انڈین نالج سسٹم اور موجودہ تعلیمی نظام کا تقابلی مطالعہ،مضمون نگار: کے ایم عظمت النساء

January 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025

ہندوستان دنیا کی ان قدیم ترین اور ہمہ گیر تہذیبوں میں سے ایک ہے جس نے نہ صرف انسانی فکر و شعور کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا بلکہ تمدنی، اخلاقی، سائنسی اور روحانی میدانوں میں بھی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ اس سرزمین کا علمی و فکری نظام ہزاروں سال پر محیط ہے جو آج بھی اپنی تابناک روایتوں کا آئینہ دار ہے۔
ہندوستانی تہذیب کی علمی روایت ایک ہمہ جہت اور جامع نظام پر مشتمل ہے جس میں ادب، فلسفہ، طب، فلکیات، علم النفس، اخلاقیات، فنونِ لطیفہ اور دیگر سائنسی و سماجی علوم شامل ہیں۔ یہ روایت صرف نظری علوم تک محدود نہیںبلکہ عملی، اخلاقی اور روحانی ارتقا کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ سنسکرت، پالی، تمل، فارسی، اردو، ہندی اور دیگر زبانوں میں محفوظ علمی سرمائے کی وسعت اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہندوستانی علوم دنیا کے کسی بھی قدیم علمی نظام کے ہم پلہ بلکہ کئی لحاظ سے اس سے برتر رہے ہیں۔
قدیم ہندوستان کا علمی ماحول ہمیشہ اہلِ دانش، مفکرین اور علم کے متلاشیوں کے لیے باعثِ کشش رہا ہے۔ نالندہ، تکشیلا اور وکرم شیلہ جیسے عظیم تعلیمی مراکز نہ صرف برصغیر بلکہ دنیا بھر میں علمی جستجو کے نمایاں مراکز رہے ہیں۔ ان اداروں میں صرف مقامی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے علمااورفلاسفہ حصولِ علم کی غرض سے آتے تھے، جو ہندوستان کی بین الاقوامی علمی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے۔
گزشتہ دو صدیوں میں نوآبادیاتی اثرات کے باعث ہندوستانی نظامِ تعلیم میں بنیادی نوعیت کے تغیرات رونما ہوئے۔ انگریزوں نے مقامی علمی روایت کو نظرانداز کر کے ایسا تعلیمی نظام متعارف کروایا جو اُن کے سیاسی، معاشی اور ثقافتی مقاصد کو تقویت دے۔ اس عمل نے نہ صرف مقامی علمی روایت کو پس پشت ڈال دیابلکہ اخلاقی، روحانی اور تہذیبی علوم کو بھی تعلیمی اداروں سے نکال باہر کیا۔ سچائی کی تلاش، خودی کی پہچان اور تہذیبی خود اعتمادی جیسی اقدار کمزور ہو گئیں اور ان کی جگہ معاشی مفادکارپوریٹ ملازمت اور مغربی تصورات نے لے لی۔موجودہ دور کا تعلیمی نظام زیادہ تر اسی نوآبادیاتی ڈھانچے پر استوار ہے جو معاشی پیداوار اور عالمی مسابقت پر زور دیتا ہے۔ اس نظام میں فکر و دانش کی روایتی ہندوستانی روح معدوم ہوتی گئی ۔
ہندوستانی قدیم علوم اور جدید تعلیمی نظام کا تقابلی مطالعہ نہ صرف ان دونوں کے نظریاتی اور عملی تفاوت کو نمایاں کرتا ہے بلکہ اس سے تہذیبی ترجیحات، علمی مزاج اور فکری جہتوں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے قدیم علمی ورثے کی بازیافت کریں، اس کی معنویت کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کریں اور ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل دیں جو نہ صرف روزگار فراہم کرے بلکہ انسان سازی، فکری بالیدگی اور تمدنی خود شعوری کا بھی ضامن ہو۔
اسی تناظر میں حکومتِ ہند نے ’نئی قومی تعلیمی پالیسی 2020‘ کے ذریعے ایک بامعنی کوشش کی ہے تاکہ ہندوستان کے قدیم علمی ورثے کو موجودہ تعلیمی نظام سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس پالیسی کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اس میں ہندوستانی علوم و فنون، فلسفہ، زبانوں اور روحانی روایات کو نصاب کا حصہ بنانے پر زور دیا گیا ہے۔ سنسکرت، یوگا، آیوروید، نیتی شاستر، ویدانت، بھگوت گیتا، بدھ و جین فلسفہ اور دیگر کلاسیکی علوم کو جدید تعلیم کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ طلباصرف روزگار ہی نہیں بلکہ فکری بصیرت اور اخلاقی تربیت بھی حاصل کریں۔
NEP-2020 کے مطابق علم کو صرف معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ شخصیت سازی(Personality Development) اور معاشرتی شعور (Social Awareness) کی بیداری کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ قدیم علم کی روایت کو موجودہ تحقیق، ٹیکنالوجی اور تخلیقی اظہار کے ساتھ مربوط کر کے ایک ایسا نظام تشکیل دینے کی کوشش ہو رہی ہے جو بیک وقت مقامی ہو اور عالمی بھی، روایتی بھی ہو اور جدید بھی۔
قدیم ہندوستان کی تعلیمی روایت
روایتی تعلیم محض علم کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ حیات تھی جو فرد کی روحانی، اخلاقی، سماجی اور عملی تربیت پر مشتمل تھی۔قدیم ہندوستان میں گروکل یا گروکلم (Gurukula or Gurukulam) اسی نظامِ تعلیم کا مرکز تھا، جہاں شاگرد (ششیہ) اپنے استاد (گرو) کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا اور نہ صرف علم حاصل کرتا بلکہ زندگی گزارنے کے عملی طریقے بھی سیکھتا تھا۔ گرو اور ششیہ کے درمیان تعلق کو ایک مقدس رشتہ سمجھا جاتا تھا۔جو خلوص، احترام اور عقیدت پر مبنی ہوتا تھا۔ شاگرد اپنے گرو کی خدمت کرتا، روزمرہ کے گھریلو کاموں میں حصہ لیتااور یوں وہ نہ صرف تعلیمی بلکہ عملی زندگی کی ذمہ داریوں کے لیے بھی تیار ہوتا تھا۔ بعض علما کے مطابق یہ گھریلو کام محض خدمت نہیں بلکہ تعلیم کا ایک اہم حصہ تھے۔جن سے نظم و ضبط، خود انحصاری اور قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا تھا۔
گروکل میں تعلیم کا طریقہ زبانی یادداشت پر منحصر ہوتا تھا۔ استاد سبق سناتے اور شاگرد تکرار کے ذریعے اُسے یاد کرتے۔ نہ تو تحریری کام کا کوئی خاص رواج تھا اور نہ ہی امتحانات کو رسمی شکل دی جاتی تھی۔ طلبا زبانی سوالات کے ذریعے جانچے جاتے اور ان کی فکری پختگی کو پرکھا جاتا تھا۔ تعلیم مکمل ہونے کے بعد شاگرد اپنے گرو کو گرو دکشنا (ہدیہ)پیش کرتاجو کہ عقیدت، شکرگزاری اور اخلاقی ذمہ داری کا مظہر ہوتا۔ یہ دکشنا مالی بھی ہو سکتی تھی یا پھر استاد کے کہنے پر کوئی خاص خدمت بھی انجام دی جا سکتی تھی۔
روایتی تعلیم کا بنیادی مقصد فرد کو سماج کا ایک باوقار، ذمہ دار اور بااخلاق رکن بنانا تھا۔ اس تعلیم میں معاشرتی روایات، تہذیب، مذہب، رسم و رواج، سلوک، احترام، بزرگوں کی خدمت اور خاندانی اقدار کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ شاگرد کئی مہینوں بلکہ برسوں تک گرو کے ساتھ رہتے اور زندگی کے مختلف پہلوؤں میں مکمل تربیت حاصل کرتے۔ اس نظام میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی وہ تفصیلات شامل نہیں تھیں جو آج کل کی تعلیم میں شامل ہیں۔
روایتی تعلیم کا تقابل اگر ہم جدید تعلیم سے کریں تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ جدید تعلیم معلومات، پیشہ ورانہ مہارت اور سائنسی ترقی پر زور دیتی ہے، جب کہ روایتی تعلیم انسان کی مجموعی شخصیت، اخلاقی کردار، روحانی شعور اور سماجی ذمہ داریوں پر توجہ مرکوز رکھتی تھی۔ آج کا تعلیمی نظام اگرچہ سہولتوں سے بھرپور ہے لیکن اس میں وہ قلبی و اخلاقی گہرائی کم نظر آتی ہے جو روایتی نظام کا طرۂ امتیاز تھی۔
اس تمام تفصیل سے اندازہ ہوتا ہے کہ روایتی تعلیم صرف ایک نصابی سرگرمی نہیں تھی بلکہ ایک جامع تربیتی عمل تھا۔ گروکل ایک ایسا ماحول فراہم کرتا تھا جس میں علم کے ساتھ ساتھ کردار سازی، خدمت، انکساری اور سادگی کو فروغ دیا جاتا تھا۔ آج جب کہ ہم تعلیم کو صرف ایک پیشہ ورانہ سیڑھی یا معاشی کامیابی کا ذریعہ سمجھنے لگے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم روایتی نظامِ تعلیم کی اعلیٰ اقدار کو اپنے موجودہ تعلیمی نظام میں دوبارہ زندہ کریںتاکہ ہماری نسلیں علم کے ساتھ ساتھ انسانیت، تہذیب اور اخلاقیات سے بھی بہرہ مند ہو سکیں۔
قدیم تعلیمی نظام کی خصوصیات
قدیم ہندوستان میں تعلیم کا نظام فطری، عملی اور خاندانی روایتوں سے جڑا ہوا تھا۔ بچوں کی تعلیم کا آغاز عموماً گھر سے ہوتا تھا، جہاں والد اپنے بیٹے کو وہی ہنر، پیشہ یا مذہبی علم سکھاتا تھا جس سے خود وابستہ ہوتا۔ اس طرح ایک پیشے کی مہارت نسل در نسل منتقل ہوتی تھی اور معاشرے میں ہر فرد کو اپنی ذمے داری کا واضح شعور ہوتا تھا۔ڈاکٹر کپل دیو لکھتے ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’قدیم ہندوستان کا نظامِ تعلیم ایک شاندار اور بامقصد نظام تھا۔ قدیم ہندوستان میں تعلیم کا تصور عظیم، بلند اور باوقار تھا۔ اس کا مقصد ’’زندگی کی ہمہ گیر تربیت‘‘فراہم کرنا اور مرد و خواتین کے کردار کو زندگی کی جدوجہد کے لیے تیار کرناتھا۔سوامی ویویکانند نے کہاکہ’ ’تعلیم انسان سازی اور کردار سازی ہے‘‘ کے لیے ہے۔‘‘
وقت کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں دو بڑے تعلیمی دھارے ابھر کر سامنے آئے ’ویدک نظامِ تعلیم‘ اور ’بدھ مت کا تعلیمی نظام‘۔ ویدک نظام میں مذہبی علوم جیسے وید، ویدانت، اپنشد اور روحانی فلسفے کی تعلیم دی جاتی تھی، جس کا مقصد فرد کو دھرم (فرض)، گیان (علم) اور موکش (نجات) کی راہ پر گامزن کرنا تھا۔ اس نظام میں ذریعہ تعلیم سنسکرت زبان تھی جو علمی اور مذہبی حلقوں کی زبان سمجھی جاتی تھی۔
دوسری طرف بدھ مت کا تعلیمی نظام علم کی وسعت، منطق، فلسفے اور بدھ مت کے مختلف مکاتبِ فکر پر مبنی تھا۔ یہاں تعلیم کا ذریعہ پالی زبان تھی جو عام لوگوں میں زیادہ رائج تھی۔اس لیے بدھ مت کی تعلیم عام طبقے تک بھی پہنچ سکی۔
ان دونوں مذہبی نظاموں کے ساتھ ساتھ ایک خالص پیشہ ورانہ تعلیم بھی رائج تھی۔ اس میں ماہر کاریگر جیسے کمہار، لوہار، بڑھئی، مصور اور دیگر ہنر مند افراد اپنی مہارتیں شاگردوں کو سکھاتے تھے۔ یہ شاگرد کئی سال تک اپنے استاد کے ساتھ رہ کر عملی کام سیکھتے اور مہارت حاصل کرتے جسے آج’اپرنٹس شپ (Apprenticeship)‘ کہا جاتا ہے۔ان تمام نظاموں کا امتزاج مذہب، پیشہ اور اخلاقیات پر مبنی ایک جامع تعلیمی ڈھانچہ پیش کرتا تھا۔ ان نظاموں نے نہ صرف علم اور ہنر کو فروغ دیا بلکہ معاشرتی ذمہ داریوں، روحانی ترقی اور ذاتی کردار سازی پر بھی زور دیا۔
قدیم ہندوستان کی عظیم درسگاہیں
قدیم ہندوستان کو بجا طور پر علم و دانش کی سرزمین کہا جا سکتا ہے، جہاں صدیوں پہلے وہ ادارے قائم ہوئے جنھیں دنیا کی قدیم ترین اور عظیم ترین جامعات تسلیم کیا جاتا ہے۔ جن میں نمایاں نام تکششیلا (Taxila)، نالندہ (Nalanda)، وکرمشیلا (Vikramshila)، ولبھئی (Vallabhi)، اودنت پوری (Odantapuri)، شاردہ پیٹھ (Sharada Peeth) اور پشپگیری (Pushpagiri) وغیرہ ہیں۔ یہ درسگاہیں نہ صرف ہندوستان بلکہ پورے ایشیا میں علمی و تہذیبی زندگی کی علامت تھیں اور چھٹی صدی قبل مسیح سے تیرہویں صدی عیسوی تک علم و فضل کی شمع روشن کرتی رہیں۔
.1 تکششیلا (Taxila)
تکشیلا کو دنیا کی اولین یونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ موجودہ پاکستان کے علاقے راولپنڈی کے قریب واقع اس ادارے کا آغاز چھٹی صدی قبل مسیح کے آس پاس ہوا۔ یہاں پر منطق، فلسفہ، علم فلکیات، علم نجوم ، فنون لطیفہ ،طب، جراحی،ریاضی، تیر اندازی،جنگی علوم اورتجارت ،زراعت وغیرہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ مشہور مفکر چانکیہ (کاؤٹلیہ)، سنسکرت کے عظیم نحوی پنینی اور طبیب چراکا اسی درسگاہ سے وابستہ تھے۔
.2 نالندہ (Nalanda)
نالندہ کی بنیاد پانچویں صدی عیسوی میں کمارگپت اوّل نے رکھی۔ یہ بہار میں واقع دنیا کی سب سے بڑی بدھ متی یونیورسٹی تھی، جہاں ایک وقت میں دس ہزار طلبہ اور ہزار اساتذہ مقیم تھے۔ نالندہ میں صرف بدھ مت ہی نہیں بلکہ ریاضی، فلکیات، طب، فلسفہ اور ادب جیسے علوم بھی پڑھائے جاتے تھے۔اس مرکز کی خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے یو آن چوانگ کہتا ہے:
’’اس نظام میں تقریبا کچھ ہزار اراکین تھے۔ سب کے سب بڑے عالم اور قابل لوگ تھے۔ سیکڑوں بلند پائے کے اور مشہور تھے۔ اراکین اپنی جماعت کی تعلیمات اور قواعد و ضوابط کی پابندی میں بہت سخت تھے۔ مطالعہ اور بحث و مباحثہ کے لیے انھیں دن بہت چھوٹا لگتا تھا۔ دن رات وہ ایک دوسرے کو سمجھاتے رہتے تھے۔ چھوٹے اور بڑے کمال حاصل کرنے میں آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے۔ لہٰذا بیرونی ممالک کے طلبہ اپنے شکوک رفع کرنے کے لیے اس نظام میں آئے اور بعد میں وہ بہت مشہور ہوئے اور جنھوں نے نالندامیں نام حاصل کیا وہ جہاں بھی گئے تمام نے بڑی عزت پائی۔‘‘
(قدیم ہندوستان میں تعلیم،ڈاکٹر اے ایس الٹیکر مترجم ابویوسف، ص120،ترقی اردو بیورو ،نئی دہلی،1985)
نالندہ کے منتظمین نے ایک عظیم الشان کتب خانہ قائم کیا جو اس یونیورسٹی کے سینکڑوں اساتذہ اور ہزاروں طلبہ کی علمی ضروریات پوری کرتا تھا۔ یہاں مختلف علوم و فنون کی نایاب کتابیں موجود تھیں۔ چینی علما مہینوں نالندہ میں قیام کرتے تاکہ مقدس نسخوں اور دیگر علمی کتابوں کی مستند نقول تیار کرسکیں۔ مشہور سیاح آئی سنگ نے یہاں سے سنسکرت کی چار سو کتابوں کی نقول کیں، جو پانچ لاکھ اشعار پر مشتمل تھیں۔ یہ کتب خانہ ’دھرم کنج‘یا ’مذہبی منڈی‘کے نام سے مشہور تھا اور تین شاندار عمارتوں پر مشتمل تھا جنھیں ’رتن ساگر‘، ’رتنو دادھی‘اور ’رتنا رانجکا‘کہا جاتا تھا۔
.3 ولبھئی یونیورسٹی (Vallabhi)
چھٹی صدی عیسوی میں گجرات کے حکمران میترک خاندان نے ولبھئی یونیورسٹی قائم کی۔ یہ ادارہ ویدانت، جین مت، بودھ مت اور ریاستی علوم کی تعلیم کا بڑا مرکز تھا۔ تبتی اور چینی سیاحوں نے اس کی شہرت کا ذکر کیا ہے۔
.4 وکرمشیلا یونیورسٹی (Vikramshila)
آٹھویں صدی میں دھرم پالا نے بہار میں اس یونیورسٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ خاص طور پر تنتر واد (Tantric Buddhism) کے مطالعے کے لیے مشہور تھا۔ تبتی ماخذ کے مطابق یہاں ہزاروں طلبا زیرِ تعلیم تھے۔ نالندہ کے بعد یہ بدھ متی تعلیم کا دوسرا سب سے بڑا مرکز تھا۔
.5 اودنت پوری یونیورسٹی (Odantapuri)
اودنت پوری یونیورسٹی قدیم بھارت کا ایک نمایاں تعلیمی و بدھ مت مرکز تھا، جو موجودہ بہار کے علاقے مگدھ میں واقع تھا۔ اس عظیم ادارے کی بنیاد 8ویں صدی میں پال سلطنت کے بانی گوپال نے رکھی تھی۔ یہ یونیورسٹی نالندہ اور وکرمشیلا جیسے ممتاز اداروں کے ہم پلہ تھی اور علم و دانش کے پیاسے ہزاروں طلبا یہاں دور دراز سے آیا کرتے تھے،جن کی تعداد بارہ ہزار سے بھی زائد بتائی جاتی ہے۔
.6 شاردہ پیٹھ (Sharada Peeth)
شاردا پیٹھ قدیم ہندوستان کا ایک درخشاں علمی اور روحانی مرکز تھا، جو علم و حکمت کا ایک عظیم گہوارہ تھا۔ چھٹی صدی سے بارہویں صدی کے دوران یہ ادارہ اپنے عروج پر تھا اور اس نے دنیا بھر سے علم کے متلاشیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔یہ مقام اپنے وسیع و عریض کتب خانے، سنسکرت زبان کے فروغ اور شاردا رسم الخط کی تخلیق و ترقی میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔ برصغیر کے ساتھ ساتھ دور دراز علاقوں کے محققین، فلسفی اور مذہبی اسکالرز یہاں آ کر تعلیم حاصل کرتے تھے۔
شاردا پیٹھ نہ صرف تعلیم و تحقیق کا مرکز تھا بلکہ روحانی روشنی کا مینار بھی تھا جس کی گونج آج بھی تاریخ کے اوراق میں سنائی دیتی ہے۔
.7 پشپگیری یونیورسٹی (Pushpagiri)
پُشپگیری جسے پُشپگیری مہاویہار بھی کہا جاتا ہے،قدیم ہندوستان کا ایک اہم بدھ مت تعلیمی مرکز تھا، جو موجودہ اڑیسہ (اوڈیشہ) میں تیسری سے گیارہویں صدی تک سرگرم رہا۔ یہ خوبصورت خانقاہی ادارہ لنگوڈی پہاڑی پر واقع تھا اور نالندہ جیسا بااثر مقام رکھتا تھا۔
چینی سیاح ہیون سانگ(Xuanzang) نے اس کا ذکر کیااور برہمی کتبوں میں اسے ’پھولوں سے بھری پہاڑی‘کہا گیا ہے۔ آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں سے اس کی عظمت کے آثار ملے ہیں۔ آج بھی اس کے کھنڈرات میںسٹوپے، خانقاہیں اور مجسمے تاریخ کی گواہی دیتے ہیں۔
یہ تمام جامعات اپنی وسعت، تنوع اور بین الاقوامی طلبا کے باعث محض تعلیمی ادارے ہی نہیں تھی بلکہ اپنے وقت کی عالمی درسگاہیں تھیں۔ یہاں ایشیا کے مختلف خطوں سے طلبا آتے اور علم حاصل کر کے دنیا کے دیگر علاقوں تک روشنی پھیلاتے۔ ان اداروں نے نہ صرف ہندوستانی تہذیب کو علمی وقار بخشا بلکہ عالمی تاریخ میں بھی اپنے گہرے نقوش چھوڑے۔
قدیم ہندوستان میں خواتین کی تعلیم
قدیم ہندوستانی تہذیب میں خواتین کی تعلیم کو خاص مقام حاصل تھا۔ عورتوں کو صرف گھریلو ذمہ داریوں کی تربیت تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ انھیں رقص، موسیقی اور مذہبی تعلیمات میں بھی مہارت حاصل کرنے کا موقع دیا جاتا تھا۔ ’اُپنَین سنسکار‘ (Upanayana Sanskar) جو ابتدائی مذہبی تعلیم کے آغاز کی علامت تھی ، لڑکیوں کے لیے بھی ضروری سمجھی جاتی تھی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین کو روحانی اور علمی میدان میں شریک ہونے کی اجازت حاصل تھی۔
تعلیم یافتہ خواتین کو اُن کے تعلیمی رجحان کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا:
.1 سدیوَدواہا (Sadyodwahas) وہ خواتین جو شادی سے پہلے تک تعلیم حاصل کرتی تھیں اور بعد ازاں گھریلو زندگی اختیار کر لیتی تھیں۔
.2 برہماوادیِنی(Brahmavadinis) وہ خواتین جنھوں نے تجرد کی زندگی اختیار کی اور ساری عمر علم اور تعلیم کے لیے وقف کر دی۔
ایسی خواتین کو ویدوں اور ویدانگ (Vedangas) کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ اگرچہ یہ تعلیم اکثر مذہبی نظموں اور رسومات سے متعلق گیتوں تک محدود رہتی تھی۔ اس کے باوجودکئی خواتین نے علمی دنیا میں بلند مقام حاصل کیا۔ اپالا (Apala)، اندرانی (Indrani)، گھوشا (Ghosha)، لوپامدرہ (Lopamudra)، گارگی (Gargi) اور میتریئی (Maitreyi) جیسی قابلِ احترام خواتین نہ صرف ویدوں کی عالمہ تھیں بلکہ انھوں نے فلسفہ، مذہب اور روحانیت جیسے سنجیدہ موضوعات پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ڈاکٹر سید عبد اللطیف اپنی کتاب ’مختصر تاریخ ثقافت ہند‘میں لکھتے ہیں:
’’خاندان میں عورتوں کو بلند اور معزز مقام حاصل تھا۔ گر ہا پتنی گھر کی زیب زینت سمجھی جاتی تھی اور تمام مذہبی اور سماجی کام کاج میں اپنے شوہر کے مساوی رتبہ رکھتی تھی۔ عورتوں کی تعلیم کا معیار بھی بلند تھا۔ وید کے بعض بھجن خواتین کی تخلیق ہیں۔ یہ خواتین و سوا و ارا، گوشا، اپالا وغیرہ تھیں۔ گار گی ایک بڑی عالمہ تھی۔ اس نے فلسفیانہ مسائل پر فلسفیوں کی مجلس سے خطاب کیا تھا۔ بڑے بزرگ یجناو الکیا کی بیوی میتری روحانی مسائل پرمستند مانی جاتی تھی اور اس کی بڑی عزت کی جاتی تھی۔‘‘(ص 24-25)
یہ اس بات کا مظہر ہے کہ قدیم ہندوستانی معاشرے میں خواتین کو علمی اور فکری ترقی کا بھرپور حق حاصل تھا اور وہ اس میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ نظر آتی تھیں۔
قدیم ہندوستان میں تعلیم کے طریقہ کار
قدیم ہندوستانی تعلیمی نظام میں تدریس کا انداز فکری اور عملی دونوں پہلوؤں پر مشتمل تھا۔ تعلیم زیادہ تر زبانی ترسیل کے ذریعے دی جاتی تھی جس میں سننا (Shravana)، غور کرنا (Manana) اور گہرے تدبر سے سمجھنا (Nididhyasana) بنیادی طریقے تھے۔ اساتذہ شاگردوں کی ذہنی استعداد کے مطابق تعلیم دیتے اور انھیں حفظ، غور و فکر، سوال و جواب، مناظروں، کہانی گوئی اور عملی مشقوں کے ذریعے علم میں پختگی عطا کرتے تھے۔ طلبا کو صرف رٹوانے کے بجائے تنقیدی سوچ سکھائی جاتی تاکہ وہ سیکھے گئے علم کو عملی زندگی میں نافذ کرسکیں۔ اس مقصد کے لیے سیمینارز اور مباحثے منعقد ہوتے جن سے طلبا کو اظہارِ خیال اور سننے سمجھنے کی تربیت ملتی۔ یوں یہ نظام محض معلومات کی ترسیل نہیں بلکہ شخصیت سازی اور ذہنی ارتقا کا ہمہ گیر ذریعہ تھا۔
جدید تعلیم
زمانے کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ تعلیم کے اسلوب اور مقاصد بھی تبدیل ہوتے گئے ہیں۔اُرمیلا یادو(Urmila Yadav) اپنے ایک مضمون میںاس تبدیلی کے حوالے سے لکھتی ہیں جس کا ترجمہ یہ ہے:
’’جدید کاری، صنعتی ترقی، شہری نظام ، نجی کارروبار، عالمگیریت اور مغربی ثقافت کے اثرات جیسے مختلف تغیرات کی وجہ سے ہندوستانی معاشرے میں بہت سے مسائل اور برائیاں پیدا ہوئیں، جو ہندوستانی نظامِ تعلیم میں اخلاقی اقدار کے زوال کا سبب بنیں۔اگرچہ اس نظامِ تعلیم نے شرحِ خواندگی (Literacy rate) میں اضافہ کیا ہے لیکن یہ معاشرے میں حقیقی معنوں میں تعلیم یافتہ افراد پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے نتیجے میں ملک میں مثالی شہری پیدا نہیں ہو پاتے۔ہندوستانی طلبا کا بنیادی مقصد محض ڈگری حاصل کرنا، پیسہ کمانا اور کیریئر بنانا رہ گیا ہے بغیر اس کے کہ وہ اپنی زندگی میں اخلاقی اقدار اور قومی جذبے کو کوئی خاص اہمیت دیں۔‘‘
جہاں ماضی میں تعلیم کا مرکز روایتی اقدار، مذہبی علوم اور محض یادداشت پر انحصار تھا وہیں جدید تعلیم نے انسان کی فکری، سائنسی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی نئی راہیں کھول دی ہیں۔ آج کے تعلیمی اداروں میں نصاب کو اس انداز سے ترتیب دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ دور کی ضروریات پوری کرے، اسی لیے سائنس و ٹیکنالوجی، طب، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر جدید شعبوں کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ جدید تعلیم محض نظری معلومات تک محدود نہیں بلکہ مہارتوں کے فروغ پر زور دیتی ہے تاکہ طلبا عملی زندگی میں کامیاب ہوسکیں۔ تدریسی انداز بھی کثیرالجہتی ہے جس میں سننے کے ساتھ ساتھ لکھنے، دیکھنے، سوچنے، تجزیہ کرنے اور خود سے تصور قائم کرنے کی تربیت دی جاتی ہے، جس سے یادداشت بہتر ہونے کے ساتھ تخلیقی صلاحیتیں بھی نکھرتی ہیں۔ طلبا کی علمی پیش رفت کو جانچنے کے لیے تحریری امتحانات، پروجیکٹس، اسائنمنٹس اور عملی مشقوں کا منظم اہتمام کیا جاتا ہے جب کہ تدریس کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنانے کے لیے سوال و جواب، مباحثے، گروہی سرگرمیوں اور جدید تدریسی آلات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ دراصل جدید تعلیم روایتی تعلیم ہی کی توسیع اور ارتقا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ جہاں پرانی تعلیم حفظ اور تقلید پر مبنی تھی، وہیں نئی تعلیم تحقیق، تجربے اور تخلیق کو بنیاد بناتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید تعلیم نہ صرف فرد کو روزگار کے قابل بناتی ہے بلکہ اس کی سوچ، کردار اور رویے میں وسعت پیدا کرتے ہوئے اسے معاشرے کا باشعور، فعال اور باصلاحیت رکن بھی بناتی ہے۔
روایتی تعلیم اور جدید تعلیم ایک تقابلی جائزہ
تعلیم انسانی تہذیب کی بنیاد ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار سے گزرتی ہوئی آج کے جدید دور تک پہنچی ہے۔ روایتی اور جدید تعلیم دونوں اپنی نوعیت اور مقاصد کے لحاظ سے مختلف ہیںمگر ایک دوسرے سے منسلک بھی ہیں۔
قدیم دور میں جب باقاعدہ اسکولوں کا نظام موجود نہ تھا تو بچوں کو تعلیم ان کے آبا و اجداد سے ملتی تھی۔ یہ تعلیم بنیادی طور پر روزمرہ زندگی گزارنے کی مہارتوں پر مبنی ہوتی تھی جیسے شکار کرنا، اوزار بنانا، جانوروں کی کھالوں کا استعمال اور مختلف رسم و رواج کو اپناناوغیرہ۔ مذہب، عبادات اور اخلاقیات کا علم زبانی روایات کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا تھا۔اسی دور میں ہندوستان میں’گروکل‘ کا نظام رائج تھا۔ جہاں بادشاہ اپنے بچوں کو بھیجتے تھے۔ یہاں شہزادوں کو جنگی فنون، حکمرانی کے اصول اور مذہبی و اخلاقی تعلیم دی جاتی تھی۔ مگر یہ ادارے صرف اشرافیہ کے لیے مخصوص تھے جب کہ عام لوگ اپنے والدین سے ہنر سیکھ کر عملی زندگی میں قدم رکھتے تھے۔وقت کے ساتھ جب جمہوری حکومت کا قیام عمل میں آیا تو تعلیم عام لوگوں تک بھی پہنچنے لگی۔ اسکول قائم ہوئے جہاں ہر طبقے کے بچے پڑھنے لگے۔ یہی جدید تعلیم کی شروعات تھی جس نے معاشرے کو ترقی کی نئی راہوں پر گامزن کیا۔
جدید تعلیم کا باقاعدہ نظام برطانوی راج کے دوران وجود میں آیا۔ 1835 میں لارڈ میکالے (Lord Macaulay) نے انگریزی تعلیم کا آغاز کیا اور پھر 1854 میںوڈز ڈسپیچ (Wood’s Dispatch)نے جدید تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھی جسے’ہندوستانی تعلیم کا میگنا کارٹا‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس نظام کا مقصد انگریزی بولنے والے کلرک تیار کرنا تھا تاکہ وہ برطانوی حکومت کی مقامی انتظامیہ چلا سکیں۔اس دور میں اسکولوں میں ابتدائی تعلیم مقامی زبانوں میں جب کہ ا علیٰ تعلیم انگریزی میں دی جاتی تھی۔ برطانوی حکومت نے بعض روایتی تعلیمی اداروں کو مالی امداد دینا شروع کی جس سے آہستہ آہستہ کئی ادارے سرکاری امدادی اسکول بن گئے۔
یوں روایتی تعلیم سے جدید تعلیم کا سفر نہ صرف علم کی وسعت کا مظہر ہے بلکہ یہ تبدیلی معاشرتی، فکری اور سائنسی ترقی کی علامت بھی بن چکی ہے۔
گویا روایتی اور جدید دونوں نظامِ تعلیم کی اپنی اپنی اہمیت اور افادیت ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو مکمل طور پر بہتر یا ناقص کہنا درست نہیں ہوگا کیونکہ ہر نظام نے اپنے دور کی ضروریات کو پورا کیا ہے۔ روایتی تعلیم اُس وقت کے معاشرتی، مذہبی اور اخلاقی تقاضوں سے ہم آہنگ تھی جب کہ جدید تعلیم آج کے سائنسی و تکنیکی دور کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔
اصل فرق فرد کی دلچسپی اور سیکھنے کے مقصد میں ہے۔ اگر کوئی فرد اپنی تہذیب، ثقافت، مذہب اور روایات کے بارے میں جاننا چاہتا ہے تو روایتی تعلیم اس کے لیے بہتر انتخاب ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی سائنس، ٹیکنالوجی یا ریاضی جیسے جدید مضامین میں مہارت حاصل کرنا چاہے تو جدید تعلیم ہی اس کی ضرورت ہے۔
روایتی تعلیم ہماری شناخت، ثقافتی ورثے اور مذہبی شعور سے جُڑی ہوتی ہے، جو انسان کی جڑوں سے وابستگی کو مضبوط بناتی ہے۔ دوسری طرف جدید تعلیم انسان کو دنیا کے بدلتے ہوئے حالات، ترقی یافتہ علوم اور عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے ہم آہنگ رکھتی ہے۔ لہٰذا دونوں نظام تعلیم اپنی جگہ ضروری اور مکمل ہیں اور ایک متوازن شخصیت کی تشکیل کے لیے ان دونوں سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کسی ایک تعلیمی نظام کو دوسرے پر فوقیت دینا آسان نہیں کیونکہ روایتی اور جدید دونوں تعلیم اپنی اپنی جگہ اہمیت اور افادیت رکھتی ہیں۔ روایتی تعلیم نے صدیوں تک انسانی فکر، اخلاق اور تہذیبی قدروں کو محفوظ رکھا اور نسل در نسل منتقل کرنے کا فریضہ انجام دیاجب کہ جدید تعلیم نے انسان کو سائنسی شعور، تجرباتی فکر اور عملی زندگی کے لیے ضروری مہارتیں عطا کیں۔ بلاشبہ جدید تعلیم اپنی بنیادیں روایتی تعلیم ہی سے حاصل کرتی ہے مگر بدقسمتی سے آج کے دور میں روایتی نظامِ تعلیم کو یکسر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ اس رویے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ ہماری تہذیبی، اخلاقی اور ثقافتی شناخت دھندلانے لگتی ہے، جو ایک قوم کے فکری وجود کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔
ایک متوازن اور صحت مند معاشرے کی تشکیل اسی وقت ممکن ہے جب ہم دونوں نظاموں کے فوائد کو یکجا کریں۔ روایتی تعلیم ہمیں اپنی جڑوں، اقدار، اخلاقیات اور تاریخی شعور سے جوڑتی ہے جب کہ جدید تعلیم ہمیں سائنس، ٹیکنالوجی اور بدلتے ہوئے دور کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگر ہم محض جدید تعلیم پر انحصار کریں تو خطرہ ہے کہ ہماری تہذیبی اساس کھو جائے گی اور اگر صرف روایتی تعلیم کو اختیار کریں تو ہم عملی زندگی اور ترقی کی دوڑمیں پیچھے رہ جائیں گے۔اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کی دانش اور حال کی سائنس کو یکجا کریں۔ یہی امتزاج ہمیں فکری پختگی، سماجی توازن اور باشعور ترقی کی راہوں پر گامزن کرسکتا ہے۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو روایت اور جدت دونوں کا حسین امتزاج ہونہ صرف انفرادی سطح پر انسان کو باشعور اور باصلاحیت بناتا ہے بلکہ اجتماعی سطح پر معاشرے کو ترقی یافتہ، مہذب اور اپنی شناخت کا محافظ بھی ثابت کرتا ہے۔

KM Azmatunisa
Editorial Assistant, NCERT
New Delhi- 110016
Mob.: 9718665026
Email: azmatunisa36@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو کی تدریس اور ٹکنالوجی کا استعمال،مضمون نگار:محمد مشہور احمد

اردودنیا،فروری 2026: اکیسویں صدی زندگی کے تمام شعبوں میں نت نئی اختراعات و ایجادات کے لیے جانی جاتی ہے۔ اس صدی میں حیات انسانی کے تمام پہلو جس برق رفتاری

شمولیاتی تعلیم کی روشن دنیا،مضمون نگار: مظفر اسلام

اردو دنیا،دسمبر 2025 تعلیم انسانی ترقی اور سماجی انصاف کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ یہ نہ صرف فرد کی شخصیت کو نکھارتی ہے بلکہ ایک مہذب، روشن خیال اور

گروکل کا تعلیمی نظام اور جدید تعلیم ،مضمون نگار: آفتاب عالم

اردو دنیا،نومبر 2025 ہندوستان کاقدیم تعلیمی نظام ہزارسالوں کا سفر طے کرنے کے بعد معرض وجود میں آیاہے جو علم کے ایک وسیع اور کثیر شعبہ جاتی نظام پر مشتمل