اردو دنیا،دسمبر 2025:
مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب نے شعرا کی بڑی خصوصیت معاملہ بندی کو وسعت اور بلندی دے کر انسانی فطرت کی عمیق گہرائیوں کا مطالعہ بنا دیا اور انسانی زندگی اور حسن وعشق کی نسبت وہ نئے نئے نکتے اور دلآویز باتیں بیان کیں کہ ان کا کلام شعروادب کا سدابہار باغ بھی ہے اور ضیافت غوروفکر کا سامان بھی۔
غالب کی فارسی تصانیف حسب ذیل ہیں:
دیوان غالب فارسی، دستنبو، پنج آہنگ، سبد چین، مہر نیم روز، تیغ تیز، لطائف غیبی، درفش کاویانی، سرمۂ بینش، درد و داغ، چراغ دیر، رنگ و بو، باد مخالف، ابر گہربار، باغ دودر
غالب کا فارسی دیوان بہت ضخیم اور دس ہزار سے زیادہ اشعار پر مشتمل ہے۔ مختلف اسکالرس نے ان کے دیوان کو کئی دفعہ شائع کروایا ہے۔
غالب ایک ذہین اور صاحب فکر انسان تھے، ان کے کلام میں عشق و محبت کے مشاہدات واحساسات کے علاوہ حقائق حیات سے بڑی گہری بصیرت ملتی ہے۔ بیسیوں ایسے اشعار ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ غالب صرف شاعر ہی نہیں بلکہ حکیمانہ بصیرت بھی رکھتے تھے۔ غالب کے اشعار میں جذبے کی حرارت کے ساتھ ساتھ فکرکی گہرائی، مشاہدات کی تازگی اور انفرادیت ہر جگہ نمایاں ہے۔ یہی خوبیاں ان کی شاعری میں عظمت پیدا کرنے کا باعث ہیں۔ غالب کو فارسی زبان پر غیرمعمولی عبور حاصل تھا اور کیوں نہ ہو انھوں نے تو فارسی زبان وادب کی تعلیم اہل زبان سے حاصل کی تھی۔ اس حیثیت سے غالب اپنے معاصر شعرائے فارسی میں ممتاز اور منفرد ہیں۔ ان کی نظم ونثر دونوں میں بالکل ایرانی طرز کے محاورات، ترکیبات، ضرب الامثال، افکارونظریات نظرآتے ہیں۔ امیرخسرو کا طرزبیان سبک ہندی تھا برخلاف اس کے غالب کا اندازبیان خالص ایرانی ہے اور کیوں نہ ہو کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ ہندوستان میں فارسی شاعری ترک لاچین نے شروع کی اور ترک ایبک پر ختم ہوئی۔ یہاں ترک لاچین سے مراد امیر خسرو اور ترک ایبک سے اشارہ غالب کی طرف ہے۔
غالب نے فارسی تراکیب کی مدد سے نہایت لطیف جذبات واحساسات کی بڑی کامیابی کے ساتھ ترجمانی کی ہے۔ غالب کے ابتدائی کلام میں مشکل الفاظ اور پیچیدہ تراکیب بڑی کثرت سے ملتی ہیں۔ غالب نے اپنے کلام میں حسن وعشق کے جذبات بھی بیان کیے ہیں اور فلسفہ و فکر کی گہرائی اور گیرائی بھی ان کے کلام میں موجود ہے۔ غزل کی شاعری میں غالب پہلا مردعاشق نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی کئی شاعر اپنے اپنے محبوبوں کے مخصوص تصور سے اپنی اپنی مردانگی کے اظہار کی کوشش کرچکے ہیں۔ اردو میںقلی قطب شاہ سے لے کر آج کے غزل گو شعرا تک اور فارسی میں رودکی سے لے کر غالب تک کے غزل گو شعرا کی اکثریت کے روایتی عشقیہ مضامین باندھتے رہنے کے باوجود بہت سے شعرا میں نفسیاتی رجحانات، ذاتی زندگی، جذباتی حادثات اور جنسی میلانات سے جنم لینے والی مردانہ انفرادیت کی بنا پر واضح طورسے امتیاز بھی کیا جاسکتا ہے۔ عنصری، سنائی، عطار، رومی، اوحدی، شیخ سعدی، حافظ، خواجو، شفائی، شرف قزوینی، وحشی یزدی، محتشم کاشی، سحابی، نظیری، عرفی، ظہوری، کلیم، غنی، برہمن، خسرو، حسن اور غالب تک سیکڑوں شاعر جوق درجوق غزل یعنی عشقیہ شاعری کے میدان میں اترے۔ اسی طرح اردو میں بھی ولی، میر،جرأت، مومن، داغ، حسرت اور فراق وغیرہ کے نام سے ہی ہمارے سامنے ان کے عشق کا ایک مخصوص تصور اور محبوب کی ایک واضح تصویر ابھر آتی ہے، بلکہ ژرف نگاہی برتنے پر اس سے ہم شاعر کی شاعرانہ انفرادیت کی تفہیم کے ساتھ ساتھ بعض شخصی اور نفسی میلانات کا کھوج بھی لگا سکتے ہیں۔ اسی سلسلے میں ایک اور نکتہ بھی روشن ہوتا ہے کہ کچھ شعرا نے عشق، اس کی مختلف النوع کیفیات اور ان کے زیراثر دلی کی رنگ بدلتی دنیا کی عکاسی پر زیادہ توجہ دی ہے۔ جب کہ بعض محبوب کو مرکز بنا کر اس کے گرد جذبات، احساسات، خیالات اور تصورات کا ایک طلسم خانہ تعمیر کرتے ہیں۔ قلی قطب شاہ، ولی اور میر اول الذکراور بقیہ شاعر موخرالذکر گروہ سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں۔ بظاہر عشق اور محبوب ایک ہی سکہ کے دورخ ہیں بلکہ بعض تو مترادف بھی معلوم ہوتے ہوںگے لیکن ان میں نازک سا فرق بھی ملتا ہے مگر ہم کسی طور سے بھی عشق یا محبوب سے متعلق مضامین کی خانہ بندی نہیں کرسکتے۔
ان نمائندہ شعرا میں غالب کا نام شعوری طور سے نہیں لیا گیا کیونکہ غالب نے عشق اور محبوب دونوں ہی کے بارے میں اپنے مخصوص فلسفیانہ انداز سے تو سوچا مگر جس چیز سے اس کی عشقیہ شاعری انفرادیت حاصل کرتی ہے وہ اس کی ایک اور ہی معنویت ہے یعنی محبوب سے تعلقات کا بیان۔
غالب سے پہلے دبستان لکھنؤ کے شعرا نے تصوف کے زیراثر جنم لینے والے عشق کے مجرد تصور کو ختم کرکے اسے زندگی کی عام سطح پر لاکر جنسی جذبات اور حیاتیاتی تہیجات سے ہم آہنگ کرکے اگرچہ غزل کی روایت میں ایک نیا تجربہ کیا، مگر طوائفیت اور معاشرہ کی انحطاط پذیری نے انھیں ابتذال، سستی لذتیت اور سوقیانہ پن کے مراحل سے گذار کر ریختی کے دلدل میں پھنسا دیا۔
غالب غزل کی روایت سے بغاوت نہ کرسکتا تھا کیونکہ دیگر شعرا کے مانند اس کے شعری احساس کی اساس غزل اور اس کی روایت پر ہی مبنی تھی۔ ذاتی اپج اور انفرادیت کے باوجود وہ اظہار کے اس سانچے میں ڈھلنے والے روایتی مضامین ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ محبوب کے سراپا یا اس کے حسن سے پیدا شدہ کیفیات کے ابلاغ میں بالعموم انہی تشبیہوں اور استعاروں سے کام لیا ہے جن میں غزل کے مزاج سے ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
غالب سیاسی انحطاط اور قدروں کے تغیر سے جنم لینے والے عبوری دور کا مرد تھا۔ ایک حساس فن کار کی مانند اس کی شاعری میں ماحول اور فرد کے تصادم سے جنم لینے والی کئی کیفیات ملتی ہیں۔ اس کی شاعری کا اصل مزاج تو فلسفیانہ ہے جس سے اس نے اپنے دور اور اس دور کے انسان کو سمجھنے کی کوشش کی لیکن یہ فلسفی فن کا مرد بھی تھا اور اس کے ذہن میں وہ تمام پیچیدہ نفسی کیفیات ملتی ہیں جو جنسی ترغیب اور جنسی گریز کے درمیان ایک نقطۂ توازن کی صورت اختیار کرکے اس کی مردانہ انفرادیت اجاگر کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ محبوب اس کے لیے اہم سہی مگر داغ کی مانند اس کے اعصاب پر سوار بھی نہیں۔غالب نے اپنی فکر، اسلوب اور جدت طرازی کے ذریعے اپنے بعدکے بہت سے شعرا کو بھی متاثر کیا ہے، جو اس کی عظمت کی دلیل ہے۔اس کے علاوہ حکیمانہ افکار اور متصوفانہ خیالات کے ذریعے بھی غالب نے اپنے کلام میں وسعت اور تنوع پیدا کیا۔ ایرانی شاعری کو مدنظر رکھتے ہوئے غالب نے سعدی، جامی اور حافظ کی تقلید شروع کی اور عرفی، نظیری اور فیضی کا دقیق مطالعہ کیا، جس کی وجہ سے وہ ایک صاحب طرز شاعر بن گیا۔ غالب کی شاعری میں حافظ کی والہانہ رندی وسرمستی، نظامی کی زبان دانی اور واقعہ نگاری، سعدی کی رعنائی اور تغزل، عرفی کی غضب آلود نگاہ، آزاد خیالی و اپج اور معنی آفرینی، بیدل کا فلسفہ، فیضی کا زوربیان اور ذہنی تشکک، صائب اور کلیم کی تمثیلات اور معاملہ بندی، نظیری کا سوزوگداز، تغزل اور حسن بیان سب نمایاں ہیں۔ فصاحت وبلاغت سے بھی غالب کے اشعار بھرپور ہیں۔ ساتھ ہی ان سب سے جو چیز غالب کو ممتاز کرتی ہے وہ ہے اس کی شوخی، ظرافت، بے تکلفی، بیباکی اور بلند خیالی جس میں حلاوت اور ملائمیت بھی ہے، درد و رقت بھی ہے، نشاط وطرب بھی اور جس کے اندر آلام ومصائب کے صد ہا تیر ونشتر پنہاں ہیں۔
یہ اس کی شخصیت کا کمال تھا کہ بہت سی آفتوں کو سہنے اور ہولناک مناظر کو دیکھنے کے باوجود انہوں نے اپنی شوخی اور ظریفانہ حس کو برقرار رکھا۔ بالآخر انہوں نے جو رنگ اختیار کیا وہ شاعر کی اپنی شخصیت کا پرتو ہے۔غالب ہندوستانی فارسی اور اردو ادب کے وہ تنہا خوش نصیب ادیب وشاعر ہیں جن کے بارے میں لکھنے کا سلسلہ ایک صدی سے زائد عرصے سے جاری ہے۔
غالب نے اپنے کلام میں ہر صنف سخن جس میں مثنوی، قطعہ، قصیدہ، ترجیع بند، ترکیب بند، غزل، رباعی وغیرہ موجود ہیں، اپنے کمال کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مضامین میں مدح، ہجو، مذہب، آیت قرآنی، حدیث نبویؐ، تاریخی واقعات، اخلاقی اور اساطیری داستان، ضرب المثل، شاعری کی صنعتیں جن میں تشبیہہ، کنایہ، استعارہ، ایہام، تلمیح اور تصوف، فلسفہ، اخلاق، رندی، سرمستی، عشق اور مناظر فطرت وغیرہ بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ غالب کی نثر بھی بہترین انشاپردازی کا نمونہ ہے۔ انھیں فارسی زبان والفاظ ومحاورات کی تحقیق بیان پر غیرمعمولی عبور حاصل تھا۔
غالب کی شاعری میں طنز ومزاح کی چاشنی ملتی ہے وہ اپنے کلام میں اسلامی، ادبی و اساطیری تلمیحات کا بخوبی استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے سلیمان، نوح، اسماعیل، مسیحا، نمرود، زلیخا، کلیم، فرعون، حسین بن منصور حلاج، حضرت خضر، حضرت ابراہیم، حضرت موسی اور دیگر پیمبروں کا بارہاذکر کیا ہے۔ داستانوں میں بیان کیے گئے افراد جیسے فرہاد، قیس، لیلیٰ، شیرین، ضحاک، فریدون، رستم، سہراب کے ساتھ آب حیوان، چشمۂ حیوان، جمل، فدک نقش خاتم، نیل نگین سلیمان وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے۔
ان کے کارنامے تاریخ کے آئینہ دار ہیں اور ان کی شاعری سبک ہندی کا بہترین نمونہ ہے۔ قدرت نے غالب کی فکر میں جو ملکہ ودیعت کیا تھا وہ ظہور ونمود کے فطری جوش میں فوارے کی شکل میں موجود ہیں، ان کی فکری جلوہ آرائیاں اور بوقلمونیاں یکساں طور پر جاذب نظر ہیں۔ اپنی نظم ونثر میں غالب نے اپنے لیے ترک، سلجوقی، افراسیابی، مرزبان زادہ سمرقندی جیسے لفظوں کا استعمال بھی کیا ہے۔
ان کی غزل میں تخیل کی بلندی، معاملہ بندی، داخلی وخارجی مسائل، زندگی تازہ، توانائی وحرکت، استاد مسلم الثبوت، مرد کامل وغیرہ کا تصور پہلی بار سامنے آیا۔ ان کی شاعری میں ظہوری، نظیری اور عرفی کا تتبع نظر آتا ہے۔
ان کے کلام کو سمجھنے کے لیے ترکی اور اصفہانی اسلوب شاعری کو بھی سمجھنا ہوگا ورنہ تو ہمارے لیے ان کا کلام معمہ بنا رہے گا۔ غالب کے اشعار میں فلسفۂ حیات انسانی مضمر ہے۔ وہ ایک صوفی منش شاعر تھے۔ انھوں نے خدا کی شان میں بہت سے اشعار کہے ہیں۔ ان کی مثنوی ’مثنوی گوہربار‘ اس بات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ انھوں نے ہر صنف سخن میں بے حد خوب صورت اشعار میں اپنے مشاہدات، تجربات، احساسات اور جذبات کا اظہار کیا ہے۔
مآخذ
1 کلیات نظم فارسی: غالب، اسداللہ خاں، دہلی 1835
2 درفش کا ویانی: غالب، دہلی، 1865
3 سبدچین از مالک رام: غالب، دہلی،1949
4 غالب کا تفکر: احتشام حسین، غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی، 2012
5 کلیات غالب تحقیق وتدوین: از تقی عابدی، غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی، 2008
6 دیوان غالب: تصحیح محمدحسین حائری،چاپ کسری، ج اول، 1377
7 غالب کی تفہیم: صدیق الرحمن قدوائی، غالب انسٹی ٹیوٹ، دہلی، 2009
8 نقش ہائے رنگ رنگ، انتخاب کلام غالب (فارسی) مرتبہ عطا کا کوی، لیبل لیتھوپریس، پٹنہ، جون 1969
Malik Saleem Javed
Associate Professor, Dept of Persian
Zakir Husain, Delhi College
New Delhi- 110002
Mob: 9811897218
msjavedzhc@gmail.com