اردودنیا،جنوری 2026:
مولاناعبدالحلیم شرر 4 ستمبر1860 کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم تفضل حسین اودھ کے آخری تاجدار واجد علی شاہ کے ملازم تھے۔ نو سال کی عمر میں عبدالحلیم شرر مٹیا برج چلے گئے۔ وہاں اپنے والد اور کافی سارے علما کے زیر سایہ عربی اور فارسی کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ فن شاعری میں علی حیدر نظم طباطبائی کے شاگرد ہوئے۔ اس کے بعد موصوف نے لکھنؤ اور دہلی میں مزید تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کے ساتھ تصنیف اور تالیف کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھ کر منشی نول کشور نے انھیں ’اودھ اخبار‘ کا نائب ایڈیٹر بنا دیا۔ اس میں انھوں نے مختلف موضوعات پر متعدد مضامین لکھے جو مقبول عام ہوئے۔
انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جن ادیبوں نے اردو ادب کو مغربی اصناف اور اسالیب فن سے روشناس کرایا ان میں عبدالحلیم شرر کا نام نمایاں حیثیت کا حامل ہے۔ ان کی شہرت کا بڑا سبب تو دراصل ان کے تاریخی ناول ہیں۔ ان کی شخصیت بڑی ہمہ رنگ اور ان کی صلاحیتیں بڑی متنوع تھیں۔ ناول کے علاوہ انھوں نے انشائیہ، ڈراما، شاعری، سوانح اور تاریخ میں بھی قابل قدر نگارشات یادگار چھوڑی ہیں۔
ان کی تصانیف کی فہرست بہت طویل ہے۔ ان کی چند اہم تصانیف ابوبکر شبلی، ادب و تحقیق مسائل، افسانہ قیس، آغا صادق کی شادی، الفانسو، ایام عرب، عزیزہ مصر، بدرالنساء کی مصیبت، دربار حرام پور، فردوس بریں، فاتح مفتوح، درگیش نندنی، فلورا فلورنڈا، غیب داں دلہن، گذشتہ لکھنو، حسن بن صباح، اسلامی سوانح عمریاں، جویائے حق، منصور موہنا، ملک العزیز ورجنا، میوئہ تلخ، طاہرہ، تاریخ عصر قدیم، تاریخ اسلام وغیرہ ہیں۔ نذیر احمد اور سرشار نے انگریزی ناولوں کے مطالعے اور استفادے کے بعد بھی اپنے ناولوں میں انگریزی ناول کے فنی معیار اور بنیادی مطالبات کو سامنے رکھ کر نہیں لکھا۔ لیکن شرر پہلے شخص ہیں جنھوں نے باقاعدہ طور پر انگریزی ناول سے استفادہ کیا اور انگریزی ناول کے ضابطوں کو سامنے رکھا۔
عبدالحلیم شرر کے زمانے میں سرسید تحریک کافی مقبول ہوچکی تھی۔ شرر کے یہاں بھی اردو تحریک کے اثرات نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے ناولوں کے ذریعہ مسلمانوں کو ان کی عظمت رفتہ کی یاد دلانا چاہتے ہیں اور اسلامی تاریخ کے واقعات اور کرداروں کی بڑی رومانی تصویریں کھینچتے ہیں۔ شرر ایک زود نویس مصنف تھے۔ جیسا کہ اوپر ذکر آیا کہ ان کے ناولوں کی فہرست بہت لمبی ہے لیکن ان سب ناولوں میں فردوس بریں سب سے زیادہ مشہور اور مقبول ہوا۔
شرر نے اپنے ناولوں میں اسلامی تاریخ کے تابناک گوشے پیش کیے ہیں۔ شرر نے اصلاحی مقصد کے حصول کا ذریعہ ناول کو بنایا۔ کیونکہ ان کے نزدیک اخلاق اور نصیحت کو ناول کے پردے میں پیش کرنا لوگوں کے لیے زیادہ دلچسپی کا باعث تھا۔ اخلاقی تعلیم اور مذہب کی تبلیغ کا اس سے زیادہ مؤثر ذریعہ ان کی سمجھ میں اور کچھ نہ آیا۔
ڈاکٹر احسن فاروقی لکھتے ہیں:
’’جس وقت شرر نے لکھنا شروع کیا اس وقت اردو صحافت اپنا ابتدائی جوش دکھا رہی تھی۔ قوم ایک نئی صورت سے جاگ کر اپنا اخلاق درست کرنے میں لگی تھی اور تمام صحافت کا مقصد یہی تھا کہ عام لوگوں کو ترقی کی راہ پر لگایا جائے۔ اس سلسلے میں قوم کو اپنی پرانی عظمت یاد لانا بھی ضروری تھا۔ حالی اپنی مسدس میں یہی کر چکے تھے اور تمام مسلمانوں کی توجہ تاریخ اسلام کی طرف کی جارہی تھی۔ ہر اس شخص کا جو تحریر و تصنیف میں دلچسپی رکھتا تھا، یہ تمام تر فرض سمجھا جاتا تھا کہ وہ اپنے مذہبی مسائل یا قومی تاریخ کو پڑھے اور اس کے مختلف پہلوئوں پر اپنی تصانیف میں روشنی ڈالے۔ پھر اس زمانے میں عیسائی مشنری اپنے مذہب کی تبلیغ بھی کافی زور کے ساتھ کر رہے تھے اس لیے ہر مسلمان کا یہ فرض تھا کہ ان کے خلاف بھی قلمی جہاد کرے اور عیسائیت کے عیوب نکالے۔ عبدالحلیم شرر ان تمام صحافتی رجحانات کے موافق تصنیف کے میدان میں آئے تھے۔ مگر اسکاٹ کے ٹیلس سے سر راہ ملاقات نے ان کو ایک نئی راہ دکھا دی تھی اور انھوں نے تاریخی ناول کو اپنے کام کے لیے بہترین آلۂ کار پاکر تاریخی ناول نگاری کو اپنا پیشہ قرار دیا۔ اسلامی تاریخ کے واقعات پر مبنی ناولیں لکھ لکھ کر وہ اپنے پرچہ،’دلگداز‘ میں نکالتے رہے۔ یہاں تک کہ کچھ ہی عرصے میں ایک ڈھیر لگادیا۔ ‘‘
(ڈاکٹر احسن فاروقی، اردو ناول کی تنقیدی تاریخ، ص:157,158 اگست 1975)
شرر کے سامنے تاریخی ناول نگاری کا مقصد بالکل واضح تھا۔ وہ ناول کے فنی محاسن سے زیادہ ا س کی تبلیغی اسپرٹ پر توجہ دیتے تھے۔ بقول ممتاز حسین:
’’وہ کبھی بھی مؤرخ بننے کی کوشش نہیں کرتے لیکن تاریخ کو اس انداز سے بیان کرتے ہیں کہ عوام تک پہنچ جاتے۔ یہ بات شبلی کے یہاں بھی نہیں ملتی جو اپنی فطری سنجیدگی، متانت، سادگی اور رنگینی کے امتزاجی نشان اور دیگر بہت سی حیثیتوں سے شرر سے بالا تر ہیں۔ تاریخ کے علم اور مسلمانوں کے افکار کو عوام سے متعارف کرانے میں جتنا بڑا حصہ شرر کا ہے کسی کا نہیں۔ شرر کے ناولوں میں مشرقی تہذیب جیتی جاگتی ملتی ہے۔ ان کے تمام تاریخی ناول قرون اولیٰ کے اسلامی واقعات پر مبنی ہیں۔ یہ ناول لاکھوں انسانوں کے مطالعہ میں آچکے ہیں اور کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے نشاۃ الثانیہ میں شرر کے لٹریچر کا بہت بڑا حصہ ہے۔ ‘‘
(ممتاز حسین: ملک العزیز ورجنا، مقدمہ مرتب: ص: 9،دسمبر 1964، مجلس ترقی ادب لاہور)
1884میں عبدالحلیم شرر نے بنکم چندر چٹرجی کے ایک تاریخی ناول ’درگیش نندنی‘ کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا۔ 1887میں انھوں نے اپنا رسالہ ’دلگداز‘ جاری کیا تو اس میں اپنا پہلا تاریخی ناول ’ملک العزیز وجنا‘ قسط وار شائع کیا۔
مولانا عبدالحلیم شرر کو تاریخ بالخصوص اسلامی تاریخ سے خاص دلچسپی تھی۔ اپنے بیشتر ناولوں کا مواد انھوں نے تاریخ سے ہی لیا ہے۔ ان کی تاریخ کا تصور بڑی حد تک ان کے احیا پسند انہ خیالات کا تابع تھا۔ اپنے تاریخی ناولوں میں مسلمانوں کو تہذیبی اور سیاسی عروج کی داستانیں سناکر انھیں عمل کرنے کا پیغام دیا اور ان کی زندگی کو صحیح اسلامی شعور سے آہنگ کرنے کی کوشش کی۔
تاریخی ناولوںمیں ’فردوس بریں‘ شرر کا شاہکار ناول سمجھا جاتا ہے اور یہ ناول مکمل ناول کہلانے کا مستحق بھی ہے۔ یہ ناول بہت ہی مختصر ہے لیکن اس کا پلاٹ بہت منظم ہے۔ مکالمے برجستہ اورموقع کے لحاظ سے حسین اور دلکش ہیں۔ چونکہ شرر نے اپنے ناولوں میں اصلاحی اور تبلیغی مقصد سامنے رکھا ہے۔ اس لیے وہ اپنے ہیرو کو کسی وقت بھی کوئی ایسا کام کرتے ہوئے نہیں دکھاتے جو کسر شان سمجھا جاتا ہو۔ شرر نے اپنے ناولوں میں بڑی دلکش اور رومانی زبان استعمال کی ہے۔ منظر نگاری اور ماحول کی بھی عکاسی یہاں دیکھنے کو ملتی ہے۔ بقول علی عباس حسینی:
’’مولانا شرر نے اس ناول میں سماں اور منظر بھی بہت عمدہ طور پر دکھائے ہیں۔ جس مقام کو پُرہول بنانا ہوا ہے، وہاں اس کی مناسبت سے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جہاں جنت کی مرقع نگاری کی ہے۔ وہاں قلم کادور دوسری ہی طرح کا ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ یہ فردوس جسمانی لذت کا منبع ہے اور روحانیت کا مرکز نہیں اور ہونا بھی یہی چاہئے تھا اس لیے کہ انسان کی تیار کردہ جنت میں خدا کی فردوس کی شان کہاں‘‘۔
(ناول کی تنقید اور تاریخ، علی عباس حسینی، ص: 286,287)، 1959)
شرر کے تاریخی ناولوں کے کردار کسی حد تک غیر فطری بھی لگتے ہیں۔ ان کرداروں پر داستان کے بوجھل سائے پڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے بعض اوقات شخصیتوں اور کرداروں کا انتخاب غلط کیا۔ مثلاً عزیز مصر میں فساد کا منظر پیش کرتے ہوئے دکھاتے ہیں کہ جب بہت سے آدمی جو قسطاط سے تعلق رکھتے ہیں، احمد بن طولون والی کے عمل میں گھس آئے اور اس کے سامنے چیزوں کے لوٹنے اور لوگوں کو قتل کرنے لگے تو اس کے بیٹے خارویہ نے جو وہاں موجود تھا قسطاط کے امیر التجار سے اپنے باپ کا تعارف اس طرح کرایا جیسے وہ عزیز مصر ہونے کے بجائے ایک معمولی اور گمنام آدمی ہو۔ شرر نے اپنے تاریخی ناولوں کا مواد تو اریخ سے لیا مگر اس کی تاریخی صداقت کا زیادہ خیال نہ رکھ سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناول نگار صداقت کو اپنے زاویۂ نظر سے دیکھنے کا حق رکھتا ہے وہ اس کو الگ روپ بھی دیتا ہے۔ اس کے لیے ماحول اور فضا کی تخلیق کرتا ہے جو حقیقت کے قریب تر لے جائے۔ مگر اسے یہ حق حاصل نہیں کہ اپنے مقاصد کے جوش میں وہ تاریخی صداقتوں کو مسخ کر دے اور ان سے بھی نتیجہ اخذ کرے۔
ناول نگار کوئی بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ وہ صرف حاصل شدہ معلومات کی بناپر اندازہ لگاتا ہے کہ شاید ایسا ہوا ہوگا۔ ناول نگار کی کا میابی اس میں ہے کہ وہ اپنے اندازے کو حقیقت سے اس قدر قریب لے آئے کہ تاریخ کا ایک دور یا واقعہ یا چند کردار دوبارہ جیتے جاگتے نظر آنے لگیں۔ شرر اس کی کوشش تو کرتے ہیں مگر بسا اوقات اس میں کامیاب نہیں ہوتے۔ وہ اپنے انداز پر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ تاریخی صداقتوں سے زیادہ ان کے دل کی خواہش نمایاں رہتی ہے اور جوش اسلامی غالب آجاتا ہے۔
شرر نے اپنے کرداروں کا انتخاب مختلف تہذیبوں اور ملکوں کے حوالے سے کیا ہے۔ مشرق و مغرب کے کئی ملکوں سے وہ اپنے کردار سامنے لاتے ہیں لیکن گفتگو کا جو نقشہ پیش کرتے ہیں، ظاہر ہے کہ وہ شرر کی عام زبان اور لہجے کا آئینہ دار ہے۔ علی عباس حسینی نے اس سلسلے میں شرر کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور یہ اعتراض کیا ہے کہ شرر ایک ترک شہزادے اور روسی شہزادی کی بات چیت کا ایسا نقشہ سامنے لاتے ہیں جو مصنوعی اور فرضی دکھائی دیتا ہے۔
تاریخی ناولوں میں زبان کے استعمال کامسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔ شرر سے یہ امید کرنا زیادتی ہے کہ وہ اپنے روسی اور ترکی کرداروں سے ملکی زبان میں ہی گفتگو کرائیں گے۔ یا ناول کے اندر ان سب کو اردو زبان سکھانے کا انتظام کردیں گے۔ البتہ یکسانیت شرر کے ناولوں کا عیب بن گئی ہے۔ ان کے تمام ہیرو اور ہیروئن کی شکل و صورت اور سیرت ایک ہی جیسی ہے۔ بعض اوقات ان کے درمیان امتیاز دشوار ہوجاتا ہے۔ دراصل شرر اپنے زور بیان کے آگے کی دیگر چیزوں کی پرواہ نہیں کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے اس کردار کے منہ میں زبان نہیں بلکہ خود شرر پس پردہ بیٹھے بول رہے ہیں۔ ان کے کردار ان کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کے مانند ہیں۔ وہ انھیں جہاں چاہتے ہیں لے جاتے ہیں۔ فطری اور حقیقی فضا کی تخلیق کے بجائے وہ مصنوعی ماحول بنانے میں لگ جاتے ہیں۔ ڈاکٹر قمر رئیس رقم طراز ہیں:
’’یہ حقیقت ہے کہ ان کا مشاہدہ زندگی کی سطحی اور ظاہری پہلوئوں تک محدود تھا۔ وہ حیات اور نفسیات انسان کی وسعت، پیچیدگی اور گہرائی پر نظر نہیں رکھتے۔ اپنے کرداروں کو وہ ان کی فطرت کے نہاں خانوں اور سماجی محرکات کے آئینے میں نہیں دکھاتے۔ اس لیے ان کے کرداروں میں زندگی کے وہ آثار اور حقیقت کا وہ رنگ پیدا نہیں ہوتا جو قاری کے دل پر نقش ہوجاتا ہے اور جو ناول نگار کی صناعی اور ناول کی فنی قدر و قیمت کا ثبوت ہوتا ہے۔ ‘‘
(پریم چند کا تنقیدی مطالعہ، ص:168، 1968، یونین، پرنٹنگ پریس، دہلی)
شرر کے یہاں ایک اور خامی ان کا حد سے زیادہ مطالعہ ہے جو ان کے کسی دوسرے ہمعصر کے یہاں نہیں ملتا۔ بسا اوقات لاکھوں اور ہزاروں کی فوج کے مقابلے میں انھوں نے تن تنہا ہیرو کو کھڑا کردیا ہے اور اس ہیرو نے میدان فتح کر لیا ہے۔ ان کے ناولوں میں قید مکاں کے تقاضوں سے بے توجہی بھی پائی جاتی ہے۔ ہسپانیہ، فلسطین، بغداد اور سرزمین عرب کی کہانیاں ناولوں میں ڈھالی ہیں مگر ان قصوں کو ان ممالک کے معاشرتی پس منظر میں پیش کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی۔ ان کے بہت سے ناولوں کے واقعات میں ہندوستانی رنگ جھلکتا ہے۔
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اردو ناول نگاری کے ارتقا میں اگر نذیر احمد معاشرے کی اصلاح کرتے ہیں اور سرشار کردار نگاری اور ایک خاص ماحول پر ساری توجہ صرف کرتے ہیں تو شرر تاریخی پس منظر میں مسلمانوں کی زوال پسند تہذیب او رمعاشرے کے عکاس ہیں۔ فیض احمد فیض نے لکھا ہے:
’’شرر کی کتابیں اردو نثر کا آخری زینہ نہ سہی پہلا زینہ ضرور ہیں۔ ان کے مطالعہ سے جمالیاتی حسن کی تسکین نہ ہو لیکن یہ حس پیدا ضرور ہوتی ہے۔ ان کے ناولوں میں فنی خوبیاں زیادہ نہیں لیکن ایک چٹخارہ ہے، ایک دلکشی ہے، ایک کیفیت ہے، اسے مطالعہ کے ابتدائی زمانہ میں فنی خوبیوں سے کم قیمت نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مضامین میں فطری مناظر کی خوبصورت تصویریں ہیں، عشق و محبت کی رنگین کہانیاں ہیں، تاریخ و معاشرے کے متعلق بے شمار معلومات ہیں۔ ان سب باتوں میں ان کی تصانیف کی قطعی قیمت بہت زیادہ نہ سہی لیکن ادبی مذاق کی ترتیب اور بیداری میں ان کا گراں قدر حصہ ہے۔ ‘‘
(فیض احمد فیض ’میزان‘، ص78,89)، 1982 کو ہ نور آرٹ پریس، کلکتہ)
نذیر احمد، سرشار اور شرر صرف تاریخی لحاظ سے رسوا کے پیش رو نہیں تھے۔ ان تینوں نے رسوا کے لیے ایک نمونہ پیش کیاجس سے رسوا کے لیے زمین ہموار ہوئی ہے۔ رسوا کے ان پیش روئوں کا مختصر جائزہ اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ فکشن تاریخ اور سماج کے حوالے سے اپنی بنیادیں استوار کرتا ہے۔ فکشن نگار نہ تو مؤرخ ہوتا ہے نہ سماجیاتی مفکر۔ وہ اپنا مواد اپنے عہد کی تاریخ اور سماج سے حاصل کرتا ہے، تاریخی اور سماجی حقیقت کو وہ ایک پائیدار اور لازوال حقیقت کا روپ دیتا ہے، عارضی کو مستقل بنادیتا ہے، چھوٹی چھوٹی سچائیوں سے بڑے نتائج یا مقاصد تک پہنچتا ہے۔ رسوا کے ان پیش روئوں کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ انھوں نے فکشن میں متوسط طبقے کی زندگی اور مسائل کو پہلی بار اہمیت دی۔ ہماری داستانوں پر اشرافیت کا جو رنگ غالب تھا اور جاگیردارانہ کلچر کی قدریں ان پر جس طرح چھائی ہوئی تھیں، انھوں نے ان داستانوں کو عام انسانوں کی زندگی سے دور کردیا تھا۔ نذیر احمد اور سرشار نے خاص طور پر متوسط طبقے اور نچلے طبقے کی انفرادی زندگی اور اس کے سماجی مناسبات کو اپنے مطالعے کا مرکز بنایا۔ ا س طرح فکشن کو ایک نئی بنیاد میسر آئی۔ رسوا کے ناولوں میں الوہی حقیقتوں کے مقابلے میں ارضی حقیقتوں سے جو شغف اور آسمان کے بجائے زمین سے جو وابستگی ملتی ہے۔ اس نے اردو میں افسانوی ادب کی روایت کا ایک نیا راستہ کھولا۔ سچ تو یہ ہے کہ اس راستے کی طرف اولین اشارے نذیر احمد اور سرشار نے کیے تھے۔ رسوا تک اپنے انہی بزرگوں کے واسطے سے فکشن کی ایک جمہوری روایت پہنچی تھی۔
صنعتی عہد کا سب سے اہم عطیہ یہ ہے کہ اس عہدنے ادب سے علویت اور اشرافیت اور اسی کے ساتھ عینیت اور ماورائیت کا اخراج کرکے اسے عام انسانوں کی زندگی کا مظہر بنایا۔ ناول صنعتی عہد کی پیدوار ہے۔ چنانچہ نذیر احمد اور سرشار کے ناول بھی اسی عہد کے آشو ب کا اظہار کرتے ہیں۔ فنی اور ساختیاتی لحاظ سے ان کی کوشش خام سہی، لیکن ان میں جو بصیرت ملتی ہے وہ ایک نئے دور، ایک نئی زندگی، ایک نئے سماج کی بصیرت ہے۔ یہ بصیرت اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی تہذیبی نشاۃ الثانیہ کے زیر سایہ پروان چڑھی تھی اور اس کے پس پشت ایک نئی عقلیت اور نئی روشن خیالی نے ادب کی پوری سرشت بدل دی اور اسے ایک نئی جمالیات، ایک نئے طرز احساس، ایک نئے فکری آہنگ کا ترجمان بنایا۔ رسوا تک پہنچتے پہنچتے فنی، اورسماجیاتی صداقتوں کا جو شعور ملتا ہے اس کی بالواسطہ پرورش رسوا کے پیش روئوں کی قائم کردہ روایت نے کی تھی۔ اس روایت نے جس ادبی سماجیات کے تانے بانے ترتیب دیے تھے اسی کاعکس ہمیں فکری اور فنی اعتبار سے زیادہ ترقی یافتہ، زیادہ منظم اور زیادہ مضبوط سطح پر رسوا کے ناولوں میں ملتا ہے۔
Dr. Ahsan Alam
Ahmad Complex, Al-Hira Public School
Moh: Raham Khan, P.O. Lalbagh, Darbhanga – 846004 (Bihar)
Mob: 9431414808
ahsanalam16@yahoo.com