اردو دنیا،دسمبر 2025:
ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی 24اپریل 2021 کو سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ اپنے عزیز و اقربا کے خانہ ہائے دل میں گہرے رنج و ملال کی ویرانی چھوڑ گئے۔ ان کے پسماندگان میں ایک بیٹی، بیٹا اور شریک حیات ہیں۔ دونوں بچے ابھی تعلیمی و تربیتی سفر پر ہیں۔ ذاتی طور پر ان کے انتقال کا غیر متوقع سانحہ میرے لیے سانسوں کی تکرار میں سوہان روح بنا ہوا ہے۔ ان کی یاد بار بار احساس زیاں کے خنجر سے سینے کو گود رہی ہے۔ مگر ان کا شفقت و محبت سے بھرا لہجہ کانوں کی سماعت میںہنوز حیات و زیست کو تقویت عطا کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا اپنے دوست، احباب اور طالب علموں سے پرخلوص انداز سے پیش آنا، ان کی اخلاقی اور علمی شخصیت کا مظہر تھا۔ وہ درس و تدریس کے دوران طلبا و طالبات کو علمی و ادبی جہات سے روشناس کراتے، جس سے طلبا کے مابین علمی شوق و ذوق اور تجسس کی چنگاری پیدا ہوجاتی۔ طلبا و طالبات مطالعہ کتب میں لگ جاتے، اور ان کی بہت سی پریشانیوں کا ازالہ خود بخود ہوجاتا۔ مزید وہ بہت سی علمی پریشانیوں کے معاملات ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی سے حل کرالیتے۔
مجھے ذاتی طور پر ان کی رحلت سے انتہائی صدمہ پہنچا۔ ان سے میری ملاقات ذاکر حسین دہلی کالج میں ہوئی۔ میں ان سے شروع میںبات چیت کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتا رہا، لیکن رفتہ رفتہ ان کے اخلاق و خلوص نے اپنا گرویدہ بنالیا۔ مزید ان کے علمی و ادبی ذوق نے میرے علمی ذوق کو جلا بخشی، تو ان سے ملاقات اور ٹیلی فون پر گفتگو کا سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ میں نہ صرف ان سے وقتاً فوقتاً علمی تشنگی کو سیراب کرتا رہا، مزید کوئی مسئلہ درپیش آیا تو مشورہ بھی کرتا۔ ان کے ذاتی اوصاف میں علمی گہرائی، ذہنی دیانت، کردار کی پاکیزگی و استقامت، یقین کامل اور سچے عجز و انکسار کا پیکر معلوم ہوتے۔ وہ تحقیقی و تنقیدی کاموں میں بڑی محنت، دیانت داری اور سوجھ بوجھ سے کام لیتے تھے۔ ان کی زبان و بیان میں لکھنوی لب و لہجہ کا پرتو ضرور ہے، مگر ژولیدہ بیانی نہیں ہے۔ وہ بڑے اختصار کے ساتھ گہرے علمی و ادبی مضامین کو تحمل سے بیان کرنے پر خاطرخواہ قدرت رکھتے تھے۔ وہ ایک لائق و فائق استاد کے ساتھ محقق اور ناقدبھی تھے۔ ان کے نزدیک ضابطہ اخلاق اور وقت کی پابندی بڑی اہمیت کی حامل تھی۔ وہ ایک استاذ کی حیثیت سے اپنی بہت سی مصروفیات کے باوجود طالب علموں کی پریشانیوں کو مقدم رکھتے تھے۔ حتی المقدور ان کی پریشانیوں کو بڑی خوش اسلوبی اور خندہ پیشانی کے ساتھ اپنا فرض منصبی سمجھ کر حل کرنے کی کوشش کرتے۔ وہ اپنی علمی اور درسی مصروفیات کے باوجود اپنے خانگی معمولات زندگی کو بھی متاثر نہیں ہونے دیتے۔ ان کے ظاہر و باطن میں بڑی یکسانیت دکھائی دیتی تھی۔ وہ آج کے مادّی دور میں نئی نسل کی صحیح اخلاقی تربیت نہ ہونے پر ان سے خفگی کا اظہار کرتے اور ان کی اخلاقی تربیت کی ممکن حد تک بڑے شائستہ انداز میں کوشش بھی کرتے۔ وہ خانگی اور علمی امور کے ساتھ کالج اور گرد و پیش کے ماحول پر نظر رکھتے۔ وہ اس قدر مصروفیت کے باوجود تحقیقی و تنقیدی کاوشوں سے علمی تحریروں میں اضافہ کرتے رہے۔ ان کی تحقیقی و تنقیدی کتب میں ’علی عباس حسینی فکر و فن کا تجزیاتی مطالعہ‘، ’پروفیسر مختار حسین مہد سے لحد تک‘، ’راہی معصوم رضا، اردو ہندی کی مشترکہ امانت‘، ’اردو قصیدہ نگاری آزادی کے بعد‘، ’علی عباس حسینی حیات اور ادبی خدمات‘ وغیرہ ہیں، اس کے علاوہ تدوین اور تراجم بھی کیے۔ علمی و ادبی حلقے میں ان کے کام کی خاطرخواہ پذیرائی ضرور ہوئی، مگر کماحقہ نہیں۔
سیانے کہتے ہیں کہ پیشہ اور منصب کے علاوہ علم کی قدر و پیمائی تحریر میں طے نہیں پاتی، یہ دیکھنا ضروری ہے کہ فرد نے اعلیٰ تعلیم کے باوجود اپنے پیشہ کے معنی کیسے متعین کیے ہیں۔ اپنا کردار پیشے کی بدولت کس طرح وسیع کیا ہے۔ وہ اعلیٰ ظرف انسان تھے۔ یہ ان کے علم کا اعجاز ہی تھا کہ وہ پھل دار شاخ کی مانند علمی بار سے پیدا ہوئے عجز و انکسار سے جھکے رہتے۔ بہرحال ہر انسان جانتا ہے کہ ہم سب یہاں پر عارضی طور پر مقیم ہیں۔ہاں اردو زبان وادب کے دانشوران میںان کی بڑی عزت تھی۔ ڈاکٹر سید سجاد مہدی حسینی کی ’علی عباس حسینی کے فکر و فن کا تجزیاتی مطالعہ‘ان کی دیگر کتابوں کی طرح ایک گراں قدر کتاب ہے۔ اس میں موصوف نے ان پر سابقہ کام کے حوالے سے بھی رجوع کیا ہے۔ مزید ان کے فکر و فن پر نہایت ادق ریزی سے کام کوآگے بڑھایا ہے۔ ان کو علی عباسی حسینی سے آبائی وطن کی خاطر بڑاشغف ا ور نسبت تھی۔ انھوں نے علی عباس حسینی کے تخلیقی و تنقیدی کاموں پر بھرپور تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس کتاب پر اپنے تاثرات کو تصور میں لانے سے قبل صاحب کتاب اپنے وطن مالوف اور نسب نامہ کے حوالہ سے رقم طراز ہیں:
’’راقم الحروف کا وطن عزیز موضع بگہوئی بزرگ ہے، اگرچہ سید خدا بخش عرف میر صاحب شہید (مدفون نونہرہ) کی نسل میں آتا ہوں اور اپنے وجود سے چند پشت اوپر جاکر سید اخوند کی نسل میں آنے والی ایک دختر کی وجہ سے بگہوئی بزرگ کا قدیم باسی ہوں۔ بگہوئی بزرگ کی قدامت کے لیے ’کبیت العتیق‘ (1043ھ) کا مادۂ تاریخ لیے چار سو سال پہلے تعمیرشدہ عظیم جامع مسجد آج بھی شاہد ہے اور یہ مسجد نہ فقط بگہوئی بزرگ کو متعارف کرارہی ہے بلکہ دیگر مواضع میں موجود اہل سادات کی قدامت کی ایک شناخت اور علامت ہے۔‘‘
(حرف دل، علی عباس حسینی کے فکر و فن کا تجزیاتی مطالعہ، ص 22)
انسان کا یہ فطری جذبہ ہے کہ وہ اپنے وطن مالوف اور عزیز و اقارب سے نسبت کو سجوئے رکھے۔ ناخواندہ شخص اپنی یادوں میں موت تک رکھتا ہے، مگر تعلیم یافتہ شخص اسے تحریری شکل میں محفوظ کرجاتا ہے۔ اسی علمی میراث سے تحقیق و تنقید کاسلسلہ آگے بڑھتا رہتا ہے اور بہت سی باتیں غلط بیانی اور جعل سازی سے محفوظ ہوجاتی ہیں۔ یوں تو انسان کو زندگی کے سفر میں خوش حالی اور پریشانی کے معاملات سے گزرنا پڑتا ہے، مگر خالق کائنات اپنی مشیت و سنت کے مطابق بنی آدم اور اس کی معاشرت کا سلسلہ قائم رکھتا ہے۔ ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی کو اللہ کی ذات و کتاب پر کامل یقین تھا جس کا عکس ان کی تحریروں میں جابجا ملتا ہے۔ وہ حالات کی ناآسودگی کا بیان کرتے ہوئے اللہ کے کلام کی سعادت اور شہادت پر اپنی ایمانی کیفیت قلم بند کرتے ہیں:
’’استمراری بندوبست مفقود ہوجانے یعنی زمین داری کے خاتمہ پر کتنی بستیاں افلاس کے گرداب میں پھنس کر اپنی پہچان کھوبیٹھیں اور مکینوں کو مہاجرت پر مجبور ہونا پڑا اور جب مکین ہی نہ رہے تو مکان کے موجود ہونے یا محترم ہونے کا کیا تصور، نتیجہ سامنے تھا، ماضی تابناک اور حال المناک و عبرت ناک، لیکن شکر ہے اس رب حقیقی کا کہ جس نے ان مع العسر یسراً (سورۃ انشرح 98: 4) کا وعدہ کیا ہے۔‘‘ (ص 22)
ڈاکٹر سجاد صاحب کی علم دوستی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ اپنے آبائی وطن کے خطہ ارضی کے اکابر علمائے ادب سے گہرا لگائو رکھتے تھے۔ اسی لیے وہ آبروئے وطن کے نام سے ایک تالیفی کام انجام دے رہے تھے، جس کی پہلی جلد انھوں نے معروف فکشن نگار علی عباس حسینی کے علمی و ادبی کاموں پر محیط رکھی۔ وہ آبروئے وطن کے حوالہ سے خود رقم طراز ہیں:
’’آبروئے وطن کی تالیف و ترتیب میں غیر ارادی طور پر زیادہ تر وہ اہل قلم شامل ہوگئے جو بذاتہ یا محقق تھے یا ناقد اور مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ غازی پور نے بیسویں صدی کے اہم ناقدین پیدا کیے۔ وقت کی اسی ضرورت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان افراد کے تحقیقی و تنقیدی مضامین اور تخلیقات پر مشتمل ایک علیحدہ کتاب ترتیب دی جاچکی ہے تاکہ قاری کو احساس تشنگی سے دوچار نہ ہونا پڑے۔‘‘ (ص 24)
موصوف نے اس کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے تحریر سفر میں تمام دشواریوں کو بیان کیا ہے جس سے علم ہوتا ہے کہ ایک محقق کو تحقیق کے دوران کس قدر پریشانیوں کے ساتھ یاس و امید سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ انھوں نے اس تحریر میں تمام معاونین کا شکریہ ادا کیا ہے۔ مزید تحقیقی نقطہ نظر یہ ہے کہ انھوں نے اپنی رسائی کے مطابق علی عباس حسینی پر ہوئے چھ تحقیقی کام پر خاصی توجہ و وقت صرف کیا ہے۔ انھوں نے تحقیقی اصول کے سیاق میں علی عباس حسینی کے غیر دستیاب علمی اثاثہ کا ذکر بھی کیا ہے، جس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہنوزتخلیق کار کا مکمل کلیات منظر عام پر نہیں آسکا ہے۔ ان کے اعترافی بیان پر توجہ کی ضرورت ہے، جس سے علی عباس حسینی کی تمام تخلیقات ایک کلیات کی شکل میں قارئین کو دستیاب ہوسکیں۔
ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی نے سید علی عباس حسینی کے خاندانی پس منظر، ولادت، قد و قامت، وضع قطع پر روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے ان کے بھائی بہن اور تعلیمی دور کے تعلق سے ذکر کیا ہے، مگر ان کے اساتذہ کی تفصیلی معلومات حاصل نہ کرسکے۔ ہاں انھوں نے اس تعلق سے علی عباس حسینی کی تحریر سے استفادہ کیا ہے۔ ان کے دو اہم استاذ پروفیسرمرزا محمد ہادی رسوا اور پرنسپل میتھو بینجامن کیمرون کے حوالہ سے دو اقتباس نقل کیے ہیں۔ موصوف نے مزید ان کی ازدواجی زندگی، اولاد، معاشی مصروفیت، معاصرین و احباب، تلامذہ کے حوالہ سے مختصر گفتگو کی ہے۔ انھوں نے ان کے علمی آثار، فلمی دنیا کی خدمات اور تنقیدی مضامین، تبصرے اور مقدمے کے بارے میں ذکر کیا ہے۔ڈاکٹرصاحب نے ان کے سفر آخرت کے حوالہ سے لکھا ہے:
’’عمر کے آخری دو تین سال بیماری میں گزرے خاص طور سے عارضۂ قلب میں مبتلا ہوئے اور اسی مرض کے باعث 27 ستمبر 1996 بروز سنیچر مطابق 15 رجب 1389ھ کو صبح ساڑھے آٹھ بجے اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔‘‘ (ص 58)
ڈاکٹر صاحب نے فن کار کے افسانوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افسانوں کا تجزیہ کرتے ہوئے معاشرتی زندگی کے بیشتر پہلوئوں کو پیش کیا ہے۔ انھوں نے خالص گائوں کے ماحول سے تعلق رکھنے والی دو کہانیوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ ’ہمارا گائوں‘ افسانہ کی اہمیت اور مقبولیت پر اپنے تاثرات نقل کرتے ہیں:
’’اس میں مصنف نے نہ فقط ہندوستان کے دیہاتوں میں رونما ہونے والی سماجی تبدیلیوں کو قبل از وقت محسوس کرلیا، بلکہ مذہب و ملت کے نام پر ہندوستان میں پیدا کی جانے والی تفریق اور پھیلائی جانے والی منافرت، بنیاد پرست تنظیموں کی گائوں کے سادہ لوح انسانوں کے ذہن کی مہدوف مفسود سازی یعنی برین واشنگ (Brain Washing)، زمین داری کا خاتمہ، سماج میں پائی جانے والی ذات برادری، بلند و پست کی غیر مرعی صفوف کا انہدام، جیسے مسائل کو بہت پہلے محسوس کرکے اس کی پیش گوئی کی گئی ہے، جو واقعات، افسانے کی تخلیق سے بہت بعد رونما ہوئے ہیں بلکہ جن حالات کی افسانے میں نشاندہی کی گئی ہے ان کے رونما ہونے کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور یہی حقیقت افسانے کی حیات کا راز ہے۔‘‘ (ص 374)
دراصل ابن آدم غیب سے قطعی اورمستقبل کے سماجی معاملات سے بھی بخوبی واقف نہیں ہوسکتا، مگر اس سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اچھا تخلیق کار انسانی معاشرے کی اجتماعی نفسیات کو محسوس کرلیتا ہے کہ معاشرے کی فکر کس نہج پر مستقبل میں اپنے معاملات روا رکھے گی۔ کسی بھی تخلیق کار کی تخلیق میں اپنے معاشرے کے ذریعہ مستقبل میں رونما ہونے والے فکری معاملات کا ذکر کرنا، ایک بڑے تخلیق کار کے شعور پر دلالت کرتا ہے۔ یہی کچھ علی عباس حسینی نے اپنے معروف افسانہ ’ہمارا گائوں‘ میں پیش کیا ہے۔ یہ افسانہ ہندوستانی دیہات میں بدلتے ہوئے معاشرے کی فکر کی ترجمانی کرتا ہے۔ ہاں، یہاں پر ذکر مناسب سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب نے عربی و فارسی کی شدبد کے باعث انگریزی اصطلاح Brain Washing کا ترجمہ یا متبادل اردو میں مہدوف مفسود سازی بنانے کی کوشش کی ہے۔ وہ ان کی اپنی کوشش ہے مگر ناچیز اس کا ترجمہ ذہن شوئی قدر غنیمت سمجھتا ہے جو چلن میں بھی ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے علی عباس حسینی کے ’کفن‘ اور پریم چند کے ’کفن‘ پر تحقیقی اور تنقیدی نظر ڈالی ہے۔ انھوں نے علی عباس حسینی اور پریم چند کے افسانے ’کفن‘ کی تخلیق میں غالباً دس سال کا فرق بتایا ہے اور دونوں مواد کے اعتبار سے بھی جداگانہ اہمیت اور نفس مضمون کی حساسیت بھی الگ بتائی ہے۔ اس تعلق سے ان کی تحریر پر غور کیجیے:
’’مظہر امام کے بقول، علی عباس حسینی کا تحریر کردہ افسانہ ’کفن‘ دسمبر 1945 کے ادب لطیف میں شائع ہوا تھا۔ ملاحظہ ہو صبح نو، ص 210، علی عباس حسینی نمبر۔ اس بیان کی روشنی میں پریم چند کے ’کفن‘ افسانے کے تقریباً دس برس بعد علی عباس حسینی نے ’’کفن‘‘ لکھا۔ پریم چند نے جہاں نچلے طبقے میں موجود شدید غربت کی پُردرد منظرکشی کی ہے۔ ساتھ ہی بشری نفسیات کے حساس پہلوئوں کو کریدا ہے اور جذبات کی کشمکش کو انتہائے عروج پر پہنچادیا ہے وہیں علی عباس حسینی نے اپنی کہانی کے ذریعے ماضی کے صاحبان اقتدار کی، بدلتے زمانے کے ہاتھوں بے حرمتی ان کی تضحیک اور ان کے استہزاء کی پُردرد منظرکشی کی ہے۔‘‘ (ص 76)
پریم چند کے معروف افسانوں میں ’کفن‘ اور ’دو بیل‘بھی ہیں۔ علی عباس حسینی نے بھی ’کفن‘ کا عنوان تو بعینہٖاور دو بیل کا عنوان تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ یعنی ’بیلوں کی جوڑی‘ کے عنوانات توبراہ راست پریم چند سے مستعار ہیں، مگر دونوں کی بنت مواد، اور نفس مضمون میں افتراق ہے۔ ہاں ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی سے پریم چند کے افسانہ ’دو بیل‘ کے معاملے میں سہو ہوا ہے۔ انھوں نے اس کا عنوان دو بیلوں کی جوڑی بتایا ہے جو غلط ہے۔ وہ پریم چند کے ’دو بیل‘ افسانہ کے تعلق سے لکھتے ہیں:
’’پریم چند کا افسانہ دو بیلوں کی جوڑی ایک تمثیلی افسانہ ہے۔ اس میں مصنف نے بیلوں کو افسانوں کی طرح باشعور اور متکلم دکھایا ہے اور جب ایک گرفتار ہوتا ہے تو دوسرا فرار نہیں ہوتا، بلکہ مصیبت کی گھڑی میں اس کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہتا ہے۔ دو بیلوں کا ایثار صرف ایک دوسرے کے لیے ہی نہیں ہے بلکہ کانجی ہائوس میں گرفتاراپنی نسل وقوم کے سیکڑوں بھائی بندھوئوں کی رہائی کے لیے بھی ہے اورآخر کار کانجی ہائوس کی دیوار گراکر بہتوں کو قید و بند کی مصیبت سے آزادی دلا دیتے ہیں۔ اس کہانی میں پریم چند نے پوری انسانیت کو ایک پیغام دیا ہے۔‘‘ (ص 78)
وہ علی عباس حسینی کے افسانے ’بیلوں کی جوڑی‘ کے نفس مضمون اور موضوع کے تعلق سے تحریر کرتے ہیں:
’’علی عباس حسینی کے افسانے ’بیلوں کی جوڑی‘ کا موضوع بالکل جدا ہے۔ ان کی کہانی کی اصل تھیم جانوروں پر ہونے والے مظالم کی طرف عوام کو متوجہ کرنا ہے اور شاید اس کے پس پشت ’واذا الوحوش حشرت‘ (التکویر: 81: 5) کا الٰہی اعلان کارفرما ہو، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت انسان کے دست ظلم سے نہ تو خود اس کا وجود بچا نہ اس کے عزیز و اقارب اور بنی نوع آدم اور نہ ہی اللہ کی باقی مخلوق۔ خاص طور سے وہ جانور جو اس کی زندگی کے معمولات میں استعمال ہونے لگے۔‘‘ (ص 79)
تجزیہ نگار نے علی عباس حسینی کے افسانوں میں مختلف شعبہ ہائے زندگی یعنی معاشرتی طور پر چاہے وہ سیاسی ہو یا سماجیاتی ہو ان کی نشاندہی کی ہے، جیسے وزیر، مولوی، معلم، جج، وکیل، ڈاکٹر، سرکاری عملہ، بڑے تاجر، غسال، گورکن، قلی، درزی، جولاہا، مہتر، طوائف، کسان وغیرہ۔ مزید انھوں نے سماجی طبقات جیسے راجہ، نواب، ٹھاکر، سید، شیخ، زمیندار، اعلیٰ اور ادنیٰ طبقات کا ذکر کیا ہے۔ ان سب کے ساتھ معاشرتی مسائل کی طرف توجہ دی ہے۔
علی عباس حسینی کا مطالعہ، تجربہ اور مشاہدہ کافی گہرا تھا۔ ان کی نظر ہندوستان کی سیاست سے لے کر عالمی منظرنامہ پر تھی۔یہ وجہ ہے کہ ان کی تخلیقات میں گائوں، شہر اور دیگر ممالک کے معاملات بھی ملتے ہیں۔ تخلیق کار کے یہ افسانے لیڈر، بندوں کی جوڑی اور عمل خیر عالمی سیاست کا ہلکا پھلکا عکس رکھتے ہیں۔ تجزیہ نگار ان افسانوں کے حوالہ سے اپنی رائے تحریر کرتا ہے:
’’آپ کی نظر عالمی سیاست پر گہری تھی۔ کسی سیاسی مسئلہ پر کھل کر اپنی بات رکھنا وہ بھی ایسے انسان سے جو انگریزوں کی ملازمت کررہا ہو اور اس عہد میں جب پریس کی آزادی مطلق نہ ہو یقینا ایک مشکل امر تھا، لیکن ایسے وقت میں بھی اس طرح لکھنا ہمت کو واضح کرتا ہے۔‘‘ (ص 105)
ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی نے علی عباس حسینی کے دستیاب جملہ افسانوں کو اپنے مطالعہ اور فکر و رسا کے ذریعہ، تنقیدی نقطہ نظر کے ساتھ، تحلیل و تجزیہ سے گزارا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا جداگانہ کام ہے۔ ان کی یہ کتاب علی عباس حسینی کی تخلیقاتی فکر کی افہام و تفہیم میں قارئین کے لیے مشعل راہ ثابت ہو گی۔ ریسرچ کے طلبا و طالبات اس کتاب کے مطالعہ سے فکشن کی تحقیق و تنقید کے لیے اپنے فہم و شعور کو جلا بخشیں گے۔ہاں آخر میں یہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کی تحریروں کا جائزہ لینے کے لیے ایک تحقیقی مقالہ کی ضرورت ہے۔ امید ہے کوئی طالب علم مستقبل قریب میں ضرور ان کی تحقیقی و تنقیدی کاوشوں کا جائزہ لے گا۔ اوراردو دنیا ان کی جملہ نگارشات سے استفادہ کرے گی۔ ان کی تحریریں عربی فارسی لفظیات سے خاصی مستفید ہیں۔ ان کا اپنا ایک تحریری اسلوب بن رہا تھا۔ ان کی چند کتابوں کا مطالعہ کرنے سے قاری اپنے ذہن میں ان کی لفظیاتی گھن گرج، کانوں میں محسوس کرنے لگتا ہے۔
Sarfaraz Javed
R-155, Third Floor, Gali No: 6
Sir Syed Road, JogabaiExt
Jamia Nagar, Okhla
New Delhi- 110025
javedsarfaraz@yahoo.in