اردو تحقیق و تدوین اورعلی گڑھ،مضمون نگار: صبا نسیم

January 19, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں علی گڑھ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ویسے تو یہ ریاست اترپردیش کا ایک شہر ہے لیکن عالمی سطح پر اس کی شناخت سر سید تحریک اورمسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی وجہ سے قائم ہے۔ سرسید یا علی گڑھ تحریک نے تمام تر علوم و فنون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا لیکن اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں اس کا کردار لاثانی ہے۔علی گڑھ نے نظری سطح پر اردو زبان و ادب کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ مطالعات ادب،ادبی تخلیق و تنقید اور تحقیق کو نئے زاویوں سے روشناس کرایا بلکہ عملی لحاظ سے بھی تخلیق و تنقید اور تحقیق کے نادر نمونے پیش کیے۔ تخلیق و تنقید سے قطع نظر تحقیق پر گفتگو کی جائے تو یہ سلسلہ سر سید سے شروع ہوتا ہے اور ان کے رفقا و معاصرین یعنی مولانا الطاف حسین حالی،علامہ شبلی نعمانی،مولوی ذکا اللہ وغیرہ سے ہوتا ہوا مولوی عبد الحق،پروفیسراحسن مارہروی، پروفیسرعبد الستار صدیقی،،پروفیسر نذیر احمد،پروفیسرمختار الدین احمد،پروفیسرنور الحسن ہاشمی، پروفیسرمسعود حسین خاں، پروفیسر نور الحسن نقوی اور پروفیسرظفر احمد صدیقی تک پہنچتا ہے۔سر سید تحریک نے اپنے عہد کے تمام تر اردو مراکز اور علما ء کو متاثر کیا۔ڈپٹی نذیر احمد اورمحمد حسین آزاد اس کی تابندہ مثالیں ہیں۔علی گڑھ میں اردو تحقیق و تدوین کی روایت بڑی ثروت مند رہی ہے۔ تحقیق و تدوین کے اس سلسلے بلکہ روایت کی

قدر پیمائی کی غرض سے ’علی گڑھ اوراردو تحقیق و تدوین ‘ کے عنوان سے علی گڑھ کے محققین کی خدمات کا جائزہ لیا گیا ہے۔


کلیدی الفاظ
ّّّمتن، تدوین، تحقیق، طریقِ تحقیق، صوتیات، معنیاتی ابعاد، مرکزی معنی، معتبریت، اصولِ تدوین، مسودے، نسخے،حاشیہ نگاری،ضمیمہ نویسی،مقدماتِ متن،فرہنگ،سیاقی معنی،معنوی فضیلت،معنیاتی پر اسراریت،سلیقۂ ترتیب،تشکیک،تفتیش،مآخذ،تشکیلِ متن،خطی نسخہ،بنیادی نسخہ،اعراب نگاری، رموزِ اوقاف، معنیاتی روانی،صوتی ادائیگی،فیصلۂ قدر،مناسبتِ لفظی،معنیاتی معقولیت۔
————
اردو میں تحقیق کی اصطلاح عربی سے ماخوذ ہے۔عربی لفظ ’تحقیق‘ باب تفعیل سے متعلق ہے۔ جس کا مادہ ’ح ق ق‘ ہے اورجس کے معنی ’حق کو ثابت کرنے ‘یا ’حق کی طرف پھیرنے‘ کے ہیں۔ـــیعنی تحقیق کسی شے کی حقیقت کو سامنے لانے کا عمل ہے۔
ادبی تحقیق کا تعلق ادب میں حقیقت کی تلاش سے ہے۔اس کے تحت کسی ادبی موضوع یا مسئلے سے متعلق تمام مواد جمع کر کے ان کی صداقت کو پرکھا جاتا ہے اور ان سے نتائج بر آمدکر کے نئے حقائق سامنے لائے جاتے ہیں یا مسلمہ حقائق کی تصدیق و تردید یا توسیع کی جاتی ہے اور ادب میں ان کے اثرات کا پتہ لگایا جاتا ہے۔تدوین کو تحقیق کے آگے کی منزل کہا گیا ہے۔تدوین کے ذریعے ہی ایک ایسا معیاری متن سامنے آ سکتا ہے جس کی بنیاد پر تنقید و تحقیق کی عمارت تعمیر کی جا ئے۔قدیم متون کی تدوین کے ذریعے زبان کے عہد بہ عہد ارتقا کاایک صحیح تصوربھی سامنے آ سکتا ہے۔یعنی کس دور میں کس قسم کے الفاظ و محاورات استعمال میں تھے اور ان کی کون سی شکلیں رائج تھیں۔اسی طرح تدوین کے سلسلے میں جو حواشی اور فرہنگیں تیار کی جاتی ہیں ان سے بھی قاری کی معلومات میں قابل قدر اضافہ ہوتا ہے۔ تدوین ہی کے ذریعے زبان و ادب کے قدیم سرمائے کا تحفظ ممکن ہو پایا ہے۔
اردو میں ادبی تحقیق کا باقاعدہ آغاز بیسویں صدی میں ہوالیکن اس کے ابتدائی نقوش انیسویں صدی کے نصف آخر میں سر سیداحمد خاں(1817-1898) اور ان کے رفقاء کے یہاں ملتے ہیں۔ان کی علمی بصیرت اور اجتہادی فکر نے علم و ادب،تہذیب و تمدن، تاریخ و معاشرت اور مذہب و سیاست پر نمایاںاثرات مرتب کیے نیزسہل پسندی اور روایت پرستی کے خلاف تحقیق و تدقیق کا رجحان عام کیا۔ سرسید کا ادبی تحقیق سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہے لیکن اپنی تاریخی اور مذہبی تصانیف میں انھوں نے جس تحقیقی بصیرت سے کام لیاہے وہ ادب کے لیے بھی رہنما ثابت ہوئی۔اپنی کتاب ’آثارالصنادید‘ (1847,1854)کے ذریعے سر سید نے تحقیق کی بنیاد ڈالی اور اردو داں طبقے کو مشرقی و مغربی آداب تحقیق سے روشناس کرایا۔سر سید نے مغلیہ عہد کی ایک فارسی تصنیف آئین اکبر ی کو ترتیب دے کر اردو میں تدوین متن کی روایت کا آغاز کیا۔سر سید اور علی گڑھ تحریک سے متاثر ہو کر ان کے معاصرین اور رفقاء نے بھی تحقیق و تدوین کو اپنی توجہ کا مرکز بنایااور مختلف موضوعات پر تحقیق کر کے سر سید کی قائم کردہ روایت کو مزید استحکام عطا کیا۔ محسن ملک(1817-1907) اور چراغ علی(1844-1895) کی تحریریں بھی سر سید کے مشن سے تعلق رکھتی ہیں۔الطاف حسین حالی(1837-1914) اور شبلی نعمانی (1857-1914) نے خاص طور پر سوانحی تحقیق سے سروکار رکھا جب کہ محمد حسین آزاد (1803-1910) نے ایک حد تک ادبی تاریخ اور تدوین متن کو اپنا موضوع بنایا اور ذکاء اللہ (1832-1910)نے تاریخ ہندوستان اور متعلقہ موضوعات کو اپنی تحقیق کا مرکز بنایا۔گویا سر سید نے جس تحقیقی روایت کا آغاز کیا تھا ان اشخاص کی کوششوں سے اس کے خد و خال متعین ہوئے۔تاہم ان میں سے اکثر و بیشترکا تحقیقی دائرہ کار ادبی ہونے کے بجائے تاریخی اور مذہبی تھا۔لہٰذا ان کا حیطۂ اثر نسبتاً مخصوص و محدودرہا۔
بیسویں صدی میں آکر اردو تحقیق و تدوین کا باقاعدہ آغاز ہوا۔اس زمانے میں علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے محققین کی ایک ایسی جماعت سامنے آئی جس نے اردو تحقیق و تدوین کو ایک مستقل فن کی حیثیت عطاکی۔ان محققین نے بڑے پیمانے پر زبان و ادب سے متعلق تحقیقی کارنامے انجام دیے۔ان کی تحقیقی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ان محققین نے تحقیق و تدوین کے اصول پیش کیے، قدیم متن کو دریافت کر کے ان کی تصحیح وترتیب کا کام کیا،زبان کے آغاز و ارتقا سے متعلق لسانی نظریات پیش کیے، ادبی تاریخیں مرتب کیں اوراپنے قوی دلائل کے ذریعے مسلمہ اور مروجہ حقائق کی تصدیق یا تردید کی اور اس طرح تحقیق و تدوین کے اعلی نمونے پیش کر کے تحقیق کے معیار کو بلند کیا اورمستقبل میں اس شعبے کے لیے امکانات کی نئی راہیں روشن کیں۔ ان محققین میں سب سے اہم نام مولوی عبد الحق (1870-1961)کا ہے۔
قدیم مخطوطات کی تلاش وتصحیح کرنا اور انھیں ترتیب دے کر منظر عام پر لانا،ان سے متعلق حقائق کو اپنے مقدمات کا حصہ بنانااور ان پر تحقیقی و تنقیدی مباحث قائم کرنا مولوی عبدالحق کے مشاغل میں سے تھا۔انھوں نے جن کتب اور مخطوطات کی ترتیب و تدوین کا کام انجام دیا ان میں زیاد ہ تعداد تذکروں کی ہے۔ اردو شاعری اور شاعروں کے مزاج،ان کے تخلیقی سروکار اور فنّی ابعاد کی تفہیم کے سلسلے میں تذکروں کی ادبی اور تحقیقی اہمیت بہت زیادہ ہے۔تذکروں سے ہی قدیم شعرا کے حالات معلوم ہوتے ہیں نیز اس دور کی تہذیبی و ادبی صور ت ِ حال اور لسانی ارتقا پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ان تذکروں کو سیرت نگاری اور ادبی تاریخ نویسی کی ابتدائی کوشش بھی کہا جا سکتا ہے۔ تنقید نگاری کے اولین نقوش بھی ان تذکروں میںہی نظر آتے ہیں۔لہذا ادب میں تذکروں کی اہمیت اور کردار کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مولوی عبدالحق نے ان کی دریافت اور تدوین کے ذریعے اردو کی ادبی تاریخ کے تسلسل کو تحفظ فراہم کیا۔اگر یہ تذکرے تلف ہو جاتے اور منظر عام پر نہ آ پاتے تو قدیم ادب سے متعلق بہت سے حقائق دنیا کے سامنے نہیں آ پاتے۔انھوں نے تذکروں کی تدوین اور ان سے متعلق اپنے مقدمات میں متعلقات متن کی صحیح اور مکمل تفصیل پیش کرنے کی کو شش کی ہے اور اپنے تدوینی طریقہ کار کی وضاحت بھی کی ہے۔ ان تذکروں میں’نکات الشعراء‘(1752)، ’تذکرۂ ریختہ گویاں‘ (1753)، ’چمنستانِ شعرا‘(1761)، ’گلِ عجائب‘ (1780)،’عقدِثریا‘ (1785)،’تذکرۂ ہندی‘ (1786تا1794)، ’ریاض الفصحا‘ (1806تا1821)،’مخزنِ شعراء‘(1851)وغیرہ شامل ہیں۔
تذکرو ں کے علاوہ انھو ں نے دکنی فن پاروںکی تدوین کی،دکنیات سے متعلق تحقیقی مقالات و مضامین لکھے اورنہ صرف انفرادی طور پر دکنی مخطوطات کی تدوین کا کام انجام دیا بلکہ انجمن ترقی اردو کے کتب خانے کی بنیاد ڈال کر اس میں دکنی کے قدیم مخطوطات جمع کرنے کی شروعات کی اور تقسیم ہند کے وقت مخطوطات کا ایک بڑا حصہ ہندوستان میں ہی چھوڑ گئے۔اگر مولوی عبدالحق ان قلمی نسخوں کو جمع نہ کرتے تو دکنی ادب کے قابل قدر ذخیرے تک رسائی ممکن نہ ہو پاتی اور ان کے تلف ہونے کی صورت میں اردو دنیا دکنی ادب کے اس بیش بہا سرمائے سے محروم رہ جاتی جسے تاریخ زبان و ادب اردو کی ایک اہم کڑی کہا جا سکتا ہے۔مولوی عبدالحق کی اس پہل کی وجہ سے دوسرے کتب خانوں میں بھی مخطوطات جمع کیے جانے لگے یعنی مولوی عبدالحق نے نہ صرف خود ان کتابوں کی تحقیق و ترتیب کی طرف توجہ دی بلکہ دوسروں کو بھی اس کام کی طرف رغبت دلائی۔انھوں نے جن دکنی متون کو مرتب کیا ان میں ’سب رس‘،’قطب مشتری‘ اور’ گلشن عشق‘ کا نام سر فہرست ہے۔ان مستقل تصانیف کے علاوہ عبد الحق نے رسالہ اردو میں دکنی زبان و ادب سے متعلق کئی اہم تحقیقی مضامین قلم بند کیے ہیں اور دکن کے بہت سے شعرا و نثر نگاروںکی حیات و خدمات سے دنیا کو متعارف کرایا ہے۔
دکنیات کے علاوہ انھوں نے شمالی ہند کے کلاسیکی ادب کو بھی اپنی تحقیق کا موضوع بنایا۔ اس سلسلے میںمیر امن کی باغ و بہار،،میر تقی میر کا انتخاب کلام اور ذکر میر اور دیوان میر اثر اور ان کی مثنوی خواب و خیال کے متن کومرتب کر کے انھوں نے جو تحقیقی بحث قائم کی ہے اس سے کافی اہم نتائج بر آمد ہوتے ہیں جو آج بھی مسلم ہیں۔ ’باغ و بہار‘ کے ماخذ سے بحث کرتے ہوئے انھوں نے ’نوطرز مرصع‘ کو اس کا ماخذ قرار دیا ہے۔شمالی ہند کے کلاسیکی شعرا میں میر تقی میر مولوی عبد الحق کی تحقیق کا خاص موضوع رہے ہیں۔ ’ذکر میر‘ ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا متن 156صفحات پر محیط ہے اور اس کے ساتھ مولوی عبدالحق کا 20صفحات کا معلوماتی مقدمہ بھی شامل ہے۔مقدمے میں انھوں نے میر کا اجمالی تعارف پیش کیا ہے اور ان کے شعری مرتبہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔بعد ازاں خود نوشت کے فن اور اس کی اہمیت کا ذکر کیا ہے۔اس کتاب میں اس دور کے تاریخی اور سیاسی حالات کے متعلق جو اشارے ملتے ہیں ان کو واضح کیا ہے۔ساتھ ہی میر کے تاریخی شعور پر بھی روشنی ڈالی ہے۔میر کے حالات زندگی سے متعلق بعض اہم مباحث مقدمے میں شامل ہیں۔’خواب و خیال‘ مرتب کرتے ہوئے انھوں نے مرزا شوق کی مثنوی ’بہار عشق‘ کے متن سے اس کاتقابل کر کے حالی کے اس بیان کی تائید کی ہے کہ مرزا شوق کی مثنوی کا ماخذ میر اثر کی مثنوی ’خواب و خیال‘ ہی ہے۔انھوں نے دونوں مثنویوں کے متن سے بہت سے ایسے اشعار پیش کیے ہیں جن میں الفاظ کے معمولی رد و بدل کے علاو ہ کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔
انھوں نے انشا اللہ خاں انشا کی اردو قواعدپر مبنی کتاب’ دریائے لطافت‘ کو بھی 1916 میں الناظر پریس لکھنؤ سے انجمن ترقی اردو اورنگ آبادکے تحت اپنے مقدمے کے ساتھ ترتیب دیا۔ اردو حروف تہجی،افعال اور اردو صرف و نحو کے موضوع پر ان کی کتاب’ قواعد اردو ‘لسانی اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کی وجہ سے اردو میں علم لسانیات کی طرف محققین کی دلچسپی بڑھی۔ان کے بعد بہت سی قواعد لکھی گئیں لیکن سب نے کہیں نہ کہیں مولوی عبد الحق سے ہی استفادہ کیا ہے۔مطالعہ ٔ زبان کے سلسلے میں ان کی مستقل کتاب’ قواعد اردو‘ اور’ مرہٹی زبان پرفارسی کا اثر‘ اہمیت کی حامل ہیں۔اس کے علاوہ لسانی اور قواعدی مباحث پر مشتمل ان کے مقدمات مطالعہ ٔ زبان کے اعتبار سے بہت کارآمد ہیںخصوصاً مقدمہ دریائے لطافت،مقدمہ فرہنگ اصطلاحات علمیہ اور مقدمہ مطبوعات دارالترجمہ عثمانیہ وغیرہ۔لسانی تحقیق کے سلسلے میں ان کی کتاب’ اردو کی ابتدائی نشو و نما میں صوفیائے کرام کا کام‘ بھی بہت اہمیت رکھتی ہے۔
احسن مارہروی(1876-1940) کا تعلق بھی علی گڑھ اور شعبۂ اردو سے رہا ہے۔ان کی تصانیف میں ’دیوان ولی‘ اور ’نمونۂ منثورات‘ تحقیقی اعتبار سے اہمیت کی حامل ہیں۔ ’دیوان ولی‘ کی تدوین کے لیے انھوں نے نہایت محنت اودقّت نظر سے مواد جمع کیا اوران کے مقدمے کے ساتھ یہ تصحیح شدہ ایڈیشن انجمن ترقی اردو کے زیر اہتمام 1927میں شائع ہوا۔ ’کلیات ولی‘ کے انتخاب اور ترتیب کے دوران ان کے سامنے دیوان ولی کے 9نسخے موجود تھے۔اپنے مقدمے میں انھوں نے ولی کے حالات اور کلام پر تحقیقی و تنقیدی مباحث کا احاطہ کیا ہے۔ ولی کے نام اور سنہ وفات کی طرح ان کے وطن کا تعین بھی محققین کے درمیان بحث کا موضوع رہا ہے۔اکثرتذکرہ نگارں نے اورنگ آباد کو ان کا وطن قرار دیا ہے جب کہ متاخرین میں سے بعض نے ان کو گجرات سے منسوب کیاہے۔احسن مارہروی کا خیال ہے کہ ولی کا تعلق اورنگ آباد د کن سے تھااس سلسلے میں احسن نے یہ دلیل بھی پیش کی ہے کہ ولی کے دیوان میں تقریباََ ہر مقام پر حیدر آبادی یا اورنگ آبادی الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان میں سے بعض الفاظ گجراتی اور دکنی میں مشترک ضرور ہیں لیکن اس اشتراک کی بنا پر دکنی یا اورنگ آبادی زبان کے خصائص کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ڈاکٹر جمیل جالبی بھی ولی کے اورنگ آبادی ہونے کو صحیح تسلیم کرتے ہیں۔ولی کی وطنیت کے سلسلے میں ان کا موقف یہ ہے کہ’’ ولی کے باپ یا دادا گجرات سے دکن ہجرت کر گئے تھے۔اس ہجرت اور دکن میں رہنے کے باوجود گجرات سے ان کا تعلق باقی تھالیکن جیسے کہ غالب اکبر آباد سے اور ڈپٹی نذیر احمد بجنور سے دہلی آ کر دہلوی ہو گئے تھے،اسی طرح ولی بھی گجرات سے تعلق رکھنے کے باوجود دکن میں آکر دکنی ہو گئے تھے۔‘‘7؎
کلیات ولی مرتبہ احسن مارہروی کا تدوین کے نقطہ نظر سے جائزہ لینے پر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے کلیات ولی کو اصول تدوین کے مطابق مرتب کرنے کی کوشش تو کی ہے لیکن مکمل طور پر ان کی پابندی نہیں کی۔تحقیقی اعتبار سے اس میں کچھ تسامحات بھی ملتے ہیں لیکن یہ پہلا تحقیقی ایڈیشن ہے جس میں ولی کی حیات اور کلام پر تحقیقی نظر ڈالی گئی ہے۔احسن مارہروی نے جس محنت اور جانفشانی سے اس کتاب کو مرتب کیا ہے اسے بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
کلیات ولی کی تدوین کے علاوہ احسن مارہروی کا ایک اور تحقیقی کارنامہ تاریخ نثر اردو بموسوم ’نمونۂ منثورات‘ (1930)ہے۔ ان کے تحقیقی انکشافات کے علاوہ اس کتاب میں بعض ایسے بیانات بھی ہیں جن کو جدید تحقیق قبول نہیں کرتی۔مثلاََخالق باری کو انھوں نے اردو نظم کا قدیم ترین نمونہ قرار دیا ہے۔اس کے علاوہ خسرو سے منسوب ایک قطعہ اور کچھ پہیلیاں بھی درج کی ہیں جن کا خسرو سے انتساب مشکوک ہے۔آزاد کی طرح احسن نے بھی عہد ہمایوں کے طوطے کا مقولہ درج کر کے یہ لکھا ہے کہ ’’وہ طوطا آدمی کی طرح باتیں کرتا اور سمجھ کر جواب دیتا‘‘۔تحقیق میں ایسی غیر حقیقی حکایات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔سر سید کی تصانیف کے ذکر میں آئین اکبری کو انھوں نے ترجمہ لکھا ہے جب کہ سر سید نے آئین اکبری کی تدوین کا کام کیا ہے اسے ترجمہ نہیں کیا۔لیکن ساتھ ہی اس کتاب میں ایک قسم کا انتشار نظر آتا ہے۔تحریر کے نمونے درج کرنے سے بہتر تھا کہ وہ نثر کی باقاعدہ تاریخ مرتب کرتے۔اس کتاب کو اردو نثر کی تاریخ تو نہیں کہا جا سکتا لیکن یہ ضرور ہے کہ اس کتاب سے اردو کی ادبی نثر کے نمونے جمع ہو گئے ہیں،جس سے اردو نثر کے ارتقائی مراحل کولسانیاتی نقطۂ نظر سے پرکھنے میں آسانی ہوگی۔اس کتاب کے مطالعے سے احسن مارہروی کی عجلت پسندی کے ساتھ ساتھ ان کی سنجیدہ کاوشوں کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔احسن مارہروی کی مجموعی ادبی خدمات کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ کہنا نا مناسب نہیں ہوگا کہ ان کا مزاج محقق سے زیادہ مدرس کاہے۔
مطالعۂ زبان اور لسانیات کے میدان میںبھی محققین علی گڑھ نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ اس سلسلے میں عبدالستار صدیقی(1885-1962) کا نام ایک معتبر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے اپنے کثیر لسانی پس منظر اور وسعت مطالعہ سے اردو زبان و ادب کو بھی فیض پہنچایا۔وہ ان چند محققین میں سے تھے جنھیں جدید لسانیات،املا،زبانوںکے ماخذ اور تاریخ میں قابل قدر حد تک دسترس حاصل تھی۔ مقالات صدیقی میں شامل ان کی تحریروں میں مضامین کی وسعت اور الفاظ کے ماخذ و تاریخ سے متعلق جو مباحث ملتے ہیں وہ ان کی علمی بصیرت اور پختہ لسانی شعور کی غمازی کرتے ہیں۔ قدیم و دخیل الفاظ کی تلاش و تحقیق سے ان کو خاص دلچسپی رہی ہے۔وہ ہمیشہ اردو زبان کی ترویج و ترقی کی فکر میں رہے۔ان کے نزدیک اردو کی شناخت قائم رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ عربی،فارسی کے مشکل اور نامانوس الفاظ کے بجائے سہل اور سادہ زبان استعمال کی جائے۔صدیقی کے مقالات کی اہمیت و افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے بعداردو میں اصوات، الفاظ، نظام ہجہ، صرف و نحو، لفظوں کی تحقیق اور زبان کی روانی کے سلسلے میں ان کے نظریات و خیالات کے بغیر نہ تو کوئی نظریہ مکمل ہو سکا نہ ہی کوئی تصنیف پایۂ تکمیل کو پہنچی۔اس سلسلے میں ماہرین لسانیات مسعود حسین خان، گوپی چند نارنگ، عبد الستار دلوی اور مرزا محمد خلیل بیگ کی صوتیات اور صرفیات یا لسانیات پر تحریریں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ املا اور املے کے رموز و نکات پر بیش تر زبان داں حضرات نے عبد الستار صدیقی کے خیالات سے اتفاق کیا ہے۔رشید حسن خاں جیسا سخت مزاج محقق و زبان داں بھی ان سے بہت کم اختلاف کر پاتا ہے۔ایسا یوں ہی نہیں ہوا بلکہ عبرانی،سریانی،عربی،اوستا،فارسی اور اردو کے ساتھ ہندوستان کی کلاسیکی اور جدید زبانوں کا بغائر مطالعہ کرنے اور اس کی تفہیم کے مراحل سے گزرنے کے بعد جو نکات چھن کرعبد الستارصدیقی کی تحریر میں جگہ پائے ان میں نہ صرف یہ کہ متاثر کرنے کی قوت ہے بلکہ متعلقہ موضوع پر توسیعی کام کرنے کی رغبت بھی مضمر ہے۔غالباََ یہی وجہ ہے کہ علما نے ان کے ہر ایک مقالے کوکتاب کی حیثیت دی ہے۔ان مقالات سے ان کی علمی بصیرت اور پختہ لسانی شعور کا اندازہ ہوتا ہے۔مضامین کے عنوانات کچھ اس طرح ہیں:’اردو املا‘(1931)،’تماہی کی ترکیب‘ (1932)، ’ہندستان بغیر وائو کے صحیح ہے‘ (1931)،’ذال معجمہ فارسی میں‘(1955)،’جز اور جزو کی بحث‘ (1936)،’بعض پرانے لفظوں کی نئی تحقیق‘(1939)،’بغداد کی وجہ تسمیہ‘ (1939)،’افسوس (لفظ کاایک بھولا ہوا مفہوم‘ (1932)،’معرب لفظوں میں حرف ’ق‘ کی حیثیت‘ (1961)،’لفظ سُغد کی تحقیق‘ (1946)،’اردو صرف۔نحو کی ضرورت‘ (1910)، ’اردو میں ضمائر مفعولی‘(1951)،’احوال اسم‘ (1923)، ’ولی کی زبان‘ (1945)،’وضع اصطلاحات پر تبصرہ‘ (1961)،’معائب سخن کلام حافظ کے آئینے میں‘،’اصلاح سخن پر تبصرہ‘،’ضمیمہ مکتوب (شامل اصلاح سخن)‘ (1926) وغیرہ۔
اردو میں دبستانی یا علاقائی تحقیق کا رجحان بھی فرزندان علی گڑھ کے زیر اثر ہی عام ہوا۔ ابواللیث صدیقی(1916-1994) اور نور الحسن ہاشمی(1911-2000) نے اردو میں دبستان کے تصور پر روشنی ڈالنے کے ساتھ ہی تقابلی تحقیق کی روایت قائم کی۔ ابو اللیث صدیقی کوتحقیق و تنقید،لسانیات اور تاریخ سے خاص دلچسپی رہی ہے۔ مقالہ’ لکھنؤکا دبستان شاعری‘ انھوں نے رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے لکھا تھا۔
اس مقالے میں انھوںنے لکھنؤ کی شاعری کو دبستان کی حیثیت سے دیکھا ہے اور اس سلسلے میں ریاستِ اودھ کے قیام،وہاں کی مخصوص معاشرت، اس میں ابھرنے والی شاعری اور اصلاح زبان کی تحریک نیز اس کے اسباب و نتائج سے تفصیلی بحث کی ہے۔ساتھ ہی لکھنؤکے مسلم الثبوت شاعروں کا تعارف اور ان کے کلام کا تجزیہ کر کے لکھنوی رنگ ِشاعری کو متعین کیا ہے نیز لکھنؤ کی شاعری کا دہلی کی شاعری سے موازنہ کر کے لکھنؤ کی شاعری کو ایک الگ دبستان کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔یہ مقالہ کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے۔اوّل تو یہ کہ اس میں دبستان کا تصور پیش کیا گیاہے۔
نورالحسن ہاشمی کا شمار بھی اردو کے اہم محققین میں ہوتا ہے۔ـــدلّی کا دبستان شاعری(1949)‘اپنے موضوع پر پہلی کامیاب کوشش ہے جس کے مطالعے سے دہلی میں شاعری کی ابتدا اور روایت،وہاں کے شعری مذاق،شاعری کے مضامین و موضوعات،زبان اور اس کے ارتقا کو سمجھنے میں مددملتی ہے۔اس کتاب کے ذریعے نورالحسن ہاشمی نے دہلویت کے موضوع پر غور و فکرکا نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔’دلی کا دبستان شاعری ‘کی اشاعت کے بعد انھوں نے قدیم متون کی تدوین کی طرف توجہ کی۔انھوں نے کلیات ولی(1954)،نو طرز مرصع(1958)،کلیات حسرت(1966)،بکٹ کہانی(بہ شرکت مسعود حسین خاں) اور دیوان مبتلا وغیرہ کے متن کی تحقیق و تدوین کا کام اپنے ذمے لیا اور اسے بخوبی پورا کیا۔انھوں نے بڑے ہی محتاط انداز میں ہر متن کے تحقیقی ایڈیشن تیار کیے۔سنہ اور تاریخ سے بحث کر کے بہت سے حقائق دریافت کیے ساتھ ہی ان متون کی ادبی قدر و قیمت پر روشنی ڈالی اور اردو ادب کے ارتقا میں ان کے مقام کا تعین کرنے کی کوشش کی۔اس سلسلے میں ان کا سب سے اہم کام کلیات ولی کی تدوین ہے۔انھوں نے کلیات ولی مرتبہ احسن مارہروی پر نظرثانی کی۔اس میں جو غلطیاں جگہ پا گئی تھیں ان کی تصحیح کی۔جو نئے نسخے سامنے آئے تھے ان کی مدد سے مشکل الفاظ کی قرات کا مسئلہ حل کیا اور مختلف نسخوں سے ولی کا غیر مطبوعہ کلام اخذ کر کے اپنے ایڈیشن میں شامل کر لیا۔ولیک کے شاگرد اشرف کی بارہ غزلیں جو متن میں شامل تھیں ان کو اصل متن سے ہٹا کر ضمیمہ نمبر الف میں رکھ دیا۔ ولی کی کئی غزلیں جو معروف نسخوں میں نہیں ملیں ان کے مطلعے ضمیمہ ۲ میں درج کر دیے اور و ہ غزلیں جو صرف کسی ایک نسخے میں ملتی ہیں انھیں شامل نہیں کیا۔دیگر اصناف سخن کے سلسلے میں بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے کہ صرف اسی کلام کو شامل کیا جو معروف نسخوں میں ملتا ہے یا جس کے مستند ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ ولی پر ان کا تدوینی کام ایک مستند حوالے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ تدوین کا جو معیار ہمیں کلیات ولی کی ترتیب میں دیکھنے کو ملتا ہے وہ ان کی دیگر تدوینی کاوشوں میں نظر نہیں آتا۔
علی گڑھ کے نمایاں محققین میں پروفیسر نذیر احمد(1915-2007) اور پروفیسر مختار الدین احمد (1924-2010)کے نام خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔پروفیسر نذیر احمد کا براہ راست تعلق فارسی زبان و ادب سے تھا لیکن انھوں نے اردو میں بھی خصوصاََ دکنیات کے حوالے سے اہم کام کیے اور کتابیں تصنیف کیں۔،تحقیق و تدوین،مخطوطہ شناسی اور لغت شناسی ان کے پسندیدہ موضوعات میں سے ہیں۔ اردو میں ان کی خدمات غالب کے حوالے سے بھی اہم ہیں۔ ان موضوعات پر ان کے تحقیقی کارناموں نے انھیں عالمی شہرت عطا کی۔انھوں نے خود کو ادبی موضوعات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ تاریخ و تہذیب سے متعلق مختلف پہلوؤں کو اپنی تحقیقات کا حصہ بنایا۔جس کی وجہ سے ان کی تحریریں قرون وسطیٰ کی تہذیبی تاریخ کے مطالعے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔نذیر احمد نے تدوین سے متعلق جو اصول پیش کیے ہیں انھیں اپنی کتابوں میں بخوبی برتا ہے۔گویا نذیر احمد کے یہاں نظری اور عملی تحقیق بلکہ تحقیقی طریقہ ٔکار میں کوئی تضاد نہیں۔فارسی کے علاوہ انھوں نے اردو کے قدیم مخطوطات دریافت کیے اور ان کے تنقیدی ایڈیشن تیار کر کے شائع کیے۔اس سلسلے میں ان کا سب سے اہم کام ’کتاب نورس‘ کی تدوین ہے۔یہ کتاب گوشۂ گمنامی میں تھی البتہ اس کے بعض مخطوطے دکن کے کتب خانوں میں دبے پڑے تھے۔ پروفیسر نذیر احمد نے ایسے 9مخطوطات کو تلاش کیا اور ان کے متن کا تقابلی تجزیہ کرنے کے بعد اس کتاب کا ایک مستند ایڈیشن تیار کیا نیز اس کا ترجمہ کر کے اپنے مقدمے،حواشی اور فرہنگ کے ساتھ 1955میں لکھنؤ سے شائع کرایا۔انھوں نے کتاب نورس کا لسانی نقطہ نظر سے جائزہ لیا ہے۔ انھوں اس کتاب کی زبان پر دکنی اثرات کے علاوہ برج بھاشا کے بعض اثرات کی بھی نشاندہی کی ہے۔
پروفیسر نذیر احمد نے ایک اور دکنی متن ’پرت نامہ‘(1957) کو بھی اپنے مقدمے اور حواشی کے ساتھ مرتب کیا ہے۔مقدمے میں ’پرت نامہ‘ کا تعارف پیش کرتے ہوئے انھوں نے اس کی لسانی خصوصیات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ان کے مطابق یہ مثنوی قدیم دکنی زبان کا ہو بہو نمونہ ہے۔دکنی زبان کی تمام خصوصات اس میں موجود ہیں۔اس کے بعد نسخے کی کیفیت کا بیان ہے۔واحد نسخہ ہونے کے باوجود مرتب نے متن میںحتی الامکان تمام الفاظ کی صحیح قرأت پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ قدامت کی وجہ سے متن کی تفہیم میں دشواری نہ ہو اس کے لیے حواشی کا اہتمام بھی کیا ہے۔یہ حواشی تصحیح شدہ الفاظ کے اصل متن، قدیم الفاظ کے معنی اور بعض دیگر امور کی وضاحت پر محیط ہیں۔ان دونوں متون کے علاوہ نذیر احمد نے دکنی کے اور بھی مخطوطات تلاش کیے اور اپنے مضامین کے ذریعے انھیں متعارف کرایا۔ان میں ’نوسرہار مصنفہ اشرفی یعنی ’واقعۂ کربلا پر ایک قدیم دکنی مثنوی‘(رسالہ اردو ادب،علی گڑھ شمارہ ستمبر1957)، ’محمد ظہور بیجاپوری اور اردو کا ایک قدیم شاعر‘(رسالہ آج کل، دہلی، دسمبر 1958)اور ’قادر کا ایک نو دریافت دکنی مرثیہ‘ (رسالہ غالب نامہ، غالب انسٹی ٹیوٹ،نئی دہلی، شمارہ جولائی 1988) وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
ایک قابل محقق،کامیاب مدون اور ماہر لغت ہونے کے ساتھ ہی نذیر احمد کا شمار ماہرین غالبیات میں بھی ہوتا ہے۔غالب سے متعلق ان کا کام تحقیقی و تنقیدی نوعیت کا ہے۔انھوں نے شعر و ادب کے روایتی موضوعات سے ہٹ کر غالب کو خالص علمی،لسانی اور تہذیبی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ غالبیات سے متعلق ان کے مضامین و مقالات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں غالب کی نثر ونظم سے متعلق ایسے نکات پیش کیے ہیں جس سے غالب نہ صرف شاعر کی حیثیت سے بلکہ ایک عالم،نقاد اور لغت شناس کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔غالب سے متعلق ان کا سب سیـ اہم کام ’نقد قاطع برہا ن‘ ( 1985)ہے جس میں انھوں نے محمد حسین تبریزی کی تالیف ’برہان قاطع‘ پر غالب کے اعتراضات کا تنقیدی نقطہ نظر سے جائزہ لیا ہے۔پروفیسر نذیر احمد نے غالب سے متعلق منفرد اور مختلف موضوعات پر مضامین لکھے۔جن میں ’غالب فرہنگ نگار کی حیثیت سے‘،’ غالب کے ایک اردو خط کے چند لغوی مسائل‘،’غالب نقاد سخن کی حیثیت سے‘،’غالب اور مؤلف برہان میں اتحادِ نظر‘وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
فارسی اور اردو دونوں زبانوںمیں غیر معمولی دسترس کی وجہ سے پروفیسر نذیر احمد نے بعض ایسے موضوعات کو بھی اپنی تحقیق کا حصہ بنایا جس کی مثال دوسرے محققین کے یہاں شاذ ہی نظر آتی ہے۔ مثلاً’قدیم فارسی فرہنگوں میں ہندوستانی عنصر‘،’قدیم ایرانی و زر تشتی عناصر اردو ادب میں‘،’فارسی صرفی و نحوی اثرات اردوادب پر‘وغیرہ۔پروفیسر نذیر احمد کی تصنیفات و تالیفات کا مطالعہ کرنے سے ان کے تحقیقی طریقہ کار کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔انھوں نے اپنی تحقیق کے ذریعے دوسروں کی اغلاط کی گرفت کرنے کے بجائے اپنے موضوع پر توجہ مرکوز رکھی۔وہ کسی بھی موضوع پر تحقیق و تنقیدکے دوران معتدل رویہ رکھتے ہیںجس سے ان کی تحقیق مستند اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔
پروفیسرمختارالدین احمد کا تعلق بنیادی طور پر عربی ادب سے ہونے کے ساتھ ہی اردو زبان و ادب سے بھی ان کو خاص دلچسپی تھی۔ وہ ایک نامور محقق،مخطوطہ شناس اور ماہر غالبیات کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ یورپ میں اپنا تحقیقی کام کرتے ہوئے بھی انھوں نے اردو کے قدیم فن پاروں کی تلاش و تحقیق کا سلسلہ جاری رکھا۔انھوں نے بہت سے نادر و نایاب مخطوطات کو دریافت کر کے ان کا مطالعہ کیا،ان پر تعارفی نوٹ لکھے اور اردو کی تین نایاب کتابوں کا پتہ لگا کر انھیں مرتب کر کے شائع کیاجس میں فضلی کی ’کربل کتھا‘(1965)،حیدر بخش حیدری کا ’تذکرۂ گلشنِ ہند‘(1967)اور مفتی صدرالدین آزردہ کا ’تذکرۂ شعرائے اردو‘ (1974)شامل ہے۔
کربل کتھاکی تدوین کاکام مختارالدین احمد نے مالک رام کے اشتراک سے کیا۔مالک رام نے اس کام میں ان کی علمی معاونت ورہنمائی کی،مقدمہ اور پروف تیار کرنے میں ان کی مدد کی اور ’کربل کتھا‘ کی طباعت اور اشاعت کا کام اپنے ذمہ لیا۔ مختار الدین احمد نے اس کتاب میں ’کربل کتھا‘ سے متعلق بعض اہم تحقیقی مباحث اٹھائے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کتاب کا صحیح نام ’کربل کتھا‘ ہے نہ کہ ’دہ مجلس‘۔مولوی کریم الدین نے ا س کا نام ’دہ مجلس‘ لکھا ہے جو کہ غلط ہے کیونکہ اس میں دس نہیں بارہ مجلسیں ہیں۔دوسری بات یہ کہ فضلی محرم کی مجلسوں میں پوری کتاب نہیں پڑھتے تھے بلکہ اس کی تلخیص (خلص ِ روضتہ الشہدا) سنایا کرتے تھے۔کربل کتھا اسی خلاصے کا ترجمہ ہے۔انھوں نے قیاس بھی ظاہر کیا ہے کہ کربل کتھا دہلی میں لکھی گئی۔
مرتبین نے اس کتاب سے داخلی شواہد اخذ کر کے فضلی کے متعلق چند اہم حقائق پیش کیے ہیں۔ مثلاً فضلی کا نام اور تخلص،اس کی عمر اور سال وفات کا تعین ’کربل کتھا‘ میں درج بیانات کے حوالے سے ہی کیا گیا ہے۔مرتبین کے مطابق فضلی نے ’کربل کتھا‘ پہلی بار محمد شاہ کے عہد میں مکمل کی تھی لیکن جب انھوں نے اس پر نظر ثانی کی تومحمد شاہ وفات پا چکا تھا اور احمد شاہ تخت نشین تھا،فضلی نے کتاب نواب اشرف علی خاں کے اہل خانہ کی فرمائش پر لکھی۔مقدمے کے آخر میں انھوں نے اس کتاب کا لسانی جائزہ لیا ہے۔سب سے پہلے وارد متن عربی/فارسی،ہندی اور پنجابی الفاظ کی نشاندہی کی ہے۔اس کے علاوہ صرفی و نحوی اصولوں کے اعتبار سے اس کتاب کی زبان پر تنقیدی نظر ڈالی ہے اور بعض اہم نکات پیش کیے ہیں۔جن پر نظر ڈالنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مرتبین،’کربل کتھا‘ کی زبان کی اس خصوصیت کو بنیاد بنا کر فضلی کاتعلق پنجاب اور کربل کتھا کا تعلق پنجابی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔گیان چند جین اور حنیف نقوی اس سلسلے میں مرتبین سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔اس ضمن میں حنیف نقوی نے مرتبین کربل کتھا سے اختلاف ظاہر کرتے ہوئے مذکورہ الفاظ کی تفصیل پیش کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں سے چند ایک الفاظ کو چھوڑ کر باقی تمام الفاظ فضلی کے دور میں بولی جانے والی اردو/ہندی زبان میں شامل تھے۔مرتبین نے اس متن اور اس کی زبان کا گہرائی سے مطالعہ کیا اور منشائے مصنف کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر ایک لفظ کا صحیح تعین کرنے کی کوشش کی ہے۔متن میںرموزِ اوقاف کی پابندی بھی ملتی ہے۔ یاے معروف و یاے مجہول کو ان کی متعینہ صورت میں لکھا گیا ہے۔ہائے ملفوظ اور ہائے مخلوط کے درمیان فرق کا بھی خیال رکھا ہے۔’گ‘ میں مرکز لگا کر’ک‘ اور ’گ‘ میں امتیاز کر دیا ہے۔مختارالدین احمد کی مرتبہ کربل کتھا کی ایک نمایاں خصوصیت متن کے ہر صفحے میں درج ان کے ذیلی حواشی ہیں۔ان حواشی میں متن میں آنے والی روایات کی صراحت اور بعض اسما اور تاریخی مقامات کی وضاحت کی گئی ہے۔اس کے علاوہ بعض حواشی الفاظ کے معنی اور اشعار کی تخریج سے متعلق ہیں۔ان حواشی سے متن کی تفہیم میں کافی مددملتی ہے۔ ’تذکرہ گلشن ہند‘ کی ترتیب و تدوین کے وقت ان کے سامنے دو نسخے پیش نظر تھے۔تاہم انھوں نے بعض دوسرے تذکروں اور کتابوں سے بھی مدد لی ہے۔متن کے ساتھ ہی انھوں نے کتاب میں تحقیقی نوعیت کے حواشی بھی درج کیے ہیں۔
تحقیق و تدوین متن کے لوازمات میں الحاقیات یا تحقیق منسوبات کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ مختار الدین احمد نے اس نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ’تذکرہ ٔآزردہ‘ میں موجود الحاقی کلام اور غلط انتساب کی نشاندہی بھی اپنے حواشی میں کی ہے۔اس کے علاوہ شعرا کے حالات میں دوسرے ماخذ کی مدد سے مصنف کے بیان میں اضافے کیے ہیں۔ان تین اہم متون کی تدوین کے علاوہ مختار الدین احمد نے دیوان حضور (1977)،سیر دہلی(1962) اور تذکرۂ شعراے فرخ آباد(1984) کو مرتب کیا۔مختار الدین احمد کی تدوینی خدمات کے علاوہ غالب سے متعلق ان کی تحقیقی کاوشیں بھی قابل ذکر ہیں۔انھوں نے غالب سے متعلق مختلف پہلوئوں کو موضوع بنایا اور ان پر تحقیقی مضامین لکھے جن میں غالب کی شخصیت، ان کے معاصرین اور تلامذہ،ان کی نادر و نایاب تحریروں اور خطوط سے متعلق معلومات درج ہیں۔ ان کی یہ تحریریں مطالعۂ غالب میں ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں۔پروفیسر اسلوب احمد انصاری نے مختارالدین احمد کی تحقیقی خدمات کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے:
’’مختارالدین احمد صاحب قدیم نسخوں کی پرکھ اور ان کی تہذیب و تدوین کی صلاحیت بدرجہ اولی رکھتے ہیں…کسی مخطوطے کو صحت اور احتیاط کے ساتھ مرتب کرنا اوراس کے لیے تعلیقات کا لکھنا بڑی جگر کاوی اور محنت پزوہی کا کام ہے اور حد درجہ حسن نظم کا مطالبہ کرتاہے۔شروع سے ہی مختار الدین احمد صاحب کی دلچسپی اردو علم و ادب سے بھی رہی ہے اور یہ بڑی گہری بنیادوں پر قائم ہے۔غالب کے حالات اور خطوط کے سلسلے میں ان کی کاوشیں اور دلچسپیاں اتنی متنوع اور اہم رہی ہیں کہ ان کا نام بجا طور پر دوسرے ماہرین غالبیات کے ساتھ لیا جاتا ہے،غالب پر کام کرنے والا کوئی نقاد اور محقق،غالب کا کوئی شیدائی اور پارکھ ان کی مرتب کردہ احوالِ غالب اور نقدِ غالب اور ان کے مقالات سے بے نیاز نہیں رہ سکتا۔‘‘1؎
ماہرلسانیات پروفیسرمسعود حسین خاں(1919-2010) نامورانِ علی گڑھ میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔انھوں نے نہ صرف تاریخی اور توضیحی لسانیات کو اپنی تحقیقات کا مرکز بنایا بلکہ اردو کے قدیم متون کی ترتیب و تدوین کی طرف بھی توجہ کی۔ان کی سب سے اہم تصنیف مقدمۂ تاریخ ِزبانِ اردو (1948)ہے۔اس کتاب میں انھوں نے اردو کے آغاز و ارتقا سے متعلق اپنا لسانی نظریہ پیش کیا ہے۔ اردو کے آغاز سے متعلق ان کے نظریے کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور اب تک کی تحقیق میں اسے سب سے زیادہ مستند نظریہ تسلیم کیا گیا ہے۔انھوں نے آریوں کے وطن اور داخلۂ ہند سے متعلق معلومات فراہم کرتے ہوئے ہند آریائی زبانوں کے تین ادوار قائم کر کے قدیم ہند آریائی،وسطی ہند آریائی اور جدید ہند آریائی زبانوں کی تفصیل پیش کی ہے اورگریرسن کے لسانی نقشے پر تنقیدی نظر ڈالتے ہوئے سنیتی کمار چٹرجی کی طرز پر جدید آریائی زبانوں کی گروہ بندی کی ہے۔اس لسانی تقسیم میں انھوں نے اردوکا تعلق براہ راست مغربی ہندی کی بولیوں سے قائم کیا ہے۔مغربی ہندی پانچ بولیوں کا مجموعہ ہے جس میں ہندوستانی (کھڑی بولی)، برج بھاشا،بندیلی،ہریانی یا بانگڑواور قنوجی شامل ہیں۔انھوں نے اس کتاب میں 1000سے 1857تک اردو زبان کے ارتقا کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔انھوں نے1000 سے شمالی ہندوستان بالخصوص دہلی اور پھر دکن کی سیاسی،سماجی اور تہذیبی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے لسانی منظر نامے پر اس کے دور رس اثرات کی نشاندہی کی ہے۔اس سلسلے میں انھوں نے 1000 سے 1857 تک کی ادبی تخلیقات کو بنیاد بنا کر زبان کی صوتی،صرفی اور نحوی خصوصیات کی نشاندہی کی ہے ساتھ ہی اردو کے اولین نمونوں کو دریافت کر کے ان کا تقابل دہلی اور نواح دہلی کی بولیوں سے کیا ہے۔ ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍمسعود حسین خاں نے ان بولیوں کے لسانی نمونوں کی بنیاد پر ان کا تقابلی مطالعہ کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ:
’’قدیم اردو کی تشکیل براہ راست دو آبہ کی کھڑی اور جمنا پار کی ہریانوی کے زیر اثر ہوئی ہے۔اور جب سولھویں صدی میں آگرہ دارالسلطنت بن جاتا ہے اور کرشن بھگتی کی تحریک کے ساتھ برج بھاشا عام مقبول زبان بن جاتی ہے تو سلاطین دہلی کے عہد کی تشکیل شدہ زبان کی نوک پلک برجی محاورے کے ذریعے درست ہوتی ہے۔‘‘2؎
مسعود حسین خاں نے اردو کے آغاز و ارتقا سے متعلق پہلے سے موجود آرا اور نظریات کا لسانیاتی بنیادوں پرتجزیہ کرنے کے بعداردو کے برج بھاشا اور پنجابی سے ماخوذ ہونے کے نظریے کی تردید کی ہے۔ اس سلسلے میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ مسعود حسین خان،مرزا خلیل احمد بیگ اور گیان چند جین نے حافظ محمود خاںشیرانی کے نظریے سے یہ غلط نتیجہ اخذ کر لیا ہے کہ اردو پنجابی سے نکلی جب کہ شیرانی نے اردو کے پنجاب سے نکلنے کا نظریہ پیش کیا ہے نہ کہ پنجابی سے۔ البتہ محمود شیرانی نے پنجابی اور اردو کے جس لسانی اشتراک کی بات کہی ہے اسے مکمل طور پر صحیح نہیں کہا جا سکتا کیوں کہ زبانوں کی مماثلت اور اختلافات کا parameter لسانیاتی ساخت کو مانا جاتا ہے اور کسی زبان کی لسانی ساخت اس کے افعال(Verbs)اور ضمائر (Pronouns) کے ذریعے متعین ہوتی ہے اور پنجابی کے افعال اور ضمائر اردو سے مختلف ہیں۔ مسعود حسین خاںنے امیر خسرو کی دہلی و پیرامنش کے حوالے سے اردو اور ہریانی اور اردو اور کھڑی بولی کے تعلق پرروشنی ڈالی ہے اورٹھوس علمی دلائل اور مستند حوالوں کی روشنی میں اپنا ایک نیا نظریہ پیش کیا ہے جس کا عطر یہ ہے کہ دہلی اور نواح دہلی کی بولیاں ہی اردو کا اصل ماخذ اور منبع ہیں۔مسعودحسین خاں کی اس تحقیقی کاوش نے انھیں اردو کے صف اول کے ماہرین لسانیات میںشامل کر دیا ہے ۔ یہ کتاب جدید محققین کواردو زبان کے آغاز و ارتقا پرمزید تحقیقی اور لسانیاتی زاویوں سے غور و فکر کرنے کی طرف مائل کرتی ہے۔
مسعود حسین خاں نے تاریخی اور تقابلی لسانیات کے ساتھ ہی توضیحی لسانیات اور اسلوبیات کو بھی اپنے مطالعے کا موضوع بنایا۔اس سلسلے میں ان کی سب سے اہم تصنیف A Phonetic and Phonological Study of the Word in Urdu(1954)ہے۔جس کا اردو ترجمہ مرزا خلیل احمد بیگ نے ’اردو لفظ کا صوتیاتی اور تجز صوتیاتی مطالعہ ‘ کے عنوان سے کیا ہے۔مسعود حسین خاں اپنے قیام لندن کے دوران فرتھ کے عروضی تجز صوتیات (Prosodic Phonology)کے نظریے سے متاثر ہوئے اور انھوں نے اس نظریے کی بنیاد پر اردو لفظ کا صوتیاتی اور تجز صوتیاتی مطالعہ پیش کیا۔یہ اردو میں ایک منفرد نوعیت کا کام ہے جسے پہلی بار مسعود حسین خاں نے اپنی تحقیقی صلاحیت اور علمی بصیرت کے ساتھ اردو میں پیش کیا۔تاریخی لسانیات اور صوتیات کی سرخیلی کے علاوہ مسعود حسین خاں اردو میں اسلوبیات کے موجد کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ اسلوبیات سے متعلق ان کے مضامین سے اردو میں اسلوبیاتی تنقید کا رجحان عام ہوا۔اس کے علاوہ انھوں نے بعض قدیم متون کی تدوین کا کام بھی انجام دیا ہے۔ان کے مدونہ متون میں پرت نامہ(فیروز بیدری،1965)،بکٹ کہانی (افضل،1965)، ابراہیم نامہ(عبدل،1969)، قصہ مہر افروز دلبر (عیسوی خاں،1966)،عاشور نامہ (روشن علی،1972) وغیرہ شامل ہیں۔انھوں نے ان متون کو اصول تدوین کی مکمل پابندی کرتے ہوئے ترتیب دیا ہے اور لسانیاتی بنیادوں پر ان کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے۔بقول سیدہ جعفر:
’’دکنی ادب کی بازیافت اور گم نامی کی تاریکی میں چھپے ہوئے ادب پاروں کو منظر عام پر لانے کا اہم او ر گراں قدر کام کرنے والوں میں مسعود حسین خاں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں….قدیم کاوشوں کی ترتیب و تدوین نے ہمارے ادبی سرمائے میں وقیع اضافے کیے ہیں اور اسے مالا مال کر دیا ہے۔اس سلسلے میں فیروز بیدری کے پرت نامہ اور عبدل دہلوی کے ابراہیم نامہ کا ذکر ضروری ہے جو مسعود حسین خاں کی تحقیقی مساعی کا ثمرہ اور قیمتی ارمغان ہیں۔انھیں مرتب کر کے محقق نے قدیم ادب کی بازیافت کے سلسلے میں قابل قدر کام انجام دیا ہے۔‘‘3؎
علی گڑھ میں تحقیق و تدوین کی روایت پر گفتگو کرتے ہوئے شعبہ ٔ اردو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کی شائع کردہ ’علی گڑھ تاریخ ادب اردو ‘کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے۔ جس کی پہلی جلد 1962میں شائع ہوئی۔اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد رشید حسن خاںنے ایک تبصرہ لکھاجس میں انھوں نے اس کتاب کی متعدد خامیوں اور اغلاط پر سخت تنقید کی۔ اس تبصرے کے شائع ہونے کے بعد کتاب بازار سے واپس لے لی گئی اور اس کی بقیہ جلدوں کو تیار کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ رشید حسن خاں کے تبصرے اور اردو کی دیگر مستند تاریخوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اگر اس ادبی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ اس کتاب میں تاریخ ادب کے مختلف ادوار کی تفصیل پیش کرنے کی کوشش ضرور کی گئی ہے تاہم اس کتاب میں تاریخ ادب کاتاثرپیدا نہیں ہوتابلکہ ایک قسم کا انتشار نظر آتا ہے۔یہ تاریخ ادب کی کتاب ہونے کے بجائے مختلف اہل علم کے مضامین کا مجموعہ معلوم ہوتی ہے۔کیوں کہ اس کے باب مختلف اشخاص نے تیار کیے تھے۔ اس لیے بیانات میں جا بجا تضادات ملتے ہیں اور واقعات اور سنین کے اندراج اور انتساب کتب میں اغلاط و سہوکا تناسب بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے یہ کتاب ادبی تاریخ کے معیار پر پوری اترتی نظر نہیں آتی۔ اس پروجیکٹ میں ادب کے بڑے عالم اور محققین شامل تھے تاہم ادبی تاریخ نویسی کے اصولوں کی جس احتیاط اور سنجیدگی سے پابندی کی جانی چاہیے تھی وہ نہیں کی گئی جس سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے۔ اردو کے بڑے محققین اور پروفیسر وں کا مزاج اجتماعی تحقیق سے مناسبت نہیں رکھتا اوران میں باہمی موافقت کا فقدان نظر آتا ہے جس کی وجہ سے علی گڑھ تاریخ ادب اردو کا یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا اور اس کتاب کی پہلی جلد کی ناکامی کے ساتھ ہی اس منصوبہ بند کام کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔
’علی گڑھ تاریخِ ادب ِاردو‘کے علاوہ ذاتی طور پرعظیم الحق جنیدی،نسیم قریشی اور نورالحسن نقوی نے طلبا کی ضروریات کی تکمیل کے لیے ’تاریخ ِادب ِاردو لکھی‘۔ان کتابوں میں تحقیقی طریق کے بجائے تقلیدی رویّہ اختیار کیا گیا ہے۔ان کے مطالعے سے ماقبل کی تاریخ ادب کی تحقیق میں در آنے والی کوتاہیوں کا ازالہ نہیں کیا گیا بلکہ ان سے دامن بچاتے ہوئے اپنی بات کہنے کی کوشش کی گئی ہے لہٰذا مجموعی طور پر انھیں تالیف تو کہا جا سکتا ہے تحقیقی تصنیف نہیں۔
شعبۂ اردو مسلم یونیورسٹی سے وابستہ ایک اہم نام محمد انصار اللہ (1936-2017)کا ہے۔ انھوں نے اپنی تحقیق کا مرکز اردو زبان کو بنایا اور اس کے آغاز و ارتقا سے متعلق ایک مخصوص نظریہ پیش کیا۔ انھوں نے بعض قدیم کتابوں پر کام کیا جو اب تک محتاج تحقیق تھیں اور بہت سے حقائق کی پردہ کشائی کر کے پچھلے محققین کے نظریات پر سوال اٹھائے۔تاریخ زبان کے سلسلے میں انھوں نے ہندوستان کی سیاسی و تمدنی تاریخ کو پیش نظر رکھا اور اودھی کو اردو کا ماخذ قرار دیا۔ ان کے نظریے کو ابھی تک قبول نہیں کیا گیا ہے اور یہ مزید تحقیق کا محتاج ہے۔اردو کے حروف تہجی(1972)،پدماوت کی مختصر فرہنگ (1972) اور قاعدۂ ہندی ریختہ(1973) اس سلسلے کی تین کتابیں ہیں جس میں انھوں نے اردو کی ابتدا سے متعلق اپنا مخصوص تصور پیش کیا ہے۔انھوں نے اردو ادب کی ایک مختصر تاریخ بھی مرتب کی ہے جس کا نام انھوںنے تاریخ اقلیم ادب(1979)رکھا ہے۔اس تاریخ کو مرتب کرنے کے پیچھے انصار اللہ کا مقصد ایک ایسی تاریخ لکھنے کا تھا جو تحقیقی اعتبار سے جامع ہولیکن انھوں نے خود یہ طریقہ اختیار کیا کہ کتاب میں کہیں بھی اپنے ماخذکا حوالہ نہیں دیا ہے نہ ہی حواشی اور کتابیات کا حوالہ دیا ہے جس کی وجہ سے اس کتاب کی تحقیقی اہمیت مجروح ہو گئی ہے۔ان کتابوں کے علاوہ محمد انصار اللہ نے کلب ِ حسن خاں نادر کی کتاب ’تلخیص معلی‘ عبدالغفور خاں نساخ کے دو رسالے ’قطعہ منتخب‘ اور ’زبانِ ریختہ‘، مقصود کا بارہ ماسہ موسوم بہ’برہن کی کہانی‘ اور ’ملاّ دائود کی چنداین ‘ وغیرہ کو بھی مرتب کیا ہے۔ان کتابوں پر ان کے مقدمے اور حواشی ان کے وسیع مطالعے اور محققانہ انداز فکر کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتابوں میں اردو کے آغاز و ارتقا سے متعلق جو نظریہ پیش کیا ہے وہ بالکل صحیح یا حرف آخر نہیں ہو سکتا لیکن اس موضوع پر فکر و مباحث کی دعوت ضرور دیتا ہے۔انھوں نے مزید تحقیق کے لیے ایسا مواد ضرور فراہم کر دیا ہے جو ابھی تک ہماری دسترس سے باہر تھا۔
نور الحسن نقوی (1933-2006)بھی شعبہ ٔ اردو کے استاد رہے ہیں۔تحقیق و تدوین کے میدان میں مصحفی ان کا خاص موضوع رہا ہے۔اس سلسلے میں انھوں نے مصحفی کا مونوگراف اور ان کے کلام کا انتخاب تیار کرنے کے علاوہ ان کے کلام کو باقاعدہ طور پر مرتب کرنے کا کام بھی انجام دیا ہے۔مصحفی کا اردو کلام نو دواوین پر مشتمل ہے۔انھوں نے مصحفی کے سوانح سے متعلق بھی اہم حقائق پیش کیے ہیں۔ مثلاًمصحفی کے سال ولادت کے تعین کرنے کے ساتھ ہی انھوں نے ان کے وطن اور ترک وطن کرنے اوردہلی اور لکھنؤ میں ان کے قیام کی تفصیل پیش کی ہے۔مثلاًمصحفی اپنے وطن امروہہ کو چھوڑ کر پہلے کچھ دن ٹاندہ میں رہے وہاں کا دربار اجڑنے پر وہ لکھنؤ پہنچے لیکن وہاں روزگار کا انتظام نہ ہونے پر دہلی چلے آئے۔ دہلی میں اس وقت تباہی و بربادی کا مسکن بن چکی تھی۔حالات سازگار نہ ہونے پر بھی مصحفی وہاں 11سال تک رہے اور جب گزر مشکل ہو گئی تو وہ لکھنؤ چلے اور شہزادہ سلیمان شکوہ کے دربار سے منسلک ہو گئے۔مرتب نے انشا و مصحفی کے معرکے پر بھی روشنی ڈالی ہے۔گویا مصحفی کے علاوہ لکھنؤ کی ادبی فضا نیز انشا و مصحفی کے معرکوں سے متعلق بعض اہم معلومات کو انھوں نے اپنے مقدمے میں پیش کیا ہے۔ کلیات جرأت کی ترتیب و تدوین اور تذکرہ ’عیارالشعرا‘ کی تدوین بھی ان کے نمایاں تدوینی کام ہیں۔ انھوں نے اپنے مرتبہ متون اور تحقیقی کتابوں کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت کی ہے۔ انھوں نے مصحفی پر جو تحقیقی و تدوینی کام کیا وہ کلاسیکی ادب کے مطالعے میں معاون ثابت ہوا ہے۔ انھوں نے اصول تدوین کی پابندی کرتے ہوئے ان متون کو مرتب کیا ہے۔ان کی کتابوں میں تدوینی اعتبار سے بعض کمیاں نظرآتی ہیں تاہم ان کے مرتبہ متون اردو تدوین کی روایت میں ایک اہم اضافہ ہیں۔
پروفیسر محمود الٰہی (1930-2014)کا تعلیمی رشتہ علی گڑھ سے رہاہے۔ان کی تحقیقی و تدوینی کاوشوں میں اردو قصیدہ نگاری،فسانۂ عجائب کا بنیادی متن،تذکرہ نکات الشعراء اورتذکرۂ شورش کی تدوین قابل ذکر ہیں۔لیکن ان کے مرتبہ متون میں اصول تدوین کے نقطئہ نظر سے وہ پختگی اور جامعیت نظر نہیں آتی جو رشید حسین خاں،امتیاز علی عرشی،مختار الدین احمد،نذیر احمد یا ظفر احمد صدیقی کے مرتب کردہ کتابوں میں پائی جاتی ہے۔تاہم ان کی تحقیقی و تدوینی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹرخلیق انجم (1935-2016)بھی جدید محققین کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ان کا ایک اہم تحقیقی کام مرزا محمد رفیع سودا سے متعلق ہے۔خلیق انجم نے تدوین متن کے اصولوں پر ایک جامع اور کارآمد کتاب’متنی تنقید‘ (2006)لکھی ہے۔تدوین متن کو انھوں نے ’متنی تنقید‘ کا نام دیا ہے۔ ’متنی تنقید‘ دراصل انگریزی اصطلاح Textual Criticismکا ترجمہ ہے اور اس سے متن،متنی نقاد اور تنقیدی ایڈیشن کی اصطلاحیں انھوں نے استعمال کی ہیں۔حالانکہ ان کی اصطلاحات کا متنی تنقید یعنی Criticism Textual سے تعلق نہ ہو کر متن کی اصل تک پہنچنے کے سروکار سے ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے متن اور متنی تنقید (تدوین متن)کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے متنی تنقید (تدوین متن)کی اہمیت اور تحقیق و ترتیب متن کے مختلف مدارج انتخاب متن،تیاری،مواد کی فراہمی،بنیادی نسخے کا تعین، متن کی تصحیح،قیاسی تصحیح اور تنقید متن پر روشنی ڈالی ہے۔
ادب میں خلیق انجم کی شناخت غالب اور خطوط غالب کے مرتب کی حیثیت سے قائم ہوئی۔ انھوں نے پانچ جلدوں میں خطوط غالب کا جامع اومستند متن پیش کیا۔خطوط غالب کے علاوہ انھوں نے غالب سے متعلق چارمستقل کتابیں’غالب کی نادر تحریریں ‘(1961)،’غالب اور شاہان تیموریہ‘ (1974)، ’غالب کے کچھ مضامین‘ (1991) اور’ غالب کا سفر کلکتہ اور کلکتے کا ادبی معرکہ‘ (2004)بھی مرتب کی ہیں۔ان کتابوں کے مطالعے سے غالب کی شخصیت اور کلام سے متعلق بہت سے نئے گوشے روشن ہوتے ہیں۔ خلیق انجم کے مرتبہ خطوط غالب کے مطالعے سے ان کی انتھک محنت اور تحقیقی دیانت داری کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھوں نے اصول تدوین کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان خطوط کو مرتب کیا ہے اور اس سلسلے میں غالب کے عہد،ان کی شخصیت،ان کے زبان وبیان،املا اور اسلوب گویا ہر پہلو پر نظر رکھی ہے اور ان سے متعلق صحیح نتائج اخذ کیے ہیں۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان خطوط کو مرتب کر کے انھوں نے غالب شناسی میں ایک اہم اضافہ کیا ہے۔
جدید نسل کے صف اوّل کے محققین میںپروفیسر ظفر احمد صدیقی(1955-2020) کا شمار ہوتا ہے۔ عربی،فارسی ادبیات نیز قرآن و احادیث کا انھوں نے محققانہ دقت نظری سے مطالعہ کیاہے۔ اردو کے کلاسیکی ادب کو بھی انھوں نے اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ان کی تحریریں ان کی ذہانت اور تحقیقی انداز فکر کا بیّن ثبوت پیش کرتی ہیں۔وہ نہایت غور و فکر اور تلاش و تحقیق کے بعد ہی کسی موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اور اس موضوع سے متعلق تمام ممکنہ پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔عربی و فارسی زبان و ادبیات سے ان کی گہری واقفیت،انھیں دوسرے محققین سے ممتاز کرتی ہے۔شبلی بحیثیت سیرت نگار(2001) شبلی پر ان کا سب سے اہم کام ہے۔ اس تحقیقی کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ظفر احمد صدیقی نے سیرۃ النبی ؐسے،متعلق تمام پہلوئوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے اور شبلی کی اس تحقیقی کاوش کو سراہا ہے۔ساتھ ہی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے سیرۃالنبی میں شبلی کے تحقیقی تسامحات پر گرفت بھی کی ہے۔اس کتاب کے مطالعے سے نتیجتاً کچھ اس طرح کا بر آمد ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی میں بزرگوں کا احترام جتنا لازم ہے،تحقیق کے شعبے میں تسامحات پر گرفت بھی اتنی ہی لازم ہے۔اس سلسلے میں انھوں نے کتب احادیث اور تاریخ و سیرت کے اصل ماخذسے جس طرح شواہد پیش کیے ہیں وہ ان کی دیدہ ریزی اور علمی دیانت داری کابیّن ثبوت ہیں۔
ظفراحمد صدیقی نے غالب کے متداول کلام کی اوّلین مکمل شرح یعنی شرح دیوان غالب از نظم طباطبائی کی تدوین (2012)کا کام بھی انجام دیاہے۔ انھوں نے تحقیق و تدوین کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے ایک ایساجامع اور معیاری متن تیار کیا ہے جس کی بنیاد پر ہم انھیںامتیاز علی عرشی،نذیر احمد، رشیدحسن خاں اور حنیف نقوی جیسے محققین کی تدوینی روایت کا سچاجانشین کہہ سکتے ہیں۔شرح طباطبائی میں جہاں بھی استشہاد کے طور پر عربی،فارسی اور اردو کے اشعار درج کیے ہیں انھوںنے ان اشعار کی تخریج کر دی ہے۔ان کی تلاش و تحقیق کا عالم یہ ہے کہ اشعار کی تخریج کے لیے وہ غیر مطبوعہ مخطوطات تک بھی رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔شرح طباطبائی کی تدوین کے دوران انھوں نے حواشی میں زبان و بیان اور شعریات سے متعلق مباحث کا چشم کشااحاطہ کیا ہے اور اسی طرح جہاں کہیں طباطبائی کے خیالات سے ایراد و اختلاف کیا ہے وہ بھی سراسر علمی اور تحقیقی نوعیت کاہے جس سے قاری کے علم میں اضافہ ہوتا ہے۔بقول شمس الرحمن فاروقی:
’’ایسے متن(اور طویل متن) کی عالمانہ تدوین وہی کرے جس کے پاس عربی و فارسی اور اردو کا علم بیش از بیش ہو،جسے کتابوں سے ذوق ہو اور جس میں صبر ایوب سے کچھ بڑھ کر ہی صبر ہو،کہ عربی کے ایک مصرعے یا فارسی کی ایک عبارت کی اصل ڈھونڈھنے کی خاطر پورا پورا دیوان (اور عربی کا معاملہ ہو تو اس کے مختلف ایڈیشن اور اس کی شروح) بغور پڑھ ڈالنے کی ہمت رکھتا ہو۔ظفر احمد صدیقی میں یہ سب صفات موجود ہیں۔طباطبائی کی شرح کے جتنے ایڈیشن سامنے آئے تھے وہ سب ناقص تھے۔لیکن وجہ ظاہر ہے۔شرح کی طباعت پر سو سے زیادہ سال گزرنے کے باوجود ظفر احمد صدیقی جیسا کوئی استاد منصۂ شہود پر نہ آیا تھا۔‘‘4؎
ظفر احمدصدیقی کے تحقیقی کارناموں میں ان کی کتاب ’قصیدہ :اصل،ہیئت اور حدود (2020) بھی خاص اہمیت کی حامل ہے۔کلاسیکی شاعری اور اس کی تاریخ و تنقید سے ان کی واقفیت کا اندازہ اس کتاب کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ اس کتاب میں قصیدہ کے بنیادی ماخذ سے متعلق مباحث اٹھائی گئی ہیں اورعربی و فارسی میں قصیدے کی روایت کا مدلل انداز میں تحقیقی جائزہ بھی لیا گیا ہے ساتھ ہی متعلقاتِ قصیدہ پر کار آمد معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔صحیح معنی میں یہ کتاب اپنے موضوع پر معتبر حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔تدریس متن کا ذیلی عنوان دے کر انھوں نے اردو کے منتخب قصائد کی تعبیر و تشریح پیش کی ہے۔جس سے اس کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ظفر احمد صدیقی کا انداز اس قدر مدلل اور شفاف ہے کہ وہ اس کتاب میں بت شکنی کے قریب پہنچ جاتا ہے۔قصیدے کی اصل، ہیئت اور حدود پر اس نوعیت کی تحقیقی بات ان سے قبل نہیں کی گئی تھی۔محمود الٰہی،ابو محمد سحر،شیخ چاند اور ام ہانی اشرف یا دیگر نقاد نما محققوں کی تحقیق میں یہی تسلیم کرنے کا رویّہ غالب ہے کہ قصیدہ عربی کی ایک مقبول صنف سخن ہے جب کہ حقیقت کچھ اور ہے۔ظفر احمد صدیقی نے اس بے بنیاد اور غیر تحقیقی روایت کو اپنے مضمون کے اولین سطور میں ہی مسمار کر دیا ہے۔ان کے مطابق قصیدہ عربی الاصل لفظ ضرور ہے اور عربی میں بھی ایک شعری اصطلاح کے طور پر مستعمل ہے لیکن یہ فارسی اور اردو کی طرح عربی کی صنف سخن نہیں ہے۔ جب قصائد کی شکل میں عربی میں شاعری کا فروغ ہوا تو عربوں کو شعر گوئی کے میدان میں پیش رفت کا اندازہ ہوا۔اسی احساس کے تحت انھوں نے ان نئی نظموں کو ایسا نام دینا چاہا جن سے ان کی خوبی اور عمدگی کی طرف اشارہ ہو۔بادیہ نشین اہل عرب کے لیے موٹی جوان اونٹنی یا موٹا دل دار گودا حسن و خوبی کی علامت تھا اس لیے انھوں نے قصیدہ کا نام قصیدہ رکھ دیا۔
ظفر احمد صدیقی نے خود کو تحقیق و تدوین کے لیے مختص کر دیا تھا۔سائنٹفک اور استدلالی طریقہ کار اور صاف و شفاف اسلوب ان کی تحریروں کا خاصا ہے۔مختلف موضوعات پر ان کی تحریریں نئی نسل کے لیے فکر و تحقیق کے نئے در وا کرتی ہیں۔انھوں نے اردو تحقیق و تدوین کے معیار کو اپنی گراں مایہ تحریروں سے مزید بلندی عطا کی ہے۔
علی گڑھ سے وابستہ محققین کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔تحقیق و تدوین سے متعلق چند شخصیات اوربھی ہیں۔اس سلسلے میں ایک نام شعبۂ اردو کے پروفیسر نعیم احمد کا ہے۔انھوں نے میر جعفر زٹلی کا کلیات مرتب کر کے ایک بسیط مقدمے کے ساتھ1979میں شائع کیا۔ ’تذکرہ ٔ بہار بے خزاں بھی ان کی تدوینی کاوشوں میں شامل ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے شہر آشوب پر بھی کام کیا اور ایک غیر معروف شاعر عبداللہ خاں مبتلا دکنی کے دیوان کو بھی مبتلاکے تعارف کے ساتھ رسالہ تحریر کے شمارہ 01میں1971میں شائع کیا۔
اردو میں لسانی تحقیق سے متعلق ایک اہم نام پروفیسرمرزا خلیل احمد بیگ کا بھی ہے۔ان کا تعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ لسانیات سے ہے۔اردو کے آغاز و ارتقا اور تاریخ سے متعلق انھوں نے خاطرخواہ کام کیا ہے۔ ان کی تصانیف میں اردو کی لسانی تشکیل(1973)،اردو زبان کی تاریخ (1995)، ایک بھاشا جو مسترد کر دی گئی (2007)،لسانی مسائل و مباحث (2016)وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
شعبۂ اردو کے ایک اور استاد پروفیسر شہاب الدین ثاقب نے میر کی تحقیق کے حوالے سے اہم کام کیا ہے۔اس سلسلے میں ان کا سب سے اہم کام میر کے دیوان سوم اور دیوان چہارم کی تدوین ہے جسے انھوں نے اپنے مقدمے،حواشی اورفرہنگ کے ساتھ 2023میں شائع کیا۔ان کے مضامین ’ذکر میر کا ابتدائی حصہ اور ہمارے تحقیقی/تنقیدی رویّے‘ (غالب نامہ،جنوری 2013)،’فیض میر : ایک جائزہ‘ (فکر و نظر،علی گڑھ جون2013)،نکات الشعرا کے اندراجات پر ایک نظر(فکر و نظر،علی گڑھ ستمبر 2012)، قاضی عبدالودود اور میر تحقیق(غالب نامہ،نئی دہلی،جولائی2011)،شعری متون کی تدوین پر ایک نظر (کلیات میر کے خصوصی حوالے سے)(نوائے ادب،ممبئی،اکتوبر2009)،میر کی ایک نایاب فارسی مثنوی دریائے عشق(تعارف و ترتیب)(ادراک،گوپال پور،2007)وغیرہ ان کی محققانہ دیدہ ریزی کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔اس کے علاوہ شہاب الدین ثاقب نے مصحفی کے تذکرے عقد ثریا کو بھی اپنے تحقیقی مقدمے اور وضاحتی حواشی کے ساتھ مرتب کر کے علی گڑھ سے2012میں شائع کیا۔
کلاسیکی متن کی تحقیق و تدوین کے سلسلے میں پروفیسر قمر الہدی فریدی کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔ انھوں نے ’طلسم ہوش ربا: تنقید وتلخیص‘کے عنوان سے طلسم ہوش ربا کے متن کو مرتب کر کے 1999شائع کیا۔اس کے علاوہ انھوں نے میر امن کی باغ و بہار کی ترتیب و تدوین کا کام بھی انجام دیا اور اسے اپنے مقدمے اور فرہنگ کے ساتھ2000میں علی گڑھ سے شائع کیا۔شعبۂ اردو کے ان محققین کی علمی و تحقیقی سر گرمیاں مسلسل جاری ہیں۔
گویاتحقیق و تدوین کے میدان میں علی گڑھ کی خدمات کا محاکمہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس ادارے کے تربیت و تعلیم یافتہ محققین نے اردو میںنہ صرف دکنیات اور کلاسیکی ادب،دبستان و تحریکات اور شعرا و اُدبا سے متعلق تحقیق و تدوین کے معیاری نمونے پیش کیے بلکہ لسانیاتی تحقیق کو بھی اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ادبی تاریخیں اور کتب و رسائل کے اشاریے اس پر مستزاد ہیں۔گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دانش گاہ علی گڑھ نے اردو میں تحقیق و تدوین کا معیار بلند کیا ہے اور علم و دانش کا ایک ایسا چراغ روشن کیا ہے جس کی آب و تاب سے آج بھی اردو دنیا منوّر ہو رہی ہے۔
حواشی
.1 اسلوب احمد انصاری،نقوش آرزو،2005، پروفیسر مختار الدین احمد محقق اور دانشور،غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی،ص 56-57
.2 مسعود حسین خاں،مقدمہ تاریخ زبان اردو،تیرہواں ایڈیشن،2021،ایجوکیشنل بک ہائوس،علی گڑھ، ص 236
.3 مرزا خلیل احمد بیگ (مرتبہ)،ورود مسعود،1990، لاہور، ص206-207
.4 شمس الرحمن فاروقی،اردو چینل،سنہ ندارد، مدیر قمر صدیقی،ممبئی،ص 48

Dr. Saba Naseem
Milkipura
Mahoba- 210427 (U.P)
Email:nsaba0848@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

محمد یحیی تنہا اور سیر ا لمصنفین، مضمون نگار:ابراہیم افسر

تلخیص: میرٹھ میں تحقیقی کارواں کو آگے بڑھانے والوں میں محمد یحییٰ کا شمار صفِ اوّل کے قلم کاروں میں ہوتا ہے۔محمد یحییٰ تنہا نے اُردو نثر نگاروں کا پہلا

تنوع پسند شاعر: مرزا محمد رفیع سودا،مضمون نگار: ابوبکرعباد

تلخیص: مرزا محمد رفیع سودا ہمارے بڑے اور اہم شاعر ہیں۔ان کی پرورش و پرداخت ایک مخصوص معاشرتی اور معاشی ماحول میں ہوئی۔انھوں نے اپنے زمانے کے مقتدر، با ثر

قاضی عبدالودود اور غالبیات، مضمون نگار: شہاب ظفر اعظمی

تلخیص:  اردو تحقیق کی دنیا میں قاضی عبد الودود ایک معتبر نام ہے جنھوں نے ادبی تحقیق کی روایت کو نہ صرف استحکام بخشا بلکہ اس روایت کی توسیع بھی