غالب کی شاعری اور تمنا کا دوسرا قدم ،مضمون نگار:عبدالرزاق زیادی

January 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

مرزا اسداللہ خاں غالب (1797-1869) اردو شاعری کا وہ تابناک اور درخشاں ستارہ ہے جس نے اپنی تابانیوںسے نہ صرف انیسویں صدی کے شعری منظر نامے کو روشن رکھا بلکہ بعد کے ادوار میںبھی اپنی روشنی لُٹاتا رہا۔اردو شاعری میں بھلے ہی میر کو تقدم حاصل ہے، لیکن آج بھی استادی کا شرف صرف غالب ہی کو حاصل ہے۔ غالب کی استاذی،فکر و فن کا کمال اور عظمت کا یہ اعتراف ہی ہے کہ اب تک ان پر جتنا اور جتنے زاویوں سے لکھا جا چکا ہے اتنا شاید کسی اور اردو شاعر پر لکھا گیاہو۔ لیکن غالب کی استاذی اور عظمت کا راز محض اس امر میں پوشیدہ نہیں کہ وہ ایک شاعر کے ساتھ ساتھ ایک نثر نگار بھی تھے، اس بات پر بھی نہیں کہ وہ ایک فلسفی شاعر تھے،اس وجہ سے بھی نہیں کہ انھوںنے اپنی شاعری میںبڑی مشکل پسندی سے کام لیا ہے،بلکہ ان سب کے بر خلاف ا س کی بنیاد ایسی باتوں پر ہے جن کی تلاش و جستجو اور تعبیر و تشریح میں آج تک ہزارصفحا ت سیا ہ کیے جا چکے ہیں اور بقول محمد حسن ’غالب ایک ایسا تاج محل ہے جس کے گرد تنقید و تشریح کا جنگل اُگ آیا ہے۔اس جنگل میں محض کوڑا کرکٹ، کانٹے اور زقوم ہی نہیں،صندل کے قطعے اور گلاب کے مہکتے تختے بھی ہیں، جن سے دامن کشاں گذر جانا آسان نہیں۔ تنقید و تشریح ہی کا نہیں نقادوں اور محققوں کا بھی ایک جنگل غالب اور نثر ونظم غالب کے تاج محل کے ارد گرد آباد ہے‘۔بلاشبہ غالب کا یہ تاج محل ان کی شاعری کے ان فکر ی و فنی عناصر سے ہی تشکیل پاتا ہے جو انھیں دنیائے شاعری میں ایک عجوبہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
غالب کی شاعری کوئی عامیانہ شاعری یا محض تک بندی و قافیہ پیمائی نہیںبلکہ اس میں وہ شاعرانہ اختصاص و امتیاز بھی موجود ہے جو اسے عظمت کی اس بلندی پر فائز کر دیتاہے۔ مضمون آفرینی،خیال بندی،تمثیل نگاری، نزاکت خیال اور طرفگی بیان جہاں غالب کی شاعری کی انفرادیت تسلیم کی جاتی ہے وہیں ان کی شاعری اپنی تشبیہات و استعارات، نکتہ رسی و نکتہ سازی، بذلہ سنجی و ظرافت اورندرت خیال و جدت خیال کی بدولت نہ صرف قارئین کو قدم قدم پر چونکاتی اور انھیں ایک سے زائد بار پڑھنے پر مجبور کرتی ہے بلکہ ہمیشہ ہمیش کے لیے انھیں اپنے دائرہ اثر اور سحر آفرینی کا حصہ بنا لیتی ہے۔ غالب کی یہی وہ سحرانگیزی اور اثر آفرینی ہے کہ جہاں وہ عظمت کی بلندیوں پر فائز ہو جاتے ہیں وہیں وہ ہر خاص و عام کے لیے ایک محبوب شاعر بن جاتے ہیں اور ان کا دیوان  نسبتاً  سب سے زیادہ شائع ہونے والی کتاب قرار دی جاتی ہے۔علی سردار جعفری لکھتے ہیں:
’’غالب اردو کا محبوب ترین شاعر ہے جسے اقبال نے گویٹے کا ہم نوا قراردیا ہے۔ گذشتہ سو سال میں دیوان غالب کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے ہیں اور بے شمار مضامین لکھے گئے ہیں۔ نقاد اور پڑھنے والے نے اپنے مذاق اور مزاج کے لیے غالب کے اشعار میں گنجائش دیکھی۔ کبھی خراج تحسین نے عقیدت کی شکل اختیار کی، کبھی سنجیدہ تجزیے کی، اور کبھی اس مبالغے کی جو آرٹ کا حسین زیور ہے۔‘‘1
عام طور پر جب بھی غالب کی شاعری اور اس کے تعین قدر کی بات ہوتی ہے تو اس میں غالب کی شخصیت، خانگی زندگی اور اس کے نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ اس کے فکر و فن کو بھی ضروری طور پر موضوع بنایا جاتا ہے۔کیونکہ اس کے بغیر نہ تو غالب کی شاعری کی کوئی تعبیرسامنے آسکتی ہے اور نہ ہی غالب کی شاعرانہ عظمت کا کوئی سراغ ہی لگایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک غالب کی فکر کا تعلق ہے تو اسے ظ۔انصاری کے ا لفاظ میں اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ’ غالب محض ایک فکری شاعر نہیں، زندگی کے مختلف پیچ در پیچ گوار اور ناگوار مظاہر میں وہ ایک زندہ و توانا وجود کا مردانہ برتاؤ، ایک سوچا سمجھاDialectical Approach اور اپنے ارد گرد کے ساتھ ایک نپا تلاAttitudeبھی ہے۔ یہ برتاؤ یا اَپروچ حیرت و حسرت کی کسک رکھنے کے باوجود ماضی کی نوحہ خوانی اور حال پر چاک دامانی سے نہ شروع ہوتا ہے، نہ اس پر تمام ہوتا ہے۔ اس کے ہاں تاسف اور انفعال کی کیفیت طاری نہیں، بلکہ شگفتگی اور سر شاری کی، زندگی کے آلام سے رسّہ کشی، فعال زندگی بسر کرنے کی اور رنج و راحت کی ہر موج کے منتھن سے امرت کی بوندیں ٹپکالینے کی ہمت پائی جاتی ہے۔‘2
گویا غالب کی فکر عام شعری روایت کے حامل شعرا کے افکار سے مختلف بلکہ کئی اعتبار سے متصادم و متضادبھی ہے۔لیکن بغور دیکھیں تو یہی تضاد وتخالف غالب کی فکر کا امتیاز بھی ہے۔ اس میں بھی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں ہمیشہ نشاط کا پہلو غالب رہتا ہے، غالب کے یہاں غم ِ حیات نشاطِ حیات میںڈھل جاتا ہے اور ان کی یہ فکر ہمیشہ ہمیں جوش و عمل اور تمنا و شوق کے جذبے سے سرشار کرتی ہے۔ غالب کی فکرکی تعمیر و تشکیل کے سیاق میں جہاں اس تہذیب کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے جو خود غالب کے خاتمے اور ان کے انتقال کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے وہیں ان کے فن نے بھی اس کو بال و پر عطا کیے ہیں۔جہاں تک غالب کے فن کی بات ہے تو پروفیسر محمد حسن نے اس کو’ تخلیق آفرینی کو حوصلہ بخشنے والا فن کہا ہے۔ حالی کے نزدیک تخلیق آفرینی سے مراد معنی کی تہہ داری ہے۔ ان کے یہاں غالب کے اشعار کے دو یا اس سے زیادہ معنی پر حاوی ہونے کے اشارے ملتے ہیں۔لیکن بغور دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ غالب کا فن صرف تخلیق آفرینی اور امکان آفرینی کا فن نہیں بلکہ غالب کا فن ان تمام اوصاف کا حامل ہے جن کی بنیاد پر کسی بھی شاعری کو ہم فنی اعتبار سے بڑی شاعری کے درجے میںرکھتے ہیں۔ غالب کی شاعری میں فکروفن کا جوحسین امتزاج ہے اور اس سے جو ایک خاص رنگ وآہنگ اور اثر وتاثیر پیدا ہوتی ہے اس کو سمجھنے میں عبادت بریلوی کا یہ اقتباس ہمارے لیے بڑی آسانیاں فراہم کرتا ہے:
’’وہ قاری کے دلوں کو لبھاتی، حواس پر منڈلاتی اور روح پر سرخوشی بن کر چھاجاتی ہے۔ لیکن اس کا سحر صرف یہیں پر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس سے ایک قدم آگے وہ فکر کو اذن ِپر واز بھی دیتی ہے۔ اس کے ہاتھوں ذہن میں اُجالا بھی ہوتا ہے اور وہ ادراک میں تیزی اور شعور میں بیداری بھی پیدا کرتی ہے۔غالب صرف محسوسات ہی کے شاعر نہیں، ان کے یہاں غور و فکر اور سوچ بچار کا بھی خاصا سامان ملتا ہے۔ وہ زندگی کودیکھنا اور بسر کرنا ہی نہیں سکھاتے، اس میں حقیقتوں کی تلاش و جستجو کا درس بھی دیتے ہیں۔اور نہ صرف یہ بلکہ ان حقیقتوں کے مختلف پہلوؤں کا ادراک بھی ان کے پیش نظر رہتا ہے جو بظاہر معمولی سی بات کہتے ہیں، لیکن اس کی تہہ میں انسانی زندگی کی کوئی بڑی ہی اہم حقیقت ہوتی ہے۔بادی النظر میں وہ کوئی بہت ہی معمولی سا خیال پیش کرتے ہیں، لیکن اس کی تہہ میں بھی کوئی بڑا ہی فلسفیانہ نکتہ ہوتا ہے۔‘‘3
غالب کے یہاں موجود یہی وہ فکری کمال، فنی خوبیاں اورتخلیقیت و تہہ داری ہے جن کی بدولت ان کی شاعری کا دائرہ اثرا ور حلقہ ٔ سحر روز افزوں بڑھتا جا رہا ہے اور ہر ایک کے لیے ان کی شاعری یکساں طور پر حرکت و عمل، حوصلہ و ہمت اور شوق و تمنا کا ایک دوسرا قدم معلوم ہوتی ہے۔
تاریخی سیاق میں دیکھیں تو غالب انیسویں صدی کے شاعر تھے اورانھوں نے اپنے افکار وخیالات کا اظہار اسی صدی کے سیاق میں کیا تھا۔ انیسویں صدی اورموجودہ دور کی زندگیوں میں آسمان و زمین کا فرق و امتیاز پیدا ہو گیا ہے۔ انسانی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہوگا جس میں عروج و ترقی کی منازل نہ طے کر لی گئی ہوں۔ بدلتے ہوئے وقت اور زمانے کے ساتھ انسان کے افکار و خیالات، تہذیب و معاشرت، سماجی و ملی زندگیاںسب کچھ بدل گئیں، آج کے انسان نے ترقی اور کامیابی کی اس قدر منزلیں طے کرلی ہیں کہ اس نے ستاروں پر کمندیں ڈال دی ہیں،چندریان پر اپنا جھنڈا لہرانے کے بعد اب ہمارا رخ اگلی کامیابی اور فتوحات کی طرف ہے۔ایسے میںاگر کوئی شاعر ی ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرانے میںسب سے زیادہ کامیاب نظر آتی ہے تو بلا شبہ وہ غالب کی ہی شاعری ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ غالب کی شاعری ہی کیا ہر عہد کی تخلیق دوسرے ادوار کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت وافادیت کی حامل ہو سکتی ہے جتنی کہ وہ اپنے دور کے لیے تھی، ولی،میر،مومن، ذوق اور فیض و فراق اس کی عمدہ مثالیں ہیں لیکن ان میں غالب کی جو انفرادیت ہے وہ مسلم ہے۔غالب کی شاعری کے دو سو سال گذر جانے کے باوجود آج یہ جس قدر ریلیوینٹ اور زندگی کے ہر پہلوکی عکاس نظر آتی ہے اس کی مثال ہمیں کسی اور شاعر کے یہاں نہیں ملتی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ کہی جا سکتی ہے کہ غالب انیسویں صدی کے شاعر تو ضرور تھے مگر ان کی فکر اپنے عہد سے بہت آگے کی تھی۔ غالب ایک ذہین و فطین انسان تھے اورانھیں اپنی غیرمعمولی ذہانت و فطانت کی بدولت آنے والے ادوار کا نہ صرف اندازہ تھابلکہ انھوںنے ان کی نبض پر انگلی رکھنے کا کام بھی کیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ ناقدین نے غالب کو مستقبل کا رمزشناس اور امانت دار شاعر کہا ہے۔ بقول محمد حسن کہ’ وسط انیسویں صدی نے اردو شاعری کو تین تحفے دیے۔ ایک ماضی کے ارمانوں اور صناعی کے رمز شناس حکیم مومن خاں مومن، دوسرے زمانۂ حال کے رمزداں اور مزاج شناس شیخ ابراہیم ذوق اور تیسرے مستقبل کے امانت دار مرزا غالب‘۔4 خود غالب کو بھی اپنی اس مستقبل پسندی اور دور بینی و دور اندیشی کا اندازہ تھا تبھی تو انھوں نے کہا تھا کہ ؎
ہوں گرمیٔ نشاطِ تصور سے نغمہ سنج
میں عندلیب گلشنِ ناآفریدہ ہوں
فکر ِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا
ہے پرِ مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
نیز انھوں نے آنے والے ادوار سے اپنی وابستگی و سروکار کو بھی کچھ اس انداز میں بیان کیا ہے کہ ؎
تُو اور آرائشِ خم کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
آج جب کہ انسان نے اتنی ترقیاں حاصل کر لی ہیں اور اس بدلے ہوئے وقت وحالات میں غالب کی فکر وفن اور سخن سازی کی گرہیں کھل رہی ہیں۔آج کا انسان، جب غالب کی شاعری پر غور و فکر کرتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ غالب نے دو سو سال پہلے انسان کے جن مسائل و مشکلات، فہم و ادراک اور شعور و لاشعور کی گرہیں کھولنے کی کوشش کی تھی، انسانی نفسیات اور اس کے مسائل و معاملات کا ذکر کیا تھااس کا مخاطب صرف وہ عہد نہیں تھا بلکہ وہ بھی ہے جس سے آج ہم سب کا تعلق ہے اور جس کو آج ہم جدید دور سے تعبیر کرتے ہیں۔ نمونے کے طور پر غالب کے چند اشعارملاحظہ ہوں ؎
دل ناداں تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے
غم ہستی کا اسد کس سے ہو جز مر گ علاج
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
ہستی کے مت فریب میں آجائیو اسد
عالم تمام حلقہ دام خیال میں ہے
یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا
ان اشعار سے جہاں ہمیں غالب کے فکری و فنی امتیازات کا اندازہ ہوتاہے وہیں ان کے ان افکارو خیالات، احساسات و جذبات اورمسائل و معاملات کے آئینے میں ہم موجودہ دورکی حسیات و نفسیات اور مشاہدات و تجربات بھی دیکھ سکتے ہیں۔یہ اور اس طرح کی متعدد مثالیں قدم قدم پر مل جائیں گی جن میں فکرکی بلندی، خیال کے ترفع اور تشبیہات و استعارات کی مدد سے غالب نے بیسویں صدی کے وسطی دورمیں اپنے ایسے مشاہدات و تجربات اور افکار وخیالات کو پیش کر دیاتھا جن میں ہم اپنے عہد اور معاشرے کو دیکھ سکتے ہیں۔حسن و عشق کے معاملات ہوں یا در دو غم کا فلسفہ، زندگی و موت کی سچائیاں ہوں یا پھرحیات و کائنات کے مسائل، انسان کی اپنی حسیات و نفسیات ہوںکہ موجودہ دور کے معاملات و ترجیحات غرض یہ کہ ہرامر کی عکاسی غالب کے یہاں اسی در د و کرب، شدت ِاحساس اور نزاکت ودرمندی کے ساتھ موجود ہے جیسا کہ آج نئی نسل محسوس کر رہی ہے۔ بلکہ اس سے بھی ایک قدم آگے جدید دورکی مادی و معاشی ترقیوں اور سائنسی ایجادات و اختراعات کی تیز رفتاری نے آج انسانی ذہن کو ایک کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔کمپیوٹر، لیپ ٹاپ، انڈرائڈ موبائل، اسمارٹ واچ اور اب اے آئی جیسی جدید دور کی بر کتوں کے باوجود آج کا انسان خود کو ناآسودہ اور تنہا محسوس کررہاہے اور اسے مذہب کی طرح ایک ایسی پناہ گاہ کی تلاش ہے جو اس کے جذباتی کرب کو تسکین دے سکے۔ایسے میں جب کوئی غالب کی شاعری کو گنگنانے لگتا ہے تواسے اپنے اس دردو غم اور انتشارو تنہائی کی گھڑی میں نہ صرف ایک سہارمل جاتا ہے بلکہ اسے زندگی کے دکھ درد کو خوشی خوشی برداشت کرنے، آگے بڑھنے اور زندگی کو خوب سے خوب تر کرنے کا حوصلہ بھی ملتا ہے ؎
غم اگرچہ جاں گسل ہے پہ کہاں بچپن کہ دل ہے
غمِ عشق گر نہ ہوتا غم روز گار ہوتا
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
دکھاؤں گا تماشا، دی اگر فرصت زمانے نے
مرا ہر داغ دل اک تخم ہے سر و چراغاں کا
جذبۂ بے اختیار شوق دیکھا چاہیے
سینۂ شمشیر سے باہر ہے دم شمشیر کا
کسی بھی شاعر کے شعری پہلوؤں سے بحث کے وقت اس کے شعری مواد کے ساتھ ساتھ اس میں مستعمل لفظیات کو بھی زیر بحث لانا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ غالب کی شاعری بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ غالب جہاں علم بیان اور علم بدیع سے اپنے کلام کو حسن و معنی کا ہنر بخشتے ہیں وہیں انھوںنے شوق، آرزو، تمنا جیسے الفاظ بکثرت استعمال کیے ہیںجو سفراور سفرِمسلسل کا استعارہ ہونے کے علاوہ ہمیںجہدمسلسل کی بھی ترغیب دیتے ہیں۔غالب کو پڑھتے وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف ہمارے رازوں سے واقف ہیں بلکہ وہ ہماری دوڑ بھاگ والی زندگی میں بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں بلکہ ہمیں پیچھے سے حوصلہ بھی دے رہے ہیں ؎
منظر اک بلندی پر اور ہم بنا سکتے
عرش سے پرے ہوتا کاش کے مکاں اپنا
کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملالیں یارب
سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یا رب
میں نے دشت امکاں کو ایک نقشِ پا پایا
اسی طرح غالب کی شاعری جہاں ہرعہد کے قاری کو ا ن کے ا پنے احسا سات وجذبات، مشاہدات و تجربات اور حسیت و آگہی سے روبرو کرا تی ہے وہیں اس میں اس دور کی ناہمواریوں،چال بازیوں اور منافقت کے نقشے بھی کھینچے ہیں۔نیز اس میں قاری کے لیے اس عہد کی فتنہ سامانیوں سے بچتے بچاتے ہوئے اپنی زندگی کرنے کے لیے بڑ ے اہم اور کارآمد پندو نصائح بھی موجود ہیں ؎
بازیچۂ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے
غالب برا نہ مان جو واعظ برا کہے
ایسا بھی کوئی ہے کہ سب اچھا کہیں جسے
اور پھر ذیل کی غزل کے اشعار ملاحظہ ہوں ؎
ابن مریم ہوا کرے کوئی
میرے دکھ کی دوا کرے کوئی
بات پر واں زبان کٹتی ہے
وہ کہیں اور سنا کرے کوئی
نہ سنو گر برا کہے کوئی
نہ کہو گر برا کرے کوئی
روک لو گر غلط چلے کوئی
بخش دو گر خطا کرے کوئی
غرض یہ کہ غالب انیسویں صدی کا ایک ممتازنام ہے۔ انھوں نے اپنی فکر کی بلندی، دور بینی اور فکرو فن کے حسین امتزاج سے اپنی شاعر ی کو وہ حسن لازوال اور عروج کمال عطا کیاہے کہ اس کی تاثیر و معنویت جتنی کل تھی اتنی ہی آج بھی ہے بلکہ کئی حیثیتوں سے موجود ہ دور میں اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے اور وہ ہماری زندگی سے سب سے زیادہ ریلیونٹ معلوم ہوتی ہے۔ اس سے جہاں ہمیں اپنے احساسات وجذبات کی عکاسی اور مسائل و مشکلات کی ترجمانی کا احساس ہوتا ہے وہیں اس کے مطالعے سے ہمیں اس گھٹن اور چبھن بھری زندگی سے راہ فرار اختیار کرنے کے بجائے فرحت وانبساط، قوت و توانائی اور حرکت و عمل کے لیے ہمت و حوصلہ ملتا ہے۔بلکہ بقول شمیم حنفی کہ’عالمی معیاروں کے مطابق اردو کے عظیم شاعروں، میر غالب، اقبال میں تنہا غالب ہیں جن کے آئینہ ادراک میں مجھے اپنے عہد کے آشوب اور اپنی روح سے وابستہ سوالوں کا عکس سب سے زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے۔ یہ شاعری میرے لیے فیضان کا ایک مستقل سر چشمہ ہے۔ اس کے رموز کبھی ختم نہیں ہوتے۔ روز مرہ زندگی کی دھوپ چھاؤں، عام انسانوں کے دکھ سکھ، وقت اور کائنات کی بنیادی سچائیوں کا جتنا گہرا اور گہرا شعور ہمیں غالب کی شاعری میں موج زن نظر آتا ہے،اس نے ہمارے لیے اس شاعری کو اپنی روحانی اور داخلی ضرورتوں کی تکمیل کا ایک ذریعہ بنا دیا ہے۔ مجھے غالب کے بغیر اپنی دنیا ادھوری اور خام محسو س ہوتی ہے‘5۔گویا اردو کے تمام شعرا میں صرف غالب ہی وہ ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری روحانی اور داخلی ضرورتوں کی تکمیل میں ایک سرچشمے کی حیثیت رکھتی ہے۔
حواشی
.1 پیغمبران سخن، علی سردار جعفری، ایڈشاٹ پبلی کیشنز ممبئی، ص131
.2 نشاط کا شاعر، ظ۔ انصاری، مشمولہ غالب فکر وفن مرتبہ رشید حسن خاں، غالب اکیڈمی، کراچی، ص 9
.3 غالب کی شاعرانہ عظمت، عبادت بریلوی، غالب اور مطالعۂ غالب، سکسینہ پبلشنگ ہاؤس،ص 209
.4 طرز خیال، محمد حسن،اردو اکادمی، دہلی، ص65
.5 پیش لفظ،غالب کی تخلیقی حسیت،شمیم حنفی،غالب انسٹی ٹیوٹ، نئی دہلی،2005

Dr. Abdur Razzaque Ziyadi
House No.D-14 Street No.7
Johari Farm Noor Nagar Extn
Jamia Nagar, Okhla
New Delhi-110025 Mobile No.: +919911589715
E-mil: arziyadi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ندافاضلی کی نظم نگاری،مضمون نگار:حبیب الرحمن

اردودنیا،جنوری 2026: اردونظم نے بیسویں صدی میں کئی فکری و جمالیاتی تجربات کا سامنا کیا اور ترقی پسند تحریک سے لے کر جدیدیت تک ایک طویل سفر طے کیا۔ اس

اردو شاعری میں بنارس کی جھلکیاں ،مضمون نگار: رئیس انور

اردو دنیا،دسمبر 2025: دریائے گنگاکے کنارے سناتن دھرم کے تین تیر تھ استھان— ہری دوار، رشی کیش اور کاشی یا بنارس ہیں۔ ان کے علاوہ الہ آباد (پریاگ راج) ایک

زاہدہ زیدی کی نظمیہ شاعری ،مضمون نگار:محمد شہنواز عالم

اردو دنیا،دسمبر 2025:   زاہدہ زیدی کو نظم اور غزل دونوں پر قدرت حاصل تھی۔ ان کے یہاں حقیقت کا رنگ بھی ہے، مجاز کی کیفیت بھی ہے۔ ان کی