جموں میں اردو زبان کی صورت حال،مضمون نگار: اقبال احمد

January 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

ہندوستان کی ریاست جموں و کشمیر ماضی میں تین حصوں پر مشتمل تھی: جموں، کشمیر اور لداخ۔ لیکن 31 اکتوبر 2019 کواسے دو یونین ٹیریٹریز(ایک جموں وکشمیر اور دوسری لداخ)میں تقسیم کردیا گیا۔ اس طرح یہ ریاست جو تیں خطوں پر مشتمل تھی دو حصوں میں بٹ گئی۔ جموںرقبے کے لحاظ سے پہلے نمبر پر جب کہ آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے۔جموں اس خطے کا مرکزی شہر ہی نہیں بلکہ سرمائی راجدھانی بھی ہے۔ جموں علمی، ادبی، سیاسی، تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے دور سے لے کر اکتوبر 2019 سے تک جموں و کشمیر ہندوستان کی واحد ریاست تھی جہاں صرف اردو کو سرکاری زبان کا درجہ حاصل تھا، یہ اس وقت ریاست کے تینوں خطوں میں رابطے اور بول چال کی زبان تھی۔جموں وکشمیر آفیشل لینگویجز ایکٹ 2020 کے مطابق اب اردوکے ساتھ کشمیری، ڈوگری، ہندی اور انگریزی بھی جموں وکشمیر کی سرکاری زبانیں ہیں یعنی اب اس یونین ٹیریٹری کی پانچ سرکاری زبانیں ہیں۔
اردو زبان کا داخلہ جموں و کشمیر میں مغلیہ عہد میں ہوا جب کہ سکھوں کے دور حکومت میں اورخاص طور سے ڈوگرہ حکمرانوں کے زمانے میں اس کا فروغ ہوا۔ مہاراجہ گلاب سنگھ کے دور حکومت (1846 سے 1856) میں ہمیں اردو زبان کے استعمال کے آثار نمایاں طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔اس سے قبل اردو کے چلن کے متعلق وافر معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ مہاراجہ گلاب سنگھ کے دربار میں ہندوستان سے آنے والے ملازمین اردو بولتے تھے اور مقامی لوگ اسے آسانی سے سمجھ لیتے تھے۔ مہاراجہ گلاب سنگھ کے عہد میں فارسی دفتری اور درباری زبان تھی لیکن جموں میں ڈوگری کا چلن عام تھا۔ ڈوگری لسانی اعتبار سے پنجابی اور اردو کے زیادہ قریب ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب گلاب سنگھ نے بقیہ ہندوستان سے سیاسی اور ثقافتی تعلقات استوار کیے تو ڈوگری زبان نے جلد ہی اردو کے اثرات قبول کرنا شروع کردیے۔مہاراجہ گلاب سنگھ کے عہد حکومت میں اردو کی اشاعت و مقبولیت میں موسیقی نے نمایاں رول ادا کیا۔ان کے عہد کے آخری ایام کی سرکاری کاروائیوں کی زیادہ تر نقلیں فارسی زبان میں ہیںلیکن چند ایک اردو میں بھی مل جاتی ہیں۔اگر چہ مہاراجہ کے عہد حکومت میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ نہیں ملا لیکن یہ زبان عوام میں کافی حد تک مقبول ہوگئی تھی۔
مہاراجہ گلاب سنگھ کے بعد حکومت کی باگ ڈور مہاراجہ رنبیر سنگھ(1857-1887) سنبھالی۔ وہ علم وادب کا شیدائی تھا اورریاستی عوام کو جدید علوم سے روشناس کرانا چاہتا تھا اسی مقصد سے اس نے ایک دارالترجمہ بھی قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ ریاست کی پہلی ادبی انجمن بدیا بلاس 1867 میں قائم کی جس سے اردو زبان و ادب کو فروغ ملا۔مہاراجہ موصوف کی کوششوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ اردو زبان اس خطے میں اس قدر مستحکم ہوئی کہ تمام سرکاری اور غیر سرکاری ذمہ داریاں نبھانے کے قابل ہوگئی۔ مہاراجہ رنبیر سنگھ کے عہد میں کئی اچھے شاعر اور ادیب بھی ابھر کر سامنے آئے جن میں پنڈت دیوان شیو ناتھ کول،پنڈت نندرام،بلبل کاشمیری،پنڈت واسودیو جی،پندت لچھمن نارائن بھان،سید انور شاہ اور رسول میر وغیرہ کے نام اہم ہیں۔
مہاراجہ رنبیر سنگھ کی وفات کے بعدجب مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے عنان حکومت سنبھالی تو اس وقت تک اردو زبان ریاست میں عام طور پررائج ہو چکی تھی۔ عوام بڑی تعداد میں اردو پڑھنے لکھنے کی جانب راغب ہو گئے اور اردو زبان ان کے خیالات کے اظہار کا ایک خوبصورت،مؤثر اوردلکش وسیلہ بن چکی تھی۔مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اردو کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر ایک تاریخی فیصلہ لیا اور ریاست کے تینوں خطوں جموں، کشمیر اور لداخ کو ایک لسانی دائرے میں لانے کے لیے1889 میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ عطا کیا جس سے اس زبان کو پھلنے اور پھولنے کے زیادہ مواقع میسر ہوئے۔
جموں مختلف مذاہب،تہذیبوں اور زبانوں کا سنگم ہے اور یہ اردو زبان وادب کے لیے بھی ایک زرخیز میدان ثابت ہوا ہے۔یہاں اردو کے شعری، نثری، تحقیقی اور تنقیدی شعبوں میں قابل قدر خدمات انجام دی گئی ہیں۔بیسویں صدی کے آغاز سے ہی جموں میں ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اس وقت کے دو رسائل ’ڈوگرہ گزٹ‘ 1911 اور ’مہاجن نیتی پتر‘ 1912 خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ان میں اکثر مذہبی، سیاسی اور سماجی مضامین چھپتے تھے۔
ملک راج صراف نے یہاں کے ادیبوں کو جمع کرکے جموں میں اردو کی ایک انجمن ’بزم سخن‘ کے نام سے 1912 میں قائم کی جو بعد میں ’بزم ادب‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔اس انجمن نے صوبہ جموں میں اردو زبان وادب کے کے فروغ میں کافی اہم کردار ادا کیا۔ جموںکے جن ادیبوں، شاعروں اور ڈرامہ نگاروں نے اس خطے کے اردو ادب کے دامن کو اپنی تخلیقات کے ذریعے کافی وسعت دی ان میں محمد عمر،نور الٰہی، قیس شیروانی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ انیسویں صدی کی آخری دہائی اور بیسویں صدی کی ابتدا میں چونکہ ریاستی حکومت یہاں کوئی بھی اخبار جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتی تھی اس لیے متعدد کشمیری ملک کے دوسرے حصوں سے اخبارات جاری کرکے ریاست میں بھیجتے تھے اور یہاں کے عوام بیرون ریاست کے قلمکاروں کی اردو تخلیقات سے مستفید ہوتے تھے۔اس سلسلے میں خورشید عالم خان لکھتے ہیں کہ:
’’مہاراجہ رنبیر سنگھ (عہد حکومت 1857-1885) اور پرتاپ سنگھ (عہد1885-1925) کے ادوار میں کئی اہل دانش و بینش نے ایک آزاد منصب اخبار جاری کرنے کی اجازت طلب کی تو انھیں مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا،حکمرانوں کا سخت رویہ دیکھ کر کئی اصحاب فکر بیرون ریاست ہجرت کرگئے اور لاہور، سیالکوٹ، امرتسر اورلکھنؤ سے اپنی صحافتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر کشمیر میں ہو رہے مظالم اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ایک موہوم سی تصویر دنیا کے سامنے لانے میں جٹ گئے۔‘‘
(اردو صحافت کے سنگ میل،پیش لفظ،خورشید عالم خان ص14قاسمی کتب خانہ جموں 2013)
جون1924 میں اُردو کا پہلا مکمل اخبار ’رنبیر‘ منظر عام پر آیا۔ اخبار ’رنبیر‘کے اجرا سے جموں میں اُردو زبان و ادب کی ترویج میں تیزی آئی۔خورشید عالم خان ’رنبیر‘ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’1924میں لالہ ملک راج صراف اپنی تین برس کی جدوجہد کے بعد مہاراجہ کو اس بات پر قائل کرنے میں کامیاب ہوگئے کہ وہ اخبار جاری کرنے کی اجازت دے۔‘‘
(اردو صحافت کے سنگ میل خورشید عالم خان ص 53-63،قاسمی کتب خانہ جموں 2013)
اخبار ’رنبیر‘ میںجن شاعروں اور ادیبوں کی تخلیقات شائع ہوئیں ان میںمبارک علی بیگ، محمد عمر، نور الٰہی، پنڈت کشن سمیل پوری، قیس شیروانی، عرش صہبائی اور غلام حیدر چشتی وغیرہ کے نام کافی اہمیت کے حامل ہیں۔
جموں میں اردو کے فروغ میں ادبی انجمنوں کا اہم رول رہا ہے۔ ادبی انجمنیںادبی ذوق رکھنے والے افراد کے رجحانات کی عکاس ہوتی ہیں اور ان انجمنوں کا مقصدسیمینار، ادبی کانفرنسیں، مشاعرے وغیرہ منعقد کروانا ہوتاہے۔ جموں کے تمام اضلاع میں ادبی انجمنیں قائم ہیں۔ 1935 میں بزم ادب کشتواڑ وجود میں آئی۔ یہ بزمِ ادب اُردو نشاط کشتواڑی، عشرت کا شمیری وغیرہ شاعروں اور ادبیوں کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ اب اس بزم میں جمود سا آگیا ہے۔ بزم ادب بھدرواہ اپریل 1968 میں وجود میں آئی۔ اس کے ذریعے علاقے کے اہلِ سخن کو ملک کے دیگر ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں سے روشناس ہونے کا موقع ملا جن میں وہاں کے مشہور شاعر رسا جاودانی (مرحوم) کا نام سر فہرست ہے۔ بزم کے زیر اہتمام یادگاری مشاعرے، کانفرنسیں منعقد کی گئیں جن میں شام مہجور، یوم اقبال، شام رسا وغیرہ خصوصیت کی حامل ہیں۔ ڈوڈہ کی’فرید یہ بزم ادب‘کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے ذریعے چار کل ہند مشاعرے منعقد کیے گئے، اس کے علاوہ اس بزم نے کتا بیں بھی شائع کیں۔ اُن میں انوار فریدیہ اور ضلع ڈوڈہ کی ادبی ثقافتی تاریخ اہم ہیں۔ بزم ادب با نہال (1972)، کرشن چندر لٹریری کلب پونچھ، کرشن چندر میموریل، بزم ادب سرنکوٹ، انجمن فروغ اردو جموں، بزمِ ادب اُردو جموں، ادبی کنج جموں، انجمن محبانِ اُردو جموں، انجمن ترقی اردو (ہند) شاخ جموں وغیرہ بھی اُردو کی ترقی و ترویج کے لیے سرگرم رہی ہیں۔
البتہ جموں میں اُردو درس و تدریس کی معیاری کتابوں کا ہمیشہ بحران رہا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہاں کے کتب فروش اُردو کی بہت کم کتا بیں فروخت کرتے ہیں۔ اس کی خاص وجہ ایک تو یہ ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں اُردو پڑھنے والے طلبہ کی تعداد کم ہے۔ دوسرے یہ کہ اُردو کتابیں قیمتیں زیادہ ہونے کے باعث اکثر فروخت بھی نہیں ہوتیں۔ اُردوا کا دمیوں سے شائع ہونے والی کتابیں وہ فروخت نہیں کرتے کیونکہ انھیں اس میں مالی فائدہ بہت کم نظر آتا ہے۔
اُردو کی ترقی و ترویج کے لیے شعبہ اُردو جموں یونی ورسٹی، جموں بھی ایک اہم رول ادا کر رہا ہے۔ شعبہ اُردو کے زیر اہتمام سیمینار، کانفرنسیں اور ریفریشر کورس منعقد کیے جاتے رہے ہیں۔ جموں میں اُردو کے فروغ کے لیے غیرمقامی اُردو عالموں اور اہلِ زبان کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ ادیب و شاعر جو ریاست میں ملازمت کی غرض سے آئے اور انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اور قیمتی وقت اُردو کی خدمت میں صرف کیا۔ ان کی خدمات قابل ِستائش ہیں۔ اُن میں جموں یونیورسٹی، جموں سے تعلق رکھنے والے پروفیسر گیان چند جین، پروفیسر جگن ناتھ آزاد، پروفیسر شیام لال کالڑا، پروفیسر منظر اعظمی،پروفیسر خورشید مرا صدیقی اور پروفیسر ریاض احمد کے نام اہمیت کے حامل ہیں۔ یہاں کے مقامی اساتذہ میں پروفیسر ظہور الدین، پروفیسر نصرت چودھری، پروفیسر سکھ چین سنگھ، پروفیسر وجے دیو سنگھ، پروفیسر ضیا الدین،پروفیسر شہاب عنایت ملک،پروفیسر چمن لال بھگت اور پروفیسر عبدالرشید منہاس وغیرہ ہیں۔ اگرچہ ان میںسے اکثر و بیشترملازمت سے سبکدوش ہوچکے ہیں مگر اب بھی تحقیقی و تنقیدی کاموں میں مصروف ہیں۔
ریاستی کلچرل اکادمی، جموں، انجمن فروغ اُردو، انجمن ترقی اُردو اور دیگر اداروں نے بھی تحقیق و تنقید کے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ کلچرل اکادمی کا ’شیرازہ‘ اور ’ہمارا ادب‘، محکمہ انفارمیشن کا ’تعمیر‘، فروغ اُردو جموں، تسکین جموں، کشمیر عظمی جموں، سندیش جموں، دھنک راجوری، چوگان کشتواڑ، شاہین اورسراج بھدرواہ وغیرہ وہ مشہور رسائل و اخبارات ہیں جنھوں نے اُردو کی ترقی میں ایک اہم رول ادا کیا ہے۔
ریڈیو کشمیر، جموں بھی اُردو کی ترقی میں اچھا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہاں کے مقامی ادیبوں اور شاعروں کو ریڈیو پروگراموں میں مدعو کیا جاتا ہے۔ریڈیو اسٹیشن جموں سے ایک زمانے میں ’آبشار‘ کے نام سے ایک ادبی پروگرام ہوا کرتا تھا جواب ’خرمن‘کے نام سے نشر ہورہا ہے اور اب ’آبشار‘ ٹی وی پر دکھایا جارہا ہے۔ اس پروگرام میں ملک کے نامور شعرا کی شخصیت اور کارناموں کو پیش کیا جاتا ہے۔ اس خطے کے طلبہ اور اُردو شعر و ادب کا شوق رکھنے والوں کے لیے یہ 25 منٹ کا پروگرام بہت معلومات افزا اور دل چسپ ہوتا ہے۔ اس پروگرام کی تحقیق، ترتیب و تشکیل و پیش کش ایک عرصہ تک اردو کے نامور محقق و شاعر اور شعبہ اردو کے استاد پروفیسر ایس ایل کا لڑا، عابد پشاوری صاحب انجام دیتے رہے، ان کے انتقال کے بعد یہ خدمت مختلف لوگوں سے لی جاتی رہی اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ ریڈیو اسٹیشن جموں، خطہ جموں کی نمائندگی کرتا ہے۔ کافی دنوں تک یہاں سے اُردو میں خبریں نشر نہیں کی جاتی تھیں لیکن اب اُردو ادب اور ہندی کے ملے جلے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔
اس وقت اردوزبان کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، لیکن مستقبل کے حوالے سے کئی امید افزا امکانات بھی موجود ہیں:
1 حکومت ہند کی نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP 2020)بچوں کو مادری زبانوں میں تعلیم دینے پر زور دیتی ہے۔ اس سے اردو کو ابتدائی سطح پر بطور تدریسی زبان دوبارہ رائج کیا جا سکتا ہے۔
2 اردو اب صرف قلم و کاغذ تک محدود نہیں رہی۔ یوٹیوب، فیس بک، واٹس ایپ، بلاگنگ اور پوڈکاسٹ کے ذریعے اردو اپنی نئی شکل میں ابھر رہی ہے۔
3 جموں کے کئی نوجوان اردو شاعری، کہانی نویسی اور تحقیق میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ اگر ان کی مناسب رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی جائے تو یہ مستقبل میں بڑے ادیب اور دانشور بن سکتے ہیں۔
4 ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے اگر اردو میں ای لرننگ، ای کتابوں، اور آن لائن کلاسز کو رواج دیا جائے تو یہ زبان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکتی ہے۔
5 اردو زبان کو سرکاری دفاتر میں فعال طور پر رائج کیا جائے۔
6 اسکولوں میں اردو اساتذہ کی تقرر ی پر خاص توجہ دی جائے۔
7 اردو ادب کے فروغ کے لیے ادبی اداروں کو مالی و اخلاقی مدد فراہم کی جائے۔
8 نئی نسل کو اردو کی طرف مائل کرنے کے لیے دلچسپ، جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس نصاب تیار کیا جائے۔
9 ریاستی سطح کے تمام مقابلہ جاتی امتحانوں میں دوسری زبانوں کی طرح اُردو بھی شامل کی جائے۔
10 جموں میں اُردو اکادمی کا قیام عمل میں لایا جائے تا کہ اس خطے میں بھی اردو سے شغف رکھنے والوں اور اردو زبان کو ترقی و ترویج کے مواقع میسر ہوں۔
11 اُردو کتب کی فروخت رعایتی نرخوں پر کی جائے اور ان کی طباعت معیاری ہو۔ اشاعت کے سلسلے میں مصنفین کو مالی معاونت فراہم کی جائے تاکہ اردو ادب کی ترویج ممکن ہوسکے۔

Dr. Iqbal Ahmed
Lecturer Dept of Urdu
Govt. Degree College, Darhal
Rajori- 185135 (J & K)
Mob.: 8409242211
ahmadnesar2211@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

نظم جدید میں عورت کا تصورمضمون نگار: سائرہ خاتون

اردودنیا،فروری 2026: عجیب حقیقت ہے کہ ایک طرف عورت کو مرد کی بہ نسبت کمزور، کم عقل، بزدل و جلدباز، حقیر و ذلیل تصور کیاجاتا ہے، وہیں دوسری طرف تصویرکائنات

جمیل مظہری کی شاعرانہ خصوصیات، مضمون نگار: اسلم رحمانی

اردو دنیا، مارچ 2025 جمیل مظہری (2ستمبر1904، 23جولائی 1979) کا نام اردوشاعری میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ وہ باکمال شاعر تھے۔ان کی شاعری معنی آفرینی،جدت طرازی اورمتنوع مضامین کا احاطہ کرتی

ہندوستانی تہذیب وثقافت اورمراثی ٔ انیس کے خواتین کردار،مضمون نگار: شبیب نجمی

اردودنیا،جنوری 2026: میرانیس کا شماراردوزبان وادب کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے صنف مرثیہ کو وہ بلندی عطا کی کہ انیس اورمرثیہ