فضا ابن فیضی: مجھ کو میرے سخن سے پہچانو!،مضمون نگار:رضیہ پروین

January 20, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

ٹونس ندی کے لب ساحل پر آباد شہر مئو ناتھ بھنجن کو شہر سخن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ علمی اور صنعتی اعتبار سے یہ شہر یو پی کے ایک خاص ضلع کی حیثیت سے ایک انفرادی شان رکھتا ہے۔ پارچہ بافی کی صنعت کی وجہ سے ملک و بیرون ملک میں کافی مشہور و مقبول ہے۔ اسی شہر سخن کی پیداوار فضا ابن فیضی نے اپنی شاعرانہ بصیرت سے شاعری کی وہ شمع روشن کی جس کے جلوؤں کی تابانی سے شاعری کا مزاج نہ صرف تبدیل ہوا بلکہ غور و فکر کے انداز میں بھی مختلف رنگ و رو دکھائی دینے لگے۔ فضا ابن فیضی کی شاعری ان کی شخصیت کی سچی آئینہ دار ہے وہ ایک حساس دل اور خوددار طبیعت کے مالک تھے، قدرت نے ان کی فطرت میں شعری و ادبی صلاحیت کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی جس سے انھوں نے بھرپور استفادہ کیا۔ کم عمری سے ہی انھوں نے شاعری کرنا شروع کر دیا تھا، زندگی کی تلخ حقیقتوں اور حالات کی گردشوں نے ان کے قلم کو، ان کے فن کو، ان کی فکر کو، انتہا تک پہنچا دیا تھا جس کا درد مندرجہ ذیل شعر میں پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہے ؎
ہم اس کرشمۂ آفریں کے پیکر ہیں
کہ جس کی دین ہے، افلاس بھوک بے کاری
فضا ابن فیضی جولائی 1923 کو ایک علمی و مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ گھر کا ماحول ادبی ہونے کی وجہ سے اس کا اثر فضا پر بھی پڑا، والدین نے نام تو فیض الحسن رکھا مگر ان کے دادا ابو المعالی محمد علی فیضی اپنے عہد کے مشہور و معروف عالم دین تھے خطاطی اور طغرہ نویسی میں کافی مہارت رکھتے تھے ساتھ ہی شعر و ادب کے بھی شیدائی تھے لہٰذا یہ شعری وراثت ان کو انہی سے حاصل ہوئی، جس کی بنسبت انھوں نے اپنا نام فضا ابن فیضی رکھ لیا اور اسی نام سے وہ شاعری کرنے لگے، اور اسی نام سے وہ اس قدر مقبول ہوئے کہ لوگ ان کا اصلی نام ہی بھول گئے۔
فضا ابن فیضی اپنی خود نوشت میں خود لکھتے ہیں:
’’ شاعری میرے لیے عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور میں اسے اپنے عقیدہ حیات کا ایک مقدس اور لازمی جز سمجھتا ہوں۔ ادب کو جمالیاتی ذوق و احساس کی تسکین کا ذریعہ کہا گیا ہے، اس حقیقت کا عرفان انہی مرحلوں میں ہوا۔میں نے 1934 میں شعر کہنا شروع کیا جب میں مدرسہ عالیہ کی ابتدائی جماعتوں میں زیر تعلیم تھا،پہلی کوشش جو غزل کے فارم میں تھی میری شاعری کا سنگ بنیاد کہی جا سکتی ہے۔‘‘
(کلیات فضا ابن فیضی:محمد جابر زماں، ص 49-50)
فضا ابن فیضی اردو شاعری کا ایک ایسا نام ہے جس کے یہاں کلاسکی غزل کے ساتھ ساتھ جدید لہجے کا چراغ روشن ہے۔ روایت کی پاسداری کے ساتھ نئے رجحانات اور تحریکات سے ہم آہنگ ہونے کا ہنر فضا ابن فیضی کو بخوبی معلوم ہے کیونکہ سچا فنکار اور قلم کار سماج کا آئینہ ہوتا ہے، لہٰذا اس کی ذمہ داری ہے کہ زندگی کو سچائی، ایمانداری اور درد مندی کے ساتھ رقم کرے۔ خوشی ہو یا غم زندگی کے ہر زاویے سے دیکھنا اس کا گہرائی اور گیرائی سے مشاہدہ کرنا اور پھر ان مشاہدات اور تجربات کو اشعار کے پیکر میں ڈھال کر پیش کرنا ہی شاعر کا کمال ہے۔ فضا ابن فیضی کی غزلیں اپنے اندر انسانی جذبے اور احساس فکر کا حسین امتزاج رکھتی ہیں۔ انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کو محور بنا کر انسانی مسائل کو نہایت سچائی اور سوز و گداز کے ساتھ پیش کیا ہے ؎
ہوگی نہ اپنی ذات پہ جب تک فضا گرفت
لفظوں میں کوئی جذبہ سمٹ کر نہ آئے گا
فضا ابن فیضی کو غزل سے گہرا تعلق تھا۔ بنیادی طور پر ان کی توجہ غزلیہ شاعری پر رہی جن میں عشق کے اشعار نہایت سادگی کے ساتھ کہے گئے۔ انسانی احساس، جسمانی اور نفسیاتی رشتوں کا احترام ان کی غزلوں کو وقار بخشتا ہے،اپنے کلام کو لفظی بازی گری سے پاک رکھا ہے،جہاں کہیں بھی عشق و محبت کے جذبات برتے گئے وہاں روشنی کی ایک کرن پھوٹتی نظر آئی۔
ملے جو ہم کو تو شمع نوا بنا ڈالیں
وہ چہرہ چہرہ بکھرتا نکھار ایسا تھا
کبھی سلیقے سے لکھی نہ مدح عارض و لب
میں سادہ لوح بھی رنگین نگار ایسا تھا
چاندنی بن کے وہ راتوں کو ملا ہے مجھ سے
رچی ہوئی ہے ابھی تک ہواؤں میں خوشبو
اسی دیار میں کچھ خوشبوؤں کے شہر بھی ہیں
ہمیں یہ علم تیری زلف مشک بو سے ہوا
ان اشعار سے ان کے جمالیاتی ذوق کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ خوشبو سے رچی بسی چاندنی رات اور محبوب کی زلفوں کی مشک و بوسے معطر شہر، شاعر کے قلبی واردات اور عشقیہ جذبات کا انکشاف کرتا ہے۔ جس خوبصورتی کے ساتھ وہ الفاظ کو ترتیب دیتے ہیں اس سے ایک عجیب قسم کا لطف اور نیا آہنگ پیدا ہو جاتا ہے۔ فضا ابن فیضی نے بڑی خوبی کے ساتھ رعنائی خیال کو الفاظ کا جامہ پہنایا ہے جس کی وجہ سے سادگی میں بھی شوخی نہاں ہے، کلاسکی رنگ میں پوری طرح غالب کا عکس نظر آتا ہے ؎
کیا شخص تھا جب بولتا تو پھوٹنے لگتی
آواز چمکتے ہوئے شیشے کی طرح تھی
فضا کی شاعری کا عشق رنگ حسن کی دل آویزیوں سے عبارت ہے، ایک جذبۂ لطیف مدھم مدھم سرگوشی کرتا رگ وپے میں اترتا محسوس ہوتا ہے اور کہیں کہیں غنچۂ قبا کو اکساتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ ؎
ہمارا ہاتھ صبا کی طرح نہیں گستاخ
کچھ اپنا بھید تیرا غنچۂ صبابھی کہے
حسن و جمال کا خیال نہایت خوبصورت،لطافت اور رشک کے ساتھ وہ اپنی غزلوں کی نوک پلک درست کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ڈاکٹر شفیع احمد لکھتے ہیں:
’’انھوں نے غزلوں میں حسن کا جو تصور پیش کیا ہے وہ بڑا رنگین، دلآویز اور لطیف معلوم ہوتا ہے۔ ان کے یہاں حسن محض ایک فرد اور ایک ذات میں محدود ہے۔وہ صرف اسی کے حسن کو حسن سمجھتے ہیں، اور اسی کا بیان ان کے پیش نظر رہتا ہے۔ وہ ماورائی باتوں سے احتراز کرتے ہیں….. انھوں نے حسن کے رنگ روپ، عشوؤں، اداؤں، چال ڈھال اور جسم و لباس ہر ایک کے اثرات کو پرکشش اور واضح طور پر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘
(فضا ابن فیضی:فن اور شخصیت۔ ڈاکٹر شفیع احمد، 2001، سرفراز آفسیٹ پریس، سعید روڈ مئو ناتھ بھنجن)
فضا ابن فیضی کو اردو فارسی اور عربی زبان پر عبور تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں فارسی ترکیب کے ساتھ عربی الفاظ کی کثرت بھی موجود ہے لیکن جب یہ تراکیب اور الفاظ شعری اسلوب میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں تو ایک نئے معنی کی تشکیل کرتے ہیں۔ کلام میں ردا، قبا،حرم، طیور خوش نوا،بشارت نسیم جاں، سرود لوح و قلم، روح عصائے دشت کلیم، شعور نقرۂ و نیلم جیسے بے شمار الفاظ وہ تراکیب فضا کی شعری مہارت کو واضح کرتی ہیں۔ان کی شاعری کا دائرہ وسیع ہے جس میں مختلف قسم کے مضامین شعری پیکر میں ڈھل کر نئے نئے موضوعات کو وسعت دیتے ہیں۔ فضا کی شاعری اپنے معاصرین سے بہت منفرد اور مختلف ہے وہ بہت جلد کسی تحریک یا نظریے سے متاثر ہوتے نظر نہیں آتے۔وہ ایک آزاد تخلیقی ذہن کے مالک ہیں، ان کی شاعری ایک پختہ کلاسکی شعور کے ساتھ زمانے کے سرد و گرم احساس کی بھٹی میں تپ کر کندن کی طرح نکھرتی ہے جو قدیم و جدید شاعری کا خوشنما سنگم ہے۔ نئے اسالیب اور نئے طرز احساس سے ہم آہنگ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
تمھارے شہر میں ہم سے ادا شناس کہاں
خریدیں زخم رسیلے پھلوں کی بستی میں
شب حیات کو آئینہ کر گیا کوئی
کچھ ایسے خواب بھی آنکھوں میں بھر گیا کوئی
فضا ابن فیضی کی شاعری کی زبان سادہ ہے مگر گہری معنویت کی حامل ہے۔ وہ ایک زندہ دل انسان کی طرح غموں میں بھی مسکرانے کا جواز ڈھونڈ لیتے ہیں۔ غموں سے راہ فرار اختیار نہیں کرتے، اس سے گریزاں نہیں ہوتے، بلکہ ایک حساس دل اور درد مند انسان کی طرح بے چین ہو کر عظمت رفتہ کی یاد دلاتے ہیں اور کہتے ہیں ؎

ایک ذرا حسن سلیقہ کی کمی تھی ورنہ یوں
زندگی کا حوصلہ بے حوصلوں میں تھا بہت
ٹوٹتے خوابوں! کبھی تم نے پکارا ہی نہیں
آنسوؤں کے ساز بے مضرابِ غم بھی بولتے
اور یہ شعر کس قدر خوبصورت ہے جو طبیعت میں انبساطی کیفیت پیدا کر دیتا ہے،لفظ لفظ رجائیت سے بھرپور خوش آگہی سے معمور علم کی روشنی سے پرنور دعوت فکر دیتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
خواب خواب لمحوں کی بے قرار باہوں میں پل رہا ہوں صدیوں سے
میں بہ صورت قطرہ وقت کا سمندر ہوں مجھ کو بے کراں رکھو
تیرے خلوص نے پہنچا دیا کہاں مجھ کو
کسی زمین پہ رہوں آسماں نظر آؤں
فضا ابن فیضی اپنی شاعری میں نئی نئی تشبیہات و استعارات کے استعمال سے تازگی پیدا کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں، نت نئی تراکیب اور کیفیات سے پیکر تراشی کرتے ہیں، معاشرتی مسائل جیسے خشک مضامین کو بھی نہایت دلچسپ بنا کر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ اس کا تغزل کہیں بھی متاثر نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر محمد حسن نے ’سفینۂ زرِ گل‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
’’ عصر حاضر میں جن لوگوں نے غزل کی آبرو رکھی ہے ان میں فضا کا نام شامل ہے انھوں نے جدید غزل کو اپنے منفرد رنگ سخن کی مدد سے نئی جہت عطا کی ہے۔‘‘ (سفینۂ زر گل، ص 12)
فضا ایک خوش فکر اور زودرس شاعر ہیں وہ خارجی زندگی کے ساتھ ساتھ حقیقی زندگی کے تمام پہلوؤں کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ فضا کا فکری و فنی سانچہ ان کے اسلوب کے پیکر میں ڈھل کر نئی کروٹوں اور جہتوں کو پوری توانائی کے ساتھ ایک نیا شعور غزلوں کو عطا کرتا ہے۔ تصویر کشی اور پیکر تراشی جب شعری اسلوب میں ڈھل کر سامنے آتی ہیں تو ایک نئی دنیا کے در کھلتے ہیں،وہ ہر مقام پر اپنی راہ الگ نکال لیتے ہیں ؎
قدم قدم کے حوادث سے اب یہ کیا پوچھیں
ہمیشہ کیوں سفرِ روزگار ایسا تھا
خود اپنا سرخ لہو چاٹتی پھریں صدیاں
بکھرتے ٹوٹتے لمحوں کا وار ایسا تھا
’ شعلۂ نیم سوز‘ میں محمود الٰہی ایک جگہ رقم طراز ہیں:
’’ میں فضا ابن فیضی کو عصر حاضر کے ان فنکاروں میں شمار کرتا ہوں جن کے دم سے اردو شاعری میں چمک دمک باقی ہے جن لوگوں کو اردو شاعری میں جمود نظر آتا ہے انھیں چاہیے کہ فضا ابن فیضی کی شاعری کا مطالعہ کریں جو بہ یک وقت ماضی کا سفینۂ ادراک بھی ہے حال کی خود نوشت بھی اور مستقبل کا صحیفۂ بشارت بھی… اور سچ بات تو یہ ہے کہ وہی زبان زندہ رہتی ہے جو زمانے کے مزاج کی تبدیلی کے ساتھ اپنے اندر تبدیلی پیدا کر لیتی ہے… فضا نے’اردو زبان کی غریب الوطنی‘ ایک ایسی نظم تخلیق کی ہے،ہندوستان میں لسانی مسئلہ جس شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آیا ہے اس کا علم سب کو ہے…جس کو فضا ابن فیضی نے بے نقاب کیا ہے۔ ‘‘ (ایضاً، ص 15-18)
فضا ابن فیضی نے زیادہ تر غزلیں کہیں لیکن ساتھ ہی نظم اور رباعیاں بھی ان کی شاعری کا خاص حصہ ہیں ایک پر فکر شعری بیانیہ ان کی غزلوں اور نظموں میں پھیلا ہوا ہے۔ انھوں نے اپنے خون جگر سے اردو شاعری کی آبیاری کی،اور اس کے دامن کو وسیع تر کیا ۔ نظم ’متاعِ رسوائی‘’ بے حد خوبصورت نظم ہے جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے کہ اہل علم کس طرح اہل ہوس کی صورت میں قلم کا سودا کر لیتے ہیں۔ شعر ملاحظہ ہوں ؎
ذہن میں جال تو بنتا رہے گیتوں کا طلسم
فن توزندہ رہے، شاعر کا قلم نہ بکے
آہنگ،میرا قلم بنام ہم سخنان،اجنبی، نیا سال، یہ شب گزیدہ سحر، قلم کار، شعلۂ آواز،میرا شہر میرے شہر کے لوگ اور روشن اندھیرے ان کی شاہکار نظمیں ہیں جہاں جہاں انھوں نے آئینہ درد دکھلایا ہے وہاں وہاں ان کا فن عروج تک پہنچا ہے نظم ’بنام ہم سخنان‘ میں نسل جدید کو پکارتے ہوئے کہتے ہیں کہ تو آنے والے وقت کی آبرو ہے،تو فنکار کا اعتبار ہے، خزاں کے ذہن سے ابھری ہوئی بہار ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہتے نظر آتے ہیں کہ ؎
میں تیرے عہد کی مجبوریوں سے واقف ہوں
تیری حیات کی الجھن سے بے خبر تو نہیں
میں تیرا درد تیرا کربِ فن سمجھتا ہوں
تیرے شعور کی نازک کرن سمجھتا ہوں
تجھے خبر نہیں، لیکن یہ حُزن و مایوسی
حیات نوع کے مسائل کا حل نہیں پیارے
ایسی بے شمار شاندار نظمیں ہیں جو نوجوانوں کو بیدار اور ان کے فکری و فنی احساسات کو نیا رخ دیتی ہیں۔
فضاابن فیضی بظاہر جو نظر آتے تھے ان کی شاعری اتنی ہی مختلف اور منفرد ہے، وہ ایک الگ مزاج اور وقار کے مالک تھے۔ ان کا کلام، ان کا لہجہ، ان کا اسلوب نگارش، سب ہی کچھ منفرد اور خاص ہے۔ ’شعلہ نیم سوز ‘ میں بڑی شان کے ساتھ کہتے ہیں ؎
جب یہ نادیدہ ہاتھ میں اپنے
ساز حسنِ خیال لیتا ہے
فکر واحساس کی خاموشی کو
عرض نغمہ میں ڈھال لیتا ہے
نظم’ آہنگ ‘میں فضا کا نیا ہی آہنگ نظر آتا ہے جو پڑھنے والے کو نہ صرف متاثر کرتا ہے بلکہ خصوصا نوجوان نسلوں کے ذہنوں میں ترنگ پیدا کر دیتا ہے ؎
نظام شوق کو محکم بنا دیا میں نے
قدم قدم پہ ہیں روشن جوانیوں کیکنول
نسیم و نکہت و نشہ کے صاف رنگ محل
صراحی ومے میں و معشوق ومہتاب و غزل
جہاں کو جنت آدم بنا دیا میں نے
فضا ابن فیضی کا جوش بڑا نرالا ہے وہ ذات و کائنات کا تصور بڑے ہی انوکھے اور دلچسپ انداز میں کرتے ہیں۔ جب وہ غزل کے اشعار کہتے ہیں تو پوری کائنات رنگ برنگے انداز میں ان کے حواس پر طاری ہو جاتی ہے اور جب نظم کے اشعار نظم کرتے ہیں تو آگہی اور بانکپن سے پر درد اور پر اثر بنا دیتے ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
’’ فضا ابن فیضی غزل بہتر کہتے ہیں کہ نظم یہ فیصلہ بہت مشکل ہے، میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ ان کی غزل کا سلسلہ اردو شاعری کے اس بنیادی اسلوب سے جڑا ہوا ہے جسے غالب نے اعتبار بخشا تھا۔‘‘
(سفینۂ زر گل ص 13)
یہی وجہ ہے کہ نظم ’میرا قلم‘میں بڑی سچائی، خلوص اور اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں ؎
اس کی رعنائیِ نگارش میں
جذب ہے انفرادیت میری
مجھ کو میرے سخن سے پہچانو!
شعر میرے ہیں ماہیت میری
فضا کی شاعری دلوں کو روشن اور دماغ کو معطر کر دینے والی ہے۔ جو ہر دور میں تازہ شگفتہ اور علم و دانش کی روشنی سے ظلمت جہل کو مٹانے اور عہد نو کی تاریخ رقم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلوب کی بلاغت، رعنائیِ نگارش، حسن کاری، فکر و احساس کا شعور اور گفتار کی شوخی سے اردو شاعری کی فضا ہمیشہ مہکتی رہے گی۔ ان کا یہ شعر ان کی زندگی، ان کی شخصیت اور ان کی شاعری کی بہترین ترجمانی کرتا ہے ؎
وقت نے کس آگ میں اتنا جلایا ہے مجھے
جس قدر روشن تھا میں اس سے سوا روشن ہوا

Razia Parween
Head, Dept of Urdu
Govt Girls Post Grajuate College
Rampur- 244901 (UP)
Mob.: 6395632129
razia.parveen78600@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

غالب کی شاعری اور تمنا کا دوسرا قدم ،مضمون نگار:عبدالرزاق زیادی

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاں غالب (1797-1869) اردو شاعری کا وہ تابناک اور درخشاں ستارہ ہے جس نے اپنی تابانیوںسے نہ صرف انیسویں صدی کے شعری منظر نامے کو

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب

قیصر الجعفری کی غزلیہ شاعری،مضمون نگار: محمد اویس سنبھلی

اردودنیا،جنوری 2026 اردو غزل کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو اپنی فکری وسعت، فنی مہارت اور اسلوب کی ندرت کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان ہی