تلخیص:
اردو تحقیق کی دنیا میں قاضی عبد الودود ایک معتبر نام ہے جنھوں نے ادبی تحقیق کی روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اس روایت کی توسیع بھی کی۔ قاضی صاحب اردو ہی نہیں، فارسی کے بھی عظیم محقق تھے۔ ان کی تحقیقات نے اردو وفارسی کے کئی مسلمات رد کیے، کئی نئے انکشافات اور ماخذ و مصادر کے اضافے کیے جن سے اس روایت کا دائرہ وسیع ہوا جس کا آغاز مرزا محمد قزوینی اور حافظ محمود شیرانی سے ہوا تھا۔ قاضی صاحب نے اپنی تحقیق میں وہ منطقی، غیر جذباتی اور مدلل طرز اختیار کیا جو تحقیق کی دنیا میں مفقود تھا۔ اسی لیے انھیں مثالی محقق، معیار ساز محقق اور بت شکن محقق جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی تحریروں سے تحقیق میں احتیاط پسندی کا رجحان بڑھا، بغیر مضبوط دلیلوں کے دعووں کو قبول نہ کرنے کا انداز فروغ پایا، زود یقینی اور خوش اعتقادی نے کم اعتباری کی سند پائی اور منطقی استدلال کی بنیادی اہمیت کو تسلیم کیا گیا۔ قاضی صاحب اپنے معیار تحقیق اور تحقیقی کاوشوں کے باعث ایک دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی زیادہ تر تحریریں تبصروں کی شکل میں وجود میں آئی تھیں۔ موضوعات کے اعتبار سے ان میں تنوع اور رنگارنگی ہے مگر غالب ان کا سب سے محبوب موضوع ہے۔ انھوں نے غالبیات پر جو تبصرے کیے ہیں انھیںتحقیق کا معیار و اعتبار قرار دیا جاسکتاہے۔
کلیدی الفاظ
محقق، دلائل، شواہد، استناد، استدلال، بت شکن، مبصر، اصول، تدوین، منطقی، ماخذ، مراجع، نسخہ، فرہنگ
———
قاضی عبد الودود مئی 1896 مطابق ذی قعدہ 1313ھ کو صوبہ بہار کی مردم خیز بستی ’کاکو‘ (جہان آباد) میں اپنے نانیہالی مکان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام قاضی عبد الوحید اور تاریخی نام منظور الٰہی تھا۔ انھیں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے بہت زیادہ عقیدت تھی، اس لیے انھوں نے اپنا ایک نام غلام صدیق بھی رکھا تھا۔ ان کے نام کے ساتھ کہیں کہیں فردوسی بھی لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہار کے سلسلۂ فردوسیہ کے بزرگ حضرت شاہ امین احمد فردوسیؒ کے مرید تھے۔ قاضی عبدالودود کے آبا و اجداد میں کئی بزرگ بادشاہ ہمایوں کے زمانے سے قاضی کے عہدے پر فائز تھے۔ ان کے نام کے ساتھ قاضی اسی رعایت سے لگا جو بعد میں نام کا ایک جز بن گیا اور جو ان کی خاندانی عزت و شرافت کا سبب بھی بنا رہا۔قاضی عبد الوحید عظیم آباد (پٹنہ) کے مشہور رئیس اور زمیندار تھے اور علما میں شمار کیے جاتے تھے۔ وہ سادگی پسند، مہمان نواز، علم دوست اور شریعت کے نہایت پابند انسان تھے۔ قاضی عبدالودود کی والدہ یعنی قاضی عبد الوحید کی اہلیہ کا نام بی بی درگاہن تھا، جو سید شاہ لطف الرحمن متوطن کاکو کی بیٹی تھیں۔ وہ بھی مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی کی مرید تھیں۔ وہ ایک نیک اور پرہیزگار خاتون تھیں۔ ان کا انتقال پٹنہ میں 1924میں ہوا، جب کہ قاضی عبد الوحید کی وفات 1908 میں ہوچکی تھی۔
قاضی عبد الودود اپنے والد کی سب سے بڑی اولاد تھے۔ ان کے بعد دو بھائی محمود اور عبد الشکور پیدا ہوئے، مگر دونوں بچپن ہی میں انتقال کرگئے۔ ان کے بعد ایک بہن عائشہ پیدا ہوئیں جن کا انتقال تقریباً 1922میں ہوا۔ عائشہ کے بعد قاضی صاحب کے دو بھائی قاضی محمد سعید اور قاضی محمد فرید کی ولادت ہوئی۔ دونوں بھائی اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ قاضی محمد سعید ہندوستان میں رہے اور نومبر 1968 میں ان کا انتقال ہوا۔ قاضی محمد فرید پاکستان میں کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ہوئے اور وہیں ان کا انتقال مارچ 1966 میں ہوا۔ قاضی عبد الودود کی ابتدائی تعلیم و تربیت گھر پر ہی ہوئی۔ فارسی، عربی اور اردو پڑھنے کے بعد قرآن پاک حفظ کرنا شروع کیا اور تقریباً 13 سال کی عمر میں مکمل قرآن حفظ کرلیا اور رمضان المبارک میں تراویح بھی پڑھائی۔گھر کے بعد ابتدائی تعلیم کا سلسلہ پٹنہ اور علی گڑھ کے اسکولوں میںجاری رہا۔پھر کلکتہ یونیورسٹی سے انھوں نے 1916 میں میٹریکولیشن کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ اس کے بعد پٹنہ کالج میں داخل ہوئے اور 1918میں آئی اے اور 1920 میں بی اے فرسٹ ڈویژن امتیاز کے ساتھ پاس کیا۔ آئی اے میں ان کے مضامین اردو، فارسی، منطق اور تاریخ تھے۔ بی اے میں بھی منطق کے سوا یہی مضامین شامل رہے۔ قاضی عبد الودود مارچ 1923 میں تکمیل تعلیم کے لیے انگلستان تشریف لے گئے۔ چونکہ وہ وقت کیمبرج میں داخلے کا نہیں تھا، لہٰذا انھوں نے بیرسٹری کے مڈل ٹیمپل (Middle Temple) میں داخلہ لے لیا۔ اپریل میں چند دوستوں کے ساتھ تعطیل میں جرمنی گئے۔ وہاں انھوں نے گوٹنگن کی ڈاکٹر روزبرگر سے جرمن سیکھی۔ اسی سال اکتوبر میں قاضی صاحب کیمبرج آئے، وہاں ان کا داخلہ فٹزولیم ہاؤس میں ہوگیا۔ انھوں نے Economics میں ٹرائی پوس (Tripos) لیا تھا۔ ٹرائی پوس کے پہلے حصے میں Economics، Economical History اور Political History لازمی مضامین تھے اور دوسرے حصے میں Economics کے علاوہ Politics اور International Law اختیاری مضامین کے طور پر منتخب کیے تھے۔ تعطیلات میں قاضی صاحب فرانس جایا کرتے تھے، جہاں انھوں نے فرانسیسی زبان سیکھی۔ انھوں نے ہالینڈ اور اٹلی کا بھی سفر کیا۔ کیمبرج میں قاضی صاحب کی دوستی فخر الدین علی احمد سے ہوئی اور جرمن میں ڈاکٹر ذاکر حسین سے۔ ان دونوں سے ان کی گہری دوستی تا حیات قائم رہی۔
انگلستان میں قیام کے دوران قاضی عبد الودود کے مطالعے میں بہت وسعت پیدا ہوئی۔ انھوں نے ڈرامے، ناول، فلسفہ، نفسیات اور جدید انگریزی ادب کے ساتھ فارسی اور اردو کتابوں کا مطالعہ بھی کثرت سے کیا۔ انھوں نے اپنا بیشتر وقت وہاں کی اہم لائبریریوں مثلاً برٹش میوزیم، انڈیا آفس، ایشیاٹک سوسائٹی، لوڈین لائبریری، کیمبرج یونیورسٹی اور مختلف اداروں کی لائبریریوں میں گزارا۔ انھوں نے یونانیوں کے ڈراموں سے لے کر پراندیلو تک تمام ڈراما نگاروں کے ڈرامے تھیٹر میں جاکر دیکھے اور تقریباً تمام اہم ناول نگاروں کے ناول پڑھ ڈالے۔قاضی عبد الودود معاشی طور پر خوش حال تھے۔ اس لیے یورپ سے واپسی کے بعد بار ایسوسی ایشن میں رجسٹریشن کرانے کے باوجود مستقل بیماری کی وجہ سے پریکٹس جاری نہ رکھ سکے۔ انھوں نے نہ ہی کوئی ملازمت کی اور نہ کبھی فکر معاش میں مبتلا رہے۔ علم و ادب سے دلچسپی تھی، اس لیے ادبی تحقیقات کو بہ طور مشغلہ اختیار کیا اور اپنی حیات اسی مشغلے میں گزاردی۔: تلخیص
تحقیقی خدمات
اردو تحقیق کی روایت میں قاضی عبد الودود کی خدمات بیش بہا ہیں۔ کیفیت اور کمیت دونوں اعتبار سے انھیں اردو تحقیق میں جو مقام حاصل ہے، وہ بہت کم ہی محققین کو حاصل ہوسکا۔ رشید حسن خاں جیسے محقق نے انھیں تحقیق کا معلم ثانی قرار دیا ہے۔ قاضی عبد الودود کی سب سے بڑی خاصیت ان کی ایمانداری، غیرجابندارانہ تحقیق و تنقیدی رویہ اور غیر مرعوبیت ہے۔ انھوں نے ہمیشہ مصنف کے بجائے متن کو فوقیت دی اور وہ متن خواہ کسی اہم ترین ادیب کی طرف سے کیوں نہ منظر عام پر آیا ہو اگر اس میں غلطیاں ہیں تو ان کی سختی سے گرفت کی۔ انھوں نے صحت متن، تاریخی امور کی صداقت اور اصل مصادر وماخذ کی جانب توجہ دلائی۔ ان کے تحقیقی رویے کی وجہ سے شخصیت پرستی اور روایت پرستی کا زور ٹوٹا۔ کئی مسلمات و مفروضات باطل قرار پائے، کئی اہم انکشافات ہوئے اور درست تحقیق کا ذوق عام ہوا۔ ان کی تحقیقی نگارشات کے ذریعہ اردو تحقیق نے اس عہد میں باضابطہ ایک صنف اور مستقل فن کا درجہ حاصل کرلیا۔
قاضی صاحب کی تصنیفی زندگی کم وبیش نصف صدی کے عرصے کو محیط رہی ہے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی تحقیق و تصنیف کے لیے ہی وقف کردی تھی۔ اس لیے ان کے مضامین و مقالات کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ ان کے مقالات زیادہ تر معاصر، نوائے ادب اور اردو ادب میں شائع ہوتے تھے۔ بہار اردو اکادمی نے ان کے مقالات کئی جلدوں میں شائع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا مگر صرف ایک ہی جلد شائع ہوسکی۔ خدا بخش لائبریری پٹنہ سے عابد رضا بیدار کی رہنمائی میں ان کے مضامین اور تبصرے (جن کی تعداد تقریباً 1033ہے) 1995 سے 1998 کے درمیان تواتر کے ساتھ شائع ہوئے۔ قاضی صاحب کی تمام تصنیفات اور مقالات کی تعبیر و تفہیم ایک مستقل تحقیق اور مطالعے کا تقاضا کرتی ہے۔
تحقیقی تبصرے
قاضی عبد الودود نے بعض ممتاز اردو شاعروں اور ادیبوں کی تحقیقی و تدوینی خدمات کا احتساب کیا ہے اور ان کی نگارشات پر تحقیقی نگاہ ڈالتے ہوئے ان کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔ شعرا میں غالب، مصحفی، سودا، انشا، میر، درد، شاد اور شاہ کمال علی کمال ہیں تو نثر نگاروں میں محمد حسین آزاد، مولوی عبد الحق اور گارساں دتاسی کے نام لیے جاسکتے ہیں۔قاضی صاحب کی تحقیق کا بڑاحصہ ان اہم شخصیات کی کتابوں اور مقالوں پر تبصرے کی شکل میں موجود ہے مثلاً ’’عیارستان‘‘جوادارہ تحقیقات اردو، پٹنہ سے 1957 میں شائع ہوئی۔ یہ تین تبصروں کا مجموعہ ہے جو دیوان فائز، مرقع شعرا اور میر تقی میر حیات اور شاعری پر کیے گئے ہیں اور’شاد کی کہانی شاد کی زبانی‘ جسے شاد عظیم آبادی نے اپنے سوانحی حالات اور ادبی خدمات پر یہ کتاب خود تحریر کی تھی اور اس کا نام ’کمال عمر‘ رکھا تھا۔ مگر یہ کتاب ان کے شاگرد مسلم عظیم آبادی کی طرف سے ’شاد کی کہانی شاد کی زبانی‘ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس پر قاضی صاحب کا تبصرہ پہلے ماہنامہ صبح، دہلی میں 1962 میں شائع ہوا تھا، بعد میں یہ تبصرہ بہت رد و بدل اور اضافے کے ساتھ ’اشتر وسوزن‘ میں شامل کیا گیا جو تقریباً 68 صفحات اور دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں شاد کی تحریروں سے ان کی زندگی کے حالات سے متعلق کچھ اقتباسات پیش کیے گئے ہیں اور دوسرے حصے میں دلائل کے ساتھ شاد کے بیانات کی صحت وعدم صحت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پروفیسر کلیم الدین احمد نے یہ ارادہ کیا کہ ان کے تمام تبصرے اور مضامین بہار اردو اکادمی کے زیر اہتمام شائع کردیے جائیں۔ انھوں نے اس کے لیے باقاعدہ ایک پروجیکٹ بنا لیا تھا جس کے تحت ’مقالات قاضی عبد الودود‘ کی پہلی جلد 1977میں شائع ہوئی۔ اس کے بعد بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر دوسری جلد کی اشاعت کبھی نہ ہوسکی۔ مقالات قاضی عبد الودود جلد اول میں تین کتابوں پر قاضی صاحب کے تفصیلی تبصرے شامل کیے گئے ہیں۔ (1) بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقا-1857 تک (2) مرزا محمد علی فدوی: ان کا عصر، حیات، شاعری اور کلام۔ (3) مثنویات راسخ۔یہ تینوں تبصرے ’’ہندو پاکستان میں دانش گاہوں میں اردو زبان وادب سے متعلق تحقیقات‘‘ کے سلسلے میں لکھے گئے تھے اور تینوں کتابوں کا تعلق صوبہ بہار سے تھا۔
متذکرہ کتابوں کے علاوہ جن اہم کتابوں پر قاضی صاحب نے تبصرے کیے ہیں ان کی تعداد سیکڑوں ہیں۔ خدا بخش لائبریری نے 1995میں ان کے تبصروں کو کتابی شکل میں ’تبصرے‘ کے عنوان سے شائع کردیا ہے، تاہم ابھی بھی بہت سارے تبصرے ایسے ہیں جو رسائل و جرائد میں بکھرے ہوئے ہیں اور ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکے ہیں۔ یہ تبصرے تاریخ، تذکرہ، سوانح، دواوین، لغت، قواعد اور رسائل کے خصوصی نمبروں سے متعلق ہیں۔ انھوں نے جو خصوصی تبصرے لکھے ہیں ان میں فرہنگ آصفیہ پر طویل اور تفصیلی تبصرہ تھا۔ یہ تبصرہ نہ صرف مقبول ہوا بلکہ قاضی صاحب کی غیر معمولی کاوش اور دیدہ ریزی کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک معتبر لغت کے لیے کن امور پر توجہ دینی چاہیے۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر خدا بخش لائبریری نے اسے کتابی صورت میں 1981 میں شائع کردیا تھا۔ اس کے علاوہ جن اہم کتابوں پر انھوں نے خصوصی تبصرے لکھے ان میں درج ذیل قابل ذکر ہیں ؎
.1 دیوان تاباں مرتبہ مولوی عبد الحق .2 دریائے لطافت مرتبہ مولوی عبد الحق
.3 کلیم عجم از سیماب اکبر آبادی .4 نور المعرفت از ولی مرتبہ سید ظہیر الدین مدنی
.5 امیر محمد مومن مصنفہ سید محیی الدین قادری زور .6 شکار نامۂ حضرت گیسودراز مرتبہ ثمینہ شوکت
.7 تاریخ ادب اردو از ادارہ ادبیات اردو حیدر آباد .8 میری کہانی میری زبانی مصنفہ سید ہمایوں مرزا
.9 چھان بین مصنفہ اثر لکھنوی .10 بہادر شاہ ظفر اور ان کا عہد مصنفہ رئیس احمد جعفری
.11 دہلی کا دبستان شاعری مصنفہ نور الحسن ہاشمی .12 لکھنو کا دبستان شاعری مصنفہ ابو اللیث صدیقی
.13 تاریخ ادبیات اردو مصنفہ محمد صادق .14 گلشن سخن مرتبہ مسعود حسن رضوی
.15 وقایع عالم شاہی مصنفہ پریم کشور، مرتبہ عرشی
ان کے علاوہ دیوان یقین، دیوان گجری، دیوان عزلت اور رسائل میں ندیم گیا، نیرنگ خیال لاہور، سہیل علی گڑھ، ادبی دنیا لاہور، زمانہ کانپور، ساقی دہلی، ہمایوں لاہور، شاہکار لاہور، مساوات پھلواری اور ادب لطیف لاہور کے خصوصی یا سالنامہ نمبروں پر بھی قاضی صاحب کے تبصرے اہم ہیں۔ ان تمام کتابوں اور رسائل پر قاضی صاحب کے تبصرے تحقیقی اعتبار سے مبصرین کے لیے مشعل راہ ہیں۔ انھوں نے بتایا ہے کہ تبصرے محض کتابوں کا تعارف نہیں ہوتے، ان کی ادبی اور تاریخی صداقت بھی ضروری ہے۔ قاضی صاحب نے اپنے تبصروں میں مصنفین و شعرا کے نام کی تصحیح، ان کی تاریخ پیدائش ووفات کی تصحیح کی اور ان سے منسوب اشعار کی درستگی کرکے اصل شعرا کے نام درج کیے۔ ان کے تبصروں کی اہمیت و افادیت سے کبھی کوئی انکار نہیں کرسکتا، کیونکہ یہ تبصرے ہمیں تحقیق کے اصولوں کا اور طریقۂ کار کا عرفان بخشتے ہیں۔
بقول رشید حسن خاں:
’’قاضی صاحب کا ہر طویل تبصرہ ایک مستقل کتاب کا حکم رکھتا ہے اور ایسے ہر تبصرے سے ہم کو تحقیق کے اعلیٰ اصولوں کا اور صحیح طریقۂ کار کا عرفان ہوتا ہے۔‘‘1؎
انھوں نے نئے مبصرین کو مشورہ بھی دیا کہ:
’’آپ کو قاضی صاحب کے جتنے تبصرے مل سکیں، انھیں نہایت غور کے ساتھ دل لگا کر اور نظر جماکر پڑھ جایئے۔ آپ کو جہاں بہت سی نئی باتیں معلوم ہوں گی، وہاں یہ بات بھی معلوم ہوسکے گی کہ قاضی صاحب نے اپنے تبصروں میں صرف اعتراضات نہیں کیے ہیں، صرف غلطیاں نہیںنکالی ہیں، صحیح بات کو بھی بتایا ہے۔ یہ بھی بتایا ہے کہ کیا لکھنا چاہیے تھا۔‘‘2؎
غالب تحقیق
اس ذیل میں غالبیات پر قاضی صاحب کے تبصروں کی بھی بڑی اہمیت ہے۔یہ اہل علم جانتے ہیںکہ قاضی عبد الودود کو ’غالبیات‘ میں تخصص کا درجہ حاصل ہے۔ غالب سے متعلق ان کی چار کتابیں ’کچھ غالب کے بارے میں‘ (دو جلدوں میں)، ’جہان غالب‘، ’غالب بہ حیثیت محقق‘ اور ’مآثر غالب‘ خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری پٹنہ سے شائع ہوچکی ہیں۔ یہ کتابیں غالب کے سلسلے میں انسائیکلوپیڈیا کا درجہ رکھتی ہیں۔ بقول وہاب اشرفی ’’ان میں وہ تحقیقی امور ہیں جو غالب کی حیات اور کلام کے سلسلے میں حرف آخر کا درجہ رکھتے ہیں‘‘۔ باب غالب میں ایرانی علما نے بھی قاضی صاحب کی کامل بصیرت کا اعتراف کیا ہے۔ قاضی صاحب کے علاوہ غالبیات کے باب میں امتیاز علی عرشی، مالک رام، کالی داس گپتا، غلام علی مہر وغیرہ کے نام بھی اہمیت کے حامل ہیں۔ بالخصوص امتیاز علی عرشی جنھوں نے مکاتیب غالب، انتخاب غالب، فرہنگ غالب اور تدوین دیوان غالب جیسی اہم تحقیقی کاوشیں پیش کیں۔ اور مالک رام جن کی کتابیں ذکر غالب، ترتیب دیوان غالب، تدوین سبد چین، تلامذۂ غالب، فسانۂ غالب، خطوط غالب وغیرہ غالب تحقیق میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ مگر غالبیات کے باب میں قاضی عبد الودود کی جملہ کاوشوں کو بشمول تدوین و ترتیب مذکورہ تمام محققین پر فوقیت حاصل ہے۔ عبد القوی دسنوی نے ’غالبیات ببلوگرافی‘ میں قاضی صاحب کے 36 ایسے مضامین کی نشاندہی کی ہے، جن کا تعلق غالب سے ہے۔ ’معاصر‘ کے قاضی عبد الودود نمبر میں 38 مضامین کا ذکر کیا گیا ہے، جب کہ غالب نامہ کے قاضی عبد الودود نمبر کے مطابق غالبیات سے متعلق ان کے 37 مضامین ہیں۔ تعداد میں اختلاف کی وجہ کئی مضامین کا مشترک اور علاحدہ ہونا ہے۔
’غالب بہ حیثیت محقق‘ ان کا شاہکار مقالہ ہے۔ غالب کی فرہنگ نگاری کا تحقیقی جائزہ لے کر انھوں نے غالب کے ادعائے تحقیق کو باطل قرار دیا۔ ’جہان غالب‘ کے عنوان سے انھوں نے کئی قسطیں لکھیں جو غالبیات کی تفہیم کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے غالب سے متعلق ایک کتاب ’قاطع برہان و رسائل متعلقہ‘ کا معیاری متن بھی پیش کیا۔ اسی طرح ’مآثر غالب‘ میں انھوں نے غالب کی نہایت کمیاب اور قلمی نظم و نثر کو اپنے بیش قیمت حواشی کے ساتھ جمع کردیا ہے۔
’کچھ غالب کے بارے میں‘ اس کتاب کی جلد اول میں کل بیس عنوانات پر گفتگو کی گئی ہے جن سے غالب کی عظمت، ان کے فارسی اشعار کا تجزیہ، خان آرزو سے ان کا تعلق، ان کی غزل گوئی کے پانچ ادوار، میر صفیر بلگرامی سے ان کا تعلق، غالب اور بہار، سبد چیں، دیوان غالب کے مختلف نسخے، مجموعہ دہلی اور عہد شاہجہانی کے ادبی مناقشے وغیرہ سے متعلق معلومات حاصل ہوتی ہیں۔ یہ تمام مقالے فکر انگیز، معلومات افزا اور تحقیقی اعتبار سے غالب شناسی کے لیے بنیاد کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی ترتیب اس طرح ہے کہ یہ تمام مضامین ایک کڑی میں پروئے معلوم ہوتے ہیں اور مجموعۂ مضامین کے بجائے یک موضوعی مستقل کتاب کی شکل پیدا کردیتے ہیں۔ ان کو پڑھتے ہوئے عابد رضا بیدار کی یہ رائے بالکل صحیح معلوم ہوتی ہے کہ’’قاضی صاحب نے اپنے پیچھے جو سرمایہ چھوڑا ہے، اس کا لگ بھگ ایک چوتھائی کسی نہ کسی طرح غالب سے کوئی تعلق ضرور رکھتا ہے۔‘‘
’کچھ غالب کے بارے میں‘ کی جلد دوم میں کل 29 مضامین ہیں جن میں برہان قاطع اور ہندوستان، محرق قاطع برہان، لطائف غیبی، درفش کاویانی، آغا احمد علی اور غالب، غالب اور زال فارسی، استر اور غالب، دساتیر، خطوط غالب، نادرات غالب، سرگزشت غالب اور مکاتیب غالب وغیرہ شامل ہیں۔ ان مضامین سے پتہ چلتا ہے کہ غالب کے سلسلے میں جو مباحث عرصۂ دراز سے زیر تحقیق تھے ان پر قاضی عبد الودود نے مدلل اور محققانہ گفتگو کی ہے۔ خطوط غالب پر اس میں نو مضامین ہیں، جو غالب کے خطوط کی تقریباً تمام اہم کیفیات کا احاطہ کرلیتے ہیں۔ یہ مضامین نہ صرف تفہیم غالب کے نئے دروازے کھولتے ہیں بلکہ قاضی صاحب کے وسیع مطالعے، گہری نظر اور ایسے مدلل معیار تحقیق کی ترجمانی کرتے ہیں جس کی نظیر نہیں تلاش کی جاسکتی۔
’جہان غالب‘ قاضی صاحب کے تقریباً تین درجن تحقیقی مضامین کا احاطہ کرتی ہے جو وقتاً فوقتاً مختلف رسائل مثلاً معاصر، علی گڑھ میگزین، فکر ونظر، نقوش، ماہ نو، آج کل اور اردو کراچی وغیرہ میں شائع ہوئے تھے۔ قاضی صاحب کو غالب اتنے عزیز تھے کہ ان کے متعلق کوئی بھی چیز جہاں ملتی وہ اسے اپنی یادداشت میں محفوظ کرلیتے تھے۔ رفتہ رفتہ یہ سرمایہ اتنا بڑا ہوتا چلا گیا کہ ان سب کو انھوں نے ’جہان غالب‘ کے عنوان سے مذکورہ رسائل میں شائع کروا دیا۔ قاضی صاحب نے غالب کے تعلق سے اپنے پیش رو محققین کے کئی خیالات کو اپنی تحقیق کی روشنی میں غلط ثابت کیا ہے۔ ان کا پروگرام تھا کہ ’جہان غالب‘ کے نام سے ایک ’غالب انسائیکلوپیڈیا‘ ترتیب دیں جس میںمتعلقات غالب کا اختصار کے ساتھ مگر تحقیقی نقطۂ نظر سے حتی الوسع احاطہ کرلیا جائے۔ مگر ان کا یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔ ’جہان غالب‘ اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے جو اگرچہ مکمل نہیں کہا جاسکتا مگر جو بھی ہے وہ نہ صرف افادیت و اہمیت کا حامل ہے بلکہ قاضی صاحب کی دقت نظر اور وسعت مطالعہ کا بھی مظہر ہے۔ وہاب اشرفی نے اس کی افادیت کے تعلق سے لکھا ہے کہ ’’میں بڑے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ صرف اس کتاب کی بنیاد پر متعدد اور بسیط کتابیں قلمبند کی جاسکتی ہیں۔‘‘3؎
’غالب بحیثیت محقق‘ اس میں غالب پر وہ اہم مضامین ہیں جو ہمیشہ زیر بحث رہے۔ ’غالب بحیثیت محقق‘ کو خود قاضی صاحب نے اپنا شاہکار مقالہ قرار دیا ہے۔ اس کتاب کے ضمیمے میں غالب بحیثیت محقق، فرہنگ غالب، غالب کا ایک فرضی استاد عبد الصمد اور اس کے بعد ہرمزد ثم عبد الصمد شامل ہیں۔ آخری دو مضامین غالب کے فرضی استاد عبد الصمد سے متعلق ہیں۔
’غالب بحیثیت محقق‘ بارہ فصلوں پر مشتمل ہے، جن کے ذریعہ غالب کی ادبی و لسانی تحقیقات اور اس کے متعلقات کا دلائل وبراہین کی روشنی میں مفصل جائزہ لیا گیا ہے۔ قاضی صاحب غالب کی شاعرانہ اہمیت کے تو معترف ہیںمگر بحیثیت محقق ان کے قائل نہیں ہیں۔ وہ غالب کی عبارات اور طریق استدلال پر سخت معترض ہیں۔ اس مقالے کے آغاز میں انھوں نے جو تمہیدی سطریں لکھی ہیں ان سے اس مقالے کے اصل مقصد پر روشنی پڑتی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’غالب کے کلیات کا خاتمہ جس فخریہ رباعی پر ہوتا ہے اس کا بیت آخر یہ ہے ؎
غالب اگر ایں فن سخن دیں بودے
آن دیں زا یزدی کتابِ ایں بودے
فارسی شاعری کی روایات نظم میں اس قسم کے تعلّی کو روا رکھتی ہیں اور اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی لیکن جب نثر میں یہ کہا جائے کہ میں نے فارسی تحقیق کو اس پایے پر پہنچا دیا ہے کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں (خطوط غالب 191) یا جب اپنے سوا ہندوستان کے کل فارسی داں بالاعلان غیر مستند قرار دیے جائیں (قاطع برہان 131) تو یہ دیکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ یہ دعوے حقیقت سے کس قدر مطابقت رکھتے ہیں۔‘‘
قاضی صاحب نے غالب کے ایسے دعوؤں کو تحقیق کے اصول و معیار کے ساتھ پرکھنے کے لیے پہلی اور دوسری فصل میں ایران قدیم کی تاریخ اور دساتیر کا جائزہ لیا ہے۔ تیسری اور چوتھی فصل میں فارسی فرہنگوں سے غالب کی واقفیت اور ان کی تصنیف قاطع برہان کا مطالعہ پیش کیا ہے۔ پانچویں فصل غالب کی فارسی دانی، فارسی شعر و ادب سے وابستگی اور ان کی فارسی صلاحیتوں کے تنقیدی مطالعے پر مشتمل ہے، جب کہ چھٹی فصل میں غالب اور فنون لطیفہ، ان کی عروض دانی اور ساتویں میں منطق، فلسفہ، نجوم، تصوف وغیرہ سے غالب کی عدم واقفیت کو ثابت کیا گیا ہے۔ آٹھویں، نویں اور دسویں فصلوں میں بالترتیب غالب کی عربی دانی، ترکی دانی اور اردو زبان فہمی اور ان کے تحقیقی شعور کو اجاگر کیا گیا ہے۔ گیارہویں میں غالب کے اسلوب بیان اور بارہویں میں ان کے قول وفعل کے تضادات و تناقض پر مدلل روشنی ڈالی گئی ہے۔ ان تمام فصلوں میں تفصیلی گفتگو کے بعد جو نتائج سامنے آتے ہیں وہ یہ کہ:
’’پہلی بات تو یہ ہے کہ غالب شاعر تھے اور بہت شاذ ونادر ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی شخص شاعر اور محقق بھی ہو… دوسری یہ کہ غالب کی باقاعدہ تعلیم زیادہ نہیں ہوئی اور بعد کے ذاتی مطالعے سے جو استاد کی رہنمائی کے بغیر ہوئی، ان کی بنیادی کمزوریاں دور نہ ہوسکیں۔ تیسری یہ کہ ان میں اعوجاج ذہن، ضعف حافظہ، خود پرستی، ناتواں بینی، بے پروائی، سہل انگاری اور ضد انتہا درجے کی ہے اور جن طبائع میں یہ خصوصیات پائی جاتی ہیں، انھیں تحقیق سے کچھ سروکار نہیں ہوسکتا۔ چوتھی یہ کہ غالب ان اخلاقی قیود سے بھی آزاد ہیں جن کی پابندی دبستان تحقیق کا ابجد خاں بھی اپنے لیے لازمی سمجھتا ہے۔ ہندوستان کے مشہور فارسی داں عبد الرشید آرزو، وارستہ، بہار، قتیل اور صہبائی جو ان کے لعن و طنز کے زہر آلود تیروں کی آماجگاہ رہے ہیں، فارسی دانی میں ان سے بہ مراتب بہتر تھے۔ یہ دوسری بات ہے کہ ادبی حیثیت سے وہ غالب کے مدمقابل نہیں۔ افسوس کی جگہ ہے کہ غالب نے یہ محسوس نہیں کیا کہ ان کی شاعری، ان کی انشاپردازی اور ان کی ظرافت انھیں زندگی جاوید بخشنے کے لیے کافی ہے اور ایسے کام میں ہاتھ ڈالا جس کے لیے نہ وہ طبعاً موزوں تھے اور جس کے لیے نہ کچھ زیادہ تیاری کی تھی۔ غالب اپنی زبان سے اپنے کو محقق اکمل اور ہمہ دان عدیم النظیر کہیں اور اپنے منزہ عن الخطا ہونے کا اعلان کریں، ان کے مداح انھیں شہنشاہ ممالک علوم عربی فارسی کا لقب دیں لیکن ان کے معلومات اتنے قلیل، ان کے اغلاط اتنے مختلف الانواع اور کثیر التعداد ہیں کہ بزم محققین کی صفِ نعال میں بھی ان کے لیے جگہ نکالنی مشکل ہے۔‘‘
’غالب بحیثیت محقق‘ قاضی صاحب کا ضخامت اور افادیت دونوں اعتبار سے اہم مقالہ ہے۔ یہ پہلے علی گڑھ میگزین کے غالب نمبر (1948) میں صرف چالیس صفحات پر مشتمل شائع ہوا تھا، مگر بعد میں مختار الدین احمد کی مرتب کردہ ’نقد غالب‘ میں تصحیح واضافہ اور نظر ثانی کے بعد1956میں شائع ہوا تو اس کی ضخامت تقریباً سوا دو سو صفحات تک پہنچ گئی۔ اس میں ہر دعوے کی دلیل کے طور پر قاضی صاحب نے فارسی، عربی اور اردو ادبیات سے اسناد کا جو انبار لگایا ہے، اس کی مثال دنیائے تحقیق میں بمشکل مل سکتی ہے۔
’غالب کا فرضی استاد‘ اور ’ہرمزد ثم عبد الصمد‘ دو مضامین قاضی صاحب نے غالب اور ان کے استاد کے تعلق سے نزاعی مسئلے پر لکھا ہے۔ انھوں نے پہلے ایک مقالہ علی گڑھ میگزین کے غالب نمبر (1948) میں ’غالب کا ایک فرضی استاد‘ کے عنوان سے لکھا تھا پھر اضافہ و نظر ثانی کے بعد ’احوال غالب‘ جو 1953 میں ’ہرمزد ثم عبد الصمد‘ کے عنوان سے شائع کیا۔
قاضی صاحب نے اپنے اس مقالے میں ایک ایسا انکشاف کیا جس سے مداحان غالب اب تک بے خبر تھے۔ یعنی قاضی صاحب نے اس میں یہ ثابت کیا کہ غالب نے جس عبد الصمد کو اپنا استاد بتایا ہے، وہ دراصل ایک خیالی کردار ہے جو غالب کا زائیدہ تخیل ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایسے پختہ اسناد و دلائل پیش کیے کہ ان کی رائے سے اختلاف کی گنجائش اب تک نہیں پیدا ہوسکی۔
دراصل غالب اور ان کے استاد عبد الصمد کے تعلق سے ایک غلط فہمی خود غالب اور ان کے شاگرد حالی کی تحریروں سے پیدا ہوئی تھی۔ جس کی رو سے عبد الصمد کا خارجی وجود تھا۔ وہ ایک ایرانی النسل عالم تھا، جس کا نام ہرمزد تھا۔ اس کا آبائی وطن یزد تھا۔ اس نے علمائے عرب وبغداد سے مختلف علوم وفنون حاصل کیے جس کا فیضان تھا کہ اس نے اپنا مذہب زرتشی ترک کرکے اسلام قبول کرلیا اور نام عبدالصمد رکھا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ غالب کے دہلی منتقل ہونے کے بعد بھی اس کا قیام ان کے یہاں رہا اور غالب اس سے استفادہ کرتے رہے۔ قاضی صاحب نے مقالے کی تمہید میں عبد الصمد سے متعلق غالب کے متضاد بیانات کی نشاندہی کی ہے۔ ایک طرف غالب نے عبد الصمد سے فیضیابی کا ذکر بڑے فخر سے کیا ہے دوسری طرف بہ قول حالی غالب یہ کہا کرتے تھے کہ مجھ کو مبدأ فیاض کے سوا کسی سے تلمذ نہیں اور عبد الصمد محض ایک فرضی نام ہے۔ چونکہ لوگ مجھے بے استادا کہتے تھے، ان کا منہ بند کرنے کو میں نے ایک فرضی استاد گڑھ لیا۔
قاضی صاحب نے مقالے میں مختلف پہلوؤں سے عبد الصمد کی حقیقت تلاش کرنے کی کوشش کی اور متعدد مثالوں سے یہ ثابت کردیا کہ غالب نے عبد الصمد کے تعلق سے عربی و فارسی کے وہ لطائف وغوامض اور زرتشتیوں سے متعلق جو معلومات پیش کی ہیں وہ حد درجہ ناقص اور لغو ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے متعدد مثالیں پیش کی ہیں، ان میں ایک اہم مثال وہ ہے جو ذال فارسی کے سلسلے میں دی ہے۔
وہ فارسی میں دو حرف متحد المخرج یا قریب المخرج کے وجود کے منکر ہیں، اس نقطۂ نظر سے غالب کے نزدیک فارسی میں ز ہے مگر ذال نہیں۔ قاضی صاحب نے مستند حوالوں سے اس دعوے کو مسترد کردیا اور قدیم فارسی مخطوطات اور جدید ایرانی محقق عبد الوہاب قزوینی وغیرہ کے حوالے سے یہ ثابت کیا کہ فارسی میں دو قریب المخارج حروف موجود ہیں۔ قاضی صاحب کا خیال ہے کہ بعض مواقع پر ناگزیر ہوگیا تھا کہ غالب اپنے استاد کا نام بیان کریں، لہٰذا انھوں نے ایک فرضی نام ’عبد الصمد‘ گڑھ لیا اور مخالفین و معاصرین میں خود کو ممتاز ثابت کردیا۔ ڈاکٹر مختار الدین احمد نے اس مقالے کی تعریف کرتے ہوئے قاضی صاحب کے دعوے کی زبردست تائید کی ہے۔ لکھتے ہیں۔’’قاضی عبد الودود نے یہ مضمون لکھ کر یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے طے کردیا اور اب غالباً کسی کو انکار نہ ہوگا کہ عبد الصمد ایک فرضی ہستی ہے جو خارج میں وجود نہیں رکھتی۔‘‘
’مآثر غالب‘ مرزا غالب سے متعلق قاضی صاحب کی یہ ایک اہم تحقیقی کتاب ہے جس کا نام پہلے ’آثار غالب‘ رکھا گیا تھا جسے بعد میں بدل کر ’مآثر غالب‘ کردیا گیا۔ اس میں غالب کی چند نادر تحریریں جمع کی گئی ہیں اور ان پر بے حد معلوماتی عالمانہ حواشی لکھے گئے ہیں۔ اس میں شامل غالب کے فارسی خطوط پہلے ڈاکٹر عندلیب شادانی مرتب کررہے تھے لیکن وہ یہ کام کسی وجہ سے مکمل نہ کرسکے تو اس کام کو قاضی صاحب نے پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ یہ کتاب مقالے کی صورت میں پہلے علی گڑھ میگزین کے غالب نمبر (1948-49) میں شائع ہوئی تھی پھر یہ1949 میں انجمن ترقی اردو صوبہ بہار سے کتابی صورت میں منظر عام پر آئی۔ ’عرض حال‘ کے عنوان سے مختصر ابتدائیہ میں قاضی صاحب نے یہ اطلاع دی ہے کہ:
’’آثار غالب (مآثر غالب) کا بہت بڑا حصہ یا تو قلمی کتابوں سے لیا گیا ہے یا ایسے مطبوعات سے جو عام دسترس سے باہر ہیں… فارسی خطوط حکیم حبیب الرحمٰن مرحوم کے کتب خانے کے ایک قلمی مجموعے سے ماخوذ ہیں۔‘‘
مآثر غالب دو حصوں میں منقسم ہے۔ حصہ اول میں مندرجہ ذیل تحریریں شامل ہیں۔
.i اردو نثر: دیباچۂ لطائف غیبی، دیباچہ تیغ تیز، ایک استفتا، مکتوب اردو اور فارسی شعروں کے مطالب
.ii اردو نظم: اشتہار پنج آہنگ، غزل اردو، ہجو سعادت علی، فردیات
.iii فارسی نثر: تقریظ قاطع برہان، تقریظ سفرنگ دساتیر، تقریظ دری کشا
.iv فارسی نظم: نامہ منظوم بنام جوہر، تین معمے، رباعی، فردیات فارسی
حصہ دوم میں غالب کے 32 فارسی خطوط شامل ہیں۔ ان میں چوبیس مرزا احمد بیگ تپاں کے نام بقیہ آٹھ میں سے تین خواجہ محمد حسن کے نام، دو خواجہ فیض الدین حیدر شائق جہانگیر نگری کے نام اور ایک ایک نواب علی اکبر خاں، مولوی سراج الدین احمد اور فخر اللہ کے نام ہیں۔ 32 میں سے صرف چار خط متن کے بعض اختلافات کے ساتھ ’متفرقات غالب‘ مرتبہ پروفیسر مسعود حسن رضوی میں بھی شامل ہیں۔ باقی اٹھائیس خطوط نہ تو اس سے پہلے کسی جگہ دستیاب تھے اور نہ اس کے بعد کسی دوسرے ذریعے سے سامنے آسکے ہیں۔ اس لیے ان خطوط کی وجہ سے اس کتاب کی جو اہمیت اشاعت کے وقت تھی وہ آج تک قائم ہے۔
اس کے بعد قاضی صاحب نے حصہ اول اور دوم پر بے حد معلوماتی حواشی لکھے ہیں۔ جن اشخاص کے نام غالب کے خطوط ہیں قاضی صاحب نے حواشی (حصہ دوم) میں ان کے مختصر حالات پیش کردیئے ہیں۔ اس کے بعد متعلقہ خطوط کے سلسلے میں جو توجہ طلب امور ہیں، ان کا ذکر بھی کیا ہے، جن سے ان خطوط کی ادبی و تاریخی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان سے نہ صرف غالب کی شخصیت کے بعض اہم گوشوں اور ان کے معمولات پر روشنی پڑتی ہے، بلکہ فارسی الفاظ اور دیگر علمی و ادبی امور سے متعلق غالب کی معلومات کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔
1995میں ’مآثر غالب‘ کی اشاعت ثانی ادارۂ تحقیقات اردو پٹنہ سے ہوئی جس کی ترتیب و تصحیح نو کا کام پروفیسر حنیف نقوی نے کیا۔ پروفیسر نقوی نے متن کی از سر نو ترتیب کی، اس کے حواشی پر حواشی لگائے، بعض غلط فہمیوں کے ازالے کیے اور بعض بیانات کی تصحیح کی۔ انھوں نے یہ کام جس دقت نظر اور محنت سے کیا اس نے ’مآثر غالب‘ کی قدر و قیمت میں حد درجہ اضافہ کردیا۔ ڈاکٹر نقوی کا کام قابل تعریف ہے، مگر قاضی صاحب نے مآثر غالب میں جو معلومات فراہم کیں اس کی اہمیت بنیادی ہے اور اسی وجہ سے یہ کتاب ہمیشہ زندہ رہے گی۔ بقول پروفیسر گیان چند جین:
’’مآثر غالب غالبیات کی ایسی کتاب پارینہ ہے جس کے پڑھنے اور قدر شناسی کرنے والے افراد دس بیس سے زیادہ نہیں ہوتے۔ اب غالب کی فارسی تحریروں میں کس کو دلچسپی ہے۔ اردو ادب کے نقطۂ نظر سے مآثر کی کوئی بھی تحریر غیر معمولی نہیں لیکن غالب کی جو بھی تخلیق سامنے لائی جائے وہ بڑی خدمت ہے۔ اس لیے قاضی صاحب ہمارے شکریے کے مستحق ہیں۔‘‘4؎
ڈاکٹر مختار الدین احمد نے اس کے حواشی اور معلومات پر نظر ڈالتے ہوئے اس کی اہمیت کا یوں اعتراف کیا ہے:
’’مآثر غالب میں غالب کی تحریرات نظم و نثر پر قاضی صاحب نے نہایت مفید اور بہت قیمتی حواشی تحریر کیے ہیں۔ غالب کی تحریرات نظم و نثر کے ہر حصے کے متعلق بیش قیمت معلومات انھوں نے پیش کیے ہیں کہ تقریباً نصف صدی گزر جانے کے بعد بھی ان پر اضافہ مشکل نظر آتا ہے۔‘‘5؎
غالبیات پر تبصرے
غالب پر قاضی صاحب کے یہ مقالے مثلاً غالب بہ حیثیت محقق، غالب کا فرضی استاد، مآثر غالب اور قاطع برہان و رسائل متعلقہ وغیرہ غالب تحقیق کو نئی جہتیں عطا کرنے میں سنگ ہائے میل ثابت ہوئے۔ مگر غالب کے سلسلے میں وہ تبصرے بھی کم اہم نہیں جو انھوں نے غالب پر لکھی گئی کتابوں پر کیے ہیں۔ ہم ذکر کرچکے ہیں کہ قاضی صاحب کے اہم تحقیقی کارنامے تبصروں کی شکل میں سامنے آئے ہیں، بلکہ کئی تبصرے یک موضوعی کتب سے زیادہ اہم قرار دیئے گئے ہیں۔ دلی کا دبستان شاعری، لکھنؤ کا دبستان شاعری، بہار میں اردو زبان و ادب کا ارتقا، شاد کی کہانی شاد کی زبانی، میر تقی میر حیات او شاعری، تاریخ ادبیات ہندوی و ہندوستانی از دتاسی اور فرہنگ آصفیہ وغیرہ پر ان کے تبصرے وقیع اور جامع ہیں۔ آزاد بہ حیثیت محقق اور عبد الحق بہ حیثیت محقق جیسے مفصل اور گراں قدر مقالے بھی دراصل تبصرے کے ہی ذیل میں آتے ہیں۔ ان کے تبصرے تحقیقی تنقید اور تحقیقی تبصرہ نگاری کا معیار قائم کرتے ہیں۔ غالب پر ان کے مطالعے کا آغاز بھی تبصروں کے ذریعہ ہی ہوتا ہے۔ امتیاز علی عرشی صاحب کی مرتب کردہ کتاب ’مکاتیب غالب‘ (1973) منظر عام پر آئی تو قاضی صاحب نے اس پر تبصرہ لکھنے کا ارادہ کیا۔ پہلے انھوں نے قدیم فارسی پر عبور حاصل کرنے کے لیے پہلوی سیکھی اور پھر غالبیات کا عمیق مطالعہ شروع کیا۔ چند سال بعد 1943 میں معاصر میں ’مکاتیب غالب‘ پر ان کا تبصرہ شائع ہوا اور اس درمیان وہ غالب کے عشق میں اس طرح گرفتار ہوئے کہ غالب ان کے مطالعے کا مرکز و محور بن گیا۔ اس کے بعد تسلسل کے ساتھ غالب او غالبیات پر ان کی تحریریں سامنے آئیں جو جہان غالب کے نام سے قسطوں میں سامنے آتی رہیں۔ دراصل قاضی صاحب کا ارادہ تھا کہ ’جہان غالب‘ کے نام سے ایک ’غالب انسائیکلوپیڈیا‘ مرتب کی جائے جس میں متعلقات غالب کا تحقیقی طور پر احاطہ کرلیا جائے۔ ان کا ارادہ تھا کہ تقریباً بارہ سو صفحات پر انسائیکلوپیڈیا تیار کیا جائے مگر دو ڈھائی سو صفحے کے بعد یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔ اگر یہ کام مکمل ہوگیا ہوتا تو واقعی اپنی نوعیت کا منفرد کام ہوتا۔ اس کے باوجود قاضی صاحب نے غالب کے تعلق سے اپنی 37 نگارشات میں جو کچھ پیش کردیا ہے وہ غالب سے متعلق معلومات کا ایسا ذخیرہ ہے جس کی مثال اردو تحقیق میں نہیں ملتی۔ ڈاکٹر عبد المغنی نے درست لکھا تھا کہ :
’’یوں تو قاضی صاحب متعدد موضوعات پر استناد کے ساتھ گفتگو کرسکتے تھے اور ان کے علمی کارنامے کا دائرہ خاصا وسیع ہے مگر ان کا اختصاص غالبیات ہے، جس کا احاطہ انھوں نے قاموسی طور پر کیا ہے اور اگر وہ چاہتے تو اس موضوع پر ایک دائرۃ المعارف ترتیب دے سکتے تھے۔‘‘6؎
میں یہاں قاضی صاحب کے دیگر مقالات سے قطع نظر ان تبصروں کی جانب متوجہ کرنا چاہتا ہوں جو انھوں نے غالب سے متعلق لکھی گئی یا ترتیب دی گئی کتابوں پر کیے ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ قاضی صاحب کے تبصرے ان کے مقالات سے کم اہم نہیں ہوتے بلکہ کبھی کبھی ان کے تبصروں میں معلومات کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع ہوجاتا ہے جو زیر تبصرہ کتابوں میں بھی نہیں ہوتا۔ غالب سے متعلق ان کے تبصرے بھی اسی ذیل میں آتے ہیں۔ غالبیات پر ان کے تبصروں کی تعداد گیارہ ہے، جن میں سرگذشت غالب، مکتوبات غالب، تبصرہ خطوط غالب، مکاتیب غالب، نادر خطوط غالب، فرہنگ غالب، نادرات غالب، ذکر غالب، احوال غالب، مطالعہ غالب اور درفش کاویانی شامل ہیں۔ یہاں ان میں سے چند تبصروں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
امتیاز علی عرشی کی کتاب ’مکاتیب غالب‘ (1943) کا ذکر ہوچکا ہے۔ ہم شروعات اسی کتاب سے کرتے ہیں۔ اس کتاب پر قاضی صاحب کا تبصرہ ’معاصر‘ میں تین قسطوں میں شائع ہوا۔ ’مکاتیب غالب‘ میں83 صفحات کا مقدمہ اور 135 صفحات متن کے تھے جس میں بعد کے دو ایڈیشنوں میں اضافہ بھی ہوتا رہا۔ اس مجموعے میں غالب کے کل 41 خطوط ہیں جو نواب رام پور یوسف علی خاں کے نام ہیں۔ جو 1857 سے 1865 کے درمیان لکھے گئے) 37 خطوط کی زبان اردو اور 4 کی فارسی ہے۔ قاضی صاحب نے اس پر خاصا طویل تبصرہ لکھا جس میں انھوں نے عرشی صاحب کے مقدمے سے مفصل بحث کی اور خطوط کے سلسلے میں عرشی صاحب کے بعض بیانات کی مدلل تردید کی۔ مگر آخر میں انھوں نے عرشی صاحب کو ان الفاظ میں داد بھی دی ہے:
’’مکاتیب غالب اردو کی ان چند کتابوں میں ہے جن کا حسن ترتیب داد طلب ہے۔ جناب عرشی مرتب کے فرائض سے اچھی طرح واقف ہیں اور انھوں نے بڑے خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے فرائض کو ادا کیا ہے۔ ریاست رام پور نے مکاتیب غالب اور انتخاب غالب کی اشاعت سے اس بے اعتنائی کی جو کلب علی خاں نے غالب کے ساتھ روا رکھی تھی باحسن الوجوہ تلافی کردی ہے۔‘‘7؎
مگر ان تعریفی جملوں سے قبل انھوں نے مکاتیب غالب کا تنقیدی جائزہ جس عرق ریزی اور تفصیل سے لیا ہے اور جن نقائص کی جانب توجہ دلائی ہے وہ اپنے آپ میں داد طلب ہے۔ مثلاً :
.1 عرشی صاحب نے مقدمہ میں لکھا تھا کہ نواب یوسف علی خان نے غالب سے فارسی پڑھی تھی۔ قاضی صاحب نے اسے مشتبہ بتایا ہے۔
.2 عرشی صاحب نے اس سے انکار کیا ہے کہ یوسف علی خاں ناظم نے کبھی مومن سے بھی اصلاح لی تھی۔ قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ مومن سے تلمذ کا ذکر انتخاب یادگار میں ہے اور یہ تذکرہ نواب کلب علی خاں کے حکم سے لکھا گیا ہے۔ امیر کے قول سے انکار دراصل نواب کلب علی خاں کے قول سے انکار ہے۔
.3 عرشی نے لکھا ہے کہ غالب کی پنشن جو اپریل1860 میں جاری ہوئی یہ نواب کی سفارش کا اثر تھا۔ قاضی صاحب نے یوسف مرزا کے نام غالب کے خط کی یہ عبارت پیش کی ہے: ’’والیِ رام پور کو اس پنشن کے اجرا میں کچھ دخل نہیں بہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام‘‘
اور پوچھتے ہیں کہ غالب کا قسمیہ بیان کیوں غلط سمجھا جائے؟
.4 عرشی نے لکھا تھا کہ مرزا غالب کی خواہش تھی کہ بعد مرگ رام پور میں دفن کیا جاؤں‘‘۔ بقول قاضی صاحب ’’اس کی بنیاد یہ ہے کہ مرزا نے حسین مرزا کو لکھا تھا کہ رام پور زندگی میں میرا مسکن اور بعد از مرگ مدفن ہوگا‘‘ (اردو یمعلی ص183) لیکن قاضی صاحب کا خیال ہے کہ ’’اس کا مطلب محض اتنا ہے کہ اب رام پور کے سوا کہیں ٹھکانہ نہیں۔‘‘
.5 مرزا غالب نے اردو میں خطوط نویسی کا آغاز کب کیا، اس موضوع پر بھی قاضی صاحب نے عرشی کے نتائج سے اختلاف کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مرزا اگست 1848 سے بھی پہلے اردو میں خط لکھتے تھے۔
.6 جہاں عرشی نے غالب کے اسلوب نثر پر اظہار خیال کیا ہے بعض نکات سے قاضی صاحب نے اختلاف کیا ہے۔ عرشی کا ایک فقرہ مبہم تھا۔ قاضی صاحب نے لکھا کہ ’’میرزا کی حیات ادبی کی بقا کے متعلق جو کچھ لکھا ہے اس کا مطلب میری سمجھ میں نہ آیا۔‘‘
.7 عرشی نے مقدمے میں لکھا کہ ڈاکیے نے غالب سے انعام طلب کیا۔ قاضی صاحب نے اس پر بھی گرفت کی اور کہا کہ ’’غالب کے خط میں ایک لفظ ایسا نہیں جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکے کہ ڈاکیے نے انعام طلب کیا تھا۔‘‘
غرض اس طرح کے درجن سے زائد اعتراضات قاضی صاحب نے کیے اور ان کے مدلل جواب بھی لکھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان خطوط کا ایک معتد بہ حصہ محض رسید کے طور پر ہے اور کسی خط میں ادبی مباحث نہیں ہیں۔ ہاں ان خطوط سے یہ البتہ معلوم ہوجاتا ہے کہ نواب نے مرزا غالب کو اصلاح کے لیے کیا بھیجا اور کب کب بھیجا۔ ساتھ ہی میرزا نے نواب یوسف علی خاں کے عہد میں اپنی تصانیف کے جو نسخے اور مدحیہ اشعار وغیرہ بھیجے ان کی بھی تفصیل معلوم ہوجاتی ہے اور بس۔ یہ کتاب ٹائپ میں چھپی تھی اور اس میں ایک اغلاط نامہ بھی تھا مگر قاضی صاحب کا کہنا ہے کہ ایسے فاحش اغلاط موجود ہیں جو غلط نامے میں نظر انداز ہوگئے ہیں۔
اس تبصرے کے مطالعے سے انداز ہوتا ہے کہ قاضی صاحب نے اپنے تبصرے میں کہیں طنز یا تیکھے پن کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔ نہایت سادہ، منطقی اور مدلل انداز میں تنقید و تبصرہ کا حق ادا کردیا ہے۔
امتیاز علی عرشی کی مرتب کردہ ایک اور کتاب ’فرہنگ غالب‘ پر بھی قاضی صاحب نے تبصرہ کیا جو تقریباً بیس صفحات پر مشتمل ہے اور علی گڑھ میگزین کے غالب نمبر (1948-49) میں شائع ہوا۔ یہ تبصرہ بھی اسی نوعیت کا ہے جس کا ذکر ’مکاتیب غالب‘ کے سلسلے میں ہوا۔ اس کتاب کی بھی قاضی صاحب نے تعریف کی اور اختتام پر نقائص کے باوجود اسے ’ادبیات غالبی میں مفید اضافہ‘ قرار دیا۔
قاضی صاحب نے ’فرہنگ غالب‘ کے قابل اعتراض پہلوؤں کی نشاندہی جس طرح کی ہے اس سے غالب کی فرہنگ نویسی کے متعلق قاضی صاحب کی وسیع معلومات کا اندازہ ہوتا ہے۔ مثلاً :
.1 عرشی صاحب کا اصول یہ ہے کہ املا، غالب کے مسلک کے مطابق ہونا چاہیے، خواہ وہ غلطی پر ہی کیوں نہ ہوں۔ اسی بنا پر پذیرفتن وغیرہ زے سے لکھے گئے ہیں۔ فرہنگ میں اٹھوارہ، تارہ، کیوڑھ ہائے مختفی سے ہیں۔ حالانکہ ان کا صحیح املا الف سے ہے۔ اگر صرف اس وجہ سے ہے کہ غالب کی مطبوعہ کتابوں میں اسی طرح درج ہے تو اچھوتا کو ’اچھوتھا‘ کیوں نہیں لکھا۔
.2 فرہنگ میں ایسی باتیں جنھیں نفس لغت سے کچھ سروکار نہیں، درج ہوگئی ہیں۔ لیکن بعض لغات کے متعلق غیر ضروری معلومات جو غالب کے یہاں موجود ہیں، قابل اندراج سمجھے گئے مثلاً خطاب، شکوہ، صدا کے متعلق 48 سطروں میں سے42 قلم انداز کی جاسکتی ہیں۔
.3 عرشی صاحب نے 27 صفحات کے دیباچے میں بیشتر یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ خالص لسانیاتی کام جس کیفیت و کمیت کا ہندوستانی علما نے انجام دیا ہے، ایران کے اہل زبان اس کا عشر عشیر بھی نہ کرسکے۔ اس کے ثبوت میں وہ صرف و نحو اور عروض و قافیہ سے متعلق ۷۱ کتابوں کے نام گنوا کر فخریہ کہتے ہیں کہ یہ کتابیں ایرانیوں کے لیے سنگ میل کا کام دیتی رہی ہیں، لیکن قاضی صاحب کے قول کے مطابق ان میں زیادہ تر کتابیں ایسی ہیں، جن کے نام بھی ایرانیوں نے نہیں سنے ہوں گے۔ اس سلسلے میں قاضی صاحب نے ہندوستانی علما کی نو کتابوں کے نام لے کر عرشی صاحب سے استدعا کی ہے کہ وہ ان ایرانیوں کے نام بتائیں جنھوں نے ان سے استفادہ کیا ہو۔
اس طرح کے متعدد اعتراضات کرتے ہوئے قاضی صاحب نے ایسا تبصرہ لکھا جو تبصرہ نویسی کے اصول وضع کرسکتا ہے۔ اس لیے عرشی صاحب نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے سات صفحات کا تصحیح نامہ الگ سے چھپوا کر فرہنگ نامہ میں شامل کردیا اور اپنی خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے قاضی صاحب کا شکریہ بھی ادا کیا۔
1939میں سید شاہ محمد اسماعیل رسا ہمدانی کی مرتب کردہ کتاب ’نادر خطوط غالب‘ شائع ہوئی، جس میں انھوں نے بتایا تھا کہ ان کے جد اعلیٰ سید شاہ کرامت حسین کرامت ہمدانی بہاری غالب کے مشہور شاگردوں میں تھے جن کے نام لکھے گئے غالب کے چند غیر مطبوعہ خطوط ان کے بیٹے عالی مرحوم نے 1912 میں ’نادر خطوط غالب‘ کے نام سے کتابی صورت میں جمع کیے تھے۔ قاضی عبد الودود نے اس پرتبصرہ معاصر جنوری 1923 کے شمارے میں شائع کروایا۔
’نادر خطوط غالب‘ میں کل27 خطوط شامل ہیں۔ اس کے مقدمے میں رسا ہمدانی نے دعویٰ کیا تھا کہ غالب کا پہلا خط جو اردو زبان میں ہے، کرامت ہمدانی کے نام لکھا گیا ہے اور یکم جنوری 1851 کا تحریر کردہ ہے۔ ان کے دعوے کی بنیاد یہ تھی کہ اس خط میں خود غالب نے لکھا تھا کہ ’’یہ پہلا خط ہے جو میں تمھیں اردو زبان میں لکھ رہا ہوں۔ زبان فارسی میں خطوط کا لکھا آج سے متروک ہے‘‘۔ علاوہ ازیں حالی کا قول ہے کہ غالب 1850 تک ہمیشہ زبان فارسی میں خط و کتابت کرتے رہے۔
قاضی صاحب نے زیر بحث خط کو معتبر تسلیم نہیں کیا اور یہ بالکل ماننے کو تیار نہیں ہوئے کہ 1851 تک غالب کو کسی ایسے شخص کو جو فارسی نہ جانتا ہو، خط لکھنے کی ضرورت پیش نہ آئی ہو۔ خود ان کی بیوی امراؤ بیگم ناخواندہ تھیں۔ غالب نے کلکتہ وغیرہ سے جو خط لکھے وہ اردو میں ہی ہوں گے۔ رہ گیا حالی کا قول تو انھوں نے ہمیشہ کا لفظ بے احتیاطی سے استعمال کیا ہے۔ دراصل یہاں ہمیشہ ’بیشتر‘ کے معنی میں ہے۔ خط زیر بحث کو چھوڑ کر غالب کا کوئی ایسا بیان موجود نہیں جس سے رسا ہمدانی کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہے اور کرامت ہمدانی کا غالب سے تلمذ یا کسی اور طرح کا تعلق کسی کتاب و رسالے سے ثابت نہیں ہوتا۔ قاضی صاحب نے ایک اردو خط کے بارے میں ثبوت بھی پیش کیا کہ وہ 1850 سے پہلے کا تحریر کردہ ہے۔ حالانکہ قاضی صاحب کے اس تبصرے کو رد کرتے ہوئے جواب میں سید حسن امام نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ واقعی اردو میں غالب کا پہلا خط ہے، مگر مالک رام نے بھی نادر خطوط غالب پر رسالہ جامعہ میں تبصرہ کرتے ہوئے کم و بیش وہی اعتراضات کیے جو قاضی صاحب نے کیے تھے اور انھوں نے بھی اسے پہلا خط تسلیم کرنے میں تامل کا اظہار کیا۔
غالب کی سوانح حیات سے متعلق مالک رام کی ایک کتاب ’ذکر غالب‘ کے نام سے 233 صفحات پر مشتمل بہت مشہور ہوئی تھی۔ قاضی صاحب نے اس پر بھی رسالہ معاصر جنوری 1951 میں دس صفحات کا ایک تبصرہ لکھا۔ قاضی صاحب کے اس تبصرے سے تبصرہ نگاری کے اصول، تحقیقی ضوابط اور سوانح نگاری کے بنیادی نکات واضح ہوتے ہیں اور ساتھ ہی مصنف کے طریقۂ سوانح نگاری اور تحقیقی طرز فکر سے متعلق غیر تشفی بخش رائے کا اظہار ہوتا ہے۔ قاضی صاحب نے جو اعتراضات کیے ان میں سے چند اس طرح ہیں:
.1 مصنف نے غالب کی ولادت کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے ’’مرزا غالب 8 رجب کو پیدا ہوئے‘‘۔ 8 رجب کو مرزا غالب نہیں، ایک بچہ عزت النسا بیگم کے بطن سے پیدا ہوا تھا، جو تخلص کو ساتھ لے کر دنیا میں نہیں آیا تھا۔ حالات زندگی کا اس طرح سے شروع کرنا عہد حاضر کی روش نہیں۔
.2 سیرت نگار کو واقعات لازماً تاریخی ترتیب کے ساتھ بیان کرنے چاہئیں۔
.3 عادات و اخلاق کا ایک الگ باب قائم کیا ہے، یہ بھی عہد حاضر کی روش کے خلاف ہے۔ واقعات زندگی اس طرح بیان کرنے چاہئیں کہ عادات و اخلاق کا الگ سے ذکر کرنے کی ضرورت نہ رہے۔
.4 ذمہ دار مصنف کسی ایسے امر کی نسبت جسے وہ اچھی طرح نہیں جانتے کچھ کہنے سے گریز کرتے ہیں اور اظہار ناگزیر ہو تو اپنے حدود علم واضح کردیتے ہیں، مصنف اس دستور پر کاربند نہیں۔ قاضی صاحب نے اپنے تبصرے میں ایرانِ قدیم کی تاریخ و زبان کے تعلق سے غالب کے متعلق مصنف نے جو دعوے کیے ہیں انھیں بھی معتبر اسناد سے غلط قرار دیا۔ ’ذکر غالب‘ پر اس تبصرے نے مقبولیت حاصل کی اور غالب کی تاریخ دانی، پارسی زبان سے واقفیت اور دستنبو کی زبان کے تعلق سے غلط فہمیوں کے ازالہ میں بنیادی کردار ادا کیا۔
قاضی صاحب نے آفاق حسین کی مرتب کردہ ’نادرات غالب‘ پر بھی تبصرہ کیا جو معاصر حصہ اول میں شائع ہوا۔ ’نادرات غالب‘ میں کل 74 خطوط ہیں جن میں 72 نبی بخش حقیر اور دو ان کے بیٹے عبد اللطیف کے نام ہیں۔ بقول مرتب یہ خطوط مجروح اور میرن صاحب نے فراہم کیے تھے۔ قاضی صاحب نے اس مجموعے کی تعریف کرتے ہوئے اردو ادب اور غالب تحقیق میں اضافہ قرار دیا۔ ساتھ ہی مرتب کے مقدمے اور حواشی کی بھی داد دی۔ مگر ساتھ ہی اس میں واقعات کی تکرار، بے محل واقعات، استدلال کی غلطیوں اور متن کی عدم صحت کی نشاندہی بھی کی۔ انھوں نے خطوط کے زمانۂ تحریر اور حواشی سے متعلق بعض امور پر بحث کرتے ہوئے اپنے اعتراضات بھی درج کیے۔ مثلاً مرتب کے قول کے مطابق حقیر 1847 میں دہلی گئے تھے اور غالب کے یہاں مہمان ہوئے تھے، لیکن قاضی صاحب نے اسے محتاج ثبوت بتایا اور لکھا کہ تفتہ کے نام کا خط جس میں حقیر اور غالب کی ملاقات کا ذکر ہے، 1 فروری 1849 کا لکھا ہوا ہے اور خود حقیر کے نام کا کوئی خط 21 فروری 1849 سے پہلے کا نہیں۔
مرتب کی رائے میں غالب کا اردو دیوان سب سے پہلے 1942-43 میں فخر المطابع سے شائع ہوا اور غالب کی زندگی میں اردو دیوان کا کوئی نسخہ مطبع نظامی کے نسخے کے بعد شائع نہیں ہوا۔ قاضی صاحب ان دونوں اقوال کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دیوان اردو پہلی بار 1841میں سید محمد خاں کے مطبع نے چھاپا تھا اور نسخہ نظامی کے بعد بھی غالب کی زندگی میں ان کا دیوان اردو شیو نرائن نے آگرہ میں طبع کیا تھا۔
قاضی صاحب نے حقیر کی سخن فہمی اور کئی خطوط کے زمانۂ تحریر پر بھی سوالات قائم کرتے ہوئے مدلل انداز میں بیانات کی تصحیح کی۔ اس تبصرے سے ’نادرات غالب‘ کی غلطیاں سامنے آسکیں اور غالب کی مکتوب نگاری کے حوالے سے بعض نئے اور بعض درست حقائق تک پہنچنے میں مدد ملی۔
قاضی صاحب نے مہیش پرساد کی مرتب کردہ کتاب ’خطوط غالب‘ پر ایک طویل تبصرہ لکھا جو معاصر پٹنہ میں 1932 تا 1944 کے درمیان تین قسطوں میں شامل ہوا۔ مہیش پرساد نے اپنے مقدمے میں غالب اور خطوط کے متعلق جو معلومات پیش کی تھیں قاضی صاحب نے ان میں بعض معلومات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور ان کی نشاندہی کرتے ہوئے دلائل و اسناد پیش کیے۔ مثلاً قاضی صاحب نے میرزا حاتم علی مہر کے نام کے ایک خط سے بحث کرتے ہوئے مہیش پرساد کی رائے سے اختلاف کیا کہ یہ خط مارچ 1858 سے قبل کا لکھا ہوا ہے۔ قاضی صاحب نے دلائل سے ثابت کیا کہ زیر بحث خط اوائل جولائی 1858 کا تحریر کردہ ہے۔
قاضی صاحب کی یہ خوبی تھی کہ اگر ان کی پیش کردہ رائے کے خلاف کوئی ثبوت مل جائے تو وہ اس کی تردید خود کردیتے تھے۔ مذکورہ تبصرے کی تیسری قسط میں انھوں نے قسط اول کے سلسلے میں اپنے بعض بیانات کی خود تصحیح کی ہے۔ مثلاً تفتہ کے نام غالب کے ایک خط کے زمانۂ تحریر کے بارے میں انھوں نے جو رائے پیش کی تھی اس کی خود تردید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ:
’’خط (بنام تفتہ) کے زمانہ تحریر کی نسبت جو رائے میں نے ظاہر کی تھی اس کا مدار اس پر تھا کہ غالب کی تقریظ کب چھپی تھی اور اس کے زمانہ انطباع کا تعین ان معلومات کی بنا پر کیا گیا تھا جو جناب عرشی سے حاصل ہوئی تھیں اور میں نے تبصرے میں اس کا اعتراف بھی کیا تھا۔ جناب عرشی نے مکاتیب غالب (اشاعت ثانی) کے مقدمے میں لکھا ہے کہ تقریظ دیوان کے بعد چھپی تھی۔ اس لیے میں نے تبصرے میں خط کے زمانۂ تحریر کی نسبت جو رائے ظاہر کی تھی وہ غلط ہے اور خط دراصل اواخر 1850 کا لکھا ہوا ہے۔‘‘ (تبصرہ خطوط غالب (قسط 3) ص45)
اس طرح قاضی صاحب نے اپنے تبصرے سے تحقیق کا ایک اہم اصول بتایا کہ سند مل جائے تو دوسروں کی ہی نہیں خود اپنی بات کی تردید بھی صریحاً کرنا چاہیے اور تاریخ ادب کو گمراہی سے بچانے میں حق کا کردار ادا کرنا چاہیے۔
1969میں غالب صدی کے موقع پر شعبۂ اردو پنجاب یونیورسٹی سے پروفیسر محمد باقر کی مرتب کردہ کتاب ’درفش کاویانی‘ شائع ہوئی۔ مرتب نے 271 صفحات کی اس کتاب پر 29 صفحوں کا پیش لفظ لکھا تھا۔ قاضی صاحب نے آج کل دہلی، مارچ 1972 کے شمارے میں اس پر تفصیلی تبصرہ لکھا۔ انھوں نے خصوصی طور پر پیش لفظ، متن، حواشی اور فہرست کا بغائر جائزہ لیا اور متعدد اغلاط کی نشاندہی کرتے ہوئے مستند دلیلوں سے ان کی صحیح صورت بیان کی۔
مثلاً مرتب کی رائے میں غالب نے قاطع برہان کو دوبارہ چھاپنے کا ارادہ کیا اور اب اس میں مزید مطالب، ایک دیباچے اور اعتراضات کا اضافہ کیا پھر اس کا نام بدل کر ’درفش کاویانی‘ رکھا۔ لیکن قاضی صاحب اس کی تردید کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خود غالب کی نثر و نظم سے جو مرتب نے نقل کی ہے، قطعی طور پر ثابت ہے کہ نام قاطع برہان برقرار رہا اور کتاب کو ’در فش کاویانی‘ کا خطاب دیا گیا۔ چنانچہ قاطع برہان اشاعت دوم کے سرورق پر صراحتاً مرقوم ہے کہ نام برہان قاطع اور درفش کاویانی خطاب۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ مرتب نے خود ص8 میں درفش کاویانی کو قاطع برہان کے نام سے یاد کیا۔
اس طرح مرتب نے قاطع برہان اشاعت اول و دوم کے مقدمے اور غالب کے ایک خط بنام عالم مارہروی کے حوالے سے لکھا ہے کہ غالب نے بہ قول خود برہان قاطع میں دو سو الفاظ قابل اعتراض پائے اور ان پر تنقید کی لیکن قاضی صاحب کے بقول مقدمہ اول و دوم میں اعتراضات کی تعداد مطلقاً نہیں ہے۔
قاضی صاحب نے یہ بھی لکھا کہ مرتب کو بالتفصیل یہ بتانا چاہیے تھا کہ قاطع برہان 1 اور 2میں کیا کیا فرق ہے۔ انھوں نے متن بھی اس طرح پیش نہیں کیا کہ اندازہ ہوسکے کہ غالب نے کون سے مطالب اور اعتراضات قاطع برہان اشاعت دوم میں بڑھائے تھے۔ غالب نے کچھ عبارتیں قاطع برہان اشاعت اول کی اشاعت دوم میں نکال دی تھیں۔ اس کا پتا بھی زیر نظر درفش کاویانی کے متن یا اس کے پیش لفظ سے نہیں ملتا۔ بلکہ بعض الفاظ مرتب نے اپنی جانب سے بڑھا دیئے ہیں، جو کسی طرح جائز نہیں۔ غلط نامے کے باوجود متن میں بکثرت اغلاط کی نشاندہی کرتے ہوئے قاضی صاحب نے ان کی تصحیح بھی کردی۔
مذکورہ کتب کے علاوہ قاضی صاحب نے غالب سے متعلق جن کتابوں پر تبصرے لکھے مثلاً سرگذشت غالب، احوال غالب، مطالعہ غالب وغیرہ، ان تبصروں کی صورت بھی ایسی ہی ہے۔ قاضی صاحب کے تمام تبصرے تحقیقی اعتبار سے نہ صرف معیار قائم کرتے ہیں بلکہ غالب کے متعلق معلومات کو زیادہ سے زیادہ درست صورت میں قاری تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ قاضی صاحب نے غالب کی سوانح سے متعلق کوئی کتاب نہیں لکھی، مگر اس میں شک نہیں کہ غالب کی ایک معتبر سوانح عمری اور غالب کی خدمات سے متعلق ایک جامع کتاب مرتب کرنے میں قاضی صاحب کے تبصرے اور تحریریں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
حالی سے اب تک غالب کے فکر و فن پر لکھنے والوں کی بڑی تعداد رہی ہے۔ مگر ماہرین غالبیات کی حیثیت سے امتیاز علی عرشی اور مالک رام صف اول میں شمار ہوئے ہیں۔ قاضی صاحب نے ان دونوں اصحاب کی کتابوں پر تبصرے کیے ہیں، جن میں سے مکاتیب غالب، فرہنگ غالب اور ذکر غالب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ان محققین کے اغلاط کی نشاندہی اور ان کی معلومات پر اضافہ کرنا کوئی آسان کام نہ تھا، لیکن قاضی صاحب نے نہ صرف ان کی نشاندہی کی بلکہ ان کی صحیح صورتوں سے آگاہ بھی کیا۔ یہی سبب ہے کہ عرشی اور مالک رام قاضی صاحب کی تحقیقی صلاحیتوں کے معترف رہے۔
قاضی صاحب کے تبصرے غالب کی درست تحقیق کی راہیں تو ہموار کرتے ہی ہیں، تبصرہ نگاری میں تحقیق کی اہمیت اور طریقہ ٔکار کو بھی واضح کرتے ہیں۔ ان تبصروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ تبصروں میں اعتراضات برائے اعتراضات نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ ثبوت و دلائل کے ساتھ ان کی صحیح صورت بھی بیان کرنی چاہیے۔ عرشی کی کتاب ’مکاتیب غالب‘ پرتبصرہ اس کی واضح مثال ہے۔ در فش کاویانی یعنی قاطع برہان پر تبصرے سے پتہ چلتا ہے کہ اصلی اور ثانوی ماخذ کے مسائل کیا ہوتے ہیں اور اصلی ماخذ سے استفادے کا التزام کیوں ضروری ہے، اصل ماخذ موجود ہو تو انھیں سے کام لینا چاہیے۔ مالک رام کی کتاب ’ذکر غالب‘ کے تبصرے سے یہ سبق ملتا ہے کہ تحقیق کو شاعرانہ بیانات سے بالکل پاک ہونا چاہیے۔ مہیش پرساد کی کتاب ’خطوط غالب‘ پر تبصرے سے یہ اصول اخذ ہوتا ہے کہ تعین زمانہ میں کس قدر احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ غرض قاضی صاحب نے غالب سے متعلق چند ہی کتابوں پر تبصرے لکھے مگر یہ تبصرے نہ صرف غالب سے متعلق بے شمار معلومات اور حقائق سے آگاہ کراتے ہیں، جو نہیں لکھے جاتے تو شاید غالب کی تفہیم اور درست تحقیق میں ہماری نگاہوں سے اوجھل رہ جاتے، بلکہ نئی نسل کو تبصرہ نگاری میں تحقیق کی ضرورت، اصولوں کا عرفان اور حزم و احتیاط کی اہمیت سے واقف کراتے ہیں۔ قاضی صاحب کے یہ تبصرے زبان و بیان کے اعتبار سے بھی مشعل راہ ہیں کہ ان کی زبان مبالغے سے پاک، غیر ضروری صفاتی الفاظ سے معرا اور طرز اظہار میں آرائش پسندی سے دور ہے۔ وہ سادہ، ہموار اور ایک حد تک کھردرے پن سے آراستہ اسلوب اختیار کرتے ہیں جن میں بقدر ضرورت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے الفاظ کی کفایت شعاری اور ان کے حد درجہ محتاط استعمال کا وصف موجود ہوتا ہے۔
غالب پر قاضی صاحب کے تبصرے نہ صرف دلچسپ ہیں بلکہ غالب سے متعلق معلومات کا گنجینہ ہیں۔ بقول رشید حسن خاں قاضی صاحب کے ہم عصروں میں کسی اہل علم کی کوئی کتاب شائع ہوتی تو اسے انتظار رہتا ہے کہ دیکھیں قاضی صاحب کیا کہتے ہیں۔ اور واقعہ یہ ہے کہ معاصرین کی کتابوں پر قاضی صاحب نے جو تبصرے لکھے وہ پڑھنے کی چیز ہیں۔ ایک شخص نے کئی سال ایک موضوع پر صرف کیے اور قاضی صاحب نے نہایت آسانی سے محل نظر مقامات کی نشاندہی کردی اور جو معلومات خصوصی مطالعے کے بعد پیش کی گئی ہیں ان پر اہم اضافے بھی کیے۔ غالبیات پر قاضی صاحب کے تبصرے بھی اسی ذیل میں آتے ہیں۔ اس لیے میں غالب پر تحقیق کرنے والوں سے رشید حسن خاں کی زبان میں یہی کہنا چاہوں گا کہ ’’قاضی صاحب کے یہ تبصرے پڑھنے کی چیز ہیں‘‘۔ ان سے ضرور استفادہ کرنا چاہیے۔
قاضی صاحب کو ابتدائے تحقیق سے ہی غالبیات سے شغف تھا اور غالب ان کا محبوب موضوع تھا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ یورپ سے واپسی کے بعد 1936 میں انھوں نے اپنا جریدہ ’معیار‘ جاری کیا تو اس میں ’غالب‘ ایک مستقل موضوع رکھا۔ تحقیقات غالب سے ان کی بے پناہ رغبت کا نتیجہ یہ ہوا کہ غالب کی حیات اور فن کے ہر گوشے پر ان کی دسترس ہوگئی اور غالبیات پر انھیں تخصص کا درجہ حاصل ہوگیا۔ قاضی صاحب غالب کی حیات پر ایک مستند و مفصل کتاب لکھنے کا ارادہ کیے ہوئے تھے جس کا نام بھی انھوں نے ’رند ہزار شیوہ‘ تجویز کرلیا تھا مگر بوجوہ یہ ارادہ عمل میں نہ آسکا۔ اسی کمی کو انھوں نے ’جہان غالب‘ کے ذریعہ پوری کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے باوجود جتنا اور جو کچھ غالب کے سلسلے میں لکھا ہے اس کی بنیاد پر بلاشبہ انھیں ماہرین غالبیات کی صف میں اہم مقام دیا جاسکتا ہے۔
حوالے
.1 مقالات رشید حسن خاں از ٹی آر رینا، جلد پنجم، دسمبر 2021، جموں، ص532
.2 مقالات رشید حسن خاں از ٹی آر رینا، جلد پنجم،دسمبر 2012،جموں، ص543
.3 مونوگراف قاضی عبدالودود از وہاب اشرفی۔ساہتیہ اکادمی،1999،دہلی، ص 18
.4 قاضی عبد الودود بحیثیت مرتب متن،از گیان چند جین، ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس دہلی، 2000، ص112
.5 مآثر غالب، پس گفتار،از مختارالدین آرزو، خدابخش لائبریری پٹنہ، ص 113
.6 سطور اولیںاز عبدالمغنی، مریخ، پٹنہ،مارچ 1984، ص3
.7 قاضی عبد الودود سمینار کے مقالے،مطبوعہ بہار اردو اکادمی،1996۔پٹنہ ص26
Dr. Shahab Zafar Azmi
Department of Urdu
Patna University
Patna- 800005 (Bihar)
Mob: 8863968168
Email: shahabzafar.azmi@gmail.com