خواتین میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ،مضمون نگار: صائمہ ثمرین

January 19, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

کسی بھی قوم یا معاشرے کی ترقی اوراستحکام کا انحصار اس کی تعلیمی ترقی سے ہے۔قوم اورمعاشرے کی تہذیب و ثقافت کو مستحکم کرنے میں تعلیم بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ بہتر اور معیاری زندگی کے لیے انسان کا علم حاصل کرنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ زندہ رہنے کے لیے ہوا اور پانی۔تعلیم کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن خواتین کی تعلیم کے حوالے سے ابھی بھی بیداری کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
اگر معاشرے کو مہذب،ترقی یافتہ اور ترقی پسند بنانا ہے تو خواتین کی تعلیم کو فروغ دینا از حد ضروری ہے۔ تاریخ کے صفحات پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کی اعلی تعلیم کے فروغ کی حمایت میں پانچویں صدی قبل مسیح افلاطون اپنی کتاب ’ری پبلک‘ میں کہتا ہے کہ:
’’انتظام سلطنت میں نہ تو کسی عورت کو محض اس بنیاد پر کہ وہ عورت ہے کسی علم یا کاروبار سے محروم رکھنا جائز ہے اور نہ کسی مرد کو محض اس لیے کہ وہ مرد ہے کوئی علم سیکھنے یا کاروبار کرنے کا کوئی حق ہے۔خدا کی نعمتوں میں دونوں کو برابر کا حصہ ملا ہے،ان دونوں کے حقوق مساوی ہیں۔‘‘ (مسلم خواتین کی تعلیم از امین زبیری، ص 8)
پانچویں صدی قبل مسیح افلاطون خواتین کی تعلیمی اہمیت و افادیت کو تسلیم کرتا ہے اور مردوں کے مساوی تعلیم کی حمایت کرتا ہے۔ ویدک دور ہو یا بدھیسٹ دور خواتین تعلیمی میدان میں پیچھے نہیں رہیں ۔ ویدک دور میں خواتین کو گرو کل میں جانے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے ان کی تعلیم و تربیت کا انتظام گھر پر کیا جاتا تھا۔ میتری اور کوشکی اسی تعلیمی نظام کا حصہ تھیں جو اعلی تعلیم یافتہ خواتین میں شمار کی جاتی ہیں ۔
دہلی سلطنت کی پہلی حکمراں خاتون سلطانہ رضیہ بھی تعلیم یافتہ شہزادی تھیں، اور انھوں نے تعلیم و تعلم کے لیے مدرسے بھی قائم کیے۔ اسی طرح عہد مغلیہ میں بھی کئی مثالیں ایسی شہزادیوں کی ملتی ہیں جو اعلی تعلیم سے مزین تھیں جیسے بابر کی صاحبزادی گلبدن کی تصنیف ’ہمایوں نامہ‘ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔
ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط کے بعد بھی خواتین کی اعلی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا۔ انگریزوں نے کئی کالج اور یونیورسیٹیاں قائم کیں اور مخلوط تعلیم کا رواج عام ہوا۔ وہیں 1720میں ایک نسواں اسکول کے قیام کا سراغ ملتا ہے۔جو صرف لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ہی وقف تھا اس صدی کی آخری دہائی تک انگریزوں نے تعلیم کا باقاعدہ نظام قائم کر لیا تھا۔ فورٹ ولیم کالج اور دہلی کالج اس کی عمدہ مثالیں ہیں۔ بیسویں صدی سے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے اس وقت عورت مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کے لیے کوشاں تھیں اور برابر کے حقوق کا مطالبہ کر رہی تھیں۔
اس دو ر میں مسلم خواتین کی اعلی تعلیم کی ضرورت محسوس ہونے لگی تھی۔ بیسویں صدی کی دو دہائیوں کے بعد ڈگری کالجوں میں لڑکیوں کے نام نظر آنے لگے تھے۔ اس ضمن میں امین زبیری اپنی کتاب ’مسلم خواتین کی تعلیم‘ میں رقمطراز ہیں:
’’1923 میں نورالنسا ٰ نامی خاتون نے بی۔اے اور انگریزی مضمون نگاری میں انعام حاصل کیا۔ 1924 میں نورجہاں ور نس یوسف جہاں نے ایم اے کی ڈگری لی اور اول الذکر نے اسلامیہ گرلس اسکول میں معلمہ کی خدمت اختیار کی۔ پنجاب میں خدیجہ بیگم نے پردے کی پابندی کے ساتھ ایم اے اور مس محبوب عالم، مس فیروز الدین نے بی اے کیا۔ کلکتہ میں فرخ سلطان نے فارسی میں ایم اے اور خاور سلطان نے بی اے کیا اور تاریخ کے مضمون میں اول رہیں۔ فرخ سلطان نے عربی، فارسی، فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں مہارت حاصل کی ان کی بڑی بہن بیگم سلطان پہلی مسلمان خاتون ہیں جنھوں نے قانون کی سند حاصل کی۔‘‘
متذکرہ اقتباس سے معلوم ہوتاہے کہ مسلم خواتین کو تعلیم میں کس قدر ذوق و شوق تھا۔ مسلم طالبات میں بیرون ملک جانے والی پہلی لڑکی عطیہ بیگم فیضی تھیں جنھوں نے تعلیم کی غرض سے یو روپ کا سفر کیا۔ عطیہ بیگم فیضی کی ذہانت کا لوہا علامہ اقبال اور شبلی نعمانی جیسے دانشور بھی مانتے تھے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے بعد خواتین کی اعلی تعلیم کا سلسلہ بتدریج آج تک جاری و ساری ہے۔
سماجی ترقی
خواتین کی اعلی تعلیم سے ایک بہتر سماج کی تشکیل ہوتی ہے۔ کیونکہ ہندوستان میں بچوں کی تربیت کا بار صرف ماں پر ہوتا ہے اور وہ ماں بہرکیف ایک عورت ہی ہوتی ہے۔ماں کی گود بچے کا پہلا مدرسہ اور ماں بچے کی پہلی مدرس ہوتی ہے۔اگر یہی ماں تعلیم یافتہ اور باشعور ہوتی ہے تو بچے کو ایک باشعور انسان اور ذمہ دار شہری بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔اس طرح قوم و سماج کی ترقی ایک خاتون کی تعلیم پہ منحصر ہوتی ہے۔ اہل مغرب نے دو صدیاں قبل خواتین کی تعلیم کا نعرہ بلند کیا تھا۔جس وقت خواتین بدترین حالت میں زندگی بسر کر رہی تھیں تب نیپولین بونا پارٹ نے کہا تھا کہ :
’’تم مجھے پڑھی لکھی مائیں دو، میں تمھیں ترقی یافتہ قوم دوں گا۔‘‘
اقتصادی استحکام
کسی بھی ملک یا ریاست کی معاشی ترقی میں خواتین کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ملک کی معیشت کو بھی بہتر بنانے کی وہ اہلیت رکھتی ہیں اور معاشی مواقع حاصل کر کے اپنے خاندان کے مردوں کا بوجھ ہلکا کر نے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔
خواتین کی حصے داری ہرمیدان میں نظر آتی ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ یونین پبلک سروس کمیشن میں کئی سال سے لڑکیاں او ل پوزیشن لا رہی ہیں اور تمام عہدوں پر مردوں سے بڑھ کر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ خواتین بیرون ملک میں نوکری کرکے اپنے ملک کی معیشت کو مضبوط کر رہی ہیں۔
شعبہ صحت میں بہتری
تعلیم یافتہ خواتین صحت و صفائی کا خیال رکھتی ہیں۔ وہ ذمہ داری سے غذائیت اور صحت سے جڑی تمام باتوں کا خیال رکھتی ہیں۔وہ موذی بیماریوں سے بچائواوردیگر بیماریوں کی جانکاری رکھتی ہیں۔اس طرح ایک صحت مند قوم وجود میں آتی ہے۔اور صحت مند معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ صحت مند جسم میں ہی صحت مند دماغ ہوتا ہے۔ ایک عورت ہی مضبوط و مستحکم نسل کی تشکیل کر سکتی ہے۔ آج کل کے حالات کو دیکھتے ہوئے زنانہ ڈاکٹر کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اگر آپ کواپنی بیٹی و بہو کے لیے زنانہ ڈاکٹر درکار ہے تو پہلے ان کو ڈاکٹر بنانا ہوگا۔ یہ تمام باتیں اسی وقت ممکن ہوسکتی ہیں جب خواتین اعلی تعلیم کے حصول میں کامیاب ہوںگی۔
خواتین کے لیے کالجز کا قیام
برصغیر ہندو پاک میں خواتین کی تعلیم بہت مشکلات سے گزر رہی تھی۔ایک طرف خواتین اپنے حقوق کے لیے لڑ رہی تھیں تو دوسری طرف نام نہاد مصلحین قوم اپنی تقریر و تحریر سے خواتین کی تعلیم پہ فتوی دے رہے تھے، لیکن چند ترقی پسند اور روشن خیال افرادخواتین کی اعلی تعلیم کی سفارش بھی کر رہے تھے، جن کا ماننا تھا کہ خواتین کی تعلیم سے ہی قوم و ملک کی ترقی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔خواتین کی تعلیم میں تمام معاشرہ کا مفاد مضمر ہے۔
خواتین کی تعلیم کے لیے انگریزی مشنریوں نے سب سے پہلے غورو خوض کیا۔ انھیں لڑکیوں کی خواندگی کی شرح دیکھ کر اندازہ ہوا کہ تعلیم نسواں پر زور دینا بہت ضروری ہے۔اس لیے ان مشنریوں نے خواتین کے لیے ادارے قائم کرنا شروع کیے۔ان اداروں میں ایک عیسائی ادارہ ازابیلا تھوبرن کالج کی بنیا د رکھی گئی۔
ازابیلا تھوبرن کالج
ازابیلا تھوبرن کالج جنوبی ایشیا میں خواتین کا پہلا عیسائی کالج تھا۔اس کالج کو قائم کرنے والی محترمہ ازابیلا تھوبرن 1869 میں ہندوستان کا سفر کرنے والی پہلی مشنری خاتون تھیں۔اور انھوں نے ہندوستان میں خواتین کی خواندگی میں ترقی کرکے اپنی جڑیں اور مضبوط کرنے کا منصوبہ بنایا۔اس کالج کو قائم کرنے کا مقصد ہندوستانی عورتوں کو تعلیم یافتہ بنا کر ان سے کام لینا تھا۔اس کالج کو خصوصاً لڑکیوں کے لیے محض ایک کمرے میں محترمہ ازابیلا تھوبرن نے 18 اپریل 1870میں شروع کیا تھا، شروعات چھ لڑکیوں سے ہوئی، چند دنوں میں ہی لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو کالج کی اراضی میں توسیع کی غرض سے لال باغ میں اودھ کے خزانچی کے گھر منتقل کیا۔ 1886 میں اسی اسکول کا نام ویمنز کالج رکھ دیا گیا اور کلکتہ یونیورسٹی کی نگرانی میں فنون لطیفہ کی جماعتیں شروع ہو گئیں۔اس کے بعد 1894 میں یہ کالج الہ آباد یونیورسٹی سے ملحق ہو گیا اور 9101 میں مس تھوبرن کے انتقال بعد اس کالج کا نام پھر سے ازابیلا تھوبرن کالج رکھ دیا گیا۔ 1923میں محترمہ فلورنس نکولس کی پرنسپل شپ میں کالج ایک الگ ادارہ بن گیا اور تقریباً 32 ایکڑ رقبہ میں چاند باغ میں منتقل ہو گیا جہاں یہ آج تک برقرار ہے۔یہ پراپرٹی کبھی شاہی باغ تھی لیکن اس میں اب انگریزں کا کالج قائم ہو چکا ہے:
ازابیلا تھوبرن کالج اب لکھنؤ یونیورسٹی سے ملحق ہے۔ 1920 میں اس کالج کی توسیع ہوئی اور چاند باغ میں جو تعمیرات تھیں ان میں لڑکیوں کے ہاسٹل، لیکچر روم، لائبریری، لیبوریٹری اور ایک بڑا ہال بنایا گیا۔ کالج میں پانچ انڈر گریجویٹ کورسز پڑھائے جاتے ہیں۔ جس میں بی اے، بی کام، بی ایڈ،بی ایس سی،بی ایل آئی ایس سی کی ڈگری شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس کالج میں پوسٹ گریجویٹ کورسز کے نو مضامین میں ڈگری فراہم کی جاتی ہیں ۔چونکہ یہ کالج عیسائی مشنری کا تھا اس لیے اس میں عیسائی لڑکیوں کی بہتات تھی علاوہ ازیں اس میں مسلمان لڑکیاں بھی داخلہ لینے میں پیچھے نہیں تھیں۔مسلم خواتین کے تعلیم میں پسماندہ ہونے کی وجہ ان کا پردہ تھا۔ اور مخلوط تعلیم کی وجہ سے والدین بھی اسکول بھیجنے سے گریز کرتے تھے۔ ازابیلا تھوبرن کالج کے قیام سے مسلم خواتین میں بھی کالج جانے کا جذبہ بیدار ہوا اورشروع میں مسلمانوں کی دو لڑکیوں نے کالج میں داخلہ لیا۔ جس کے متعلق امین زبیری رقمطراز ہیں :
’’1907 میں پہلی مرتبہ کشمیر کی دو مسلمان نوجوان طالبات اس کالج میں داخل ہوئیں جو پردہ کرتی تھیں۔ اس کے بعد ہر سال مسلم طالبات کی تعداد بڑھتی رہی۔ چنانچہ 1927میں57طالبات نے داخلہ لیا صوبجات متحدہ،پنجاب،صوبہ سرحد،سندھ اور بعض ریاستوں سے آئی تھیں۔ پھر تو یہ ایک کل ہند ادارہ بن گیا۔ بمبئی، حیدرآباد دکن،بھوپال، بنگال،بہار،صوبۂ متوسط و برار، راجپوتانہ غرض کہ ہر جگہ کی طالبات آنے لگیں۔
پہلی مسلمان لیڈی ڈاکٹر،شاید تمام مسلم دنیا میں پہلی،اسی کالج کی گریجویٹ تھی جس کا نام گلزار محمد علی تھا۔‘‘ (ص153)
ازابیلا تھوبرن کی تعلیم یافتہ گریجویٹ مسلمان عورتوں نے اعلی قسم کی ملازمتیں بھی کیں۔ان میں سے ایک بہت مشہور و معروف نام قرۃالعین حیدر کا ہے۔ یہ کالج تقریباََڈیڑھ صدی سے اپنی خدمات اسی جذبہ اور جوش وخروش کے ساتھ انجام دے رہا ہے ۔
عبداللہ گرلس کالج، ویمن کالج علی گڑھ
ویمن کالج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا ایک اہم حصہ ہے۔ جو ہندوستان کی بے شمار طالبات کو حصول تعلیم کی طرف راغب کرتا ہے۔کالج کا مقصد خواتین کی اعلی تعلیم کا فروغ ہے۔یہ کالج تمام طالبات کو حوصلہ افزائی کے ساتھ چیلنجنگ پروگرام میں شرکت کی دعوت دیتا ہے۔ اس کالج کا قیام 19ویں صدی کی پہلی دہائی میں ہوا۔جس کے بنیادگزاروں میں شیخ عبداللہ اور ان کی بیگم شامل ہیں۔کالج کو بنانے میں جس محنت و مشقت اور زندہ دلی کا ثبوت دیا تھا وہ قابل ستائش ہے۔ویمن کالج سب سے پہلے انسان دوستی اور شعوری بیداری کو اجا گر کرتا ہے۔
عبداللہ کالج کو قائم کرنے میں بڑی مشقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔لیکن شیخ محمد عبدللہ اور بیگم وحید جہاں نے اپنی تمام تر کوشش صرف کر دی اور ہر آنے والے چیلنجز کا مقابلہ نہایت سلیقگی،صبر و تحمل اور بہادری سے کرتے رہے۔ شیخ عبداللہ نے جیسے ہی نسواں مدرسے کی تجویز لوگوں کے سامنے رکھی کہ ان کی مخالفت شروع ہو گئی۔کئی اجلاس میں شیخ عبداللہ نے تعلیم نسواں کی ترقی کے لیے لوگوں سے مشورہ کیا تو ان کے احباب نے کہا کہ خواتین کے مدرسے کا ذکر نہ کرکے استانیاں تیار کرنے کے لیے ایک معمولی مدرسے کا قیام عمل میں لانے کی تجویز رکھی جائے۔ جس سے مخالفین کا واویلا کم ہو۔ اس طرح نارمل استانیوں کے اسکول کا ایک ریزولیشن پاس ہو گیا اور یہ مدرسہ علی گڑھ میں ایک کرائے کے گھر میں چند لڑکیوں اور ایک دہلی کی استانی(جو معمولی اردو اور قرآن پڑھانا جانتی تھیں)سے شروع ہوا۔باقاعدہ طور پر مدرسہ کا آغاز 1907 میں ہوا جب لڑکیاں ڈولی اور کہاروں کے ساتھ آنے لگیں۔بیگم عبداللہ اور ان کی بہنیں لڑکیوں کو پڑھانے لگیں۔ جب لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا تو بیگم عبداللہ نے لڑکیوں کے رہنے اور کھانے کا بھی نظم کر دیا۔اور اس طرح 1921میں یہ مدرسہ ترقی کرکے ہائی اسکول تک ہوا، 1922 میں انٹرمیڈیٹ کالج اور 1937 میں اسے علی گڑھ مسلم یونرسٹی میں گریجویٹ کالج کے طور پر ضم کر دیا گیا۔
ویمن کالج خواتین کی اعلی تعلیم کے ادارے کے طور پر جانا جاتا ہے جس میں سائنس، سوشل سائنس، ہیومانٹیز،اور کامرس کورسز کرائے جاتے ہیں۔اس کالج کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کو نئے زمانے کے تقاضوں سے مقابلہ کرنا سکھانا ہے۔اس وقت اس کالج میں ملک عزیز کے علاوہ بیرون ممالک کی طالبات بھی زیر تعلیم ہیں۔
ویمن کالج شیخ عبداللہ کے خوابوں کو شرمندۂ تعبیر کرنے میں کوشاں ہے۔اور عصری تقاضوں جیسے جدید ٹکنالوجی نئے تعلیمی نصاب و پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔یہ کالج لڑکیوں کو پیشہ ورانہ تربیت بھی فراہم کر رہا ہے اس کے علاوہ مستقبل میں کیریئر کے بارے میں مشاورت کر کے انھیں معاشی آزادی کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔کالج کا زور اس بات پر ہے کہ وہ بانیان کالج کے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرتے ہوئے ملک کے تمام طبقوں کی خواتین کو تعلیم یافتہ کرکے انھیں بااختیار بنا نا ہے۔
کرامت حسین ڈگری کالج لکھنؤ
کرامت حسین گرلس پی جی کالج مسلم لڑکیوں کا رہائشی ادارہ ہے۔ اس ادارہ کا قیام بھی خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے عمل میں آیا۔جس کا مقصد بلا تفریق ہر قوم و ملت کی لڑکیوں کو تعلیم یافتہ بنانا ہے۔اس ادارے کے بانی سید کرامت حسین جب انگلینڈ سے قانون کی پڑھائی کرکے واپس آئے تو انھوں نے دیکھا کہ ہندوستان کی مسلم لڑکیوں کے لیے کوئی تعلیمی نظم نہیں ہے جب کہ ہندوستانی لڑکے بیرون ملک جا کر ڈگریاں حاصل کر رہے ہیں۔ہندوستان میں لڑکیوں کی تعلیم کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے،اس لیے مسلم کمیونٹی میں سماجی بحران کی اتھل پتھل زیادہ ہی تھی۔، اور ان میں دنیا کا کوئی شعور نہیں ہے،کیونکہ وہ پڑھائی لکھائی سے بالکل نابلد ہیں۔یہ منظر دیکھ کر کرامت حسین نے لڑکیوں کی تعلیم کا ایک منصوبہ بنایا اور 1890 میںہونے والی تعلیمی کانفرنس الہ آباد میں لڑکیوں کی تعلیم کی ایک قرار داد پیش کی،بدقسمتی سے ان کی اس تجویز کو مسترد کر دیا گیا۔ہر طرف سے مولوی کرامت حسین کو مایوسی ملی تو انھوں نے عزم مصمم کر لیا کہ انھیں لڑکیوں کے لیے ایک ادارہ قائم ہی کرنا ہے۔
1912 میں کرامت حسین لکھنؤ واپس ہوئے اور قیصر باغ کی کبوتر والی کوٹھی میں مسلم لڑکیوں کے اسکول کی بنیاد ڈالی۔اس اسکول کی بنیاد بھی محض چھ لڑکیوں پر مشتمل تھی۔وہ چھ لڑکیاں معروف اور صاحب حیثیت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جس سے انھیں اعتراضات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔کرامت حسین کی کوشش پسماندہ طبقے کی لڑکیوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے اور انھیں جہالت کے اندھیرے سے نکالنے کی تھی۔پسماندہ طبقہ کو باضابطہ تعلیمی نظام کو اپنانے کے لیے اکسایا جائے۔ ابتدائی دور میں مسلم کمیونٹی تعلیم کے خیال سے ہی بے زار ہوئی اور لڑکیوں کو گھروں سے بے نقاب کرنے اور بار بار نقل و حرکت سے بزرگ پریشان اور اور خوف و ہرا س سے دوچار تھے۔اور وہ اپنی لڑکیوں کا گھر سے باہر نکلنا ممنوع سمجھتے تھے۔پردہ کے نظام کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکول کے قیام کے اگلے دن ہی لڑکیوں کے لئے ہاسٹل کی سہولت کا بھی انتظام کر دیا گیا۔1925 میں یہ اسکول گومتی ندی کے کنارے نشاط گنج میں منتقل کر دیا گیا جہاں آج بھی یہ اپنی شان و بان سے کھڑا ہے۔اس ادارے کا نام اس کے بانی کرامت حسین کے نام پر رکھا گیا۔اس اسکول کی پہلی پرنسپل انگریز خاتون آمنہ پوپ تھیں جو 1910 میں ہندوستان آئی تھیں۔
وقت کے ساتھ یہ اسکول ترقی کے منازل طے کرتا رہا اور 1924 میں یہ ہائی اسکول تک پہنچا، 1936 میں انٹرمیڈیٹ کی حیثیت اختیار کر لی۔اور بالآخر 1946 میں مینیجر سید شعیب احمد کی محنت و کاوش کے نتیجے میںیہ کالج ڈگری کالج میں تبدیل ہو گیا۔اس وقت کرامت حسین مسلم گرلس پی جی کالج میں بی ایڈ،بی کام، بی ایس سی،وغیرہ کی ڈگری فراہم کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ کالج میں بہت سے شعبے قائم کیے گئے ہیں۔ یہاں پوسٹ گریجویٹ تک تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔تعلیم کے ساتھ ساتھ یہاں لڑکیوں کے کھیل اور دوسری مہارتوں کا بھی عمدہ نظم و نسق ہے، این ایس ایس، ہاکی، بھالا پھینک، بیڈ منٹن باسکیٹ بال وغیرہ کی باقاعدہ ٹیمیں ہیں۔ کرامت حسین کالج کی گرلس ہاکی ٹیم اتر پردیش کی بہترین ٹیم شمار کی جاتی ہے، جس کو قومی سطح پر جیتنے کا امتیاز حاصل ہے۔
کرامت حسین گرلس ڈگری کالج تعلیمی مہارتوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو جدید تکنالوجی سے جوڑنے کے لیے پر عزم ہے۔کالج کرامت حسین کے خوابوں کی تکمیل کے لیے ہر لمحہ کوشاں ہے۔
یہ چند ادارے ہیں جو تاریخی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔ ان اداروں کو قائم کرنے میں خواتین کی تعلیم اور بہبودی کے لیے کام کرنے والے بہی خواہان قوم وملت نے بہت قربانیاں پیش کی ہیں،اور ان کالجوں کو معیاری تعلیمی ادارہ بنانے میں انتھک محنت کی ہے۔ ان کی جدو جہد اس لائق ہے کہ انھیں خراج تحسین پیش کیا جائے اور ان سے نئے کاموں کے لیے تحریک حاصل کی جائے۔

Dr. Sayma Samreen
F-33.Sescond Floor, Shaheen Bagh
Abul Fazal Enclave Part- 2
Jamia Nagar, Okhla
New Delhi- 110025
saymasamreenjnu@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو صحافت ایک جائزہ: محمد سجاد ندوی

  صحافت پر اگر گہری نظر ڈالیں تو معلوم ہوگا کہ اس کی تاریخ انسان کی اکثر ایجادو ںکی طرح بہت قدیم ہے۔ محمدعتیق صدیقی اپنی کتاب ہندوستان میں اخبار

اختر الایمان کی شاعری میں وقت کا حوالہ مضمون نگار: مظفر حسین سید

اخترالایمان کی شاعری میں وقت کا حوالہ مظفر حسین سید اس جہان کم نظراں میں اخترالایمان جیسے اہل نظر عنقا نہیں تو ان کا فقدان ضرور ہے۔وہ ہمارے عہد کے

ہماری لوک کتھائیں، مضمون نگار: ذکیہ مشہدی

 اردو دنیا، ستمبر 2024 لوک کتھائیں ہمارے درمیان اس وقت سے موجود ہیں جب انسان نے نہ حرف ایجاد کیے تھے نہ ہندسے اس لیے کہ ان کہانیوں کے لیے