اردو دنیا،دسمبر 2025:
زاہدہ زیدی کو نظم اور غزل دونوں پر قدرت حاصل تھی۔ ان کے یہاں حقیقت کا رنگ بھی ہے، مجاز کی کیفیت بھی ہے۔ ان کی زبان صاف ستھری اور سلیس تھی۔ انھیں جذبات کے اظہار کا فن آتا تھا۔ زاہدہ بچپن سے ہی شاعری کی طرف مائل تھیں۔ ان کے گھرانے کے لوگ علم دوست اور ادبا و شعرا کے قدر داں تھے۔ زاہدہ کے خاندان میں کئی اچھے شاعر گزرے ہیں۔ ان نمایاں ناموں میں سے ایک نام الطاف حسین حالی کا بھی ہے۔ ان کے دادا و نانا کے علاوہ ان کے والدین کو بھی شاعری سے گہرا شغف تھا۔ ان کی والدہ شاعر ہ تھیں۔ زاہدہ زیدی کے کل پانچ شعری مجموعے ہیں جو داد و تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ ان مجموعوں کے نام ہیں: ’زہر حیات‘، ’دھرتی کا لمس‘، ’سنگ جاں‘، ’شعلۂ جاں‘اور ’شامِ تنہائی‘۔ زاہدہ کے ان مجموعوں میں نظم، غزل، حمد اور مرثیہ وغیرہ شامل ہیں۔
زاہدہ غزل کی بہ نسبت نظم نگاری کی طرف زیادہ مائل رہی ہیں۔ انھوں نے نظمیں زیادہ اور غزلیں کم کہیں۔ زاہدہ نے جب اپنے شعور کی آنکھیں کھولیں تو ان کے سامنے پوری دنیا خصوصاً ہندوستان میں افرا تفری مچی تھی۔ ہندوستان میں آزادی کی تحریک پورے شباب پر تھی۔ ملک کی آزادی کے بعد ہندوستانیوں کے سامنے جو سب سے بڑا مسئلہ تھا، وہ ملک کی تقسیم کا تھا۔ شاعر حساس ذہن اور نرم و نازک دل کا وارث ہوتا ہے۔ اس کا دل صرف زمانے کی آہٹ پر ہی نہیں دھڑکتا ہے بلکہ خارجی و داخلی حالات و کوائف سے بھی دوچار ہوتا ہے۔ وہ کسی واقعے یا حادثے کو اپنی نظر وں سے یونہی نہیں گزرنے دیتا ہے بلکہ اس واقعے یا سانحہ کو اپنی سوچ و فکر میں جذب کرکے اشعار کے قالب میںڈ ھال دیتا ہے۔
زاہدہ زیدی نے ڈرامے کی طرح شاعری میں بھی علامت و استعارہ سے کام لیا ہے۔ انسانی فطرت کو امن کی شاعری میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ انھوں نے لفظ آزادی کو الگ الگ ڈھنگ سے باندھا ہے۔ ان کی شاعری میں ذہنی، نفسیاتی اور روحانی آزادی کو انفرادیت حاصل ہے۔ زاہدہ زیدی کا شعری کلام اندوہ وغم سے بھرا پڑا ہے مگر یہ غم ان کی شاعری کے وفا شعار دوست معلوم ہوتے ہیں، جو پڑھنے والوں کو غمگین نہیں ہونے دیتے ہیں بلکہ وہ زندگی جینے اور زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کا درس دیتے ہیں۔ وقت اور فطرت کو ان کی شاعری میں کلید ی حیثیت حاصل ہے۔ زاہدہ نے بھی معنی کے مقابلے میں لفظ کو زیادہ ترجیح دی ہیں جس کا اندازہ ہمیں زاہدہ کی تخلیق کردہ نظم بعنوان ’ایک نظم‘ سے ہوتا ہے۔ مذکورہ نظم ان کے پہلے شعری مجموعہ ’زہر حیات‘ کی زینت ہے ؎
’’جادۂ زندگی کے سفرمیں/اگرکوئی دولت تھی اپنی ،تو بس چند الفاظ تھے
ہم نے لفظوں کے شیشے میں آہنگ کی جل پری کو اُتارا
ہم نے لفظوں کی چھینی سے حسن و معانی کے کتنے تراشے صنم
ہم نے لفظوں کے ناخن سے ہر عقدۂ فکر و حیرت کو کھولا
ہم نے الفاظ کی انگلیوں سے نگار معانی کے ہر خال و خد کو سنوارا
ہم نے لفظوں کی مشعل سے تاریکی بزم دل کو سجایا
ہم نے لفظوں کے ساغر سے چھلکائی سوز دروں کی شراب کہن
مذکورہ بند اس بات کا انکشاف ہے کہ زاہدہ لفظوں سے کھیلنا بخوبی جانتی ہیں۔ وہ تخئیل کی بلند پروازی اور نغمہ آہنگ سے جس شئے کو جب اور جیسا چاہتیں، پیش کردیتیں۔ یہ بات واضح ہے کہ الطاف حسین حالی نے شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے جو شرطیں رکھی تھیں، ان میں سے ان کی ایک شرط ’’تفحص الفاظ‘‘ بھی ہے۔ تفحص الفاظ کے معنی مناسب الفاظ کی جستجو کے ہیں۔ علامہ شبلی نعمانی بھی الفاظ کے قائل ہیں کیونکہ تشبیہ اور استعارہ سے شعر میں وسعت اور جوش پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ زاہدہ زیدی نے بھی اپنے کلام میں تشبیہ اور استعارہ سے کام لیا ہے تاکہ ان کے اشعار میں بھی وسعت اور تہ داری پیدا ہوجائے۔ رمزیت، ایمائیت اور علامت سازی زاہدہ زیدی کی نظموں و غزلوں کا خاصہ ہیں۔
زاہدہ زیدی کی شاعری کا دامن بہت وسیع ہے۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا لب و لہجہ اور ان کی زبان و بیان کلاسیکی شعرا کے قریب تر معلوم ہوتے ہیں مگر انھیں لفظیات اور تراکیب کے معاملے میں انفرادیت حاصل رہی ہے۔ زاہدہ کا نظریہ اشتراکی اور مطالعہ مغربی ہونے کے باوجود ان کے کلام میں مشرقی روایات، اقدار اور تہذیب و تمدن کی پیشکش خوب ملتی ہے۔ ان کی شاعری تانیثیت تک محدود نہیں ہے بلکہ تانیثیت سے بہت آگے کی چیز ہے۔ زاہدہ زیدی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہوئی یوں رقم طراز ہیں:
’’ براہ کرم نقاد حضرات یا دوسرے ادیب و شاعر میری شاعری کو تانیثی چوکٹھے میں فِٹ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اول تو تانیثیت پر جس قسم کی گفتگو ہورہی ہے، اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اسے نہایت محدود او ر کسی قدر گمراہ کن معنوں میں سمجھا گیا ہے اور اس تھیوری کے پردے میں ایک بالکل ناقص تصور عورتوں پر لادا جارہا ہے، جسے بعض خواتین مردوں کی خوشنودی اور سستی شہرت حاصل کرنے کی غرض سے قبول بھی کررہی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ایک عام عورت کو تانیثی رویے اختیار کرکے اپنی انفرادیت منوا سکتی ہیں لیکن شاعری جینوئن تانیثیت سے بھی بہت آگے کی چیز ہے۔ یہ ایک بلند تر سروکار ہے جو اپنی افتاد میں ماورائیت سے ہمکنار ہے۔ یہ ذات کی گہرائیوں تک پہنچنے، ذات اور کائنات کے رشتوں کو سمجھنے، فنا و بقا، وقت اور موت، زندگی اور زماں، عشق اور غم، انسانی ذہن کے لامحدود کائنات اور فطرت کے اسرار و رموز کو سمجھنے کی تگ و تاز ہے۔‘‘
(کچھ اپنے قاری سے، شامِ تنہائی، از: زاہدہ زیدی، علی گڑھ، 2008، ص1011)
زاہدہ زیدی وقت کی پابند اور قدر داں تھیں۔ وہ وقت کی بادشاہی کو تسلیم کرتی ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی ذاتی زندگی میں وقت کے جبر کو دیکھا بھی اور اس کا ظلم بھی سہا ہے۔ ان کے مجموعۂ کلام ’شعلۂ جاں‘کی ایک اہم نظم ’وقت کی سرحدوں سے پرے‘ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے زاہدہ نے وقت کے تصور کو کس انداز سے پیش کیا ہے۔ اشعار ملاحظہ ہوں ؎
’’ سچ تو یہ ہے کہ ہر رنگ میں/اور ہر موڑ پر
وقت سائے کی مانند ہر دم مرے ساتھ تھا
میری سانسوں میں لرزاں تھا
میرے رگ و پے میں پیوست تھا
میری ہر نقل و حرکت پہ سایہ فگن تھا
اس کی طائر تند خو کی طرح
اس کی پرواز لیکن میری دسترس میں نہ تھی !‘‘
زاہدہ نے اپنی نظموں کے ذریعہ وقت کی اہمیت کو سمجھنے اور سمجھانے کی پوری کوشش کی ہے۔ ’یہ وقت بیکراں سمندر‘ ان کی ایک ممتاز نظم ہے۔ اس نظم میں بھی وقت کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ اس نظم کے ایک بند پر نظر ڈالتے چلیں ؎
’’ یہ وقت کا بیکراں سمندر/جو میرے اطراف موجزن ہے
یہ تند و فاکی محشر بدوش دھارا/کہ جس کی زد میں ہیں
عہد ماضی کی وارداتیں
ہزاروں جلوہ طراز دن، سوگوار راتیں
گذشتہ ادوار کے سلگتے ہوئے سفینے
حیاتِ نو کے کئی قرینے !‘‘
اس نوع کی ان کی ایک دوسری نظم جس کا عنوان ہے’یہ لمحہ‘ اس نظم میں بھی وقت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس نظم کے چند بند ملاحظہ ہوں ؎
’’ یہ لمحہ نہیں/وقت کا منجمد ایک نقطہ
یہ لمحہ تو ہے ایک گہرا سمندر/کہ جس میں
کئی سمت سے آکے ملتے ہیں/پرشو دھارے
یہ لمحہ /کہ جس کی رگوں میں رواں ہیں
کئی بیتی صدیوں کے زیریں تلاطم
یہ لمحہ /جس کے لہو میں
کئی آنے والے زمانوں کے رازدروں
مرتعش ہیں!‘‘
زاہدہ زیدی کی شاعری میں موضوعات کی تکرار کے ساتھ ساتھ ذات و کائنات کا شعور اور تخئیل کا اظہار بہت نمایاں ہے۔ زاہدہ لفظ و معنی کے رشتے سے بخوبی واقف تھیں جس کا اندازہ ہمیں ان کے شعری کلام کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں وجدان، داخلیت، شعور اور آمد کی جلوہ گری ہے۔ انھوں نے سائنسی نظریات و خیالات کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ ان کی شاعری میں انسانیت کی فلاح و بہبود اور بقا کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ا ن کی شاعری میں ظلم وجبر کی مذمت و مظلوم کی حمایت کا رجحان صاف طور پر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے نزدیک امیر و غریب سب برابر کا درجہ رکھتے ہیں۔
زاہدہ زیدی نے اپنی نظموں و غزلوں میں لفظ ’ کربلا‘ کا استعمال بکثرت کیا ہے اور اس لفظ کو انھوں نے علامت و تلمیح کی بجائے سیدھے سادے انداز میں پیش کیا ہے۔ ان کے شعری مجموعہ ’شعلۂ جاں‘ میں ایک نظم ’کربلا‘ اور ’شامِ تنہائی‘ میں بھی ایک نظم بعنوان ’کربلا پھر کربلا ہے‘ ان نظموں کے علاوہ ان کی غزلوں میںبھی لفظ ’کربلا‘ اور حسینؓ کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔ نظم ’کربلا پھر کربلا ہے‘ کا آخری حصہ ملاحظہ ہو ؎
’’ کربلا ہر شہر و قریہ /کربلا ہر سانحہ ہے
کربلا بغداد بھی ہے /کربلا کوفہ نجف ہے
کربلا اب ہر طرف ہے /ہر طرف اب حشرساماں
ظلم کا یہ سلسلہ ہے/کربلا پھر کربلا ہے /کربلا پھر کربلا ہے
زاہدہ زیدی کی نظموں میں ڈرامائی کیفیت بدرجۂ اتم موجود ہے۔ اس کیفیت میں ایک طرح کی معنویت اور تہ داری ہے۔ ایسی نظموں میں ’بند کمرہ‘، ’لاشوں کا سوداگر‘، ’زلزلہ‘، ’انتم سنسکار‘ اور ’دھرتی کا لمس‘ کے نام گنائے جاسکتے ہیں۔ نظم ’بند کمرہ‘ کا ایک بند قابلِ توجہ ہے ؎
’ ’ دیکھو اس بند کمرے سے باہر نہ نکلو/کبھی بھول کر بھی
برابر کے کمرے میں ہرگز نہ جائو/کیونکہ وہ سالہا سال سے بند ہے
یہ بھی ممکن ہے /زہریلے کیڑے مکوڑے وہاں پل رہے ہوں
یہ بھی ممکن ہے /اب تک وہ بھوتوں کا گھر بن چکا ہو!‘‘
زاہدہ زیدی اپنی نظموں میں ڈرامائی کیفیت پیدا کرنے کے لیے علامتوں کا سہارالیتی ہیں۔ زاہدہ کی نظم ’دھرتی کا لمس‘ کے مطالعے سے ایسا لگتا ہے کہ اس نظم میں وہ بذات خود ڈرامائی کردار کی حیثیت سے موجود ہیں۔ ایسی نظموں سے ان کے مجموعے بھرے پڑے ہیں۔ اس قسم کی نظموں میں ’ویرانہ‘، ’سمندر کا اَنتم بلاوا‘ ’سنگ جاں‘، ’بلور کا جام‘،’شعلۂ جاں‘ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ’دھرتی کا لمس‘ کے اشعار دیکھیں ؎
’’ شکستہ راہی
جو ہو سکے تو پاگل ہوا سے پوچھو
سیاہ جھاڑیوں میں کتنے فگار جسم
وہ سب جو نکلے تھے دھرتی کے لمس کی آرزو میں
چنچل خداکی آغوش میں زندگی اساس پانے
جو ہوسکے تو زخمی ہوا کے سینے پہ
اپنے لہو سے تم اپنا نام لکھ دو
سیاہ جھاڑیاں اب بھی منتظر ہیں!‘‘
زاہدہ زیدی اپنی نظموں کے ذریعہ عاشق و معشوق کے والہانہ جذبات و احساسات کو بڑے مؤثر انداز میں پیش کرتی ہیں۔ان کی عشقیہ نظموں میں ’وصل‘ اور ’تم‘ کو اولیت حاصل ہے۔ ’وصل‘ان کے مجموعہ ’دھرتی کا لمس‘ کی پہلی نظم ہے جو نہایت ہی مختصر ہے۔ا س میں تہ داری اور موزونیت ہے۔ نظم ’تم‘ شروع سے توجہ کی حامل رہی ہے۔ اس نظم میں شاعرہ نے ایک طویل خط کو ایک گھیرے کی شکل میں پیش کیا ہے۔ نظم ہیئت کے اعتبا رسے بالکل منفرد ہے کیونکہ اس نظم میں ہیئت کو توڑ مروڑ کر پیش کیاگیا ہے۔ اس نظم کے دائرے سے محبوب کی شخصیت اور وصل کی کیفیت کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ دونوں نظم کے چند مصرعے ملاحظہ ہوں۔
’’تلاطم کا مجلس /سمندر کی جانب بڑھا
(وصل ہر جسم سیّال کا منتہا)
سمندر نے آغوش وا کی
تلاطم کا مرکز — سمندر/بھی قطرہ تھا/تھی جس کو
اک بیکراں بحر کی آرزو !‘‘ (وصل)
’’ لہو کی گردش /بہتے لمحات کا ترنم
مگر وہ لمحے /کہ جن میںتم، تم تھے! ‘‘ (تم)
مختصر یہ کہ زاہدہ کے اظہار و ابلاغ میں ایسی رنگینی و رعنائی اور زبان و بیان میں ایسی شگفتگی و تازگی ہے کہ وہ پامال و فرسودہ مضامین کو بھی پُرکشش و جاذبِ نظر بنا دیتی ہیں۔کیونکہ شاعری کا اصلی دارومدار زبان و بیان پر ہوتا ہے چنانچہ زاہدہ زیدی کے طرزِ ادا میں بلند خیالی، جدت و ندرت، تازگی وشگفتگی اور دلکشی و دلآویزی ہے۔
Dr. Md. Shahnawaz Alam
Head Department of Urdu
Islampur College
Islampur-733202 (West Bengal)
Mob.: 9874430252
Email: shahnawaz@islampurcollege.ac.in