اردو دنیا،دسمبر 2025:
30 ستمبر کی صبح فیس بک کھولتے ہی موبائل کی اسکرین پر ایک نوٹیفکیشن آیا۔ میں چونکا اور اس نوٹیفکیشن کو کھولا تو دیکھا کہ قاسم خورشید کے انتقال کی خبر فیس بک پر مسلسل آر ہی تھی۔ میں سکتے میں آگیا۔ بہت افسوس ہوا، یقین ہی نہیں ہوا۔ میں نے اور پوسٹیں دیکھنا شروع کیں۔ فیس بک پر چاروں طرف وہی خبر نظر آئی، مختلف لوگوں نے تعجب اور غم و افسوس کا اظہار کیاتھا۔
ایک دو دن پہلے ہی قاسم خورشید نے ایک پوسٹ لگائی تھی جس میں انھوں نے ساہتیہ اکادمی کے سہ روزہ بین الاقوامی پروگرام کے اختتام کی خبر تصویروں کے ذریعے دی تھی۔ وہ اکثر اپنی سرگرمیوں کو فیس بک پر ڈالتے رہتے تھے اور احباب کو آگاہ کرتے رہتے تھے۔ مجھے ابھی تک یاد ہے کہ انھوں نے ہندی میں بھی ایک پوسٹ کی تھی جس کا اردو ترجمہ مندرجہ ذیل ہے:
’’آج ساہتیہ اکادمی کا عظیم الشان اور انتہائی کامیاب بین الاقوامی ادبی میلہ محترم نائب صدر کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے علاوہ 16 ممالک کے نمائندہ ادیبوں کے ساتھ چار دنوں تک بہار، ہندوستان اور دنیا پوری طرح تہوار کے ماحول میں تھی۔ چونکہ مجھے بھی بطور ادیب مدعو کیا گیا تھا، اس لیے مجھے ایک خصوصی نشست میں بھی شامل کیا گیا تھا۔ تقریباً ہر روز الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا نے میری رائے لی اور مجھے بہترین کوریج دی، آج پربھات خبر نے ایک پورا صفحہ وقف کر دیا ہے۔ اسی طرح آج اختتامی تقریب کے بعد مختلف صحافیوں نے مجھ سے طویل فیڈ بیک لیا۔ میں نے اس ادبی میلے پر آکاشوانی کو ایک خصوصی انٹرویو بھی دیا ہے۔
میں سوچ رہا تھا کہ بہترین وقت کتنی جلدی گزر جاتا ہے، بہت سی خوبصورت یادیں ذہن میں ہلچل مچا دیتی ہیں۔اس کامیاب پروگرام کے لیے ساہتیہ اکادمی کو دلی مبارکباد۔ آج کی کچھ تازہ ترین تصویری جھلکیاں جو خود ہی بول سکتی ہیں۔‘‘
کیا پتہ تھا کہ فیس بک پر یہ قاسم خورشیدکی آخری پوسٹ ہوگی۔بہت خوش و خرم نظر آرہے تھے۔یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ یہ چراغ کے آخری وقت کی تیز روشنی ہے۔ اس کے بعد یہ چراغ بجھنے والا ہے۔ خورشید ڈوبنے والا ہے۔
مجھے یاد آنے لگا قاسم خورشید کا دور درشن کے مشاعرے میں نظامت کا وہ لمحہ جب وہ میرا تعارف کچھ اس طرح سے کرا رہے تھے:
’’اب میں جس شاعر کو زحمت دینے جا رہا ہوں جو اپنے منفرد ڈکشن اور فکشن کے لیے جانے پہچانے جاتے ہیں۔میری مراد صدرِ عالم گوہرسے ہے۔ میں ان سے کہوں گا کہ وہ اپنے کلام سے نوازیں، جناب صدر عالم گوہر۔‘‘بچوں نے اس پروگرام کو ٹی وی سے ریکارڈ کر لیا تھا۔جسے وہ وقتا فوقتا موبائل اور لیپ ٹاپ پر دیکھتے رہتے ہیں۔میں جب بھی اس پروگرام کو دیکھتا ہوں قاسم خورشید کا ہنستا مسکراتا چہرہ سامنے آجاتا ہے۔
وہ ایک شاعر، افسانہ نگار کے ساتھ ایک بہترین ناظم بھی تھے۔ دور درشن میں رہنے کی وجہ سے وہ جانتے تھے کہ نظامت کو کس طرح جاندار بنانا ہے۔ ایک ڈرامائی انداز سے وہ نظامت کے فرائض انجام دیتے تھے جس سے پروگرام کامیاب اور خوبصورت ہو جاتا تھا۔
ان کے مشاعرہ پڑھنے،غزل کے اشعار کو ادا کرنے کا اتنا اچھا انداز تھا کہ ناظرین کو متوجہ کرنے میں وہ بہت کامیاب تھے۔ جو غزل پڑھتے وہ اتنے اہتمام کے ساتھ اور اس انداز میں کہ غزل اور زیادہ پر اثر ہو جاتی تھی۔ لوگ واہ واہ کرتے اور تالیاں بجاتے تھے، میں نے دور درشن کے علاوہ دوسرے مشاعروں میں بھی ان کا یہ انداز دیکھا تھا۔
آج کے مشہور گلوکار شان کے والد مانس مکھرجی جو ایک اچھے موسیقار تھے، ان سے میری دوستی تھی۔ ایک دن میں ان کے ہاں بیٹھا تھا۔ اس وقت صرف دلی دور درشن تھا۔ شاید بدھ کا دن تھا تو ٹیلی ویژن پر فلمی گانوں کا پروگرام ’چترہار‘ آرہا تھا، جس میں فلم آرپارکا یہ گانا ’بابو جی دھیرے چلنا ‘ چل رہا تھا۔ ہم لوگ بیٹھے تھے کہ ایک صاحب آئے۔انھوں نے کہا عجیب بات ہے۔ اندرا گاندھی کا قتل ہو گیا ہے۔ سارا ملک غم میں ڈوبا ہوا ہے اور آپ لوگ یہاں ہنس رہے ہیں، مسکرا رہے ہیں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں،اندرا گاندھی کا قتل ہو گیا ہے۔ ہم لوگوں کو لگا کہ شاید یہ خبر افواہ ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو ٹیلی ویژن پہ گانا نہیں چل رہا ہوتا۔ ہم لوگ اس کو افواہ سمجھے۔ وہیں بیٹھے شاید معروف نغمہ نگار نور دے واسی جن کا گانا ہے ؎
آئوحضور تم کو ستاروں میں لے چلوں
دل جھوم جائے ایسی بہاروں میں لے چلوں
انھوں نے یا ہم لوگوں میں سے کسی نے یہ شعر پڑھا ؎
آپ سے ہنس کے جو ملتا ہوگا
اس کا غم آپ سے زیادہ ہوگا
یہ شعر انھوں نے مذاق میں کہہ دیا تھا مگر اسی وقت گانا چلنا بند ہوا اور ٹیلیویژن پر قرآن کی تلاوت ہونے لگی، بھجن،شبد ممبئی دور درشن سے پڑھے جانے لگے۔ تب ہم لوگوں نے سمجھا کہ نہیں یہ واقعہ سچ ہے۔ اس شعر کا موقع اور محل ایسا تھا کہ مجھے ہمیشہ کے لیے یاد ہو گیا۔ مجھے جب قاسم خورشید کے بارے میں پتہ چلا کہ انھیں اولاد نہیں ہے تو مجھے لگا جیسے یہ شعر قاسم خورشید کے لیے ہی کہا گیا ہے۔
کتنے غموں کو دل میں چھپائے ہوئے وہ ہمیشہ ہنستے، مسکراتے چہچہاتے تھے۔جس محفل میں جاتے سب لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتے۔ ہر پروگرام میں اپنی حاضری اور موجودگی کا احساس دلاتے تھے۔ میں نے فلمی دنیا کے شاعر، ادیب، گلو کار اور فلم سے منسلک بڑی ہستیوں کے انٹرویوز لیے ہیں۔ انھوں نے اپنی جدوجہد کی کہانی سنائی، سنگھرش کا ذکر کیا، اسٹرگل کی بات کہی، لیکن ایک عام آدمی کی زندگی میں بھی کم جدوجہد نہیں ہے۔ قاسم خورشید کی زندگی میں بھی بہت جدوجہد تھی۔ انھیں بچپن سے ہی زندگی جینے کے لیے سنگھرش کرنا پڑا تھا۔اور ان کا سنگھرش بھی کسی فلم والے کے سنگھرش سے کم نہیں تھا، جو ان کے دوستوں نے بتایا۔ لیکن انھوں نے اپنی اس جدوجہد کو اپنے سنگھرش کو، کبھی زبان سے نہیں کہامگر اپنی شاعری میں ضرور باتوں کی طرف اشارہ کیا۔ ان کے اشعار سے یہ باتیں واضح ہوتی ہیں ؎
مجھے پھولوں سے، بادل سے ہوا سے چوٹ لگتی ہے
عجب عالم ہے اس دل کا وفا سے چوٹ لگتی ہے
——
بہت چھل کرچکی دنیا مجھے تنہا بھٹکنے دو
ہوا بھی ہم سفر ہو تو ہوا سے چوٹ لگتی ہے
میرا ماننا ہے کہ اگر کوئی تخلیق کار اپنی تخلیقی زندگی کا سفر شاعری سے شروع کرتا ہے اور پھر وہ افسانے یا نثر یا کسی دوسری صنف کی طرف جاتا ہے تو وہ اگر محنت کرے اور شوق ہو تو وہ کسی بھی صنف پر لکھ سکتا ہے۔جس کی ایک مثال میں بھی ہوں اور یہ میں نے قاسم خورشید میں بھی دیکھا۔میں انھیں شاعر اور افسانہ نگار کے طور پر جانتا تھا لیکن جب انھیں موقع ملا تو بچوں کا ادب بھی تخلیق کیا۔
پہلے وہ پٹنہ، گرد و نواح اور صوبائی سطح پر شعر و ادب میں سرگرم تھے۔لیکن SCERT سے ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے مرکز کا رخ کیا اور قومی شناخت قائم کی۔گزشتہ چند برسوں میں قومی سطح پر ان کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ مجھے خوشی ہوتی تھی ان کی کامیابی پر۔وہ اکثر میسنجر پر مجھے اس کی اطلاع بھی دیتے تھے اور فیس بک پر تو لکھتے ہی تھے۔
قاسم خورشید سے میری بہت پرانی جان پہچان تھی۔ پہلی ملاقات کیسے ہوئی یہ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں ہے لیکن ایک ملاقات مجھے یاد ہے جب میں محکمہ اردو ڈائریکٹوریٹ پٹنہ کے کسی پروگرام میں آیا تھا اور میں نے قاسم خورشید صاحب کو فون کیا تو انھوں نے SCERT کے دفترمیں ملاقات کا وعدہ کیا اور اس جگہ کا انھوں نے پتہ بتایا۔میں وقت مقررہ پر ان کے ایس سی ای آر ٹی کے دفتر پہنچا۔پر تپاک خیر مقدم کیا انھوں نے اور ہم لوگ دیر تک بیٹھے رہے۔مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں، جن میں ادب، ثقافت، فلم، ریڈیو سارے موضوعات تھے۔ اس کے بعد پھر ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ کئی بار میں ان کے گھر بھی گیا جہاں وہ بڑے خلوص سے ملے اور انھوں نے مجھے کچھ کتابیں بھی دیں، جو ان کے افسانوں کے مجموعے تھے۔ وہ ہمہ جہت صلاحیت کے حامل تھے اس لیے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ چونکہ میرا تعلق ممبئی اور فلمی دنیا سے ہے۔ اس لیے انھوں نے ممبئی اور فلمی دنیا سے متعلق گفتگو کی اور مجھے انھوں نے کہا کہ کبھی دور درشن پر بھی آئیے۔ان دنوںوہ دور درشن کا اردو پروگرام ’آئینہ‘ دیکھ رہے تھے۔ اس طرح انھوں نے بزم اردو کے پروگرام آئینہ کے تحت ایک مشاعرے میں مجھے مدعو کیا۔
چونکہ قاسم خورشید اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے تخلیق کار تھے۔اور دونوں زبانوں کے علمی اور ادبی حلقوں میںمقبولیت حاصل تھی، اس لیے ہندی زبان کے شاعر وادیب جن کے تلفظ درست تھے ان کو بھی مشاعروں میں مدعو کیا کرتے تھے۔کیونکہ میں جس دور درشن کے’آئینہ‘پروگرام میں مدعو تھا اس میں ایک شاعرہ کے طور پر آرادھنا پرساد کو بھی قاسم خورشید نے مدعو کیا تھا۔
ایک بار میں نے اپنے کہکشاں پبلی کیشن سے اپنے دوست گووند راکیش کے شعری مجموعے ’دیکھتا ہوں خواب‘ کو شائع کیا تو گوند راکیش نے اس کے اجرا کی ذمہ داری بھی مجھے ہی سونپی۔اس کے لیے گووند راکیش کے شہر دلسنگ سرائے میں ایک سنیما ہال کے تینوں شوکوبک کر لیے گئے اور اسی میں کتاب کا اجرا ہونا طے پایا۔ میں نے اس کے لیے ایک آل انڈیا مشاعرے کی فہرست ترتیب دی۔جس میں ہندی اردو کے معروف شعرا اور کویوں کو مدعو کیا۔ اسی سلسلے میں میں نے پٹنہ سے قاسم خورشید کو دعوت دی۔ پٹنہ سے دل سنگھ سرائے کا کار میں ایک تھکا دینے والا سفر ہوتا ہے لیکن میری دعوت پر قاسم خورشید نے کوئی حیلہ بہانہ نہیں کیا بلکہ خوشی خوشی انھوں نے پروگرام میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی اور پٹنہ سے سڑک کے راستے کار سے دل سنگھ سرائے آئے۔ ان کے آتے ہی محفل قہقہوں اور مسکراہٹوں میں تبدیل ہو گئی۔
قاسم خورشید نے اپنے مخصوص لب و لہجے کی وجہ سے سے سامعین سے خوب داد و تحسین وصول کی اور اسی شاندار مشاعرے میںکتاب کا اجر ا ہوا۔یہ ان کی محبت تھی کہ انھوں نے میرے تعلقات کا بھرم رکھا اورکسی تکلیف کا خیال کیے بغیر دل سنگھ سرائے تشریف لائے اور اپنی ادب دوستی کا بھی ثبوت دیا۔ قاسم خورشید سے یہ یادگار ملاقات اب بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔
اس کے بعد پٹنہ میں قاسم خورشید سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ خاص کر رحمانیہ ہوٹل میںجو بہت مشہور ہے۔ وہاں ہم لوگ چائے پیتے اور گفتگو کرتے۔
فون پر بھی گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ اس بیچ ان کی ادبی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ وہ اکثر اپنی سرگرمیوں کا ذکر فیس بک کے ذریعے کرتے اور خاص کر میسنجر سے مجھے اطلاع دیتے جیسے این سی پی یو ایل کا کوئی پروگرام ہو یا ساہتیہ اکادمی کا کوئی پروگرام ہوتو اس کی خبر وہ فیس بک کے ذریعے بھی دیتے اور فون سے بھی باتیں ہوتیں۔میں ان کی کامیابیوں پر مبارکباد دیتا تووہ بہت خوش ہوتے۔
قاسم خورشید کی شاعری میں زندگی کا پورا منظرنامہ موجود تھا۔ اُن کے اشعار میں محبت کی لطافت بھی تھی، کرب و دکھ کی گہرائیاں بھی، اور امید کی کرنیں بھی۔ وہ لفظوں کے ایسے معمار تھے جو جذبات کی نازک تراش خراش سے پیکر عطا کرتے تھے۔ اُن کی غزلوں میں روایت کی خوشبو اور جدیدیت کی تازگی ایک ساتھ ملتی ہے۔ قاری اُن کے کلام میں اپنی روح کی آواز سنتا ہے اور دل کے زخموں پر مرہم پاتا ہے۔ ان کے شعری مجموعوں کے نام ہیں’تھکن بولتی ہے‘ اور ’دل کی کتاب‘۔
افسانے قاسم خورشید کی تخلیقی قوت کا دوسرا پہلو ہیں۔ اُن کے افسانوں میں زندگی کے تلخ حقائق اور انسانی جذبات کی پیچیدگیاں بڑی سچائی کے ساتھ ابھرتی ہیں۔ وہ کرداروں میں جان ڈالنے کا ہنر جانتے تھے۔ اُن کے افسانے قاری کو جھنجھوڑتے بھی تھے، مسکراتے بھی تھے اور سوچنے پر مجبور بھی کرتے تھے۔ اُن کی کہانیوں میں وقت کے دھارے کے ساتھ بہتی ہوئی زندگی کا عکس ملتا ہے۔ان کے افسانوں کے مجموعوں کے نام ہیں ’پوسٹر‘، ’ریت پر ٹھہری ہوئی شام‘ اور’ کینوس پر چہرے‘۔
قاسم خورشید محض شاعر اور افسانہ نگار نہیں تھے بلکہ ایک مکمل ادیب تھے۔ اُن کی تحریروں میں مطالعے کی وسعت، زبان کی شستگی اور فکر کی گہرائی صاف جھلکتی تھی۔ وہ نئی نسل کے ادیبوں کے لیے ایک رہنما تھے۔ اپنی محفلوں میں ہمیشہ ادب کی ترویج و ترقی کی بات کرتے اور نوجوانوں کو لکھنے پر اُکسایا کرتے۔ اُن کا ماننا تھا کہ ادب صرف دل بہلانے کا ذریعہ نہیں بلکہ سماج کی اصلاح کا ہتھیار ہے۔
قاسم خورشید کا رخصت ہوجانا اردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی جدائی سے ایسا خلا پیدا ہوا ہے جو برسوں میں بھی پر نہ ہو سکے گا۔ ان کے جانے کے بعد نہ صرف محفلیں سنسان ہو گئیں بلکہ دلوں پر ایک گہرا بوجھ بھی آ گیا۔ یہ صدمہ اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتا ہے جب ہم سوچتے ہیں کہ ان کے پاس ابھی کہنے کو بہت کچھ تھا، لکھنے کو بہت کچھ تھا، اور دینے کو بہت کچھ تھا۔
ہم سب کے دل اس وقت غم سے بوجھل ہیں، لیکن یقین رکھتے ہیں کہ قاسم خورشید کی تحریریں ان کا زندہ و یادگار سرمایہ ہیں۔ وہ دنیا سے رخصت ہو گئے مگر اُن کے لفظ، اُن کے افسانے، ان کی غزلیں اور اُن کی سوچ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انھیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور اُن کے اہلِ خانہ کو صبر و حوصلہ دے۔
Sadre Alam Gauher
At+Po-Pursaulia
Distt- Madhubani- 847226 (Bihar)
Mob.:7715980144
Email: gauhersadre@gmail,com