتظام کرنے میں بھی لگے ہوئے تھے مگر یہ کام ابھی انجام کو پہنچنے نہ پایا تھا کہ ان کو پیغام اجل آ گیا اور دوسری جلد کا دوسرا اڈیشن چھپنے سے رہ گیا۔17؎۔انھوں نے اس جلد میں اپنے دور کے مصنفین کے نثری کارناموں کو عیاں کرنے کی حتی المقدور کوشش کی لیکن انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بعض وجوہات کی بنا پر کچھ مصنفین کا تذکرہ چھوٹ گیا ہے۔محمد یحییٰ تنہا جلد دوم میں شامل تیسرے دور کے نثر نگار مصنفین کے بارے رقم طراز ہیں:
’’جس وقت ہم نے اس کتاب کی پہلی جلد کتابت کے لیے دی تھی اس وقت ہمارا یہ خیال نہ تھا کہ ہم اس کتاب کو دو جلدوں میں شائع کریں گے۔چناں چہ دیباچہ جو پہلی جلد کے ساتھ شائع ہو چکا ہے در حقیقت پوری کتاب کے لیے لکھا گیا تھا لیکن دورانِ کتابت میں آسانی اور سہولت ہی کے مقتضی ہوئی کہ سیر المصنفین کو دو جلدوں میں تقسیم کیا جائے۔پس ہم نے جلد اوّل میں پہلے دودوروں کا حال بیان کر دیا ہے اور اس جلد میں ہم صرف دو ر سوم کا تذکرہ درج کریں گے۔دورِ حاضر یا دورِ چہارم جو 1914سے شروع ہو گیا ہے اب تک مرتب نہیں ہوا اور نہ ابھی ہمارا ارادہ ہے کہ ہم اسے ترتیب دیں۔ بڑی دقت جو ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ دور سوم کے جن بر گزیدہ اصحاب کا ذکر کیا گیا ہے انھوں نے ہماری زبان میں تصنیف و تالیف کا پایہ بہت بلند کر دیا ہے اور ہم اپنے دور کے اہلِ تصنیف کو اس معیار ِ تصنیف و تالیف کے لحاظ سے ہر گز ابھی اس قابل نہیں سمجھتے کہ ان کا ذکر بھی دور سوم کے مصنفین کے دوش بہ دوش کیا جائے۔حالاں کہ ہماری دلی خواہش یہی ہے کہ دور چہارم کے مصنفین کو ہم دور سوم کے مصنفین سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر دیکھیں تاکہ ہماری زبان کا عنفوانِ شباب فی الحقیقت شباب کی امنگوں اور آرزوؤں سے لبریز نظر آنے لگے۔18؎
محمد یحییٰ تنہا نے سیر المصنّفین جلد دوم کے دیباچے میں جلد اوّل پر کیے گئے اہلِ علم کے اعتراضات کا جواب بھی دیا۔جلد اوّل پر سب سے بڑا اعتراض اردو نثر کی ابتدا پر کیا گیا۔بعض ناقدین نے اردو کی پیدائش کو ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد سے تسلیم کیا۔اس ضمن میںمحمد یحییٰ تنہا کا کہنا ہے کہ دنیا کی کسی بھی زبان کی نثر،نظم سے پہلے معرضِ وجود میں نہیں آئی۔اپنی بات کو مدلل بنانے کے لیے موصوف نے اردو کی شعری کتابوں کے حوالے دیے جو دکن اورشمالی ہندوستان میں لکھی گئی تھیں۔انھوں نے تاریخ زبان اردو اور تذکرہ مصنّفین اردو کی شناخت اور پہچان کو علاحدہ تسلیم کیا ہے۔ان کی نظر میں بعض لوگوں نے دونوں کو ایک ہی تسلیم کیا جس سے ان دونوں کی معنویت میں واضح فرق نمایاں ہوا۔اس لحاظ سے انھوں نے اردو زبان کی پیدائش کے بارے میں اپنا مطمحِ نظر واضح کرتے ہوئے لکھا:
’’تاریخ زبان اردو اور تذکرہ مصنفین اردو میں بھی فرق ہے۔بعض اصحاف دونوں کو گڈ مڈ کر دیتے ہیں اور فوراً اعتراضات جوڑتے ہیں۔ہم نے اپنی کتاب کی پہلی جلد میں ’اردو کی پیدایش‘ کے نام سے ایک باب تحریر کیا ہے اور اس میں دکھلایا ہے کہ کیوں کر اختلاط الفاظ کی بنیاد پڑی اور کس طرح رفتہ رفتہ الفاظ کے اختلاط سے ایک دوسری زبان یعنی اردو کی ابتداہوئی۔یہ سچ ہے کہ شاہ جہاں سے پہلے بھی وہ زبان جس کو ہم اردو کہتے ہیں بولی جاتی تھی اور ظاہر ہے کہ آناً فاناً کوئی زبان عرصۂ وجود میں نہیں آ سکتی تاہم شاہ جہاں کے لشکر سے اس زبان کو منسوب ہونا اور اردو کا نام حاصل کرنا ظاہر کر رہا ہے کہ اس وقت سے اس زبان کو زبان سمجھا جانے لگا۔اگر چہ فی الواقع یہ محض روز مرہ کی ضروریات کو ادا کرنے کے لیے زبان تھی ورنہ زبان سے جو آج کل مفہوم ہے اس سے کوسوں دور تھی اور ترقی یافتہ زبانوں کے مقابلے میں آج بھی صفر کے برابر ہے۔ البتہ اس کی روز افزا ترقی سے امید ہے کہ جلد متمدن اقوام کی زبانوں کا مقابلہ کر سکے۔‘‘19؎
جلد دوم کے دیباچے کے آخر میں محمد یحییٰ تنہا نے سچانند سنہا (بیرسٹر ایٹ لا،پٹنہ،بانی ہندوستان ریویو کلکتہ و سابق ممبر مالیات صوبہ بہار و اڑیسہ)کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ جنھوں نے اس کتاب کی اشاعت میں سعی بلیغ سے کام لیا۔دیباچہ کے آخر میں انھوں نے فارسی کا درج ذیل شعر تحریر کیا ؎
تہی دستانِ قسمت را چہ سود از رہبر کامِل
کہ خضر از آبِ حیواں تشنہ می آرد سکندر را
محمد یحییٰ تنہا نے اردو کے تیسرے دور(1857تا1914)کو ’اردو کا عنفوانِ شباب‘سے موسوم کیا۔ انھوں نے اس دور کے مصنفین کی جملہ خصوصیات کو طشت از بام کیا ہے۔حالانکہ انھوں نے غدر کے فوراً بعد شروع ہونے والے زمانے اور اس دوران لکھی گئی نثری کتابوں کا تنقیدی تجزیہ کیا ہے۔لیکن سرسید اور ان کے رفقا کی کتابیں غدر سے پہلے ہی منظرِ عام پر آ چکی تھی اس کے باوجود بھی محمد یحییٰ تنہا نے انھیں 1857-1914کے زمرے میں شامل کیا۔انھوں نے انگریزی حکومت کے مظالم پر بھی تنقیدی آرا پیش کی جس کے عوض ہندوستانی ادیبوں نے بہترین لٹریچر تخلیق کیا۔ساتھ ہی انگریزی ادب کے مقابلے کے لیے ہندوستانی ادیبوں نے ادبی شاہ کار تخلیق کیے۔ہندوستانی پریس ایکٹ کے تحت بھی مقامی لوگوں نے مطابع قائم کیے جہاںسے اعلا درجے کی کتابیں شائع ہوئیں۔سیر المصنفین کی دوسری جلد میں سب سے زیادہ صفحات سر سید احمد خاں کے کارناموں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔تیسرے دور کی افادیت و اہمیت کے بارے میں محمد یحییٰ تنہا رقم طراز ہیں:
’’تیسرے دور سے اردو کا عنفوانِ شباب شروع ہوتا ہے اور عالم طفولیت ختم ہو جاتا ہے۔اب اردو زبان جملہ اصنافِ سخن پر قدرت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور جس طرح نوجوان اظہار مطالب کسی بچہ کی نسبت بہتر طور پر کر سکتا ہے یہی حال ہماری زبان کا ہو گیا ہے۔اگر چہ اس کو علمی اور سائنٹفک مضامین کے اظہار پر پوری قدرت حاصل نہیں ہوئی لیکن وہ بہ طرز احسن ان کو ادا کرنے کی سعی بلیغ کر رہی ہے اور ایک حد تک کامیاب بھی ہوتی جا رہی ہے۔حکیم ہر برٹ اسپینسر کی فلسفیانہ کتب کا ترجمہ اردو میں مشکل اور سخت مشکل ہے۔چناں چہ جب مولانا شبلی مرحوم نے ڈاکٹر اقبال سے دریافت کیا کہ حکیم موصوف کی فلسفیانہ کتب کا ترجمہ اردو میں ہونا ممکن ہے تو انھوں نے نفی میں جواب دیا لیکن ڈاکٹر موصوف نے جب حکیم ہر برٹ اسپینسر کی کتاب ایجوکیشن کا ترجمہ جو مولوی خواجہ غلام الحسنین صاحب پانی پتی نے کیا ہے،دیکھا تو انھوں نے اپنی پہلی راے بدل دی اور کہا کہ بلا شبہ حکیم ممدوح کی کتابوں کا ترجمہ بھی اردو میں کیا جا سکتا ہے بہ شرط یہ کہ مترجم دونوں زبانوں پر کامل قدرت رکھتا ہو۔‘‘20؎
محمد یحییٰ تنہا نے اردو کے نثری سرمایے میں اضافے کے لیے تراجم کی افادیت پر زور دیا۔انھوں نے اس بارے میں لکھا کہ جس قدر علوم و فنون کی کتب کا ترجمہ اپنی زبان میں کیا جائے گا زبان وسیع ہوتی جائے گی اور اہلِ زبان علوم جدیدہ سے واقف ہوتے جائیں گے۔انھوں نے عربی زبان و سلطنت کے نظریے میں تبدیلی لانے میں لاطینی،عبرانی و یونانی کتابوں کے تراجم کے بارے میں بتایا کہ جب تک عربی زبان میں لاطینی اور یونانی اور عبرانی کتب سے ترجمے نہیں کیے گئے،کچھ اضافہ نہ ہوا اور نہ عربوں کی سلطنت میں شائستگی اور تمدن کا دور ہوا۔فتوحات کے بعد تہذیب کا دور شروع ہوتا ہے اور عربوں کا یہ دور عباسیہ ہے جب کہ ہزاروں کتابیں دیگر ممالک سے اونٹوں پر لاد کر آتی تھیں اور ترجمہ ہوتی تھیںجس کی تصدقیق مولانا حالی نے یوں کی:
یہ تھا علم پرواں توجہ کا عالم
کہ ہو جیسے مجروح جو یائے مرہم
کسی طرح پیاس ان کی ہوتی نہ تھی کم
بجھاتا تھا آگ ان کی باراں نہ شبنم
حریم خلافت میں اونٹوں پہ لد کر
چلے آتے تھے مصر و یوناں کے دفتر
وہ تارے جو تھے شرق میں لمعہ افگن
یہ تھا ان کی کرنوں سے تا غرب روشن
نوشتوں سے ہیں جن کے اب تک مزین
کتب خانۂ پیرس و روم و لندن
پڑا غلغلہ جن کا تھا کشوروں میں
وہ سوتے ہیں بغداد کے مقبروں میں21؎
اس باب میں محمد یحییٰ تنہا نے اس بات کا اعتراف کیاکہ بعض لوگوں نے اردو کی ترقی اور فروغ سے بد دل ہوکر اس زبان کی مخالفت بھی کی۔حالاں کہ ان کا ماننا یہ تھا کہ ان کی مخالفت بے سود ثابت ہوئی۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس بات کو لکھے سو سال ہو گئے ہیں جو آج سو فی صد سچ ثابت ہو رہی ہے۔اردو کے مخالفین اس زمانے میں بھی تھے اور اِس زمانے میں بھی ہیں لیکن اس زبان کی جتنی مخالفت ہوتی ہے وہ روز بہ روز اتنی ہی ترقی کر رہی ہے۔موصوف اس بات پر نالاں ہیں کہ اردو ادب میں جتنا کام سر سید کے دور میں ہوا اتنا کام اب نہیں ہو رہا ہے۔حالاں کہ وہ پر امید ہیں کہ سر سید اور ان کے رفقا کے بعد بھی مصنف پیدا ہوں گے لیکن انھیں ان کا سچا جا نشیں نظر نہیں آتا۔محمد یحییٰ تنہانے بڑی جاں فشانی اور عرق ریزی کے ساتھ اردو نثر کے مصنفین کے کار ہائے نمایاں کو صفحۂ قرطاس کی زینت بنایا۔ انھوں نے اپنے مضامین میں کتابوں اور مصنفین کے کار ناموں کو جزئیات نگاری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ موصوف نے مصنف کے تعارف اور جائزے کے فٹ نوٹ میں اس بات کا حوالہ پیش کیا کہ انھوں نے اپنے مضمون کو کس رسالے یا کتاب سے نقل کیا ہے۔ سیر المصفین جلد دوم کے فٹ نوٹ کسی علمی گنجینے سے کم نہیں ہیں۔محمد یحییٰ تنہا نے کتاب کے تیسرے دور کے خاتمے میں بہت ہی دل چسپ اور معلوماتی باتیںتحریرکی ہیں۔انھوں نے اس دور کے مصنفوں اور ان کی کاوشوں کو سلام کرتے ہوئے لکھا:
’’لیجیے!تیسرے دور کا بھی خاتمہ ہو گیا اور بزرگ صورتیں جو ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی پھرتی نظر آتی تھیں خاک میں پنہاں ہو گئی۔ہم جن بزرگوں کے سامنے زانوے ادب تہہ کر تے تھے وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے رخصت ہو گئے۔ہاں !ان کی کتابیں ہیں جن سے ہم ہمیشہ سبق لیتے رہیں گے اور جو ہمیشہ ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔اِن بزرگوں نے اردو کے ذرّۂ خاکِ مذلّت سے اٹھا کر عزت کے آسمان پر ستارہ کی طرح چمکا دیا۔ ہمارے ناظرین جلد اوّل میں دیکھ چکے ہیںکہ فورٹ ولیم کالج کلکتہ کی بدولت اردو نثر نویسی کا رواج ہوا، بعد ازاں دہلی کالج سوسائٹی نے اپنے ترجموں سے اور انفرادی کوششوں نے ملک کے دیگر حصوں میں اردو کو رواج دیا۔اس دورِ ثالث میں کرنل ہالرائڈ اور آزاد نے پنجاب میں اور عموماً شمالی ہند میں علی گڑھ سائنٹفک سوسائٹی اور سر سید نے مطبع منشی نول کشور نے لکھنؤ اور کان پور میں بے حد کام کیا۔دورِ اوّل اور دورِ ثانی میں ہماری زبان صرف افسانوں اور چند اخلاقی و مذہبی کتابوں کی زبان تھی۔اس دور میں یہ ہر قسم کی بولیاں بولنے لگی۔علمی مذاکرات میں اسے دخل ہوا، سائنس کی دنیا کو اس نے دیکھ ڈالا،اخبار نویسی کا چربہ اس نے اتارا،تاریخی دنیا میں اسے شہرت ہوئی،ناول نویسی میں اس نے فروغ حاصل کیا۔علم الاقتصاد اور فلسفہ میں اس نے نام پیدا کیا۔غرض جس طرح اور زبانیں ہر قسم کے مطالب ادا کر سکتی ہیں یہ بھی ان کے اظہار میں تیار اور مستعد نظر آتی ہے۔ لیکن ہماری زبان آیندہ کیسی ہی ترقی کے آسمان پر کیوں نہ نظر آئے وہ ان بزرگوں کے بارِ احسان سے کبھی سبک دوش نہیں ہو سکتی جس کی بدولت اس کو یہ رتبہ حاصل ہوا ہے۔‘‘ 22؎
محمد یحییٰ تنہا نے اپنے ہم عصروں اور قارئین کو مخاطب کرتے ہوئے یہ لکھا کہ انھیں بزرگوں کی بدولت ہماری زبان میں گل کاریاں اور سحر طرازیاں ہونے لگی ہیں۔اس لیے ہمیں ان بزرگو کی ادبی خدمات کا صدق دل سے اعتراف کرنا چاہیے۔ان بزرگوں کے اس دارِ فانی سے رخصت ہونے پر ہمیں رنج و غم کا اظہار کرنا چاہیے۔اس موقع پر محمد یحییٰ تنہا نے اپنی نظم شامل کتاب کی جو انھوں نے ایسے ہی موقع کے لیے لکھی تھی۔انھوں نے اپنی نظم میں اردو ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے والے ادبا و شعرا کا تذکرہ کیا ہے۔بالخصوص سر سید اور ان کے رفقا کا ذکر انھوں نے خوب صورت انداز میں کیا۔ساتھ ہی شرراور سرشار،نذیر احمد اورسر زمینِ بلگرام سے تعلق رکھنے والے ادبا و شعرا کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔پوری نظم میں اردو زبان اور اس کی عظمت کا عمدگی اور شگفتگی کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔در اصل یہ نظم محمد یحییٰ تنہا کے دل کی آواز ہے جسے انھوں نے نظم کے پیرائے میں پیش کیا۔
اس کے بعدمحمد یحییٰ تنہا نے چوتھے دور یا دورِ حاضر جس میں انھوں نے 1914کے بعد کے نثر نگاروںکو موضوعِ بحث بنایا ہے۔انھوں نے جنگِ عظیم اوّل کے سبب پیدا ہونے والے تغیرات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔جنگ کے حالات سے باخبر کرنے کے لیے رسائل و اخبارات کا سہارا لیا گیا۔دنیا میں اس جنگ کے حامیوں اور مخالفین میں ادبی و نظریاتی جنگ دیکھنے کو ملی۔ہندوستان میںبھی جنگِ عظیم اوّل کے اثرات دیکھنے کو ملے۔سوراج اور خلافت مومنٹ نے اس جنگ کی مخالفت کی۔محمد یحییٰ تنہا نے ہندوستان میں لکھے جانے والے ادب پر انگریزی ادب کے اثرات ہونے کی بات کو قبول تو کیا لیکن ساتھ ہی انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرقی ادیبوں نے صرف تحقیق کے لیے انگریزی ادب سے استفادہ کیا۔ انھوں نے اردو کے بزرگ اور بنیاد گزار ادیبوں کی خدمت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا:
’’ہمارا لٹریچر موجودہ حالات اور نئے نئے خیالات کے اظہار پر جن بزرگوں کی انشا پردازی کی بدولت قادر نظر آتا ہے ہم کو ان کے احسانات کبھی فراموش نہ کرنے چاہئیں۔وہ بزرگ تیسرے دور کے مصنفین ہیں۔کیا کیا نایاب کتابیں ان کے قلم سے نکلیں اور کیا کیا جواہر ریزے انھوں نے ہمارے لیے ترکہ میں چھوڑے۔ہم کسی آئندہ زمانے میں بھی ان سے مستغنیٰ نہیں ہو سکتے۔23؎
اس کے بعد محمد یحییٰ تنہا نے مولاناحالی کی کتاب ’یاد گارِ غالب‘کو ایک مثالی اور بہترین کتاب قرار دیتے ہوئے لکھا کہ فی الحقیقت مرزا غالب کے کلام کی خوبیاں مولانا حالی نے اپنے انداز ِ خاص میں بیان کی ہیں،وہ مذاقِ صحیح پر اپنا عجیب و غریب اثر ڈالتی ہیں۔انھوں نے ڈاکٹر عبدالرحمن بجنوری کے مقدمہ دیوانِ غالب سے اس مثال کو قارئین کے سامنے پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ جیسے کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا تھا،مولانا حالی نے مرزا غالب کے کلام میں اس نئی دنیا کا پتا لگایا ہے اور حقیقت میں مولانا حالی مرزا غالب سے کچھ کم مستحق داد نہیں ہیں۔24؎انھوں نے عبدالرحمن بجنوری کے مقدمہ دیوانِ غالب کو عالمی ادب کے زمرے میں رکھا ہے۔انھوں نے مولانا شبلی کی تحقیقی کاوشوں کو جہاں قدر کی نگاہ سے دیکھا وہیں البرامکہ یا نظام الملک ازمولوی عبدالرزاق کی کاوشوں کو لائقِ تحسین گردانا۔ انھوں نے ڈپٹی نذیر احمد،رتن ناتھ سرشار،عبدالحلیم شرر وغیرہ ادیبوں کی کتابوں کا موازنہ بھی پیش کیا۔ محمد یحییٰ تنہا نے سیر المصنفین جلد دوم کے آخر میںچوتھے دور کے مصنفین کے حالات اور ان کی نثری خدمات پر کچھ بھی لکھنے سے صاف انکار کیا۔حالاں کہ انھوں نے ہم عصر نثر نگاروں کی کتاب میں حوالوں کے اندراج کے بارے میں لکھا کہ ان کا تذکرہ ضرروی تھا جس وجہ سے معاصرین ادیبوں کے حوالوں کے تعلق سے کتاب کے اصولوں کو پیش نظر رکھا گیا۔اس بارے میں انھوںنے اپنا مطمحِ نظر واضح کرتے ہوئے لکھا:
’’فی الحال موجودہ دور کے مصنفین کے حالاتِ زندگی تیسرے دور کے مصنفین کی طرح قلم بند کرنا نہ صرف قبل از وقت اور غیر ضروری ہے بلکہ مذاقِ سلیم کی تضحیک کرنا ہے،جس کو ہم کسی طرح گورا نہیں کر سکتے۔اگر چہ اس سے ہماری کتاب کی ہر دل عزیزی میں فرق آئے لیکن ہم اپنی کتاب کو رطب و یا بس سے پر کرنے کی بجائے صحیح مذاق کی معلومات کا مخزن دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔بے شک بعض اصحاب ہم سے اختلاف کریں گے اور ہم کو مورد طعن و تشنیع بنائیں گے لیکن ہم ان کی خدمت میں بہ ادب عرض کرتے ہیں کہ ہم نے نہایت غور و تامل کے بعد نیک نیتی کے ساتھ یہ فیصلہ کیا ہے کہ دورِ حاضر کے مصنفین کے حالات فی الحال نظر انداز کر دیے جائیں تاکہ(اگر خدا کو منظور ہے) کسی آئندہ زمانے میں اس کتاب کے صفحات کو مزین کرنے کے لیے ایک ذخیرہ کا کام دیں۔جن صاحبان کے حالات حاشیہ پر حوالۂ قلم کیے گئے ہیں وہ ناظرین کو محض آگاہ کرنے کے لیے ہیں کہ یہ بزرگ کون ہیں؟اور چوں کہ ان کا ذکر متن میں آ گیا ہے،اصولِ کتاب نویسی کے لحاظ سے بھی ان کا مختصر حال لکھ دینا ضروری تھا۔جن اصحاب کا اس قدر حال بھی درج کتاب نہیں ہوا وہ ہر گز اس کے یہ معنی سمجھیں کہ ہم نے ان کو دور حاضر کے زمرہ مصنفین میں داخل نہیں کیابلکہ وہ یہ خیال فرمائیں کہ جس شخص کے حالات حسنِ اتفاق سے معلوم ہو گئے اس کا مختصر حال داخل کتاب کر دیا گیا اور بس۔
آزاد رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کل
ہر گز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے25؎
محمد یحییٰ تنہا کی سیر المصنفین جلد اوّل کے منظرِ عام پر آنے کے بعد ادیبوں کی توجہ اردو نثر نگاروں کے کارناموں کو منظرِعام پر لانے کی جانب مبذول ہوئی۔حکیم شمس اللہ قادری کی اردوئے قدیم (1925)، مولوی سید محمد کی ارباب نثر اردو(1927) احسن مارہروی کی نمونۂ منشورات(1930) اور حامد حسن قادری کی داستانِ تاریخ اردو(1938)، وغیرہ کتابیں منصہ شہود پر آئیں۔سیر المصنّفین جلد اوّل منظرِ عام پر آنے کے بعد کئی ناقدین نے اس میں شامل اردوکے ارتقا و فروغ کے نظریات پر نکتہ چینی بھی کی۔ حالاں کہ محمد یحییٰ تنہا نے سیر المصنفین جلد دوم کے دیباچہ میں ناقدین کو حوالوں کے ساتھ جواب بھی دیے ہیں۔سیر المصنفین کی شہرت و مقبولیت کے بعد رام بابو سکسینہ نے تاریخ ادب اردو،سید اعجاز حسین نے مختصر تاریخِ ادب ارود،محی الدین قادری زور نے اردو سہ پارے میں اردو شعرا کے علاوہ نثر نگاروں کے ادبی کارناموں پر تفصیلی گفتگو کی۔
کتاب’سیر المصنفین‘کی مقبولیت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1976میں ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین نے ادارہ اشاعتِ ادب میرٹھ سے اپنے مربوط و مبسوط مقدمے کے ساتھ’سیر المصنّفین‘ کی جلد اوّل کو شائع کیا۔انھوں نے محمد یحییٰ تنہا کی اس اہم کتاب کے بارے میں اظہارِخیال کرتے ہوئے لکھا:
’’تنہا کے اس تاریخی اقدام سے یہ فائدہ ہوا کہ اردو تذکرہ نگاروں اور تاریخ نویسوں کی توجہ اردو شاعروں کے ساتھ ساتھ اردو نثر نگاروں کی طرف بھی ملتفت ہوئی۔ چناں چہ اس کتاب کے ایک سال بعد جب حکیم شمس اللہ قادری کی ’اردوئے قدیم ‘شائع ہوئی تو اس کے آخری حصے میں دکن کے چند مصنفینِ نثر کا بھی روا روی میں ذکر کیا اور شمال میں فضلی محمد حسین کلیم،تحسین اور ڈاکٹر جان گل کرسٹ کے بھی نام گنوائے گئے ہیں۔26؎
ڈاکٹر امیر اللہ شاہین نے سیر المصنّفین جلد اوّل میں در آئی خامیوں کی جانب بھی توجہ مبذول کی۔ انھوں نے اس بارے میں لکھا:
’’اس گفتگو کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تنہا کا تذکرہ ہر عیب سے پاک ہے۔خامیاں اس میں ہیں۔ مگر آٹے میں نمک کی طرح۔کتاب کے اسی حصے میں ایک طرف تنہا نے صحیح ترتیب کو روا نہیں رکھا ہے۔انھوں نے فورٹ ولیم کالج کے مصنفین کے بعد شاہ صاحبان کا تذکرہ لکھا ہے۔دوسری خامی یہ ہے کہ انھیں ناموں میں التباس ہوا ہے۔ مثلاً انھوں نے میر کاظم علی جواں کو مرزا جان طپش کو طیش،محمد خلیل خاں اشک کو محمد خلیل اللہ خاں اشک لکھا ہے۔ منشی بینی نرائن جہان کا تخلص جہاں درج نہیں کیا ہے۔لطف یہ ہے ان کی دیکھا دیکھی داستانِ تاریخ اردو میں بھی میر کاظم علی جواں کی جگہ میر کاظم علی جواں درج ہوا ہے۔‘27؎
بہر نوع!محمد یحییٰ تنہا نے سیر المصنفین کی دونوں جلدوں میں اردو نثر کے مصنفین کا تذکرہ کیا ہے۔ انھوں نے ان دونوں جلدوں میں کسی مصنف کا تذکرہ ایک صفحے میں اور بعض کا کئی صفحات میں کیا ہے۔تنہا صاحب نے سیر المصنفین جلداوّل میں اردو زبان کی پیدایش کا جو نظریہ پیش کیااس میں اردو کی پیدائش کھڑی بولی قرار دیا۔حالاں کہ انھوں نے مولانا محمد حسین آزاد کی کتاب ’آبِ حیات ‘کی طرز پر سیر المصنّفین کو لکھنے کا دعوا کیا ہے۔اس کے باوجودبرج بھاشا سے اردو کی پیدایش کے نظریے سے انھوں نے اختلاف کیا۔انھوں نے دیگر زبانوں کی کتابوں کو اردو میں ترجمہ کرنے کی وکالت کی۔اس ضمن میں ان کا خیال ہے کہ دیگر زبانوں کے افکار و خیالات سے قارئین کے دماغوں کو علمی خوراک ملتی ہے۔’تاریخ مغربی یورپ‘جلد اوّل کے ترجمے میں انھوں نے اپنے نظریات کو قارئین کے سامنے پیش کیا ہے۔ان کی نظر میں ترجمہ،اصل کتاب کی روح اور مترجم مصنف کا نمائندہ ہوتا ہے۔اس بارے میں محمد یحییٰ تنہا لکھتے ہیں:
’’فی الحقیقت ترجمہ کرنا بعض اوقات تصنیف سے زیادہ مشکل ہو جاتا ہے خصوصاً جب کہ ہماری زبان اپنے ابتدائی مراحل طے کر رہی ہے۔تاہم یہ کوشش کی گئی ہے کہ لمبے لمبے جملوں کا مطلب بھی بہ آسانی سمجھ میں آ جائے۔اگر ہم اس دھن میں جس میں مترجم ایک طرف ترجمہ پر نظر ڈال کر اور دوسری طرف اصل عبارت کو پڑھ کر خیال کرتا ہے کہ میرے الفاظ سے میرے ناظرین بھی یہی مطلب سمجھیں گے جو میں بہ زعم خود سمجھ رہا ہوں کہیں کہیں غلطی کر گئے ہوں تو ہم کو متنبہ کیا جائے۔‘‘28؎
محمد یحییٰ تنہا نے مطابع کی اہمیت کو بھی قبول کیا ہے۔اس ضمن میں انھوں نے سائنٹفک سوسائٹی، دہلی کالج سوسائٹی اور نول کشور پریس سے شائع ہونے والی کتابوں کی اہمیت پر زور دیا۔محمد یحییٰ تنہا خود وکیل، مترجم اور معلم تھے اس اعتبار سے انھوں نے اردو ادب کے فروغ و اشاعت کے لیے رسائل و جرائد کی اہمیت کو تسلیم کیا۔حالانکہ انھوں نے سیر المصنّفین کی دونوں جلدوں میں رسائل و جرائد پر بہت کم بات کی لیکن جتنی بھی بات کی اس میں ان کی اہمیت پر زیادہ توجہ مرکوز کی۔انگریز مستشرقین اور عالموں کی ادبی خدمات کا انھوں نے صدق دل سے احترام و اعتراف کیا۔فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج کے منتظمین کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اگر یہ دونوں کالجز کا قیام ہندوستان میں نہ ہوتا تو اردو کی ترقی بھی اتنی رفتار سے نہ ہوتی۔انھوں نے انگریز حکام کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا کہ اردو کو انھوں نے سرکاری دفاتر کی زبان قرار دیا۔حالانکہ بعد میں یہ ایک بڑا سیاسی مسئلہ بن گیا۔اور ہندوستان میں اردو کے مخالفین نے اس کی ترقی میں خوب روڑے اٹکائے۔یہاں تک کہ ملک کی جد و جہدِ آزادی کے دوران اسے مزید بھڑکایا گیا۔
محمد یحییٰ تنہا شیخ سعدی،سر سید احمد خاں،محمد حسین آزاد اور مولانا حالی سے خاصے متاثر تھے۔ان نابغۂ روز گار شخصیات کی کتابوں کاوہ اکثر مطالعہ کرتے۔تنہا صاحب کے ابتدائی مضامین میں مذکورہ بالا شخصیات کے ادبی کارناموں کا واضح اثر نمایاں ہے۔میرٹھ میں قیام کے دوران تنہا صاحب نے خواجہ غلام الثقلین کے کتب خانے سے خوب استفادہ کیا۔خواجہ صاحب،تنہا صاحب کی ذہانت کے قدر دان تھے۔خواجہ صاحب کے ہی دولت کدے پر تنہا صاحب کی ملاقات مولانا الطاف حسین حالی سے ہوئی۔تنہا صاحب کو مولانا حالی نے غزل کے بجائے نظم اور نثر میں کام کرنے کا مشورہ دیا۔ان کا پہلا مضمون’احسان فراموشی‘ ’عصرِ جدید‘،میرٹھ میں شائع ہوا۔اس کے بعد ان کے مضامین ملک کے موقر رسائل، اردو، زمانہ، ادیب، انسٹی ٹیوٹ،نگار وغیرہ میں شائع ہونے لگے۔
محمد یحییٰ تنہا سیر المصنّفین کی تیسری جلد کو مکمل کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی عمر نے وفا نہ کی۔وہ اس حسرت کو لیے دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔اس بات کو انھوں نے مراۃ الشعرا کے دیباچے میں تحریر کیا تھا کہ ’سیر المصنّفین کو مکمل کرنا ہے،جو تقاضا ئے وقت بھی ہے اور خود ہمارے دور سے متعلق ہے۔‘29؎ حسن یحییٰ عندلیب میرٹھی نے بھی سیر المصنّفین کی تیسری جلد کی اشاعت کے بارے میں لکھا کہ مولانا مرحوم نے سیر المصنّفین (جلد سوم) جس میں ان کے اپنے معاصرین مصنّفین کا ذکر ہے لکھنی شروع کر دی تھی اور مولوی عبدالحق، سید سلیمان ندوی، مولانا ابوالکلام آزاد، اور دیگر مشہور بزرگوں پر مضامین لکھ چکے تھے۔یہ کتاب ان شاء اللہ جلد شائع ہوگی۔30؎۔دورِ حاضر میں سیر المصنّفین کی اشاعت کو سو سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔ لیکن اس کی معنویت میںآج بھی ذرہ برابر بھی کمی نہیں آئی ہے۔محمد یحییٰ تنہا کی کاوش کے بعد دیگر مصنّفین نے بھی اردو نثر نگاروں کے تذکرے لکھنے کا ڈول ڈالا لیکن اولیت کا سہرا محمدیحییٰ تنہا کے سر باندھا جائے گا۔
حواشی
1 میرٹھ کی ادبی خدمات،مشتاق شارق، 2014،ص 76
2 مرأۃ الشعرا،جلد دوم،شیخ مبارک علی لوہاری دروازہ،لاہور،ص386،1950
3 سیر المصنفین(جلد اوّل)،محمد یحییٰ تنہا،منیجر دار الاشاعت غازی آباد،1924،ص 3
4 رسالہ الناظر،لکھنؤ،شمارہ نمبر160-161،جلد27،بابت اکتوبر و نومبر1924،ص49
5 سیر المصنفین(جلد اوّل)،محمد یحییٰ تنہا،منیجر دار الاشاعت غازی آباد،1924،ص 5
6 ایضاً، ص16
7 ایضاً،ص46
8 ایضاً،ص49
9 ایضاً،ص138
10 رسالہ الناظر،لکھنؤ،شمارہ نمبر162،جلد27،بابت ماہ دسمبر1924،ص55
11 رسالہ الناظر،لکھنؤ،شمارہ نمبر164،جلد28،بابت ماہ فروری1925،ص9
12 رسالہ الناظر،لکھنؤ،شمارہ نمبر172-174،جلد29،بابت ماہ اکتوبر،نومبر،دسمبر1925،ص8
13 سیر المصنفین،(جلد دوم)محمد یحییٰ تنہا،مطبع جامعہ ملیہ اسلامیہ،قرول باغ،دہلی1928،ص 5
14 رسالہ الناظر،لکھنؤ،شمارہ نمبر2،جلد34،فروری1928
15 سہ ماہی رسالہ اردو،انجمن ترقی اردو،اورنگ آباد(دکن)،جلد ششم،جنوری1926،ص93-112
16 رسالہ جامعہ،نئی دہلی،جلد9،شمارہ نمبر5-6،اکتوبر،نومبر،1927،ص65-88
17 رسالہ جامعہ،نئی دہلی، جلد 56شمارہ2، بابت ماہ اگست1967،ص 93-94
18 سیر المصنفین،(جلد دوم)محمد یحییٰ تنہا،مطبع جامعہ ملیہ اسلامیہ،قرول باغ،دہلی1928،ص 4
19 ایضاً، ص 11
20 ایضاً،ص17
21 ایضاً، ص18
22 ایضاً،ص628-629
23 ایضاً،ص 632
24 ایضاً،ص 633
25 ایضاً،ص 640
26 سیر المصنفین،(جلد اوّل)محمد یحییٰ تنہا،مرتبہ ڈاکٹر امیر اللہ خاں شاہین، ادارہ اشاعتِ ادب میرٹھ، 1976، ص ز
27 ایضاً،ص س
28 تاریخ مغربی یورپ،محمد یحییٰ تنہا جلد اوّل، مکتبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ،دہلی،ص7،1928
29 مرأۃ الشعرا،جلد دوم،شیخ مبارک علی لوہاری دروازہ،لاہور،ص8،1950
30 رسالہ جامعہ،نئی دہلی، جلد 56شمارہ2، بابت ماہ اگست1967،ص 96


Ibraheem Afsar
Ward No-1, Mehpa Chauraha,
Siwal Khas,
Meerut- 250501 (U.P)
Mobile-9897012528
E-Mail:ibraheem.siwal@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

قاضی عبدالودود اور غالبیات، مضمون نگار: شہاب ظفر اعظمی

تلخیص:  اردو تحقیق کی دنیا میں قاضی عبد الودود ایک معتبر نام ہے جنھوں نے ادبی تحقیق کی روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اس روایت کی توسیع بھی

تنوع پسند شاعر: مرزا محمد رفیع سودا،مضمون نگار: ابوبکرعباد

تلخیص: مرزا محمد رفیع سودا ہمارے بڑے اور اہم شاعر ہیں۔ان کی پرورش و پرداخت ایک مخصوص معاشرتی اور معاشی ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے زمانے کے مقتدر، با ثر