قیصر الجعفری کی غزلیہ شاعری،مضمون نگار: محمد اویس سنبھلی

January 29, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،جنوری 2026

اردو غزل کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو اپنی فکری وسعت، فنی مہارت اور اسلوب کی ندرت کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان ہی معتبر ناموں میں ایک درخشاں نام قیصر الجعفری کا ہے۔ ایک ایسے شاعر جنھوں نے اردو غزل کو ایک نیا رنگ اور نیا آہنگ عطا کیا۔ قیصر الجعفری اردو ادب کے اُن شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں جنھوں نے غزل کو روایتی سانچوں میں ڈھالنے کے بجائے اس میں اپنی انفرادیت کے رنگ بھرے۔ ان کا اسلوب اگرچہ کلاسیکی غزل کے طرز اور آہنگ کی توسیع کرتا ہے لیکن بعض اوقات یہی وابستگی ان کی شاعری کو روایت کی حدود میں مقید بھی کر دیتی ہے۔ تاہم، ان کے اشعار میں ایک سلیقہ مندانہ رومانیت کی جھلک نظرآتی ہے، جو قاری کو اپنی گرفت میں لیتی ہے۔ ان کا کلام نہ صرف روایتی غزل کی موسیقیت اور لطافت کو برقرار رکھتا ہے بلکہ اس میں ایسی جدت اور فکری توانائی بھی شامل ہے جو ان کی شاعری کو معاصر عہد میں منفرد شناخت بخشتی ہے۔
14؍ ستمبر 1926 کو نظرگنج، الہ آباد میں پیدا ہونے والے قیصر الجعفری نے اپنی شاعری سے نہ صرف ادبی حلقوں کو مسحور کیا بلکہ عام قارئین کے دلوں کو بھی مسخر کیا۔ ان کی غزل رومان کی لطافت، سماجی شعور کی آنچ، فلسفیانہ فکر کی گہرائی اور عرفانی بصیرت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کے شعری مجموعے ’رنگِ حنا‘، ’سنگ آشنا‘، ’دشت بے تمنا‘، ’اگر دریا ملا ہوتا‘،’نبوت کے چراغ‘ اور ’چراغِ حرا‘ اردو شاعری کی روایت کو تقویت بخشتے ہیں۔
اردو کے علاوہ ہندی زبان میں بھی انھوں نے اپنے تخلیقی جوہر کا مظاہرہ کیا، اور ’پتھر ہوا میں پھینکے‘ اور ’تازہ تازہ‘ دو مجموعے شائع ہوئے۔ کچھ عرصہ قبل ریختہ فاؤنڈیشن سے ان کی 150؍ منتخب غزلوں پر مشتمل ایک خوبصورت انتخاب ’تمھارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے‘ کے عنوان سے منظرِ عام پر آیا، جس نے ان کی شاعری کے نئے قارئین پیدا کیے۔
2023 میں ’قیصر الجعفری فاؤنڈیشن‘ کے زیرِ اہتمام جناب عرفان جعفری نے ’کلیات قیصر الجعفری‘ بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی، جو ان کے شعری سرمائے کا نہایت قیمتی اور مکمل مجموعہ ہے۔ راقم الحروف کو بھی یہ کلیات، دستخط شدہ نسخے کی صورت میں بطورِ ہدیہ موصول ہوئی، جو راقم کے لیے ایک یادگار ادبی تحفہ ہے۔
اس مختصر تمہید و تعارف کے بعد، قیصر الجعفری کی غزلوں کی تفہیم و تعبیر کا سلسلہ ان کے اس دلآویز شعر سے آگے بڑھاتے ہیں ؎
حرف بہار لکھ کر، پیشانیِ سحر پر
ہم لوگ جا رہے ہیں، اک دوسرے سفر پر
قیصر الجعفری کی شاعری موضوعاتی تنوع اور اسلوبیاتی ندرت کا ایک درخشاں نمونہ ہے۔ انھوں نے غزل کے دامن میں رومانیت کے لطیف رنگ، سماجی شعور کی آنچ، اور عرفانی و فلسفیانہ افکار کی ژرف نگاہی کو یکجا کر کے ایک ایسی شعری کائنات خلق کی جو بیک وقت کلاسیکی وقار اور عصری شعور کی حامل ہے۔ رومانیت اور عشقیہ واردات ان کی غزلوں کا بنیادی سنگھار ہیں۔ وہ محبت کے جذبے کو انتہائی نزاکت اور شائستگی سے باندھتے ہیں۔ ان کی معروف غزل کا یہ مطلع ؎
تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے
میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے
محبت کے جذبات سے مملو ہے۔ مکمل غزل موضوعاتی تنوع اور رومانوی کیفیت کے امتزاج سے مزین ہے، لیکن اس کا مرکزی دھارا محبت اور اس کی جزئیات کے گرد گھومتا ہے۔ ’ایک شام چرا لوں‘ میں محبوب کی قربت کی آرزو ہے، اور ’اگر برا نہ لگے‘ کے اضافہ و خدشہ سے یہ آرزو ایک موقر اور باادب اظہار میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ جذبہ اردو غزل میں متعدد بار مختلف صورتوں میں برتا جا چکا ہے لیکن قیصر الجعفری کے تخلیقی بیانیے نے یہاں جدت پیدا کر دی ہے۔ اسی غزل کا دوسرا شعر ؎
تمھارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے
تمھیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے
محبت کی شدت، بے بسی اور یک طرفہ پن کو نہایت سلیقے سے بیان کرتا ہے۔ ’زمانہ لگے‘ محض ایک محاورہ نہیں، بلکہ محبوب کے نقش کو دل سے نہ مٹا سکنے کا مایوسانہ اعتراف ہے۔ ایک اور شعر ؎
جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو
کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے
اپنی علامتی معنویت میں فلسفیانہ گہرائی رکھتا ہے۔یہاں ڈوبنا کسی جذباتی یا روحانی کیفیت کا استعارہ ہے، جسے شاعر خاموشی اور وقار کے ساتھ ضبط کا مشورہ دیتا ہے، گویا دکھ کا شکوہ بھی محض دل تک محدود رہے۔ یہاں ایک داخلی تجربے کی لطافت ہے، مگر ’لہروں کو پتا نہ لگے‘ جیسا اختتام اس شدت کو مزید جلا بخشتا ہے۔اسی تسلسل میں ؎
وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب
خدا کرے انھیں بازار کی ہوا نہ لگے
محبت اور رشتوں کی حفاظت کی دعاہے۔ بظاہر ’پھول‘ محبوب کا استعارہ ہے لیکن شاعر کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اس مقام پر اولاد اور ان کے ساتھ وابستہ تمام تر نرم احساسات کو استعارتاً برتا ہے، جب کہ ’بازار کی ہوا‘ دنیاوی آلودگی اور بے قدری کی علامت ہے۔ کچھ اشعار میں قیصر الجعفری نے بے وفائی کے موضوع کو دلچسپ موڑ دینے کی کوشش کی ہے مثلا ؎
نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں
وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے
محبت میں اعتماد اور محبوب کے خلوص پر غیر مشروط یقین کا بیان ہے، چاہے وہ رخصت ہی کیوں نہ ہو جائے۔ جب کہ اسی تسلسل میں ان کا کہنا کہ ؎
تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر
کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے
یہ شعرمحبوب کی بے وفائی کو بھی ایک منفرد انداز سے پیش کرتا ہے۔یہ خیال نیا ضرور ہے، مگر اس میں جذباتی مبالغہ زیادہ نمایاں ہے۔ اور آخر میں، مقطع ؎
تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی، قیصر
کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے
زندگی کو ایک گھونٹ میں پینے کی تمثیل بہت ہی معنی خیز ہے۔ یہ شعر زندگی کی تلخیوں کو نظر انداز کر کے اسے قبول کرنے اور کھل کر جینے کا فلسفہ پیش کرتا ہے۔ محبت کی شدت، اس کی نزاکت، زندگی کے عارضی پن اور انسانی جذبات کی گہرائی کو ایک ساتھ سمیٹے ہوئے یہ غزل انفرادیت کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ایک مکمل تخلیق ہے۔
مجموعی طور پر یہ غزل زبان کی روانی، نرم آہنگی اور کلاسیکی فضا میں کامیاب ہے، لیکن موضوعات میں تازگی اور فکری طور پر ندرت کم نظر آتی ہے۔ قیصر الجعفری کی قوت ان کی نرمی اور حسنِ بیان میں ہے، مگر یہی قوت اس وقت کمزوری بن جاتی ہے جب وہ روایتی مناظر اور جذبات سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ قیصر الجعفری کی شاعری اس امر کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ غزل محض عشقیہ واردات کا بیان نہیں، بلکہ یہ زندگی کے ہر رنگ، ہر کرب اور ہر امید کو اپنے دامن میں سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
قیصر الجعفری کی غزل’دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے‘ اپنے موضوع اور جذبات کے اعتبار سے تنہائی، اداسی، محبت، اور وجودی بحران کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعرنے اس غزل کو ایک ایسی شاعری کے طور پر ترتیب دیا ہے جو ذاتی غم اور اجتماعی تجربات کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔ ہر شعر میں ایک گہری حسرت، یادوں کا بوجھ، اور ایک ایسی دنیا کی تصویر کشی ہے جہاں انسان تنہائی اور بے بسی سے دوچار ہے۔غزل کامطلع ملاحظہ ہو ؎
دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے
ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے
مطلع ایک رومانی فضا قائم کرنے میں کامیاب ہے، مگر ’اچھا لگتا ہے‘ اور’ایسا لگتا ہے‘ جیسی تکرار فنی طور پر کمزور تاثر پیدا کرتی ہے۔ اسلوب میں درد مندی موجود ہے۔ ہاں مصرعِ ثانی کا بیان نسبتاً سیدھا اور روایتی ہونے کے باوجود مطلع کی شدتِ تاثر میں اضافہ کرتا ہے۔اسی طرح یہ شعر ؎
کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو
شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے
احساسِ محرومی کو شدت کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہ شعر علامتی طور پر بہت زیادہ معنویت کا حامل ہے۔ یہ کسی ایسی خواہش کی علامت ہے، جہاں معمولی سی توجہ یا محبت بھی بڑی چیز لگتی ہے۔ یہ شاعر کی نفسیاتی کیفیت اور اس کے اندر کی بے چینی کو عیاں کرتا ہے۔ ’شبنم کا قطرہ‘ ایک چھوٹی سی چیز ہے، لیکن پیاس کی شدت ایسی ہے کہ اس پہ دریا کا گمان ہوتا ہے۔ ’پیاس‘ اور’شبنم کا قطرہ‘ جیسے استعارے اردو شاعری میں صدیوں سے رائج ہیں۔ شاعر نے اس مقام پر اپنی مہر تو ثبت کی ہے ساتھ ہی کسی شدید پیاسے کے لیے شبنم کو دریا کا متبادل کہنا بالکل نیا تجربہ ہے۔اسی غزل کے چند اشعار ؎
آنکھوں کو بھی لے ڈوبایہ دل کا پاگل پن
آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے
اس بستی میں کو ن ہمارے آنسو پونچھے گا
جو ملتا ہے اُس کا دامن بھیگا لگتا ہے
دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں
شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے
’آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے‘ اس کی پیشکش میں معنوی تہہ کی بجائے زیادہ تر جذباتی شدّت کا سہارا لیا گیا ہے۔ اس مصرعے میں محبوب کا تصور ہر منظر میں بسا دینا بلاشبہ عاشقانہ شدت کو ظاہر کرتا ہے، مگر یہ شدت فنی نکتے سے زیادہ جذباتی تاثر پر قائم ہے۔
’دامن بھیگا لگتا ہے‘ اس غزل کا ایسا شعر ہے جو غم کے عمومی اور اجتماعی مظہر کو خوبصورت انداز میں باندھتا ہے، لیکن اس میں بھی اسلوبیاتی جدت کے بجائے روایتی غم انگیزی کا سہارا زیادہ ہے۔
’’شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے‘‘ بلاشبہ ایک تضاد آمیز حسن رکھتا ہے، یہ تضاد بیانیہ کی سطح پر تو اثرانگیز ہے ہی فکری طور پر بھی بہت معنی خیز ہے۔ ویرانی میں میلے کا تاثر، محفل میں تنہائی، کے تضاد کا اثر پیدا کرتا ہے ؎
کس کو پتھر ماروں قیصر کون پرایا ہے
شیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے
یہ غزل کا سب سے مضبوط اور فکری طور پر پُراثر شعر ہے۔ یہاں شاعر کی درویشانہ بے نیازی اور انسان دوستی اپنے عروج پر ہے۔ ’شیش محل‘ کا استعارہ اگرچہ پرانا ہے، مگر شاعر نے اسے ذاتی تجربے کے ساتھ جوڑ کر معنویت دینے کی کوشش کی ہے جو قابلِ قدر ہے اور لائق تحسین بھی۔ مجموعی طور پر یہ غزل سادہ بیان، خلوصِ احساس، اور براہِ راست جذبات کے باعث قاری کو متاثر کرتی ہے، لیکن فنی نقطۂ نظر سے اس میں کچھ مقامات پر تکرارِ مضامین، روایتی استعاروں کا استعمال اور معنوی گہرائی کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ اس کی اصل طاقت شاعر کی داخلی کیفیات اور کرب کی ایماندارانہ پیشکش ہے، جو قاری کو ایک انسانی سطح پر متاثر کرتی ہے، چاہے وہ اس کی فنی باریکیوں سے متفق ہو یا نہ ہو۔ مجموعی طور پر یہ غزل جذباتی اثر رکھتی ہے۔
قیصر الجعفری کی شاعری محض ذاتی جذبات کے محدود دائرے میں مقید نہیں بلکہ اپنے دامن میں سماجی و ثقافتی حیات کے گوناگوں رنگ سمیٹے ہوئے ہے۔ مفلسی کی کرب انگیز تصویر کشی ہو، ہجرت کے زخموں کی گونج ہو، یا انسانی رشتوں کی پیچیدہ کیفیات، ان کے اشعار میں یہ تمام پہلو ایک لطیف اور شائستہ پیرائے میں جلوہ گر ہیں۔مثال کے طور پر ؎
گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں
مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں
یہ محض ایک منظر کشی نہیں بلکہ معاشرتی ناہمواریوں اور محرومیوں کی دلخراش علامت ہے۔ غریب والدین کی وہ بے بسی، جو اپنے بچوں کے لیے معمولی خوشیاں بھی خریدنے سے قاصر ہوں، اس شعر میں گویا مجسم ہو جاتی ہے۔ یہاں شاعر نے براہِ راست احتجاج کے بجائے ایک سادہ منظر کے ذریعے سماجی ناانصافی کو قاری کے دل میں اتار دیا ہے۔
اسی طرح ہجرت کا کرب اور اجنبیت کا زہر، جسے مکمل طور پر بیان کر پانا ناممکنات میں سے ہے، قیصر الجعفری کے اشعار میں مختصر مگر بھرپور صورت اختیار کرتا ہے ؎
گھر بسا کر بھی مسافر کے مسافر ٹھہرے
لوگ دروازوں سے نکلے کہ مہاجر ٹھہرے
یہاں ہجرت کو صرف مکانی تبدیلی نہیں بلکہ شناخت کے بحران کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ایک ایسا تجربہ جس میں گھر کی چار دیواری وجود رکھتی ہے مگر اس کے اندر سکونت کا احساس غائب ہے۔ اس شعر میں ہجرت کے درد اور شناخت کے بحران کو نہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ ایک شخص جو مجبوری میں اپنا وطن ترک کر کے دوسرے شہر میں سکونت اختیار کرتا ہے لیکن برسوں گزارنے کے باوجود وہ دوسرا شہر اسے اجنبی ہی محسوس ہوتا ہے۔ اسے دوسرے شہر سے اپنائیت کا احساس نہیں ہوتا۔ کسی مقام پر محض گھر بنالینا ہی کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ اس مقام سے جذباتی وابستگی بھی لازم ہے۔ اس حقیقت کو شاعر نے بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
قیصر الجعفری کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ تلخ سماجی حقائق، ہجرت کے زخم اور وقت کی بے رحمی کو نعرہ بازی یا خطابت کے شور میں نہیں ڈبوتے، بلکہ ایک شائستہ، تہذیبی اور رمز آفریں لہجے میں پیش کرتے ہیں ؎
یہ وقت بند دریچوں پہ لکھ گیا قیصر
میں جا رہا ہوں مرا انتظار مت کرنا
یہاں ’بند دریچے‘ محض ایک مادی شے نہیں بلکہ امید کے دروازوں، انسانی روابط، اور وقت کے ساتھ ٹوٹتے تعلقات کی علامت ہیں۔ موضوعاتی اعتبار سے ان کا کلام ایک وسیع اور متنوع منظرنامہ پیش کرتا ہے۔ رومانیت، سماجی شعور، عرفانی فکر، ہجرت کا کرب، وقت کی عارضیت کو نہایت سلیقے سے نرم لہجے میں عصری حسیت کے ساتھ پیش کرنا ان ہی کا خاصہ ہے۔ ان کا اسلوب نرم رو، سادہ مگر معنی خیز، اور علامتی سطح پر گہرا ہے۔
قیصر الجعفری کا فن نہ صرف اردو غزل کی کلاسیکی روایت کو برقرار رکھتا ہے بلکہ اسے عصری مسائل سے بھی ہم آہنگ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اردو ادب میں ایک زندہ اور تابندہ حوالہ ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری، اردو ادب کی روایتی جمالیات اور جدید فکری جہات کے ایک دلنشین امتزاج کا حسین نمونہ ہے۔ ان کا اسلوب نہ صرف زبان و بیان کی نزاکتوں سے آشنا ہے بلکہ معنوی تہہ داری اور جذبے کی گہرائی میں بھی اپنی مثال آپ ہے۔
ان کے ہاں زبان کی ساخت کلاسیکی اردو کی خوشبو لیے ہوئے ہے، مگر الفاظ کے انتخاب اور تراکیب میں ایک شعوری تازگی جھلکتی ہے۔ وہ محاورات کو محض روایتی معنوں میں نہیں برتتے بلکہ انھیں نئے سیاق میں ڈھال کر پیش کرتے ہیں، جس سے ان کی غزل روایتی ڈگر پر چلتے ہوئے بھی قاری کے ذوق سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے۔
قیصر الجعفری کی غزل کا سب سے نمایاں پہلو اس کا آہنگ ہے۔ مصرعوں میں صوتی توازن، ردیف و قافیے کی موزونیت اور بحر کی روانی ایسی ہے کہ قاری کو سماعتی لذت کے ساتھ ساتھ فکری ارتعاش بھی ملتا ہے۔ یہ موسیقیت محض فنی پختگی کا نتیجہ نہیں بلکہ جذبے کی صداقت کا بھی غماز ہے۔ ان کی غزلوں میں بصری اور حسی تصویریں ایک مکمل منظرنامہ تخلیق کرتی ہیں۔ ’رنگِ حنا‘ اور ’دشت بے تمنا‘ جیسے مجموعوں میں جگہ جگہ ایسے اشعار ملتے ہیں جو ایک لمحے کو قاری کو روزمرہ کی دنیا سے کاٹ کر ایک ایسی شعری کائنات میں لے جاتے ہیں، جہاں رنگ، خوشبو، لمس اور روشنی سب مل کر معنیاتی سطح پر ابتسام فراہم کرتے ہیں۔ ان کے یہاں محض رومانیت نہیں بلکہ وہ محبت، ہجر، اور حسن کی بات کرتے ہوئے انسانی وجود، وقت کے بہاؤ اور معاشرتی رویوں پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ یوں ان کی غزل محض ذاتی جذبات کی ترجمان نہیں بلکہ اجتماعی شعور کی بھی آئینہ دار ہے۔
قیصر الجعفری کی غزلوں میں روایت کی بازیافت قوی طور پر محسوس ہوتی ہے جس کے باعث جدید غزل کی تجرباتی جسارت ان کے ہاں نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔ تاہم یہی روایت پرستی ان کی غزل کو ایک کلاسیکی وقار بھی عطا کرتی ہے، جو انھیں محض وقتی رجحانات کے شاعر بننے سے محفوظ رکھتی ہے۔ قیصر الجعفری کی غزلیہ شاعری روایتی جڑوں اور جدید فکری شاخوں کا ایسا متوازن درخت ہے، جس کے سائے میں قاری کو جمالیاتی سرور اور فکری انبساط دونوں میسر آتے ہیں۔ ان کا کلام اردو غزل کی کلاسیکی روایت میں ایک درخشاں اضافہ ہے، اور آنے والے وقتوں میں بھی یہ روشنی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ قاری کے دل و دماغ کو منور کرتی رہے گی۔

Mohd Ovais Sambhli
178/157 Barood Khana
Near Lal Masjid, Golaganj
Lucknow – 226 018 (UP)
Mobile : 7905636448
ovais.sambhali@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

مثنوی عکس کوکن ایک ادبی اور تاریخی کارنامہ،مضمون نگار: محمد دانش غنی

اردودنیا،فروری 2026: اردوشاعری کے ضمن میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسا کوئی بڑا رزمیہ وجود میں نہیں آیا جس کو ہم عالمی زبانوں کے ادب

ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا کی غزل گوئی،مضمون نگار: شیخ عمران

اردودنیا،جنوری 2026: سرزمین ودربھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایسے ہیرے پیدا کیے جو شایان زماں کے تاجوں کی زینت بنے اور لوگوںکے دلوں میں روشنی جگانے

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب