قاسم خورشید کا تخلیقی انفراد،مضمون نگار: شہاب ظفر اعظمی

January 22, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،دسمبر 2025:

بہار کی بھی ہے شرکت بہارِ گلشن میں
لہو سے ہم نے بھی سینچا ہے باغ اردو کو
جب جب گلستان بہار کا کوئی پھول مرجھا تاہے حمید عظیم آبادی کا یہ شعر شدت سے یاد آتاہے،کیونکہ اردو زبان وادب بالخصوص اردو فکشن کی دنیا کو وسعت دینے میں بہار نے جو حصہ لیاہے اسے قطعی نظرا نداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہمعصر فکشن کی تاریخ تو بہار کے ہی افسانہ نگاروں اورناول نگاروں سے روشن ہے۔مگر اب جس تیزی سے یہاں کی افسانوی دنیا اجڑ رہی ہے،اس گلشن کی بقا کی فکرستانے لگی ہے۔گذشتہ دنوں شفق، ذوقی، شوکت حیات، اشرف جہاں،قمر جہاں،حسین الحق، شموئل احمد نے جو غم دیے تھے ابھی اس کے زخم بھرے بھی نہیں تھے کہ شاعر،افسانہ نگار،ڈرامہ نگار، زندہ دل،متحرک اور یارباش قاسم خورشید بھی ہمیں داغ فرقت دے کر نڈھال کرگئے۔ادبی دنیا حیرت زدہ ہے کہ دکھاتاہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔
قاسم خورشید یوں تو متنوع خوبیوں کے مالک تھے مگر میری نگاہ میں وہ بنیادی طور پر افسانہ نگار تھے۔ ناقدین کے شور شرابے سے دور ہوکر جن ادیبوں نے اپنی صحبت سے فائدہ اٹھایا اور زندگی کے تجربات سے ادب میں کوئی نئی جوت جگائی، ایسے ہی ادیبوں میں قاسم خورشید بھی شامل تھے۔ اسی لیے ان کے افسانوں میں نہ تو کسی قسم کی نعرے بازی ہے اورنہ ہی ان کے ذریعے کسی مخصوص سیاسی نظریے کی تبلیغ کی گئی ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں حقیقت نگاری سے کام لیا،جس کی داغ بیل پریم چند نے ڈالی تھی اور جسے سہیل عظیم آبادی کے قلم نے پروان چڑھایا تھا۔گہرے سماجی شعور کے عکاس قاسم خورشید کے افسانے،انسانی زندگی اور ا س سے وابستہ مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے اعلیٰ اور مثبت انسانی قدروں کو نمایاں کرتے ہیں۔ان افسانوں میں انھوں نے ہر مسئلے کو اپنے مشاہدے اور تجربے کی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ انھیں انسانی زندگی سے جڑے ہوئے مسائل،دکھ سکھ،نارسائی،محرومی وناکامی اور انسانیت و شرافت کے استحصال کا گہرا ادراک ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنی کہانیوں میں ان تمام احساسات اور مشاہدات کو پورے خلوص، صداقت، فنکاری اور اثر پذیری کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
قاسم خورشید ذہنی طورپر ترقی پسند نقطۂ نظر کے حامل تھے،اس لیے ترقی پسندتحریک کے نظریات و خیالات کا اثر ان کے حساس ذہن پر گہرا رہا۔لہٰذا جب بھی انھوں نے قلم اُٹھایاانھیں وہ دنیا سب سے پہلے دکھائی دی جو دبے کچلے،تباہ حال،کمتر وسائل حیات کے ساتھ زندگی گزارنے والے غریب اور نادار لوگوں نے بسائی تھی۔اس طبقے میں بھی انسانوں کی جو متنوع اور ہمہ رنگ اقسام پائی جاتی ہیں،ان میں سے انھوں نے ایسے کرداروں کا انتخاب کیا،جن پر عام فن کاروں کی نظر نہیں پڑتی۔شاید ان لوگوں کے مسائل کی تہ میں اترنا ہر کس وناکس کے بس کی بات بھی نہیں ہے،کہ اپنی لائبریری میں بیٹھ کر غریبوں کے مسائل پر لکھنے اور ایسے کرداروں کے ساتھ زندگی کے شب وروز گزارنے میں بڑا فرق ہے۔ قاسم خورشید ایسے افسانہ نگار تھے، جنھوں نے اپنی بے شمار صبحیں اور ان گنت شامیں ترقی پسند قافلوں،نکڑ ناٹکوں،مزدوروں کی لڑائیوں اور احتجاجی جلوسوں کی نذر کیں،اور تب انھوں نے غریبوں، مظلوموں اور تباہ حالوں کا دکھ درد قریب سے دیکھا۔لئی کھاتا ہوا بچہ، میّا، سُبّا، کنّی، سائمن باسکی،چھو بابا، سُکھیا ، جتندرپرساد، مُنّو پہلوان،کِسنا،پھولی اور وہ لڑکی جیسے کردار ان کی کہانیوں میں اپنی تمام جلوہ سامانیوں، دنیائے سوز والم، خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ موجود ہیں۔ ان کی کہانیوں میں مظلوموں اور غریبوں کا دل دھڑکتا ہے۔قاسم خورشید نے ایسے ہی دلوں کی نفسیات، محبتوں، وفا داریوں اور نارسائیوں کے کامیاب مرقعے پیش کیے ہیں۔
موضوع کے اعتبا ر سے قاسم خورشید کی کہانیوں کو تین رنگوں میں تقسیم کیا جا سکتاہے،کہ ان تینوں رنگوں میں سماج کے تین چہروں کو پینٹ کرنے کی کامیاب کوشش ملتی ہے۔ اور یہ تینوں چہرے بنیادی طورپر افسانہ نگار کے اُس نقطۂ نظر کا عکس ہیں جس کا ذکر اوپر کیا گیاہے۔پہلا رنگ اتحاد،یگانگت اور اخوت و محبت سے علاقہ رکھتاہے(میّا،کشن پور کی مسجد،کوئی ہاتھ، ریت پہ ٹھہری ہوئی شام،جڑیں وغیرہ)دوسرے رنگ میں محبت ، تنہائی،اقدار کی بازیافت اور ناسٹلجیا کی جھلک ملتی ہے(کاہے راکھے سائیاں، دیواریں، رات، پھانس، اندر بارش باہر دھوپ،کوئی آواز وغیرہ)اور تیسرا رنگ غربت،ظلم اور استحصال کے خلاف احتجاج پر مبنی ہے(باگھ دادا،کنّی کا راجکمار،وہ لڑکی، سیلاب، حربہ، تجارت، پوسڑ، اندرآگ ہے، سائمن باسکی وغیرہ)۔ اِن تینوں رنگوں میں بعض بہت اچھی کہانیاں بھی ہیںاور بعض اچھی اور کم اچھی بھی۔مگر ایک بات ان سب میں مشترک ہے کہ افسانہ نگار نے زندگی اور اس کے واقعات و مفروضات کو طرح طرح سے دیکھ کر اپنی کہانیوں میں تنوع اور رنگا رنگی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔یہ رنگا رنگی کہانیوں کی وجہ سے انداز بیان اور تکنیک میں بھی دکھائی دیتی ہے،کہ بعض کہانیاں راوی نے صیغہ واحد غائب کی شکل میں بیان کی ہیں تو بعض میں راوی واحد متکلم بن گیاہے۔کسی میں پوری کہانی مکالموں میں مکمل ہوئی ہے تو کسی میں ڈراما یا فلیش بیک تکنیک کا خوبصورت استعمال کیا گیاہے۔یعنی اِن افسانوں میں بیانیہ کی مختلف تکنیکیں کم وبیش کامیابی کے ساتھ برتی گئی ہیں۔لہٰذا ان کو پڑھتے وقت کسی قسم کی تکرار کا احساس نہیں ہوتا۔ہاںیہ ضرور احساس ہوتا ہے کہ بہت سے افسانے ایک ہی کردار یا ایک ہی شخص کے تاثرات پر مبنی ہیں مگر راوی یا تکنیک کے تنوع کی وجہ سے اس بات کا احساس ناگواری کی حد کو نہیں پہنچتا۔
قاسم خورشید افسانہ گوئی کے فن سے واقف تھے۔کسی واقعے یا تجربے کو کس طرح قصہ بنا نا چاہیے وہ یہ فن جانتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے افسانے کا موضوع ہمیشہ پیش نظر رکھتے تھے۔ان کے افسانوں کا پلاٹ مربوط ہوتاہے۔مختلف واقعات میں مختلف کردار اس طرح لاتے ہیں جیسے وہ ان ہی واقعات کے لیے بنے ہوں۔ ماحول اور واقعات کی مناسبت سے قاسم خورشید کی مکالمہ نگاری ان کرداروں کو ٹھوس شکل عطا کرتی ہے۔ انسانی رشتوں اور اس کی فطری جبلتوں سے متعلق ان کرداروں کی داخلی اور خارجی کشمکش،ان کی حسرت و ناکامی،بے یقینی و بے اطمینانی،عیش و طرب اور دردو کرب کی تصویریں بنا کر وہ قاری کو زندگی کی حقیقی تصویریں دکھاتے ہیں۔مثلاً کینوس پر جو چہرے اتحاد، یگانگت اور اخوت و محبت کا پیکر بن کر ابھرے ہیں اُن میں ’میّا‘کو آپ چاہ کر بھی فراموش نہیں کر سکتے۔یہ انسان کی انسان سے بے لوث محبت کا نمائندہ کردار ہے، جس نے جعفر امام کو دو بتاشے پر خرید کر اُس کی تقدیر بدل دی۔ افسانے میں نیم کے پیڑ کا کٹ جانا در اصل ایسے ہی بے لوث کرداروں اور قدروں کے ختم ہونے کا استعارہ ہے جنھیں ہمارے صارفیت زدہ سماج نے کاٹ کر ہمارے سروں سے محبتوں،شفقتوںاور روایتی قدروں کا سایہ چھین لیاہے۔اِنھیں قدروں کو زندگی بخشنے والے افسانے کشن پور کی مسجد،کوئی ہاتھ اور جڑیں وغیرہ بھی ہیں۔وطن پرستی،سیکولرزم اور بابری مسجد انہدام کے المیے پر بہت ساری کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ایسی ہر کہانی میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ہندستان فرقوں میں کیوں بٹاہوا ہے؟ہم سکون کی زندگی کیوں نہیں گزارپاتے؟آزادی مل گئی مگر زندگی خون آلود کیوں ہے؟جیسے سوالات۔ قاسم خورشید نے ان سوالات سے نبردآزما ہونے کے بجائے اتحاد،یگانگت اور سیکولرزم کی اُس روح تک پہنچنے کی کوشش کی جو ان سوالات کا واحد جواب ہے۔ انھوں نے مسجد یا مندر کے انہدام کا ذکر کیے بغیر ’کشن پور کی مسجد‘ میں ہندستان کے زیادہ تر ہندؤں اور مسلمانوں کا نقطۂ نظر پیش کر دیاہے،جو نہ تو کسی مسجد کا انہدام چاہتے ہیں اور نہ کسی مندر کی مسماری۔’کوئی ہاتھ‘اور ’جڑیں‘ جیسے افسانوں میں بھی اخوت،محبت اور یگانگت کا ایسا ہی ماحول خلق کیا گیا ہے جہاں مثبت قدروں کی بازیافت اور رمضانی اور شیخ جمعراتی جیسے کرداروں کی تلاش سے معاشرے کو منزہ بنانے کا جذبہ دکھائی دیتا ہے۔ یہ افسانے اپنی روایات کو فراموش کرنے والوں اور اخوت و اخلاقیات کی دھجیاں اڑانے والوں کے لیے تازیانۂ عبرت سے کم نہیں۔یہ افسانے حقیقت پسندانہ احساسات سے مملو ہیں اور اُس فکری حصارکو توڑ دینا چاہتے ہیں جسے معاشرے کے چند افراد کی ذہنی آوارگی نے کھینچ رکھاہے۔
دوسرے رنگ میں قاسم خورشید نے عشق ومحبت کے موضوع پر جو کہانیاں لکھی ہیں وہ اِس موضوع پر ان کی دسترس کی عکاسی کر تی ہیں۔اس سلسلے میں وہ چھوٹے سے چھوٹے واقعے کو ایک بڑا قصہ بنا کر پیش کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔مثال کے طور پر پھانس، رات، اندر بارش باہر دھوپ اور کوئی آواز وغیرہ پڑھ جائیے۔یہاں عشق کی وارفتگی،یادوں کا عذاب اور ناسٹلجیائی کرب تو دکھائی دے گا، مگر وہ بے راہ روی،بے اعتدالی یا عریانیت نہیں ملے گی جسے بعض لوگ رومانی کہانیوں کی جان سمجھتے ہیں۔رات،دیواریں اور کوئی آواز جیسی کہانیاں تنہائی کے اُس کرب کو بڑے دلآویز اسلوب میں پیش کرتی ہیں،جب انسان دعا کرنے لگتا ہے ؎
یاد ماضی عذاب ہے یارب
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
’ریت پر ٹھہری ہوئی شام‘راجستھان کے ایک غریب قبیلے کی کہانی ہے جہاں پھولی اور کِسنا کی محبت پروان چڑھتی ہے۔محبت اور اعتماد کا رشتہ اتنا مضبوط ہے کہ غربت اور بھوک بھی نہ تو کسنا کی محبت کو نقصان پہنچا پاتی ہے اور نہ پھولی کی معصومیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کی دوسری خوبی راجستھانی کلچر اور بالخصوص اُس قبیلے کی ٹوپوگرافی ہے جس کو نگاہ میں رکھ کر یہ کہانی بُنی گئی ہے۔’پھانس‘اِس حصے کی سب سے الگ کہانی ہے جو مکالماتی تکنیک کے سہارے پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ مسکان ایک ماڈرن لڑکی ہے مگر مشرقی انداز فکر اور قدروں سے وابستہ ہے،اس لیے وہ واحد متکلم سے بے انتہا عشق کے باوجود اپنے پاپا کی تنہائی کے خوف سے نہ صرف شادی سے انکار کردیتی ہے بلکہ واحد متکلم کی شادی روبینہ سے کرواکر اس کی زندگی سے نکل جاتی ہے۔مگر کہاں؟وہ تودور جاکر بھی واحد متکلم کی سانسوں میں بسی ہوئی ہے،اور اس قدر رچی بسی ہے کہ وہ اس سے مُکتی پانے کی دعائیں کرتاہے۔موضوع کے اعتبار سے یہ افسانہ نیا نہیں ہے اور نہ منفرد ہے،مگر تکنیک، زبان اور اسلوب کے لحاظ سے اسے یقینا انفرادیت حاصل ہے۔ لیپ ٹاپ،موبائل اسکرین،کپل جیسے الفاظ کے علاوہ ماڈرن انگریزی اردو مکالمے اور لب و لہجے سے اس افسانے میں وہ نیاپن،بے ساختگی اور فطری اندا ز در آیاہے جو قاری کو اپنی گرفت میں رکھتاہے۔اس حصے کی زیادہ تر کہانیاں ایک ایسے پڑائو پر جا کر ختم ہوتی ہیںجہاں سے زندگی کی نئی سچائیاں شروع ہو کر قارئین کو نئی ڈگر سے روشناس کراتی ہیں۔یہ نئی ڈگر انسان کو اپنے آپ میں سمو لینے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔ یہاںقاسم خورشید نے فرد کی نفسیات اور اس سے متعلق مسائل کو اجاگر کرنے میں اپنی بھرپور صلاحیت سے کام لیاہے۔یہ کہانیاں رشتوں کو لے کر لکھی گئی ہیںجہاں رشتے اپنے تقدس،اپنی حرمت کے تحفظ اور فرائض و ذمہ داریوں کے تئیں حساس ہوتے ہیں۔یہاں مرکزیت نسوانی کرداروں کو حاصل ہے جو حالات سے سمجھوتہ تو کرتی ہیں مگر نہ ضمیر فروشی کی ترغیب دیتی ہیں اور نہ خودکشی کا تصور۔مذکورہ افسانوں کے علاوہ ’ٹھیس‘، ’اندر بارش باہر دھوپ‘،’رات‘، ’سبا رو نہیں سکتی‘وغیرہ بھی زندگی کا محاصرہ کیے ہوئے ایسے ہی توانا کرداروں اور زندہ احساسات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
تیسرے رنگ کے طور پر،کنّی کا راجکمار،وہ لڑکی، حربہ، تجارت،پوسٹر، اندر آگ ہے اور سائمن باسکی وغیرہ میں قاسم خورشید نے غربت،ظلم،نفرت اور استحصال کے خلاف احتجاج کو موثر اور بلند آواز کے ساتھ ابھارنے کی کوشش کی ہے۔استحصال اور احتجاج کے سایے تلے لکھی گئی یہ کہانیاں ہمارے سماج کی مختلف سچائیاں اجاگر کرتی ہیں،جہاں غربت،ظلم،دہشت گردی،حیوانیت اور مشینی زندگی نفرت کے بیج بو رہی ہے۔انسان میکانکی نفسیات کا شکار ہو رہاہے اور مادیت روحانیت کی جگہ قبضہ جمانے پر تلی ہے۔ایک حساس آدمی ایسے ماحول سے متاثر ہوکر کیسی feelings رکھتا ہے، اس کی اچھی عکاسی ان کہانیوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔’پوسٹر‘ تو وہ مشہور زمانہ افسانہ ہے جو قاسم خورشید کی شناخت بنا،اس لیے اس پہ زیادہ گفتگو نہیں کروںگا،مگر احمد یوسف کی اِس بات سے ضرور اتفاق کرنا چاہوں گا کہ ’پوسٹر جیسا افسانہ کبھی کبھی سرزد ہوتاہے‘۔محمد حسن سے وہاب اشرفی تک سب نے پوسٹر کو اتنا سراہا کہ اب یہ اردو فکشن کا اہم حصہ بن گیاہے۔اس میں ایسی سفاک حقیقتوں کا بیان ملتاہے جن کا تصور وہ شخص کبھی نہیں کر سکتا جس کا تعلق زمینی سچائیوں سے نہ ہو۔قاسم خورشید نے چونکہ اپنے شب وروز مزدوروں کے بیچ،جھریا کی کولریوں میں،کسانوں کے گائوں میں اور اِپٹا کو متحرک کرتے ہوئے پٹنہ جیسے کئی شہروں کی سڑکوں پہ گزارے تھے اس لیے انھوں نے پوسٹر،اندرآگ ہے،سائمن باسکی اور کنّی کا راجکمار جیسی سچائیوں کا سامنا کیاہے۔اور انھیں سچائیوں کو بڑے خلوص،ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ قاری کی نذر کر دیاہے۔اِن کہانیوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی صداقت اور جذبے کا خلوص ہے جو محمد حسن کو ہی نہیں انور سدیداور وہاب اشرفی جیسے ناقدین کو بھی متاثر کرتاہے۔سائمن باسکی جو مزدوروں کے استحصال کی ہی نہیں اُن کے احتجاج کی کہانی بھی ہے،پروفیسر وہاب اشرفی کی نظر سے گزرتی ہے تو لکھتے ہیں:
’’قاسم خورشید کی ’سائمن باسکی‘ مجھے آج بھی گرویدہ کیے ہوئے ہے۔پہلے میں نے اسے محض مزدوروں کے استحصال کی کہانی کے طورپر پڑھنے پر بس کیاتھا لیکن تاثر دیر پاتھا۔اب جب کہ قاسم خورشید کا افسانوی سفر آگے بڑھ گیاہے،اس کہانی کی سماجی اور تہذیبی معنویت مزید گہری ہو گئی ہے۔یہ کہانی مزدوروں کی پسپائی پر ختم نہیں ہوتی بلکہ یہاں شکستہ حالات میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ ختم نہیں ہوتا۔‘‘
دراصل سائمن باسکی کے ہاتھ سے اُس کے اکلوتے بیٹے کا ہاتھ میں مشعل لے کر آگے بڑھنا اُس مستقبل کی طر ف اشارہ ہے جہاں احتجاج کی آواز میں مزید توانائی پیدا ہو جاتی ہے اور حوصلوں کی آگ زیادہ روشن ہو جاتی ہے۔
’اندر آگ ہے‘بھی کوئلری مزدوروں کی زندگی، اُن کے کرب کو موثر ڈھنگ سے پیش کرتاہے۔یہاں کوئلری کے اندر کی آگ کب کس زندگی کو خاکستر کردے،کہا نہیں جا سکتا۔اب تک بے شمار زندگیاں اس کی نذر ہو چکی ہیں۔مگر یہی آگ جب احتجا ج بن کر سینوں میں جل اٹھتی ہے تو زندگیوں کو روشن بھی کر دیتی ہے۔ایساہی رام دین کے ساتھ ہوا جس نے سُکھیا کی زندگی کو تو خاکستر کیا مگر دوسرے مزدوروں کو بیدار بھی کرگیا۔افسانے کا آخری جملہ’’ یہی انگارے مزدوروں کے وجود میں منتقل ہونے لگے‘‘ دراصل احتجاج کی آگ کا اشاریہ ہے جو مزدوروں کے اندر رام دین کی موت پر دھیرے دھیرے پیدا ہونے لگی تھی۔اِس افسانے میں ’’پنجرے کی مینا‘‘ بھی اہم کردارہے جو سُکھیا کے ساتھ ساتھ رہتی ہے۔یہ تو افسانہ پڑھ کر ہی آپ کو پتہ چل سکتاہے کہ آخرکوئلری کا ہر مزدور اپنے گھر کے سامنے پنجرے میں مینا کیوں رکھتاہے؟
افسانہ ’تجارت‘ ہمارے نام نہاد ترقی پذیر،روشن خیال سماج میں عورت کے استحصال کا آئینہ ہے۔ ماتھر جو بظاہر بے حد معزز،مخلص اور دولت مند شخصیت کا مالک ہے،جیتندر پرساد کے خلوص،اعتماد اور بھروسے کو اُس وقت چور کردیتاہے جب وہ جیتندر کی بیٹی سیما ’جو ماتھر کو انکل کہتی تھی اور اس کی تیمار دار ی بیٹی کی طرح کر رہی تھی‘ کی عزت لوٹ لیتاہے۔اور بدلے میں جیتندر پرساد کا ایک ٹنڈر پاس کردیتاہے۔یہ افسانہ بدلتی قدروں اور رشتوں کا نوحہ تو ہے ہی،یہ بھی بتاتاہے کہ تاجر بہر حال تاجر ہوتاہے۔وہ بزنس اور استحصال کے نت نئے طریقے ڈھونڈ تا رہتاہے۔افسانہ ’وہ لڑکی‘ میں بھی اسی طرح کے ایک استحصال کی دردناک داستان ہے۔ انسان کی حیوانیت پر مبنی مختصر افسانہ ’سیلاب‘ بھی پڑھنے سے تعلق رکھتاہے جس میں لوگ سیلاب میں مرنے والوں کی لاشوں سے اُن کے زیورات نوچ رہے ہیں۔اس بیچ گہنے سے لدی عورت کسی کو نظر آئی۔ اُس نے اسے نوچنا شروع کیاہی تھا کہ وہ کراہ اٹھی۔ آدمی پل بھر کے لیے پیچھے ہٹتاہے اور پھر عورت کو یہ کہتے ہوئے موجوں کے حوالے کر دیتا ہے کہ ’سالی زندہ ہے‘۔ ظاہر ہے انسانیت کے زوال،اور حیوانیت و سفاکیت کی اس سے بدترکہانی مشکل سے مل سکتی ہے۔ یہی سفاکیت ’حربہ‘ میں بھی دکھائی دیتی ہے جب شیر خاں اپنی فتح اور انا کی تسکین کے لیے نہ صرف منو کا استحصال کرتاہے بلکہ بے قصور نصرت بائی کا بھی قتل کروا دیتاہے۔اس طرح کے افسانوں سے زوال پذیر سماج کی مختلف تصویریں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ ایسا لگتاہے کہ معاشرہ ناسوروں سے بھر چکا ہے، جان کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے،خون کی ہولی فخر کے ساتھ کھیلی جارہی ہے۔قتل کا تیوہار منایا جارہا ہے۔ ہر بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو نگلنے کے در پے ہے۔ نفرت، بدلے اور ظلم کی آگ میں جلتاہوا سماج دوزخ میں تبدیل ہو چکاہے۔ظاہر ہے اس میں تبدیلی آسانی سے نہیں ہونے والی اور نہ افسانہ نگار کا مقصد اصلاح کا سبق پڑھانا ہے۔ جب پورا معاشرہ ہی زہر آلود ہو گیاہو تو اس میں اصلاح کی گنجائش کہا ں رہ جاتی ہے؟ ہاں کچھ کرداروں کی تخلیق کر کے افسانہ نگار نے روشن مستقبل کی ایک امید ضرور جگائی ہے۔سائمن بوسکی کا لڑکا،منّو پہلوان کی فتح،اجّو بابا،شیخ رمضانی،منّو اور رام دین بابو وغیرہ اس روشن مستقبل کا اشاریہ ہیں کہ افسانہ نگار ناامید نہیں ہے۔اُسے امیدہے کہ ظلم و استحصال کا ننگا رقص اب زیادہ دنوں تک جاری نہیں رہے گا۔آنے والے دنو ں میں تڑپتی اور کراہتی انسانیت کو تمام تر دکھوں سے نجات حاصل ہوگی۔یہ کردار ’’افراد‘‘ نہیں ہیں بلکہ بیشتر دلوں میں احتجاج اور بغاوت کے جو شعلے روشن ہیں،اُن کی علامت ہیں،انہی سے ایک دن ظلم و استحصال کا خاتمہ ہو گا اور انسانیت مسکر ا اٹھے گی۔
قاسم خورشید کو پڑھتے ہوئے ان کے کچھ افسانچے بھی ہمیں اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔تین چہروں والا میں،سیلاب،پھوڑا،دھرم اور عبادت جیسے افسانچوں میں مجھے طویل افسانوں سے زیادہ دم خم نظر آیاہے۔اور یہ بڑی بات ہے کیونکہ افسانچہ لکھنا طویل کہانی لکھنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔یہ ایک شعر کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں کہانی کی فنی خامیاں چھپائی نہیں جا سکتیں۔ چند سطروں میں کہانی کا تار پود بُننا ہوتا ہے۔ اس کا تیور بولڈ اور شارپ ہوتاہے اور وہ قاری کے ذہن کو ہانٹ کرتا ہے۔جس لفظ سے افسانچہ کاغذ کی سطح پر شروع ہوتاہے وہ اس کا نقطۂ آغاز نہیں ہوتااور نہ ہی اس کا آخری لفظ نقطۂ اختتام۔بلکہ اصل کہانی تو ان لفظوں کے پس پردہ قاری کے ذہن میں برسہا برس چلتی رہتی ہے۔قاسم خورشید نے اپنے افسانچے شاعرانہ سلیقہ مندی سے تحریر کیے ہیں۔سیلاب،دھرم اور عبادت کو تو اُردو کے نمائندہ افسانچوں میں شمار کیا جاسکتاہے۔ان میں سماجی امتیازاور مٹتی ہوئی قدروں کا ذکر بڑے بولڈ اور چونکا نے والے انداز میں ہواہے۔یہ افسانچے کہیں فکر کو مہمیز کرتے ہیں تو کہیں طنز کے نشتر چبھوتے ہیں، اور کہیں مکالماتی اندز میں بین السطور کوئی پیغام بھی سنا دیتے ہیں۔قاسم خورشید نے ان افسانچوں کے ذریعہ کم سے کم لفظوں کے اظہار کے چیلنج کو نہ صرف قبول کیاہے بلکہ کامیابی سے برت کر بھی دکھایاہے۔
قاسم خورشید نے افسانوی کینوس پر بڑی والہانہ کیفیت میں چہرے بنائے ہیں۔یہ چہرے ہمارے مکروہ سماج کا آئینہ ہیں۔ان چہروں کے پیچھے آگ کا صحرا بھی ہے اور قلم کی آگ بھی۔اُس وقت جب اردو افسانے میں کہانی کی گم شدگی اور قاری کی عدم دلچسپی کی بات ہو رہی تھی،قاسم خورشید جیسے لوگوں نے احساس دلایاکہ کہانی زندہ ہے،مری نہیں۔ وہ سادہ بیانیہ اندازمیں کہانیاں لکھتے تھے مگران کہانیوں میں قلب اور قرب کا بہت گہرا عنصر ہوتاتھا۔ انھوں نے کہانیاں وہی لکھیں جن کے مشاہدے یا تجربے سے وہ گزر چکے تھے۔ وہ ایر کنڈیشنڈ روم میں بیٹھ کر جھونپڑیوں کی کہانیاں نہیں لکھتے تھے اور نہ ہی عیش و طرب کی محفل میں درد کا نغمہ سناتے تھے۔ انھوں نے جس درد کو جیا، جس کرب کو سہا اسی کو اپنی کہانیوں میں پیش کیا ہے۔ اس لیے داخلی کشمکش، ذہنی تنائو، باطنی کرب،انسان کی بے حسی،بے مروتی،استحصال،جبر کے مسائل اور المیوں کا سچا بیان ان کی کہانیوں میں ملتاہے۔
اردو  افسانوں  کے بارے میں عام طورپر یہ کہا جاتاہے کہ ان میں تنوع نہیں ہوتا،مگر قاسم خورشیدکے افسانے زندگی کے مختلف گوشوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ موضوعات کی سطح پر ان میں تنوع کا احساس ہوتاہے تو محسوسات کی سطح پر بھی یہ ہمارے ذہن و دل کو مضطرب کر دیتے ہیں۔ان کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے قاری سرسری طورپر نہیں گزر سکتا۔کوئی افسانہ اسے چونکائے گا تو کوئی غوروفکر کے لیے مجبور کرے گا۔کوئی واقعہ اپنے حیرت انگیز اختتام کی بنا پر اسے استعجابی کیفیتوں میںمبتلا کرے گا تو کوئی کردار اپنے غیر یقینی رویے اور ردّعمل کی بنا پر اُس کی فکر کو منتشر کر دے گا۔قاسم خورشید کے افسانوں میں اس نوعیت کی کیفیات قدم قدم پر محسوس ہوتی ہیں۔یہ افسانے وحدت تاثر اور وحدت مکاں کے تصور سے بھی آزاد ہیں۔کچھ افسانوں کی مدت چند لمحوں تک محدود ہے تو کچھ افسانے زندگی کے وسیع منظرنامے کا احاطہ کرتے ہیں۔ان افسانوں کی قرأت جب تک مکمل نہیں ہوتی قاری کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے گا۔ اکثر افسانوں کا آخری جملہ تاثرات کی بکھری کڑیاں جوڑنے میں معاون ہوتاہے اور کاغذ پہ ختم ہونے کے بعد کہانی دوبارہ ہمارے ذہن میںشروع ہو جاتی ہے۔ شاید ایک اچھے افسانے کی یہی خوبی ہوتی ہے،جو قاسم خورشید کے افسانوں میں بہت حد تک موجود ہے اورانھیں ادب میں ہمیشہ زندہ رکھے گی۔

Dr. Shahab Zafar Azmi
Department of Urdu
Patna University
Patna- 800005 (Bihar)
Mob.: 8863968168
shahabzafar.azmi@gmail.com
urdujournalpatna@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

آسمان ادب کا نیر تاباں: قاسم خورشید،مضمون نگار: عشرت صبوحی

اردو دنیا،دسمبر 2025: ادب کے آسمان پر کبھی کبھی ایسے نام جگمگاتے ہیں جنھیں وقت کے غبار میں چھپانا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ وہ آفتاب ہیں جو اپنی زندگی میں

انجم مانپوری: صحافی، شاعر اور طنز و مزاح نگار،مضمون نگار:محمد جمیل اختر جلیلی

اردو دنیا،دسمبر 2025: انجم مانپوری کااصل نام ’نورمحمد‘ ہے،جب کہ قلمی نام ’انجم مانپوری‘ ہے۔ معروف اپنے قلمی نام سے ہی ہوئے، ان کی پیدائش 1300ھ مطابق 1881 میں ضلع

جوگندرپال کی افسانہ نگاری ،مضمون نگار:مجیب احمد خان

اردودنیا،فروری 2026: اردوافسانے کی تاریخ میں جو گندر پال کا نام ایک منفرد اور وقیع مقام کا حامل ہے۔ افسانہ ان کے لیے محض ایک ادبی اظہار نہ تھا، بلکہ