دکن اور دیوان غالب کی شرحیں،مضمون نگار: ظہیر دانش عمری

January 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

مرزااسداللہ خاں غالب ایک ایسے شاعر کا نام ہے جن کا نام اور کلام ہرزمانے میں غالب رہا ہے،کیا شمال اور کیا جنوب ان کی شاعری اور شخصیت پر ہر دو مقام پر کام ہواہے اور ہورہا ہے،دکن کے حوالے سے عموماًیہ خیال کیاجاتا ہے کہ یہاں غالب پر کام نہ ہونے کے برابر ہے لیکن جب اس حوالے سے تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ دکن میں غالب شناسی کی ایک مضبوط روایت رہی ہے،غالب کے حوالے سے ان کی مختلف جہتوں پر یہاں کام ہواہے، یہاں دیوان غالب کی شرحیں لکھی گئیں،ان کی شخصیت پر رسائل وجرائد کے خصوصی شمارے شائع کیے گئے،ان کی شخصیت پر لکھی گئی دیگر کتابوں کے تراجم اردو میں کیے گئے،یہاں غالب کے چار شاگردوں حبیب اللہ ذکا نلوری،منشی میاں داد خان سیاح،مرزاقربان علی بیگ سالک،غلام حسین قدر بلگرامی کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔
جہاں تک دیوان غالب کی شرحوں کا تعلق ہے تو دکن سے درج ذیل پانچ کتابیںشائع ہوئی ہیں:
1 وثوق صراحت از عبدالعلی والہ حیدرآبادی مدراسی
2 شرح دیوان غالب از سید علی حیدرصاحب نظم طباطبائی
3 وجدان تحقیق از عبدالواجد
4 شرح دیوان غالب از ضامن کنتوری
5 ترجمان غالب ازشہاب الدین مصطفی
ان میں سے سب سے پہلی وثوق صراحت نامی شرح 1895میں حضرت عبدالعلی والہ حیدرآبادی کی تصنیف ان کے فرزند عبدالواجد نے شائع کروائی، جو خود غالب اور ان کی شاعری کے قدردان تھے،طویل عرصے تک انھیں اور ان کے فرزند کو دیوان غالب پڑھانے کا تجربہ حاصل رہا ہے۔
وثوق صراحت میں غالب کے 1132اشعار کی شرح ہے، تشریح بہت مختصر ہے، کہیں مشکل الفاظ کے معنی پیش کیے گئے ہیں تو کہیں مختصر اشارہ کردیا گیا ہے، کہیں کسی تلمیح کی وضاحت کردی ہے تو کہیںشعر کا معنی بالکل نہیں دیاگیاہے،شاید ان کے لحاظ سے جو جو شعر بہت آسان ہیں وہاں شعر کا معنی پیش کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
اس کی وجہ عبدالواجد یوں تحریرکرتے ہیں کہ:
’’اگرچہ اس شرح پر نظرثانی نہیں کی گئی لیکن نظر اول ہی میں جو کچھ لکھا ہے نہایت غنیمت اور قابل قدر ہے،کیونکہ ایک فرد کامل،سخن گو،سخندان، سخن فہم اور مسلم الثبوت استاد کی تصنیف ہے، اختصار کے ساتھ دقائق کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ مقصود قایل فوت نہ ہو،کہیں فوراً کہیں کچھ خوض و تامل سے طالب علم کے ذہن نشین ہوجائے،حضرت مرحوم کی یہ عادت تھی کہ شرح کو بلاضرورت ہر گز طول نہیں دیتے تھے اورفرماتے تھے کہ شرح مختصر مفید ہونی چاہیے۔‘‘
(وثوق صراحت،ص:2، مقدمہ از عبدالواجد، عبدالعلی والہ حیدرآبادی، 1895،مطبع: مطبع نامی فخرنظامی حیدرآباد)
اس کے علاوہ اس شرح میں کہیں کہیں اساتذہ کے اشعار اور ضرب الامثال بھی پیش کیے گئے ہیں۔
اس میں بطور تقریظ مولوی عبدالحی مدگارپیمایش و بندوبست علاقہ سرکارعالی کی منظوم تحریر شامل ہے جس میں وہ مولوی عبدالواجد کو اپنا استادبتاتے ہیں نیز ان کی جادوبیانی و شیریں سخنی کا اعتراف کرتے ہیں،شاعری نیز زبان و بیان پر ان کی قدرت کی بہت تعریف کرتے ہیں۔
غالب کے پہلے شعر ؎
نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا
کی شرح میں صرف ایک لفظ پیرہن کاغذی کی تشریح لکھتے ہیں کہ فریادیوں کا لباس جو قدیم میں دستورتھا،یہ کنایہ ہے عجز و بے چارگی سے۔
اسی طرح دوسرے شعر میں صر ف شوق کا معنی، پانچویں اور چھٹے شعر میں شعر کے معنی پیش کیے بغیر ایسے ہی گزر جاتے ہیں۔ان کی فہم کے مطابق جو اشعار نہایت آسان اور تشریح طلب نہیں ہیں،ان کی تشریح کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
اسی شرح کے اخیر میں مولوی عبدالعلی والہ حیدرآبادی مدراسی کے فرزند مولوی عبدالواجدیوں تنقید کرتے ہیں کہ :
’’اس شرح میں نہ اشعار کے معنی ہیں اور نہ لفظوں کے،اور نہ دقایق و نکات شاعری کا بیان ہے بلکہ دودولفظوں کے معنی لکھے ہیں جن کا عدم و جود مساوی ہے، لہٰذا یہ شرح غیر مفید و بے کار ہے فقط واجد‘‘
(ایضاً،ص193)
دوسری شرح شرح دیوان غالب ہے جسے نظم طباطبائی نے لکھا ہے،یہ شرح پہلی بار1900میں شائع ہوئی، غالب پر لکھی گئی شروحات میں اس شرح کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ طباطبائی عربی فارسی کے بہت بڑے عالم تھے، نظام کالج میں پروفیسر رہے، غالب کی شاعری پر ان کی بہت گہری نظر تھی، انھوں نے بہت ہی دقت نظر کے ساتھ اس شرح کو تحریر کیا ہے۔ ایک شعر کے جتنے معنی ممکن ہوسکتے ہیں انھوں نے بیان کردئے ہیں،ایک شعر کی تشریح یوں بیان کرتے ہیں :
’’جذبہ بے اختیارشوق دیکھا چاہیے
سینہ ٔ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
دم کے معنی سانس اور باڑھ اور یہاں دونوں معنی تعلق و مناسبت رکھتے ہیں کہ سینۂ شمشیر کہا ہے۔ مطلب یہ کہ میرے اشتیاق قتل میں ایسا جذ ب و کشش ہے کہ تلوار کے سینہ سے اس کا دم باہر کھنچ آیا‘‘
(شرح دیوان غالب،نظم طباطبائی، ص:2، مطبع: انوارالمطابع لکھنؤ،اشاعت1900)
تیسری شرح وجدان تحقیق ازواجد حیدرآبادی فرزند عبدالعلی والہ حیدرآبادی 1902میں شائع ہوئی،یہ شرح حضرت والہ حیدرآبادی کے نکات کی تشریح پر مبنی ہے،اگرچہ یہ مکمل شر ح نہیں ہے اس میں صرف ردیف الف سے ختم ہونے والے اشعار کی تشریح پیش کی گئی ہے۔ اس شرح کے دونام ہیں ایک تو وجدان تحقیق، دوسرا توضیح اشارات والہ۔
اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انھوں نے میر محبوب علی خان کی مدح میں ایک قصیدہ کہا اور اسے اس شرح کی زینت بنایا،جیسا کہ اس دور میں رواج تھا،اس کے بعد وثوق صراحت پر منظو م و منثور تبصرے جواخبارجریدۂ روزگار مدراس، رسالہ معارف پانی پت، گلدستۂ خدنگ نظر لکھنؤ،گلدستہ معیار لکھنؤ میں شائع ہوئے۔
بعدازاں وجدان تحقیق پر تاریخی قطعات ہیں، پھر اصل شرح شروع ہوتی ہے، ایک ایک شعر کی تشریح انھوں نے دو دوتین تین صفحات پر پھیلادی ہے اوربہت سی ادھر اُدھر کی باتیں طوالت کے شوق میں راہ پاگئی ہیں،اپنی بات کو مدلل کرنے کے لیے عرفی شیرازی، صائب تبریزی،ابن نصوص شیرازی وغیرہ کے کلام کو جزو کتاب بنایاگیاہے۔
دیوان غالب کے پہلے شعر کی تشریح کا کچھ حصہ پیش کیاجاتاہے:
’’چونکہ تصویر اکثر کاغذپرہوتی ہے لہٰذا تصویر کو کاغذی پیرہن یعنی پوشاک کاغذی دارندہ قرار دیا ہے، اس شعر کے اتنے معنی ہوسکتے ہیں کہ تصویر زبان حال سے تظلم و فریادکرتی ہے مگران معنوں میںکوئی لطف اور نزاکت نہیں کیونکہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور تاویل و تعبیر میں بہت کچھ گنجائش ہے چنانچہ بعض لوگ اس شعر کو تصوف میں لیے جاتے ہیں اور صوفیانہ معنی بیان کرتے ہیں مگر خود ان کو یقین نہیں کہ مقصود قائل یہی ہو‘‘
(وجدان تحقیق،عبدالواجد،اشاعت1902، مطبع فیض منبع فخر نظامی،حیدرآباد،ص3)
چوتھی شرح ترجمان غالب ہے جسے جناب سیدمصطفی نے تحریر کیاہے۔یہ مولانا وحید الدین سلیم کے ممتاز شاگردوں میں تھے، اس لیے انھوں نے اپنی اس شرح کو وحیدالدین سلیم،سید اشرف شمسی اور مولانا عبدالحمید خان بنگش کے نام معنون کیا ہے،ان کی شاگردی میں رہنے کا شرف ان کو حاصل رہا ہے۔
دیگر شروحات سے انھوں نے بہت کم استفادہ کیاہے اورانھوں نے خود جو نتائج اخذ کیے ہیں ان کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔لکھنے والے کی شخصیت کا عکس اگر اس کی تحریرپر نہ پڑے تو پھر وہ تحریر کیا؟
اسی کی طرف انھوں نے اشارہ کیاہے:
’’حضرت بے خود کی پوری شرح دیکھی لیکن کوشش یہی رہی کہ اپنی ذاتی کاوش اور فکر کے نتائج سپرد قلم کیے جائیں، البتہ یادگار غالب میں مولانا حالی نے اور اردوئے معلی و عود ہندی میں خود شاعر نے جن اشعار کی تشریح فرمائی ہے وہ جوں کی توں ان کتابوں کے حوالہ سے نقل کردی گئی ہے ‘‘
(ترجمان غالب،شہاب الدین مصطفی،ص2، مطبع:مکتبہ نشاۃ ثانیہ معظم جاہی مارکیٹ حیدرآباد، اشاعت 1956)
کاو کاو سخت جانی ہائے تنہائی نہ پوچھ
صبح کرنا شام کا لاناہے جوے شیر کا
اس شعر کی تشریح یوں کرتے ہیںکہ ؎
’’کاو: کاوش، خلش، تکلیف
فرماتے ہیں شب تنہائی ہمارے لیے غم کا ایک پہاڑ ہے جو کاٹے نہیں کٹتا رات تمام کرب و بے چینی، کاوش و خلش میں گزرتی ہے شب ہجر کا صبح کرنا اتنا ہی مشکل اور جانکا ہے کتنا کہ فرہاد کے لیے کوہ بے ستون کو کاٹ کر جوئے شیر لاناکاوش طلب تھا‘‘(ایضاً،ص2)
سب سے پہلے شعر میں جو مشکل الفاظ ہیں ان کے معنی بیان کردیتے ہیں بعد ازاں شعر کا مطلب آسان لفظوں میں بیا ن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تشریح نہ بہت مختصر ہے اور نہ بہت طویل بلکہ متوسط طریقے سے انھوں نے اپنے خیالات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
پانچویں شرح شرح ضامن کنتوری ہے جو1935 کے آس پاس لکھی گئی لیکن 2012میں شائع ہوئی۔
ضامن کنتوری کے تعارف میں صر ف ایک بات کہنی کافی ہوگی کہ مشہورزمانہ شاعر حضرت امجد حیدرآبادی آپ کے شاگردوں میں سے تھے،ان کی تشریح کافی بسیط ہے۔اشعار کی تشریح کے سلسلے میں انھوں نے نہایت شر ح و بسط سے کام لیا ہے،محترمہ اشرف رفیع اس کتاب کے مقدمے میں ان کی تشریح کے انداز پر گفتگو کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ:
’’فارسی میں شرح نویسی کی جو طاقتورروایت کارفرما رہ چکی ہے وہ کثیرالجہات تھی،یعنی شرح لکھنے والا شعر کا مفہوم لکھنے کے ساتھ اس شعر سے متعلق ضروری نکات بھی لکھتا تھا یہی انداز اس شرح کا بھی ہے،اشعار کی شرح کے ذیل میں زبان و بیان محاورۂ دہلی ولکھنو بلاغت و فصحات،عرو ض و قافیہ وفلسفہ و منطق کے بہت سے مسائل بکھرے ہوئے ہیں‘‘
(شرح دیوان غالب از ضامن کنتوری، ص: 17، مرتبہ اشرف رفیع)
ضیاء الدین احمد شکیب نے جب ’غالب اور حیدرآباد‘ لکھی تب یہ شرح شائع نہیں ہوئی تھی اس لیے اس کی اہمیت اور اس کی اشاعت کی طرف انھوں نے توجہ مبذول کروائی۔
جگہ جگہ انھوں نے حافظ خسرو کے کلام سے استدلال بھی کیاہے۔
’’تغافل بدگمانی بلکہ میری سخت جانی ہے ناز کو
نگاہ بے حجاب ناز کو بیم گزند آیا
اس شعر کو نظم کرنے میں تسامع ہوگیا۔مرزا یہ کہناچاہتا تھا
تغافل بدگمانی بلکہ نگاہ بے حجاب کو
میری سخت جانی بیم گزند نظر آیا
اس کو وزن میں لانے کی خاطر کیا یہ تغافل و بدگمانی کو سخت جانی پر عطف کردیا جس سے یہ مطلب نکلا کہ میرے تغافل میری بدگمانی اور میری سخت جانی کو دیکھ کر نگاہ ناز ڈر گئی۔اعتراض یہ پیدا ہوا کہ تغافل و بدگمانی انداز معشوقانہ ہیں نہ کہ شیوۂ عشاق اس لیے شعر معناً غلط ہے۔‘‘(شرح دیوان غالب،ضامن کنتوری،ص26)
ان شروحات کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دکن میںدیوان غالب کی شرحیں اگر چہ مختصر لکھی گئیں لیکن معیار کے لحاظ سے یہ شرحیں اپنی ممتاز حیثیت رکھتی ہیں۔

Dr. Zaheer Danish Umri
Editor Qtly ‘Irteaash
Kadpa (Odisha)
s.zaheerdanish@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مجاز کی نظموں کا صوتی آہنگ، مضمون نگار: ناز بیگم

شاعری میں ایسے پیرائے اظہار یا اسلوب کا اہتمام کرنا جو محض ادائے مطلب کے لیے ضروری نہیں بلکہ کلام میں مزید حسن و لطافت اور معنی پیدا کرے صنعت

ماحولیاتی تنقید:مسائل و امکانات،مضمون نگار:محمد اویس ملک

اردودنیا،جنوری 2026: تنقیدروایتی سے جدید اور جدید سے مابعد جدید ہوگئی لیکن پھر بھی تنقید کا منصب وہی ہے، یعنی تنقید کا مقصد آج بھی فن پاروں کا تعین قدر

شعر شور انگیز/شمس الرحمٰن فاروقی

میر کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ ان کے یہاں لہجے کا دھیماپن، نرمی اور آواز کی پستی اور ٹھہرائو ہے۔ یہ خیال اس قدر عام ہے کہ