نیر مسعود کی تحقیقی خدمات،مضمون نگار: صالحہ عاصم

January 28, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،جنوری 2026:

نیر مسعود(1936-2017) کی بنیادی شناخت ایک اہم افسانہ نگار کی ہے۔ وہ فارسی زبان وادب کے استاد تھے، لیکن اردو زبان و ادب میں ان کی گراںقدر خدمات نے اردو تحقیق، تنقید، تخلیق اور ترجمے کو وقار بخشا۔غالب کے متعلق ان کی تحریروں کو معاصراہم ناقدین نے سراہا ہے۔ایک تخلیق کار کے طور پر ان کی حددرجہ مقبولیت نے ان کی دوسری خدمات کے دائرے کو قدرے تنگ کردیا۔ ان کے دیگر کارناموں کو تو سراہا گیا لیکن اس طرح نہیں، جس طرح سراہا جانا چاہیے تھا۔تخلیق کے علاوہ ان کی تحقیقی اور تنقیدی کتابوں میں ’رجب علی بیگ سرور :حیات اور کارنامے‘، ’یگانہ احوال وآثار ‘، ’تعبیرغالب‘، ’لکھنؤ کا عروج وزوال‘، ’ انیس (سوانح)‘، ’مرثیہ خوانی کا فن‘، ’شفاء الدولہ کی سر گزشت‘، ’سید مسعود حسن رضوی ادیب کی ادبی زندگی‘، ’خطوط مشاہیر‘، ’منتخب مضامین‘ اور ترجمے میں ’حکیم نباتات‘ اور ’کافکاکے افسانے ‘ اہمیت کے حامل ہیں۔نیر مسعود کی خدمات کے اعتراف میں مختلف اداروں نے انھیں ایوارڈ سے بھی نوازا، جس میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ(2001)، سرسوتی سمان (2007) اور صدر جمہوریہ ایوارڈ بطور خاص شامل ہیں۔
نیر مسعود نے اپنے ادبی اور تحقیقی سفر کے آغاز کے متعلق ہادی عسکری کو دیے گئے انٹرویو میں دوران گفتگو کہا تھا :
’’اصل میں میرے دو ہی میدان رہے ہیں تحقیق اور افسانہ بعض لوگ غالباً اس کو متضاد سمجھتے ہیں مگر یہ ہیں نہیں۔ یہ دونوں اصناف ادب میں اگر بالکل دو الگ قسم کی چیز ہوں تب بھی انسان کو دلچسپی ہوسکتی ہے جیسے مرغی پالنے اور افسانہ لکھنے سے تو پھر دو اصناف ادب سے کیوں نہیں ہوسکتی۔ افسانے کے قاری بہت ہیں تحقیق کم لوگ پڑھتے ہیں میں نے افسانے کے مقابلے میں دس گنا تحقیق کا کام کیا ہے۔ اس کی میں نے پروا ہ نہیں کی کہ افسانہ سے زیادہ فائدہ شہرت اور مقبولیت ملی۔‘‘1
مذکورہ بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیر مسعود نے افسانہ لکھنے سے کہیں زیادہ تحقیق کے حوالے سے کام کیا ہے، لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ تحقیقی کام کا دائرہ بالعموم مخصوص حلقۂ قارئین تک ہی محدود ہوا کرتا تھا۔ جب کہ تخلیقی متن کے قارئین کا دائرہ عوام و خواص کے سیاق میں وسیع ہوتا ہے۔ اس مقالے میں نیر مسعود کی چند تحقیقی کتابوں کا مختصراًجائزہ پیش کیا جارہا ہے۔ نیر مسعود نے تحقیق کے لیے ان گوشوں کو منتخب کیا، جن پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی تھی۔ ان کی پہلی تحقیقی کتاب ’رجب علی بیگ سرور:حیا ت اور کارنامے‘ہے، جو ان کا اردو میں تحقیقی مقالہ ہے جس پر ان کو الہ آباد یونیورسٹی کے ذریعے ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض کی گئی۔
رجب علی بیگ سرور اردو کے نامور مصنّفین میں ہیں، ادبی دنیا میں وہ فسانۂ عجائب کے مصنف، میر امن دہلوی کے ادبی حریف اور رنگین نثر کے علمبردار کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ نیر مسعود نے اردو نثر کے تاریخی ارتقا کو بنیاد بنا کر رجب علی بیگ سرور کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ پیش کیا ہے اوران کے علمی و ادبی کارناموں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ سرور کے عہدمیں ملک کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی حالات کیا تھے، ان سے پیشتر شمالی ہند میں اردو نثر کا کون سا طرز عموماً رائج تھا اور اس وقت کے ادبی پس منظر میں سرور کی تاریخی حیثیت کیا تھی، ان پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مصنف نے سرور کی تصانیف اور خطوط نویسی وغیرہ پر جامع بحث کی ہے۔ اس لحاظ سے یہ کتاب سرورشناسی کے حوالے سے اہمیت کی حامل محسوس ہوتی ہے جو 9 ابواب اور ایک تتمہ میں منقسم ہے۔ پیش لفظ ’ سید احتشام حسین ‘ نے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر نیر مسعود نے اپنے مقالے کی ابتدا میں اودھ کی تاریخ وتہذیب اور ادبی روایت کا جس انداز سے جائزہ لیا ہے اس سے سرور اور ان کی ادبی تخلیقات کی نوعیت اور زیادہ روشن ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ ‘‘2
آگے لکھتے ہیں :
’’نیر مسعود نے سرور کی افسانوی تخلیقات، تراجم، انشا اور شاعری کے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے اپنی ناقدانہ صلاحیت کا بھی بہت اچھا ثبوت پیش کیا ہے اور محض دوسروں کی رائیں لکھنے پر اکتفا نہیں کی ہے۔ بلکہ اپنے نتائج خود نکالے ہیں۔ ‘‘3
نیر مسعود کی دوسری تحقیقی کاوش ’انیس سوانح ‘ ہے، یہاں یہ جان لینا ضروری ہے کہ نیر مسعود کے والد مسعودحسن رضوی ادیب،جو اردو اور فارسی کے پروفیسر اور مایہ ناز محقق تھے، رثائی ادب اور انیس سے ذاتی دلچسپی کے باعث ا نیسیات کا اچھا خاصا ذخیرہ اپنے کتب خانے میں اکٹھا کرلیا تھا۔ نیر مسعود کو انیس شناسی کچھ تو اپنے والد سے ورثے میں ملی تھی،لیکن انھوں نے کتب خانۂ انیسیات سے زیادہ استفادہ کیا۔ انھیں خود بھی انیس، متعلقات انیس اور صنف مرثیہ سے دلچسپی تھی۔ انیس کے اتنے بڑے علمی ذخیرے میں مفید اور غیر مفید، خشک وتر ہر قسم کے مواد موجود تھے۔نیر مسعود نے ان مواد کو اصول تحقیق کی اساس پر پرکھا اور کھرے کھوٹے کو الگ کرنے کی ذمہ داری نبھائی۔
انیس کی سوانح، ایک ابتدائیہ اور 12ابواب پر مشتمل ہے۔ ان ابواب کے ذیل میں میر انیس کے گوشہ ہائے زندگی کے تمام مشمولات پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے اور خاندانی حالات کے ساتھ ا س دور میں اودھ کے تہذیبی اور سیاسی ماحول کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ انیس کے لباس وپوشاک، وضع قطع، انداز گفتگو، دلکش آواز اور شاعری کی کلاسیکی روایت سے ان کی وابستگی، شعر سے لطف اندوزی کا مخصوص انداز اور اس پر ان کی رائے کا طرز، شوخی ومزاح،خلوت وجلوت کے معمولات، ذاتی دلچسپیاں، غرض کہ اس کتاب میں سب کچھ ہے۔ اس تحقیقی سوانح کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں غیر ضروری تفصیلات سے گریز کیا گیاہے اور دوسری یہ کہ انیس کی خوبیوں اور خامیوں دونوں کو پیش نظر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔
نیر مسعود نے اس کتاب کی ضخامت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کے دو ابواب کو مستقل ایک الگ کتاب کی شکل میں شائع کیا ہے اور انھیں اس کتاب کا جز قرار دیا ہے۔ اس بارے میں کتاب کے ابتدائیہ میں رقمطراز ہیں:
’مرثیہ خوانی کا فن‘اور ’معرکہ انیس ودبیر‘ اس کتاب کے دو باب تھے جو طول کھینچ کر پونے تین سو صفحوں تک پہنچ گئے ان کی وجہ سے کتاب کا توازن بگڑ رہا تھا اس لیے یہ دونوں باب انھیں ناموں کے ساتھ دو مستقل کتابوں کی صورت میں شائع کردیے گئے ہیں اور ان کے ضروری مشتملات کو اصل کتاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔ ‘‘4
مرثیہ خوانی کے فن پر ان کی کتاب ’مرثیہ خوانی کا فن‘ جو حیات انیس کا ہی ایک حصہ ہے،اس فن پر لکھی جانے والی پہلی جامع کتاب ہے۔اس میں انھوں نے مرثیہ خوانی کے ابتدائی خدوخال، میر ضمیر، میر خلیق، مرزا دبیر اور انیس وغیرہ کی مرثیہ خوانی پر بحث کی ہے۔ انھوں نے فن مرثیہ خوانی کے عناصر اور اس کے آداب ورموز کے سلسلے میں جو مباحث پیش کیے ہیںوہ بھی کئی اعتبار سے قابل لحاظ ہیں۔ اس ضمن میں انھوں نے بیان کیا ہے کہ مرثیہ خوانی کے ابتدائی خدو خال مرثیہ خوانی سے قبل دو روایتوں سے ملتے ہیں،جن میں ایک داستان گوئی ہے اور دوسری شعر خوانی۔ اس طرح یہ کتاب مرثیہ خوانی کے فن، ارتقا،عروج وزوال اور ماہیت پر تفصیلی روشنی ڈالتی ہے۔
اس سلسلے ( انیس سوانح ) کا دوسرا حصہ معرکہ انیس ودبیر ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے معرکے، پس منظر، انیس ودبیر کے جوابی کلام، انیسیے ودبیریے، معرکے کی سنگینی اور دیر پائی اور کتابی معرکے کے ضمن میں 12 کتابوں کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے، ساتھ ہی دونوں شعرا کے کلام کی مختلف خصوصیات بھی بیان کی ہیں۔ مرزا دبیر کے مراثی میں زورِبیان، شوکتِ الفاظ،تخیل اور صنائع وبدائع کا استعمال ہے اور میر انیس کے یہاں واقعہ نگاری میں ربط وتسلسل، مضمون کی پیوستگی، جذبات نگاری اور سلاست ہے۔ اس جامع بحث سے معرکے کے خدوخال نمایاں ہوجاتے ہیں بقول ہلا ل نقوی :
’’ یہ معرکہ انیس ودبیر ایک بہت سنجیدہ فکر، معتدل مزاج،برد بار، بامروت مگر فیصلہ کن نتیجے تک پہنچنے والے محقق کی ایک گہری دستاویز ہے۔ ‘‘5
’تعبیر غالب‘نیرمسعود کی تحقیقی کتابوں میںسے ایک اہم کتاب ہے۔اس میں غالب اور ان کے متعلق مباحث پر نہایت عالمانہ بحث کی گئی ہے اور غالب کے متد اول کلام سے چند ایسے اشعار کے مفاہیم پیش کیے گئے ہیں، جن کے معنی عام قارئین کی دسترس سے باہر تھے، اس کتاب میں کل 6مضامین ہیں، جن میں سے دو ’تفہیم غالب پر ایک گفتگو‘ اور ’غالب اور مرزا رجب علی بیگ سرور‘ اپنی نوعیت کے منفرد مضامین ہیں۔
غالب کے کلام کی کئی ادیبوں نے اپنے اپنے اعتبار سے تشریح کی ہے، ان سب میں نیر مسعود نے اپنے استدلال سے الگ راہ نکالی اور اشعار کا مطالعہ کرتے وقت متقدمین کی تفسیر وتشریح کو سامنے رکھا اور پھر اتفاق یا اختلاف کیا،جس کی پہلے کے شارحین نے تائید بھی کی ہے ؎
ہر اک مکان کو ہے مکیں سے شرف اسد
مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے
اس شعر میں لفظ جنگل میں ہی اصل معنی چھپا ہوا ہے، کیونکہ عام طورپر مجنوں کے ساتھ صحرا کا لفظ آتا ہے۔ صحرا کے ساتھ سناٹے اور جمود کا تأثر پایاجاتا ہے۔ یہ اداسی کی ایک قسم ہے، لیکن جنگل میں صوت وصدا کا معاملہ رہتا ہے، ایسی صورت میں اس کا خاموش ہوجانا یااداس ہوجانا زیادہ معنی خیز ہے۔
اس تعلق سے نیر مسعود نے دوسرے شارحین سے الگ مفہوم نکالا ہے،لکھتے ہیں:
’’غالب نے سامنے کا لفظ ’صحرا‘ چھوڑ کر ’جنگل ‘ لفظ استعمال کیا ہے اور یہ شعر اسی لفظ کا متقاضی بھی ہے اس لیے کہ صحرا کے ساتھ پہلے ہی سے ایک سناٹے اور جمود کا تاثر ہونا وابستہ ہے اور یہ اداسی سے ملتا جلتا تاثر ہے برخلاف اس کے جنگل وحشی جانوروں اور ان کے ہمہمے کی دنیا ہے مجنوں کی موت پر صحرا میں اداسی پھیلنے کا ذکر صورت حال کی تبدیلی کو اتنا نمایاں نہیں کرتا جتنا جنگل کی اداسی کا ذکر۔
صحرااور جنگل میں سناٹے اور ہماہمی کا یہی فرق ذہن کو شعر کے ایک اور نکتے کی طرف منتقل کرتا ہے وہ یہ کہ آج ہم کو جو ویران صحرا نظر آرہا ہے یہ در اصل زندگی اور صوت وصدا سے معمور جنگل تھا جو مجنوں کے مرنے کے بعد سے اداس ہوکر صحر ا بن گیا ہے۔‘‘5
’یگانہ احوال وآثار‘ نیر مسعود کے مقالات کا مجموعہ ہے۔ اپنے والد کی طرح وہ بھی یگانہ کے فن کے قدردان تھے۔ ان مقالوں میں یگانہ کی شخصیت اور شاعری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے اور یگانہ کی ذہنی کج روی کو بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں یگانہ کے معرکوں اور دوسرے شعرا پر تنقید کے ساتھ ان کی تصانیف اور چند غیر معروف تحریروں پر بھی جامع اور مبسوط بحث کی گئی ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
’’یگانہ 1905میں جب لکھنؤ آئے ہیں تو ان کی عمر اکیس سال تھی اس وقت لکھنؤ میں صفی، ثاقب اور عزیز کا طوطی بول رہا تھا۔یگانہ کو وہ اہمیت نہیں ملی، جوان تینوں حضرات کو حاصل تھی اپنے معاصرین سے مخاصمت کی بظاہر یہی وجہ ہے۔1914میں جب یگانہ نے ’ نشتر یاس ‘ کے نام سے اپنا شعری مجموعہ شائع کیا تو اس کے مقدمے میں تعلی سے کام لیتے ہوئے لکھا کہ لکھنؤ کے معاصرین حال اور آئندہ نسلوں پر فرض ہے کہ یگانہ کی زبان اور اجتہادی تصرفات سے سند لیں دوسرے لفظوں میں انھوں نے ثاقب، عزیز اور دوسرے معاصرین سے مطالبہ کیا کہ وہ انھیں استاد فن تسلیم کریں۔ ‘ـ‘7
نیر مسعود کی اس کتاب کے حرف آغاز میں خلیق انجم لکھتے ہیں :
’’نیر مسعود صاحب نے بڑے سلیقے اور مستند حوالوں کے ساتھ تاریخ ادب اردو کے یہ المناک ترین واقعات بیان کیے ہیں۔یگانہ کے بارے میں ان کی معلومات ان کے ہمدردانہ اور معتدل رویے کو دیکھتے ہوئے میری فرمائش ہے کہ وہ یگانہ کی مکمل سوانح لکھیں اور ان کی ادبی خدمات کا تنقیدی جائزہ لیں۔‘‘8
’لکھنؤکاعروج وزوال‘بھی ان کی ایک اہم تاریخی کتاب ہے۔جو محض35 صفحات پر مشتمل ہے جس میں انھوں نے لکھنوی تہذیب وتمدن کے مٹتے ہوئے نقوش کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے اور سلطنت اودھ کے حکمرانوں کے احوال، واقعات، اور مشاغل نیز حکومت کے عروج وزوال کا ذکر کیا ہے۔ نیر مسعود کی یہ کتاب لکھنؤ کی مختصر اور جامع تاریخ کہی جاسکتی ہے۔
نیر مسعود کے 25 مضامین کا مجموعہ ’منتخب مضامین‘ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ جس میں تخلیقی، تحقیقی اور تنقیدی نوعیت کے مضامین ہیں اور ایک سفرنامہ ’خنک شہرایران ‘ بھی شامل ہے۔اس سفرنامہ کو نیر مسعود نے25جنوری1977کے ایران کے سفر سے واپسی کے بعد مرتب کیا تھا۔اس کتاب میں شامل تحریروں سے ان کی تحقیقی اور تنقیدی صلاحیت کے ساتھ ان کی تخلیقی استعداد کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ نیر مسعود نے میر تقی میر کے فارسی دیوان کی ترتیب و تدوین اور تصحیح کی شکل میں اہم تحقیقی مواد پیش کیا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر میر کا فارسی کلام مدون ہو جائے تو ہماری نئی نسل جو کہ فارسی سے بالکل نا بلد ہے، فارسی کی طرف متوجہ ہوگی۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عہد میر تک فارسی زبان و ادب کئی منازل طے کر چکا تھا اور بلند پایہ شعرا و ادبا فارسی میں کارہائے نمایاں انجام دے چکے تھے۔میر کی فارسی شاعری اردو شاعری کے مقابلے میں کسی قدر کم پائے کی ہے۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے فارسی کو باقاعدہ اپنی شاعری کا میدان نہیں بنایا تھا بلکہ اس کی حیثیت ثانوی ہی تھی۔ ان کے اشعار میں ’عکس میر‘ کی جلوہ گری کسی حد تک نظر آہی جاتی ہے جو ان کے ایک بڑے شاعر ہونے کی دلیل ہے۔نیر مسعود نے ان کے فارسی دیوان کی ترتیب وتدوین میں مختلف نسخوں کو سامنے رکھا ہے۔اور تحقیق و تدوین کے اصول و ضوابط کی پوری طرح پاسداری کی ہے۔
نیر مسعود نے کئی سوانحی کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں ’شفاء الدولہ کی سر گزشت‘ ایک اہم تحقیقی کاوش ہے۔ شفاء الدولہ حکیم سید افضل اودھ کے مقتدر رئیس اور جید عالم تھے۔نیر مسعود نے اس کتاب میں شفاء الدولہ کی حیات اور ان کے علمی کارناموں کا تفصیلی مطالعہ پیش کیاہے۔ان کی تصانیف کے ضمن میں چودہ کتابوں کا ذکر ہے اور ان کی سوانحی مثنوی ’عبرت مزیل وحشت‘ کو نثری قالب میں ڈھالنے کا اہم فریضہ انجام دیا ہے۔شفاء الدولہ نواب واجد علی شاہ شاہان اودھ کے مشہورومعروف حکیم بھی تھے۔لہٰذا اس مناسبت سے نیر مسعود نے شفاء الدولہ کے واقعات کے بیان میں تاریخی حقائق بھی پیش کئے ہیں جو ادب کے سرمایہ میں ایک قابل قدر اضافہ ہے۔
دوسری کتاب ’دولھاصاحب عروج‘ مونوگراف کی شکل میں ہے۔ان کا پورانام سید خورشید حسن تھا۔میر ببر علی انیس کے پوتے اور میر انیس کے بیٹے تھے۔ انھیں آخری مرثیہ خواں کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ خورشید حسن اپنے علم وفضل کی کمی کے باعث ادب میں اپنا مقام نہ بنا سکے۔لیکن اپنے مطالعہ سے اس کمی کو حتی الامکان پرــ کرنے کی کوشش کی۔اس کتاب میں نیر مسعود نے ان کی شخصیت کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔
لکھتے ہیں :
’’میر انیس کی طرح دولھا صاحب کی شخصیت بھی غیر معمولی اور دلچسپ تھی۔ میر نفیس کے سے ذی علم اور ثقہ والد کے ہوتے ہوئے بھی ان کا تقریبا ًبے تعلیم و تربیت رہ جانا اور مرثیہ گوئی کے بجائے ناچ، رنگ اور لہوولعب میں منہمک ہونا، باپ کی وفات کے بعد ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کابروئے کار آجانا،اس خیال کا عام ہونا کہ وہ عارف یا کسی اور سے مرثیہ کہلوا کر پڑھتے ہیں اور دولھا صاحب کا عارف کی وفات کے بعد ان کا حال نظم کر کے اس خیال کو باطل کر دینا،مرثیہ خوانی میں ان کا ساحرانہ کمالات دکھانا، ان سب باتوں نے ان کی زندگی ہی میںافسانوی حیثیت دے دی۔ان کی وفات کے بعد عام تاثر یہی تھا کہ مرثیے کی وہ عظیم روایت جو انیس کے عہد میں معراج کمال پر پہنچی تھی دولھا صاحب کے ساتھ ختم ہو گئی تھی۔‘‘9
مذکورہ بالا اقتباس سے عروج کی شخصیت اور ان کے متعلق غلط فہمیوں کا بھی ازالہ ہو جاتاہے۔
مذکورہ کتابوں کے مختصراً جائزہ سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ نیر مسعود ایک وسیع المطالعہ محقق اورنقاد تھے، جن کی اصولــ تحقیق وتنقید پر گہری نگاہ تھی۔ اودھ بالخصوص لکھنؤ آپ کا خاص موضوع رہا ہے، جس کی جھلکیاں جابجا ان کی تحریروں میں نظر آتی ہیں۔ تحقیق کے لیے انھوں نے بالکل سادہ زبان کا استعمال کیاہے اور اس کا طریقۂ کار مشرقی اور مغربی دونوں اصولوں پر رکھاہے۔ تحقیق میں موضوع کے ہر پہلو کو باریک بینی سے ترتیب دیاہے اور مراجع ومصاد ر میں احتساب وتوازن کی صحت مند روایت قائم کی ہے اور اپنے نتائج بھی منطقی استدلال کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ وہ ایک صاحب طرز ادیب، محقق،با ذوق سوانح نگارنقاد اور مترجم کی حیثیت سے اردو ادب میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
حواشی
1 معرکہ انیس ودبیر:نیرمسعود،ص 5، بحوالہ سہ ماہی ر ثائی ادب،کراچی،شمارہ جنوری تا مارچ2000
2 رجب علی بیگ سرور حیات اور کارنامے: نیر مسعود، پیش لفظ،ص 6
3 رجب علی بیگ سرور حیات اور کارنامے_نیر مسعود، پیش لفظ،ص 6
4 انیس سوانح : نیر مسعود،ص14
5 معرکہ انیس ودبیر:نیر مسعود، ص7
6 تعبیر غالب :نیر مسعود، ص 204
7 یگانہ احوال وآثار :نیر مسعود، حرف آغاز، ص 76
8 یگانہ احوال وآثار :نیر مسعود،حرف آغاز، ص 76
9 دولھاصاحب عروج:نیر مسعود،ص11

Saleha Asim
Research Scholar, Dept of Urdu
Jamia Milli Islamia
New Delh- 110025
Mob.: 9953116850
salehaasimm@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

شعر شور انگیز/شمس الرحمٰن فاروقی

میر کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ ان کے یہاں لہجے کا دھیماپن، نرمی اور آواز کی پستی اور ٹھہرائو ہے۔ یہ خیال اس قدر عام ہے کہ

ماحولیاتی تنقید:مسائل و امکانات،مضمون نگار:محمد اویس ملک

اردودنیا،جنوری 2026: تنقیدروایتی سے جدید اور جدید سے مابعد جدید ہوگئی لیکن پھر بھی تنقید کا منصب وہی ہے، یعنی تنقید کا مقصد آج بھی فن پاروں کا تعین قدر

مجاز کی نظموں کا صوتی آہنگ، مضمون نگار: ناز بیگم

شاعری میں ایسے پیرائے اظہار یا اسلوب کا اہتمام کرنا جو محض ادائے مطلب کے لیے ضروری نہیں بلکہ کلام میں مزید حسن و لطافت اور معنی پیدا کرے صنعت