ہندوستانی تہذیب وثقافت اورمراثی ٔ انیس کے خواتین کردار،مضمون نگار: شبیب نجمی

January 28, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،جنوری 2026:

میرانیس کا شماراردوزبان وادب کے عظیم شعرا میں ہوتا ہے۔ان کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے صنف مرثیہ کو وہ بلندی عطا کی کہ انیس اورمرثیہ ایک دوسرے کے لیے لاز م وملزوم بن گئے۔ جس طرح سودا قصیدہ گوئی میں،میرغزل گوئی میں اور میرحسن مثنوی نگاری میں بے مثل ہیں اسی طرح میرانیس مرثیہ نگاری کے بادشاہ ہیں۔میرانیس کا کمال فن یہ ہے کہ انھوں نے مرثیہ میں بہت سے نئے مضامین برت کرمرثیہ کے دامن کووسعت عطاکی۔ انیس کے مرثیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے ہندوستانی تہذیب وثقافت کو نمایاں کیا،جس کا اعتراف بیشترنقادوں نے کیا ہے۔ حالانکہ اردو مرثیہ کے تمام واقعات وکردار، عرب کی اسلامی تاریخ سے ماخوذ ہیں، ان میں ہندوستان کا کوئی پس منظر نہیں ہے۔ انیس نے ذکر تو واقعہ کربلا کا کیا ہے لیکن پس منظر کے طورپر ہندوستانی تہذیب وثقافت کو پیش کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرثیہ کو جو مقبولیت ہندوستان میں حاصل ہوئی وہ کسی دیگرملک میں حاصل نہ ہوسکی۔ میرانیس نے عرب کے کرداروں میں ہندوستانی رنگ کی آمیزش کرکے ہندوستان کے عام قاری کو اس واقعہ سے وابستہ کیا ہے۔ صالحہ عابد حسین میرانیس کے اس کمال کی طرف اس طرح اشارہ کرتی ہیں:
’’انیس نے خالص عرب کردار، خالص عربی آداب اور تہذیب اور رسم ورواج اور حفظ مراتب، عربی خاندانی زندگی کی تصویر کشی نہ کرکے حسین ؑ اور خاندان حسین ؑکے افراد میں جو ہندوستانیت پیدا کی وہ ایک ارادی کوشش تھی۔ اگرچہ مسلمانوں کے دل میں عرب حسین ؑ وزینب ؑ کے لیے اور زیادہ عقیدت واحترام پید ا ہوتا مگر ہندوستانیت یعنی اپنائیت پیدا کرکے ان کے دل میں جو گہری محبت اور لگاؤان عظیم ہستیوں سے پیدا کیا گیا وہ شاید نہ ہوسکتا۔‘‘
(میرانیس سے تعارف از صالحہ عابدحسین، ص 33)
اردو مرثیہ میں ہندوستانی تہذیب وثقافت کی عکاسی انیس سے قبل بھی کی جاتی رہی ہے لیکن انیس کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے اردو مرثیہ کو خاص طور سے ہندوستان کے ثقافتی رنگ میں رنگ کرواقعات کربلا کی فطری اجنبیت کواس طرح اپنائیت میں تبدیل کردیا ہے کہ یہ واقعات سر زمین عرب سے متعلق ہوتے ہوئے بھی خالص ہندوستانی سر زمین کے معلوم ہونے لگے ہیں اور ان کر بلائی مرثیوں میں ہندوستانی عوام کو اپنے ہی رنج وغم کا احساس ہوتا ہے۔ انیس نے اپنے عہد کے ہندوستانی سماج کی عکاسی ایسے مؤثراور فطری انداز میں کی ہے جس کے ذریعہ ہندوستانی آداب واخلاق، رسوم وروایات، عام ثقافتی اقداراور عصری ماحول کی جیتی جاگتی چلتی پھرتی تصویریں سامنے آجاتی ہیں، جس وجہ سے عام انسان کو واقعات کربلا سے ایک فطری لگاؤ پیدا ہو جاتاہے۔ مراثی انیس کا بغور مطالعہ کرنے پر ایک اور بات سامنے آتی ہے کہ ہندوستانی رنگ مرد کرداروں کے مقابلے خواتین کرداروں پرزیادہ گہرااور اثردار محسوس ہوتا ہے۔انیس نے عورتوں کے کردار اس طرح تخلیق کیے ہیں کہ ان میں ہندوستانی تہذیب رچ بس گئی ہے، خواتین کرداروں کے لب ولہجہ، رسم ورواج، گلے شکوے، جذبات نگاری شرم ولحاظ، اپنائیت کا اظہارہر احساس میں ہندوستانی تہذیب صاف طورپر محسوس کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طورپر زوجۂ حضرت عباس، جناب کبریٰ،بی بی شہربانوؐ،بی بی ربابؐ اور جناب زینب ؐ،فاطمہ صغریٰ ؐکے جذبات کی عکاسی خالص ہندوستانی انداز میں کرتے ہیں۔ زوجہ عباس ؑمیں جو ہندوستانی تہذیب کی جھلک ہے وہ بڑی فطری ہے۔دیکھیں یہ بند ؎
یہ سن کے آئی زوجۂ عباس نامور
شوہر کی سمت پہلے کنکھیوں سے کی نظر
لیں سبط مصطفی کی بلائیں بچشم تر
زینب کے گرد پھر کے یہ بولی وہ نوحہ گر
فیض آپ کا ہے اور تصدق امام کا
عزت بڑھی کنیز کی اوررتبہ غلام کا
باتیں یہ سن کے روتی ہیں زینب جھکا ئے سر
تھرا رہی ہے زوجۂ عباس نام ور
چہرہ توفق ہے،گودمیں ہے چاندسا پسر
مانع ہے، شرم روتی ہے منہ پھیر پھیر کر
موقع نہ روکنے کا ہے،نہ بول سکتی ہے
حضرت کے منہ کو نرگسی آنکھوں سے تکتی ہے
اپنے بزرگوں کی موجودگی میں شوہر کوکنکھیوں سے دیکھنا، دور سے ہی نم آنکھوں سے بلائیں لینا،شوہریعنی حضرت عباسؑ کو امام کا غلام اور خود کو کنیز کہنا، بزرگوں کی پاسداری میں اپنے جذبات کودبائے رہنا،شرم وحیایہ سب ایک مخصوص سماجی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ ظاہر ہے ایسی فنکاری برتنے میں میرانیس کو اپنے تخیل کی پرواز کوبہت بلند کرنا پڑا ہوگا جب ہی تو اس میں وہ رنگ آیا کہ اسے ہم اپنی سر زمین سے جوڑکر دیکھنے لگے،اس پر گریہ کرنے لگے او رہم نے اسے حق وباطل کے طورپر تسلیم کیا۔
حضرت علی اکبر ؑکی ماں تو ام لیلیٰ ؐ تھیں لیکن ان کی پرورش ان کی پھوپھی جناب زینب ؐ نے کی تھی کیونکہ حضرت علی اکبر ؑامام حسین ؑ کے نانا کی شبیہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حضرت علی اکبر ؑ امام حسین ؑ سے میدان میں جانے کی اجازت مانگتے ہیں تواما م کہتے ہیں کہ تم اپنی پھوپھی سے اجاز ت طلب کرو۔ میرانیس پورے واقعہ کومانوس فضامیں اس طرح بیان کرتے ہیں ؎
زندوں میں ہوتی گر تو یہ کہتی کہ مرنے جائیں
اس پیاس میں شہید ہوں فاقوں میں زخم کھائیں
اٹھارہواں برس ہے،دلہن تو مجھے دکھائیں
پالا ہے منتوں سے مرادیں مری بر آئیں
مرتی ہوں اشتیاق میں،سہرا تو دیکھ لوں
سہرے کے نیچے چاند سا چہرا تو دیکھ لوں
سچ ہے کہ اس کی چاہ سے نسبت مجھے کہاں

ہوں لاکھ ان کی چاہنے والی،وہ پھر ہے ماں
آنکھوں کا نور قلب کی طاقت،بدن کی جاں
آنچ آتما کی ہے وہ قیامت کہ الا اماں
کیا سوچتے ہو صاحبو،کچھ تم کوخیر ہے
ماں ہے تو ماں ہے خلق میں،پھر غیرغیر ہے
ایک عرب کی خاتون سے اس طرح کے جملہ اداکرانا انیس کا ہی خاصہ ہے،یہ بند ہندوستانی سماج کی فضا بندی کے آئینہ دار ہیں۔’آنچ آتماکی ہے‘ ‘اس طرح کے جملے ایک ہندوستانی خاتون کے منہ سے ہی نکل سکتے ہیں۔اسی طرح ایک اور بند ملاحظہ ہو،جس میں میرانیس گل پہ بلبل کے فدا ہونے کی بات کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں ؎
ماں کی نہ کم توجہی او ر یہ کسی کا پیار
غصہ ہو یا کہ سخت کہے،دل میں ہے نثار
بلبل فدا ہے گل پہ،شکایت کرے ہزار
دنیا میں عاشقوں کے دلوں کو کہاں قرار
دیں ماں کا ساتھ،نام خدا اب جوان ہیں
میرا ہے جب یہ حال،پھر اس کی تو جان ہیں
میرانیس نے جناب زینبؑ کی زبان سے جو یہ مکالمات ادا کرائے ہیں یہ بھی ایک ہندوستانی عورت کے جذبات ہیں۔جو ہندوستان کے سامعین کے لیے مؤثر ثابت ہوتے ہیں اور غم کی فضا اور بہتر طریقہ سے تیار ہوتی ہے کیونکہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنی مانوس فضا کا اـثر زیادہ لیتا ہے۔ہندوستانی تہذیب کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ جب کوئی بڑا غم پڑتا ہے تو خواتین کودیکھا گیا ہے کہ وہ فرط غم میں اپنے سر کے بال کھول لیتی ہیں۔میر انیس نے کربلا کی خواتین کے غم کا ذکر کرتے ہوئے اکثر کھلے ہوئے سر کے بالوں کا ذکر کیا ہے جو خالص ہندوستانی سرزمین کی جھلک ہے،اس سلسلے میں مثال کے طورپر چند بند رقم کیے جارہے ہیں ؎
زینبؑ بلک رہی تھی،پریشاں تھے سر کے بال
نعلین کا نہ ہوش، نہ چادر کا تھا خیال
سینہ کبود، چاک گریباں، شکستہ حال
کہتی تھی مجھ پر رحم کر، اے فاطمہ ؑکے لال
پوچھے گا کون، ساتھ چھٹے گا جو آپ کا
نے ماں کا آسرا ہے مجھے، اب نہ باپ کا
نکلا یہ سب کے منہ سے کہ ہے ہے حسن ؑ کے لال
زینب نے اٹھ کے کھول دئے اپنے سر کے بال
سینے میں ہل گیا دل بانوئے خوش خصال
چلائی ماں، گزر یا کیا میرا نونہال
عابد کا تپ میں گرم بدن سرد ہوگیا
قاسم کے چھوٹے بھائی کا بدن سرد ہوگیا
اسی طرح کئی مرثیوں میں میرانیس نے بال کھول کرکربلا کی خواتین کے گریہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔ حالانکہ کربلا کی خواتین کے بارے میں بال کھول کر گریہ کرنے کا تصوربھی نہیں کیا جاسکتا۔ انیس نے مرثیہ کو مؤثر بنانے اور ہندوستان کی سر زمین پر مرثیہ کو پیش کرنے کے لیے ہی ایسا کیاہے۔
میدانِ کربلا میں حق و باطل کی جنگ آخری مرحلے میں ہے۔ امام حسین ؑ کے اعزاواقارب سب جام شہادت نوش فرما چکے ہیںاب امام حسین ؑ رخصت آخر کو بیبیوں کے خیمے میں تشریف لائے ہیں،بہن زینب ؑ دیکھتی ہیںاب بھائی کے بچنے کی کوئی تدبیر نہیں۔ انیس جناب زینبؑ کے جذبات کو اس طرح بیان کرتے ہیں ؎
خیمے میں جا کے شہ نے یہ دیکھا حرم کا حال
چہرے تو فق ہیں اور کھلے ہیں سروں کے بال
زینب ؐ کی یہ دعا ہے کہ اے رب ذوالجلال
بچ جائے اس فساد سے خیرالنسا ء کا لال
بانوئے نیک نام کی کھیتی ہری رہے
صندل سے مانگ بچوںسے گودی بھری رہے
اس بند میںواضح طور پر ہندوستانی خواتین کے احساسات وجذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔صندل سے مانگ بھرنا ہندوستانی خواتین کا طریقہ ہے۔زرعی ملک ہندوستان میں کھیتی ہری رہنے کی جو دعا ہے اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں۔ میرانیس ہندوستان کی سرزمین کے پروردہ تھے اور ہندوستان کے خاص طورپر اودھ کے طور طریقوںسے اچھی طرح واقف تھے۔یہی وجہ ہے کہ انھوںنے ہندوستانی تہذیب وثقافت کو مرثیہ میں پیش کیا۔ ہندوستانی طرز فکرکے بجائے عرب خواتین کے طور طریقوں کو یہاں بیان کیا جاتا تو مرثیہ کی فضا ہندوستانی قاری کے جذبات کواس طرح متاثر نہیں کرتی۔ امام حسینؑ کے جوان بیٹے حضرت علی اکبرؑ کی شہادت کے یہ بند ملاحظہ ہوں ؎
ڈیوڑھی پہ لائے لاش پسر کی جو شاہ دیں
باہر نکل کے بیبیاں سر پیٹنے لگیں
زینب ؑ کو یوں پکارا وہ زہراؑ کا نازنیں
دوڑو بہن کہ قتل ہوا اکبرؑ حزیں
دولہا بنے ہیںخون کی مہندی لگائے ہیں
سہرا تمھیں دکھانے کو مقتل سے آئے ہیں
ہے ہے نہ تیرا بیاہ رچانا ہوا نصیب
ہے ہے دلہن نہ بیاہ کے لانا ہوا نصیب
پوتے کو گود میںنہ کھلانا ہوا نصیب
شادی کے بدلے خاک اڑانا ہوا نصیب
ندی لہو کی چاندسی چھاتی سے بہہ گئی
بہنوں کو نیگ لینے کی حسرت ہی رہ گئی
نیگ لینے کی رسم بھی خالص ہندوستانی تہذیب کا حصہ ہے، اور جس طرح ایک جوان کی لاش پر خواتین کے بین رقم کیے ہیںیہ بھی ہندوستانی لب و لہجہ ہے۔انیس نے مرثیہ کوپر اثر بنانے، تصویر کو واضح کرنے اور جذبات کی دنیامیں بے چینی پیدا کرنے کے لیے ان رسومات اور لب ولہجہ کو سمویا ہے۔ وہ اس بات سے اچھی طرح واقف تھے کہ انسان اپنی مانوس فضا کو پسند کرتا ہے اسی لیے انھوں نے ہندوستانی پس منظر میںواقعہ کربلا کو نظم کیا۔ ہندوستان ایسا ملک ہے جہاں پیدائش سے لے کر موت تک بہت سی رسمیںرائج ہیں اور یہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا اٹوٹ حصہ بھی ہیں۔حضرت قاسم ؑ کی شادی کے موقع پر رسومات کا ذکرمرثیوں میں تفصیل سے ملتا ہے۔ نیگ، لگن، کنگنا، سہرا، منڈپ، مہندی، گھونگھٹ، رنڈسالہ اور سفید چادر وغیرہ۔یہ اشعار دیکھیے ؎
بہن یں کدھرہیںڈالنے آنچل بنے پہ آئیں
اب دیر کیا ہے حجرے سے باہر دلہن کو لائیں
رخصت ہوںجلد تا کہ براتی بھی چین پائیں
جاگے ہیں ساری رات کے اپنے گھروںکو جائیں
دل پر سہے فراق کی شمشیر تیز کو
کہو دلہن کی نکالے جہیز کو
بھائی کے سرپربہنوں کا آنچل ڈالنا، نیگ لینا، دہلی گھیرنا اور رنڈاپے کا جوڑا یہ سب ہندوستانی رسمیں ہیں جس کو انیس نے مرثیہ کے قالب میںڈھال کر مرثیہ کو پرسوز بنا دیا ہے۔ میرانیس کے مرثیوں کا مطالعہ کرنے پرواضح ہوتا ہے کہ میرانیس ہندوستانی عورت کی نفسیات سے اچھی طرح واقف ہیںاور اس بات کا بھی اچھی طرح اندازہ ہے کہ خوشی اور غم کے موقع پر جو رسومات ہمارے سماج میں رائج ہیں،وہ سب خواتین کی ہی دین ہیں، مردوں کو تو اس کا دور دور تک علم نہیں ہوتا۔کچھ خواتین تو رسومات کو اس طرح رائج کردیتی ہیں کہ یہ رسمیں تقریبات کے وقت نسل در نسل چلتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ جہاں پر بھی رسومات کا ذکر آیا ہے، میرانیس نے عورتوں کے برتاؤ کے ذریعہ ہی ہندوستانی رسومات کو پیش کیا ہے۔ میرانیس کے مرثیوں میں امام حسن ؑکے فرزند حضرت قاسم ؑ کی شہادت کا تذکرہ دردناک انداز میں ملتا ہے اور اکثرو بیشتر مراثی کو مؤثر بنانے کے لیے حضرت قاسم ؑکی شادی کا ذکر کیاجاتا ہے،شادی کا ذکر کرتے ہوئے ان ہی رسومات کاذکر کیا جاتاہے جو ہندوستان میں رائج ہیں۔ جو چیزیں ہندوستانی دلہن کے لیے ضروری سمجھی جاتی ہیں،انیس نے ان چیزوں کا ذکر ہی کیا ہے اور جب کسی خاتون کا سہاگ اجڑتا ہے تو اس کی کیا کیفیت ہوتی ہے اس کو میرانیس نے مؤثر طریقہ سے بیان کیا ہے۔ حضرت قاسم ؑ کی لاش جب خیمے میںآتی ہے تو ان کی دلہن جناب کبریٰ کی کیا حالت ہوتی ہے اس منظر کوانیس نے اس طرح بیان کیا ہے ؎
ناگاہ لاش صحن تک آئی لہو میں تر
پیٹے جو سب، عروس کو بھی ہو گئی خبر
تھا سامنا کہ لاش پہ بھی جا پڑی نظر
گھبرا کے تب سکینہ سے بولی وہ نوحہ گر
دولہا کی لاش آتی ہے سہرے کو توڑ دو
مسند الٹ دوحجرے کے پردے کو چھوڑ دو
یہ کہہ کے نوچنے لگی سہرا وہ سوگوار
افشاں چھڑا کے خاک ملی منہ پہ چندبار
کہنے لگی لپٹ کے سکینہ جگر فگار
ہے ہے بہن بڑھاؤ نہ سہرے کو میں نثار
وہ کہتی تھی کہ جاگ کے تقدیر سو گئی
بی بی !نہ پکڑو ہاتھ کہ میں رانڈ ہوگئی
اس بند میں،جو ایک شب کے دولہا کی درد ناک موت کا واقعہ اور دلہن کی غم کی کیفیت کو پیش کیا گیاہے۔ یہ سامعین کے دلوں پر سیدھا اثر کرتی ہے کیونکہ یہاں پر ہندوستانی طرز کو اپنایا ہے اور افشاں چھڑا کر منہ پر خاک کا منظر پیش کیا ہے۔ یہ ہندوستان کے ہی ایک طبقہ کی رسم ہے، جس کوانیس نے چابکدستی سے واقعۂ کربلا کے ساتھ جوڑدیا ہے۔اسی طرح اسی مرثیہ میں سفید چادر اوڑھانے کی بات کی ہے جو آج بھی ہندوستان میں ایک بیوہ عورت کواوڑھائی جاتی ہے ؎
حضرت یہ کہہ کے ہٹ گئے باچشم اشک بار
پیٹی یہ سر کہ غش ہوئی بانوئے دل فگار
چادر سپید اڑھا کے دلہن کو بحال زار
گودی میں لائی زینب غمگین و سوگوار
چلائی ماں یہ گر کے تن پاش پاش پر
قاسم بنے اٹھو دلہن آئی ہے لاش پر
جناب صغریٰؐ امام حسین ؑکی بیٹی تھیں اور جب قافلہ مدینے سے روانہ ہوا تھا توجناب صغریٰ اپنی بیماری کی وجہ سے ساتھ میں نہیں آئی تھیں۔ اس واقعہ کومیرانیس نے بہت سے مرثیوں میں بیان کیا ہے۔رخصت کے وقت جو باتیں جناب صغریٰ ؐ کی زبان سے ادا کی گئی ہیں، ان کا گہرا تعلق بھی ہندوستانی ثقافت سے ہے۔ ایک بہن کی تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے سر پر سہرا دیکھے۔ بھائی کے جانے کی خبر سن کر صغریٰ حضرت علی اکبر ؑسے منت کرتی ہیں۔ میرانیس جناب صغریٰ کے جذبات کی عکاسی اس طرح کرتے ہیں ؎
رخساروں پہ سبزے کے نکلنے کے میں صدقے
تلوار لیے شان سے چلنے کے میں صدقے
افسوس سے ان ہاتھوں کو ملنے کے میں صدقے
کیوں روتے ہو، اشک آنکھوں سے ڈھلنے کے میں صدقے
جلد آن کے بہنا کی خبر لیجو بھائی
بے میرے کہیں بیاہ نہ کر لیجوبھائی
لکھنا مجھے، نسبت کا اگر ہو کہیں ساماں
حق دار ہوں میںن یگ کی میرا بھی رہے دھیاں
اور مرگئی پیچھے تورہے دل میں سب ارماں
لے آنا دلہن کومری تربت پہ میںقرباں
خوشنود مری روح کو کردیجیوبھائی
حق نیگ کا تم قبر پہ دھر دیجیوبھائی
یہاں پر میرانیس نے ایک بہن کے نیگ لینے کی بات کرکے خالص ہندوستانی رسم کو بیان کیاہے اور مرثیہ کوپوری معنویت کے ساتھ پیش کیاہے،جس طرح نیگ لینے کی ہندوستانی رسم ہے اسی طرح کنگنا کھیلنے کی رسم ہندوستان میں آج بھی رائج ہے۔ میرانیس نے اس رسم کو واقعۂ کربلا کے پس منظر میںاس طرح بیان کیا ہے ؎
دم بدم ساس بھی سر پیٹتی ہے ساتھ اس کے
ابھی کنگنا نہ کھلا تھا کہ بندھے ہاتھ اس کے
اسی طرح ’کلیات انیس‘کے پہلے مرثیہ ’یارب! چمن نظم کو گلزار ارم کر‘ میں بہت سی ہندوستانی رسومات کا تذکرہ ملتا ہے، اس مرثیہ میں انیس نے امام حسین ؑ کی ولادت سے لے کرشہادت تک کا ذکر کیا ہے۔ امام حسین ؑ کی ولادت کے وقت کس طرح سب خوشیاںمنا رہے ہیںکہ جبرئیل ؑ امین نازل ہوتے ہیں اورامام حسین ؑ پر پڑنے والے مصائب کی خبر رسول خداؐ کودیتے ہیں۔ جب امام حسین ؑپر پڑنے والے مصائب کے بارے میںبی بی فاطمہ زہرا ؐ سنتی ہیں تو ان کا غم سے برا حال ہوجاتا ہے۔ میرانیس نے ایک ماںکی کیفیت کواس طرح پیش کیا ہے کہ سننے اور پڑنے والے کے دل پر بہت اثر ہوتا ہے ؎
بیٹی کو یہ معلوم نہ تھا یا شہ عالم
بچھے گی زچہ خانے کے اندر صف ماتم
اب دن ہے چھٹی کا مجھے عاشور محرم
تارے بھی نہ دیکھے تھے کہ ٹوٹا فلک غم
پوشاک نہ بدلوںگی نہ سر دھوؤںگی بابا
چلے میں بھی چہلم کی طرح روؤںگی بابا
اس بند میں جہاں انیس نے بی بی فاطمہ ؑ کے غم کا بیان کرکے مرثیہ کو پر سوز بنا یا ہے وہیں چھٹی،چلے اور تاروںکا دیکھنا جیسے الفاظ برت کر اس کو ہندوستانی رنگ دیا ہے جس سے سر زمین ہندوستان کے سامعین کے لیے یہ مرثیہ اور مؤثر ہوجاتا ہے۔ اپنے موضوع کومزید واضح کرنے کے لیے مراثی ٔ انیس سے چند مصرعے مثال کے طور پر درج کیے جا رہے ہیں جس میں ہندوستانی رسم ورواج کو بیان کیا گیا ہے ؎
اب سالی کس کے ہاتھ میں مہندی لگائے گی
شاہد رہیں سب دودھ بھی بخشا نہیں میں نے
مہندی تمھارا لال ملے ہاتھ پاؤں میں
لاؤدلہن کو بیاہ کے تاروںکی چھاؤںمیں
کنگنا بندھا تھا ہاتھ میںاس خوش صفات کے
سہرے سے یہ عیاں تھا کہ دولہا ہیں رات کے
بہنوں کے نیگ لینے کی حسرت،صندل سے مانگ اور بچوں سے گود بھری رہنے کی دعا،دلہن کے ہاتھوں کی مہندی، دودھ بخشنا خالص ہندوستانی رسمیں ہیں جس کو میر انیس نے بڑی مہارت سے مرثیہ میں پیش کیا ہے۔ یہ انیس کا کمال فن ہی تو ہے کہ انھوں نے مرثیہ میں ہندوستانی فضا کو اس طرح سمویا ہے کہ چودہ سوسال قبل کا واقعہ موجودہ دورکی داستان لگتا ہے اوراس کی فضا ہمارے سماج کی فضا معلوم ہوتی ہے،جس سے قاری یا سامع اس واقعہ سے خود کو وابستہ محسوس کرنے لگتا ہے اورعرب کا پس منظرہندوستانی سماج و معاشر ت اور تہذیب میںڈھل جاتا ہے اور پھر اپنے ایک منفرد رنگ میںنمایا ںہوتا ہے۔
میرانیس کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوںنے جہاں مرثیہ میںہندوستانی تہذیب وثقافت کو خوبصورتی سے پرویا ہے اور ہندوستانی رسومات کا ذکرکرتے ہوئے خواتین کے جذبات کی فنی حسن کے ساتھ ترجمانی کی ہے، وہیںانھوںنے خواتین کربلاکے عز م وحوصلہ اور قربانی کے جذبہ کو خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔عورت جس کو کمزور دل کا کہا جاتا ہے، وہیںانیس نے عورت کے ہمت وحوصلہ کو بڑے سلیقے سے پیش کیا ہے اور ایک ایک عورت کی نفسیات کو مرثیہ کے قالب میںڈھالا ہے۔مراثی ٔانیس کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون کے لیے میرانیس کے دل میںجو جذبہ ہے وہ بہت اعلیٰ ہے۔اس بارے میںصالحہ عابد حسین کا کہنا ہے:
’’میرانیس کے کلام سے جس میں سیکڑوںمرثیے اور لاکھوںاشعار ہیںہمیںاندازہ ہوتا ہے کہ ان کی نظر میںعورت کا در جہ بہت بلند ہے۔ عام طورپر وہ عورت کو محبت کی دیوی، حیاکی کان،ایمان کی جان،شرافت ونیکی کی تصویر،قربانی وایثار کی مورتی سمجھتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ انھیں عورت میں بے خوفی، جرأت، ہمت، عزم وحوصلہ اور استقلال اور بہادری کے جوہر بھی نظر آتے ہیں۔جو اصول وحق کے لیے بڑے سے بڑے پہاڑسے ٹکر لے سکتی ہے۔جان اور جان سے زیادہ عزیز شے قربان کر سکتی ہے۔اور ان کا یہ عقیدہ صرف خاندان نبوت کی عورتوں اور اہل بیت امام حسین ؑ تک محدود نہیںبلکہ وہ عام عورتوںیہاںتک کہ امام حسینؑ کے دشمنوںکی عورتوںمیںبھی عالیٰ ظرفی اور ایمان وشرافت کی جھلک دیکھ سکتے ہیں۔یہی وجہ کہ انیس کے لکھے ہزاروںصفحات کھنگال ڈالیے مگر کہیںآپ کوظالم نفس پرست، بد عقیدہ،حرص وحوس کی غلام عورت نظر نہیں آئے گی۔اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیںکہ انیس کی ماںبیوی اور خاندان کی دوسری عورتیںبلند کرداراور مضبوط شخصیت کی مالک ہوںگی۔‘‘
(خواتین کربلا کلام انیس کے آئینہ میں از صالحہ عابد حسین، ص 5،6)
اگر واقعۂ کربلا کا مطالعہ کیا جائے تو اس میںسب سے اہم اورمرکزی کردار جناب زینب ؑ کا نظر آتا ہے اور انیس کا کمال فن یہ ہے کہ انھوںنے جناب زینب ؑ کے کردارکے مختلف پہلوؤںکو مرثیوںمیںپیش کیا ہے۔جناب زینب ؑ ہمت وحوصلہ،شجاعت اور حق گوئی کا مظہر ہیں۔ ایک خاتون کوجہاںسارے رشتہ عزیز ہوتے ہیں، وہیںجب وہ ماںبنتی ہے تو اس کو سب سے زیا دہ اپنی اولادسے محبت ہونے لگتی ہے کیونکہ اولاد عورت کے وجود کا حصہ ہوتی ہے اور وہ اپنی اولادکی ہر طرح سے حفاظت کرتی ہے اس کے پروان چڑھنے کی دعائیں کرتی ہے، ماںاپنی اولاد پر اپنی ہر خوشی قربان کردیتی ہے یہاںتک کہ وقت پڑنے پر اپنی جان بھی قربان کردیتی ہے۔لیکن یہ کربلا کی مائیںہیںجو حق کے لیے راہ خدامیںنہ صرف اپنے بیٹوںکوبھی قربان کردیتی ہیںبلکہ ان کو میدان جنگ میںجانے کے لیے پورے عزم کے ساتھ تیار کرتی ہیں ؎
صدقے گئی سن لو یہ میںکہتی ہوںجتا کر
تم پہلے فدا کیجیو سر شہ کے قدم پر
میدان میںزخمی ہوئے گر قاسم ؑواکبرؑ
پھرتم مرے فرزند نہ میںدونوںکی مادر
جب دل ہوا ناراض توفرزند کہاںکے
کس کام کا وہ لعل جو کام آئے نہ ماں کے
اعدا کو مرے دودھ کی تاثیر دکھا دو
اجلال حسن ؑشوکت شبیر ؑدکھادو
جعفر کی طرح جوہر شمشیر دکھا دو
تن تن کے یداللہ کی تصویر دکھا دو
خورشید امامت میںقرابت میںقریںہو
تم شیر ہوشیروںکے حسینوںکے حسیں ہو
جعفر سے نمودار ہوکے دلبر ہودلیرو
حیدر ؑسے دلاور کے، دلاور ہو دلیرو
جرار ہو، کرار ہو، صفدر ہو دلیرو
ضرغام ہو، ضیغم ہو، غضنفر ہو دلیرو
تیروں سے جوانوںکے جگر توڑکے آؤ
خیبر کی طرح کوفے کا در توڑکے آؤ
یہاںپرقابل غوربات یہ ہے کہ جناب زینب ؑ ایک ماں ہوتے ہوئے اپنے بچوںکا حوصلہ بڑھا رہی ہیںاور ان کو جنگ کے لیے آمادہ کررہی ہیںساتھ ہی یہ بھی درس دے رہی ہیںکہ قاسم ؑ واکبر ؑ سے پہلے تم اپنی قربانی پیش کرنا نہیںتویہ ماںتم سے ناراض ہو جائے گی۔
جناب زینب ؑ تاریخ کربلا کی ایسی عظیم خاتون ہیں جو تمام مصائب سہنے کے باوجود مقصد حسین ؑ سے پیچھے نہیںہٹتیں اور اگر یہ کہا جائے کہ آج کربلا زندہ ہے تو اس میں جناب زینب ؑ کا اہم کردار ہے، توغلط نہ ہوگا۔ دربار یزید میںانھوںنے علی ؑکے لہجے میںخطبہ دے کرعزم وحوصلہ کا ثبوت دیا۔جب قافلہ دربار یزید میںپہنچا تو یزیدنے خاندان زہرا ؑکے بارے میں گستاخی کی۔ اپنے آباؤ اجداد کے جھوٹے قصیدے پڑھنے لگا اور سر حسین ؑ سے بھی شرارت کی۔یہ دیکھ کر زینب ؑکو جلال آگیا اور ا نھوں نے دشمنوں کو بے باکی سے للکارا۔ انیس جناب زینب ؑ کے ہمت وحوصلہ کو اس طرح بیان کرتے ہیں ؎
سن کے یہ آگیا بنت شہ مرداں کو جلال
تھرتھرا کر کہا، کیا بکتا ہے او بداقبال
صاحب عزت و توقیر محمدؐ کی ہے آل
کبھی ہم لوگوں کی عزت پہ نہ آئے گا زوال
ہم کو بے قدرجو سمجھا تو خطا کرتا ہے
دیکھ مصحف میںخدا کس کی ثنا کرتا ہے
آل احمد ؐ کو حقارت سے نہ دیکھ او مقہور
سب پہ روشن ہے کہ ہم لوگ ہیںاللہ کا نور
مارکر سبط پیمبرؐ کویہ نخوت،یہ غرور
خیر!ہم دور،نہ تو دور،نہ محشر ہے دور
حق کا دریائے غضب جوش میںجب آئے گا
باندھنا ہاتھ کا سادات کے کھل جائے گا
کہہ کے یہ،غیظ میںآئی جو علی ؑ کی جائی
آسماں آگئے جنبش میں،زمیںتھرائی
سر شبیر ؑسے ناگاہ صدا یہ آئی
تھام لے غیظ کوزینبؑ،ترے صدقے بھائی
نہ تلاطم میں کہیں قہر الٰہی آجائے
کہیں امت کی نہ کشتی پر تباہی آجائے
میرانیس کے مراثی میںاس طرح کی بہت سی مثالیںملتی ہیں جس میںجناب زینب ؑ نے باطل کے سامنے کہیں پر بھی سرنہیںجھکایا ہے اور تمام مصائب کے باوجود حق کے راستے سے ان کے قدم کہیںبھی نہیںڈگمگائے ہیں بلکہ اپنے ہمت و حوصلہ کا مظاہرہ کرکے دشمنوں کو للکارنے کا کام کیا ہے۔
میرانیس نے اپنے مرثیوں میں جہاں خاندان رسالت کی بہوؤں اور بیٹیوں کے ہمت وحوصلہ کا ذکر کیا ہے وہیں اس خاندان کی کنیزوں کے حوصلہ کی بھی داد دی ہے۔ انھوں امام حسین ؑ کی کنیز شیریں کا ذکر بھی کیا ہے اور ہندہ کے حوصلہ کو بھی بیان کیا ہے۔ روایت میں ملتا ہے کہ ہندہ خاندان امام حسینؑ کی کنیز رہ چکی تھی یہی وجہ ہے کہ اسے خاندان اہل بیت سے عقیدت تھی۔ ہندہ بہت خوبصورت تھی اسی لیے یزید نے اس سے عقد کیا تھا۔ہندہ یزید کی زوجہ ضرورتھی لیکن خاندان اہل بیت سے اس کی محبت ومودت کم نہیں ہوئی تھی۔ میر انیس نے ہندہ کے کردار کو اپنے مرثیے میں خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔امام حسین ؑ کی شہادت کے بعد قافلہ قید کیا جاتا ہے اورجب ہندہ کو علم ہوتا ہے تواس کی راتوں کی نیند بھوک اور پیاس سب اڑجاتی ہے اور وہ مزیدغم زدہ ہوجاتی ہے۔جب یزیداس سے دریافت کرتا ہے تو وہ اس سے ڈرتی نہیں بلکہ طیش میں آجاتی ہے۔ میرانیس ہندہ کی اس کیفیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں ؎
ہے ظلم وستم کا ترے عہد میں رواج
اپنے جگر کے زخم کا میں کیا کروں علاج
تجھ کو تو عید ہے مجھے صدمے گزرتے ہیں
یہ کون ہیں جو راتوں کو فریاد کرتے ہیں
کھانے کو میں نہ ہاتھ لگاؤں گی کیسی بھوک
اٹھتی ہے باربارکلیجے میں میرے ہوک
یہ بی کسوں پہ ظلم غریبوں سے یہ سلوک
ان کے بغیر مجھ پہ یہ کھانا ہے مثل خوک
یہاں پر میرانیس نے ہندہ کی شکل میں ایک باہمت خاتون کا کردار پیش کیا ہے جوحق پرستوں کے لیے اپنے جابر وظالم شوہر کو للکارتی ہے۔ایک عورت کا اپنے شوہر کے لیے دلیری اور بے خوفی سے مطاہرہ کرنا آسان کام نہیں ہے لیکن میرانیس نے اپنے کرداروں کی تعمیر ایسے کی ہے کہ وہ اپنے نفس پر قابو پاکر حق کے راستے کومنتخب کرتی ہیں اور پھر وہ ہر طرح س سے ثابت قدم رہتی ہیں۔
مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ میرانیس نے خواتین کرداروں کی ایسی عکاسی کی ہے کہ ایک طرف تو خواتین کربلا کا ہمارے ذہن میں مرتبہ بہت اعلیٰ ہوجاتا ہے دوسری طرف یہ کردار آج کے معاشرے کی خواتین کے لیے نمونہ ٔ عمل بھی ہیں۔

مآخد
1 کلیات انیس: مرتب رانا خضر سلطان،ناشر بک ٹاک لاہور ،2006
2 انیس اور انیس شناس۔مرتبہ حسن مثنیٰ،ایلیا پبلے کیشنز، گوپال پور،سیوان بہار،2013
3 خواتین کربلا کلام انیس کے آئینہ میں از صالحہ عابد حسین مکتبہ جامعہ دہلی
4 سانحۂ کربلا بطور شعری استعارہ اردو شاعری کا ایک تخلیقی رجحان: پروفیسر گوپی چند نارنگ، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی،1
5 اودھ میںاردو مرثیہ کا ارتقا از ڈاکٹر اکبر حیدری کشمیری، نظامی پریس لکھنؤ،دسمبر 1981
6 میرانیس سے تعارف از صالحہ عابد حسین،مکتبہ جامعہ دہلی 2011

Shabeeb Najmi
Shabeeb Computers
Husainabad, Haidery Chowk, Kamptee
Dist. Nagpur- 441001 (Maharashtra)
Mob.: 9156488272

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ولی کی زبان/عبدالستار صدیقی

عبدالستار صدیقی زبان ہمیشہ بدلتی رہتی ہے لفظوں کی جو صورتیں، جو ترکیبیں آج سے سو پچاس برس اُدھر عام تھیں، آج ان میں سے بہت سی ایسی ہیں کہ

اردو شاعری میں برسات مضمون: عمرانہ خاتون

   اُردو شاعری میں دیگر موضوعات کے علاوہ موسم برسات کے موضوع پر بھی شاعروں نے اظہارِ خیال کرکے اپنی فنّی دسترس اور تخلیقی قوتوں کا ثبوت فراہم کیا ہے۔

قاضی سجاد حسین اور دیوانِ حافظ کا اردو ترجمہ،مضمون نگار: فیصل نذیر

اردو دنیا،دسمبر 2025: جب ہم فارسی ادب،شاعری اور ان کے تراجم کی بات کرتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے ذہن میں جن کتابوں کے نام آتے ہیں ان میں