اردودنیا،جنوری 2026:
رپورٹ:
پریس کانفرنس (21 نومبر 2025)
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی جانب سے کلچرل ایجوکیشن سینٹر، علی گڑھ میں منعقد ہونے والے علی گڑھ اردو کتاب میلہ (22 تا 30 نومبر 2025 ) کے افتتاح سے قبل ادارے کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال نے صحافیوں سے ملاقات کی اور انھیں اس میلے کے تعلق سے اہم معلومات فراہم کیں۔ آپ نے کتاب میلے کی اہمیت وافادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے کتاب کلچر کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ آپ نے بتایا کہ اس اہم اردو کتاب میلے کا افتتاح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر عزت مآب پروفیسر نعیمہ خاتون صاحبہ کریں گی۔ اس کے علاوہ مہمانان اعزازی میں پدم شری پروفیسر سید ظل الرحمن اور رجسٹرار ایم یو، علی گڑھ پروفیسر عاصم ظفر صاحب شامل رہیں گے۔ افتتاحی اجلاس میں کلیدی خطبہ معروف مصنف، فکشن نگار جناب سید محمد اشرف صاحب پیش کریں گے اور سر سید اکیڈمی، علی گڑھ کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر شافع قدوائی اظہار خیال فرمائیں گے۔
ڈاکٹر شمس اقبال نے صحافیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میلے میں مختلف موضوعات پر کتابوں کے ساتھ قریب پچاس پبلشرز شامل ہو رہے ہیں، جن کا تعلق گجرات، تنگانہ، مہاراشٹر، کشمیر، دہلی، اتر پردیش جیسے مختلف صوبوں سے ہے۔ میلے میں متعدد ادبی و ثقافتی پروگرام کا انعقاد بھی کیا جارہا ہے۔ منعقد ہونے والے اہم ادبی پروگراموں میں مصنّفین سے ملاقات، داستان گوئی، شام غزل، طرحی مشاعرہ، پچوں کے پروگرام اور ادب و ثقافت کے رنگ شامل ہیں۔ ڈاکٹر اقبال نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کی دلچسپیوں کے مدنظر ایک خاص پروگرام کا بھی اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں بچوں کے تیئں مختلف پروگرام منعقد ہوں گے۔ ادبی نوعیت کے پروگراموں کے علاوہ ثقافتی پروگرام بھی اس میں شامل ہیں۔ اس موقع پر سرسید اکیڈمی کے اعزازی ڈائریکٹر اور معروف اکیڈمیشین پروفیسر شافع قدوائی نے میڈیا سے مخاطب ہوتے ہوئے اس کتاب میلے کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے قابل ستائش قدم قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ اس میلے کے ذریعہ اردو دنیا کے مختلف گوشوں تک کتابوں کی فراہمی میں آسانی ہوگی۔ کلچرل ایجوکیشن سینٹر، اے ایم یو، علی گڑھ کے کوآرڈینیٹر پروفیسر محمد نوید خان نے ثقافتی پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ادب کا ثقافت سے گہرا رشتہ ہے۔ جو ثقافتی پروگرام اس میلے میں منعقد کئے جا رہے ہیں ان کا تعلق بھی زبان و ادب سے ہے۔ ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے بھی کتاب میلے کے تئیں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ صحافیوں سے ملاقات کے اس موقع پر کونسل کے افسران و ارکین کے علاوہ کئی اہم شخصیات موجود رہیں۔
پہلا دن : افتتاحی پروگرام
(22 نومبر 2025)
قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام علی گڑھ اردو کتاب میلے کا افتتاح آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کلچرل ایجوکیشن سینٹر میں عمل میں آیا ۔ اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے فیتہ کاٹ کر کتاب میلے کا باضابطہ افتتاح کیا۔ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے علی گڑھ اردو کتاب میلے کے افتتاحی اجلاس میں تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ اردو کتاب میلہ نئی نسل میں کتاب کلچر کو فروغ دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے اور اس قسم کی کاوشیں مسلسل جاری رہنی چاہئیں۔ انھوں نے کہا کہ اردو زبان کا علی گڑھ سے بہت گہرا تعلق ہے کیوں کہ یہاں ہرزمانے میں اردو کے مشہور و معروف ادیب، شاعر اور محقق پیدا ہوتے رہے ہیں، جنھوں نے اردو کے علمی و ادبی سرمایے میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس میلے کا مقصد اردو کتابوں کی ترویج، زبان و ادب سے وابستہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور نسلِ نو میں مطالعے کی عادت کو پختہ کرنا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس نو روزہ کتاب میلے کے دوران مختلف علمی، ادبی اور ثقافتی تقریبات کا بھی اہتمام کیا جائے گا، جن میں مختلف شعبوں کے ماہرین شرکت کر کے اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے کہا کہ اس کتاب میلے کی اصل کامیابی یہ ہوگی کہ اس میلے میں شریک ہوکر لوگ اردو زبان و ثقافت کے تئیں قلبی لگاؤ محسوس کریں اور اس ماحول سے تحریک پاکر اردو کے نئے قارئین پیدا ہوں ۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے اپنے خطاب میں کہا کہ علی گڑھ اردو کتاب میلہ ہمارے لیے علمی، ادبی اور ثقافتی جشن کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھوں نے کتاب کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کتابیں ہماری سوچ اور سماجی شعور کو بلند کرتی ہیں۔ انھوں نے اردو زبان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اردو نے ہر دور میں اپنا وقار برقرار رکھا ہے اور بڑے بڑے شعرا و ادبا نے اسے اظہارِ خیال کا ذریعہ بنایا ہے ۔انھوں نے طلبہ سے خصوصی اپیل کی کہ وہ کتاب میلے میں آئیں اور زیادہ سے زیادہ کتابیں خریدیں۔ پدم شری پروفیسر سید ظلّ الرحمن نے صدارتی خطاب میں کہا کہ علی گڑھ واحد ادارہ ہے جہاں مختلف موضوعات کے اسکالرز نے اردو میں متعدد کتابیں تصنیف کی ہیں۔ انھوں نے سامعین کو مشورہ دیا کہ جب آپ کتاب سے محبت کریں گے تو کتاب بھی آپ سے محبت کرے گی۔ کتاب پڑھیں، کتاب سے محبت کریں اس کے بغیر آپ کو علم نہیں آئے گا۔ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں اردو ریڈرشپ بڑھانا نہایت ضروری ہے اور مادری زبان سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر شخص اردو سیکھے۔
کلیدی خطبہ معروف افسانہ نگار سید محمد اشرف نے پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ کتابوں کو زندگی میں جگہ دیجیے کیونکہ کتابیں ہمیں سوچنے، سمجھنے اور غور و فکرکرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی اپنی جگہ اہم ہے، لیکن کتاب کا لمس، خوشبو اور اس کا اثر بالکل منفرد ہوتا ہے۔ انھوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ اپنے گھر میں ایک چھوٹی سی لائبریری ضرور بنائیں۔ جیسے ہی کتاب زندگی میں آئے گی، آپ کے سوچنے کے انداز میں ٹھہراؤ آجائے گا۔ پروفیسر شافع قدوائی (اعزازی ڈائریکٹر، سرسید اکیڈمی، اے ایم یو علی گڑھ) نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ علی گڑھ میں انھیں تقریباً چالیس برس ہوگئے ہیں، مگر انھوں نے نو دنوں پر مشتمل ایسا ہمہ گیر، علمی و ادبی اجتماع کبھی نہیں دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں جہاں کتابوں سے دلچسپی کم ہوتی جارہی ہے، حالانکہ کتابیں ہمارے تخیل اور فکری قوت کو بڑھاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ کتاب کی اہمیت و افادیت کل بھی مسلم تھی، آج بھی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ شکریے کی رسم ڈاکٹر محمد نوید خان (کوآرڈینیٹر کلچرل ایجوکیشن سینٹر اے ایم یو) نے ادا کی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر فیضان الحق نے انجام دیے ۔ اس تقریب میں کونسل سے شائع شدہ بچوں کی پانچ کتابوں ‘پھولی ہوئی لومڑی’ (غضنفر) ‘حیرت انگیز کارنامہ’ ( نعیمہ جعفری پاشا) ‘پریم دیوانی میرا’ (ثروت خان) ‘روبوٹ’ (اقبال برکی) اور ‘پالکی’ (شاہ تاج خان) کا اجرا بھی عمل میں آیا۔
افتتاحی پروگرام کے بعد آج کا دوسرا پروگرام ’آئینہ ہے روبرو‘ (میرا تخلیقی سفر: مصنّفین سے ملاقات) تھا، جس میں پروفیسر طارق چھتاری، پروفیسر غضنفر اور ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا نے اپنے تخلیقی سفر کے حوالے سے گفتگو کی اور سامعین سے اپنے تجربات شیئر کیے۔ اس پروگرام کے موڈریٹر ڈاکٹر توصیف بریلوی تھے۔
دوسرا دن (23 نومبر 2025)
کتاب میلے کے دوسرے دن ’سماجی روایات رسومات اور محاورات کا زوال :اسباب و امکانات‘ ،’اردو زبان کا مستقبل نئی نسل کے حوالے سے، اور’ چلو بات کرکے دیکھتے ہیں (شاعروں سے گفتگو) کے عنوان سے تین اہم مذاکرے منعقد ہوئے۔ ’اردو زبان کا مستقبل نئی نسل کے حوالے سے‘ میں ڈاکٹر شہناز رحمن، ڈاکٹر مہر فاطمہ، صدام حسین مضمر اور ڈاکٹر شفا مریم نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جب کہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر فہمینہ علی نے انجام دیے۔ ڈاکٹر شہناز رحمن نے اپنی گفتگو میں اردو زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل اردو کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، بس ان کی صحیح رہنمائی اور ان کو مناسب پلیٹ فارم فراہم کرنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر مہر فاطمہ نے اردو زبان کی ترویج میں سوشل میڈیا کا مثبت کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کے لکھنے والے اپنی تخلیقات کو بآسانی بڑے پیمانے پر شیئر کر رہے ہیں اور اس کے ذریعے اردو کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق اردو زبان کی فطری کشش نوجوانوں کو اپنی جانب کھینچ رہی ہے۔ ڈاکٹر شفا مریم نے کہا کہ اردو زبان کا سیکھنا نہایت ضروری ہے، تاہم دوسری زبانوں پر بھی عبور وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ملٹی لنگول ہونا نہ صرف فائدہ مند ہے بلکہ عصرِ حاضر کا تقاضا بھی ہے۔صدام حسین مضمر نے کہا کہ اردو زبان ہندوستان کی تہذیبی شناخت کا اہم مظہر ہے آج کے دور میں اس کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اردو ادب، فلم، موسیقی اور غزل کے ذریعے ایک منفرد مقام بنا چکی ہے۔
چلو بات کرکے دیکھتے ہیں (شاعروں سے گفتگو (مذاکرے میں اردو ادب کے ممتاز شعرا اور نقاد پروفیسر شہپر رسول، پروفیسر مہتاب حیدر نقوی اور شکیل جمالی شامل ہوئے، جبکہ اس مذاکرے کی موڈریشن ڈاکٹر نوشاد کامران نے کی۔پروفیسر شہپر رسول نے کہا کہ شاعری انسانی جذبات کی نہایت لطیف ترجمانی ہے، جو فرد کے اندرونی احساسات کو معاشرے کے بڑے کینوس پر نقش کرتی ہے۔ پروفیسر شہپر رسول نے مشاعرے کی تہذیبی اور سماجی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مشاعرے محض شعری محفلیں نہیں ہوتے تھے بلکہ ایک مکمل تہذیبی ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔
پروفیسر مہتاب حیدر نقوی نے کہا کہ شاعری الہامی نہیں بلکہ اکتسابی عمل ہے کوئی بھی مصرع آسمان سے نازل نہیں ہوتا. یہ بھی ٹیبل ورک جیسا عمل ہے ۔ شکیل جمالی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ شاعری انسان کو اس کی داخلی دنیا سے جوڑنے کا ہنر رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کے تیز رفتار دور میں شاعری انسان کو ٹھہر کر سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے باطن سے مکالمہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس مذاکرے میں تینوں شاعروں نے اپنے کلام سے سامعین کو بھی محظوظ کیا۔
ان مذاکروں سے پہلے ‘سماجی روایات ،رسومات اور محاورات کا زوال :اسباب و امکانات’ پر مذاکرہ منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر احمد مجتبی صدیقی (ڈیپارٹمنٹ آف جیوگرافی. اے ایم یو) ،پروفیسر ویبھا شرما (ڈپارٹمنٹ آف انگلش. اے ایم یو)، ڈاکٹر فوزیہ فریدی (ویمنز کالج. علی گڑھ) اور ڈاکٹر ہما پروین (ڈیپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکیشن. اے ایم یو) شریک ہوئے۔ اس مذاکرے میں معاشرے میں روایت کی کمزور ہوتی بنیادوں، زبان میں محاوراتی تنزّل اور سماجی اقدار کے بکھرتے ہوئے ڈھانچے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکائے مذاکرہ نے اپنی گفتگو میں اس امر پر افسوس ظاہر کیا کہ جدیدیت اور تیزی سے بدلتی ہوئی زندگی کے طور و طرز نے ہماری قدیم سماجی روایات اور بہتر رسومات کو حاشیے پر دھکیل دیا ہے، جن کا کبھی ہماری تہذیب میں بنیادی مقام ہوا کرتا تھا وہ روایات جو ماضی میں خاندانوں، میل جول اور باہمی احترام کو مضبوط کرتی تھیں، آج تیزی سے ماند پڑتی جا رہی ہیں۔ شرکا کا کہنا تھا کہ ماضی کی بہت سی روایات نہ صرف سماجی رشتوں کو مضبوط بناتی تھیں بلکہ نوجوان نسل کی تربیت میں بھی بڑی اہمیت رکھتی تھیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان روایات اور رسومات میں ان عناصر کا احیا کیا جائے جو انسان کو انسان سے جوڑتے ہیں، سماجی ذمے داری کا احساس پیدا کرتے ہیں اور تہذیبی وقار کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس مذاکرے کی موڈریشن زینب فائزہ اسلام نے کی۔ اس موقعے پر پروفیسر نازیہ حسن نے ایک داستان پیش کی، جس کی موڈریشن خدیجہ نے کی۔ علی گڑھ کتاب میلے میں یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ کثیر تعداد میں عمائدین شہر نے شرکت کی اور یہاں کے بک اسٹالوں پر محبان اردو کا ہجوم رہا اور کثیر تعداد میں لوگوں نے اپنے ذوق اور شوق کے مطابق کتابیں بھی خریدیں۔ .
تیسرا دن (24 نومبر 2025)
اردو کتاب میلہ کے تیسرے دن’جدید تکنیکی وسائل اور اردو صحافت: امکانات و چیلنجز‘ اور ’طبِ یونانی اور اردو زبان و ادب‘ کے موضوعات پر مذاکرے ہوئے ۔ ’جدید تکنیکی وسائل اور اردو صحافت: امکانات و چیلنجز‘ کے حوالے سے ڈاکٹر راحت ابرار، جناب وجیہ الدین، پروفیسر خالد سیف اللہ اور جناب اشرف بستوی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر راحت ابرار نے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی کا دور ہے اور آج کے صحافی کے لیے تکنیکی مہارت ناگزیر ہے۔ اردو صحافت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہے، تبھی ہم دوسری زبانوں کی صحافت کا مقابلہ کر سکیں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو ڈیجیٹل ٹولز اور آن لائن پلیٹ فارمز کے استعمال کی باقاعدہ تربیت دی جانی چاہیے۔جناب وجیہ الدین ٹائمزآف انڈیا کے سینئر سب ایڈیٹرنے اردو صحافت کی ایک روشن اور زریں روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ جدید ترین وسائل کی کمی اردو اخبارات کا اہم مسئلہ ہے، لیکن بہتر حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے صورتِ حال کو بہت حد تک بہتر بنایا جاسکتا ہے۔پروفیسر خالد سیف اللہ (شعبہ اردو، اے ایم یو علی گڑھ)ادبی صحافت پر روشنی ڈالی اور صحافتی زبان کو اپنی گفتگو کا محور و مرکز بناتے ہوئے جدید ترین ٹیکنالوجی کی وجہ سے آنے والی آسانیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسائل کی ترسیل میں پہلے جو دشواریاں تھیں اسے جدید ترین ٹکنالوجی نے آسان بنا دیاہے۔ اب ذرا سی دیرمیں اخبارات اور مجلات کی سافٹ کاپی دور دراز کے علاقوں تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو صحافت تبھی زندہ اور فعال رہے گی جب قارئین کی تعداد بڑھے گی اور نئی نسل اس کے ساتھ جڑی رہے گی۔ویب پورٹل ایشیا ٹائمز کے ایڈیٹر جناب اشرف علی بستوی نے کہا کہ اردو صحافت کا بیشتر مواد انٹرنیٹ پر JPG یا PDF فائلوں کی صورت میں موجود ہے، مگر سرچ کرنے میں بہت سی دشواریاں پیش آتی ہیں ۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ اردو ادارے اور اخبارات اپنی ویب سائٹس کو بہتر بنائیں، متن کو یونی کوڈ میں منتقل کریں اور ڈیجیٹل آرکائیونگ کو فروغ دیں تاکہ اردو صحافت کا ذخیرہ عالمی سطح پر زیادہ قابلِ رسائی ہوسکے۔ اس مذاکرے کے موڈریشن کے فرائض ڈاکٹر اسعد فیصل فاروقی نے انجام دیے۔
اس سے قبل ‘طب یونانی اور اردو زبان و ادب’ کے عنوان سے منعقد ہونے والے مذاکرے میں پروفیسر اشہر قدیر، پروفیسر آسیہ سلطانہ اور حکیم فخر عالم پینلسٹ کے طور پر شریک ہوئے جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب شمیم نے انجام دیے۔ پروفیسر اشہر قدیر نے بتایا کہ طب یونانی قدیم ترین طریقہ علاج ہے اور اردو زبان میں اس کے منتقل ہونے سے عوام الناس کو بے حد فائدہ پہنچا۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ علم طب پر لکھنے والوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے جس کے باعث طبی رسائل کا سلسلۂ اشاعت بھی متاثر ہوا ہے۔ پروفیسر آسیہ سلطانہ نے حکومتِ ہند کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یونانی طب کے باضابطہ شعبے کا قیام ایک بڑا قدم ہے جس سے تحقیق اور تدریس کے نئے پہلو سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے طلبہ اور اہلِ علم کو مشورہ دیا کہ عصری تقاضوں کے مطابق اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی زبان میں بھی تحریری صلاحیت پیدا کریں تاکہ عالمی سطح پر علم طب کی رسائی میں اضافہ ہو۔ حکیم فخر عالم نے طبِ یونانی اور اردو زبان کے گہرے رشتے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اردو میں یونانی طب کی بے شمار مستند کتابیں تحریر کی گئیں اور خاص بات یہ ہے کہ شعر وادب کی دنیا میں بہت سے اطبا مستند نام کی حیثیت رکھتے ہیں اور طب اور ادب دونوں میں ہی ان کی شناخت مستحکم ہے۔ اس پینل کے بیشتر شرکا نے کہاکہ اردو زبان و ادب میں یونانی طب کا بیش قیمت ذخیرہ موجود ہے اور اس زبان کے فروغ اور تحفظ میں یونانی طب کا بھی بہت اہم کردار ہے۔ کتاب میلے کے تیسرے دن منعقد ہونے والے یہ دونوں مذاکرے اپنے موضوعات اور حاضرین کی بھرپور دلچسپی کی بنا پر بہت کامیاب رہے۔ حاضرین نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کتاب میلے کی یہ علمی محفلیں نہ صرف نئے افکار و اقدار سے روشناس کراتی ہیں بلکہ سوچ کے بند دروازوں کو بھی وا کرتی ہیں ۔
چوتھا دن (25 نومبر 2025)
علی گڑھ اردو کتاب میلہ میں آج ‘معاصر تحقیق و تنقید: سمت و رفتار’،’اردو میں سائنسی ادب’ اور ‘انگریزی شاعری پر مخلوط ثقافت اور زبان کا اثر’ کے عنوان سے اہم مذاکرے منعقد ہوئے۔ ’معاصر تحقیق و تنقید:سمت و رفتار‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر قمرالہدی فریدی (صدر شعبۂ اردو، اے ایم یو)، ڈاکٹر جمیل اختر (معروف ناقد)، پروفیسر محمد علی جوہر اور پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی (شعبۂ اردو، علی گڑھ) شریک ہوئے۔ مقررین نے موجودہ دور کی تحقیق و تنقید کے بدلتے رجحانات اور مسائل پر روشنی ڈالی۔ پروفیسر قمر الہدی فریدی نے کہا کہ معاصر تحقیق نئے نظریاتی مباحث اور تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے، اس لیے محققین کو بین العلومی نقطۂ نظر اپنانا ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ معیاری تحقیق کے لیے مطلوبہ وسائل و اخلاقیات کو اپنائے بغیر موضوع کے ساتھ انصاف نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر جمیل اختر نے کہا کہ مولوی عبدالحق اردو کے اولین محقق و ناقد تھے، جن کے طریقۂ تحقیق کو بروئے کار لاکر موجودہ دور کے محققین بھی عمدہ تحقیق کا نمونہ پیش کر سکتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ قومی اردو کونسل نے اردو کے کلاسیکی ادب کے سرمائے کو محفوظ کرنے کی قابل تحسین کوشش کی ہے۔ پروفیسر محمد علی جوہر نے کہا کہ معیاری تحقیق وہ ہوتی ہے جو اپنے عہد کے فکری، تہذیبی اور علمی سوالات کا واضح جواب فراہم کرے۔ پروفیسر ضیاء الرحمن صدیقی نے کہا کہ تحقیق نہایت سنجیدہ اور مشکل کام ہے، جس کا حق ادا کرنے کے لیے اعلی درجے کی سنجیدگی، وسعتِ مطالعہ اور علم و تحقیق کے تئیں غیر معمولی دلچسپی درکار ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کل رسائل میں شائع ہونے والے اکثر مضامین تنقید کے دائرے میں آتے ہیں، تحقیقی مضامین بہت کم لکھے جارہے ہیں۔ اس مذاکرے کے موڈریٹر ڈاکٹر فیضان الحق تھے۔
’اردو میں سائنسی ادب‘ کے موضوع پر آج کا دوسرا مذاکرہ منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر عبدالمعز شمس (معروف ماہرِ امراضِ چشم اور ادیب)، ڈاکٹر فائزہ عباسی (ڈائریکٹر HRDC)، اور جناب عادل فراز شریک ہوئے جبکہ مذاکرے کی موڈریشن کے فرائض ڈاکٹر حسینہ خانم نے انجام دی۔ ڈاکٹر عبدالمعز شمس نے کہا کہ طب، حیاتیات اور جدید سائنسی تحقیق پر موجود مواد کو سادہ اور بامحاورہ اردو میں پیش کیا جائے تاکہ عام قارئین میں سائنسی شعور پروان چڑھے۔ انھوں نے کہا کہ نئی نسل کو اردو میں معیاری سائنسی مواد فراہم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ڈاکٹر فائزہ عباسی نے کہا کہ اردو میں سائنسی اصطلاحات کو معیاری بنانے اور جدید سائنسی مباحث کو مقامی تناظر میں سمجھانے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے تعلیمی اداروں سے اپیل کی کہ نصاب میں اردو سائنسی لٹریچر کو جگہ دی جائے تاکہ طلبہ دونوں زبانوں میں مہارت حاصل کرسکیں۔ جناب عادل فراز نے کہا کہ اردو میں سائنسی ادب کا دائرہ بہت وسیع ہے اور اردو کی غزلیہ اور نظمیہ شاعری میں سائنسی اشارے ملتے ہیں۔ ٹیکنالوجی، ماحولیات، فلکیات اور مصنوعی ذہانت سے اردو اب نا آشنا نہیں ہے۔
اس سے قبل کلچرل ایجوکیشن سینٹر اے ایم یو کے اشتراک سے ’انگریزی شاعری پر مخلوط ثقافت اور زبان کا اثر‘ کے عنوان سے بھی ایک اہم مذاکرہ منعقد ہوا جس میں پروفیسر ثمینہ خاتون (صدر شعبۂ انگریزی، اے ایم یو)، پروفیسر عائشہ منیرہ اور پروفیسر فضا تبسم اعظمی نے بطور پینلسٹ شرکت کی۔ نظامت مدیحہ ناز اور زنیرہ حبیبہ نے کی، جب کہ شکریہ کی رسم ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے ادا کی۔ پروفیسر ثمینہ خاتون نے کہا کہ انگریزی شاعری پر ہندوستانی تہذیب و زبان کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں، کیونکہ کسی بھی صنفِ سخن پر مختلف ثقافتوں کا اثر پڑنا فطری ہے۔ انھوں نے کہا کہ اچھا ادب انسان میں دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔پروفیسر عائشہ منیرہ نے کہا کہ غزل کی صنف ہندوستان میں بے حد مقبول ہے، چاہے وہ اردو میں ہو یا انگریزی میں۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزی ادب و شاعری بھی دوسری زبانوں کے اثرات قبول کرتی ہے گرچہ انگریز اس بات سے بالکل انکار کرتے ہیں کہ ان کی شاعری بھی کسی دوسری زبان سے متاثر ہوئی ہے۔پروفیسر فضا تبسم اعظمی نے کہا کہ انگریزی عالمی زبان ہے اور یہ ہمیں پوری دنیا سے جوڑتی ہے۔ مخلوط ثقافتی اثرات نے انگریزی شاعری کو نئی وسعت اور ہم آہنگی سے ہم کنار کیا ہے۔
کتاب میلے کے چوتھے دن بھی شائقین کی خاصی بھیڑ رہی۔ یونیورسٹی اور شہر کے اطراف و اکناف سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ شرکا نے کتابوں کی موضوعاتی بوقلمونی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے قومی اردو کونسل کے اس قدم کی ستائش کی کہ اس نے اہم کتابوں تک رسائی کا نہایت مؤثر ذریعہ فراہم کیا ہے۔
پانچواں دن (26 نومبر 2025)
علی گڑھ اردو کتاب میلہ 2025 پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ ہر دن شائقین کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ میلے میں منعقد ہونے والی ادبی اور ثقافتی تقاریب بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بن رہی ہیں اور انھیں اپنی جانب کھینچ رہی ہیں۔ اس سلسلے میں میلے کے پانچویں دن چار اہم پروگرام منعقد ہوئے جن میں بچوں کے ‘ادبی رسائل’ اور ‘ڈیجیٹل دنیا میں کتابی ثقافت کا فروغ’ کے عنوان سے دو اہم مذاکرے، نوجوان شاعروں کا مشاعرہ اور شام غزل شامل ہیں۔
پہلا مذاکرہ ”بچوں کے ادبی رسائل” کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں ڈاکٹر فیضان الحق نے معروف ادیب، مترجم اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے چانسلر جناب فیروز بخت احمد سے بات چیت کی۔ فیروز بخت احمد نے صحافت کے ساتھ اردو ادب کی جانب متوجہ ہونے پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ادب اطفال کے تئیں اپنے جذبات کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں لوگ ادب اطفال کو اہمیت کیوں نہیں دیتے جب کہ اس کے بغیر بچوں میں تہذیب و ثقافت منتقل نہیں کی جا سکتی۔ کسی بھی زبان و تہذیب کو زندہ رکھنے کے لیے بچوں کا اس سے واقف ہونا ضروری ہے۔ آپ نے بچوں کے ادبی رسائل سے اپنی وابستگی کا حوالہ دیتے ہوئے ماہ نامہ کھلونا، پیام تعلیم، غنچہ جیسے کئی اہم رسائل کا بھی ذکر کیا۔ اس گفتگو سے اندازہ ہوا کہ ادب اطفال پر توجہ دینے کی سخت ضرورت ہے اور اسے کسی بھی طرح سنجیدہ ادب سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔
آج کا دوسرا مذاکرہ ’’ڈیجیٹل دنیا میں کتابی ثقافت کا فروغ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں مشہور کہانی کار، شاعرہ و مترجم ڈاکٹر عذرا نقوی، معروف ادیب و ناقد ڈاکٹر زبیر شاداب اور نوجوان قلم کار ڈاکٹر نوشاد منظر بطور ایکسپرٹ اور ڈاکٹر حنیف خان بطور موڈریٹر شریک ہوئے۔ محترمہ عذرا نقوی صاحبہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کتابوں سے اپنے روایتی تعلق کا اظہار کیا اور ڈیجیٹل کتابوں کے موجودہ منظرنامے پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا کے اہم فائدے ہیں اور اس نے رسائی کو آسان بنایا ہے۔ ڈاکٹر زبیر شاداب نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور مطبوعہ کتابوں کے مطالعے کے درمیان فرق کو واضح کرتے ہوئے مطالعے کی تہذیب پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر نوشاد منظر نے پورٹل پر کتابیں پڑھنے سے متعلق قارئین کے تجربات پر اظہارِ خیال کیا اور ٹھہراؤ کی کمی کا ذکر کیا۔ آپ نے حوالہ جات سے متعلق اس کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
مذاکروں کے علاوہ آج کے کتاب میلے میں قومی اردو کونسل اور کلچرل ایجوکیشن سینٹر اے ایم یو، علی گڑھ کے اشتراک سے نوجوان طلباء علی گڑھ کے لیے شعری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس پروگرام میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نائب شیخ الجامعہ پروفیسر محمد محسن خان بطور مہمان خصوصی موجود رہے۔ اس کی صدارت کے فرائض پروفیسر سید محمد محب الحق نے انجام دیے۔ جن شعرا نے اپنے کلام سے محظوظ کیا ان میں اظہر نواز، یاسر علی، سیف عرفان، سفر نقوی، اریب عثمانی، وسیم سدھارتھ نگری، کاظم رضوی، نظام الدین نظامی اور جاوید اشرف شامل ہیں۔ مہمان خصوصی پروفیسر محمد محسن خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے برسوں بعد ایسا میلہ علی گڑھ میں دیکھا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو کے ڈائرکٹر ڈاکٹر محمد شمس اقبال قابل مبارکباد ہیں کہ انھوں نے علی گڑھ میں اس میلے کا اہتمام کیا۔ مشاعرے کی نظامت سید فہیم احمد نے اور شکریہ کی رسم ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے انجام دی۔
مشاعرے کے علاوہ کلچرل پروگرام کے تحت ’’غزل اس نے چھیڑی‘‘ کے عنوان سے ’’شام غزل‘‘ کا بھی انعقاد کیا گیا۔ جس میں گروپ سانگ کے ساتھ قوالی بھی شامل تھی۔ اس پروگرام میں علی گڑھ کی کمشنر محترمہ سنگیتا سنگھ بطور مہمان خصوصی حاضر ہوئیں۔ اس پروگرام میں جناب معراج نشاط، محترمہ یاسمین رضوی، محمد احسان، روہید نور، محراب عباسی، محترمہ فرحین نے خوبصورت انداز میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے سامعین کو محظوظ کیا۔ ڈاکٹر دانش محمود نے اس کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ ان تمام پروگرام میں سامعین کی بڑی تعداد موجود رہیں اور وہ کتابوں کی خریداری کے ساتھ مختلف ادبی و ثقافتی پروگراموں سے بھی محظوظ ہوئے۔
چھٹا دن (27 نومبر 2025)
قومی اردو کونسل کے زیراہتمام جاری علی گڑھ اردو کتاب میلہ 2025 کے چھٹے دن بھی بڑی تعداد میں شائقین کتب موجود رہے۔ اساتذہ و طلبہ دونوں میں خوشی کی لہر دیکھی گئی۔ کتاب میلے میں آنے والوں کا عام تاثر یہ تھا کہ علی گڑھ میں پہلی بار ایسا کتاب میلہ منعقد کیا گیا ہے، جس میں ہر قسم کی کتابیں دستیاب ہیں اور لوگوں کو آسانی سے مل رہی ہیں۔ بعض طلبہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ جن کتابوں کے لیے ہمیں دور دراز کا سفر کرنا پڑتا تھا اور صعوبت برداشت کرنی پڑتی تھی وہ اس کتاب میلے میں بہ سہولت دستیاب ہیں۔آرٹ کے علاوہ سائنس اور سوشل سائنس کے طلبہ نے یہ بھی محسوس کیا کہ انھیں اس کتاب میلے کے ذریعے اپنے نصابی حصار سے باہر نکلنے میں مدد ملی ہے اور مختلف ثقافتوں سے آشنائی کا موقع ملا ہے۔ کتاب میلے نے انھیں ایک نئی دنیا سے روبرو کیا ہے۔ یقینی طور پر قومی کونسل کا یہ اقدام قابل ستائش ہے۔اس طرح کے میلوں سے پورے معاشرے میں کتاب کلچر کا فروغ ہوگا۔
کتاب میلے میں آج بھی مختلف ادبی تقریبات کا اہتمام کیا گیا جن میں پہلا پروگرام کلچرل ایجوکیشن سینٹر، اے ایم یو اور قومی اردو کونسل کے اشتراک سے’تہذیب علی گڑھ’ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ جس میں ایم یو کالج علی گڑھ کے طلبہ نے کلچرل پروگرام پیش کیے۔ اس موقعے پر کالج کے پرنسپل جناب سید محمد حیدر نقوی بھی موجود رہے۔ اس پروگرام میں ان کے ساتھ مہتاب نسیم بھی شریک رہے جنھوں نے موڈریشن کا فریضہ انجام دیا۔ اسی طرح کا دوسرا پروگرام ”تخلیق سخن ورکشاپ” کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں اردو اور انگریزی شاعری کی باریکیوں پر مختلف ماہرین نے اظہار خیال کیا اور نئے سخنوروں کو اس کے رموز و نکات سے آگاہ کیا۔ اس اہم تربیتی پروگرام میں پروفیسر راشد نہال، ڈاکٹر سرور ساجد، ڈاکٹر فضیلہ شاہنواز شریک ہوئے اور آمنہ عاصم نے اس پروگرام کو موڈریٹ کیا۔
کتاب میلے کا تیسرا اہم پروگرام ”اردو صحافت میں زبان کا گرتا معیار” کے اہم موضوع پر منعقد کیا گیا، جس میں مختلف ماہرین نے اردو صحافت میں زبان کی صورتحال پر اظہار خیال کیا اور اس کے موجودہ لسانی منظر نامے پر روشنی ڈالی۔ اس پروگرام میں معروف اردو صحافی و کالم نگار جناب معصوم مراد آبادی، معروف صحافی و ادیب جناب سراج نقوی، معروف صحافی و ریزیڈنٹ ایڈیٹر روزنامہ ’سچ کی آواز‘ جناب جمشید عادل علیگ بطور پینلسٹ شریک ہوئے جبکہ معروف ادیب و اسکالر ڈاکٹر شفیع ایوب نے اس پروگرام کو موڈریٹ کیا۔ صحافت سے عملی طور پر وابستہ ان افراد نے صحافت اور صحافت کی زبان کے حوالے سے مفید گفتگو کی۔ معصوم مراد آبادی نے بتایا کہ اردو صحافت کا آغاز مشن کے طور پر ہوا تھا مگر اب رفتہ رفتہ صحافت پروفیشن میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ سراج نقوی نے معیاری اردو کے حوالے سے کہا کہ معیاری اردو کا تعلق دراصل عوام سے ہوتا ہے اور معیاری اردو کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ جمشید عادل علیگ نے اردو صحافت کی زبان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گفتگو کی اور کہا کہ زبان بگڑی نہیں ہے، زبان میں تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ اس پینل کے شرکا نے پرنٹ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کی زبان اور اس کے تقاضوں کے بارے میں بہت ہی بامعنی گفتگو کی۔ اس سیشن میں صحافت کے طلبہ بھی شریک رہے اور انہیں مقررین کے خیالات سے استفادے کا موقع ملا۔
ساتواں دن (28 نومبر 2025)
علی گڑھ اردو کتاب میلے کے ساتویں دن بھی شائقین میں خاصا جوش و خروش نظر آیا۔ بچوں کی بڑی تعداد نے میلے میں شرکت کی اور اپنے ذوق کی کتابیں بھی خریدیں۔ مقامی اسکول کے طلبہ کی شرکت نے اس کتاب میلے کی رونق میں اضافہ کیا۔آج کے دن بھی کئی اہم پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جن میں اقرأ پبلک اسکول کے طلبہ و طالبات نے محفل رنگ کے عنوان سے ایک خوبصورت پروگرام پیش کیا۔ اس کی ماڈریٹر عشینہ احمد تھیں اور کوماڈریٹر محمد اقدس تھے۔ اسکول کی پرنسپل محترمہ فاطمہ ارم اور مینیجر پروفیسر نسیم احمد خان بھی اس پروگرام میں شریک رہے۔ بچوں نے اپنی کارکردگی سے لوگوں کو خاصا متاثر کیا۔ بچوں کا یہ تربیتی پروگرام تھا لیکن انھوں نے احساس دلایا کہ انھیں اپنی ثقافت اور زبان سے گہرا لگاؤ ہے۔
قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ایک مذاکرے کا بھی اہتمام کیا گیا جس کا عنوان تھا ’قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو زبان: امکانات و مسائل‘ اس مذاکرے میں بطور پینلسٹ پروفیسر سید امتیاز حسنین اور پروفیسر شافع قدوائی نے شرکت کی۔ ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے ماڈریٹر کے فرائض انجام دیے۔ مقررین نے قومی تعلیمی پالیسی کے اہم نکات اور اہداف و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اردو اور انگریزی زبان کے ناقد اور کالم نگار پروفیسر شافع قدوائی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس پالیسی کے اندر زبان کے باب میں کوئی جبر نہیں ہے۔ اس میں تعلیم کے بنیادی تصورات پر ارتکاز کیا گیا ہے اور تدریسی نصاب میں ضروری تبدیلیوں کی سفارش کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ قومی تعلیمی پالیسی کا ایک مقصد گلوبل سٹیزن بنانا بھی ہے کیوں کہ آج کے عہد میں ملٹی لنگول ازم پر زیادہ زور ہے۔ماہر لسانیات پروفیسر امتیاز حسنین نے ملٹی لنگول ازم پر روشنی ڈالتے ہوئے ریجنل لینگویج اور شیڈول لینگویج کے تعلق سے گفتگو کی اور ان تمام خدشات کو بے بنیاد قرار دیا جو اردو کے تعلق سے بہت سے ذہنوں میں پائے جاتے ہیں۔اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے بھی قومی تعلیمی پالیسی کے صحت مند اور افادی پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو زبان اور اردو معاشرے کے لیے بھی فائدے مند ہے، اس لیے غیر ضروری خدشات یا وسوسوں کا شکار ہونے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
آج کتاب میلے میں معروف داستان گو سید ساحل آغا اور مروف غزل سنگر ڈاکٹر نیتا پانڈے نے’ خسرو دریا پریم کا‘ کے عنوان سے میوزیکل داستان پیش کی۔ داستان گوئی کے آغاز سے قبل قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے شال پہنا کر تمام فن کاروں کی عزت افزائی کی اور اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان صدیوں سے بین مذاہب ہم آہنگی کا گہوارہ اور ثقافتی تنوع کا مرکز رہا ہے، جس کی ادبی و شعری نمائندگی اردو کے اولین شاعر امیر خسرو نے بڑی خوب صورتی سے کی ہے، یہ ہمارے لیے نہایت پر مسرت موقع ہے کہ ایسے سدا بہار شاعر کے حوالے سے اس میلے میں میوزیکل داستان گوئی کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور معروف داستان گو اور پرفارمر اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ محبت کی ایک روشن اور تابندہ علامت کے طور پر خسرو کی شخصیت پورے ہندوستان میں اپنی منفرد پہچان رکھتی ہے، چاہے کوئی مسلمان ہو یا ہندو ، سکھ یا عیسائی، ہر طبقے میں خسرو کی مقبولیت رہی ہے، اسی وجہ سے آج کی محفلِ داستان گوئی ان پر مرکوز ہے۔ اس میوزکل داستان گوئی سے کثیر تعداد میں سامعین و ناظرین محظوظ ہوئے ۔
آٹھواں دن (29 نومبر 2025)
علی گڑھ اردو کتاب میلے کے آٹھویں دن بھی شائقین کا جوش و خروش قابلِ دید رہا۔ بچوں کی بڑی تعداد نے میلے میں شرکت کی اور اپنی پسند کی کتابیں خریدیں۔ مقامی اسکولوں کے طلبہ کی آمد نے میلے کی رونق میں مزید اضافہ کیا۔
آج ہونے والے اہم پروگرامز میں کلچرل ایجوکیشن سنٹر، اے ایم یو، علی گڑھ کے باہمی اشتراک سے البرکات پبلک اسکول اور البرکات آفٹر نون اسکول کے طلبہ و طالبات نے کاوشِ بزمِ ادب و ثقافت کے عنوان سے خوبصورت پیشکش سے نوازا۔ پروگرام کے ماڈریٹر محمد ارحم اور کو ماڈریٹر سیرۃ العین تھیں۔ اسکول کی پرنسپل محترمہ صبیحہ خان، ہیڈ مسٹریس محترمہ تاب انور اور مہمانِ خصوصی پروفیسر اصفر علی خان بھی اس میں شریک رہے۔ بچوں نے اپنی شاندار کارکردگی سے حاضرین کو متاثر کیا اور ثابت کیا کہ انہیں اپنی ثقافت اور زبان سے گہرا تعلق ہے۔
اسی طرح البرکات این سی پی یو ایل سینٹر، علی گڑھ کے طلبہ و طالبات نے بزمِ سخن کے عنوان سے ایک پُراثر پروگرام پیش کیا جس کی ماڈریٹر مہوش مجتبیٰ تھیں۔ اس پروگرام میں سینئر فیکلٹی عبید الرحمن، ڈائرکٹر ڈاکٹر سید محمد عثمان اور شعبہ بزنس ایڈمنسٹریشن کے صدر نے بطور مہمان شرکت کی۔ بچوں نے اپنی کارکردگی سے سامعین کو خوب محظوظ کیا۔
آج کی ادبی و ثقافتی تقریبات میں بلائنڈ طلبہ کے لیے مخصوص احمدی اسکول کے بچوں نے بھی شرکت اور اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ بڑی تعداد میں موجود ناظرین نے ان کی پیشکش کو بھرپور سراہا اور ان کی حوصلہ افزائی کی۔
قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام دو مذاکرے اور ایک طرحی مشاعرہ بھی منعقد ہوا۔ پہلا مذاکرہ سائبر سیکیورٹی اینڈ سیفٹی کے عنوان سے تھا جس میں ماہرِ کمپیوٹر سائنس پروفیسر ایم این ہدیٰ اور رجسٹرار، اے ایم یو، علی گڑھ پروفیسر محمد عاصم ظفر نے بطور پینلسٹ شرکت کی۔ ڈاکٹر فیضان الحق نے اس مذاکرے کو موڈریٹ کیا۔پروفیسر ایم این ہدیٰ نے ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے ہوئے سائبر خطرات پر روشنی ڈالی اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات پر زور دیا۔ پروفیسر محمد عاصم ظفر نے سائبر کرائم کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے طلبہ کو آن لائن جرائم سے محفوظ رہنے کے مفید مشورے دیے۔
دوسرا مذاکرہ ’وہ بھولی داستاں لو پھر یاد آگئی: یادِ ایامِ علی گڑھ‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں پدم شری پروفیسر اختر الواسع، نامور ناقد ڈاکٹر نرجس فاطمہ اور ممتاز کہانی کار و شاعرہ انجم قدوائی نے اظہارِ خیال کیا۔ ڈاکٹر افشاں ملک اس مذاکرے کی موڈریٹر رہیں۔ مقررین نے علی گڑھ سے وابستہ اپنی یادیں اور تاثرات سامعین کے سامنے پیش کیے۔
آج کے طرحی مشاعرے (مصرعہ طرح: اپنے نقشے کے مطابق یہ زمیں کچھ کم ہے)کی صدارت ممتاز ناقد و شاعر پروفیسر سراج اجملی صاحب نے کی۔ مشاعرے میں جناب عالم خورشید، محترمہ صبیحہ سنبل، ڈاکٹر سرور ساجد، ڈاکٹر مشتاق صدف، ڈاکٹر عمیر منظر، ڈاکٹر معید رشیدی، ڈاکٹر سرفراز خالد، جناب بصیرالحسن وفا نقوی اور ڈاکٹر افضل خان نے اپنا کلام پیش کیا جسے سامعین نے بے حد پسند کیا۔ مشاعرے کی نظامت معروف شاعر ڈاکٹر شارق عقیل نے بڑی خوش اسلوبی سے انجام دی۔
نواں دن (30 نومبر 2025)
قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام علی گڑھ اردو کتاب میلہ تاریخ ساز کامیابیوں کے ساتھ آج اختتام پذیر ہوگیا۔ اس موقعے پر اختتامی سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کے مہمان خصوصی پروفیسر محمد گلریز، سابق کارگزار وائس چانسلر، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی تھے جنہوں نے کتاب میلے کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میلے کے انعقاد سے علی گڑھ میں نئی ادبی و ثقافتی توانائی آگئی ہے جس کے لیے قومی اردو کونسل اور اس کے سربراہ ڈاکٹر شمس اقبال مبارکباد کے مستحق ہیں۔ سرسید اکیڈمی علی گڑھ کے ڈائرکٹر پروفیسر شافع قدوائی نے اپنے خطاب میں اس کتاب میلے کو علی گڑھ کی علمی روایت کے فروغ کے حوالے سے اہم قرار دیا۔ قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے کلماتِ تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ کتاب دوستی نوجوان نسل کی فکری بنیادوں کو مضبوط بنائے گی اور ملک کو وکست بھارت @2047کی جانب لے جانے میں خاصی معاون ثابت ہوگی۔ انھوں نے اس نو روزہ کتاب میلے کے دوران ہونے والے ادبی و ثقافتی پروگراموں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ یہ میلہ کمرشیلی بھی نہایت تاریخ ساز رہا کہ اس میں ہندوستان کے مختلف شہروں کے پچاس سے زائد پبلشرز شریک ہوئے اور نو دنوں میں ستر لاکھ کی کتابیں فروخت ہوئیں جبکہ ہم نے قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام 19 اور کلچرل ایجوکیشن سینٹر کے اشتراک سے 8 ادبی و ثقافتی پروگرام کیے جن میں علی گڑھ سمیت دہلی، ممبئی، لکھنؤ، غازی آباد اور دیگر مقامات کے ڈیڑھ سو سے زائد اسکالرز، دانشوران اور طلبا و طالبات نے حصہ لیا اور ہزاروں شائقین نے اس میلے میں شریک ہوکر اپنی کتاب دوستی کا ثبوت دیا، جبکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اس دوران ہونے والے پروگراموں کو ایک کروڑ لوگوں نے دیکھا۔ اس طرح اپنے اثرات اور رسائی کے اعتبار سے یہ کتاب میلہ نہایت کامیاب اور تاریخ ساز رہا۔ انھوں نے اس موقعے پر اس میلے کے انعقاد میں معاون تمام اداروں، افراد اور قومی اردو کونسل کے عملہ کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ ان حضرات کی اجتماعی کاوشوں سے ہی یہ کتاب میلہ منعقد ہوسکا ہے۔ اس اختتامی سیشن کی نظامت ڈاکٹر احمد مجتبیٰ صدیقی نے انجام دی۔
اس سے قبل قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام تین اہم مذاکروں کا انعقاد کیا گیا۔ پہلا مذاکرہ ’’قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو (نئی نسل میں کتاب دوستی کا احیا)‘‘ کے عنوان سے ہوا، جس میں معروف تخلیق کار و ناقد پروفیسر صغیر افراہیم، معروف اردو اسکالر پروفیسر امتیاز احمد اور مشہور اسکالر ڈاکٹر آفتاب عالم نجمی نے نئی نسل میں مطالعے کی عادت اور کتاب دوستی کی ضرورت پر گفتگو کی، جبکہ نوجوان فکشن نگار ڈاکٹر حمیرا عالیہ نے نوجوانوں اور مطالعے کے تعلق پر اپنے خیالات پیش کیے۔ جناب زبیر خان سعیدی نے اس مذاکرے کو موڈریٹ کیا۔
دوسرا مذاکرہ ’’تراجم سے کھلتی کھڑکیاں‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں معروف انگریزی اسکالر و مترجم پروفیسر سمیع رفیق، معروف اسکالر پروفیسر محمد سجاد، معروف ہندی اسکالر پروفیسر شمبھوناتھ تیواری اور معروف ادیب و ناقد ڈاکٹر معید الرحمن نے اردو میں انڈین نالج سسٹم کی اہمیت، ہندوستانی علمی روایت کی ترسیل اور مختلف علوم تک رسائی کے موضوعات پر اظہارِ خیال کیا۔ نوجوان ناقد و مترجم ڈاکٹر احسن ایوبی نے اس مذاکرے کو موڈریٹ کیا۔
تیسرا مذاکرہ ’’اردو میں انفوٹینمنٹ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں معروف ادیب و کالم نگار ایڈوکیٹ اے رحمن، ڈرامہ نگار و ہدایت کار ڈاکٹر سعید عالم اور معروف انگریزی ادیب، ناقد و مترجم پروفیسر عاصم صدیقی نے فلم، ڈرامہ اور تھیٹر کے ذریعے اردو زبان کے فروغ پر گفتگو کی، جبکہ تحسین منور اس سیشن کے موڈریٹر تھے۔
قابل ذکر ہے کہ کتاب میلے کے آخری دن بھی اردو زبان اور کتابوں کے شائقین کی بڑی تعداد موجود رہی، اس موقعے پر اسکولی طلبہ و طالبات کی موجودگی نے میلے کی رونق میں خاصا اضافہ کیا۔