اردودنیا،جنوری 2026:
مشہور اداکار دھرمیندر نے اپنی رومانی اداکاری مردانہ وجاہت، شفقت بھرے لہجے اور جذباتی انداز کے سبب پانچ دہائیوںتک شائقین کے دلوںپر راج کیا۔ ان کا اس دنیا سے رخصت ہونا ، ایک دور کا اختتام مانا جارہا ہے۔ وہ ایک طرف کامیاب اداکار تھے تو دوسری طرف اردو زبان کے خاموش سفیر بھی تھے ، جنھوں نے پردۂ سیمیں پر اردو زبان ، لب و لہجے اور تہذیب کی نہ صرف عکاسی کی بلکہ بھرپور نمائندگی بھی کی۔
بہت کم لوگ اس حقیقت سے واقف ہیں کہ فلمی پردے پر’ایکشن ہیرو‘ کی شبیہ میں نظر آنے والے دھرمیندر نہ صرف اردو نوازتھے بلکہ ایک حساس شاعر بھی تھے۔ دھرمیندر کئی موقعوں پر اردو زبان کی احسان مندی کا برجستہ اظہار کرچکے ہیں۔ ان کے مزاج میں شگفتگی اورلہجے میں نرمی اردو زبان و ادب کی مرہون منت تھی، ایسا کہاجائے تو بے جا نہ ہوگا۔
دھرمیند اردو زبان کے عاشق تھے۔ پنجابی ان کی مادری زبان ضرور تھی لیکن اردو سے انہیں والہانہ عشق تھا۔وہ اردو کو اپنی مادری زبان تصور کرتے تھے۔ عام بول چال اور میڈیا سے گفتگو کے دوران اردو زبان اور اشعارکا جابجا استعمال ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔
دھرمیندر کی اردودوستی اور اردو شناسی کے قصے ہم نے اخبارات ،رسائل اورسوشل میڈیا کے توسط سے تو سن رکھے تھے۔ لیکن ہم چاہتے تھے کہ کیوں نہ ایسے افراد سے گفتگو کی جائے اور حقائق دریافت کئے جائیں، جنہوں نے نہ صرف دھرمیندر کے ساتھ کام کیا ہے بلکہ اس عظیم اداکار کے ساتھ وقت بھی گذارا ہے۔ تاکہ دھرمیندر کی شاعری اور اردو زبان سے بے پناہ محبت کے ان پہلوؤں سے بھی پردہ اٹھے جن سے عام لوگ ناواقف ہیں۔
معروف فلم صحافی راجیووجیے کر نے دھرمیند کی سوانح حیات ’دھرمیندر: ناٹ جسٹ اے ہی مین‘ میں اداکارکی زندگی کے مختلف پہلوؤںپرروشنی ڈالی ہے۔ دھرمیندر کی سوانح عمری پر کام کرتے وقت راجیو کئی مرتبہ دھرمیندر سے ملے اور ان کی زندگی و حالات پر گفتگو کی ، سوانحی کتاب کے مختلف ابواب میں انہوں نے ایکٹر کی زندگی کے مختلف گوشوں کو آشکار کیا ہے۔
دھرمیندر کی سوانح حیات بر وقت ہمارے ہاتھ تو نہیں لگ پائی مگر ہم نے تنگیٔ وقت کو غنیمت جانتے ہوئے اورسیدھے راجیووجیے کر سے ممبئی میں رابطہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ دھرمیندر کو اردو زبان اور شاعری سے بڑی محبت تھی۔ بائیوگرافی میںا نھوں نے تقریباً پندرہ صفحات پر مشتمل ایک خصوصی باب باندھا ہے،جس میں انھوںنے دھرمیندر کی اردو شاعری سے محبت کا ذکر کرتے ہوئے ان کی اردو شاعری کو رومن میں نقل کیا ہے۔
راجیووجیے کرنے ہمیںبتایاکہ2007میں امریکہ میں علاج کے دوران انھیں اردو شاعری کاجنون پیدا ہوا۔انھوں نے اپنی شاعری کو تحریری شکل میں آشکارکرناشروع کردیاتھا۔ بقول راجیووجیے کر’ دھرمیندر نے انھیں ان کے کئی اردو کلام یہ کہتے ہوئے سونپا کہ ان میں سے کلام منتحب کرلیجیے۔ راجیو نے دھرمیندر کی سوانح عمری میں ان کے منتخب کلام کونقل کیاہے ۔
اب ذرائع ابلاغ میں یہ اطلاع گشت کررہی ہے کہ اداکار کی وفات کے بعد اہل خانہ ان کے شاعرانہ کلام کو یکجا کرکے کتابی شکل دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کے متعلق کوشش بھی شروع ہو چکی ہے۔ تاکہ اداکار کی شاعرانہ انسیت کے ساتھ ان کے شعری جذبات کو بھی عوام کی نذر کیا جائے۔
معروف فلمی مکالمہ نگار اور ڈائرکٹر جاوید دانش سے جب میںنے ان کی اردو نوازی اور شاعری سے متعلق مزید تفصیلات جاننی چاہی تو انھوں نے بتایاکہ دھرمیندر نے انھیں خود اپنا کلام سنایاہے۔ جاوید دانش نے کہاکہ وہ ان کے ساتھ ایک فلم پر کام کررہے تھے لیکن چند وجوہات کی بنا پر وہ فلم پائے تکمیل تک نہیں پہنچ پائی۔
جاوید دانش جو اسکرین رائٹرایسوسی ایشن کے اہم ترین رکن اور خزانچی ہیں ۔ انھوںنے دھرمیندر کی اردو زبان سے دل لگی کے متعلق بتایاکہ دھرمیندر کی مادری زبان پنجابی کے بعد کوئی تھی تو وہ اردو زبان تھی۔ وہ ہندی کی بجائے اردو میں لکھنے پڑھنے اور گفتگو کو ترجیح دیتے تھے۔ انھیں اردو کے کئی اشعار زبانی یاد تھے ۔ اداکارہ میناکماری کے کئی اشعار انہیں زبان زد تھے ۔ دھرمیندرمیناکماری کانام بڑے احترا م سے لیتے تھے۔ انھوںنے بتایا کہ عمرکے آخری حصے تک دھرمیندرجی نے اظہار کے لیے اردو زبان کو ہی ترجیح دی۔
بالی ووڈ کی کئی مشہور و معروف فلموں کے مکالمہ نگار،’روشن دان ‘ اور ’لنگر خانہ‘جیسے سوانحی خاکوںپر مشتمل کتابوں کے تخلیق کار جاوید صدیقی سے ہم نے دھرمیندر کی اردوسے محبت کے متعلق دریافت کیا تو انھوں برجستہ کہا’ دھرمیندر اردو کے مداح نہیں تھے بلکہ وہ اردو والے ہی تھے۔‘ وہ نہ صرف اردو زبان بولتے تھے بلکہ اردو میں ہی لکھتے پڑھتے تھے اور ان کے لیے فلموںکے ڈائیلاگ صرف اردو میںہی لکھے جاتے تھے۔
جاوید صدیقی نے دھرمیندر کی فلم ’ علی بابا اور چالیس چور‘ اور ’ میں بلوان‘ کے مکالمے تحریرکیے ہیں۔ جاوید صدیقی ان دونوں کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیںکہ باقی اداکاروں کے مکالمے دیوناگری یا رومن میں تحریر ہوتے تھے لیکن دھرمیندر کے مکالمے صرف اردو زبان میں تحریرکیے جاتے تھے ۔ انھیں اردو میں مہارت حاصل تھی جبکہ انھیںہندی اتنی روانی کے ساتھ نہیں آتی تھی۔ دھرمیندر کو اردو کے کئی اشعار منہ زبانی یادتھے اوروہ خود اردومیںشاعری بھی کرتے تھے۔ اردو کتابوں کا مطالعہ ان کا شوق تھا ۔ ان کے پاس ہمیشہ اردو کتابیں موجودرہا کرتی تھیں۔
جاوید صدیقی نے 1980میں ریلیز ہونے والی فلم ’علی بابااور چالیس چور‘ کی شوٹنگ کے وقت تاشقندمیں دھرمیندر کے ساتھ گذارے ہوئے وقت کا ذکرکرتے ہوئے ایک دلچسپ واقعہ بیان کیاہے۔ وہ اس فلم کے ڈائیلاگ لکھ رہے تھے ۔ یہ ایک انڈو رشین فلم تھی۔ اس دوران ایک روسی مترجم ان کے ساتھ ہوا کرتا تھاجو روسی گفتگوکو انگریزی میں ٹرانسلیٹ کیا کرتا تھا اور انگریزی والامترجم اسے ہندی میں ترجمہ کرکے پیش کرتا تھا۔ دھرمیندرکو یہ بات ناگوار گذری انھوں نے درخواست کی کہ ایسے مترجم کا انتظام کیا جائے جسے روسی زبان کے ساتھ ساتھ اردو بھی آتی ہو۔ دھرمیندر کی خواہش پر روسی زبان سے اردو میں ترجمہ کرنے والے مترجم کاانتظام کیاگیا۔ جس پردھرمیندر نے نہایت ہی مسرت کا اظہارکرتے ہوئے کہا’ اس دیارغیرمیں اپنی زبان بولنے والا شخص بھی موجود ہے۔ ‘
میوزک ڈائیرکٹر اور غزل کمپوزر ذوالفقارعلی جو فی الحال بھوپال میں مقیم ہیں اور زیل انٹرٹینمنٹ کے بانی ہیں۔وہ لمبے عرصے تک دھرمیندر کے چھوٹے بھائی، اداکار و فلم پروڈیوسر، اجیت سنگھ دیول کے ساتھ منسلک رہے،اس نزدیکی کے سبب انہیں دیول پریوارکو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔
ذوالفقار علی کا کہناہے کہ دھرمیندر اور اجیت سنگھ دیول دونوںبھائی اردوکے دلدادہ تھے۔ دونوں بھائی اردو میںشاعری بھی کرتے تھے۔ دونوں کا پڑھنا لکھنا اردو میں ہی ہوتا تھا۔ اجیت دیول بھی فلموں کی اسکرپٹ اپنے لیے اردو میں ہی تحریرکرواتے تھے۔ ان کے پاس اردو کتابوں کا بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ ان دنوں اجیت سنگھ دیول کا مجموعہ کلام’’ بھول میں‘‘ ترتیب دیا جاچکاتھا۔ لیکن چند وجوہات کی بنا پر شائع نہیں ہوپایاتھا۔
ذوالفقار علی 1992 کاایک واقعہ یادکرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایک روز ان کی ملاقات دھرمیندر سے ہوئی۔ انھوں نے ذوالفقار علی کو ایک ڈائری دی ۔ اس ڈائری کے آخری صفحے پردھرمیندر نے معروف شاعر قتیل شفائی کے نام ایک خط تحریر کیا تھا۔ ذوالفقار علی نے مزیدبتایاکہ قتیل شفائی اوردھرمیندرکے درمیان خط وکتابت ہواکرتی تھی۔ان کے مراسم فیض احمد فیض سے بھی تھے۔ انھوںنے مزید بتایا کہ دھرمیندر ان دنوں نہ صرف اردوادب کو زیرمطالعہ رکھتے تھے بلکہ ان کے ہم عصر شعرا سے بھی اچھے مراسم تھے۔
ذوالقفار علی کے مطابق معروف شاعرجاںنثاراختر آخری ایام میں شدید علیل تھے، ہسپتال میںداخل تھے، ان کوہسپتال سے ڈسچارج کروانے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ صابردت نے جب پورا ماجرادھرمیندر کے گوش گذار کیا توانھوںنے جاںنثاراخترکاہسپتال کابل ادا کردیا۔
ذوالفقار علی دھرمیندر کی اردو دوستی پرمزید روشنی ڈالتے ہوئے ایک اور دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیںکہ پرتھوی تھیٹر میں نیشنل اسکول آف ڈرامہ (این ایس ڈی)ریپرٹری کا ایک اردو پلے ’ قیدحیات‘ ہوناتھا۔ لیکن غالباً دسہرے کے تہوار کی مناسبت سے شو کے ٹکٹ فروخت نہیں ہورہے تھے۔جب دھرمیندر کو اس متعلق پتہ چلا تو انھوں نے فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شو کے تمام ٹکٹ خریدلیے اوریہ کہتے ہوئے انھیں اردو والوں میں تقسیم کروادیا’’ اردو زبان کا پلے خالی نہیں جانا چاہیے۔ ‘ ‘ذوالفقار علی نے بتایاکہ’ قید حیات ‘کے ٹکٹ کو انھوںنے خود اردو والوں تک پہنچایاتھا۔
اداکار دھرمیندر کی اردو زبان اور اردو والوں کے تئیں محبت کی داستانیںیہیں ختم نہیں ہوتیں۔ زبان و ادب سے اداکار کی محبت کے ایسے کئی قصے ہیں جو شاید ابھی بیان ہونا باقی ہیں۔
معروف فلم رائٹر اور ڈائرکٹر رومی جعفری نے 7 دسمبرکے ’دینک بھاسکر‘ اخبار میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں دھرمیندر کی اردو سے محبت اور اس زبان کے متعلق دردمندی کو قلم بند کیا ہے۔ رومی لکھتے ہیں کہ جب دھرمیندر جی اپنی شعری تخلیقات کوسناتے تھے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان کے اندر ایک اداکار ہی نہیں بلکہ ایک حساس شاعر بھی موجود ہے۔
انھیں اس بات کا شدید رنج تھاکہ ان کے بیٹے اردو زبان نہیں سیکھ سکے۔انھیں اس بات کا بھی غم تھا کہ اردو زبان آہستہ آہستہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ وہ ہمیشہ رومی جعفری سے کہا کرتے تھے ’ یار رومی! اردو ختم ہوتی جارہی ہے، مجھے کچھ کرنا ہے اردوکے لیے ، کیا کروں ؟ مجھے کچھ بتا۔ دیکھ میرے بچے ہی اردو نہیں پڑھتے۔‘
رومی جعفری نے دینک بھاسکر میں تحریر کیا ہے کہ دھرمیندر جی کے انتقال کے دوسرے دن جب وہ اہل خانہ سے ملاقات کی غرض سے ان کے گھرگئے تو بابی دیول نے بڑے جذباتی انداز میںانھیں بتایا،’ پاپانے میرے لیے اردو ٹیچر رکھے تھے۔میں ایک سال تک ان کے گھر اردو پڑھنے جایاکرتا تھا۔ میں کافی حد تک اردو سیکھ بھی گیا تھا۔ مگر کام شروع ہوا اور اردوسیکھنے کا سلسلہ بند ہوگیا‘۔’بابی دیول نے رومی جعفری کو بتایا’کاش میں نے اردو ٹھیک سے سیکھی ہوتی تو پاپا کی لکھی ہوئی شعرو شاعری اور ڈائری سب پڑھتا، مگراب میں نے سوچا ہے، میں اردو سیکھوں گا۔ تاکہ پاپا کی روح بھی خوش ہوگی اور ان کی لکھی ہوئی چیزوں کو میں پڑھ سکوں گا۔‘
بابی دیول کااردو نہ سیکھ پانے کے متعلق اظہار رنج دھر میندر کی اردو سے بے پناہ محبت اور انسیت کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ وہ خود چاہتے تھے کہ ان کی اولادیں اردو زبان سیکھے وہ اردو کے مستقبل کولے کر بھی فکرمند تھے۔ جاوید صدیقی نے دھرمیندرکے متعلق بالکل صحیح کہاہے ’ دھرمیندر اردو کے مداح نہیں تھے بلکہ وہ خود اردو والے ہی تھے۔‘
(محی الدین عبدالطیف، ممبئی میں پیشہ صحافت سے وابستہ ہیں)
Mohiyuddin Abdul Lateef
80, Lane No.02, Old Azad Nagar
Malegaon, Distt. Nasik, Maharashtra
Mob.: 9167446964
Eamil.: mohiuddinjourno@gmal.com