علامہ محوی صدیقی لکھنوی کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات،مضمون نگار:محمد نعمان خاں

January 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

محمد حسین محوی صدیقی نے 15 مئی 1891 کو لکھنؤ کے ایک متوسط علمی خانوادے میں آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد حافظ حسین فوز عالم اور شاعر تھے لہٰذا شعرو علم و ادب علامہ محوی صدیقی کو ورثے میں ملا جس کے سبب بچپن ہی میں انھیں شعرگوئی، خطاطی، خوش نویسی اور مطالعے کا شوق پیدا ہوگیا تھا۔نواب صدیق حسن خاں نے علامہ محوی صدیقی کے والد فوز لکھنوی کو لکھنؤ سے بھوپال بلاکر ریاست بھوپال کے دفترِ تاریخ میں ملازمت پر فائز کیا جس کی وجہ سے محوی صدیقی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ نظامیہ فرنگی محل لکھنؤ کے بعدبھوپال کے مدرسہ حمیدیہ اور سلیمانیہ میں مکمل ہوئی۔
محوی صدیقی نے ماہ نامہ ’الناظر‘لکھنؤ میں منیجر اور نائب مدیر کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیااور 1916 میں وہ بھوپال کے ’دفتر تاریخ‘ سے وابستہ ہوگئے۔ کچھ عرصہ بعد مدرسہ الہیات کانپور میں مدرس کی حیثیت سے فرائض انجام دے کر اور 1921 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ علی گڑھ میں ملازم رہ کر 1922 میں ’عبیدیہ دارالاشاعت‘ بھوپال کے مہتمم کے عہدے پر فائز کیے گئے۔ 1924 سے 1929 تک ’انجمن ترقی اردو‘ اورنگ آباد سے وابستہ ہوکر ’بابائے اردو‘ مولوی عبدالحق کے ادبی معاون کی حیثیت سے اردو زبان و ادب کے فروغ سے متعلق انھوں نے مختلف النوع علمی، ادبی، تدریسی اور انتظامی کاموں میں حصہ لیا۔ انجمن ترقی اردو کے ادبی رسالے ’اردو‘ کی ترتیب اور ڈکشنری کی تیاری کے علاوہ انٹرکالج اورنگ آباد میں فارسی استاد کی حیثیت سے درس و تدریس کی خدمات انجام دیں۔ ’بزم شعرائے اورنگ آباد‘ قائم کرکے ماہانہ مشاعروں کا نہ صرف اہتمام کیا بلکہ، مشاعروں میں پڑھے جانے والے منتخب کلام کے لیے گلدستے شائع کیے۔
مہاراجا سرکشن پرشاد شاد کی اورنگ آباد آمد پر مولوی عبدالحق نے ان کے اعزاز میں جس خصوصی طرحی مشاعرے کا اہتمام کیا تھا اس کے انعقاد کی ذمہ داری محوی صدیقی کو سونپی گئی۔ محوی صدیقی کے باغ میں منعقدہ اس شاہی مشاعرہ کی رپورٹ تیار کرکے رسالہ انجمن ترقی اردو اورنگ آباد میں شائع کی۔ 1930 سے 1947 تک وہ مدراس یونیورسٹی کے شعبۂ اردو، فارسی اور اسلامک اسٹڈیز سے بہ حیثیت استاد وابستہ رہے۔
مولوی عبدالحق، محوی صدیقی کی ہمہ جہت علمی، ادبی، شعری اور انتظامی خدمات کے معترف و مداح تھے۔ ان کے اورنگ آباد سے مدراس چلے جانے کا انھیں جہاں افسوس تھا وہیں وہ اس امکان سے بھی خوش تھے کہ محوی صدیقی کی مساعی سے مدراس میں اردو زبان و ادب کی ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی اور سازگار ماحول پیدا ہوسکے گا۔
مدراس جانے کے بعد مولوی عبدالحق اور محوی صدیقی کے مابین خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ بیشتر خطوط اب دستیاب نہیں ہیں البتہ مولوی عبدالحق کا 12جنوری 1949 کو محوی صدیقی صاحب کے نام بھوپال سے لکھا گیا خط اس لیے نقل کیا جا رہا ہے تاکہ ان دو حضرات کے مابین تعلقِ خاطر کی نوعیت کا اندازہ لگایا جاسکے:
’’حسن منزل، ابراہیم پورہ بھوپال
12 جنوری 1949
مشفقی محوی صاحب، السلام علیکم
کراچی سے دو خط لکھے، ایک کا بھی جواب نہ ملا۔ معلوم نہیں وہ پہنچے بھی یا نہیں۔ آج کل چار روز سے بھوپال میں ہوں۔ تین مہینے سے دلی میں تھا۔ دلی سے یہاں آیا۔ یہاں سے بمبئی اور بمبئی سے پانی کے جہاز سے کراچی چلا جائوں گا… بھوپال میں یہ دن بہت بری طرح کٹ رہے ہیں۔ آپ بہت یاد آرہے ہیں… محمد امین بھی نہیں ہیں۔ دلی آئے تھے، تین چار روز رہ کر، علی گڑھ چلے گئے اور کہہ گئے تھے کہ جلد واپس آجائوں گا۔ مسلم یونیورسٹی کی تاریخ لکھ رہے ہیں۔ اس کا مواد جمع کرنے گئے تھے، اس میں دیر لگ گئی۔ رہ گئے ایک گوٹروں گوں ڈاکٹر تیموری، وہ اسٹیشن پر بھی آئے اور مکان پر بھی… وہ کلکتہ جارہے ہیں۔ کہتے تھے14 یا 15 تک واپس آجائوں گا۔ اس وقت تک رہا تو ملاقات ہوجائے گی ورنہ خدا کے حوالے۔
صبح، شام سیر کو حسب معمول جاتا ہوں۔ شام کے وقت مسعود صاحب ہولیتے تھے، کل وہ بھی کانپور چلے گئے۔ اب میرے ساتھ صرف اللہ میاں رہ گئے ہیں۔ دیکھیں یہ کب تک ساتھ دیتے ہیں۔
خیر طلب: عبدالحق
مدراس یونیورسٹی کی ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد، علامہ محوی صدیقی نے بھوپال آکر مستقل سکونت اختیار کرکے تخلیق و ترویج زبان و ادب کے سلسلے کو جاری رکھا۔ ’معیار ادب‘ کے نام سے انجمن بنائی۔ ان کے شاگرد بڑی تعداد میں ملک کے طول و عرض میں مقیم تھے۔ وہ بذریعہ خطوط ان کے کلام پر اصلاح دیتے رہے۔
انھوںنے معیار ادب بک ڈپو کے نام سے ایک ادارہ قائم کرکے رسالہ اور کتابیں شائع کیں۔ ان کا نجی کتب خانہ بھی تھا جس میں وقیع ادبی رسائل، کتب اور مخطوطات محفوظ تھے۔ وہ اپنے عصر کے ایسے عالم، ادیب اور استاد شاعر تھے جن سے بھوپال اور بیرون بھوپال کے شعرا و ادبا علمی ادبی امور میں مشاورت کرکے اکتسابِ فیض کرتے تھے۔ محوی صاحب، شوق قدوائی کے شاگرد تھے۔ علامہ محوی صدیقی نے بنیادی طور پرحمد و نعت و منقبت کے علاوہ غزلیات، منظومات، رباعیات بھی تخلیق کیں اور بچوں کے لیے مذہبی، اخلاقی اور تاریخی نوعیت کی کہانیاں اور نظمیں بھی لکھیں۔ عربی، فارسی ادب کے فن پاروں کے تراجم بھی شائع کیے۔
لغت نویسی، ادبی رسائل کی ادارت اور زبان و ادب کی تدریس کے فرائض بھی انجام دیے۔ تلامذہ کے کلام پر اصلاحیں بھی کیں۔ غرض کہ ان کی زندگی کا بیشتر حصہ زبان و ادب کی خدمت میں صرف ہوا۔ ان کی ہمہ جہت علمی، ادبی خدمات کے اعتراف میں مرکزی حکومت ہند نے 1955 میں تاحیات وظیفہ جاری کیا۔ 19 نومبر 1975 کو بھوپال میں ان کا انتقال ہوا اور شاہی قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ محوی صدیقی کثیر التعداد ادبی کتب کے مصنف تھے لیکن ان کے کلام کے دیوان سمیت 18 (اٹھارہ) مسودات ہنوز غیر مطبوعہ ہیں۔ ان کی مطبوعہ کتب میں ’نغمۂ فردوس‘، (نعتیہ کلام 1968)، ’آبشار‘ (مجموعۂ رباعیات 1971)، ’ہمارے حضرت‘ (سیرت رسولؐ)، ’بالک باغ‘ (بچوںکے لیے نظمیں 1976)، ’اسلامی تاریخ کی سچی کہانیاں‘ (حصہ اول و دوم)، ’پارۂ عم‘ کا سلیس اردو ترجمہ‘، ’روحی فداک‘، ’ازواج الانبیاء‘، ’حرزِ یمانی‘ (دعائے سیفی کا اردو ترجمہ)، ’واقعات اظفری‘، ’دیوانِ اظفری‘، ’دیوانِ بیدار‘، ’کلیاتِ ابجدی‘ (حصہ اول، دوم، سوم) ’ہوائی گھوڑا‘، ’خوش نصیب کاہل‘، ’طلسمی تھیلی‘،اور ’شاعر کا دل‘ (طویل نظم) وغیرہ کے نام شامل ہیں۔
استاد شاعر محوی صدیقی کو نعت گوئی سے خاص مناسبت تھی۔ ان کے نعتیہ کلام کا پہلا مجموعہ علوی برقی پریس، بھوپال میں طبع ہوکر معیار ادب بک ڈپو، بھوپال سے شائع ہوا تھا جس کا انتساب نہایت ادب و عقیدت کے ساتھ بہ حضور رسالت مآب محمد مصطفی، احمد مجتبیٰؐ کے نام نامی کیا گیا تھا۔ اس مجموعے میں حمد کے علاوہ 42 نعتیہ نظمیں، خمسے اور رباعیات شامل ہیں۔
قادرالکلامی، زباں دانی اور فنی پختگی کے ساتھ ساتھ آیات قرآنی اور صحیح روایاتِ حدیث کا ہر ہر مقام پر پورا پورا التزام کیا ہے۔ اندازِ بیان میں جدت اور ندرت پیدا کی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ ؎
باخدا دیوانہ باش اور بہ محمدؐ ہوشیار
کا حدِ امکان لحاظ رکھا ہے اور یہ کوئی آسان بات نہیں۔‘‘
اردو میں رباعی گو شعرا کی تعداد زیادہ نہیں ہے۔ علامہ محوی صدیقی کا شمار اردو کے اہم رباعی گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے مجموعۂ رباعیات، ’آبشار‘ میں مختلف دینی، اخلاقی، عشقیہ، متصوفانہ اور زندگی اور سماج سے متعلق مختلف موضوعات پر کہی گئیں 280 رباعیات شامل ہیں۔ بیشتر اردو رباعی گو شعرا نے رباعی کے مروجہ ایک دو مخصوص اوزان پر ہی اکتفا کیا ہے جب کہ علامہ محوی صدیقی نے اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر رباعی کے کئی اوزان و ارکان میں اپنے فنکارانہ کمالات کا اظہار رواں اور پراثر انداز میں کیا ہے۔ حمد و نعت کے علاوہ دیگر موضوعات سے متعلق ان کی چندرباعیات بطورِ نمونہ پیش ہیں ؎
عظمتِ اسلاف
آگاہ نہیں عظمت، اسلاف سے تم
بے گانہ بزرگوں کے ہو اوصاف سے تم
بربادیٔ دولت کا سبب خود ہو، جبھی
محروم ہو اللہ کے الطاف سے تم!
خود غرضی
انسان بدل گیا ہے کتنا یا رب
چھوٹوں پہ نہ شفقت، نہ بزرگوں کا ادب
ہے پیشِ نگاہ صرف اپنا مطلب
نازل نہ ہوں کیوں پھر یہ بلا اور غضب
علامہ محوی صدیقی سن رسیدہ اشخاص کے ہی شاعر نہیں تھے، بچوں کے بھی باکمال شاعر تھے۔ بچوں کی عمر، مشاغل اور نفسیات پر ان کی گہری نگاہ تھی۔ نونہالانِ قوم کو وہ ملک کے روشن مستقبل کا معمار متصور کرتے تھے۔ وہ انھیں محبِ وطن، قوم پرست، بااخلاق، باکردار اور باعمل انسان بنانا چاہتے تھے چنانچہ ان ہی مقاصد کے حصول کی خاطر انھوںنے بچوں کے لیے بے شمار اخلاقی، مذہبی، اصلاحی، معلوماتی اور سبق آموز نظمیں تخلیق کی تھیں جن میں سے 72 نظموں کا انتخاب ’بالک باغ‘ کے نام سے ان کے فرزند منیر المحوی صدیقی نے 1976 میں مجموعے کے بہ طور شائع کیا جس میں مرتب منیر المحوی کا تحریر کردہ پیش لفظ اور پروفیسر عبدالقوی دسنوی کا مقدمہ بعنوان ’مولانا محوی صدیقی بچوں کے شاعر‘ شامل ہے۔ پروفیسر عبدالقوی دسنوی، محوی صدیقی کا تعارف کراتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’مولانا محوی صدیقی مرحوم کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے زبان و ادب کی خدمت کو اپنی زندگی کا اہم ترین مقصد بنالیا تھا… ان کے خوانِ ادب سے بوڑھوں نے ذہنی غذائیں حاصل کیں۔ نوجوان سرشار ہوئے۔ بچوں کا دل بہلایا … انھوںنے کہانیوں کے مقابلے میں بچوںکے لیے نظمیں زیادہ چھوڑی ہیں اس لیے کہ ان کے اندر نثر نگار کے مقابلے میں شاعر زیادہ قدآور تھا… مولانا محوی صدیقی نے بچوں کے لیے جتنی نظمیں کہی ہیں ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بچوں کے مزاج داں تھے… بچوں کے ساتھ ہنستے ہنساتے، چلتے، پھرتے، کھیلوں میں حصہ لیتے، چمن زاروں کی سیرکرتے، برسات میں بھیگتے…تتلی کے پیچھے دوڑتے … چاند کو حیرت سے تکتے، والدین سے بھولے بھالے سوالات کرتے نظر آتے ہیں، کبھی وہ شاعر کا روپ اختیار کرتے ہیں، کبھی ماں باپ بن کر سامنے آتے ہیں اور کبھی خود بچہ بن جاتے ہیں… اردو میں جب بھی بچوں کے ادب کا جائزہ لیا جائے گا مولانا محوی صدیقی کو نمایاں جگہ دی جائے گی۔‘‘
علامہ محوی صدیقی نے بچوں سے متعلق اپنی شاعری کے آغاز و اسباب پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے :
’’مجھے بھی اس صنفِ خاص کی طرف اپنی شاعری کے دورِ آغاز میں کوئی التفات نہ تھا… صرف ابتدا میں 1910 میں لاہور سے ہفتہ وار رسالہ ’نونہال‘ نکلا۔ اس کے مدیر کی فرمائش پر کبھی کبھی اسلامی، تاریخی کہانیاں لکھتا رہا … بچوں کے لیے نظم کہنے کا خیال بھی مدیر ’نونہال‘ ہی کی فرمائش و اصرار پر ہوا اور پہلی نظم خاص بچوں کے لیے ’لوعید آئی‘ حوالۂ قلم ہوئی… 1928-29 میں مخدومی مولانا عبدالحق صاحب سکریٹری انجمن ترقی اردو نے اردو ریڈروں کا کام شروع فرمایا اور خوش نصیبی سے اس مفید کام میں میری بھی شرکت رہی۔ اس ضرورت سے کئی نظمیں اور مضامین لکھنے کا اتفاق ہوا… اس اثنا میں جامعہ ملیہ سے ’پیامِ تعلیم‘ اور دہلی سے ’ہونہار‘ نام کے بچوں کے رسالے نکلے۔ مدراس میں کہی ہوئی نظمیں زیادہ تر انہی کے لیے کہی ہیں اور بچیوں کی نظمیں زیادہ تر محبی جناب رزاق الخیری صاحب، مدیر ’بنات‘ دہلی کے ارشادات کا حاصل ہیں۔
یہ ہے داستان ان نظموں کی، جن کا مجموعہ آپ کے سامنے ہے، جنھیں میں نہایت مسرت کے ساتھ اپنی قوم و وطن کے نونہالوں کے لیے کتابی صورت میں پیش کررہا ہوں۔‘‘ (ماخوذ : ’مصنف کی گزارش‘ مشمولہ ’بالک باغ‘)
لیکن باوجوہ مذکورہ بالا مجموعہ اس وقت شائع نہ ہوسکا۔ 29 سال بعد اسے محوی صدیقی کے فرزند منیر المحوی نے دسمبر 1976 میں معیار ادب بک ڈپو، بھوپال سے شائع کیا جسے ادبی حلقوں میں نہ صرف پسند کیا گیا بلکہ اس کی کئی نظموں کو درسی کتب میں بھی شامل کیا جاتا رہا ہے۔ ’بالک باغ‘ کی نظموں میں خدا تعالیٰ کی حمد و ثنا، رسول اللہؐ سے محبت و عقیدت، ملک و وطن سے لگائو، والدین کا احترام، محنت و خدمت کا جذبہ، تہواروں، موسموں، قدرتی مناظر، پھل پھول، پرندوں، کھیل کود کا ذکر، سچائی، نیکی، خوش اخلاقی کی تلقین، سادہ، رواں زبان اور پر اثر انداز میں کی گئی ہے۔
علامہ محوی صدیقی نے بعض نظموں میں مکالمہ طرازی سے کام لے کر بچوں کے تجسس اور استفسارانہ فطرت و نفسیات کو دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ تین حصوں پر مشتمل طویل نظم ’چاند کو دیکھ کر‘ بچے کے دل میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں تووہ اپنی ماں سے پوچھتا ہے :
(1) ’بچہ پوچھتا ہے‘
یہ جو آسماں پہ آتا
سرِشام جگمگاتا
چمک اپنی ہے دِکھاتا
مِرے دل کو ہے لبھاتا
مجھے دور سے بلاتا
یہ ہے کس کا چاند اماں؟
یہ ہے مو ہنی جو مورت
یہ چمک، دمک، یہ رنگت
یہ ہے کیسا خوب صورت
مجھے اس سے ہے محبت
مجھے اس کی ہے ضرورت
یہ ہے کس کا چاند اماں؟
مجھے تم یہ چاند لادو
مجھے پاس سے دکھادو
مجھے اس سے تم ملادو
مِرے پاس اسے بلادو
یہ نہیں تو پھر بتادو
یہ ہے کس کا چاند اماں؟
(2) ’ماں کا جواب‘
میں بتائوں تم کو پیارے
مِری جاں، مِرے دلارے
یہ ہے چاند آسماں کا
یہ خدا نے ہے بنایا
یہ نہیں زمیں پر آتا
مِرا چاند یہ نہیں ہے
یہ وہ کام کررہا ہے
جو اِسے دیا گیا ہے
کبھی جی نہیں چراتا
کبھی منہ نہیں چھپاتا
نہ یہ وقت کو گنواتا
مِرا چاند یہ نہیں ہے
بچوں کے لیے کہی گئیں محوی صدیقی کی نظموں کی طرح ان کی کہانیاں بھی سلیس و رواں زبان اور دلچسپ انداز میں لکھی گئی ہیں۔ علامہ محوی صدیقی بنیادی طور پر غزل، رباعی اور نظم کے شاعر تھے۔ ان کا تخلیقی سفر طویل عرصے کو محیط ہے۔ ان کا کلام مؤقر ادبی رسائل و جرائد میں شائع ہوتا رہا لیکن دیوان کی اشاعت نہ ہونے کے سبب ان کا شعری سرمایہ یکجا ہوکر سامنے نہیں آسکا ہے۔ ان کے بیٹے منیر المحوی صدیقی نے راقم الحروف کی زیرنگرانی پی ایچ ڈی کے لیے تحقیقی مقالہ قلمبند کیا تھا جس پر انھیں برکت اللہ یونیورسٹی، بھوپال سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی تھی لیکن وہ تحقیقی مقالہ ہنوز غیر مطبوعہ ہے۔
محوی صدیقی مرحوم کے کلام کے جو نمونے مختلف رسائل میں ملتے ہیں ان کے مطالعے سے ان کی قادرالکلامی، زباں دانی، فنِ عروض پر دسترس اور علمی بصیرت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ وہ کلاسیکی طرز کے شاعر تھے لیکن جدتِ فکروخیال اور ندرتِ ادا ان کے کلام کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کیجیے ؎
پھر امتحانِ محنتِ مرداں ہے آج کل
بیدار جب سے عظمتِ انساں ہے آج کل
اس انقلابِ وقت کا محوی نہ دے جو ساتھ
ننگ سخن وری، وہ سخن داں ہے آج کل
——
کچھ اور چارۂ غمِ پنہاں بتائیے
یہ تو محال ہے کہ انھیں بھول جائیے
محوی صدیقی کی غزلوں اور رباعیوں میں جس طرح سچے جذبات و احساسات کی عکاسی ملتی ہے اسی طرح ان کی نظمیں بھی مقصدی اور اصلاحی رنگ کی حامل ہیں۔ اس ضمن میں نظم ’جہانِ نو‘ کے چند اشعار پیش کیے جاتے ہیں ؎
آکہ اے ہم دم کچھ ایسے نوجواں پیدا کریں
جوتنِ مردہ میں روحِ بے کراں پیدا کریں
جو نظر میں ہیچ کردیں، وسعتیں کونین کی
جو پروں میں عزمِ سیرِلامکاں پیدا کریں
آندھیوں میں بھی نہ بجھنے دیں چراغِ آرزو
بجلیوں سے اپنا اپنا آشیاں پیدا کریں
زبان و ادب کے تئیں علامہ محوی صدیقی کی تخلیقات کی ان چند مثالوں اور پیش کردہ صلاحیتوں ہی سے ان کی ہمہ جہت، وقیع علمی، ادبی، تعلیمی، تدریسی، انتظامی صلاحیتوں اور شاعرانہ قادرالکلامی کا نہ صرف اندازہ ہوجاتا ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ وہ ایک لائق استاد، باکمال شاعر و ادیب، لغت نویس، ادبی صحافی، مترجم، باعمل انسان ہی نہیں سچے عاشقِ زبان اردو بھی تھے کہ انھوںنے ایک مقصد خاص کے تحت اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ زبان و ادب کی خدمت اور ترویج و اشاعت میں صرف کردیا تھا۔

Prof. Mohammad Noman Khan
204, Gulshan-e-Desnavi
Green Valley, Airport Road
Bhopal- 462030 (MP)
mnkhanncert@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

عشق اورنگ آبادی کی شعری جہات،مضمون نگار: کلیم احمد

اردودنیا،فروری 2026: عشق اورنگ آبادی کا نام مرزا جمال اللہ تھا۔ یہ مرزا داؤد بیگ اور نگ آبادی کے بیٹے تھے۔ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا

کچھ یادیں کچھ باتیں قاسم خورشیدکی ،مضمون نگار: صدر عالم گوہر

اردو دنیا،دسمبر 2025: 30 ستمبر کی صبح فیس بک کھولتے ہی موبائل کی اسکرین پر ایک نوٹیفکیشن آیا۔ میں چونکا اور اس نوٹیفکیشن کو کھولا تو دیکھا کہ قاسم خورشید

آسمان ادب کا نیر تاباں: قاسم خورشید،مضمون نگار: عشرت صبوحی

اردو دنیا،دسمبر 2025: ادب کے آسمان پر کبھی کبھی ایسے نام جگمگاتے ہیں جنھیں وقت کے غبار میں چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ وہ آفتاب ہیں جو اپنی زندگی میں