آسمان ادب کا نیر تاباں: قاسم خورشید،مضمون نگار: عشرت صبوحی

January 22, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

ادب کے آسمان پر کبھی کبھی ایسے نام جگمگاتے ہیں جنھیں وقت کے غبار میں چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ وہ آفتاب ہیں جو اپنی زندگی میں بھی روشنی بانٹتے ہیں اور بعد ازمرگ بھی ان کی روشنی ماند نہیں پڑتی۔ قاسم خورشید آسمانِ ادب کے ایسے ہی نیر تاباں تھے۔ ان کا تاریخی نام سید محمد قاسم خورشید اور گھریلو نام جعفر تھا۔والد کا نام سید غلام ربانی عرف خورشید سبحانی اور دادا کاسید غلام محمد عمر تھا۔تعلیمی سند کے اعتبار سے ان کی پیدائش 2 جولائی 1960 کو ضلع جہان آباد بہار کے ایک علمی قصبہ کاکو میں ہوئی تھی۔1975میں انھوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ اورینٹل کالج پٹنہ سٹی سے انٹر میڈیٹ،پٹنہ کالج سے گریجویشن اور پٹنہ یونیورسٹی سے اردو مضمون میں ایم اے اور’گئودان کا تنقیدی و تقابلی مطالعہ‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ڈگری (1983) حاصل کی۔ اس کے بعد ٹیلی وژن پروگرام پروڈکشن،تکنیکی آپریشن، اسکرپٹنگ کورس وغیرہ کی تربیت اے اے آئی ڈی ISRO احمد آباد اور سی آئی ای ٹی نئی دہلی سے حاصل کی۔ملازمت کی ابتدا آل انڈیا ریڈیو پٹنہ میں عارضی انائونسر کی حیثیت سے کی۔ وہیں شاہدہ وارثی سے ملاقات ہوئی اور 1988 میں وہ ان کی شریک حیات بن گئیں۔جلد ہی باضابطہ سرکاری ملازمت مل گئی جہاں ترقی کرتے ہوئے وہ ایس سی ای آر ٹی میں صدر شعبۂ السنہ کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔وہ اس درمیان ایجوکیشنل ٹیلی وژن میں پروڈیوسر بھی رہے، اور پروڈیوسر رہتے ہوئے انھوں نے کئی معیاری ڈرامے لکھے اور پروڈکشن انچارج کی حیثیت سے ایجوکیشنل فلمیں اور ڈرامے بھی بنائے۔انھوں نے پہلی ٹیلی فلم ’پیڑہمارے ساتھی‘ بنائی جو دہلی دوردرشن سے نشر ہوئی۔ اس کے بعد کم از کم پانچ سو فلمیں انھوں نے تیار کیں جن کو ملک اور بیرون ملک کے فلم فیسٹیول میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ ایک مصنف اور ہدایت کار کی حیثیت سے انھیں جاپان فلم فیسٹیول اور نیشنل فلم فیسٹیول میں انعامات سے بھی نوازا گیا۔انھوں نے بچوں کے لیے بھی کافی فیچر فلمیں تیار کیں۔ انھوں نے ایس سی ای آرٹی میں بھی کئی معیاری درسی کتابوں کی ترتیب میں اہم کردار اداکیا۔
قاسم خورشید کا تعلق سادات کے ایک زمیندار گھرانے سے تھا مگر یہ زمینداری ان کے دادا کے وقت میں ہی ختم ہو گئی تھی۔سفید پوشی پھر بھی قائم رہی مگر والد کی اچانک وفات نے سارانظام زندگی درہم برہم کردیا۔ ماں کی گود ہی وہ واحد سائبان تھی جس کے سائے میں تین معصوم بچوں نے زندگی کے طوفان جھیلے۔ قاسم خورشید کے دو بھائی اس وقت ڈھائی سال اور چھ ماہ کے تھے۔ اس کمسنی میں یتیمی کا بوجھ اور بیوگی کا زخم ماں کے دل پر ثبت ہوا تو اس نے صبر و تحمل کو اپنی ڈھال بنا لیا۔ یہی ماں اپنے بچوں کے لیے امید کی آخری کرن بن گئی۔دادا کے دور تک زمینداری کاجو ڈھانچہ کھڑا تھا اب کھوکھلا ہو چکا تھا۔ عزت و شہرت کے سہارے سفید پوشی کا بھرم باقی رکھنے کی کوشش کی گئی لیکن آنگن سے کبوتروں کی ہجرت نے اس بھرم کو بھی توڑ ڈالا۔ ایسے ماحول میں زندگی نے انھیں پٹنہ پہنچا دیا۔ صرف سات برس کی عمر میں خالہ زاد ماموںمظفر الجاوید کے زیر سایہ وہ پٹنہ کے تعلیمی و ادبی ماحول میں داخل ہوئے۔ مگر یہ داخلہ آسان نہ تھا۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ روزگار کی جستجو نے بچپن کو بہت جلد جوانی کے راستے پر ڈال دیا۔ رام موہن رائے سیمینری اسکول کی تعلیم کے دوران وہ گورنمنٹ اردو لائبریری میں اکثر بیٹھا کرتے۔ لائبریری کے ملازم حسن احمد نے دروازے ہمیشہ کھلے رکھے اور مطالعۂ کتب کا ماحول فراہم کیا۔ یہی کتابیں آگے چل کر ان کی روح کی غذا بنیں۔ کبھی ہاف پینٹ میں ٹیو شن پڑھانے جانا اور ہم عمر لڑکیوں کی ہنسی کا سامنا کرنا، کبھی پرل موٹرز میں کام کرنا اور کبھی بس کے اسٹیل پرزوں کو پالش کرنا،یہ سب تجربے ان کی شخصیت کو صیقل کرتے گئے۔ جدوجہد ان کا دوسرا نام بن گئی۔ ماں کی دعائوں اور ماموں کی حوصلہ افزائی نے انھیں زندگی کی ہر دشواری میں سہارا دیا جس کا اعتراف وہ زندگی بھر برملا کرتے رہے۔
قاسم خورشید کی ادبی زندگی کا آغاز شاعری سے ہوا۔شاعری کی دنیا میں قدم توطالب علمی کے زمانے میں ہی رکھا تھا۔ پہلا شعلہ دو غزلوں کی صورت میں ہندی کے مشہور رسالے ’پرگتی شیل سماج‘ میں بھڑکا۔ پھر کہانیاں، ڈرامے اور مضامین لکھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1977 میں ان کا پہلا افسانہ ’روک دو‘ زبان وادب پٹنہ میں شائع ہوا اور رفتہ رفتہ ان کے تقریباً پچاس افسانے مختلف معیاری پرچوں میں چھپتے گئے۔ افسانے کے ساتھ ڈراما نگاری میں بھی وہ اپنی مثال آپ تھے۔ انھوں نے پہلی بار بہار میں اردو اسٹیج کو پریم چند کے ڈرامے ’جیل‘ کے ذریعے متعارف کرایا۔ پھر ’ایک اور ہندوستان‘، ’چوہے‘، ’بچوں کی عدالت‘، ’عید گا عیدگاہ‘، ’انگولاکی آواز‘ اور’کہرا‘ جیسے ڈرامے اسٹیج کیے گئے اور مقبول ہوئے۔ اِپٹا (IPTA) اور دیگر تنظیموں کے ساتھ مل کر انھوں نے نہ صرف بہار بلکہ ملک کے مختلف گوشوں میں اردو ڈرامے کی آبیاری کی۔انھوں نے اردو ہندی کے بعض مشہور افسانوں کو ڈراموں کی شکل میں اسٹیج سے پیش کیا۔ساتھ ہی ریڈیائی ڈرامے بھی تحریرکیے۔انھوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے لیے فیچرز بھی لکھے جو بے حد مقبول ہوئے۔ان سب کے ساتھ مشق سخن بھی جاری رہی اور مشاعروں کے علاوہ ریڈیو یا ٹی وی کے وسیلے سے ان کا کلام بھی سامنے آتا رہا۔انھوں نے اردو کے ساتھ ہندی زبان کی طرف بھی توجہ دی اور ان کی کہانیاں اور غزلیں معیاری ہندی رسائل میں شائع ہوتی رہیں۔ ان کی شعری و نثری تصانیف کی تعداد نصف درجن سے زائد ہے۔ افسانوی مجموعے ’پوسٹر‘(1994) ریت پر ٹھہری ہوئی شام (2010) کینوس پر چہرے (2010)، شعری مجموعے ’تھکن بولتی ہے‘ (ہندی)، ’دل تو ہے بنجارہ‘، ’دل کی کتاب‘، سنولائی دھوپ (کیف عظیم آبادی کی غزلوں کی ترتیب) ٹوٹے ہوئے چہرے(مزاحیہ شاعری کی ترتیب)’گئودان کی تنقید‘ (تنقیدوتحقیق)متن اور مکالمہ(تنقیدی مضامین) ’تماشہ‘ (ڈراموں کا مجموعہ) ’قانون ساز کاؤنسل میں اقلیت‘ (سیاسی تجزیہ)کے علاوہ ا ن کی ہندی کہانیوں کے بھی کئی مجموعے منظر عام پر آئے جب کہ کئی کتابیں منتظر اشاعت رہ گئیں۔ان کے ایک افسانوی مجموعے کا انگریزی ترجمہ بھی WAVES کے عنوان سے شائع ہوا۔
قاسم خورشید نے شاعری کے،فیچرز اور ڈرامے لکھے مگر بنیادی طور پر وہ افسانہ نگار کی حیثیت سے ہی پہچانے گئے۔ ان کے ابتدائی افسانوں پر ترقی پسند نقطۂ نظر کا عکس واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے دبے کچلے، استحصال کے شکار،مجبور اور بے بس انسانوں کو اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا۔حربہ، پوسٹر، پتھر، سائمن بوسکی،اندر آگ ہے،باگھ دادا،کشن پور کی مسجد، کنی کا راجکماراورٹوٹے ہوئے چہرے، ان کی نمائندہ کہانیاں قراردی جاسکتی ہیں۔ ان کہانیوں میں انھوں نے سماج کی جڑوں میں پوشیدہ برائیوں کو اجا گر کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسلوب بیان اور فنی نقطہ نظر سے بھی یہ کہانیاں اچھی ہیں۔
قاسم خورشید پریم چند، میکسم گورکی اور نیکولائی استراووسکی سے بہت متاثر تھے۔وہ پریم چند کی حقیقت نگاری کے دلدادہ تھے۔ انھوں نے اپنی کہانیوں میں حقیقت نگاری پر خاص توجہ دی ہے۔ان کا اپنی کہانیوں کے سلسلے میں کہنا تھاکہ’’میں پورے اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ میری کہانیوں سے گزرتے ہوئے کوئی بھی حساس قاری اپنے احتساب کے دوران مجھے بھی ہمسفر بنانے کا شرف عطا کرے گا‘‘۔کہانی’باگھ دادا‘ ان کی آپ بیتی ہے۔ اس کہانی میں انھوں نے اپنے خاندان کی مفلسی اور محرومی کو اس طرح بیان کیا ہے کہ قاری کو وہ اپنی داستان محسوس ہونے لگتی ہے۔ان کی مقبول ترین کہانی باگھ دادا کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’اس رات سبھی سو چکے تھے۔میں نے دھیرے سے دروازہ کھولا۔ زوروں کی بھوک لگی تھی۔باگھ دادا کے مقبرے پر گیا۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ میں نے سرہانے ٹٹولنے کی کوشش کی۔ کچھ بھی نہیں ملا۔دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ دیر تک یہ سلسلہ قائم رہا۔ میرے دل نے اس وقت باگھ دادا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا: آپ باگھ دادا ہیں۔ آپ نے آدم خور کو مار ڈالا تھا۔ بھوک ہمیں مار رہی ہے۔ کیا آپ اسے نہیں مار سکتے۔‘‘
قاسم خورشید افسانہ نگارکے ساتھ ایک شاعر کی حیثیت سے بھی ادب کے آسمان پر روشن ہوئے۔ ہندی میں ایک اور اردو میں ان کے دو شعری مجموعے منظر عام پر آئے اور مقبول ہوئے۔ ان کی شاعری میں زندگی کا دکھ، خوابوں کی ٹوٹ پھوٹ، اور امید کی جھلک ایک ساتھ ملتی ہے۔ وہ جانتے تھے کہ روشنی عارضی ہے، مگر جب تک چراغ جل رہا ہے، اندھیرا پوری طرح حاوی نہیں ہو سکتا۔قاسم خورشید نے اپنا تخلیقی سفر شاعری سے ہی شروع کیا تھا۔ تب وہ ’جعفر‘ یا’کیو کے جعفر‘ کے نام سے شاعری کرتے تھے۔ جعفر سے ان کے قاسم خورشید بننے کا قصّہ بہت طولانی ہے۔آئیے پہلے شاعر جعفر کے کچھ اشعار سے محظوظ ہوں ؎
پھولوں کی خامشی سے ظاہر یہ ہورہا ہے
کہ اس چمن کا مالی پھر خار بو رہا ہے
یہ تنکا زمیں پر سے اٹھ جائے گا
کہ چڑیا کہیں گھر بسانے کو ہے
آواز دے رہا ہے پورب سے پھر سویرا
اپنا شریر سورج دریا میں  دھو رہاہے
شاعر کے ان ابتدا ئی اشعار سے اندازہ ہو گیاتھا کہ اس کے شعری سفر میں اچھی اور بڑی شاعری کے روشن امکانات موجود ہیں۔چنانچہ قاسم خورشید نے بعد میں مشاعروں اور ادبی محفلوں میں اردو کے نامور شعرا کے ساتھ کلام پیش کرکے اس کا ثبو ت بھی دیا کہ ان کی شاعری نظر انداز کی جانے والی نہیں ہے۔ان کے کچھ مقبول اشعار ملاحظہ فرمائیں ؎
مجھے پھولوں سے بادل سے ہوا سے چوٹ لگتی ہے
عجب عالم ہے اس دل کا،وفا سے چوٹ لگتی ہے
عشق میں اتنے تماشے ہیں کہ اے جان جگر
زندہ رہتے ہوئے مرکر نہیں دیکھا جاتا
خوشبوئیں دور سے احساس کرادیتی ہیں
ہر کسی پھول کو چھو کر نہیں دیکھا جاتا
نیند سے ترک تعلق جو ہوا تیرے بعد
دن گزرتا ہے مگر رات کہاں ہوتی ہے
میں خوش ہو اتو آنکھ سے آنسو نکل پڑے
میری خوشی میں درد کا حصہ ضرور ہے
انھوں نے مختصر بحروں میں بھی بعض خوبصورت غزلیں کہیں۔ جیسے یہ اشعار دیکھیے ؎
رشتوں کا بازار ملے گا
جو چاہو کردار ملے گا
سکھ میں تیرے ساتھ رہیں گے
اور دکھ میں بیزار ملے گا
دل کی جب نادانی لکھنا
پیار،محبت، پانی لکھنا
بزم سے ان کی واپس آکر
دریا، آنکھ، روانی لکھنا
روایت سے بغاوت کر رہاہوں
رئیسوں پر حکومت کر رہاہوں
اندھیرے چار سو بکھرے ہوئے ہیں
میں جگنو کی حفاظت کررہاہوں
شاعری اگر اچھی ہو اور دل کے سچے جذبات پر مبنی ہو تو پڑھنے اور سننے میں اچھی لگتی ہے۔ دونوں حالت میں دل متاثر ہوتا ہے، برخلاف اس کے اگر شاعری میں دل کی صدا سنائی نہ دے، روح کی پکار نہ ہو تو ایسی شاعری کی حیثیت صحرا میں اذان جیسی ہوتی ہے۔ اچھی شاعری اپنے دور اور عہد کی تاریخ ہوتی ہے، جسے وقت بار بار یاد دلاتا اور دہراتا رہتا ہے۔ اچھی شاعری رطب و یابس، یاوہ گوئی اور اشعار کے ڈھیر لگانے کا نام نہیں ہے بلکہ قطرہ کو سمندر بنانے کا فن ہے۔قاسم خورشید کے پاس یہ فن تھا اس لیے ان کی شاعری دل ودماغ کو متاثر کرتی ہے اور رطب ویابس سے کم واسطہ پڑتا ہے۔ وہ احمد فراز،ندافاضلی او ر شہر یار جیسے شعرا سے متاثر تھے اس لیے ان کی شاعری میں موضوعات کے ساتھ اظہار کی دلکشی بھی ہے۔ وہ عام اور پرانے موضوع کو بھی نئے انداز میں کہنے کا ہنر جانتے ہیں،جنھیں پڑھ کر احمد فرازاور ندافاضلی کی یاد آجاتی ہے ؎
ہمارے ذکر سے دل کی کتاب روشن ہے
ہمارے ذکر کا ہر اقتباس رہنے دو
میں سوچتا ہوں تصوّر میں ماہتاب رہے
میں سوچتا ہوں کہ دل کی کوئی کتاب رہے
میں سوچتا ہوں وہ شعلہ بدن بلائے مجھے
میں سوچتا ہوں کہ ہاتھوں میں اک گلاب رہے
میں سوچتا ہوں کہ آنکھیں غزال ہوں اس کی
میں سوچتا ہوں کہ کہ جنت میں وہ شراب رہے
جہاں تک مشاعروں کا معاملہ ہے تو کئی آل انڈیا اور بین الاقوامی مشاعروں میں انھوں نے تخلیق کار کے ساتھ ایک ناظم کی حیثیت سے بھی کامیابی حاصل کی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک مشاعرے میں احمد فراز، شہریار، بیکل اتساہی، مخمور سعیدی اور دنیا کے دوسرے اور کئی بڑے شعراموجود تھے، اس مشاعرے کی نظامت ملک زادہ منظور احمد نے کی تھی۔مسئلہ تھا کہ کس شاعر کے ذریعہ مشاعرے کی شروعات کی جائے، اس میں قاسم خورشید بھی بحیثیت شاعر مدعو تھے۔ چنانچہ ان سے ہی مشاعرے کا آغاز کیا گیا اور انھیں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ پھر وہ قومی و عالمی سطح کے مشاعروں میں مسلسلل اپنا تخلیقی جوہر دکھاتے رہے۔
اسی طرح قاسم خورشید اپنے انتہائی مؤثر لہجے، خوبصور ت آواز، اور جادو بیانی کے ذریعے قومی و بین الاقوامی پروگراموں کی کامیاب ترین نظامت سے بھی باذوق سامعین کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ کرتے تھے۔ اس کی ایک اہم وجہ تھی کہ انھوں نے میڈیاسے اپنا کیریر شروع کیاتھا۔ جب پہلی بار آل انڈیاریڈیو کے اردو پروگرام کے لیے اناؤنسر کا آڈیشن ہوا تو اس میں اپنی آواز سے سب سے زیادہ انھوں نے ہی متاثر کیا اور وہ اول آئے۔ بعد میں ان کی پیش کش کو دیکھ کر آل انڈیا ریڈیو کے جنرل پروگرام میں انھیں موقع دیا گیا اور وہ لگاتار اپنی بہترین خدمات سے متاثر کر تے رہے۔ یہ تجربات ان کی نظامت میں خوب خوب کام آئے۔ ان کا ماننا تھا کہ انھوںنے مشاہیر سے بھی بہت کچھ سیکھا ہے خصوصی طور پر ملک زادہ منظور احمد ان کے آئیڈیل تھے۔وہ کہتے تھے کہ ملک زادہ منظور احمد فن نظامت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، جو لوگ چاہتے ہیں کہ اس فن کو باریکی سے سمجھیں تو انھیں ملک زادہ منظور احمد کی ریکارڈنگ سن کر بہت کچھ سیکھنا چاہیے۔ قاسم خورشید کو یہ ابھی امتیاز حاصل تھاکہ وہ بیک وقت اردو اور ہندی دونوں اسٹیج پر یکساں مقبول تھے۔ بڑے مشاعرے یا بڑے اسٹیج سے ان کا تعلق اس طور پربھی رہا کہ IPTA کی بڑی کانفرنسوں میں جہاں ہزاروں کی تعداد میں مجمع ہوا کرتاتھا، قاسم خورشید نے ہمیشہ انھیں خطاب کیا اور مجمع کی توقع کا احترام بھی کیا۔جب سامعین کی خاصی تعداد ہواکرتی ہے اور خصوصی طورپر بھیڑ میں کئی مکتبۂ فکر کے لوگ ہوا کر تے ہیں تو اس وقت مجمع کو بہتر ڈھنگ سے سنبھال پانے کی ذمہ داری بھی نقیب پر ہی ہوتی ہے۔ابھی گذشتہ دنوں شری کرشن میموریل ہال کے جشن اردو کے مشاعرے میںا گلی صف میں کچھ دوستوں میں ہی نااتفاقی ہوگئی۔ ہال میںتھوڑی دیر کے لیے افراتفری کا منظر نظر آیا لوگ ہنگامہ کرنے لگے تو صدر مشاعرہ منور رانا اور سینئر شاعر وسیم بریلوی نے بحیثیت شاعر مدعو ڈاکٹر قاسم خورشید سے گزارش کی کہ وہ مجمع کو خطاب کر تے ہوئے مشاعرے کا ماحول بنائیں۔ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے قاسم خورشید نے جیسے ہی اپنے پروقار اور پر اثر لہجے میں خطاب کیا تو پھر سے ماحول بن گیا۔
بھرپور ادبی زندگی جینے والے زندہ دل اور یارباش قاسم خورشید30 ستمبر2025 کو صبح نوگھروا سلطان گنج پٹنہ کے اپنے مکان میں حرکت قلب بند ہوجانے کے سبب اچانک ہم سے رخصت ہوگئے۔ دوسرے دن صبح درگاہ شاہ ارزاں کے احاطہ میں ان کی نماز جنازہ مدرسہ شمس الہدیٰ کے پرنسپل مولانا مشہود احمد قادری نے پڑھائی اور تدفین شاہ گنج قبرستان میں عمل میں آئی اورآسمان ادب کا یہ نیر تاباں ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔

Dr.Ishrat Subuhi
Khan Colony, Usman Nagar
Nausha, Phulwari Sharif
Patna- 801505 (Bihar)
Mob: 7091175140
Email: ishu.subuhi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

سجاد مہدی حسینی کی علمی شخصیت،مضمون نگار:سرفراز جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی 24اپریل 2021 کو سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ اپنے عزیز و اقربا کے خانہ ہائے دل میں گہرے رنج و ملال کی

عشق اورنگ آبادی کی شعری جہات،مضمون نگار: کلیم احمد

اردودنیا،فروری 2026: عشق اورنگ آبادی کا نام مرزا جمال اللہ تھا۔ یہ مرزا داؤد بیگ اور نگ آبادی کے بیٹے تھے۔ اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مرزا

ڈاکٹربشریٰ رحمن کی ادبی خدمات،مضمون نگار: ذاکر حسین ذاکر

اردودنیا،جنوری 2026: ڈاکٹربشریٰ رحمن(1940-2009) شہر گورکھپور کے ایک ایسے روشن خیال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جو عالمی شہرت کا حامل ہے۔ ان کے والد عبد القدوس