ہندوستان بولنے، لکیریں کھینچنے اور صورت بنانے کے ابتدائی ادوار سے گزرا۔ ان میں سے ہر دور سیکڑوں بلکہ ہزاروں سال طویل تھا۔ ان مراحل میں لگاتار فطری اقدامات کے نتیجے میں نقش کشی نے تحریر کو جنم دیا۔ ابتدائی ادوار میں تحریر خاص طبقہ کے استعمال کی چیز رہی، جو ابتدائی تحریریں سامنے آتی ہیں وہ خطوط، حسابات، کھانے پکانے کے نسخے اور سفرنامے وغیرہ ہیں، اس طرح بتدریج کتابت اور مطالعہ کے فن کو فروغ حاصل ہوا۔
فن کتابت کے بتدریج ارتقا کے ساتھ ساتھ کتابت کے لیے مختلف سامان دریافت کیے گئے جیسے پتیاں، درختوں کی چھال، پتھر، دھات، لکڑی وغیرہ اور اس سامان کے استعمال میں فراہمی اور ضرورت کے لحاظ سے وقتاً فوقتاً کمی بیشی ہوتی رہی۔
قدیم ہندوستان میں کاغذ سازی کوئی معدوم شے نہ تھی، البتہ کاغذ ایک نایاب شے ضرور تھا۔ عہد وسطیٰ میں مغلوں نے کاغذ بنانے اور اس کو بڑے پیمانہ پر استعمال کرنا شروع کیا۔ اس طرح ایک نئے دور کا آغاز ہوا اس دور میں ہندوستان میں مندرجہ ذیل سامان تحریر استعمال کیا جاتا تھا۔
.1 الف: کھجور کی پتیاں ب: کیلے کی پتیاں
ج: کنول کی پتیاں د: کیتکی کے پتے
ہ: بات کے پتے و: مارٹنڈ کے پتے
.2 چھالیں:
الف: بھوج پتریا چھال ب: ساچی یا اگر کی چھال
ج: شہتوت کی چھال د: نیم کی چھال
.3 لکڑی کے تختے
.4 پکائی ہوئی مٹی کے تختے
.5 سلیٹ
.6 بانس کے پرت
.7 سوتی اور ریشمی کپڑا
.8 چمڑا
.9 پتھر
.10 اینٹ
.11 مٹی کی مہریں یا چھاپے
.12 دھاتیں
الف: سونا ب: چاندی
ج: تانبا د: بھرت، پھول دھات
ہ: پیتل و: ٹین
.13 کچھوے کی کھوپڑی
.14 مٹی یا ریت
.15 چاک یا کھریا
.16 روشنائی: معمولی، رنگین، اور نظر نہ آنے والی
.17 دھات کے قلم، بانس کے قلم، ٹہنی کے قلم، نلکے کے قلم
.18 دوات
.19 پرکار، مسطر وغیرہ۔
تال پترٹاڈ پتر، یا کھجور کی پتی
قدیم ہندوستان میں تال پتر، ٹاڈپتر، یا پنا (پرنا) جو کھجور کی پتیوں کے مختلف نام ہیںجو عوام کے استعمال میں تھیں۔ پنکھیا، کھجور یا چوڑے پتوں والی کھجور جنوبی ہند اور ساحلی علاقوں میں کثرت سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ پتیاں عام طور سے کم قیمت پر مل جاتی ہیں اور پائیدار ہوتی ہیں۔
یہ پتیاں عموماً کافی بڑی ہوتی ہیں۔ ان کی لمبائی ایک فٹ سے تین فٹ تک اور چوڑائی 11/2 انچ سے 11/4 تک ہوتی ہے۔ پتیوں کو ڈنٹھلوں سے جدا کرکے ضرورت کے مطابق لمبا بنایا جاسکتا ہے۔ پہلے ٹہنیاں دھوپ میں سکھائی جاتی ہیں پھر انھیں پانی میںا بال کر دوبارہ سکھا لیا جاتا ہے۔ جب وہ بالکل خشک ہوجائیں تو ان پر ناقوس یا پتھر کی رگڑ سے جلا کی جاتی ہے اس کے بعد انھیں ٹھیک سائز میں کاٹ لیا جاتا ہے۔
دو قسم کی کھجور کی پتیاں لکھنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں ان میں سے ایک کا نام ’سری تال‘ اور دوسری قسم کا نام ’تال‘ ہے۔ ’سری تال‘ صرف جنوبی ہند خصوصاً ملابار میں پائی جاتی ہے۔ اس کی ٹہنیاں پتلی اور خستہ ہوتی ہیںا ور بطور کاغذ استعمال ہوتی ہیں۔ وہ کاغذ کی طرح روشنائی جذب کرلیتی ہیں۔ ہندوستان میں ہر جگہ پیدا ہوتی ہے اور اس کی پتیاں کھردری اور موٹی ہوتی ہیں۔
’سری تال‘ کی پتیوں کو پکانے کا طریقہ ذرا مختلف ہے۔ ان پتیوں کو تین مہینے مٹی میں دبایا جاتا ہے او رپھر یہ خشک کی جاتی ہیں جو پتیاں سرخی مائل ہوجاتی ہیں انھیں باورچی خانے میں دھواں دیتے ہیں اور جب لکھنا ہو تو انھیں وہاں سے نکال لاتے ہیں۔ 1؎
کھجور کی پتیوں پر لکھنے کے دو طریقے ہیں۔ جنوبی ہند اور اڑیسہ میں نوکیلے قلم سے الفاظ نقش کردیے جاتے ہیں، بعد میں کندہ کیے ہوئے الفاظ میں رنگ بھرنے کے لیے پتیوں پر سیاہی کا لکھ یا کوئلہ چھڑک دیا جاتا ہے، شمالی ہند کے لوگ ان پر روشنائی سے لکھتے ہیں۔
کھجور کی پتیوں والے مخطوطے جنوبی ہند کی گرم مرطوب آب و ہوا میں زیادہ عرصہ تک نہیں رہ سکتے لیکن شمالی ہند کی سرد آب وہوا میں وہ کافی دیر پا ثابت ہوئے ہیں جیسے نیپال اور کشمیر میں۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم کھجور کی پتیوں والے تمام مخطوطے شمالی ہند میں پائے گئے ہیں۔
کھجور کی پتیوں پر تحریر کے قدیم حوالے جٹاکا سے ملتے ہیں۔ مہاتما بدھ کی وفات کے بعد ترتیکا پہلے کھجور کی پتیوں پر لکھا گیا۔ 2؎ ارتھ شاستر میں کوٹلیہ نے لکھا ہے کہ جنگل سے حاصل ہونے والے سامانِ تحریر میں بھوج اور کھجور کی پتیاں ہیں۔ 3؎
ہوانگ سانگ نے 629ء سے 645ء تک ہندوستان کا سفر کیا۔ اپنے استاد ہیوی لی کی سوانح حیات میں وہ حوالہ دیتا ہے کہ ہندوستان میں کھجور کی پتیوں کو تحریر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا، اس کے الفاظ یہ ہیں:
’’ہم کونگکن پورا میں آئے… شہر کے شمال میں تال کے درختوں کا ایاک جنگل ہے جو 30 لی (li) پر ہے۔ اس درخت کی پتیاں لمبی اور چمکدار ہیں۔ یہاں کے باشندے انھیں لکھنے کے کام میں لاتے ہیں اور ان پتیوں کی بڑی قدر کی جاتی ہے۔‘‘ 4؎
عہد مغلیہ میں بھوج پتر کے ساتھ ساتھ ’’ان پتیوں کو خشک کرکے کاغذ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا‘‘ ابوالفضل5؎، پائی راڈر6؎ اور تھیوناٹ7؎ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
اٹھارہویں اور انیسویں صدی میں دیہات کے اسکولوں میں بچوں کو لکھنے کی تربیت کے تین مرحلے تھے۔ پہلے زمین پر پھر کھجور کی پتیوں پر پھر کیلے پر اور کاغذپر۔ کھجور کی پتیوں پر وہ روشنائی سے لکھا کرتے تھے پھر اسے بھیگے کپڑے کے ٹکڑے سے صاف کرلیتے تھے۔ یہ مشق آج بھی دور دراز اسکولوں میں اور جنوبی ہند کے مندروں میں رائج ہے۔
کھجور کی پتیوں والے قدیم مخطوطات میں مندرجہ ذیل مخطوطے قابل ذکر ہیں:
.1 دوسری صدی عیسوی کے تحریر شدہ ڈرامہ مصنفہ اشوگھوش کا کچھ حصہ جسے شاہی پروشین مہم نے ترفان میں وسط ایشیا میں دریافت کیا۔ 8؎
.2 مخطوطے کا ایک حصہ جسے مسٹر میکارٹنا نے کاشفر سے تقریباً چوتھی صدی عیسوی میں بھیجا تھا۔ 9؎
.3 پرجن پرامتا، ہردے سوتر اور اسنیس وجے دھارنی مخطوطات جو ہوری ایزی مندرجاپان میں موجود ہیں انھیں چھٹی صدی عیسوی 10؎ میں ہندوستان سے لے جایا گیا تھا۔ پتیوں کا سائز 11/2×111/2 ہے۔
.4 سکند پر ان کا مخطوطہ جو نیپال دربار لائبریری میں ہے اور ساتویں صدی کا ہے۔ 11؎
.5 پرمیشور تنتر مخطوطہ (ہرش کلنڈر 252 مطابق 858) جو کیمبرج ذخیرہ میں موجود ہے۔ 12؎
.6 لنکا اوتار مخطوطہ جو بدھ تصنیف ہے (نیور کلنڈر 28 مطابق 906-907ء اور نیپال میں ہے۔ 13؎
کیلے کی پتیاں
بنگال میں قرونِ وسطیٰ میں ابتدائی درجات کے طلبا جب لکڑی کے قلم سے ریت یا مٹی پر لکھنے کی مشق ختم کرلیتے تھے تو انھیں کیلے یا پامیرا کی پتیوں پر لکھنے کی مشق کرائی جاتی تھی اس لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کیلے کے پتوں پر طالب علموں کو خوش خطی کی مشق کراتے تھے۔ یہ بنگال کے دور دراز علاقوں میں اب بھی مروج ہے۔ 14؎
کنول کی پتیاں
خطوط لکھنے کے لیے کنول کی پتیاں بھی استعمال کی جاتی تھیں۔ کالیداس کے ڈرامہ ’شکنتلا‘ میں راجہ دشینت کہتا ہے کہ ’’یہ مکتوباتِ محبت کنول کی پتیوں پر بھی لکھنے کا رواج تھا۔‘‘ 15؎
دوسری اقسام کی پتیاں
یوگنی تنتر میں ایک پیراگراف ہے جس میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اگر ممکن ہو تو کیتکی۔ مارتنڈ یا بات کی پتیوں پر لکھی جائیں گی لیکن جو بسودل یعنی دوسری پتیوں پر لکھے گا اسے بے شمار مشکلیں پیش آئیں گی۔16؎ کرپورامنجری میں (7 II) میں راج شیکھر سے حوالہ ملتا ہے کہ خطوط کیتکی کے پتوں پر لکھے جاتے تھے۔ نیشادھ چرتر میں ہم پاتے ہیں کہ خطوط کیتکی کے سنہری پھولوں کی پتیوں پر ناخن سے لکھے جاتے تھے۔ (VI-63)
بھوج پتر
بھوج درخت ہمالیہ کے علاقہ میں کثرت سے پیدا ہوتا ہے۔ اس کی چھال کا اندرونی حصہ قدیم اور عہد وسطیٰ کے ہندوستان میں تحریر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کو استعمال کے قابل بنانے کے لیے چھال کو نکال لیا جاتا ہے اور مختلف سائز کے ٹکڑوں میںکاٹ لیا جاتا ہے۔ البیرونی بیان کے مطابق چھال کے ان ٹکڑوں کا اوسط سائز ایک گز لمبا اور ایک Span چوڑا تھا۔ 17؎ پھر ان ٹکڑوں کو تیار کرنے کے لیے تیل لگا کر پالش کی جاتی اور ان کو آپس میں رگڑا جاتا تھا۔ کھجور کے پتوں کے مخطوطات کی طرح بھوج پتر کے ٹکڑوں کو بھی ایک دوسرے پر رکھ کر درمیان سے یا کنارے پر سی دیا جاتا تھا اور ہر ٹکڑے میں سوراخ کیا جاتا تھا تاکہ دھاگہ گزر سکے اور آخر میں لکڑی کے تختے دونوں طرف بطور کور (Cover) لگا دیے جاتے تھے۔ البیرونی نے اس کی تفصیل اس طرح دی ہے:
’’شمالی اور وسطی ہندوستان میں لوگ توز درخت کی چھال استعمال کرتے ہیں۔ ان میں کی ایک قسم کمان کی سطح کو ڈھکنے کے کام آتی ہے۔ اس کو بھورج کہتے ہیں۔ ایک گز لمبا اور ایک بالشت چوڑا ٹکڑا یا اس سے کچھ کم لیا جاتا ہے اور اس کو کئی طریقوں سے بناتے ہیں،اس کو تیل دیا جاتا ہے اور پالش کی جاتی ہے تاکہ یہ مضبوط اور چکنا ہوجائے اور پھر اس پر لکھتے ہیں اور ہر پتی پر نمبر شمار ڈالا جاتا ہے۔ پوری کتاب کو کپڑے کے ٹکڑے میں لپیٹا جاتا ہے اور برابر ناپ کی دو تختیوں کے درمیان باندھ دیا جاتا ہے۔ ایسی کتاب کو پنتھی کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ خطوط یا کوئی بھی اور تحریر توزدرخت کی چھال پر لکھتے ہیں۔‘‘18؎
بھوج پتر کا بحیثیت سامان تحریر سب سے قدیم حوالہ ہمیں یونانی مورخ کیوکرٹس سے ملتا ہے۔ کرٹس لکھتا ہے کہ سکندر اعظم کے حملہ کے وقت بھوج درخت کی چھال کو ہندو لکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ 19؎
یونانی مصنفوں میں ایک نیرکوس ہے جو لکھتا ہے کہ روئی کا بنا ہوا کاغذ استعمال ہوتا تھا۔ کمار سنبھو (باب 107) میں بھوج پتر برائے تحریر کا ذکر اس طرح ملتا ہے:
’’جہاں (یعنی ہمالیہ میں) بھوج پتر ہاتھی کی کھال کی طرح نشان لگا ہوا آسمانی دوشیزائیں مکتوباتِ محبت لکھنے کے کام میں لاتی تھیں اور ان پر خطوط دھاتوں کی بنی روشنی سے لکھے جاتے تھے۔‘‘
بھوج پتر پر لکھنے کا رواج عہد مغلیہ تک اسی شکل میں رہا، جیسا البیرونی نے بیان کیا ہے اور آج بھی بھوج پتر پر مقدس کتابیں اور دعائیں لکھی جاتی ہیں جن کو موڑ کر گلے میں زنجیر کے ساتھ پہنا جاتا ہے اور انھیں تعویذ کہتے ہیں۔
کشمیر میں اس کا استعمال وسیع پیمان پر ہوتا ہے۔ بھوج کے مخطوطے بڑی تعدادمیں کشمیری پنڈتوں کے ذخیرہ میں ملتے ہیں۔
اس کا قدیم ترین نمونہ فرانسیسی سیاح ایم۔دوتھے۔ وٹ ڈی رہانس نے کھوٹن میں 1892 میں تلاش کیا۔ یہ دھم پد کا ایک نامکمل نسخہ ہے جو پراکرت زبان میں کھردستی رسم الخط میں لکھا ہے۔ 21؎ اس مخطوطے کی تاریخ تقریباً دوسری یا تیسری صدی عیسوی ہے۔ ایک اور مخطوطہ سمیکت اگما سوتر جو سنسکرت زبان میں ہے کھوٹن میں پایا گیا اور اس کی تاریخ چوتھی صدی عیسوی ہے۔ 22؎ اس کے بعد کندہ کیے ہوئے مخطوطے میسن نے افغانستان میں تلاش کیے۔23؎
بھوج پتر کے دوسرے اہم قدیم مخطوطوں کے ذخیرے بور (Bower) اور گاڈفرائی (Godfrey) کے ہیں جو پانچویں صدی عیسوی کے ہیں۔ گلگٹ کے مخطوطے ونے پٹا کا سرسوتی وادبدھ اسکول کے ہیں جو پانچویں صدی عیسوی کے ہیں اور بھنشالی… نزدمردان کا مخطوطہ ریاضی کی ایک کتاب ہے جو تقریباً ساتویں صدی عیسوی کی ہے۔ 24؎
ساچی یا اگرکی چھال
آسام میں ساچی درخت کی چھال لکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔25؎ ساچی کے پیڑ کو بنگال میں اگر کہتے ہیں۔ وہ اپنی خوشبو کی وجہ سے زیادہ تر کام میںا ٓتا ہے۔ اس کے پتوں کو تحریر کے کام میں لانے کے لیے جس طرح تیار کرنا پڑتا اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
’’چھال حاصل کرنے کے لیے درخت کا انتخاب اس طرح ہوتا ہے کہ وہ پندرہ یا سولہ سال کی عمر کا ہو اس کا تنا 30 سے 35 کا ہو اور زمین سے چار فٹ بلند ہو۔ ایسے درخت سے 18فٹ لمبی اور 3 سے 27 انچ چوڑی چھال کی پٹیاں اتار لی جاتی ہیں۔ ان پٹیوں کو الگ الگ لپیٹ لیا جاتا ہے۔ لپیٹتے وقت چھال کا اندرونی حصہ باہر اور سبز اوپری حصہ اندر رکھا جاتا ہے۔ پھر انھیں کئی دن تک دھوپ میں سکھایا جاتا ہے۔ پھر چھال کے ان ٹکڑوں کو ہاتھ کی مدد سے تختے یا کسی سخت چیز پر رگڑ لیا جاتا ہے تاکہ اس کی اوپری پرت الگ ہوجائے پھر انھیں ایک رات اوس میں رکھ دیا جاتا ہے۔ دوسرے دن صبح اوپری حصہ (نکاری) مہارت سے الگ کردیا جاتا ہے۔ اور اس چھال کو 9 سے 27 انچ لمبے اور 3 سے 18 انچ چوڑے ٹکڑوں میں کاٹ لیا جاتا ہے۔ انھیں ایک گھنٹے کے لیے ٹھنڈے پانی میں ڈال دیا جاتا ہے تاکہ اس کا کھار (alkali) دور ہوجائے اور چاقو کی مدد سے اس کی سطح کو چکنا کر لیا جاتا ہے، پھر آدھا گھنٹہ دھوپ میں خشک کیا جاتا ہے، جب بالکل خشک ہوجاتے ہیں تو انھیں دو پختہ اینٹوں سے رگڑا جاتا ہے۔ مٹیمہ (Phaseolus Aconitifolins) سے ایک لیس تیار کرکے ان ٹکڑوں پر لیپ دیا جاتا ہے اس کے بعد انھیں (Arsenic) سے زرد رنگ دیا جاتا ہے، پھر انھیں خشک کرکے اتنا گھسا جاتا ہے کہ سنگ مرمر کی طرح چکنے ہوجائیں۔ اس طرح چھال کو تیار کرکے قابل استعمال بنایا جاتا ہے۔‘‘ 26؎
بڑے بڑے ٹکڑے مقدس کتابیں یا مختلف موضوعات پر بلند پایہ کتابیں لکھنے کے کام آتے ہیں۔ ان پر دوسری تحریریں بھی لکھی جاتی ہیں، خاص کر بادشاہوں اور نوابوں کے لیے جو تحریریں ہوں۔27؎
شہتوت۔ بات اور نیم کی چھال
بھوج پتر اور ساچی کے علاوہ دوسرے درختوں کی چھال بھی ہندوستان میں لکھنے کے کام آتی تھی۔ شہتوت، بات اور نیم کی چھال مذہبی اقوال و منتر وغیرہ لکھنے کے کام آتی تھی۔ 28؎
لکڑی کے تختے
لکڑی کے تختوں پر لکھنے کا رواج ہندوستان میں بہت قدیم ہے اور آج بھی ہندوستان کے کچھ حصوں میں دوکاندار تختیوں پر اپنا حساب کتاب لکھتے ہیں۔ اسکول میں بچے تختیوں پر لکھنے کی مشق کرتے ہیں۔ نجومی بھی ان پر حساب جوڑتے ہیں اور شمالی مغربی سرحدی صوبہ میں کچھ غریب لوگ مقدس مذہبی کتابوں کی نقل چاک سے تختیوں پر کرتے ہیں۔ 29؎
اس سے متعلق سب سے قدیم حوالہ ونے پٹا کاکی ایک عبارت میں ملتا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بدھ راہب عیسائی عہد سے قبل مذہبی فرمان لکڑی کی تختیوں پر لکھا کرتے تھے۔30؎ جٹاکا میں ہمیں اور مواد بھی ملتا ہے۔ ابتدائی درجات میں بچے جو لکڑی کی تختیاں استعمال کرتے تھے جٹاکا میںا نھیں پھلا کہا گیا ہے۔ 31؎ صندل کی تختیوں کو ابتدا میں سلیٹ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کا ذکر للت وستار میں ملتا ہے۔ شاکابادشاہ ’نہاپانا‘ کے ایک کتبہ سے معلوم ہوتا ہے کہ لکڑی کے تختے لکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ کتبہ خوانی کی قدیم دستاویزوں سے پتہ چلتا ہے کہ ’پھلاکا‘ یا لکڑی کے تختے قرض وغیرہ کے معاہدے لکھنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ 33؎
’کٹایایان‘ پنی قانونی دستور کی کتاب میں لکھتا ہے کہ شکایات چاک یا ’پنڈولیکھ‘ سے تختیوں پر لکھی جانا چاہئیں۔ 34؎ سنسکرت ناول ’داس کمار چرت‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ رنگ کیے ہوئے تختوں پر لکھنے کا رواج تھا۔ 35؎ دستاویزیں بھی تختوں پر لکھی جاتی تھیں۔ اس قسم کی آسام کی ایک دستاویز بوڈیلین لائبریری آکسفورڈ میں موجود ہے۔ 36؎
یسادھ چرت (xxii-52) میں بتایا گیا ہے کہ عہدوسطیٰ کے ہندوستان میں سیاہ تختے استعمال ہوتے تھے۔ اٹھارہویں صدی میں جنوبی ہند میں طلبا ایک لمبی تختی لکھنے کے کام میں لاتے تھے۔ اس تختی کی لمبائی تقریباً تین فٹ اور چوڑائی ایک فٹ ہوتی تھی۔ ان تختیوں کو چکنا کرکے چاول اور کوئلہ کا سفوف ان پر لگا دیا جاتا تھا۔ وہ لوگ چاول سے کلف سے سخت کیے ہوئے کپڑے کو بھی لکھنے کے کام میں لاتے تھے۔ پھر اس کپڑے پرگوندمیں کوئلہ کی سیاہی کا گاڑھا لیپ لگا دیا جاتا تھا۔ جب اس کپڑے کو موڑ کر تہیں بنا لی جاتیں تو یہ کتاب سے مشابہ ہوجاتے تھے۔ 37؎
قدیم ہندوستان میں تختوں کے علاوہ بانس کے ٹکڑوں کو پروانۂ راہداری (پاسپورٹ) لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ 38؎
سری ہرش نے نسادھ چرت (xix-61) میں بتایا ہے کہ عہد وسطیٰ کے ہندوستان میں سلیٹیں لکھنے کے کام میں لائی جاتی تھیں۔
کپڑا
قدیم ہندوستان میں کپڑے کے ٹکڑوں کو لکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس کپڑے کے مختلف نام تھے مثلاً پٹہ، پاٹکا، کرپاسکاپٹہ یا کدیتم۔ لیکن ان کا استعمال اتنا وسیع نہ تھا جیسا کہ کھجور کی پتیوں کا یا بھوج پتر کا تھا۔
اس کو تحریر کے لیے قابل استعمال بنانے کے لیے گیہوں یا چاول کے گودے کی موٹی تہہ چڑھائی جاتی تھی تاکہ یہ چکنا اور غیرمسام دار بن جائے۔ جب یہ سرخ ہوجاتا تھاتو اس کی سطح کو ناقوس یا پالش کے پتھروں سے رگڑا جاتا تاکہ چمکدار اور لکھنے کے لیے موزوں ہوجائے۔ میور کے لوگ املی کے بیجوں کا گوند چڑھاتے ہیں تاکہ وہ سیاہ ہوجائے۔ وہ ایسے تختوں پر اپنے حسابات رکھا کرتے تھے اور ان پر چاک سے لکھتے تھے۔ ان کو کدیتم کہا جاتا ہے۔ سرنگیری مٹھ سے ایسا ریکارڈ حاصل ہوا ہے اور وہ تقریباً تین سو سال پرانا ہے۔ 39؎
کدیتم کے ٹکروں پر مٹھ کے حسابات لکھے جاتے۔ شِلا لیکھ یا تامرپت کی کاپیوں کی فہرست رکھی جاتی۔ گردوں کی فہرست رکھی جاتی۔ ایسے تختوں پر لکھیں دستاویزیں جیسلمیر، انہل دوپٹن اور دوسرے مقامات پر پائی گئی ہیں۔ 49؎
کپڑے کو سامانِ تحریر کے طور پر استعمال کرنے کا سب سے پہلا حوالہ نیر کوس کی تحریروں میں ملتا ہے اورسمرتی 41؎ میں بھی ملتا ہے۔ 42؎ یاجنا والکیہ سمتہا (IS319) اور آندھرا عہد کے ناسک کے کتبہ سے پتہ چلتا ہے کہ سرکاری اور نجی دستاویزیں، پٹہ پاٹکایا کرپاسکا پر لکھی جاتی تھیں۔ 43؎
اس کے علاوہ پٹن بھنڈاروں میں کپڑے پر لکھی دستاویزیں محفوظ ہیں۔ ان میں سے ایک سمبت 1418 کی رقم کی ہوئی ہے اور اس میں ’25×3′ سائز کے 92 پرت ہیں۔ جین بھنڈار بڑودہ میں جے پربھرت کا نقل اتارنے والے کپڑے پر لکھا ہوا ہے۔ کپڑے کے یہ پرت دو موٹی کھادی کے کپڑے کے ٹکڑوں کو جوڑ کر بنائے جاتے ہیں۔ 44؎
کپڑے کے پرتوں والی ایسی ایک کتاب جین مندر پٹن میں پائی گئی۔ یہ دھرم ودھی ہے اور اس کو پربھوسودی نے لکھا تھا۔ اس پر اودے سمہا کی تفسیر ہے۔ اس میں 93 پارچہ پرت ہیں جن کا سائز 13×5 اور اس کی تاریخ 14-18 وی ای مطابق 1361-62ء ہے۔ 45؎
آسام میں تلاپت بطور سامانِ تحریر استعمال ہوتا تھا اسے روئی کو دبا دبا کر بناتے تھے۔ 46؎
جین لوگ تیوہاروں کے موقعے پر رنگین نقشے سوتی کپڑوں پر رنگے ہوئے چنے اور چاول چپکا کر بنایا کرتے تھے۔
ریشمی کپڑا
روئی کے کپڑے کی طرح ریشمی کپڑے کو بھی لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا لیکن قیمتی ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال عام نہ تھا۔ البیرونی سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسے بتایا گیا تھا کہ نگرکوٹ کے قلعہ میں شاہی سلسلۂ نسب ریشمی کپڑے پر تحریر تھا۔ 47 ؎ڈاکٹر بوہلر نے جین لائبریری جیسلمیر میں جین سوتر کی ایک فہرست ریشمی کپڑے پر روشنائی سے لکھی ہوئی دریافت کی۔ 48؎
چمڑا
سقراط سے پوچھا گیا کہ وہ کتابیں کیوں نہیں چمڑے پر لکھ دیتا ہے؟ اس نے جواب دیا:
’’میں علم کو زندہ دلوں سے مردہ بھیڑ کی کھالوں پر منتقل کرنا پسند نہیں کرتا ہوں۔‘‘
مندرجہ بالا بیان سے اور اس دور کے باقی ماندہ واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ یونانی اور مسلمان جانوروں کی کھال کو لکھنے کے لیے استعمال کرتے تھے، لیکن ہندوستان میں چونکہ لکھنے کا دوسرا قدرتی سامان موجود تھا اس لیے یہاں چمڑا شاذ و نادر ہی استعمال ہوتا تھا۔ قدیم ہندوستان میں سوائے شیر اور چیتے کی کھال کے سب ہی چمڑوں کو ناپاک خیال کیا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جانوروں کی کھال کو برائے تحریر استعمال کے بارے میں بہت کم حوالے ملتے ہیں۔
سبندھو کی واسودتا میں کھال کو بطور سامان تحریر استعمال کرنے کا صاف حوالہ ملتا ہے۔49؎
بوہلر نے کھال پر لکھی ایک تحریر ’برہج نان کوش‘ جین لائبریری جیسلمیر میں دریافت کی۔50 ؎
اسٹین نے ’نیا‘ کے مقام پر تلاش کے دوران بہت سے قدیم ریکارڈ اور خطوط چمڑے پر لکھے ہوئے دریافت کیے ہیں۔ ان میں سے کچھ تیسری صدی عیسوی کے ہیں۔ 51؎ ان تحریروں میں چونکہ ہندوستانی کردار ہیں اس لیے عین ممکن ہے کہ وہ ہندوستان ہی سے گئے ہوں۔ اسٹین کہتا ہے کہ:
’’ان تحریروں کا چمڑا اس قدر عمدہ پکا ہوا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چمڑا تیار کرنے کی خاصی مہارت ہندوستان میں ہوگی۔‘‘
جب ایک دفعہ چمڑا تیار ہونے ہی لگا تو کھوٹان کے بدھ لوگوں نے اس کی مخالفت بھی نہ کی۔ چمڑے کی پٹیوں پر مقدس کتابیں کشمیر میں برہمنوں میں خصوصاً اور ہندوستان میں عموماً لکھی گئیں۔ 52؎
پتھر
سرکاری ریکارڈ کو جن میں کتب، جاگیر کی اسناد، اقرارنامے، شاہی احکام، وقف نامے، یادداشتیں۔ مذہبی و ادبی تصانیف وغیرہ شامل تھیں۔ دیرپا بنانے کے لیے قدیم ہندوستان میں پتھر کو تحریر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور یہ مشق آج بھی جاری ہے۔
یہ تحریریں سنگی تختیوں پر، چٹانوں پر، ستونوں پر، مذہبی اور دوسری عمارتوں کی دیواروں پر، غاروں پر، پتھر کی مورتیوں کے نچلے حصہ اور پشت پر اور پتھر کے برتنوں پر کندہ کی جاتی تھیں۔
ہندوستان کے عظیم شہنشاہ اشوک (تیسری صدی قبل مسیح) نے جو بے شمار شاہی فرمان جاری کیے ان کو پتھر پر کندہ کرنے کا مقصد صاف صاف بیان کیا تھا۔ خاص مقصد جیسا کہ فرمان میں بتایا گیا ہے ان کو دیرپا بنانا ہے (اشوک کاپی۔ ای 11، ٹوپرکا بیان)
پتھر کی کھدی تحریروں کو عام طور سے ’شلا لیکھ ‘ کہا جاتا ہے اور جن شِلا لیکھوں پر بادشاہوں اور عمائدین کے نیک کارمے بطور تعریف کندہ ہوتے ہیں انھیں ’پرشستی‘ کہا جاتا ہے۔
پتھر کو تحریر کے قابل بنانے کے لیے پہلے مختلف سائزوں میں سنگی تختیوں کو چھینی سے چھیلا جاتا ہے پھر پتھر یا لوہے پر رگڑ کر ان پر پالش کی جاتی ہے۔ اگر تختیاں بڑی ہیں تو رنگین دھاگہ یا لکڑی کے مسطر سے ان پر مسطر بنا دی جاتی ہیں پھر ایک عمدہ خطاط کندہ کیا جانے والا مضمون روشنائی سے خوبصورتی کے ساتھ تحریر کردیتا ہے اور اب یہ پتھر کی تختیاں گویا کندہ کیے جانے کے لیے تیار ہوجاتی ہیں۔
بعض اوقات کندہ کی ہوئی تختیاں مذہبی یا شہری عمارتوں میں لگا دی جاتی ہیں اور جہاں مضمون طویل ہونے کی وجہ سے زیادہ تختیاں درکار ہوتی ہیں وہاں عبارت کی ترتیب کے مطابق اور سائز کے مطابق سلسلہ وار لگا دیا جاتا ہے۔ چاروں طرف حاشیہ چھوڑا جاتا ہے اور بعض اوقات حاشیہ کو لائنیں بنا کر دکھایا جاتا ہے۔ کہیں کہیں اطراف ‘1/4’ ڈھلواں بنائے جاتے ہیں اور وہ حصہ جہاں الفاظ کندہ ہونا ہیں حاشیوں کے مقابل گہرائی میں ہوتا ہے۔
اگر لاپرواہی کی وجہ سے تراشنے کے دوران پتھر کا کچھ حصہ ٹوٹ جائے تو اسے ہمرنگ دھاتوں سے بھر کر ہموار کردیا جاتا ہے تب اس پر کندہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح سے پتھر کو بھرنے کے ثبوت ہری کیلیناٹا کا چاہومن شاہ دگرہا چہارم (Harikelinataka of Chahuman Vigraha IV) اور اس کے درباری شاعر سومادیو وغیرہ کے ریکارڈ میں ملتے ہیں۔ للت وگراہا راج ناٹاکا (Lalita Vigrajanataka)۔ یہ ریکارڈ آج کل راجپوتانہ عجائب گھر میں موجود ہیں۔
بہت سے پتھر کے کتبوں پر شروع اور آخر میں سواستک، چکر، ترشو اور اوم کے نشانات ملتے ہیں اور سدھم، سوستی، ہری اوم اور ’سوستی شری‘ کے الفاظ ملتے ہیں۔ خطاطوں نے عبارت نگاری کے ضوابط کو ملحوظ نہیں رکھا۔ وہ ایک سطر کے بعد دوسری سطر بغیر علامت وقف کے لکھے چلے گئے لیکن کہیں کہیں کچھ کچھ الفاظ علاحدہ کرکے بھی لکھے گئے ہیں۔ وقف کے نشان کے لیے۔ خطاطوں نے سیدھی لائن کھینچی ہے اور ایسی ہی دو لکیریں برابر برابر اختتام کے لیے استعمال کی ہیں۔ کچھ موقعوں پر ختم پر ایک تصویر نائی گئی ہے جیسے سمدرگپت کے الہ آباد کے کتبوں میں دیکھا گیا ہے۔ یہ بھی پایا گیا ہے کہ کسی باب یا مضمون کے خاتمہ پر کنول کا پھول یا دوسرا پھول یا دائرے کے نشانات ہیں۔
سنگ مرمر پر الفاظ چھوٹے چھوٹے بنائے جاتے تھے تاکہ کم جگہ میں چھوٹی چھوٹی تختیوں پر زیادہ مواد تیار کیا جاسکے۔
اینٹیں
شاذ و نادر پتھر کی طرح اینٹوں کو بھی مذہبی تحریریں لکھنے کے کام میں لایا گیا، کندہ کی ہوئی اینٹیں جو مختلف سائزمیں ہیں ہندوستان کے کئی حصوں میں پائی گئی ہیں۔ گیلی مٹی پر الفاظ کے نقش بنانے کے بعد انھیں پکا لیا جاتا تھا۔
ضلع گورکھپور (یوپی) کے گوپال پور گاؤں میں ’بدھ سوتر اینٹوں پر لکھے پائے گئے ہیں۔ یہ اینٹیں 1/211 لمبی اور 1/29 چوڑی ہیں۔ کچھ اینٹوں پر 10 سے 12 تک سطریں ہیں اور کچھ میں 9 سے 12 تک اور یہ تیسری یا چوتھی صدی عیسوی کی ہیں۔53؎
متھرا کے عجائب خانے میں کچھ اور نمونے ہیں جو پہلی صدی عیسوی کے ہیں۔ 54؎ ریاست بنگال میں ایسے بے شمار مندر ہیں جن کی اینٹوں پر تاریخ تعمیر، عطیہ دینے والو ںکے نام، معمار کا نام اور تعمیر کا مقصد کندہ ہے۔ 55؎ اینٹوں پر تحریر کے دوسرے نمونے پرانا قلعہ اجین نزد کاسی پور اور ترائی کا علاقہ ضلع نینی تال یوپی میں ملتے ہیں۔ 56؎
اینٹوں کے علاوہ مٹی کی مہریں اور برتن بھی اس مقصد کی تکمیل کرتے تھے مہرو پر جو الفاظ ملتے ہیں وہ چھاپے خانے کی طرح ابھرے ہوئے ہیں۔
قدیم ہندوستان میں لکڑی کی تختیوں کے علاوہ کچی مٹی کے پکائے ہوئے تختے تحریر کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ موہن جودارو سے اسی قسم کے تختے مسٹر میکی نے دریافت کیے ہیں۔ ان میں سے ایک 7 لمبا، 3 چوڑا اور 0.4 موٹا ہے۔ ان میں پٹی نہیں ہے بلکہ دستہ کے پاس لٹکانے کے لیے سوراخ بنا ہوا ہے۔ یہ تختے اس طرح بنتے ہیں کہ پہلے ان پر سفید رنگ پوت دیا جاتا ہے اور جب وہ تیار ہوجاتے ہیں تو سفید رنگ دھو دیا جاتا ہے۔ 57؎
دھات کے تختے
دھات کے تختے پر قدیم ہندوستان میں لکھنے کا رواج بہت تھا کیونکہ وہ مضبوط بھی ہوتے تھے اور ان کے استعمال میں آسانی بھی تھی۔ ان پر تحریر کے دو طریقے تھے۔ یا تو تختوں کو ریت کے ان سانچوں میں ڈھال لیا جاتا تھا جن پر چھینی ہتھوڑی کی مدد سے لفظ پہلے سے ابھار لیے جاتے تھے یا ان تختوں پر حروف چھینی اور ہتھوڑی کی مدد سے کھودے جاتے تھے۔ ان تختوں کے کناروں کو اٹھا دیا جاتا اور موٹا کیا جاتا تھا تاکہ تحریر کی حفاظت ہوسکے۔ اب تک جن دھاتوں پر تحریر کے نمونے ملے ہیں ان میں سونا، چاندی، تانبا، پیتل، پھول اور ٹین شامل ہیں۔
سونا
شاہی فرمان، ادبی تصنیفات، خطوط، سندجاگیرا ور اخلاقی ضوابط کو سونے پر لکھنے کے حوالے رورو (Ruru) کرودھما اور تیساکن جٹاکا میں ملتے ہیں۔ 58؎ برنل کی کتاب ’جنوبی ہند میں کتبہ خوانی کے ابتدائی اصول‘ سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔ 59؎ یا تو ان حرو ف کو کھود دیا جاتا ہے۔ یا (Vermilian) لکھا جاتا ہے۔
جنرل کننگھم نے ٹکشلا کے گنگونامی استوپ سے کھروستی رسم الخط میں لکھا ہوا طلائی نمونہ دریافت کیا ہے۔ 60؎ چونکہ سونا ایک قیمتی دھات تھی اس لیے اس پر تحریر کے نمونے بہت نادر ہیں۔
چاندی
سونے کی طرح چاندی پر بھی بہت کم لکھا جاتا تھا۔ چاندی کی تختیوں پر تحریر کے نمونے بھٹی پور میں61؎ پائے گئے اور سرکاری دستاویزمیں ٹکشلا62؎ میں ملی ہیں (پلیٹ IX)
جین مندروں میں عام طور سے گول چاندی کی پلیٹیں ملتی ہیں جن پر منتر کھدے ہوئے ہیں۔ جین مذہب کے شوتامبر فرقہ کے مندروں میں اجمیر میںا یسی چار تختیاں ہیں جن پر منتر کندہ ہیں۔ ایک تختی ‘IxII’ سائز کی ہے جس پر رشی منڈل منتر کندہ ہے۔ 63؎ برٹش میوزیم میں ایسی تحریریں ہیں جو کھجور کی پتیوں پر لکھی ہیں اور جن پر سونا یا چاندی چڑھا ہے۔ 64؎
تانبا
تانبا کی تختیوں کا بھی تحریر کے لیے وسیع طور پر استعمال ہوتا تھا۔ بادشاہ، گورنر اور رؤسا جاگیر اور نقد عطیے جو مندروں، قابل برہمنوں اور پجاریوں کو علم و مذہب کی سرپرستی کے لیے دیتے تھے ان کی سندیں تانبہ کی تختیوں پر لکھ کر دی جاتی تھیں۔ تانبہ کی ان پٹیوں کو تامرساس، تامرپھلی، تامرپتا، تامرپھالکا، ساسن پتر اور دان پتر کے ناموں سے موسوم کیا جاتا تھا۔ 65؎ بادشاہ خاص افسران مقرر کرتے تھے جو اس بات کی نگرانی کرتے کہ یہ عطیات جاری کیے جائیں اور مستقل جاری رہیں۔ جو افسران بادشاہ کی طرف سے ان عطیات کی نگرانی کرتے تھے ان کو دوتا کا کہا جاتا تھا۔ بعض اوقات ان دوتاکا کے نام بھی تانبہ کی تختی پر لکھ دیے جاتے تھے کلہن کے بیان کے مطابق شاہان کشمیر کے یہاں ان افسران کا نام ’پٹوپادھیائے‘ ہوتا تھا وہی لوگ ان خطابات سے متعلق عطیات نامے تحریر کرتے تھے۔66؎
تانبہ کی پلیٹ پر لکھنے کا طریقہ عام طور پر یہ تھا کہ ریت کا سانچا بنا کر الفاظ ابھار لیے جاتے۔ اور تانبا اس میں ڈھال لیا جاتا تھا یا تانبے کی پلیٹ پر چھینی اور ہتھوڑی کی مدد سے حروف کھود دیے جاتے، سوہگوڑ تانبہ کی پلیٹ جو آج تک کی دریافت کے مطابق سب سے قدیم ہے، ریت کے سانچے میں ڈھال کر بنائی گئی تھی، حروف اسی طرح بنائے گئے ڈیزائن اور نشانات دھات کے نوکدار قلم سے کھودے گئے پہلے ایک ماہر خطاط تانبہ کی پلیٹوں پر عبارت کو روشنائی سے لکھتا بعد میں کھودنے والا ان الفاظ کو کندہ کردیتا۔ بعض تحریریں لائنوں کے بجائے نقطوں کے ذریعے لکھی جاتی تھیں۔ 67؎ جنوبی ہند کی تانبہ کی تختیوں پر الفاظ گہرے نہیں ہیں۔ شایدا لفاظ کو پہلے مٹی سے چپکایا گیا ہو پھر لوہے کے قلم کی مدد سے لکھا گیا ہو بعد میں نوکیلے اوزاروں سے کندہ کیا گیا ہو۔
جنوبی ہند میں جاگیر کی اسناد جو تانبا کی تختیوں پر ہیں کئی کئی تختیوں پر لکھی ہوئی ہیں جب کہ شمالی ہندمیں یہ دو تختیوں سے زیادہ پر نہیں ہوتیں۔
وینکٹ پتی دیوراجہ وجیا نگرم کی زمینی عطیہ کی تانبہ کی تختی جو مدورا میں ملی ہے، شک سمبت 1508 مطابق 1586 کی ہے۔ اس کا مضمون نو تختیوں پر مشتمل ہے۔ 68؎ جو دان پتر راجندر چورنے اپنی حکومت ے تیرہویں برس جاری کیا تھا۔ وہ لندن یونیورسٹی کے میوزیم میں موجود ہے اور اکیس تختیوں پر مشتمل ہے۔ 69؎
تانبہ کی تختیاں مختلف حجم اور سائز میں ملتی ہیں۔ صفحات کے نمبر شمار یا تو حاشیہ کی بائیں جانب ملتے ہیں یا ہر ایک پرت کے اوپری حصہ پر۔ مطلوبہ حجم اور سائز کے تانبہ کے پتر تانبہ کو ہتھوڑی سے چوٹ لگا کر بنائے جاتے ہیں۔ اگر پتر بنانے میں کوئی خامی رہ جاتی تو کندہ کرنے والا پرت کے اس حصہ پر ضرب لگا کر اسے ہموار کرلیتا پھر اس پر تحریر کے اس حصہ کو دوبارہ لکھ لیا جاتا۔ جن تختیوں پر کچھ نہ لکھا ہوتا وہ جلد کا کام دیتی تھیں۔ تحریر کو محفوظ کرنے کے لیے تختیوں کے کناروں کو ابھار دیا جاتا تھا۔ 70؎
تانبا کی پلیٹوں کا بطور سامان تحریر استعمال عہد موریا سے رائج تھا۔ 71؎ سوہگوڑ تانبا کی پلیٹ جو عہد موریا کی ہے اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ 72؎
چینی سیاح فاہیان کے روزنامچہ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بدھ عبادت خانوں میں عطیات آراضی کی تختیاں تانبا کی تھیں اور ان میں سے بعض مہاتما بدھ کے دور کی تھیں۔ 73؎
ہیوان سانگ ساتویں صدی عیسوی میں ہندوستان آیا اور اس نے بتایا کہ کنیشک نے بدھ مجلس مشاورت کے بعد پورا ’ونے‘ تانبہ کی تختیوں پر لکھا۔ بادشاہ نے اس کو پتھر کے ایک صندوق میں رکھا اور اس پر ایک استوپ تعمیر کیا۔ 74؎
میکس ملر سے ہمیں معلوم ہوا ہے کہ سایان نے ویدوں پر جو تفسیر و حواشی لکھے وہ سب تانبا کی پلیٹوں پر تھے۔ 75؎ لیکن برنل اس تحقیق سے متفق نہیں ہے۔ 76؎
اس قسم کے شواہد موجود ہیں کہ قیمتی ادبی و مذہبی تصنیفات تانبا کی تختیوں پر لکھی جاتی تھیں۔ ’تلاپک خاندان‘ کی تصنیفات تانبا کی پلیٹوں پر کندہ ہیں اور وہ تروتھپی مندر میں محفوظ ہیں۔77؎ اسی قسم کے نمونے برما اور لنکا میں بھی ملتے ہیں جو اب برٹش میوزیم میں موجود ہیں۔ 78؎
ساسن پر کندہ کرنے والے کو پیتل ہار، لوہاکار، آیاس کار (تانبا نگار)، سوتر دھار (پتھر کا کام کرنے والے)، ہیم کار یا سونا کار، شلپن یا وجنانکا (دستکار) جیسے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے۔ 79؎ کالنگا کے ساسنوں میں ان لوگوں کو اکھشالکا، اکھاشالیں یا اکھاشا لے (سونانگار) کہا گیا ہے۔ 80؎
سمرتی یاجنا واکیہ (1-318-20) سے معلوم ہوتا ہے کہ غیرمذہبی جاگیروں کی اسناد ناپائیدار سامان تحریر پر لکھی جاتی تھیں۔ برہت کتھا کوش (IX 21-23) اس بیان کی تصدیق کرتا ہے اس سے یہ مزید اطلاع ملتی ہے کہ ان ناپائیدار اسناد کو پتریکا کہا جاتا ہے۔ لفظ پتریکا کا استعمال ساسن سے جدا ہے کیونکہ عموماً ساسن تانبا کی تختیوں پر ہوتے تھے۔
پھول دھات پیتل اور ٹین
پھول دھات، پیتل اور ٹین بطور سامان تحریر بہت کم استعمال ہوتے تھے۔ اب تک ان دھاتوں پر تحریر کے جو نمونے دستیاب ہوئے ہیں وہ بہت بعد کے زمانے کے ہیں۔ عام طور سے مندر کی گھنٹیوں پر ان کے عطا کرنے والوں کے نام اور تاریخ کندہ ہیں۔ پھول دھات پر جو تحریریں ملی ہیں وہ بعد کے زمانہ کی ہیں۔ 81؎
پیتل کی مورتیاں ساتویں صدی عیسوی سے ہی کندہ شدہ ہیں، ان کے ستونوں پر تحریریں ملتی ہیں۔ پیتل پر کندہ کی ہوئی تحریریں جین مندروں میں پائی گئی ہیں۔ اچل گڑھ ماؤنٹ آبو کے مندر میں پیتل کے بتوں پر تحریر کے بہت سے نمونے ہیں۔ 82؎
ٹین تحریر کے لیے بہت ہی کم استعمال ہوا ہے۔ اس کا ایک واحد نمونہ برٹش میوزیم میں موجود ہے، جس پر ایک بدھ مخطوطہ تحریر ہے۔ 83؎
لوہا
لوہے کو بھی بطور سامان تحریر استعمال کیاگیا لیکن زنگ لگنے کی وجہ سے اس کا استعمال عام نہ تھا۔ دہلی میں قطب مینار کے قریب مہرولی میں لوہے کا ستون ہے جس پر کندہ کی ہوئی عبارت موجود ہے۔ اس تحریر کی تاریخ پانچویں صدی عیسوی ہے اور بادشاہ چندر نے اس کو بنوایا تھا۔ 84؎
آبو پہاڑ پراچلیشور مندر میں ایک ترشول ہے جس پر کندہ کی ہوئی تحریر ہے۔ یہ ترشول لوہے کا بنا ہے، اس کی تاریخ پھاگن 14-68 ہے۔ 85؎
کچھوے کی کھوپڑی
کچھوے کی کھوپڑی کو بھی کبھی کبھی لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس کے دو نمونے ڈھاکہ کے میوزیم میں محفوظ ہیں۔ 86؎
مٹی یا ریت
قدیم ہندوستان میں ابتدائی درجات کے طلبا کلاس کے فرش پر ریت یا مٹی چھڑک کر گھاس کے تنکے کو قلم بنا کر لکھتے تھے۔ تمام ہندوستان میں یہ روایت عہد مغلیہ تک رائج رہی۔ 87؎
لیکن بنگال میں مذکورہ بالا طریقۂ تحریر کافی بعد تک جاری رہا۔ اس کی ایک صاف تصویر ’دیارام کے شاردا منڈل‘ میں ملتی ہے۔ جہاں ہمیں ملتا ہے کہ غیرمعمولی دباؤ کے نتیجہ میں ایک شہزادے کو مٹی اور پھونس مہیا کرنا پڑا تھا۔ 88؎
یہ مشق جنوبی ہند میں اٹھارہویں صدی کے آخر تک رائج رہی جب کہ نو عمر طلبا انگلی سے ریت پر لکھ کر ابتدائی تعلیم حاصل کرتے تھے۔ 89؎
چاک (کھریا)
سلیٹ اور تختہ سیاہ پر لکھنے کے لیے چاک کو استعمال کیا گیا۔ نیادھ چرت (X.86.XVI, 161 & VI. 19) میں ہمیں ملتا ہے کہ چاک استعمال ہوتا تھا۔ چاک کی شکل گول ہوتی اور وہ سخت ہوتے تھے۔ (XVI,101)
بنائی میں حروف
قدیم ہندوستان میں دستکاری میں حروف اور اشکال کو خاص مقام حاصل رہا ہے۔ یہ طرز تحریر قدیم، چینی، وینیشن اور ہندوستانی فنون میں پایا جاتا ہے۔
ہندوستان میں بنائی کے اندر الفاظ و اشکال کا رواج جین لوگوں میں تھا اور اس کے نمونے کماراسوامی نے اپنی کتاب ’کیٹلاگ آف انڈین کلکشن میوزیم آف فائن آرٹس بوسٹن حصہ 4‘ میں شائع کیے ہیں۔ ان میں سے ایک سمبت 1766 مطابق 1710 کا ہے۔ یہ روئی کی پتلی پتلی پٹیاں جن پر منتر ہوتے اور ڈیزائن بنے ہوتے جلد ساز مخطوطات کی جلدیں بنانے میں استعمال کرتے تھے۔ عام طور سے ان پٹیوں کا رنگ نیلا ہوتا اور ان پر عنابی سرخ کنارے بنے ہوتے تھے۔
ہمیں ملتا ہے کہ جین اور اسی طرح برہمن منتر بنے ہوئے نمونوں میں ترشول، تلوار، پنکھا، سواستک کا نشان، مندر، درخت، پھول، کشتی، پالکی اور چراغ وغیرہ کی علامتیں ہیں۔ بڑودہ میوزیم میں ان کا عمدہ ذخیرہ ہے۔ ان کے سائز مختلف ہیں ‘4×7’ سے لے کر ‘7×11.6’ تک۔ ان میں سے ایک سوتی نمونہ پالن پور شمالی گجرات میں ہے جو کافی دلچسپ ہے کیونکہ اس میں منتر بائیں جانب ہے جب کہ عام طور پر جین طرز تحریر میں جیسا کہ جین مخطوطوں سے ظاہر ہوتا ہے اوپر لکھنے کا رواج رہا ہے اور جسے پرتی منتر یا پرستھ منتر کہتے ہیں وہ اس نمونے میں اختیار کیا گیا ہے۔ یہ نمونہ اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ اس سے خطاط کے متعلق بھی اطلاع ملتی ہے جس نے اس نمونہ کوپانچویں بھداپدر میں سمبت 1739 مطابق 1683 میں بنا۔ اس جین رشی کا نام ’منوہر‘ تھا۔
بُنائی میں تحریر کے دو اور نمونے بڑودہ میوزیم میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک تھیلا مالائیں (تسبیحیں) رکھنے کے لیے ہے اس کی شکل تکونی ہے اور گائے کا منہ بنا ہوا ہے۔ 90؎ دوسرا نمونہ ایک کنٹوپ ہے جو پجاریوں کے سر اور کان ڈھکنے کے لیے تھی۔ 91؎
اوّل الذکر نمونے پر جو تحریر ہے وہ شوپاروتی اور گنیش کے لیے خطابات ہیں۔ اور ترشول بنا ہے۔ کنٹوپ پر جو ریشم کے ٹکڑوں سے بنی ہے ولبھا چاریہ کے اشعار کشیدہ ہیں۔
ویشنو (Vaishnauas) حضرات میں سوتی اور ریشمی غلاموں پر محبوب دیوی دیوتاؤں کے نام بنائی میںلکھنا ایک عامر روایت ہے۔ ایسے کپڑے یا ریشم کے غلاف کو ناماولی کہا جاتا ہے۔ ان پر کرشن اور رام کے نام تحریر کیے جاتے ہیں۔
قلم اور دھات کے قلم
قلم کو عرف عام میں لیکھنی 92؎ یا قلم کہا جاتا تھا۔ 93؎ اس کے علاوہ دوسرے لفظ جو قلم کے مفہوم کو ادا رکتے تھے وہ یہ تھے:
وارنک یعنی حروف بنانے والا، 94؎ ورنکا95؎، ورن درتکا 96؎ اور شلاکا 97؎ (مروجہ 98؎ جنوبی ہند) اور سلائی (مروجہ زبان مراٹھی 98؎) نلکے کے قلم کو قلم کہا جاتا تھا اور اس کا قدیم ہندوستانی نام ’اسیکا‘ ہے۔99؎
دو قسم کے قلم استعمال کیے جاتے تھے ایک قلم پتیوں وغیرہ پر الفاظ کندہ کرنے کے لیے ہوتا تھا دوسرا روشنائی سے پتیوں چھال اور کاغذ پر لکھنے کے لیے۔
’شلاکا‘ یا دھات کا قلم لوہے یا فولاد کا بنا اور نوکدار ہوتاتھا جس سے کھجور کے پتوں پر حروف کندہ کیے جاتے تھے۔ دھات کا قلم تمام ہندوستان میں استعمال ہوتا اور خاص طور سے جنوبی ہند میں بہت قدیم زمانہ سے استعمال ہوتا تھا لیکن اس قلم کے ابتدائی نمونے ہڈی کے بنے ہوئے ملتے ہیں۔ (پلیٹ 5)۔
آثار قدیمہ کی کھدائی میں ملی اشیا میں روپڑ کے مقام پر جو انبالہ سے 60 میل شمال میں ستلج پر واقع ہے ایک ہڈی کا بنا ہوا قلم دستیاب ہوا۔ 100؎ اس قلم کی تصویر ’قدیم ہندوستان‘ شمارہ نمبر 9، 1953 میں چھپی تھی۔ یہ قلم دونوں طرف سے نوکدار ہے۔ا یسا ہی ایک قلم شری کالی داس دت نے ہری نارائن پور میں جو ڈائمنڈ ہاربر مغربی بنگال کے جنوب میں 4 میل پر واقع ہے تلاش کیا ہے۔ یہ تیسری یا دوسری صدی قبل مسیح کا ہوسکتا ہے۔
ٹکسلا میں ہڈی اور ہاتھی دانت کے قلموں کے بے شمار نمونے تلاش کیے گئے ہیں۔ دو تانبا کے قلم جن کی نوک موجودہ نِب کی طرح درمیان سے کٹی ہوئی ہے ٹکسلا میں ملے ہیں اور یہ پہلی صدی کے ہیں۔
عبدالرزاق جو شاہ رخ کا سفیر تھا ہندوستان آیا اور وجے نگر گیا۔ وہ لکھتا ہے:
’’ان لوگوں کی تحریر دو قسم کی ہے، ایک طریقہ یہ ہے کہ لوہے کے قلم سے پتوں پر حروف کندہ کرتے ہیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ لوگ ایک سطح کو سیاہ کرکے اس پر نرم پتھر کے قلم سے حروف نقش کرتے ہیں۔ اس طرح سیاہ سطح پر سفید حروف بن جاتے ہیں۔ یہ تحریر کافی دنوں تک باقی رہتی ہے اور قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے۔‘‘ 101؎
دوسرے قلم جو روشنائی سے لکھنے کے لیے ہوتے تھے لکڑی، بانس، گدھ یا عقاب کے پر یا نلکے سے بنائے جاتے تھے۔ قلم کی نوک تیز چاقو سے کاٹ کر نوکیلی بنا دی جاتی تھی۔ عہد مغلیہ کے دوران اونگٹن (Ovington) لکھتا ہے کہ قلم ہنس کے پرکے برابر لمبا اور موٹا ہوتا تھا۔ 102؎ فن خطاطی کی حوصلہ افزائی کے لیے مسلم حکمرانوں خصوصاً مغل بادشاہوں نے ماہر خوشنویسوں کو انعامات دیے جو جواہر والے قلم اور قلمدان کی شکل میں تھے۔ شہزادہ اورنگ زیب نے خطاط شیخ فرید بخاری کو ایک شاہی خلعت، جواہر والی جڑاؤ تلوار، قلم اور قلمدان تحفہ میں دیے۔ جہانگیر نے ان کو السیف والقلم کے خطاب سے نوازا۔ 103؎
مغل عہد میں عام طور پر خوش نویس حضرات نلکے کے قلم کو عقاب کے پر کی طرح بنا کر استعمال کرتے تھے اور اسے ’فارسی قلم‘ کہا جاتاتھا۔ 104؎
یوگنی تنتر میں بتایا گیا ہے کہ تانبے، پیتل، سونے اور نلکے کا قلم استعمال کرنا چاہیے لیکن گھنٹی والی دھات یا سفید پیتل کا قلم نہ ہونا چاہیے۔ اگر یہ استعمال کیا گیا تو کاتب کے لیے تباہی کا باعث ہوگا۔ 105؎ عہد وسطیٰ میں سونے کا قلم (کنچن لیکھنی) ہندوستان میں اتنا غیرمعروف نہ تھا جیسا کہ نیسادھ چرت (X.92) میں بتایا گیا ہے۔
روشنائی
عیسوی کلنڈر شروع ہونے سے بہت پہلے ہندوستان میں روشنائی استعمال ہوتی تھی اور اسے سی اورمیلا 106؎ کے ناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔
نیر کوس اور کیوکرٹس (Nearchos & Qcurtis) کی تحریروں سے روشنائی کے متعلق سب سے پہلا حوالہ ملتا ہے۔ 107؎ ان یونانی مصنّفین نے کاغذ اور سوتی کپڑے کو بحیثیت سامانِ تحریر ہندوستان میں استعمال ہونے کا حوالہ دیا پھر روشنائی کے متعلق معلومات دیں۔ ایک برتن پر روشنائی سے تحریر کا براہِ راست نمونہ اندھیر کے استوپ میں ملتا ہے جو دوسری صدی قبل مسیح کا ہے۔ 108؎ کندہ کرنے سے قبل اشوک کے کچھ فرمان روشنائی کے نقطوں کے ذریعہ حروف بنا کر لکھے گئے تھے۔ 109؎ سنسکرت لفظ سی گیاہرسوتر میں بار بار استعمال کیا گیا ہے جو یقیناا عہد عیسیٰ سے قبل کی تصنیف ہے 110؎ عیسوی کلنڈر کے ابتدائی دور میں برہمی اور کھروستی دستاویزیں جو روشنائی سے تحریر کی ہوئی تھیں کھوٹن اور ہندوستان میں دریافت کی گئیں۔ 111؎ اجنتا میں بھی کچھ کتبے روشنائی سے لکھے ہوئے ملتے ہیں۔112؎
روشنائی کئی رنگوں کی استعمال ہوتی تھی جن میں کالا رنگ عام تھا، دوسرے رنگوں میں سرخ، سنہری اور روپلی رنگوں کی روشنائی تھی۔ کاربن کی سیاہی کشن عہد میں استعمال ہوتی تھی۔ 113؎
قدیم ہندوستان میں سرخ روشنائی ویدوں میں حروف علت (Vowels) کی نشاندہی کے لیے اور حاشیے بنانے کے کام آتی تھی۔ نجومی کنڈلی بنانے میں سرخ دائرہ سرخ روشنائی سے بناتے تھے۔ بعض اوقات باب کے خاتمہ ’پربھگوان اُباچ‘ یا ’رشی اباچ‘ جیسے الفاظ سرخ روشنائی سے لکھے جاتے تھے۔
امرا اور صاحبان دولت سنہری اور روپہلی روشنائی ادبی اور مقدس تصنیفات تحریر کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ مغربی ہندوستان کی جین لائبریریوں اور عہد مغلیہ میںا یسی روشنائی کے مخطوطے کافی تعداد میں ملتے ہیں۔
مختلف رنگوں کی روشنائی بنانے کا طریقہ حسب ذیل ہے:
عام قسم کی یعنی دھل جانے والی روشنائی سرمہ، کتھا اور گوند کو ملا کر بنائی جاتی تھی۔
درخت کی چھال پر لکھنے والی سیاہی بادام کے چھلکوں کے کوئلے اور راکھ کو گائے کے پیشاب سے ملا کر بنائی جاتی تھی۔ افتاد زمانہ سے جب ایسی روشنائی دھندلی ہونے لگتی ہے تو پانی سے صاف ہوجاتی ہے۔ اس طرح گندگی دور ہوجاتی ہے تو تحریر واضح ہوجاتی ہے۔
مستقل یعنی نہ مٹنے والی روشنائی یوں بنائی جاتی کہ تل کا تیل جلا کر کالکھ حاصل کی گئی، اس میں گوند اور تھوڑا پانی ملایا گیا، کئی گھنٹے تک اس کو لوہے کے کھرل میں لکڑی کی موسلی سے کوٹا جاتا پھر اس لگدی کو تھوڑے پانی کے ساتھ مازوپھل ملا کر چند گھنٹے کھرل میں کومٹ لیا جاتا اور اس کو دھوپ میں سکھا کر ٹکرے بنا لیے جاتے۔
آسام میں روشنائی یوں بنائی جاتی تھی کہ Silica Terminalia Citrina کو بیل کے پیشاب میں ملا دیا جاتا تھا۔
بنگال میں روشنائی Terminalia Chebula کو Terminalia Bellerica کے ساتھ ملا کر چراغ سے حاصل کی ہوئی کالکھ اس میں شامل کرکے تیار کی جاتی تھی ایسی روشنائی کافی عرصہ تک باقی رہتی تھی۔ 114؎
اس کے علاوہ روشنائی بنانے کے بہت سے طریقے ’پنتھی پریچیہ‘ کی جلد اوّل و دوئم میں بتائے گئے ہیں یہ کتاب وشوبھارتی سے چھپی ہے۔ 115؎
سرخ روشنائی بنانے کے دو طریقے تھے۔ اس روشنائی کو الکٹا کا یا آلٹا کہا جاتا ہے۔ پیپل کے گوند کومٹی کے برتن میں ابال لیا جاتا اور اس میں سہاگی یا لودھرا ملا دیا جاتا ہے۔
دوسرا طریقہ سرخ رنگ Vermilion میں گوند اور پانی ملا کر روشنائی تیار کرنے کا ہے۔
سنہری اور روپہلی روشنائی اس طرح بنائی جاتی تھی کہ سونے اور چاندی کے ورقوں میں گوند شامل کرلیا جاتا۔ جس کاغذ پر اس روشنائی کو استعمال کیا جاتا اسے چکنے پتھر یا سیپی سے گھس لیا جاتا تھا تاکہ حروف چمکنے لگیں۔
نہ نظر آنے والی روشنائی کا ایک دلچسپ انداز کوچ بہار کے راجہ نے استعمال کیا۔ ایک خط اہوم راجہ سوکھمپا کھورا راجہ (1552-1611 A.D) کو بھیجا گیاتھا۔ اہوم دربار باوجود اپنی عقلمندی کے اس خط کو پڑھنے سے قاصر رہا۔ ایک فاضل نے اس تحریر کو اندھیرے میں لے جا کر پڑھا اس وقت الفاظ چمکنے لگے کیونکہ انھیں کیچوے (Earth Worm) کے رس سے لکھا گیا تھا۔ 116؎
عہدمغلیہ میں ہندوستانی روشنائی کو درجۂ کمال تک پہنچا دیا گیا اور اسی روشنائی کو مخطوطات وغیرہ تحریر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا، اس کے علاوہ سیاہ پنسلیں عہد مغلیہ میں ’قلم سراب‘ کے نام سے استعمال میں لائی گئیں۔
دوات
قدیم حتیٰ کہ ماقبل تاریخ ہندوستان میں بھی فن تحریر کوئی اجنبی چیز نہ تھی، چنہودار دادرموہن جودارد مقامات سے دوات کی دریافت اس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ (پلیٹ IV)
چنہودار و کی مختلف دریافتوں میں سے ایک دوات بالکل ویسی ہی ہے جیسی آج کل دیہاتوں میں استعمال ہوتی ہے۔ یہ چھوٹی چیز جو بری طرح شکستہ ہوگئی ہے۔ 1.89 انچ اونچی ہے اگرچہ اس پر روشنائی کا کوئی دھبہ باقی نہیں ہے لیکن یقینی طور پر یہ بحیثیت دوات استعمال ہوئی ہوگی۔ یہ ہاتھ کی بنی ہوئی ہے اور عمدہ کاری گری کا نمونہ ہے۔ اس کے چاروں کونے، اسے ایک امتیاز بخشتے ہیں۔ اس کے اندر کا گڑھا جو اوسطاً ایک انچ چوڑا ہے پوری طرح گول نہیں ہے اور 1.52 انچ گہرا ہے۔ 117؎
ایک اور دوات موہن جوداڑو میں دریافت کی گئی۔ مارشل اور سر آرتھر ایونس 118؎ دونوں نے اسے بحیثیت دوات تسلیم کیا ہے جس کی شکل سر اٹھائے اکڑوں بیٹھے درندے کی ہے۔ ’’اس دوات کا سر عمدہ لیکن اگلی اور پچھلی ٹانگیں بھونڈی وضع کی ہیں۔ اندر سے خالی ہے اور پشت کی طرف 0.62 انچ کا چکردار منہ ہے۔‘‘
’’اس میں کافی مقدار میں روشنائی آسکتی تھی اور اندر سوف ہوتا تھا جیسا کہ آج کل مشرقی دواتوں میں ہوتا ہے تاکہ روشنائی کی نمی ختم نہ ہو۔ یہ درست ہے کہ اس میں روشنائی کے داغ دھبے نہیں پائے جاتے ہیں، لیکن زمانۂ قدیم میں روشنائی میں دھبے ڈالنے کی صلاحیت ہی نہ تھی۔ وہ سوکھنے کے بعد بھی فوراً مٹ سکتی تھی۔ ہمیں توقع کرنی چاہیے کہ موہن جودارو کے باشندے روشنائی استعمال کرتے تھے جس چیز پر یہ لوگ مخطوطات اور خطوط وغیرہ لکھتے تھے یعنی لکڑی اور درخت کی چھال وغیرہ وہ فنا ہوگئے، ان پر دھات کے قلم کے نشانات نہیں بن سکے تھے۔‘‘ (پلیٹ VI)
تین دواتیں روشنائی کے دھبوں کے ساتھ ہری نرائن پور ضلع چوبیس پرگنہ مغربی بنگال میں پائی گئی ہیں (پلیٹ VII) داہنے کو نہ پر رکھی ہوئی دوات کا غالب رنگ بھورا ہے اور سفیدی مائل چاک کی دھاری ہے۔ دوسری دو دواتیں ہیں جو مسیحی عہد سے پہلے کی ہیں اور ان کے ساتھ سکّے اور موتی ملے ہیں جو دوسری صدی یا پہلی صدی قبل مسیح کے آخر کے ہوں گے۔
ٹکسلا میں مٹی کی اور تانبے کی بنی ہوئی مختلف سائز اور وضع کی کئی دواتیں ملی ہیں ان میں تانبے کی دواتیں قابل ذکر ہیں جن میں سانپ کی شکل کا دستہ ہے اس میں زنجیر کے ساتھ ڈھکن لگا ہوا ہے۔ (پلاٹ VIII)
سرجان مارشل نے اپنی رپورٹ ٹکسلا جلد دوئم میں ان تمام دواتوں کا بیان تفصیل کے ساتھ کیا ہے جو پہلی صدی عیسوی کی ہیں۔ ٹکسلا میں دریافت شدہ ایک دوات میں کالی روشنائی مٹی کے ساتھ ملی ہوئی پائی گئی۔ 120؎
اس کے بعد کے زمانہ میں قلمدانوں کو مسی بھجنم (Masibhajnam)121 مسی پترا، مسی بھنڈا، مسی کپکا، مسی مانی، ملامندا، میلندھو اور میلن ڈھوکاناموں سے یاد کیا جاتا تھا۔ 122؎
عہد سلطنت میں لفظ دوات استعمال ہوا ہے اور محمد تغلق کے دوات کے محافظ کو دوات دار کے نام سے موسوم کیا جاتاتھا۔ 123؎
پرکار، مسطر وغیرہ
کنڈلیوں و جنم پتروں کے دائرہ بنائے اور باب کے خاتمہ پر کنول کے پھول بنانے کے لیے لوہے کا پرکار استعمال کیا جاتا تھا۔ بعض اوقات چپٹا کیے لوہے کے قلم ایک دوسرے کو کاٹتے ہوئے دائرے اور قوسین کھینچنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ (پلیٹ V) 129؎
مسطر پیمانہ یا ریکھا پٹی یا سامس پٹی سیدھی لکیریں یا متوازی خطوط کھینچے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔ مسطر لکڑی یا وقتی کا بنا ہوتا تھا اور مقررہ فاصلہ پر اس میں لکیریں بنی ہوتی تھیں۔ ایسے مسطر کے دو فوٹو مندرجہ ذیل کتابوں میں ملتے ہیں:
- 1, 3, 66 and Anzuger d.w. Akademic 1897 No. VIII
- Aneedola Oxoncinsia Aryan Series.
’سی کلم (C. Klemm) کے ایک خط مورخہ 21 اپریل 1897 میں جو (Ethno-Logical Museu M, Berlin) میں محفوظ ہے۔ دو نمونے ملتے ہیں۔ ایک کلکتہ کا ہے جس پر نویدن پتر لکھا ہے اور ایک مدراس کا ہے جس پر کدوگو (Kidugu) تحریر ہے۔‘‘ 125؎
کاغذ
یہ ایک عام نظریہ ہے کہ سب سے پہلے کاغذ 105ء میں چین میں بڑے پیمانہ پر بنایا گیا۔
لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہندوستان کے باشندے کاغذ کے استعمال سے اور روئی سے کاغذ بنانے کے فن سے مسیحی دور سے بھی پہلے سے واقف تھے۔ اس بات کی تصدیق یونانی مصنف نیرکوس کی تحریر سے ہوتی ہے۔ نیرکوس نے 327 قبل مسیح میں ہندوستان کا دورہ کیا۔ 126؎
اٹسنگ چینی سیاح نے ساتویں صدی کے آخر میں ہندوستان کا دورہ کیا۔ اس نے لکھا ہے کہ ’’پجاری اور عام آدمی مٹی سے مورتیاں بناتے تھے یا مہاتما بدھ کی تصویر کاغذ یا ریشم پر چھاپتے تھے اور چڑھاوے چڑھا کر اس کی پوجا کرتے تھے۔‘‘ 127؎
اس بیان سے بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ کاغذ ایک کمیاب چیز تھی اور ساتویں صدی میں ہندوستان میں خاص مذہبی مقاصد کے لیے اس کا استعمال ہوتا تھا۔
اس کمی کے باعث اٹسنگ نے چین سے کاغذ منگوایا جیسا کہ اس کی لکھی مندرجہ ذیل سطور سے واضح ہوتا ہے:
’’میں دریائے بھوگ کے کنارے پر گیا کہ کسی تاجر کے ذریعہ کوانگ چو (کوانگ ٹنگ) کو پیغام بھیج سکوں، دوستوں سے ملوں اور درخواست کروں کہ کاغذ اور روشنائی کی ٹکیاں مجھے بھیجی جائیں تاکہ برہم سوتروں کی نقل کی جاسکے اور نقل نویسوں کی اجرت دی جاسکے۔‘‘ 128؎
اگرچہ ہندو ستان میں کاغذ سازی تیسری صدی قبل مسیح میں ہی تھی لیکن اسے بطور سامانِ تحریر استعمال نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ یہ گرم مرطوب آب و ہوا میں زیادہ دن نہیں چل پاتا نیز دوسرے سامانِ تحریر آسانی سے مہیا تھے، مثلاً کھجور کی پتیاں، بھوج پتر وغیرہ۔
کاغذی تحریروں کے ابتدائی نمونے وسطی ایشیا کے کاشغر اور کوگیر مقامات سے حاصل ہوئے ہیں وہ پانچویں صدی عیسوی کی گپتا طرز تحریر ملیں مرقوم ہیں۔ 129؎ یہ بتانا مشکل ہے کہ جو کاغذ ان میں استعمال ہوا ہے وہ ہندوستان کا بنا ہوا ہے۔
مندرجہ ذیل شواہد سے واضح ہوجائے گا کہ ہندو ستان میں 1000 سے کاغذ برابر استعمال ہوتا رہا ہے۔
M.A. Stein (ایم اے اسٹین) اپنے جموں مخطوطات کے کیٹلاگ میں (1849) کاغذ پر لکھی قلمی کتاب ستپتا برمہنا (Satapatha Baramhana) مورخہ 1089 کا ذکر کرتا ہے۔ 130؎
Buhler (بوہلر) اپنی انڈین پیلیوگرافی میں سب سے قدیم کاغذی مخطوطہ مورخہ 1223-24 کا ذکر کرتا ہے جو گجرات سے حاصل ہوا تھا۔ 131؎
بھاگوت کے کاغذی مخطوطے مورخہ 1310 کا حوالہ (Gough) گف کے ایک مقالہ میں ملتا ہے۔ 132؎ بڑودہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پونا میں ایک کاغذی مخطوطہ طب پر ہے اور اس کا نام وانگ دتا ویدیا (Vangadatta Vaidya) ہے۔ اس کو ونگ سین (Vangasena) نے تحریر کیا تھا اور یہ 1320ء کا ہے۔ 133؎ 1345-50 میں محمد تغلق نے ہندوستان میں کاغذی سکہ کا آغاز کیا۔ ہمیں لفظ ’کاگد‘ 134؎ مراٹھی مخطوطہ مؤرخہ 1395ء میں اور جین مخطوطہ رسبھ دیوچرتا (Rasbhadeva Charita) مورخہ 1396 میں ملتا ہے جو کاغذ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ 135؎
پروفیسر کپاڈیا لکھتے ہیں:
’’ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کاغذ سب سے پہلے گجرات میں کمار پال (1143-74 A.D) اور وستوپال کے عہد میں استعمال ہوا جیسا کہ Jinamandangani کی Kumar Pala-Parbhanda سے اور Ratnamamragani کی کتاب اپدیش ترنگنی Upadesatarangini سے ظاہر ہوتا ہے۔‘‘ 136؎
1406 میں ہندوستان میں بنگال اور دوسرے مقامات پر کاغذ بڑے پیمانہ پر بنایا جاتا تھا۔ 137؎ سلاطین کشمیر نے پندرہویں صدی میں کاغذ سازی کی تعلیم کے لیے ایک تکنیکی اسکول قائم کیا تھا۔ 138؎ لیکن زمانہ قدیم سے ہی دیسی کاغذ بنانے کے مرکز موجود تھے جو اب تک ملک کے کچھ حصوں میں اپنے ڈھنگ سے کام کررہے ہیں چاول یا گیہوں کی لگدی کو پتلے تختوں پر پھیلا دیا جاتا ہے اور خشک ہونے کے بعد گھونگے سے یا چکنے پتھر سے ان پر پالش کردی جاتی ہے۔ 139؎
باوجود اس حقیقت کے کہ کاغذ دوسرے سامانِ تحریر کی طرح ناپائیدار تھا۔ مغلوں نے اس کو بغداد و قاہرہ کی روایات کی پیروی میں رائج کیا۔ 140؎ کاغذ کے استعمال کو عہد مغلیہ میںا یسا عروج حاصل ہوا، اسے ’کاغذی راج‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 141؎
مغلیہ دور میں عمدہ قسم کا کاغذ کشمیر، سیالکوٹ، لاہور، راج گیر، اورنگ آباد اور احمد آباد میں تیار کیا جاتا تھا۔ 142؎ سیالکوٹ عمدہ قسم کے کاغذ مثلاً مانسنگھی اور ریشمی کاعذ کے لیے مشہور تھا جن کی ساخت اچھی تھی وہ زیادہ پائیدار ہوتا تھا۔ 143؎
مغل بادشاہ کشمیر کے بنے ہوئے عمدہ کاغذ کو بہت پسند کرتے تھے۔ یہ کاغذ بوسیدہ کپڑوں اور سن کے ریشوں کو چاول کی پیچ میں گھول کر بنایا جاتا تھا۔ بہترین کاغذ شہزادپور میں تیار کیا جاتا تھا اور دوسرے ملکوں کو برآمد کیا جاتا تھا۔ 144؎ عام استعمال کے لیے معمولی قسم کا کاغذ بھی ہوتا تھا۔ کاعذ بنانے کے ایسے بہت سے مرکز جن کو کاغذی پورہ کہا جاتا تھا مغل راجدھانیوں کے پاس ہی واقع تھے۔ 145؎
کاغذ بنانے کے لیے جو کچا مال استعمال ہوتا تھا ان میں درختوں اور جھاڑیوں کی چھال اور پرانے کپڑے وغیرہ شامل تھے۔ ان کو لکڑی کی موسل سے کوٹا جاتا اور کئی دن تک پانی میں ڈبو دیا جاتا۔ جب لگدی تیار ہوجاتی تو اس کو تھوڑے پانی کے ساتھ ایک ایسے بڑے برتن میں ڈالا جاتا جس میں چونے کا کچھ حصہ موجود ہوتاا ور اس کو کوٹنے پیسنے کا سلسلہ جاری رکھا جاتا۔ سیول کے درختوں سے حاصل کردہ گوند اور پھٹکری اسی بڑے برتن میں گھول دیے جاتے تھے۔
کاغذ بنانے والے کاریگر بانس کے بنے ہوئے سانچوں میں یہ لگدی اٹھاتے اسی طرح کاغذ کے تختے تیار ہوجاتے پھر ان کو سکھانے کے لیے ٹانگ دیا جاتا تھا۔
مغلوں کے کاغذ کے استعمال نے کافی حد تک مراٹھوں کو متاثر کیا۔ شواجی کے خزانوں کی رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ گیارہ ہزار زرافشاں دستے یعنی سنہرے کاغذ کے، بیس ہزار دستے بالاپوری کاغذ کے، دو ہزار دستے دولت آبادی قسم کے کاغذ کے اور پینتیس ہزار دستے سفید کاغذ کے موجود تھے۔ یہ رپورٹ ان کے بیٹے شمبھوجی کے حکم کے مطابق تیار کی گئی تھی۔ 146؎
اونگٹن Ovington نے اپنی ایک کتاب سفرنامہ سورت مورخہ 1689 میں لکھا ہے کہ معمولی ہندوستانی کاغذ چکنا اور چمکدار ہوتاتھا، لیکن سنہرا سجا ہوا کاغذ جس پر کہیں کہیں پھول بکھرے ہوتے تھے، بادشاہوں نوابین اور امرا کو مخاطب کرنے میں استعمال کیا جاتا تھا۔ 147؎ کاغذ کو چکنا بنانے کے لیے گوند اور ہندوستانی روشنائی ملائی جاتی تھی۔
دیسی کاغذ بنگال کے مختلف علاقوں میں بنتا تھا مثلاً کلکتہ، دیناج پور، پٹنہ، گا اور شاہ آباد یہ سلسلہ 1793 سے 1833 تک جاری رہا۔
گیا کے علاقہ میں اراول کا مقام عمدہ قسم کا کاغذ بنانے کے لیے مشہور تھا۔ اراول کا ہر ایک کاغذ بنانے والا سال میں تقریباً سورِم (Reams) بناتا تھا جو تین چار روپے فی رِم (Ream) کے حساب سے فروخت ہوتا۔ سن اور پٹ یعنی جوٹ وغیرہ کاغذ بنانے کے خاص اجزا تھے۔ 148؎
لیکن جنوبی ہند میں کاغذ سازی کی ایک مختلف ہی تصویر نظر آتی ہے۔ اٹھارہویں صدی کے آغاز میں عیسائی مشنریوں نے اپنے مذہب کی ترویج میں کتابوں کی اشاعت کو بوجہ کمی کاغذ سخت مشکل پایا۔ اس بیان کی تصدیق مندرجہ ذیل اقتباس سے جو ڈنمارک کے ایک مشنری بارتھولمیو زیگنبالگ (Bartholemen Ziegenbalg) کے خط سے لیا گیا ہے ہوجائے گی۔ یہ مشنری پادری ہندوستان میں 1706 میں آیا۔ خط 14 جون 1709 کا لکھا ہوا ہے اور حسب ذیل ہے:
’’مقامی باشندے نہ کاغذ استعمال کرتے ہیں نہ چمڑا نہ روشنائی، نہ قلم بلکہ لوہے کے اوزار سے ایک خاص درخت کی پتیوں پر نقوش کھود دیتے ہیں۔ یہ درخت تاڑ کے درخت سے مشابہ ہے۔ 149؎ اس نے 3 جنوری 1714 کو دوبارہ لکھا۔ ’’کاغذ کی کمی نے ہمیں مجبور کردیا ہے کہ احساسات کو خطوط کی حد تک رکھیں۔‘‘
کاغذ کی کمی کے مسئلہ کو حل کرنے کے لیے زیگن بالگ Zeigenbalg کا خط مورخہ 16 جنوری 1716 ہمیں مندرجہ ذیل معلومات فراہم کرتا ہے:
’’اب ہم مشن کے مفاد کے پیش نظر کاغذ کا ایک کارخانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ ہمارے معزز گورنر اور میں مل کر آدھا خرچ اٹھاتے ہیں اور آدھا خرچ مشن ا ٹھاتا ہے۔ لکڑی کا کام ختم ہوگیا ہے، چند دن بعد ہم تعمیری کام شروع کردیں گے۔ اگر خدا نے اس ڈیزائن کو کامیابی بخشی تو مشن اور ہندوستان دونوں کے حق میں یہ مفید ہوگا۔‘‘ 150؎
مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان میں کاغذ سازی چینی ایجاد سے پہلے معروف تھیں لیکن قدیم ہندوستان میں چند اہم مشکلات کی وجہ سے کاغذ کاا ستعمال اتنا عام نہ تھا۔ 1000ء سے کاغذ کے استعمال میں برابر اضافہ ہوتا گیا اور کاغذ سازی کی صنعت عہد مغلیہ میں اپنے عروج پر پہنچی۔
کاغذ سازی انیسویں صدی کے وسط تک شمالی ہندوستان میں فروغ پاتی رہی لیکن یوروپی باشندوں نے جب کاغذ کی ملیں قائم کیں تو دیسی کاغذ سازی ختم ہوگئی چنانچہ کاغذ کے کارخانوں کی ابتدا ہندوستان میں کاغذ سازی کی تاریخ کا ایک نیاباب ہے۔
کاغذ کے اسٹینسل (Stencils)
ہندوستان میں عہد وسطیٰ میں کاغذ کے اسٹینسل (Stencils) استعمال ہوتے تھے۔ اس کے نمونے ولبھ چاریہ فرقے کے ویشنو مندروں میں ملتے ہیں جو شمالی اور مغربی ہندوستان میں ہیں۔ ایسا ایک نمونہ اورینٹل انسٹی ٹیوٹ کلکشن بڑودہ (Oriental Institute Collection Broda) میں نمبر 1305 میں محفوظ ہے۔ اس Stencil میں دس پرت ہیں اور اس کا نفس مضمون سنسکرت گیت گوند ہے۔ ہر ایک پرت کا سائز 91/8×4 ہے۔ اس میں رقبۂ تحرری 75/8×1/4 ہے اور باقی جگہ چاروں طرف حاشیہ کے لیے چھوڑی گئی ہے۔ ان اوراق کو صرف ایک طرف پڑھا جاسکتا ہے جیسے سوراخ کرکے ڈیزائن اور مصوری ہوتی ہے۔
ہماری خوش قسمتی ہے کہ اسٹینسل پر لکھنے والے خطاط کا نام اور پتہ موجود ہے۔ اس فنکار کانام دیوکرشن تھا۔ وہ ایک برہمن تھا اور ناٹاپدرا کا باشندہ تھا۔ ناٹاپدرا کا موجودہ نام نادریاد ہے جو وسطی گجرات کے کیرا ضلع میں واقع ہے۔
ان اسٹینسلوں کے بارے میں مسٹر ایم آر موجمدار ہمیں بتاتے ہیں کہ اسٹینسل خشک رنگوںکے ذریعہ چکنی سطح پر عارضی تصویر بنانے کے کام میں لائے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد تھا کہ کاغذ، کپڑے یا نرم دیوار پر وہ ڈیزائن اتار لیا جائے جو اسٹینسل میں سوراخ کرکے پہلے بنایا ہوا ہے۔
حواشی - I.A. Vol.: 1, 1947, P. 234
- Si-yu-ki (Tr. by Beal) V. 2, P. 164-65
- Arthaa-astra (Tr. by Sastry), P 122
- Life of Hieun-Tsang, Trubner, 1911, p. 146
- Ain-i-Akbari (Jarrett), II, p. 126 and 351
- The Voyages of, to the West Indies, the Maldives etc.
(Tr. by Albert Gray) Vol. II, P. 408 - Indian travels by Theverot and Careri, pt. III, p. 90
- Kleimere Sanskrit Text. P. 1 (Pub. by Dr. Luders).
- J.A.S.B, Vol. 66, P. 218, Plate 7.
- Indian Paleography, R.B. Pandey, P. 70
11,12,13. Catalogue of Palm leaf and selected paper has belonging to the Darbar Library, Nepal, Edited by Haraprasad Sastry. p 52 (Introduction) - Aspects of Bengali Society from old Bengali literature, T.C. Dasgupta, p. 167-68
- Abhijnana-Sakuntala, Canto 3rd
- Yogini Tantra as Quoted in Visva- Kosha, v. 12, p. 27
- Alberuni’s India: Sachav, t, p. 171
- Alberuni’s India: Sachau, 1, p. 171
- Bothlingk and Roth-Sanskrit Worterbuch aee under ‘Bhurja’.
- Strabo, XV. 117
- Indian Paleography, Pandey, p. 69
- Indian Paleography, Pandey, p. 69
- Ariana Antiqua, H.a. Wilson, pl. 3 at p. 54 No. 11 and also Indian Paleography, Pandey, p. 69
- J.A.S.B. 65, 225 ff.
- Deacriptive Catalogue of Assamese Mas; F.C Goswami, p. XV. (Introduction).
- J.A.S.B. Vol. ixiii, Part 1 (1894), p. 109
- Descriptive Catalogue of Assamese Msr. p.xv, (Introduction).
- Yogini Tantra, 2.7
- J.A. H.P.S. Vol. 8, Pt. 4, P. 206
- Puddhist India, Rhys Davies, P. 108-9
- Kat-haka Jataka (No. 125).
- Lalitavistara (Eng. Tr.) P. 101-85
- Report of the Archaeological Survey, West India, 4.102, (Nasik No.7, 1.4 in B): Indian Paleography, Buhler, P. 88
- South Indian Paleography, Burnell, P. 87
- Das-Kumar Charita, Ucchvasa 2.
- Indian Paleography, Pandey, P. 74
- Survey of India’s Social Life and Economic Condition in the Eignteenth Century, K.K. Datta, P. 20-21
- Indian Paleography, Ojna, P. 72
- Mysore Archaeological Survey Report, 1926
- J.A.H.R.S. Vol. 8, P. 206
- J.A.H.R.S. Vol. 8, P. 206
- Indian Paleography, Buhler, P. 88
- Archaeological Survey Report. West India, 4. 104 ff. Nasik Ins. No. 11A.B in B.
- Gaekwad’s Oriental Series, vi.lxxvi.
- Peterson’s Report, P. 113
- A Catalogue of Sanskrit Manuscripts at the D.H.A.S.P.C Chwdhury, P. vi
- Alberuni’s India, Vol. II, P. 11
- Indian Paleography, Buhler, P. 88
- Vasavadatta (Hall’s Edt.) P. 182
- Indian Paleography, Buhler, P. 90
- Ancient Khotan, Stein, P. 345
- The Commercial Products of India, G. Watts, P. 636
- Proceedings of the A.S.B 1896, P. 100-103
- Indian Paleograhy, Pandey, P. 77
- V.B. Quarterly, Vol. 21, No.1, P.: 45-46
- Archaeological Survey Report, 1903-4 (Plate 60-62) + I.A. vol. 14 P.7, Indian Paleography, Pandey, P. 77
- Further Excavations at Mohenjodaro, Mackay, Vol. 1
- Indian Studies, Buhler, III, 10 f.
- Elements of South Indian Paleography, P. 90-93
- Corpus Inscriptionum Indicarian, V. II, P.1. P. 83, Plate XVII
- Indian Paleography, Buhler, P. 90
- Corpus Inscriptionum Indicarian, Vol. II, P. 1, P. 70 and 81
- Prachin Lipimala, Ojha, P. 152 ff.
- J.A.H.N.S. Vol. 8, P. 207
- I.A., Vol. V, No.1
- Indian Paleography, Buhler, P. 93
- E.I. Vol. 9, P. 136
- Ibid., 12, P. 172-186
- Tamil and Sanskrit Inscriptions, Burgese, P. 206-16
- J.A.H.R.S Vol.8, P. 203
- Indian Paleography, Buhler, P. 90
- Proceedings of the A.S.B. P. 1894, P.1
- Si-yu-ki (Beal): 1.XXXVIII.
- Young-Chawang, Walters 1, P. 271
- Rig Veda, Vol. 1, P. XVII
- South Indian Paleography, P. 86
- J.A.H. R.S Val. VIII. P. 207
- Journal of the Pali Text Society, 1883, 137 ff.
- Indian Paleography, P. 95
- Ibid. P. 95
- Ibid. Panday, P 82
- Ibid, Panday,P 82 ff
- Ibid, Panday, P. 83
- Corpus Ins. Ep. Vol. 3, 139
- Indian Paleography, Ojha, P. 154
- Year Book of the Royal A.S.B, P. 57, Vol. XIV, 1960
- Travels in India in 17th cy. (1873): Frayer John and Sir Thomas Roe, P. 312
- Same as No. 14, P. 167-69
- Survey of India’s Social Life and Economic Condition in the Eighteenth Century, K.K. Datta, P. 20
- New Indian Antiquary, vol. 1, Sept., 1938, Plate VI
- Ibid
- Indian Paleography, Pandey, P. 85
- Commercial Products of India, Watt, P. 863
- Lalitavistara, ch. x, P. 181-95
- Amarkosha, III, 5, 38
- Dasakumar Charita, Ucchavasa II (Coloured Pencil)
- Malati Madhava 1.2
- Indian Paleography, Buhler, P. 92
- Ibid
100 Ancient India, No.9, 1953, Fig. 4 - The Commercial Products of India, Watt, 1908, P. 863
- A Voyage to Surat in the Year 1996: J.A. Ovington, P. 249-60
- Tuzak-i-Jahangiri (Rogers and Beveridge) Vol. 1 P.1
- A Voyage to Surat in the Year 1969, P. 249
- Yogini Tantara, 2.7
- Indian Paleography, Buhler, (. 91
- Strabo, L.C. XV., 117, Hist. Alex. VIII. 6
- Indian Paleography, Buhler, P. 91
- Ibid., P 91
- Ibid, P 82
- Ibid, P. 92
- Archaeological Survey Report, West India, 4 Plate 59 (Indian Paleography, Buhler, P. 92)
- Archaeological Report, 1929, 30, 209
- Aspects of Bengali Society from old Bengali Literature: T.C, Dasgupta, P. 167-169
- Peathi-Parichaya, Visva-Bharati, V. 1, P. 190, V. 2, P. 35
- Descriptive Catalogue of Assame Mss., Baroa.
- Chanu Daro Excavations, Mackay, P. 220, Plate XCI, 2
- Place of Mines, Sir A. Evans, Vol.III, P. 422-6.
- Further excavations of Mohenjodaro, Mackay, Vol. 1, P. 188, (No. 23 in Plate LXVI).
- Taxila, Marshall, Vol 2. P 422-23 and 597
- Mudra-Baksasa. Conto 1.
- Indian Paleography, Buhler, P. 91
- A History of the Qarauaah Turks in India: Iswari Prasad, S. 276
- Prachin Lipinala, Ojha, P. 157
- Indian Paleography, Buhler, P. 92
- Strabo. (L, C. XV, 117)
- I-Tsing’s records (Takakusu), P. 150
- Ibid, P. XXXIV
- Indian Paleography, Pandey, P. 70
- Catalogue Jammu Mss. 1894, P. 8
- Indian Paleography, Pandey, P. 70
- Gaugh’s Papers, P. 74
- Baroda Oriental Research Institute, Poona: (Govt. Mss. Library,k No. 352 of 1879-80).
- Shiva Charita Manasa, Khanda 7, (Poona, 1938)
- Prasasti Samgraha, A.M. Shah, Ahmedabad, 1937
- B.U.J. May, 1938, P. 105
- J.R.A.S.B. 1895, P. 529-33
- Kashmir Under the Sultans, Mohibbul Hasan, P. 241
- Prachina Libimala, P. 144
- Memoirs of Babur (Erksine) 6, P. 52
- Mughal Administration, J.N Sarkar (4 ed), P. 10
- I.A., Vol. 8, No.1, P. 43.
- India of Aurongzeb, J.N. Sarkar, 1901, P. 95
- Travels, in Europe and Asia, Petumundy, V.II, P. 98
- I.A. Vol. 8, No. 1, P. 43
- Ibid, P. 43
- Ibid, P 43
- Economic Transition in the Bengal Presidency (1793-1933), Hari R. ghosal, Patna University 1950), P. 16 ff
- Propagation of the Gospel in the East, 3rd Ed. 1718, Part II, P. 17
- Ibid, P17
ماخذ: ہندوستان کے زمانۂ قدیم و وسطیٰ کے کتب خانے، مصنف: بمل کمار دت، مترجم: سرتاج احمد عابدی، دوسرا ایڈیشن: 2002، ناشر: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی