اردودنیا،جنوری 2026:
دھرمیندرکا فلمی سفر بھی سندباد جہازی کی داستانوں سے کم دلچسپ اور تجسس آمیز نہیں ہے۔کہاں پنجاب کا ایک دور افتادہ گاؤں سانہوال اور کہاں بمبئی کی چمک دمک بھری دنیا۔ لیکن ناظرین کے دلوں پر حکمرانی کرنے کے باوجود دھرمیندر کبھی فلمی چکا چوند میں کھو کر رہ نہیں گئے بلکہ صارفیت پرست دنیا میںانھوں نے ہر ایک سے پیار، محبت، دوستی، ہمدردی،وفاداری اور رواداری کا رشتہ بنایا اور نبھایا۔دلیپ کمار کے تو وہ ایسے دیوانے اور گرویدہ تھے کہ بچپن میں ان کو فلمی پردے پر دیکھ کر ان کے حسن و جمال اورفن کاری و اداکاری پر ایسے فریفتہ ہوگئے کہ ان ہی کے جیسا ہی فنکار بننے کی ٹھان لی اور من ہی من میں اداکاری کے گُرسیکھنے کے لیے دلیپ کمار کو فلم ایکٹنگ کادرونا چاریہ مان کر ایکلویہ کی طرح ایکٹنگ کی مشق کرنے لگے۔ دلیپ کمار سے نہ صرف انھوں نے فن کاری کے جوہر سیکھے بلکہ نہایت پر کشش اور پر لطف گفتگو اور بات چیت کا سلیقہ بھی سیکھا۔ دھرمیندر بات چیت کے دوران ایسی نفیس، شائستہ اور شبنم سے دھلی ہوئی اردو بولتے تھے کہ سننے اور دیکھنے والا دم بہ خود رہ جاتا۔ ایک فن کار کے طور پر ان کا مزاج عاشقانہ اور شاعرانہ تھا چونکہ وہ ایک شاعرانہ طبیعت رکھتے تھے اس لیے اپنی باتیں اکثر و بیشتر شعری پیرائے میں کہتے تھے۔ ہر چند ان کے شاعرانہ بیان میں خوبصورت، بامعنی اور مترنم الفاظ ہوتے تھے لیکن ردیف اور قافیے کی قید سے آزاد ہوتے تھے۔ اپنے تمام انٹر ویو ز میں ہر ایک موقع پر شہنشاہِ جذبات دلیپ کمارکی فن کاری کے متعلق یہ بات دہراتے رہتے تھے کہ:
’’فلم انڈسٹری کا وہ ایک درخشاں آفتاب ہے جس سے کچھ روشنی چرا کے میں نے اپنی حسرتوں کے دیے کی لَو کو روشن کیا ہے۔ ان کے لیے میرے دل میں بے پناہ عزت، سمان اور پیار ہے اور ہمیشہ ہی رہے گاوہ میرے بڑے بھائی،دوست اور سب کچھ ہیں۔‘‘
دلیپ کمار فلم ایکٹنگ کا ایسا مکتب تھے جس میں فنکاری کے ہر طالب علم نے پڑھائی کی ہے اور ان سے کچھ نہ کچھ ضرور سیکھاہے۔دلیپ کمار کی ایکٹنگ کی جھلک ہر اداکار کی ایکٹنگ میں دکھائی دیتی ہے جس کا اعتراف ان کے زمانے اور ان کے بعد کے زمانے کے نامی گرامی فلمی ستارے کیا کرتے ہیں۔انھیں فلم انڈسٹری کاپہلا میتھڈ ایکٹر کہا جاتا ہے۔ میتھڈ ایکٹنگ میں کرداروں میں ڈوب کریا اتر کر کسی کردارکو اپنے اندر جذب کیا جاتا ہے۔اس میں فن کار فقط اداکاری ہی نہیں کرتا ہے بلکہ کردار کے جذبات اور ذہنی کیفیت کو سمجھنے اور محسوس کرنے کے لیے خود کو کردار کے روپ میں ڈھال لیتا ہے۔
دلیپ کمارکودنیا اگر’ شہنشاہ جذبات‘ کے طورپر تسلیم کرتی ہے تو ملینیم اسٹار امیتابھ بچن کو’ اینگری ینگ مین‘ کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے وہیں د ھرمیندر کو ان کی خوبصورتی، دلکشی اور مردانہ وجاہت کے سبب ’ہی مین‘ کے نام سے پکارتی ہے۔یہی نہیں بلکہ انھیں People’s Actor یعنی عوام کے فن کار کا بھی خطاب ملا ہے۔ بچپن سے ہی وہ دلیپ کمار کے حسن، کشش اور اداکاری میں ایسے کھو گئے کہ زندگی بھر اس سے باہرنکل ہی نہیں پائے اور نہ ہی وہ نکلنا چاہتے تھے۔اکثر و بیشتر وہ اپنے خوابوں اور خیالوںمیں یہ سوچا کرتے تھے کہ میں بھی دلیپ کمار کے جیسافن کاربننا چاہتا ہوں۔ ایک اسکول ٹیچر کے بیٹے ہونے کے سبب ان کے والد چاہتے تھے کہ وہ ایک پروفیسر بن جائیں مگر دھرمیندر کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا تھا۔ان کے من میں تو ایکٹنگ کا بھوت سوار تھا ایک دن اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے دھرم جی نے اپنی والدہ سے کہا کہ ماں میں ایک ایکٹر بننا چاہتا ہوں۔ماں بھی اتنی سادہ دل تھی کہ بیٹے سے کہا کہ عرضی ڈال دو۔ اتفاق سے اسی دوران گرودت کو اپنی ایک فلم کے لیے ہیرو کی تلاش تھی جس کے متعلق آل انڈیا فلم فیئرٹیلنٹ ہنٹ (All India Filmfare Talent Hunt)کا ایک اشتہار دھرمیندر کی نظر سے گزرا جس کی عرضی دھرمیندر نے واقعی بھیج دی اور ان کا انتخاب ہوا اوربمبئی (ممبئی)کے لیے بلاوا بھی آگیا۔ بعد میں دھرمیندر باپ کی خواہش کے مطابق پروفیسر بنے تو فلم ’ چپکے چپکے‘ میںپروفیسرپریمل ترپاٹھی کے رول میں۔
پنجاب کے ایک دور دراز خطے نصرالی میں8 دسمبر 1935 کو پیدا ہونے والے اور سانہوال میں اپنا بچپن گزارنے والے دھرمیندرسنگھ دیول جب اپنے خوابوں کو سینے سے لگائے ہوئے ممبئی یعنی اس وقت کی بمبئی گئے تو اپنے ہمراہ اپنے گاؤں کی مٹی کی خوشبو اور کھیت کھلیان کی بو باس بھی لے گئے اور تاعمر اپنے فرقت زدہ پنجاب کو سینے سے لگائے رکھا۔ان کے فلمی کیرئر کے اتار چڑھاؤ میں کئی ایسے موڑ آئے جہاں اکثر لوگ ٹوٹ جاتے ہیں۔ ایسے میں ان کے گاؤں کی مٹی نے دھرم جی کو منتشر ہونے سے روکا۔وہ ایک متوسط طبقے سے آتے تھے اور انھوں نے اپنا بچپن بھی اسی طبقے میں رہ کر گزارا تھا اس لیے وہ کبھی اس بات کو فراموش نہیں کر سکے۔بس دل میں فنکاری کا ایک جنون اپنے سر میں لے کر گھرسے نکلے تھے۔وہ اکثر شعری پیرائے میں اپنی بات کہتے ہیں جو کہ ہر کسی کے لیے جدو جہد کے دنوں میں امید کی راہ دکھاتی ہے وہ کہتے ہیں ؎
غربت نام کی ننگی تلوارپر چل کر میں نے زندگی کا توازن سیکھا ہے
وقت کے نوکیلے پتھر اب کیا ڈرائیں گے مجھے
ہندوستانی سنیما نے ایسے بہت کم ہیرو دیکھے ہیں جنھیں شہروں سے زیادہ گاؤں کے لوگوں نے اپنا ہیرو تسلیم کیا ہے۔کہا جاتا ہے کہ ان کی دیسی امیج، مردانہ وجاہت اور دم دار مکالمہ کی ادائیگی نے ناظرین کے دلوں میں ایک الگ ہی مقام پیدا کیا۔کہا تو یہ بھی جاتا ہے کہ دھرمیندر سے زیادہ خوبصورت پر دے پر کو ئی دوسرا ہیرو اب تک نہیں آیا ہے جس کو قدرت نے اپنے دست ہنر سے ایسا گوندھا تھا کہ وہ جسم و جسامت، پیکر اور قد کاٹھی کے اعتبار سے بھی نہایت دلیر اورمردانہ وجاہت کا مالک تھا۔اس کی آواز میں بھی عجیب سی مردانہ کشش تھی جب وہ غصہ میں ہوتا توزبان اور آنکھوں سے شعلے ابلنے لگتے اور جب پیار کرنے پر آتا تو ایک بے لوث عاشق کے مانند نظر آتا تھایعنی پردے پر اس کا ہر ایک روپ ناظرین کو پسند آتا تھا۔معروف نغمہ نگار، اسکرپٹ رائٹر اور مکالمہ نگار جاوید اختر نے اپنے پروگرام’ زی کلاسک‘ میں دھرم جی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ :
’’ آپ دیکھئے کہ’ پھول اور پتھر‘ سے جو آدمی اسٹار بنا ہے اگلے سال اس کی فلم ’انوپما‘ ہے جس میں وہ ایک قلم کار ہے۔’دیور‘ میں وہ ایک نہایت ہی شریف، ایماندار اور سیدھا سادہ آدمی ہے جو اپنی شادی طے کرنے کے لیے اپنے دوست کوبھیجتا ہے لیکن دوست خود ہی اپنی شادی اس لڑکی سے طے کر لیتا ہے اور وہ اندر ہی اندر گھٹ کے رہ جاتا ہے۔’ بہاریں پھر بھی آئیں گی‘ میں وہ ایک صحافی ہے۔آپ دیکھئے کہ ’ پھول اور پتھر میں جو آدمی اتنا ٹف(Tuff)مردانہ قسم کا رول کرتا ہے آگے ایسا ہی رول کرنا چاہیے اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں Convinceنہیں ہونا چاہیئے۔یہ بڑے ہی دمدار قسم کے آدمی کارول کر رہا تھا اب یہ کیسے رول کر رہا ہے۔مگر دھرم جی کی Personalityکا کمال ہے کہ وہ جیسا چاہتے ہیں وہ اتنا ہی نرمل، شیتل، شانت اور سبھیہ خاموش سا شرمیلا آدمی ہے۔دراصل یہ دونوں ہی خوبیاں ان کی شخصیت میں بھی ہیں۔‘‘
انھوں نے ایک بھولے بھالے، سادہ اور شریف دیہاتی سے لے کر شہری ہیرو تک، ایک رومانی ہیرو سے کر ایکشن ہیرو تک ہر طرح کے رول نبھائے ہیں۔ دھر میندر کو فقط فلموں کا’ ہی مین ‘سمجھ لینا اس کے فن کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ وہ اصل زندگی میں بھی ہی مین تھے ہمیشہ ہر ایک کی مددر کرنا، انڈسٹری میں نئے آنے والوں کی ہر ممکن مدد کرنا، اپنے گھر میں رکھنا، کھانے پینے کا بندوبست کرنا اور اگر کبھی کوئی ان کے گاؤں سے ملنے آئے تو اس کی ہر طرح سے خاطر تواضع کرنا ان کی فطرت میں شامل تھا۔وہ ایکشن ہیرو جو اکیلے ہی درجنوں غنڈوں کے چھکے چھڑا دے اور جب رومانس کرنے پر آجائے تو ناظرین کے دلوں کی دھڑکن بن جائے۔ فلموں میں کچھ ایسے بھی ہیرو یا کردار گزرے ہیں جن کا مکالماتی انداز اور لہجہ فلم ناظرین کے دلوں پر نقش ہو جاتا ہے۔پرتھوی راج کپور کا اکبری لہجہ اور شہزادہ سلیم کا جہانگیری لہجہ، راج کپور سے لے کر نصیرالدین شاہ تک سب ایک ایسا کھنک دار اور پر کشش لہجہ رکھتے ہیں کہ پردے پر جب یہ کسی مکالمے کو ادا کرتے ہیں تو اس میں زندگی بھر دیتے ہیں۔ ایسے ہی دھرمیند ر کا بھی لہجہ اور آواز ہے۔ دلیپ کمار جو کہ اپنے زمانے کے سب سے مقبول اداکار ہیں وہ دھرمیندر کے بارے میں فلم فیئرایوارڈ کی ایک تقریب میں دھرم جی کو ایوارڈ سے نوازنے کے بعد کہتے ہیں کہ ’ جب میں نے پہلی بار دھرم کو دیکھا تو دیکھتے ہی میرے دل میں ایک امنگ پیدا ہوئی کہ اے اللہ مجھ کو بھی ایسا ہی بنایا ہوتا۔ اس قدر خوبصورت، حسین، صحت مند چہرہ، آنکھوں سے روحانی روشنی ٹپکتی تھی۔میں سمجھتا تھا کہ یہ شخص ہوگا جو آگے چل کے، جس کی فطرت سادہ ہو وہ آدمی ٹریجڈی کر سکتا ہے۔‘
دھرمیندر اکثر یہ بات دہرایا کرتے تھے کہ دلیپ کمار، مینا کماری اور افتخار کی وجہ سے ان کی اردو اچھی ہوگئی۔محمد علی ماسٹر سے انھوں نے اردو سیکھی اور چھ جماعت تک انھوں نے اردو پڑھی۔ انھوں نے اپنی سوانح بھی اردو میں لکھی تھی مگر وہ پوری نہیں ہو سکی۔ راجیو ایم وجیانکر نے ان کی سوانح ‘Dharmendra: Not Just a Heman’ میں ان کی نجی زندگی سے لے کر فلمی زندگی اور عوامی زندگی سب کا ذکر بڑی تفصیل سے کیا ہے۔دھرمیندر کی دوستی، وفاداری،روادری اور خودداری انتہادرجے کی تھی۔ وہ اور فلمی ستاروں کی طرح نمبر ایک نمبر دو کے چکر میں کبھی نہیں پڑتے تھے بلکہ تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہ سب مل کر رہے گا اس بات پر یقین کامل کر کے باقی تمام چیزیں اوپر والے کے حوالے کر دیتے تھے۔زندگی کے متعلق ان کا فلسفہ بہت ہی عیاں اور واضح تھا۔ وہ ہر حال میں خوش رہنے کا ہنر رکھتے تھے اور انھیں زندگی کے فنا ہونے پر پورا یقین تھا۔ اس لیے ہر ایک لمحے میں زندگی بھر دینا چاہتے تھے۔ایک جگہ وہ کہتے ہیں کہ ’زندگی کو جینا چاہیئے، کہاں بار بار ملتی ہے یہ زندگی، کسی کو Hurt یعنی چوٹ نہیں پہنچانا چاہیے۔ـ‘یہی وجہ ہے کہ ہر ایک آدمی یہ کہتاہوا نظر آتا ہے کہ وہ بہت ہی زندہ دل انسان تھے۔ ان کی باتوں میں کہیں بھی مایوسی، ناکامی اور نامرادی کا گزر نہیں۔ بلکہ وہ محنت، لگن، کوشش اور عمل پر یقین رکھنے والے انسان تھے۔وہ کبھی بھی اپنی عزت نفس کو گروی رکھ کر کام کے پیچھے نہیں بھاگے اور ہمیشہ اپنا وقار اور اپنی خودی کو بہت ہی سنبھال کر رکھا۔انھوں نے زندگی میں جدو جہد، ناکامیاں اور کامیابیاں و کامرانیاں دیکھیں مگر ان سب کا حاصل وہ اپنی تقدیر اور قناعت کو ہی مانتے تھے۔اس قدر عالی ظرف کہ کبھی اپنی کامیابی کا نشہ نہیں رکھا۔وہ شاعرانہ طبیعت میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے دو مصرعوں میں کہتے ہیں ؎
سب کچھ پاکر بھی حاصلِ زندگی کچھ بھی نہیں
میں نے دیکھے ہیں ایک سے ایک سکندر خالی ہاتھ جاتے ہوئے
دھرمیندر ایک ایسے فنکار ہیں جن کو شہرت اور دولت سے زیادہ لوگوں کا پیار عزیز تھا، وہ کبھی بھی اپنی خودی بیچ کر اور اپنا وقار کھوکر کسی سے کام مانگنے نہیں گئے بلکہ ان کا ماننا تھا کہ جو بھی ملے گا مجھے قسمت سے ملے گا۔وہ کبھی کام کے پیچھے نہیں دوڑے بلکہ رول خود ان کا انتخاب کرتے تھے۔ لیکن جو بھی رول ملتا تھا اس کو عبادت جان کر بڑی ہی ریاضت سے انجام دیتے تھے۔ دلیپ کمار، راجکپور، جتیندر اور امیتابھ بچن جیسے نامی گرامی فن کاروں کے درمیان خود کو ثابت کرنا اور حرف مکررکی طرح بنے رہنا فن اور ریاضت کے تئیں ان کی دیانتداری کو ثابت کرتا ہے۔وہ کبھی بھی نمبر ایک، نمبر دو کہلائے جانے کی بھاگ دوڑ، حربوں اور ترکیبوں میں نہیں پڑے بلکہ ان سب سے دوری بنائے رکھی اور جب بھی انھیں کوئی ایوارڈ دیا جاتا تھا تو وہ اسے اپنے مداحوں کے نام معنون کر دیتے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہم جو کچھ بھی ہیں شائقین اور چاہنے والوں کے دم پر ہیں۔ایک انٹر ویومیں انھوں نے کہا کہ :
’’ شہرت ایک نشہ ہے صاحب جو چڑھتا ہے اور اتر جاتا ہے لیکن محبت کا نشہ تو دلوں میں اتر جاتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ بھلے ہی مجھے پیسے کم ملیں، جب کہ میں جلدی اپنی فیس نہیں بڑھاتا تھا لیکن میری یہ خواہش رہتی تھی کہ میں لوگوں کے دلوںمیں اتر جاؤں۔‘‘
یہ بھی کسی خواب سے کم نہیں ہے کہ انھیں فلم انڈسٹری کی ایک ایسی شاہ جہانی شخصیت کے ہاتھوں فلم فیئر کا ’لائف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ‘ دیا گیا جس سے دھرمیندر کے دیرینہ خواب کی تکمیل ہوگئی۔یہ اعزاز ان کو انھیں کے ہیرو دلیپ کمار کے بدست ملاجس نے اعزاز کے وقار میں مزید اضافہ کر دیا۔کیونکہ وہ انھیں اپنا بڑا بھائی مانتے تھے اور اکثر یہ بات کہتے تھے کہ ہم دونوں بھلے ہی دو الگ الگ ماؤں کی اولاد ہیں لیکن میں دلیپ صاحب میں اپنے بڑے بھائی کو دیکھتا ہوں۔ وہ میرے رہنما، استاد اور یار ہیں۔وہ اپنے تمام پرستاروں سے بے انتہا محبت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ میرے چاہنے والے جو مجھے اپنے دلوں میں بسائے ہوئے ہیں وہی میرے لیے سب سے بیش قیمتی دولت ہے میں۔ اس محبت کے آگے کبھی بھی دولت کو ترجیح نہیں دوں گا۔یہی بیش قیمتی دولت ہے جو میں نے بہت ہی ریاضت اور عبادت سے کمائی ہے۔فلموں میں تعاون کے لیے انھیں 2012 میں پدم بھوشن اعزاز سے نوازا گیا۔ آخر میں وہ مہاراشٹر کے لوناوالا میں فارم ہاؤس میں کھیتی کسانی کرنے لگے تھے جس میں ان کا من بھی خوب لگتا تھا۔ وہ اپنے فارم ہاؤس میں پورا نصرالی گاؤں بسائے ہوئے تھے جس سے ان کی روح کو بڑا سکون ملتا تھا۔ بہت مکمل، کامیاب اورپیار محبت سے لبریز بھر پور زندگی جی کر وہ 24نومبر2025 کو اس دارفانی سے کوچ کر گئے۔
Dr. Muntazir Qaimi
Dept of Urdu, Fakhruddin Ali Ahmad
Gov P G College, Mahmoodabad
Seetapur-261203 (UP)
Mob.: 8127934734
muntazirqaimi@gmail.com