دھرم جی کی یاد میں،مضمون نگار: فرحان حنیف وارثی

January 29, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،جنوری 2026:

مجھےجوانی میں بالی ووڈ کے جن اداکاروں نے اپنی خوبصورتی اور اداکارانہ صلاحیتوں سے متاثر کیا، ان میںدھرمیندر کا نام سرفہرست ہے۔دھرم پاجی مجھے اس قدر پسند تھے کہ میں نے انھیں کی طرح اپنی ہیئر اسٹائل رکھی تھی اور جب کوئی مجھ سے یہ کہتا کہ تمہاری ہیئر اسٹائل دھرمیندر جیسی ہے تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہتا۔سچ کہوں تو میں ایک لمحے کے لیے خود کو دھرمیندر ہی سمجھتا۔بالی ووڈ کے اداکاروں اور اداکاروں کے مداحوں میں یہ خوش فہمی عام سی بات ہے۔
قلابہ ممبئی کے تاریخی ریگل سنیما میں 31مئی 2025کو بالی ووڈ کے کامیاب ہدایت کار راج کھوسلہ کی پیدائش کی 100 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کی تین سوپر ہٹ فلموں:سی۔آئی۔ڈی (1956)،بمبئی کا بابو (1960) اور ’میرا گاؤں میر ادیش‘(1971) کی اسکریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا۔جب مجھے وہاٹس ایپ پراس نمائش کا دعوت نامہ موصول ہوا، تو میں ’میرا گاؤں میرا دیش‘ دیکھنے پہنچ گیا۔اس سے پہلے میں یہ فلم متعدد مرتبہ دیکھ چکا تھا۔جب طے شدہ وقت پر یہ فلم شروع ہوئی اور دھرم جی کا پہلا سین آیا، تو پورا سنیما ہال تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھا تھا۔اس سے دھرمیندر کی سدا بہار مقبولیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ہندی سنیما میں جب راجیش کھنہ اور امیتابھ بچن کا طوطی بولتاتھا اور انھیں ’سوپر اسٹار‘ کا خطاب دیا گیاتھا، ٹھیک اسی دور میں دھرمیندر کی فلمیںبھی باکس آفس پریکے بعد دیگرے کامیابی کے ریکارڈ قائم کر رہی تھیں، مگر میڈیا نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں کبھی ’سوپر اسٹار‘ لکھنے کی زحمت نہیںکی، جبکہ وہ ’سوپر اسٹار‘ ہی تھے۔البتہ میڈیا نے انھیں ’ہی مین‘ کا خطاب ضرور تفویض کیا تھا۔دھرمیندر سے پہلے بھی ہندی فلموں میں ایسے کئی اداکار آئے جو’ہی مین‘کہلانے کے مستحق تھے، لیکن اس وقت یہ اعزاز کسی کو حاصل نہ ہوسکا۔ دھرمیندر اپنے مضبوط اورپھرتیلے کسرتی بدن، مسکراتی اور بولتی ہوئی آنکھوں اور اپنی اداکاری کے سبب ایک مکمل اور ہینڈسم ہیرو تھے۔
دھرم جی دلیپ کمار کی اداکاری کے مداح تھے اور دوسری طرف دلیپ کمارکو ان کے قد، کاٹھی اور مسکان کے ساتھ لٹاتی آنکھیں پسند تھیں۔دلیپ صاحب اپنے دل میں یہ کہتے تھے کہ کاش میں دھرمیندر کی طرح ہینڈسم ہوتا۔ دلیپ کمار نے ایک ایوارڈ فنکشن کے دوران اسٹیج پر دھرمیندر کو ایوارڈ دیتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیاتھا۔دلیپ کمار کی ’شہید‘ (1948) فلم نے دھرمیندرکو اس قدر متاثر کیاتھاکہ وہ دلیپ صاحب کی اداکاری کی نقل کرنے لگے تھے۔انہی کی اسٹائل میں مکالمے ادا کرتے، چلتے اور آئینے کے سامنے خود کو سنوارتے اور دل ہی دل میںخوش ہوتے۔
دھرم جی کا جب دور چل رہا تھا، اس و قت ان کے دوست اور ہم عصر جیتندر(جمپنگ جیک)، شتروگھن سنہا (شاٹ گن) ، منوج کمار (مسٹر بھارت) اور امیتابھ بچن (اینگری ینگ مین)کبھی بھی ان کے قریب نہیں آئے۔ایک وقت ایسا بھی آیاکہ جب ایک ہی سال میں ان کی 9 فلمیں سنیما گھروںمیں دکھائی جا رہی تھیں۔ ہندی فلموں کی تاریخ میں سب سے زیادہ کامیاب تجارتی فلمیں دینے کا ریکارڈ تا حیات دھرم جی کے پاس رہا۔
دھرمیندر کا جنم 8 دسمبر1935کو پنجاب کے لدھیانہ ڈسٹرکٹ کے نصرالی ( ساہنوال)نامی گاؤں کے ایک ہندو جاٹ خاندان میں ہو اتھا۔انھوں نے گورنمنٹ سینئرسیکنڈری اسکول (لالٹن کلاں ، لدھیانہ) سے اپنی ابتدائی تعلیم مکمل کی تھی جہاں ان کے والد کیول کرشن ہیڈ ماسٹر تھے۔انھوں نے 1952میںمیٹرک (پھگوارہ) پاس کیا تھا۔ ان کی والدہ ستونت کور ایک خاتون خانہ تھیں۔بالی ووڈ میں میچو امیج کے حامل دھرم پاجی کا پیدائشی نام دھرم سنگھ دیول تھا۔انھوں نے اسکول میں زیور تعلیم سے آراستہ ہونے کے دوران ایک استادسے اردو زبان کی مٹھاس کا ذائقہ چکھا اور اس کے سحر میںکچھ ایسے گرفتار ہوئے کہ زندگی کی آخری سانس تک دلوں کو جوڑنے والی اس زبان پر فریفتہ رہے۔یہ وہ دور تھا کہ جب اسکولوں میں اردو پڑھائی جاتی تھی اور پنجابیوں میں اردو سیکھنے کا رجحان تھا۔
دھرم سنگھ دیول کی1954میں اٹھارہ برس کی عمر میں پرکاش کور سے سگائی ہوئی۔پرکاش کور سے ان کے دو بیٹے سنی دیول (اجے سنگھ دیول)،بابی دیول (وجے سنگھ دیول) اور دو بیٹیاں وجیتا دیول اور اجیتادیول ہیں۔ انھوں نے 1980میںدوسری شادی ہندی فلموں کی ڈریم گرل ہیما مالنی سے کی تھی۔ڈریم گرل سے ان کی دو بیٹیاں ایشا دیول اور اہانا دیول ہیں۔ دھرم جی کی حقیقی زندگی کی محبت کی کہانی فلمی شائقین کے لیے ان کی ذاتی زندگی کا سب سے زیادہ متاثر کن باب ہے۔ عام روایت ہے کہ دھرمیندر اور ہیما مالنی کی پہلی ملاقات 1970میں ’تم حسین میں جوان‘کے سیٹ پر ہوئی تھی۔
انگریزی کے صحافی، اسٹار ڈسٹ کے سابق چیف ایڈیٹر اور فلم ڈائریکٹر رام کمل مکھرجی نے ہیما مالنی کی بائیوگرافی ’ہیما مالنی: بیونڈ دی ڈریم گرل‘ کے عنوان سے تحریر کی ہے جو 2017میں منظر عام پر آئی تھی۔اس کتاب کو نوشین ماؤلا نے ایڈٹ کیاہے۔اس کتاب کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات ’آسماں محل‘ نامی فلم کے پریمیئر پر ہوئی تھی۔ ہیما مالنی کو دھرمیندر نے جب پہلی مرتبہ دیکھا، تو ششی کپور سے پنجابی میں کہا کہ کُڑی بڑی چنگی ہے۔‘بالی ووڈ کی اس خوبصورت جوڑی نے چرس، رضیہ سلطان، سیتا اور گیتا، علی بابا اور چالیس چور، دی برننگ ٹرین،شرافت،کرودھی،جگنو،ڈریم گرل، شعلے، آس پاس، راجا جانی اور ’پتھر اور پائل‘ سمیت تقریباً 40فلموں میں ساتھ کام کیا ہے۔
بالی ووڈ کے گلیاروں میں بتایا جاتا ہے کہ ہیما مالنی اور جیتندر کا رومانس جاری تھا اور چنئی (مدراس) میں دونوںشادی کے بندھن میں بندھنے ہی والے تھے کہ دھرمیندر کو کسی طرح یہ اطلاع موصول ہو ئی اور وہ فلائٹ کے ذریعے وہاں پہنچ گئے اور ہیما مالنی کو شادی سے روک دیا اوران سے اپنا حال دل بیان کیا۔ہیما مالنی نے دھرمیندر کی محبت تسلیم کرلی اوران کی روایتی شادی جلد ہی ایک بڑے عوامی اسکینڈل کا باعث بنی۔
دھرمیندر اور ہیما مالنی نے ہنگامہ خیز تنازعات کے باوجود اپنی اپنی زندگیاں قابل ستائش محبت اور مثالی اعتماد کے ساتھ چلائیں۔پرکاش کور اور ان کے چار بچوں نے مل کر اس طوفان کا بہادری سے مقابلہ کیا اور اس موضوع پر کسی بھی بحث میں حصہ لینے سے انکار کردیا اور کچھ برسوں بعد یہ معاملہ دونوں خاندان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں رہا۔
بالی ووڈشادی ڈاٹ کام نے11نومبر 2025 کومونیشا جی کمار کا ایک مضمون شائع کیا ہے۔ مونیشا جی کمار کے مطابق اگرچہ دھرمیندر کو ہیما مالنی سے اٹوٹ محبت تھی،لیکن وہ اپنی پہلی بیوی پرکاش کور اور چار بچوں کے لیے بھی پُر عزم تھے۔انھوں نے پرکاش کور کو طلاق دینے سے منع کردیا اور کسی بھی دباؤ کے آگے مجبور ہوئے بغیر ہیمامالنی سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔
انھوں نے آگے لکھا ہے:’دھرمیندر اور ہیما مالنی نے افواہوں پرتوجہ دینے کے بجائے اپنے مسائل کو آپسی مشوروں سے حل کیا۔2004میںجب دھرم جی نے بی جے پی کے ٹکٹ پربیکانیر(راجستھان) سے لوک سبھا کے چناؤ میں حصہ لیا،تو کانگریس پارٹی نے انکشاف کیاکہ اداکار اپنے اثاثوں کے اعلان میں صرف اپنی پہلی بیوی کی جائیدادوںکا ذکر کیا اور ہیما مالنی کے کسی بھی تذکرے کو چھوڑ دیا۔ ہیما مالنی سے جب اس بارے میں دریافت کیا گیا، توانھوں نے جواب دیا:’یہ ہمارے درمیان کا انتہائی ذاتی معاملہ ہے اور ہم اسے آپس میں طے کرلیں گے۔کسی اور کو اس کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔‘دھرم جی نے اپنی سیاسی زندگی کی شروعات بھارتیہ جنتا پارٹی سے کی تھی۔انھوں نے 2004میںبیکانیر(راجستھان) لوک سبھا سیٹ سے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی حاصل کی۔وہ 2009تک ممبر آف پارلیمنٹ رہے۔انھوں نے پارلیمانی مدت مکمل ہونے کے بعد دوسرا چناؤ لڑنے سے یہ کہتے ہوئے منع کردیا کہ وہ سیاست کے لیے موزوںنہیں ہیں اور انھیں سیاسی شعبدہ بازی سخت نا پسند ہے۔
دھرمیندرکے نصیب میں اداکار بننا لکھا تھا۔ انھیں اداکاراؤں میں ثریا پسند تھیں۔انھیں پڑھنے لکھنے میںکوئی دلچسپی نہیں تھی اور وہ پابندی کے ساتھ فلمی رسالہ ’فلم فیئر‘ کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔انھوں نے 1949 میں ثریاکی فلم ’دل لگی‘ دیکھی اور اداکارہ کی خوبصورتی اور اداکاری کے مداح ہو گئے۔ان کے گاؤں سے سنیما گھر میلوں دور تھا۔انھوں نے چالیس سے زائد مرتبہ میلوں پیدل چل کر یہ فلم دیکھی تھی۔
1958میں’فلم فیئر‘ میںاداکاری کے ایک مقابلے کاکوپن شائع ہوا تھا۔دھرم جی نے یہ کوپن بھرا اور اس کے ساتھ اپنی ایک تصویرلفافے میں رکھ کر ڈاک سے ممبئی میں واقع ’فلم فیئر‘ کے د فترکو ارسال کردی۔ ان کا انتخاب ہو گیا اور انھیں ممبئی مدعو کیا گیا۔ 1960 میں ان کی پہلی فلم ’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘ سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی۔اس فلم کے دیگر ستاروں میں بلراج ساہنی، کُم کُم اور اوشا کرن شامل تھیں ۔ہدایت کار ارجن ہنگورانی کی اس فلم کاچار لاکھ روپے بجٹ تھا۔ اس فلم میں کام کے لیے انھیں 51روپے معاوضہ دیا گیا تھا۔پہلی فلم کے ریلیز ہونے کے بعد انھیں وہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی، جس کی انھیں امید تھی۔ اس فلم کے دو نغموں کو ناظرین نے پسند کیاتھا۔ دو برسوں تک وہ کام کی تلاش میں بھٹکتے رہے۔مکان نہیں تھا۔ بحالت مجبوری ایک گیراج میں رات میں قیام کرتے اور پیٹ کی آگ بجھانے اور خرچ نکالنے کے لیے ایک ڈرلنگ فرم میں کام کرتے تھے جہاں ان کی تنخواہ 200 روپے تھی۔
قسمت مہربان ہونے میں دیر نہیں لگی اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ہندی فلموں کی ایک تاریخ ہے۔ 1962میں ’انپڑھ‘اور 1963میں ’بندنی‘ ریلیز ہوئی اور ایک اسٹار کی طرح ان کا نام چمک اٹھا۔بعد ازاں:آئی ملن کی بیلا، حقیقت(1964)، کاجل (1965)،پھول اور پتھر،ممتا، انوپما(1966)،میرے ہمدم میرے دوست، آنکھیں (1968)،ستیہ کام، خاموشی، آدمی اور انسان، آیا ساون جھوم کے (1969)،تم حسین میں جوان، میرا نام جوکر، کب، کیوں اور کہاں (1970)، گڈی، میرا گاؤں میرا دیش (1971)،سیتا اور گیتا، راجاجانی(1972)،یادوںکی بارات،بلیک میل، جگنو، کہانی قسمت کی، لوفر(1973)، چپکے چپکے، شعلے، پرتگیا (1975)، چرس، ماں (1976)، ڈریم گرل’ اور ’دھرم ویر‘ (1977) جیسی فلموں نے بالی ووڈ کے اس ’ہی مین‘ کو سدا بہار اداکاربنا دیا۔ انھوں نے اپنے فلمی کیریئر کے دوران تقریباً300 فلموں میں اپنی لاجواب اداکاری اور قابلیت کالوہا منوایاہے۔
دھرمیندر کو فلم انڈسٹری میں’گرم دھرم‘ بھی کہا جاتا تھا، مگر وہ اپنی رحم دلی اور مروت کے سبب ’نرم دھرم‘ تھے۔ وہ خوبصورتی کے دلدادہ تھے۔فلم انڈسٹری میں ان کی عاشق مزاجی مشہور تھی۔انھیں اپنے فلم سازوں کو پیسوں کے لیے ہراساں کرنا سخت نا پسند تھا۔ وہ مزاجاً شریف النفس تھے۔ان کا کہنا تھا کہ میں لوگوںکی محبت کا بھوکا ہوں اور مجھے اس کے بغیر کبھی اطمینان نہیں ملتا۔
دھرم جی کی انسان دوستی کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ بالی ووڈ میں انھیں ’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘ فلم میں پہلا بریک دینے والے ارجن ہنگورانی کا یہ احسان وہ زندگی بھر بھول نہیں پائے۔دھرمیندر کے ساتھ’ نوکر بیوی کا‘ غلامی اور ’جینے نہیں دوں گا‘ جیسی فلموں میں کام کرنے والی اداکارہ انیتاراج کے مطابق دھرم جی جیسا دریا دل اسٹار کوئی نہیں ہوسکتا ارجن ہنگورانی میرے چاچا تھے۔انھوں نے دھرم جی کو پہلابریک دیا تھا اور دھرم جی نے ساری زندگی اس قرض کو یاد رکھا تھا۔انھوں نے ایک اسٹار بننے کے بعد ارجن ہنگورانی کی:کب، کیوں اور کہاں، کون کرے قربانی ، کھیل کھلاڑی کا، قاتلوں کے قاتل، کرشمہ قدرت کا، کیسے کہوں کہ پیار ہے، اور ’سلطنت‘ جیسی متعدد فلموں میںکام کیا اور کسی بھی فلم کے لیے کوئی فیس نہیں لی۔میرے چاچا جب بھی فیس کے بارے میں تذکرہ کرتے، ان کا جواب ہوتا’ارے ارجن!کیا بات کر رہاہے؟میں اب تجھ سے پیسے لوں گا۔میں یہ کیسے بھول سکتا ہوں کہ میرے لیے انڈسٹری کے دروازے کھولنے والا تُو ہی تھا۔‘
ہدایت کار ایس۔آر پرتاپ نے دھرمیندر کیساتھ ’ڈاکو کالی بھوانی‘(2000)فلم بنائی تھی۔مجھے ایک پروجیکٹ میں ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ ایس۔ آر۔ پرتاپ نے ایک دن سِٹنگ کے دوران ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا۔انھوں نے کہاکہ وہ اپنی فلم کے لیے دھرم جی کو سائن کرنا چاہتے تھے مگر ان کا بجٹ کم تھا اور وہ پوری فیس دینے کے قابل نہیں تھے۔انھیں یہ پتہ تھا کہ دھرم جی کوچیک سے زیادہ زرِ نقد پسند ہے۔
وہ طے شدہ وقت پردھرم جی سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے۔ایس۔آر۔پرتاپ نے دھرم جی کو کہانی سنائی جو انھیں اچھی لگی اور انھوں نے کام کرنے کی رضا مندی ظاہر کردی۔ سدابہار اداکارنے دریافت کیا کہ وہ کتنی فیس ادا کریں گے؟ پرتاپ جی نے کوئی رقم بتانے سے گریزکیا اور ٹاٹ کی ایک چھوٹی سی گونی ان کے سامنے رکھ دی۔ دھرم جی نے گونی کا سِرا کھولااور دیکھاکہ گونی 50اور 100 روپے کے نوٹوں کے بنڈل سے بھری ہے۔ وہ ڈھیر سارے نوٹ دیکھ کر خو ش ہوگئے۔ یہ بھی نہیں پوچھا کہ کتنی رقم ہے اور اسی وقت شوٹنگ کی تاریخیںدے دیں۔
ہندی فلموں کے اس سوپر اسٹار میں اداکاری کی قدرتی صلاحیت موجو دتھی۔ان کا ڈراموںسے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اور نہ ہی انھوں نے کوئی ایکٹنگ کورس کیا تھا۔ موصوف کے بقول’ میں ایکٹنگ سیکھ کر نہیں آیا تھا‘ یہاں میرا جذباتی ہونا ہی کام آیا۔اصل میں ایکٹنگ ری ایکشن ہے اور ایک جذباتی آدمی ری ایکٹ جلدی اور اچھے سے کرتا ہے۔کسی کو چوٹ لگی تو فوراً بے چین ہوگیا۔غصہ آیا تو اسی وقت گالیاں بک دیں۔ میرے پریوار میں سبھی جذباتی ہیں۔‘ان میں اپنے سین کو اپنے انداز سے یادگار بنانے کی قابلیت موجود تھی۔ بہت کم لوگوںکو یہ پتہ ہے کہ ’شعلے‘ فلم کا مندر میں کنیا والا یادگار سین، انھیں کے ذہن کی اپج تھا۔
دھرم جی سے مجھے د ومرتبہ ملاقات کی سعادت حاصل ہوئی۔ ایک مرتبہ ممبئی کے ملنڈ اور بھانڈوپ علاقے کے درمیان واقع ایک بڑی کمپنی میں وہ اور راج ببر اپنی کسی فلم کی شوٹنگ میں مشغول تھے۔ معروف رسالے ’شمع‘ اور روزنامہ ’انقلاب‘سے وابستہ فلمی نامہ نگار شکیل احمد اور میں ان سے ملنے پہنچ گئے۔ اس ملاقات کے دوران انھوں نے اپنی اردو نوازی کا ذکر کیاتھا۔انھوں نے یہ بھی بتایاتھا کہ مقبول عا م ادبی اور فلمی رسالے ’شمع‘ کے مالک حاجی محمد یوسف دہلوی اور ان کے بیٹوںمحمد یونس دہلوی،محمد ادریس دہلوی اورمحمد الیاس دہلوی سے ان کے گھریلو مراسم ہیں۔دھرم جی پابندی کے ساتھ ’شمع‘ کا مطالعہ کیاکرتے تھے۔وہ روزنامہ ’انقلاب‘ کے بھی قاری تھے۔
اپنے پسندیدہ اداکار سے میری دوسری ملاقات ٹرامبے میں واقع بھابھا ایٹمک ریسرچ سینٹر کے پاس واقع ایک اسٹوڈیو میں ہوئی تھی، جہاںمیں نے ان کا انٹریو بھی کیاتھا۔مجھے خوشی ہے کہ اردو شاعری کے شوقین دھرم جی نے میری کتاب ’ممبئی ڈائری‘ کی ورق گردانی کی ہے۔ ہوا یوں کہ امریکہ میں مقیم ان کے دوست اور مصنف راج گروور جی ایک دن ممبئی کے ’کتاب دار‘ میں شاداب رشید سے ملاقات کی غرض سے تشریف لائے تھے۔انھوں نے وہاں سے میری کتاب ’ممبئی ڈائری‘ خریدی اور اس کے بعد طے شدہ پروگرام کے مطابق دھرم جی کی رہائش گاہ پہنچے۔راج گروور جی کاجوانی کے ایام میںعروس البلاد ممبئی میں قیام رہ چکاہے۔وہ بالی ووڈ میں معاون ہدایت کار کی حیثیت سے فعال تھے۔ان کے سنیل دت، ونود کھنہ اور دھرمیندر سے دیرینہ تعلقات تھے۔دھرم جی کی نگاہ’ممبئی ڈائری‘ پر پڑی اور انھوںنے اسی وقت ان کے پاس سے ’ممبئی ڈائری‘حاصل کی اور چند صفحات پڑھنے کے بعد مطالعے کی غرض سے ’ممبئی ڈائری‘اپنے پاس رکھ لی۔
اردو کے شیدائی دھرم جی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا’میں نے اردو پڑھی ہے،میں اردو زبان کا احسان مند ہوں،کچھ جذباتی ہوں،میں نے کبھی زندگی میں سوچا نہیں تھاکہ میں شاعری کروںگا مگر آتے آتے شاعری آگئی۔ مجھے اب بہت سی چیزیںمل رہی ہیں، مجھے لگتا ہے کہ اوپر والا مجھ پر بہت زیادہ مہربان ہے،مجھے کچھ نہ کچھ دیتے رہتا ہے۔‘ دھرم جی کو اپنی شاعری کا ویڈیو بنانا پسند تھا۔دھرم جی نے شاعری کا آغاز کب کیا؟ اس کا صحیح علم کسی کو نہیں ہے۔سوشل اور پرنٹ میڈیامیں ان کی شاعری کے بارے میں کافی کچھ لکھا اور کہا جاتا رہاہے مگر سب قیاس آرائی ہی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ انھیں شاعری میں دلچسپی ’شمع‘ کا مطالعہ کرتے ہوئے یا پھر اداکارہ میناکماری سے مراسم کے دوران پیدا ہو ئی تھی۔انھیں دنوں یا پھر بعد میں ان کا شوق پروان چڑھاہوگا۔میناکماری کو شاعری کا شوق تھا اور وہ غزلیںکہاکرتی تھیں، وہ اپنی غزلیں گلزار صاحب کو دکھاتی تھیں۔
مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں دھرم جی سے پہلی مرتبہ ملاتھا، انھوں نے خوشگوار موڈ میں کہاتھا کہ اردو سے محبت نے انھیں لکھنے کا فن بھی سکھا دیاہے۔ان کی مختصر نظم ہے’موقع دیا مقدر نے/دل دماغ ایک ہوئے /نیکی بھی ساتھ ہوئی /محنت اور مشقت سے /منزلیں طے ہو گئیں /اور ہم سرخرو ہوئے۔‘ایک اور نظم ملاحظہ کریں :’مٹّی کا بیٹا ہوں /مرتے مرتے کچھ کرجاؤںگا/اُکھڑتی، بوڑھی سانسوں سے /چُرا کے چند سانسیں میں/چیر کر سینہ دھرتی کا/فصل نئی ایک بو دوں گا/کھیتوں میں پھر ہریالی کی /چادر جب بِچھ جائے گی /اُگ آئے گی جوانی میری /سانسوں میں سانسیں بھی آجائیں گی۔‘
مصنفہ اور دستاویزی فلموں کی ہدایت کار رِنکی بھٹاچاریہ نے دھرم جی کی یادوں سے وابستہ ایک مضمون میں لکھا ہے:’میرے والد بمل رائے نے انھیں ’بندنی‘ فلم سے دریافت کیا۔انھوںنے دھرم جی کو فلم کے سیٹ پر 150روپے میں سائن کیاتھا۔اس وقت ان کا بینک اکاؤنٹ نہیں تھا۔بعد میں انھوں نے میرے والد کے چیک سے اپنا اکاؤنٹ کھولا تھا۔اب میری پوتی (دِشا)کی ان کے پوتے ( سنی دیول کے بیٹے کرن) سے سگائی ہوئی ہے۔‘
دھرم جی کی فلم ’بندنی‘ 1963میں ریلیز ہوئی تھی، جبکہ اس سے پہلے ’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے (1960) اور ’ان پڑھ‘(1962) ریلیز ہوچکی تھی۔رِنکی بھٹا چاریہ کا ’بندنی‘ فلم سے دھرمیندر کو دریافت کرنے کا دعویٰ شاید ان معنوں میں ہوگا کہ انھیں پہلی مرتبہ بمل رائے جیسے قابل اور معروف ہدایت کار کے ساتھ کام کرنے اور اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کو پیش کرنے کا موقع ملا۔ دھرم جی کی پہلی کمرشیل ہٹ اور بلاک بسٹر فلم ’ان پڑھ‘ تھی جو ان کی دوسری فلم تھی۔اس فلم کے گانوں نے مقبولیت حاصل کی تھی۔اس فلم میں دھرمیندر کے ساتھ بلراج سا ہنی،مالا سنہا اور ارونا ایرانی نے کام کیا تھا۔’ان پڑھ‘ کے ہدایت کار موہن کمار تھے۔
دھرمیندر کی ہندی سنیما کی تاریخی فلم ’شعلے‘ اور ’سیتا اور گیتا‘کے ہدایت کار رمیش سپّی کے بقول’دھرمیندر ایک ورسٹائل اور رنگین آدمی تھے۔ وہ اتنے کثیرجہتی تھے کہ جب میں انھیں ’شعلے‘ کے لیے کاسٹ کر رہا تھا، تو ان کا انتخاب گبّر سنگھ اور ٹھاکر کے درمیان ٹاس اپ تھا۔ میںنے انھیں یہ کہتے ہوئے ویرو کا کردار ادا کرنے کے لیے راضی کیا کہ اگر وہ گبّر سنگھ یا ٹھاکر کا کردار نبھاتے ہیں، تو انھیں ہیما مالنی (بسنتی) نہیں ملے گی۔میں نے کہا تھا’پھر آپ کو ہیمامالنی نہیں ملے گی۔‘ انھوں نے یہ سن کر ویرو کا کردار اداکرنے کے لیے اپنی رضامندی ظاہر کردی اور مجھے مشورہ دیاکہ ’جے‘ کے کردار کے لیے امیتابھ بچن کو سائن کریں۔ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ امیتابھ بچن پہلے ہی بورڈ میں موجود تھے۔‘
انگریزی کی معروف مصنفہ اور کالم نویس شوبھا ڈے کا ایک مضمون دھرم جی کی رحلت کے بعد 25 نومبر 2025کے ’ہندوستان ٹائمز‘ میں شائع ہوا ہے۔ موصوفہ کے بقول’دھرمیندر کو شہرت یا دولت سے کہیں زیادہ سچے انسانی رشتوں کی چاہت تھی۔انسٹا گرام پر ان کے 2.6 ملین فالوورز تھے۔ان کے مداحوں میں ہر عمر کی خواتین شامل تھیں اور وہ اپنی خواتین مداحوں کو آٹو گراف دیتے وقت گلے لگاتے یا پھر مصافحہ کرتے۔ انھوں نے سوشل میڈیاپرخود کو ایک شاعرکی حیثیت سے پیش کیا اور اکثر اپنی شاعری پیش کرتے رہے مگر ایک خاص عمر کے طبقے میں وہ اٹالین ایکٹر Rudolph Valentino کی طرح گلوبل رومانٹک آئیکون کی امیج رکھتے تھے اور اوریجنل اداکار اور فلموں کے دل کی دھڑکن جیسی مقبولیت کے حامل تھے۔‘مجھے یاد ہے کہ دھرم جی نے ایک مرتبہ اعتراف کیا تھا کہ ہر عورت کو یہ محسوس کرانا کہ وہ خاص ہے، ان کی ڈیوٹی ہے۔
دھرم جی نے 2021میں ایک انٹریو دیتے ہوئے کہا تھا’مجھ سے کیمرہ عشق کرتاہے۔ابھی تو میں جوان ہوں۔ہم دونوں آنکھ مچولی کھیلتے رہتے ہیں اور جب موقع ملتا ہے، تو گلے لگ جاتے ہیں۔ہماری کافی یاری ہے۔‘دھرمیندر واقعی جوان تھے۔انھوں نے بڑھاپے کو کبھی اپنے اوپر حاوی ہونے کا موقع نہیں دیا۔انوراگ باسو کی سوپر ہٹ فلم ’لائف اِ ن اے میٹرو‘(2007)میں انھوں نے نفیسہ علی کے مقابل اپنے بہترین رومانوی انداز کے سبب ناظرین کے دلوں کو چھو لیاتھا۔اس فلم میں ان کے ساتھ شلپا شیٹی، کے کے مینن، شاہنی آہوجا، عرفان خان، کونکنا سین شرما، شرمن جوشی اور کنگنا رناوت نے کام کیاتھا۔
نا قابل یقین حد تک ان کی آخری بڑی ہٹ فلم ’راکی اور رانی کی پریم کہانی‘سال 2023میںریلیز ہوئی تھی۔اس وقت وہ 87 سال کے تھے اور اپنی ساتھی اداکارہ شبانہ اعظمی کے ساتھ بوسہ لینے والے سین کی وجہ سے میڈیا میں چمکے تھے۔کرن جوہر کی ہدایت میں بننے والی اس فلم میں دھرم جی، شبانہ اعظمی، جیا بچن، رنویر سنگھ اور عالیہ بھٹ شامل تھیں ۔’راکی اور رانی کی پریم کہانی‘کی کامیابی کی پریس کانفرنس میںستاروں اور میڈیا کے نمائندوں سے کھچا کھچ بھرے ہال میں جب دھرم جی سے کسی نے شبانہ اعظمی کے ساتھ بوسے والے سین کے بارے میں سوال کیا، تو ان کے جواب سے پورا ہال قہقہوںسے گونج اٹھا تھا۔انھوںنے مسکراتے ہوئے کہا تھا’ارے! یہ تو میرے بائیں ہاتھ کاکھیل ہے۔بہت مزہ آیا اور جب جب موقع ملتا ہے، میں ایسے چھکّے لگا دیتا ہوں۔‘87 سال کی عمر میں اتنی دلکش شرارت اور ایسی زندہ دلی، صرف اور صرف دھرم جی کے بس کی بات تھی۔
دھرمیندرکی بایوپک کی بھی خوب چرچا ہوتی رہی ہے۔جب ان سے اس ضمن میں پوچھا گیا کہ وہ اپنی بایوپک میںکس اداکار کو دیکھنا پسند کریں گے، تو انھوں نے اپنے بیٹوں کی بجائے سلمان خان کا نام لیاتھا۔ دھرم جی نے 1983میں اپنے بیٹے سنی دیول کو لانچ کرنے کی خاطر ’وجیتا فلمز‘ نامی ایک فلم کمپنی کی بنیاد رکھی اور سنی دیول کو ’بیتاب‘(1983) جیسی زبردست کامیاب فلم سے متعارف کرایا۔اس فلم کے ہدایت کار راہل رویل تھے۔ بعد میں انھوں نے’ گھائل‘، برسات اور ’سوچا نہ تھا‘ نامی فلمیں بنائیں۔ اپنے دوسرے بیٹے بابی دیول کو انھوں نے ’برسات‘(1995) سے لانچ کیا۔ راج کمار سنتوشی اس فلم کے ہدایت کار تھے۔اسی پروڈکشن ہاؤس سے سنی دیول نے اپنے بیٹے کرن دیول کو ’پل پل دل کے پاس‘ (2019) سے متعارف کیا تھا۔
دھرمیندر بالی ووڈ کے ان چنندہ اداکاروں میں شامل ہیں جن کے مکالموں سے ناظرین لطف اندوز ہُوا کرتے تھے۔ان کے چند مقبول مکالمے ہیں :یہ دنیا بہت بُری ہے شانتی!جوکچھ دیتی ہے، بُرا بننے کے بعد دیتی ہے ( پھول اور پتھر:1966)،عشق ایک عبادت ہے اور عبادت میں جھوٹ نہیں چلتا (آیا ساون جھوم کے:1969)،کُتّے، کمینے، میںتیرا خون پی جاؤں گا ( یادوں کی بارات:1973)، گاؤںوالو! تُم کو میرا آخری سلام۔گُڈ بائے بسنتی! اِن کُتّوں کے سامنے مت ناچنا (شعلے:1975) ،صاحب لوگ یوں ہی مذاق میں کہتے تھے، لیکن میں کبھی نہیں مانا کہ میں پاگل ہوں (چپکے چپکے:1975)،تیرے گھر میں کیلینڈر ہے، 97 غور سے دیکھ لے، کیونکہ 98 تُو دیکھ نہیں پائے گا‘ (لوہا: 1987)،دل کے معاملے میں ہمیشہ دل کی سُننی چاہیے‘ (لائف اِن میٹرو:2007) اور ’اوئے علاقہ کتوں کا ہوتا ہے، شیر کا نہیں‘(یملا پگلا دیوانہ:2011) وغیرہ۔
دھرم جی کو اپنے فارم ہاؤس میں کھیتی کا شوق تھا۔ وہ نامیاتی کاشتکاری کے ذریعے مختلف سبزیاں اگاتے تھے۔وہ کھیتی کے ویڈیوز اور فوٹیج اکثر سوشل میڈیا پرپوسٹ کرتے تھے۔خود کو فٹ رکھنے کے لیے وہ سوئمنگ کو ترجیح دیتے تھے۔وہ بلاناغہ ورک آوٹ کرتے اور اس کا ویڈیو اپنے مداحوں کے لیے جاری کرتے تھے۔انھوں نے 26 ستمبر2025کو سوشل میڈیاپر اپنی ایک تصویر کے ساتھ یہ لائن شیئر کی تھی’آج کل غمِ دُنیا سے دور، اپنے ہی نشے میں جھومتا ہوں۔‘
’ہی مین‘ کو 2012میں ہندوستان کا تیسرا بڑا شہری اعزاز ’پدم بھوشن‘ اور2020 میں ’نیوجرسی‘ (یو۔ایس۔اے)میں ’لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ سے نوازا گیا تھا۔اپنے ہی نشے میں جھومنے والے دھرم جی کی آخری فلم ’اکیس‘25 دسمبر2025کو ریلیز ہونے والی تھی۔ ہدایت کارشری رام راگھون کی اس فلم میںدھرمیندر، جے دیپ اہلاوت اور اگستیا ننداشامل ہیں۔
تجربہ کار اداکار دھرمیندر کی بگڑتی ہوئی صحت کی خبریں 10 نومبر2025 کو انٹرنیٹ پر چھا گئیں۔ انھیں بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا جب کہ اہل خانہ، مداح اور ان سے محبت کرنے والے ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرتے رہے۔ ڈاکٹروں نے انھیں ’آئی۔سی۔یو‘ میں رکھا تھا۔اس دوران ان کی موت کی جھوٹی افواہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا میں گردش کرنے لگی۔ مجبوراً سنی دیول اور ہیما مالنی کو اس خبر کی تردید کے لیے سامنے آنا پڑا۔دھرم جی کو 12 نومبرکے دن اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا۔ اہل خانہ نے جو ہو میں واقع رہائش گاہ میںہی میڈیکل کی تمام سہولیات کا انتظام کیا اور ڈاکٹروں اور نرسوں کی ایک ٹیم چوبیس گھنٹے وہاںعلاج کے لیے رکھی گئی۔اس دوران اہل خانہ نے میڈیاکو جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب ٹھیک ہو رہے ہیں اور ان کی صحت پہلے سے بہتر ہے۔ قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ 24 نومبر 2025 کو اپنی 90 ویں سالگرہ سے پندرہ دن پہلے وہ اس دنیا کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے۔ ولے پار لے میں واقع پون ہنس شمشان میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔
دھرم جی کی رحلت پر سیاست، فلم، اسپورٹس اور دیگر شعبوں کی معروف شخصیتوں نے اپنی تعزیت کا اظہار کیاہے،مگر جو درد سائرہ بانونے بیان کیا، وہ نا قابل فراموش ہے۔سائرہ بانوکے مطابق دلیپ صاحب اور دھرم جی میں بھائی جیسا رشتہ تھا۔انھوں نے کہا’دلیپ صاحب کے بعد مجھے دھرمیندر کا تحفظ حاصل تھا، ان کی موت سے میرا یہ سہارا بھی ختم ہوگیا۔‘
دھرمیندر بھلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے ہوں، مگروہ اپنے اہل خانہ، رشتے داروں ،گاؤں والوں، دوستوں، مداحوں اور بالی ووڈسے وابستہ افراد کے دلوں، یادوں اور باتوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے، کیونکہ لیجنڈ کبھی نہیں مرتے، الوداع دھرم جی!

Farhan Hanif Warsi
Ramzan Bangi Chawl
Room No: 5. 1st Floor
Kamathi Pura 3rd Lane
Mumbai : 400008
Mob : 9320169397
farhanhanifwarsi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

دھرمیندر: مَداحِ اردو،مضمون نگار: محی الدین عبدالطیف

اردودنیا،جنوری 2026: مشہور اداکار دھرمیندر نے اپنی رومانی اداکاری مردانہ وجاہت، شفقت بھرے لہجے اور جذباتی انداز کے سبب پانچ دہائیوںتک شائقین کے دلوںپر راج کیا۔ ان کا اس دنیا

لالہ رام نرائن لال اگروال‘ اور ’رائے صاحب لالہ رام دیال اگروالا ‘ کی خدمات،مضمون نگار: مریم صبا

اردودنیا،جنوری 2026: کتابیں لفظوں کا ذخیرہ ہوتی ہیں اور اسی نسبت سے مختلف علوم و فنون کا سر چشمہ بھی۔ دیگر زبانوں کی طرح اردو زبان و ادب کے فروغ

مستشرق اردو لغت نویس،مضمون نگار: مزمل سرکھوت

اردودنیا،فروری 2026:  ہمارےتعلیمی نظام میں شاعری اور نثر کی مختلف اصناف کے مطالعے اور تحقیق کا چلن تو موجود ہے ، مگرترجمہ اور اس کے انسلاکات، اصطلاح سازی، محاورات، ضرب