انجم مانپوری: صحافی، شاعر اور طنز و مزاح نگار،مضمون نگار:محمد جمیل اختر جلیلی

January 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

انجم مانپوری کااصل نام ’نورمحمد‘ ہے،جب کہ قلمی نام ’انجم مانپوری‘ ہے۔ معروف اپنے قلمی نام سے ہی ہوئے، ان کی پیدائش 1300ھ مطابق 1881 میں ضلع گیاکے موضع ’مانپور‘ میں ہوئی، ان کے والدکانام’شیخ باقرعلی‘ تھا، جوپیشے سے تاجرتھے، ان کی پانچ نرینہ اولادیں ہوئیں، ایک کا بچپن ہی میں انتقال ہوگیا، باقی چار لڑکے: حاجی دلاورحسین، وزیرمحمد، عبدالکریم اور نور محمد (انجم مانپوری) نے اپنے حصے کی زندگی پوری کی، انجم مانپوری بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔
ان کی تعلیم کاآغاز حسبِ رواج ناظرہ قرآن شریف سے ہوا، پھرابتدائی عربی وفارسی کی تعلیم کے لیے وقت کے ممتاز اورجیدعلما :مولاناخیرالدین مرحوم اورمولانا عبدالغفار مرحوم کے مکتب میں شریک کیے گئے، جہاںعربی، فارسی اوردینیات کی تعلیم مذکورہ دونوں علما کی خصوصی نگرانی میںحاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ’دارالعلوم ندوۃ العلما‘ لکھنؤ گئے، جہاں علامہ شبلی نعمانی جیسی نابغۂ روزگار شخصیت کی شاگردی کی سعادت اور سیدسلیمان ندوی جیسے طا لب علم کی رفاقت نصیب ہوئی، ظاہر ہے کہ تعلیم وتربیت میں جس طرح نصاب، نظام اور ماحول کا اثرہوتا ہے، اسی طرح استاذ اورہم درس رفقا کا بھی خاصا اثرپڑتا ہے؛ چنانچہ ان پربھی پڑا، اسی اثرکانتیجہ تھاکہ ندوہ سے فراغت کے بعدبھی ان کی علمی تشنگی ’صدائے ھل من مزید‘ لگاتی رہی اوریہ اس کی سیرابی کے لیے ’شاہی مسجد‘ مرادآباد چلے گئے اور وہاں وقت کے اساطین علم: مولانا احمدحسن امروہوی اور مولانا محمودحسن سہسوانی سے اکتساب فیض کیا، پھر واپس اپنے وطن گیا آگئے۔(کلام انجم مانپوری، مضمون بہ عنوان: شخص وعکس، از: معین شاہد، ص22-23، مانپوری: احوال وآثار، از: اظہارخضر، ص:1-2)۔
تعلیمی لحاظ سے ایک مرحلے کی تکمیل کے بعداب اوروں کی طرح انجم کوبھی فکرمعاش نے ستانا شروع کیا؛ چوں کہ ان کاپوراگھرانہ تجارت سے منسلک تھا، والد صاحب اپنے شہرکے اچھے تاجروں میںشمارہوتے تھے، تمام بھائی بھی تجارت سے جڑے ہوئے تھے؛ چنانچہ انھوں نے بھی اسی راستے کو اختیار کرنے کاارادہ کیا اور اس کے لیے 1907 میں اپنے ایک دوست حافظ رفیق کے ساتھ مل کر ’رفیق انجم کمپنی‘ کے نام سے ایک ٹیلرنگ شاپ کھولی، ایک اوردکان انھوں نے ’انجم ہارڈویئر شاپ لوہادکان‘ کے نام سے قلب شہر میں کچہری روڈ پر کھولی، انجم ہی کی طرح اس دوکان کی شہرت پورے صوبۂ بہار میںتھی(مانپوری: احوال وآثار، ص4،انجم مانپوری، از: ڈاکٹرسیداحمدقادری، ص14) ؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے انھیں اس کے لیے پیدا ہی نہیں کیا تھا۔
چنانچہ ان تجارتی اورمعاشی تگ ودو کوچھوڑ کراس کام کی طرف قدم بڑھایا، جس کے لیے انھیں پیدا کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت کے مشہور زمانہ اخبار ’زمیندار‘ کے ایڈیٹرمولاناظفرعلی خان کے پاس لاہورچلے گئے، جہاں انھیں ’زمیندار‘ کاسب ایڈیٹربنایاگیا۔
مجموعی طور پراگران کی علمی زندگی کامطالعہ کیا جائے توہمیں تین پہلونمایاںطورپر ملتے ہیں (1) صحافت (2) طنز و مزاح نگاری اور (3) شاعری۔
پہلے صحافت پر گفتگو کرتے ہیں:
انجم مانپوری قلم وقرطاس کے لیے پیداہوئے تھے؛ چنانچہ انھوں نے اسی راستے کواختیارکیا اور نمود و شہرت کے اس مقام پرپہنچے، جہاں آج بھی ان کانام علمی حلقوں میں نہ صرف جگمگارہا ہے؛ بلکہ اہل تحقیق وتنقید کا موضوع بنا ہوا ہے۔ انھوں نے کب سے لکھنا شروع کیا؟ اس کا تذکرہ تونہیں ملتا؛ لیکن اتنی بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ طالب علمی کے زمانے سے ہی شغل خامہ فرسائی رہی ہوگی، اسی کے نتیجے میں ان کے قلم میں روانی آتی گئی اور جب علمی افق پروہ نمودار ہوئے تو چھاتے چلے گئے۔
انجم مانپوری کی صحافتی زندگی کاآغاز 1914 سے ہوتا ہے، جب انھوں نے ایک نیم مذہبی رسالہ’رہنما‘ نکالا؛ لیکن اس میدان کی ناتجربہ کاری اور مالی دشواریوں کے سبب وہ زیادہ دن نہیں چل سکا، تاہم صحافت کی اس نا تجربہ کاری نے انھیں تجربہ کاری کادرس دیااورذہن ودماغ میں صحافتی دلچسپی کا ایسا نقش بٹھایا، جس نے بعد میں ’ندیم‘ جیساشہرہ آفاق ماہنامہ کے نکالنے میں خوب مددکی۔
’رہنما‘ نے صحافت کی طرف ان کی رہنمائی کی؛ لیکن یہ سبق بھی دیتاگیاکہ ابھی بہت کچھ سیکھنا باقی ہے، اسی خلش کو لے کر اور کچھ کچھ معاشی پریشانیوں کی وجہ سے 1918 میں وہ لاہورجاپہنچے، جہاں ان کی ملاقات مولاناظفرعلی خان سے ہوئی، وہ اس وقت ’زمیندار‘ نکالتے تھے اوراس کی وجہ سے ظرافت کے دریابہاتے اورطنز کے تیر برساتے تھے۔ ظفرعلی خان نے انجم مانپوری کی بڑی قدرکی، انھیں ’زمیندار‘ کی سب ایڈیٹری سونپ دی، سب ایڈیٹری اور مولاناظفر علی خان کی ہم نشینی سے انجم مانپوری کو نہ صرف صحافتی تجربات حاصل ہوئے؛ بلکہ طنز ومزاح کے فنی نکات کو سمجھنے میں بھی کافی مددملی، اور ان کے عزم وحوصلہ کوپرلگ گئے لیکن وہ چند مہینوں کے بعد لاہور سے واپس گیا آگئے۔
گیاآنے کے بعدسب سے پہلا کام انھوں نے اپنی معاشی حالت کو بہتر بنانے کاکیا، اس میں کئی سال لگ گئے اورجب وہ اپنے معاشی استحکام پرمطمئن ہوگئے توانھوںنے جون 1931 میں گیا ہی سے ایک معیاری ماہنامہ’ندیم‘ کا اجرا کیااوراس شان سے کیا کہ لوگ آج بھی اسے یادکرتے ہیں، یہ ماہنامہ 1931 سے لے کر1938تک انہی کی ادارت میں نکلتا رہا، پھرانھوں نے حالات کے تحت اس ذمے داری سے سبکدوشی اختیارکرلی، جس کے بعدیہ ماہنامہ کبھی مولانا ریاست علی ندوی، کبھی حسن امام وارثی گیاوی اورکبھی مولانا محی الدین ندوی کی ادارت میں 1950 تک نکلتا رہا، اس تعلق سے قیوم خضر لکھتے ہیں: ’’ندیم نے انجم مانپوری کے ادارتی عہد میں جوکارنامے انجام دیے، وہ ناقابل فراموش ہیں، اس ماہنامہ نے اپنا ایک الگ ادبی میدان بنایا، اپنی ایک الگ علمی فضا پیداکی اوراردو دانوں کے درمیان علمی وادبی زندگی کی ایسی لہر دوڑا دی، جس کے نتیجے میں ایک اچھا خاصا ادبا وشعرا کا جرگہ (پنچایت) تیارہوگیا… 1933اور 1936 میں ندیم کابہارنمبرنکال کر ایک نئی روایت قائم کی، ان دو نمبروں نے بہار کی گزشتہ علمی وادبی عظمتوں کی بازیافت کی اورنئے ادبا وشعرا کی تخلیقات پیش کرکے ان کوادبی دنیا میں روشناس کرایا(ارتعاش قلم، ص137)، ندیم کے اس بہارنمبرپرتبصرہ کرتے ہوئے مولانا عبدالماجد دریابادی نے لکھا:
’’دارالمصنفین سے ندیم کا بہارنمبر مل گیا، ماشاء اللہ خوب ہی نہیں،بہت خوب ہے، خصوصاً ادبی حیثیت سے، آپ یقین فرمایئے کہ مجھے بہاروالوں کے ساتھ دلی محبت ہے، یہ بات پنجاب دکن ہی کے ساتھ نہیں، یہاں (تک)کہ اودھ کے باہر صوبہ آگرہ کے لیے بھی نہیں پایا، ندوہ والوں نے مجھے اعزازی ندوی بنالیا، جی چاہتا ہے یوں ہی اعزازی بہاری بن جاؤں۔‘‘
(انجم مانپوری، از: سیداحمدقادری، ص19)۔
1950میں گیا سے ایک رسالہ ’کرن‘ جاری ہوا، انجم مانپوری اس کے نگراں تھے، اس رسالے میں اکثر ان کے مضامین شائع ہوتے رہتے تھے، اس رسالے کاوفد اس کی نشرواشاعت کی غرض سے دوسرے شہروں کادورہ کیا کرتا تھا، انجم بھی اس وفد میں شریک ہوتے تھے، یہ بھی ان کی صحافتی زندگی کا ایک دلچسپ پہلو ہے۔
انجم مانپوری کی طنز ومزاح نگاری میں ایک ایسی دلکش جہت ملتی ہے، جوقاری کو ہنسنے کے ساتھ ساتھ سوچنے پر بھی آمادہ کرتی ہے، ان کی تحریروںمیں صرف تفریحی پہلو نہیں ہوتا؛ بلکہ معاشرتی برائیوں، انسانی کمزوریوں اور روزمرہ زندگی کے تضادات کوبڑی شگفتگی سے آشکار کرتی ہیں، ان کے یہاں مزاح کی شوخی اور طنز کی کاٹ ایک ساتھ مل کر ایسارنگ پیداکرتی ہے، جس کی وجہ سے قاری کے لبوں پر مسکراہٹ آجاتی ہے اور دل ودماغ پر فکرکی لکیریں بھی کھنچ جاتی ہیں، یہی انجم مانپوری کی فنکارانہ عظمت ہے کہ وہ ہنسی کے دامن میں اصلاح کی دولت چھپائے رکھتے ہیں اور معمولی باتوں کوادبی وقار عطا کرتے ہیں۔
ان کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں میں جا بہ جا علاقائی زبان کا استعمال اس خوبی سے کرتے ہیں کہ تحریرکالطف دوبالا ہوجاتا ہے؛ لیکن اُس کے لیے، جو اس علاقے کی زبان سے واقفیت رکھتا ہو، ناواقفوں کے لیے تو ’تعقید ِ لفظی‘ سے معنون ہے، قیوم خضر ان کی اس خوبی کاذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مانپوری نے اپنے انشائیوں میں خاص طور پر مقامی مگھی الفاظ کا استعمال جس دھڑلے اور حسن وخوبی کے ساتھ کیا ہے، اس سے ان کی ذہانت وفطانت کے ساتھ ساتھ مقامی بولی سے دلی لگاؤ کا پتہ چلتا ہے اور اس سے بھی واقفیت ہوتی ہے کہ ان کی نظر جزئیات وتفصیلات پر کافی گہری ہے، نیز چھوٹی چھوٹی بات بھی ان کی ذہنی گرفت سے باہر نہیں۔‘‘ (ارتعاش قلم، ص: 138)
انجم مانپوری بلاشبہ ایک بڑے طنز ومزاح نگارتھے مگر مزاح نگاری کے افق پر چمکنے کے باوجود انھیں وہ حیثیت نہیں مل پائی، جوملنی تھی، اس سلسلے میں پروفیسر عبدالمغنی لکھتے ہیں:
’’اس میں شبہ نہیں کہ نثر کے مزاحیہ ادب میں مانپوری کا اثاثہ شوکت تھانوی، عظیم بیگ چغتائی اورکنہیالال کپور وغیرہ سے کم نہیںہے؛ مگر مانپوری کے کارناموں کی مجموعی طورپر وہ شہرت نہیں ہوئی، جوان کے ہم صف دوسرے ادیبوں کوحاصل ہوئی۔‘‘
(کلام انجم مانپوری، ص7)
سیدشہاب الدین دسنوی کے مطابق :
’’…یہ سب ہوتے ہوئے بھی انجم مان پور کے تھے اورمان پور بہار میں تھا، رسالہ ’ندیم‘ گیا سے شائع ہوتا تھا اورگیا صوبہ بہار کا شہر تھا؛ اس لیے اردودنیا نے، جو اس وقت غیرمنقسم ہندوستان پر مشتمل تھی، اِس بہاری طنز نگار کاکچھ زیادہ نوٹس نہیں لیا، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح شوکت تھانوی اگرکچھ اورنہ بھی لکھتے تو ان کا مضمون’سودیشی ریل‘ ہی انھیں اردوکے طنزیہ ادب میں جگہ دلانے کے لیے کافی تھا، ٹھیک اسی طرح انجم مانپوری کا مضمون ’میرکلوکی گواہی‘ ہی انھیں اردوکے طنزنگاروں کی صف میں لا کھڑا کردینے کے لیے کافی ہے۔ ‘‘ (کلام انجم مانپوری، ص4-5)
افصح ظفر کا خیال ہے:
’’ہوسکتا ہے کہ مانپوری خط مشرق میں رہنے کی وجہ سے ایسے وقت میں(جہاں مرزافرحت اللہ بیگ، خواجہ حسن نظامی، عظیم بیگ چغتائی، شوکت تھانوی، رشید احمدصدیقی، پطرس بخاری وغیرہ نے ظرافت نگاری میں شہرت حاصل کرلی تھی) نظر انداز کردیے گئے، پھر بھی مانپوری کے اتنے بھرے پُرے کارنامے کو نظرسے اوجھل کردینا ایک ستم ظریفی سے کم نہیں، نظرانداز کردینے کی ایک شکل یہ بھی ہوسکتی ہے کہ صنفی لحاظ سے مانپوری کی نثری تحریروں میں کوئی واضح نقش نہیں ابھرتا۔‘‘
(نقدِ جستجو، ص153)
ان سب کے باوجود بقول سیدمحمدحسنین:
’’مانپوری کے انشایئے اردو کے چندمعیاری انشائیوں پرپورے اترتے ہیں، ان میں نفیس مزاح اور ہلکے طنز کا امتزاج ہوتا ہے۔‘‘ (بہارکے نوچراغ، ص: 42)
صرف یہی نہیں کہ انجم کے انشایئے معیاری تھے؛ بل کہ چشم حقیقت سے اگرنگاہ ڈالی جائے تو یہ بات بھی مل جائے گی کہ ان کی تحریروں میں جوکچھ بھی ہے، وہ سب ان کا اپنا ہے، اپنے سماج سے جڑا ہوا ہے، اپنی زمین سے تعلق رکھنے والا ہے، کسی کا چربہ نہیں، افصح ظفر رقم طراز ہیں:
’’اردو میں یوں توطنز یہ اورمزاحیہ کردار کئی ایسے ہیں، جنھوں نے خوب نام کمایاہے؛ مگر ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کرداراکثروبیشتر مانگے کااجالا ہیں، جیسے: سرشار کا خوجی اورآزاد، منشی سجادحسین کا حاجی بغلول، ایم اسلم کا مرزاجی، امتیاز علی تاج کا چچا چھکن، شوکت تھانوی کا قاضی جی اور عظیم بیگ چغتائی کا مرزاجنگی، یہ سارے کردار ناپ تول کرتراشے گئے ہیں، ان کرداروں کی نشوونما میں ان کے خالقوں نے گرچہ پورا پورا حق اداکرنے کی کوشش کی ہے؛ لیکن اِن کرداروں کودیکھ کر اور سمجھ کریہ کھٹک ضرور ہوتی ہے کہ یہ کردار کسی نہ کسی طرح ماضی کے یوروپی ادب کے مختلف کرداروں سے متاثر ہوکر تخلیق کیے گئے ہیں، اردو کے مزاحیہ ادب میں صرف انجم مانپوری کوہی یہ فخر حاصل ہے کہ ان کے پا س ’’میرکلو‘‘ کی شکل میں ایک ایسا کردار ہے، جس کی تخلیق سرتاسر ہندوستان کی آب وہوا میں ہوئی ہے… مانپوری کا یہ کردار اپنے مخصوص سانچے میں ڈھل کراس طرح ہمارے سامنے آتا ہے اور تمام صورت حال میں ایک ایسی علامت کے طور پر ابھرتا ہے کہ ہم اس پرفدا ہوجاتے ہیں، مانپوری کو زندہ رکھنے کے لیے میرکلو کا کردار کافی ہے۔‘‘ (نقدجستجو، ص161-64)
انجم مانپوری ایک بہترین شاعر بھی تھے؛ لیکن بنیادی طور پروہ ایک مزاحیہ شاعر تھے اورجس طرح وہ نثری تخلیق میں طنزوتعریض کے تیربرساتے اورمزاح کی قوس قزح بکھیرتے تھے، شاعری میں بھی وہ اِس رنگ ڈھنگ اور روش واطوار کو اپناتے تھے، پروفیسر عبدالمغنی ان کی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
’’سب سے پہلی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہجویاتِ انجم میں طنز، مزاح اور ظرافت سبھی عناصر موجود ہیں؛ لیکن ان میں غالب عنصر مزاح کا ہے اورگاہے گاہے ظرافت کے آثار بھی پائے جاتے ہیں اورطنز خال خال ہے، مزاح کے عنصر(Humour) کی ترکیب انجم کے کلام میں کیفیات اور الفاظ دونوں سے ہوتی ہے، وہ چن چن کر ایسے واقعات کولیتے ہیں، جن میں بھونڈاپن پایاجاتاہے، پھرموزوں الفاظ وتراکیب سے وہ اس بھونڈے پن کوبہت تیکھا بناکر پیش کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں پڑھنے والے کے منھ سے ہنسی کافوارہ چھوٹنے لگتا ہے، اس مزاح میں کبھی کبھی طنز (Irony) اور ظرافت (Wit) کی چاشنی بھی ہوتی ہے، جس سے مزاح کا لطف دوبالاہوجاتا ہے اورمعانی کی نئی تہیں بھی پیدا ہوجاتی ہیں۔‘‘(کلام انجم مانپوری، ص8)
علامہ جمیل مظہری ان کی شاعری کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’بہرحال! اپٹوڈیٹ شاعری میں انھوں نے خاص اپنی شاعری کے جونمونے پیش کیے ہیں، وہ ڈنکے کی چوٹ پرپکارپکار کرکہہ رہے ہیں کہ مانپوری نے اگر نثر کے ساتھ نظم کوبھی اپنی شاعری کا آلہ بنایاہوتا تو اکبرالہ آبادی کی خلافت کامسئلہ بغیرکسی نزاع کے ان کے ہاتھ پرطے ہوجاتا۔‘‘
(انجم مانپوری، از: سیداحمدقادری، ص76)
یہ گویا ایک بڑے شاعرکی طرف سے ایک سند ہے کہ وہ ایک مزاحیہ اورظریفانہ شاعری کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے؛ ساتھ ہی انھوں نے سنجیدہ شاعری بھی کی ہے؛ لیکن بقول قیوم خضر: ’’مانپوری کی سنجیدہ شاعری کے مقابلہ میں ان کی مزاحیہ شاعری کارنگ زیادہ چوکھا ہے۔‘‘
’نمونہ ازمشتے خروارے‘ کے طور پر یہ کافی ہے، ورنہ اس طرح کے مزاح، طنز، تعریض؛ بلکہ شگوفے اور پھلچڑیاں چنتے چنتے پوری ایک کتاب ہوجائے گی۔
بہرحال! صحافت کی دنیاکاچمکتا یہ ستارہ، طنز ومزاح نگار کے روپ میں قارئین کو ہنسانے اورغور وفکر کے پہلو دینے اور اپنے شاعرانہ کمال اورالفاظ ومعانی سے ہم آہنگ پرلطف مفہوم پیدا کرنے والا یہ فنکار 27 اگست 1958 بوقت پانچ بجے شام اِس دارفانی سے رخصت ہوگیا اور ایسے نقوش ثبت کرگیا جو تادیر ادبی افق پر جگمگاتے رہیں گے۔

Md. Jamil Akhtar Jaleeli
Jamia Umme Salama, Firdous Nagar
P.O: Madaidih, P.S: Topchanchi
Dist: Dhanbad-828402 (Jharkhand)
Mob:8292017888
jamiljh04@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

راجندر سنگھ بیدی — زندگی اور شخصیت

راجندر سنگھ بیدی، جیسا کہ انھوں نے خود اپنی پیدائش کے متعلق کہا ہے، یکم ستمبر 1915 کی سویر کو لاہور میں 3 بج کر 47 منٹ پر پیدا ہوئے۔بیدی

ڈاکٹربشریٰ رحمن کی ادبی خدمات،مضمون نگار: ذاکر حسین ذاکر

اردودنیا،جنوری 2026: ڈاکٹربشریٰ رحمن(1940-2009) شہر گورکھپور کے ایک ایسے روشن خیال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جو عالمی شہرت کا حامل ہے۔ ان کے والد عبد القدوس

حمیدتمنائی: حیات اور ادبی شناخت،مضمون نگار: سعدیہ پروین

اردو دنیا،دسمبر 2025: سر زمین ِ بہار کے شعرا میں جس کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا وہ پروفیسر حمید تمنائی کی ذات گرامی ہے۔ وہ خالص مشرقی