حمیدتمنائی: حیات اور ادبی شناخت،مضمون نگار: سعدیہ پروین

January 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

سر زمین ِ بہار کے شعرا میں جس کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا وہ پروفیسر حمید تمنائی کی ذات گرامی ہے۔ وہ خالص مشرقی روایات، علامات واقدارکے پروردہ تھے اور اس کے امین بھی تھے۔ ان کا مزاج قلندرانہ تھا اور طبیعت نمائش و رعونت سے پاک تھی۔ پاجامہ کرتا میں ملبوس اور منہ میں پان کی گلوریاں دبائے پروفیسر حمید تمنائی سے عام لوگوں کا ملنا بہت آسان تھا۔ اردو، فارسی اور عربی پر کامل عبور رکھنے والے اور ان زبانوں سے والہانہ محبت کرنے والے پروفیسر صاحب نے کالج کے طلبہ کے علاوہ سیوان کی متعدد مقتدر و معروف ہستیوں کو اردو، فارسی اور عربی کی تعلیم سے آراستہ کیااور بطور معاوضہ ایک دھیلا تک نہیں لیا۔ بدلے میں ان کے شاگردوں نے ان کے دو شعری مجموعوں ’لمعات‘ اور ’متاع شائگاں‘ کی اشاعت کرائی۔ لیکن آج بھی ان کی تخلیقات کا 80 فیصد حصہ منتظر اشاعت ہے۔ تفصیل آگے آئے گی۔
حمید تمنائی کا اصل نام محمد عبد الحمید ابن منشی عبدالعزیز ہے۔ وہ 12؍اکتوبر1904 کو بمقام حسن پورہ ضلع سیوان میں پیدا ہوئے۔ اس وقت ان کے والد بزرگوار غازی پور (یوپی) کے کلکٹریٹ میں سر رشتہ دار کے عہدے پر فائز تھے۔ کچھ دنوں کے بعد انھوں نے پورے خاندان کو غازی پور منتقل کر دیا۔ حمید تمنائی کا تعلیمی سفر غازی پور میں شروع ہو کر الٰہ آباد، پٹنہ اور مظفر پور میں پورا ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے لیے انھیں غازی پور کا مشہور زمانہ مدرسہ چشمۂ رحمت میں داخل کرایا گیا۔ وہ ایک عام مدرسہ نہیں تھا بلکہ مشرقی علوم کا سر چشمہ تھا جہا ں تشنگان علم و ادب سیراب ہو کر نکلتے تھے۔ مولانا شمشاد لکھنوی(فارسی)، مولانا عزت اللہ فرنگی محلی اور مفتی عبدالقادر (عربی) مولانا عبدالباقی (حدیث اور تفسیر) جیسے نابغہ اساتذہ وہاں اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہی با کمال اور با صلاحیت اساتذہ کے زیرِ سایہ حمید تمنائی نے ابتدائی اور ثانوی تعلیم پائی۔ انھوں نے 1917 میں الٰہ آباد اردو اور پرسین بورڈ سے عربی میں ملا کا امتحان پاس کیا اور 1919 میں فاضل سے سند یافتہ ہوئے۔1927 میں انھیں الٰہ آباد یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری ملی۔ اسی درمیان انھوں نے الٰہ آباد اردو اور پرسین بورڈ سے منشی(فارسی) اور کامل (فارسی) کے امتحانات پاس کیے۔ اس کے بعد حمید تمنائی کی تقرری گھنا نند ہائی اسکول، مسوری میں بہ حیثیت معاون معلم (اردو و فارسی) کے ہو گئی۔ ملازمت ملنے کے بعد بھی انھوں نے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھا۔ 1934 میں وہ ایم اے (اردو)میں پٹنہ یونیورسٹی سے کامیاب ہوئے۔ 1954 میں انھوں نے بہار یونیورسٹی سے ایم اے (فارسی) کا امتحان دیا اور فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن سے کامیاب ہو کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ 1938 میں ان کی تقرری سیوان کے وی ایم ایچ ای اسکول میں بطور استاذ اردو و فارسی کے ہو گئی۔1949 میں سیوان کے مالویہ کہے جانے والے بیجناتھ پرساد عرف داڑھی بابا کی اپیل پرانھوں نے ڈی۔ اے۔ وی پی جی کالج جوائن کر لیا اور وہیں سے 31؍ اکتوبر1968 کو سبکدوش ہوئے۔
پروفیسر حمید تمنائی کی شخصیت بڑی پر کشش تھی۔ گفتگو میں علم کا دریا ٹھاٹیں مارتا تھا۔ قرآن، حدیث اور فقہ پر ان کی معلومات اچھی اور گہری تھی۔ شاعری میں ان کی حیثیت استاد الشعرا کی تھی۔ سیوان کی ادبی محفلوں کی رونق ان کے دم سے تھی۔ وہ عرصہ دراز تک دربار کیمپس میںماہانہ ادبی نشستیں منعقد کرتے تھے۔ انھوں نے ’بزم ادب ڈی۔ اے۔ وی کالج ‘کی بنیاد ڈالی اور اسی بینر تلے سیوان میں یومِ آزادی کے موقع سے آل انڈیا مشاعرے کے انعقاد کا آغاز کیا۔وہ ذرے کو آفتاب بنانے کے ہنر سے واقف تھے۔ 1967 میں ایک مشاعرے کا ذکر ملتا ہے کہ حمید صاحب نے اس کی نظامت کے لیے ڈاکٹر ملک زادہ منظور کا انتخاب کیا۔ منظور صاحب کی زندگی میں یہ پہلی نظامت تھی۔ حمید صاحب کی پینی نظر اور دور اندیشی نے انھیں ملک کا سب بڑا ناظم مشاعرہ بنا دیا۔ اردو کی ترقی اور فروغ کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ پروفیسر احمد جمال پاشا کی دوسری شادی سیوان کے رئیس اور ہر دل عزیز شخص حاجی محمد داؤد کی دوسری بیٹی سرور داؤد سے 11؍فروری 1966کو ہوئی۔ اس کے بعد بقول عابد سہیل ’’احمد جمال پاشا کی بیوی نے انھیں رخصت کرا کے اپنے مائکے سیوان (بہار) لے گئیںتو شہر کے ادیبوں نے چار باغ اسٹیشن پر انھیں پر نم اور چھلکتی ہوئی آنکھو ںسے رخصت کیا‘‘1سیوا ن میں حاجی داؤد کا اچھا اثر و رسوخ تھا۔ وہ علم و ادب کے شیدائی تھے۔ احمد جمال پاشا ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’بات 1966 کی ہے۔ جب میں حاجی محمد داؤد صاحب مرحوم سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ سیوان میں شاعروںاور ادیبوں میں جو سب سے محترم اور پڑھا لکھا ہو، اس سے ملوا دیجیے۔ وہ مجھے لے کر کاغذی محلہ میں ایک بزرگ کے یہاں پہنچے۔ با وقار چہرہ، لب و لہجہ شریں وشستہ، بات چیت میں عجب کی علمی تمکنت اور کشش۔مجھے بس ایسا احساس ہوا کہ میں اساتذۂ لکھنؤ میں سے کسی کی محفل میں ہوں۔یہ بزرگ پروفیسر حمید صاحب تھے جو ڈی۔ اے۔وی۔ کالج، میں صدر شعبۂ اردو و فارسی تھے۔‘‘2
پروفیسر حمید تمنائی کی شخصیت بڑی نستعلیق تھی۔ ان کا مطالعہ وسیع تھااور شعر و شاعری علی الخصوص مبادیاتِ نعت گوئی پر گہری نظر تھی۔ان کا کالج میں لکچر دینے کا انداز بھی جدا گانہ تھا۔ جب طلبہ کو پڑھاتے تو ایک غزل یا نظم پر کئی دنوں تک لکچر دیتے اور جب تک طلبہ مطمئن نہیں ہو جاتے تب تک اگلا باب شروع نہیں کرتے۔ احباب کی محفلوں میں ان کا رنگ منفرد ہوتا۔ وہ حسب ِمراتب گفتگو کرتے۔ اپنے سے چھوٹوں پر ہمیشہ مہربا ن و مشفق رہتے، برابر والوں سے بڑے رکھ رکھاؤ سے ملتے اور بزرگوں کا احترام کرتے۔ ان کے اخلاق عالیہ کی وجہ سے ہی ان کے حلقۂ تلمذ میں پچاس سے زائد شعرا و ادبا شامل تھے۔ جن میں سے ڈاکٹر عبدالعلیم، علی حیدر نیر، کوثر سیوانی، سرور جمال(احمد جمال پاشا کی منکوحہ) ریاض محی الدین پوری، جذب گوپال پوری، چونچ سیوانی، جوہر سیوانی، بیکس سیوانی، علامہ شبیہ القادری، پربھو نرائن ودیا رتھی اور شہاب الدین ثاقب نے شعر و ادب کی دنیا میں اچھا خاصا نام کیا۔ پروفیسر احمد جمال پاشا لکھتے ہیں:
’’حمید تمنائی کے نامور شاگردوں میں ڈاکٹر عبدالعلیم کا اسم گرامی بھی شامل ہے، ترقی پسند تحریک کے بانی،علی گڈھ شعبۂ علوم اسلامیہ اور شعبۂ عربی کے صدر، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور ترقی اردوبورڈ کے چیئرمین تھے۔ اس سلسلے کی اہم کڑیاں ڈاکٹر سید علی حیدر نیر، مدرسہ شمس الہدیٰ، پٹنہ، شری پربھو نرائن ودیا رتھی،شبیہ القادری، کوثر سیوانی جیسا البیلا شاعر، سرور داؤد جیسی ممتاز ادیبہ و ماہر تعلیم،ڈاکٹر مظفر حسین قاسمی جیسا ممتاز صحافی کیوں نہ ہو؟‘‘3
حمید تمنائی جب غازی پور میں زیرِ تعلیم تھے تو1924 میں پہلی نعت وہاں کے ایک نعتیہ مشاعرے کے لیے لکھی تھی۔ اس کے بعد تعلیم اور روزگار کو مقدم سمجھ کر شعر گوئی کو ملتوی کر دیا۔ لیکن جب سیوان کے وی۔ ایم۔ ایچ۔ ای۔ اسکول میں معلم بنے تو باضابطہ شاعری کا آغاز کیا۔ ابتدائی دور کی شاعری پر نواب جعفر علی خاں اثر لکھنوی سے اصلاح لی۔ یہ سلسلہ 1956 تک چلا۔ 1957 میں وہ پٹنہ کے حضرت تمناعمادی پھلواروی کے حلقۂ تلمذ میں شامل ہو گئے۔ تمنا عمادی جب پاکستان چلے گئے تو بذریعہ خط و کتابت یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ان کے نام کی مناسبت سے ہی پروفیسر عبدالحمید صاحب تمنائی کا لاحقہ جوڑ لیا۔ متاع شائگاں میں لکھتے ہیں:
’’مجھے سب سے پہلے 1924 میں شاعری نے گدگدایا جب میں یو۔ پی۔ بورڈ سے ہائی اسکول کے امتحان کی تیاری کر رہا تھا، لیکن میرا یہ سفر صرف تعلیم کے پیش نظر تھااس لیے شاعری کو تعلیم پر غالب نہیںآنے دیا۔ مگر اختتام تعلیم کے بعد جب 1938 میںوی ایم ایچ ای اسکول سیوان میں اسسٹنٹ ماسٹر مقرر ہوا تو پھر شاعری مجھ سے آکر لپٹ گئی۔‘‘4
پروفیسر حمید تمنائی نے مذہبی کلام کا وافر سرمایہ چھوڑا ہے۔ ان کا ذہنی، فکری اورطبعی میلان دین اور تصوف کی طرف زیادہ تھا۔ ان کی متعدد غزلوں کا رنگ بھی متصوفانہ ہے۔ وہ محفلِ نعت گوئی، محفل مسالمہ و مناقبہ و مرثیہ خوانی کی نشستوں میں شریک ہوتے تھے اور ہر محفل کے لیے تازہ نعت، منقبت، مرثیہ، اور سلام پیش کرتے تھے۔جابر فیروز پوری نے ان میں سے چیدہ چیدہ مذہبی کلام کا مجموعہ ’لمعات ‘ کے نام سے شائع کرایا۔ ان کے استاد محترم تمنا عمادی نے نعت گوئی میں افراط و تفریط سے بچنے کی صلاح دی تھی۔ حمید تمنائی نے اس بات کا پورا خیال رکھا ہے۔ انھوں نے معروف نعت گو حضرات کی نعتوں پر تضمینیں بھی لکھی ہیں۔ ان کی بعض نعتیں فارسی زبان میں بھی ہیں۔ بقول پروفیسر احمد جمال پاشا:
’’امیر مینائی،محسن کاکوروی اورحضرت آسی غازی پوری جیسے ممتاز نعت گویوں کی صف میں حمید تمنائی بہ آسانی شامل کیے جا سکتے ہیں۔ انھوں نے نعتیں کہی ہیں اور خوب کہی ہیں۔ وہ بلند پایہ نعت گو ہیں۔یہاں تک کہ ان کی غزلوں میں بھی نعتیہ اشعار داخل ہو جاتے ہیں۔ ان کی نعت کا ہر شعر عقیدت اور اشتیاق سے منور ہوتا ہے۔ اس لیے ان کے اشعار بڑے آبدار ہیں۔‘‘6
متاع شائگاں پروفیسر حمید تمنائی کے دوسرے شعری مجموعے کا نام ہے۔ اس کی اشاعت ان کے شاگردِ رشید پربھو نرائن ودیارتھی نے 1980 میں کرائی تھی۔تقریباً چالیس کتابوں کے مصنف پربھو نرائن ودیارتھی اس وقت سیوان میں اے ڈی ایم کے عہدے پر تعینات تھے اور پروفیسر موصوف سے اردو، عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ متاع شائگاں میں اداریہ کے علاوہ شاہ عطاء الرحمن عطا کاکوی، مولاناشبیہ القادری اور حمید تمنائی کے تاثرات شامل ہیں۔ ہر چند کہ یہ مضامین مختصر ہیں لیکن ان کی شاعری کی تفہیم و تقویم کے نقش اول ہیں۔ متاع شائگاں میں ایک ایک حمد، نعت، نعتیہ سہرا، سلام، اور اکہتر غزلیں ہیں۔ آخر میں دو تاریخی قطعات چار نظمیں اورایک رخصتی نامے کو جگہ دی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مرتب نے حمید تمنائی کی زنبیلِ شاعری سے الگ الگ گلدستہ سجایا ہے۔ حمید تمنائی کی غزلیں ان کے دلی احساسات و جذبات کی بخوبی عکاسی کرتی ہیں۔ انھوں نے سماج کو جس طرح دیکھا، سمجھا اور پرکھا اسے اشعار کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی۔اس طرح ان کے اشعار حقیقت کے ترجمان بن گئے ہیں۔ بقول سید علی حیدر نیر :
’’حمید تمنائی نے اپنے کلام کو صنائع و بدائع سے مرصع کرنے کی کوشش کی ہے اور اس طرح اپنے کلام کے صوری حسن میں اضافہ کیا ہے۔ حمید تمنائی اپنے کلام میں فارسی ترکیب استعمال کرتے ہیں جو محل استعمال کے اعتبارسے نہایت موزوں ہوتی ہے اور ان کے کلام میں دلکشی بڑھ جاتی ہے۔ کہیں کہیں نادر ترکیب بھی استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً حیات اجل نما، لطف جفا، جور کرم، لطمۂ طوفاںبرق زا، درد تہہجام، جامہ بردوش۔ ان ترکیبوں کے استعمال سے ان کے کلام میں جاذبیت پیدا ہو گئی ہے۔‘‘6
حمید تمنائی کا شمار اعلیٰ درجے کے معلم، دانشور اور ماہر تعلیم میں ہوتا تھا۔ ان کی علمی استعداد کا زمانہ قائل تھا۔ وہ اردو، عربی اور فارسی پر کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ ہندی اور بھوجپوری ان کی گھریلو زبانیں تھیں۔ انھوں نے اردو اور فارسی میں معیاری اور پر اثرشاعری کی ہے۔ ان کی شاعری سنجیدگی اور متانت سے عبارت ہے۔ ابتدائی زمانے کی شاعری میں چند عاشقانہ مضامین مل جائیں گے لیکن بعد میں انھوں نے اس رویہ کو ترک کر دیا۔ ان کے کلام میںشوخی و ظرافت کے بھی عناصر ملتے ہیں۔ لیکن انھوں نے شوخی و ظرافت کے پس پشت فحش وہزل گوئی سے اپنے قلم کو آلودہ نہیں کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں ؎
اڑیں گی دامن انسانیت کی دھجیاں کب تک
رہیں گے بے خبر حالات سے کر و بیاں کب تک
اگر ڈوبا ہوں امواج حوادث میں تو کیا پروا
مگر یہ ڈوبنا شرمندۂ ساحل نہ بن جائے
ادب ملحوظ رکھیں شیخ صاحب
یہ مے خانہ ہے کچھ محفل نہیں ہے
حمید تمنائی کے مطالعے کا دائرہ کا فی وسیع تھا۔ انھوں نے اسلامی تاریخ، فقہ، حدیث اور تفسیر کا گہرامطالعہ کیا تھا۔ ان کی شاعری میں قرآنی واقعات اور اسلامی تاریخ و فلسفہ کا ذکر ملتا ہے۔ وہ ایک شعر میں ایک واقعے کو بیان کرنے کے ہنر سے واقف تھے۔ ان کی شاعری میں تلمیحات اور استعارات کے اشعار بھرے پڑے ہیں۔ ان کی تفہیم کے لیے اسلامی تاریخ اور قرآنی واقعات کا مطالعہ ضروری ہے۔ یہ اشعار قارئین سے ویسی ہی ذہنیت اور بلند فکری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ چند اشعار پیش خدمت ہیں ؎
تھا موسیٰ کا ذوق دید یا ذوق نمود حسن
نہیں تو آئی یہ لرزش کہاں سے کوہ ایمن میں
کلیم ہوش میں آؤ، کچھ اور آگے بڑھو
یہ جلوہ گاہ کے پردے ہیں جلوہ گاہ نہیں
خدا کے واسطے ساقی سے میری ابتری کہہ دے
میں جی جاؤ ں باذنی قم جو شیشے کی پری کہہ دے
لعنت کا طوق ایک کرشمہ انا کا تھا
انجام بے شعور خرد کی خطا کا تھا
کیوں آج ہے مطیع ِ فرامین اہرمن
کل تک یہ بد نصیب خلیفہ خدا کا تھا
پروفیسر حمید تمنائی اور زاہد فیروز پوری نے مل کر ’’سخن وران سارن کی تالیف کی۔ یہ سارن کمیشنری کا پہلا تذکرہ ہے۔ اس کی اشاعت 1972 میںہوئی۔ 300صفحات پر مشتمل اس تذکرے میں کل 150 متقدمین، متوسطین اور متاخرین شعرائے اردو شامل ہیں۔ مختصر تعارف کے ساتھ ان کے کلام کا نمونہ بھی دیا گیا ہے۔ ابتدائی صفحات پر سیوان سے تعلق رکھنے والی چند نامور شخصیات کی تصویریں ہیں۔ عرض ِحال کے تحت پروفیسر حمید تمنائی نے سخن وران سارن کی تالیف میں پیش آئیں مشکلوں کا تذکرہ کیا ہے اور ان حضرات کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اس کام کی تکمیل میں مدد کی۔ زاہد فیروز پوری نے عرضِ مرتب کے تحت شاعروں کی عدم توجہی اور بے اعتنائی کی شکایت کی ہے۔ ان کی شکایت درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اس دور میں جب شعرو ادب کا ذوق عام تھا، صرف 150شعرا ہی اس تذکرے میں شامل ہو پائے اور ان میں بھی سیوان کے شعرا کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد مشہورسیاسی رہنما سید محمود، محمد یوسف، زوار حسین اور معروف قلمکاروں مثلاً نشور واحدی، ش مظفر پوری، مظہر امام، بیکل اتساہی، نعمت اللہ چھپروی،غبار بھٹی، ریاض عظیم آبادی اور قمر ساجدی بلیاوی کے پیغامات شائع ہوئے ہیں۔
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ بہارمیں اردو شعر و ادب کواپنے خونِ جگر سے سینچنے والے جیالوں اور جاں بازوں میں پروفیسر حمید تمنائی کا نام سنہرے حروف میں لکھا جانا چاہیے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر ارشاد احمد نے تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ’کلیات حمید تمنائی‘ کی ترتیب و تدوین کا کام مکمل کیا ہے۔ یہ کلیات بالترتیب پانچ ابواب مذہبیات، غزلیات، طربیات، منظومات اور قطعات پر محیط ہے۔ آخر میں پروفیسر احمد جمال پاشا کی وہ بات قارئین کے حوالے ہے جو صداقت پر مبنی ہے۔
’’پروفیسر حمید صاحب اگر پٹنہ یا لکھنؤ میں ہوتے تو غالباً تاریخ اردو ادب کا ایک باب ہوتے۔ مگر بھائی! جنگل میں مور ناچا، کس نے دیکھا ۔‘‘7
حوالہ جات
1 جو یاد رہا: مضمون احمد جمال پاشا، عابد سہیل، عرشیہ پبلی کیشنز، دہلی 95،سنہ اشاعت2012ص 532
2 نذر حمید، مرتب احمد جمال پاشا، کبیر وچار منچ،سیوان سنہ اشاعت، 1983ص 26
3 ایضاً ، ص 4
4 متاع شائگاں، حمید تمنائی، ناشر، دائرۂ احباب، سیوان1980،ص5
5 لمعات، حمید تمنائی، مرتب:جابر فیروز پوری 1972 ص5
6 نذر حمید، مرتب احمد جمال پاشا، کبیر وچار منچ،سیوان سنہ اشاعت، 1983،ص 124
7 نذر حمید، مرتب احمد جمال پاشا: کبیر وچار منچ،سیوان سنہ اشاعت 1983،ص28

Sadia Parween
Ustaz Urdu, Dukhi Ram Inter College
Kadwa, Disst: Katihar- 855154 (Bihar)
Mob.: 9798953598
sadiaimran22oct2016@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عشق اورنگ آبادی کی شعری جہات،مضمون نگار: کلیم احمد

اردودنیا،فروری 2026: عشق اورنگ آبادی کا نام مرزا جمال اللہ تھا۔ یہ مرزا داؤد بیگ اور نگ آبادی کے بیٹے تھے۔ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا

مہدی افادی کی انفرادیت مضمون نگار: زیبا محمود

     زبان ایک ذریعہ خیال ہی نہیں بلکہ سماجی عمل بھی ہے۔ اس کی غیر معمولی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ

پروفیسردیوان حنان خاں کی یاد میں،مضمون نگار: معصوم مرادآبادی

اردودنیا،جنوری 2026: پروفیسردیوان حنان خاں نے جس خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ زندگی بسر کی ، وہ اسی خاموشی کے ساتھ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ یہ خاموشی اتنی مہیب