اردودنیا،جنوری 2026:
محمد ارشاد عالم: جیسے ہر کسی کے انٹرویو میں ہمیشہ ایک عام اور تقریبا پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ آپ پیدا کب ہوئے۔ چنانچہ میرا بھی پہلا سوال آپ سے یہی ہے، چونکہ میں نے آپ کے ہند و پاک میں لیے گئے کچھ انٹرویو زپڑھے ہیں جس میں آپ نے دوسروں سے ہٹ کر جواب دیے ہیں۔ لہٰذا میں بھی اس جدت پسندی کو جیسے کہ آپ کی تقریبا ہر کہانی میں ایک انفرادیت نظر آتی ہے جو کسی اور افسانہ نگار، کہانی نگار یا پھر ڈرامہ نگار میں مجھے نظر نہیں آتی ہے یا پھر یوں کہوں کہ اس معاملہ میں آپ بالکل منفرد ہیں جس کا تذکرہ اکثر ناقدین نے بھی کیا ہے، اس معاملے میں آپ کے اظہار کا میں متمنی ہوں ؟
محمد مظہرالزماں خاں: اب میں اس تعلق سے کیا عرض کروں کہ کئی موسم لد چکے ہیں، کئی کیلینڈر پھٹ چکے ہیں، دنیا کئی الٹی سیدھی کروٹیں لے چکی ہے، کئی پھل اور موسم اپنی اپنی لذت کھو چکے ہیں، آدمی گم ہو گئے، یادیں پیلی پڑچکی ہیں، آدمی اجنبی ہوچکے ہیں،خود سے ناواقف بن گئے ہیں، خود کی پہچان کھو چکے ہیں۔ حافظے چھن چکے ہیں، علم اٹھا لیا گیا ہے، وقت ریس کے گھوڑوں کی دوڑ دوڑ رہا ہے۔ علم کے اٹھا لینے سے مراد یہاں میری یہ ہے کہ چونکہ میں نے اس پر ایک مختصر نظم بھی لکھی ہے وہ یوں ہے کہ… قیامت کے قریب… علم اٹھا لیا جائے گا اور علم اٹھا لیا گیا ہے… اور سب کے سب اپنے اپنے گھروں سے نکا ل کر کتابوں ( علم سے مراد ) کو… او ر ہاتھوں میں اپنے تھام کر موبائل کو… صم بکم… بیٹھ گئے ہیں۔ تما م خوشبو دار تہذیبیں جل کر راکھ ہوچکی ہیں۔ اپنے قائدین اور رہنماکو چننے کی صلاحیتیں ختم ہو چکی ہیں کہ سبھوں کے حافظے جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے کہ چھین لیے گئے ہیں اور ان کا چھن جانا آدمیوں کی نیتوں پر منحصر کرتا ہے اور نیتوں کو جاننے اور دیکھنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے کیونکہ دنیا میں کوئی ایسا ’ آلہ‘ یا پھر ’ عدسہ‘ بن ہی سکا اور نہ کبھی بن سکے گا جو آدمی کی نیت اور ارادے کو دیکھ سکے۔ یہاں مجھے پھر اپنی ایک نظم ( نثری ) یاد آرہی ہے۔ بہرحال اس دور بلا خیز میں چھوٹی چھوٹی کنکریں اوپر جارہی ہیں اور پہاڑ پر سے بڑے بڑے پتھر لڑھک لڑھک کرنیچے آرہے ہیں۔ جانور میک آپ کرنے لگے ہیں… آگے کیا کہوں۔ اب رہا وہی گھسا پٹا سوال کہ پیدائش کیا ہے ؟ تو عرض کرتا چلوں۔ آج کی مسخ شدہ تاریخ اور ٹکڑے ٹکڑے جغرافیہ سے پہلے7 اپریل 1950کو پیدا ہو گیا ہوں۔ کہاجا تا ہے کہ میری پیدائش کے وقت آفتاب نکل گیا تھا… ہوائیں ٹھنڈی ٹھنڈی تھیں۔ ہلکی ہلکی جھم جھم بارش کے ساتھ دھوپ بھی نکلی ہوئی تھی… اس رات کو پورا چاند تھا۔ اب یہ کہاں تک درست ہے مجھے معلوم نہیںکہ افسانے ہر طرح کے لکھے جا سکتے ہیں۔ بہرحال آج اور کل میں بہت بڑا فرق ہے۔ آج کا کوئی چہر ہ ہی نہیں ہے۔ کل کا کم از کم کچھ تو چہرہ تھا، کچھ لباس تھا، غذاؤں میں کچھ لذت تھی، زبانیں ذائقوں کو پہچانتی تھیں۔
م ا ع : سنا ہے کہ آپ نے بہت سے لکھنے والوں کی کہانیوں کو بھی ٹھیک کیا ہے ؟
م ز خ: آپ کے اس سوال کا جواب میں کیا دوں ۔ یہ تو وہی لوگ جانتے ہیں جو اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے سوٹ بوٹ پہن کر پیش آتے یا ہوتے تھے۔ لیکن اب ایسا نہیں ہے کہ میں اب کہیں جانے آنے کے قابل نہیں ہوں۔ البتہ زبان سے فون پر یعنی موبائل پر جو جمشید کا پیالہ بن کر رہ گیا ہے، کہہ دیتا ہوں،بیان کرتاہوں۔ اب بینائی بھی کمزور ہوگئی ہے۔ آپ کے اس سوال کا جواب بھی تفصیل سے دیا جاسکتا تھا۔ لیکن اس کی وجہ سے بہت سے چہرے جو اب ہنوز نقاب پہنے ہوئے ہیں، بے نقاب ہوجائیں گے۔ ویسے اب باقی نہیں رہا۔ بے کار ہے کچھ کہنا۔ علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آرہا ہے ؎
یہ تونے کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کردیا
میں ہی تو ایک راز تھا سینہ کائنات میں
م ا ع : اب تک آپ کی کتنی کہانیاں چھپ چکی ہیں اور کتنی کتابیں ؟ کیا ان میں ایسی کہانیاں بھی ہیں جو آپ کی شائع شدہ کتابوں میں شائع یا شامل نہ ہو سکیں؟
م ز خ: جی۔ بہت سی کہانیاں… کچھ ٹھیک بھی… اور بہت کچھ خراب بھی، ان کے جو نام اس وقت مجھے یاد آرہے ہیں میں بتا دیتا ہوں:
گم شدہ دستک ( مطبوعہ اوراق پاکستان)
خوف زادے (مطبوعہ شاعر ممبئی)
رولر کے نیچے (مطبوعہ پاکستان)
میں اور وہ ( تحریک دہلی)
روشنائی کا دریا(فلمی تصویر حیدرآباد)
م ا ع : آپ نے کہاں تک تعلیم حاصل کی ؟
م ز خ: حلف… ایک ادارہ تھا۔ مجھے ممبر بناتے وقت یہ سوال کیا گیا تھا۔ میں نے جواب دیا تھا۔ غالب کی طرح بے سند یافتہ ہوں۔ اور یہی جواب ایک انٹرویو میں بھی موجود ہے۔
م ا ع : میں نے محترمہ ہاجرہ کی کتاب ’مظہر الزماں خاں جدیدیت کا امام‘ پڑھا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے۔ حیدرآباد کے ایک جدید افسانہ نگار کے افسانوں کو آپ ٹھیک کرتے تھے۔ ان کی خواہش جدیدیت کے مشہور پرچہ میں چھپنے کی تھی، کہاں تک سچ ہے ؟
م ز خ: اب ان باتوں سے کیا فائدہ ؟ جو لوگ جانتے، وہ جانتے ہیں یا تھے کہ جب ان کی کہا نی اس جدید ادب کے جدید ترین پرچہ میں چھپ گئی تو اس کے مدیر محترم ادیب… کے وہ کیسے قریب ہو گئے تھے۔ خیر چھوڑیئے۔ آپ ایسے سوال مت کیجیے، مہربانی ہوگی۔ فلم ختم ہوچکی ہے۔ دی اینڈ پر کیا کہا جا سکتا ہے۔
م ا ع : آپ پر کیے گئے پی ایچ ڈی کے کتنے مقالہ نگاروں کا آپ نے تعاون کیا ؟ کیونکہ آپ کی کہانیاں بہت سے لوگوں کی سمجھ سے باہر ہیں۔
م ز خ: پھر وہی بات پیدا ہوتی ہے۔ ان سوالات سے خواہ مخواہ…کیا کہیں۔ اور کوئی بات کہیے، عرض کروں کہ کئی لوگ ہیں۔ کیونکہ ضروری نہیں ہے کہ ہر کوئی لکھنے والے کی تحریر سے پوری طرح یا اس کی کہانی اور علامتوں سے واقف ہوجائے یا اس کے اشاروں کو سمجھ جائے یہ مشکل بات ہے۔ کہانی نگار یا شاعر اگر کوئی علامت یا اشارہ اگر اپنی شاعری یا کہانی میں بیان کرتا ہے تو من و عن دوسرا آدمی یا پڑھنے والا اس تک پہنچ جائے۔ یہ ناممکن ہے۔ بہرحال خوابوں کی تعبیر یں ہر ایک کی الگ الگ ہوتی ہے۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے تعبیر کا حق ہے۔ اس لحاظ سے سب اپنی اپنی سوچ کے مطابق بیان کرتے ہیں۔
م ا ع : آپ نے شاعری بھی کی ہے۔ ڈائری کے اوراق بھی لکھے ہیں۔ کیا ان کو بھی کتابی شکل دینے کا ارادہ ہے۔ کیونکہ اس سے آپ کی فکر الگ الگ طرح سے آپ کے قارئین پر ظاہر ہوگی۔
م ز خ: شاعری کے اعتبار سے بالکل نہیں۔ کیونکہ میں نے چند ایک نثری نظمیں لکھی ہیں۔ لہٰذا ڈائری کے اوراق بہت سے معلم اردو لکھنو کے پرچہ میں چھپ چکے ہیں۔ دوسروں نے پسند بھی کیا، لیکن اس میں محبتیں ابھی پیدا ہورہی تھیں۔ لہٰذا میں نے سب ضائع کردیں۔ البتہ اب مذہبی قسم کی چیزیں لکھنے کی کوشش کررہا ہوں دیکھیں۔ اللہ مالک ہے۔
م ا ع : میں نے سنا ہے آپ نے کچھ لوگوں کو یوں ہی قسم کے افسانے بھی لکھ کر دیے ہیں ؟
م ز خ: ہوں کہوں یا پھر ہاں کہوں، کیا کہوں۔ موسم خراب ہوگئے ہیں۔ بارشوں کے بجائے دھوپ اور سردیوں میں گرمیاں ہو رہی ہیں۔
م ا ع : آپ کی تقریبا کہانیوں میں اقوال زرین موجود ہیں بقول پروفیسر غفور شاہ قاسم، کیا آپ کچھ پیش کرسکتے ہیں۔ تاکہ قارئین لطف کے ساتھ ذہنی طور پر بھی روشنی حاصل کرسکیں۔
م ز خ: خوابوں کے /گہرے سمندر میں
صدف صدیوں سے تھا غلطاں
کہ معا/ایک بوند ٹپکے
ابر نسیاں کی
(شوریدہ زمین پر دم بخود شجر،ص90)
م ا ع : اس عہد کے بارے میں کچھ فرمائیں :
م ز خ: میں اپنی تقریباً سبھی کہانیوں میں اپنی اقدار، اپنے عہد، انسان، آدمی، جانور، درخت، پرندے چرندے سب کے بارے میں میں بیان کرچکا ہوں۔ تاہم میری ایک مختصر نظم جو میرے کسی ناول میں موجود ہے۔ جس پر بہت سے ناقدین نے ناول کے ساتھ اس نظم کا بھی تجزیہ کیا ہے۔ نظم ملا حظہ فرمائیں ؎
نہ فاختانہ ہدہد/نہ ہما اور نہ شاہین
بس جھڑجھڑاتی جھڑاتی ہے
اور کولتار کی اندھی مینا /دانہ دانہ کہتی ہے
بلکہ یہ ایک مربوط نظم ہے۔ اس میں ملوکیت کے دور کے خاتمہ کا اشارہ بھی ہے اور کئی امکانات اس کے اندر پوشیدہ ہیں۔اس نظم پر ڈاکٹر یوسف شیرازی نے طویل تجزیاتی مضمون لکھا ہے۔
م ا ع : آپ آج کے لکھنے والوں کو کس طرح دیکھ رہے ہیں ؟
م ز خ: اب میری آنکھیں خراب ہوگئی ہیں۔ کوئی نظر نہیں آرہا ہے۔ دھندلا دھندلا دکھائی دے رہا ہے۔ہر منظر آج کل کہر میں ڈوب گیا ہے۔
م ا ع : کہانیوں کے عنوانات:
م ز خ: پانی دریا/رولر کے نیچے
شوریدہ پشتوں کی آماجگاہ
اداس نسل کا آخری سفر
شوریدہ زمین پر دم بخود شجر/خوف زادے
م ا ع : آج کل کی شاعری کے تعلق سے عرض فرمائیں اور کچھ قارئین کے بارے میں؟
م ز خ: پہلے شاعری کے تعلق سے عرض کروں، ملاحظہ فرمائیں ؎
آؤ کرکٹ کا لگائیں ایک چوا
ماں ہوا اور باپ…کوا
اب سامعین کا حال، بول جمورے، بجاکر تالیوں کے ساتھ ہلا ہلا کر۔ واہ۔۔واہ۔۔واہ
م اع: آپ نے اچھے خاصے مزاحیہ مضامین بھی لکھے ہیں، جو چھپ چکے ہیں، ان کے کچھ عنوانات اگر یا د آئیں تو بتا دیجیے۔
م ز خ:
پروفیسر پورے صفت (مطبوعہ شگوفہ)
شیم…شیم…شیم (مطبوعہ شگوفہ)
مزاحیہ مضامین (مطبوعہ شگوفہ)
بھگوان کا مشورہ (مطبوعہ شگوفہ)
ایک شام شیطان کے نام (مطبوعہ شگوفہ)
آدم علیہ السلام سے ایک انٹرویو (مطبوعہ شگوفہ)
حکم کے غلام (مطبوعہ شگوفہ)
بڑی خوشی ہے اس ملاپ میں(مطبوعہ شگوفہ)
جھوٹ پھر جھوٹ(واقعات دہلی)
اور بھی کئی ہیں جو ابھی مجھے یاد نہیں آرہے ہیں۔
م اع: آپ کے افسانوں میں جو علامتیں اور اشارے ہوتے ہیں، وہ بالکل مختلف اور عام قاری کی سوچ و فکر سے الگ بلکہ بہت زیادہ ہی سوچنے کے باوجود ان کی تعبیرات ہر قاری کے ہر خیال اور نظریے سے الگ معلوم ہوتے ہیں۔ اس تعلق سے آپ قارئین کے لیے اگر رہبری فرمائیں تو بہتر ہوگا ؟ مثلا آپ کی ایک کہانی ـ’ ڈارک روم‘جو کتاب ’دستکوں کا ہتھیلیوں سے نکل جانا‘ میں شامل ہے۔ ایک کہانی ’ایک دن پرندوں کے ساتھ‘ اس طرح کہانی ’شوریدہ زمین پر دم بخود شجر‘ وغیر ہ وغیرہ ؟
م ز خ: کچھ دیر کی خاموشی کے بعد مظہر الزماں خا ں نے دھیری آواز میں فرمانا شروع کیا۔ ویسے میری تقریبا سبھی کہانیوں میں بہت سے راز اور بھید پوشیدہ ہیں۔
بہرحال ملاحظہ فرمائیں کہانی ’ڈارک روم ‘میں کا خیال کچھ یوں ہے کہ یہ دنیا ایک ڈارک روم ہے۔ اس کہانی میں چند دوست جو حاجت کے لیے جاتا ہے، اس کے دوسرے دوست اس کو بھول کر فوٹو اسٹوڈیو بند کرکے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ دوست جسے بھول گئے تھے، پریشان ہو جاتا ہے۔ وہ بھی فوٹو گرافی سے واقف تھا۔ چپ چاپ مختلف خیالات میں گم ہو جاتا۔ اور پھر ڈارک میں جا کر نیگیٹیو کو پازیٹیو بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن وہ سوائے چند ایک کے کسی کو بھی پازیٹیو بنا نہیں سکتا۔ میں نے اس کہانی میں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ دنیا میں بہت کم لوگ ہی پازیٹیو ہوتے ہیں۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے قرب اور اللہ کے حبیب کی چاہت اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور احکام کے پابند ہوتے ہیں وہی پازیٹیو ہوتے ہیں وہی پازیٹیو ہونے یعنی یہ پیغمبروں، اللہ والوں کی طرف اشارہ ہے۔
بہر حال کہانی کا اختتام کچھ یوں ہے اس کئی گھنٹوں میں جو میں اس اسٹوڈیو کے اند ر بند تھا، میرے ہاتھ میلے ہوئے، نہ میرے پاؤں میلے ہو ئے، نہ میری سوچ میلی ہوئی اور نہ میرا خیال اور نہ زبان میلی ہوئی۔ اور اس عرصہ میں میں نے خود کو دیکھ لیا خود کو حاصل کرلیا اور جب وہ اسٹوڈیو سے نکلتا ہے تو دیکھتا ہے کہ کچھ ایک بڑا سا کیا نویس خاں ہے اٹھا کر لے جارہے ہیں۔ یعنی یہ دنیا جب بنی تھی، تب بھی خالی تھی اور جب ختم ہوجائے گی،تب بھی خالی ہو جائے گی۔ اس کہانی میںبہت کچھ راز ہیں۔ اس کہانی میں یہ بتانے کی بھی میں نے کوشش کی ہے کہ دنیا میں لو گ روشنی سے ڈرتے ہیں جو ایک اصل اور اٹل حقیقت ہے یعنی رب کائنات۔ اورجو اصل کی طرف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہی پا زیٹیو ہوتے ہیں۔ باقی سب نیگیٹیو یعنی شیطانی قوت کے اسیر۔ اب دوسری کہانی ’ پرندوں کے ساتھ‘ بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یعنی آدمی گھروں،بازاروںاور منافقین سے چھٹکارا پانے کے لیے ایک باغ میں سارے دن جاکر بیٹھ جاتا ہے۔ اور وہ دن وہ رات پرندوں کے ساتھ گزار کر اپنے آپ کو شفاف محسوس کرنے لگتا ہے۔ یعنی دنیا حالات سے مختلف خیالات و افکار سے نجات حاصل کرتا ہے۔ بہت سی باتیں اس کہانی میں بھی پوشیدہ ہیں، لیکن ہمارے خود ساختہ دانشور اور ناقدین جو اتراہٹ کا شکار ہیںاور خود کو بڑے علم والے اور مفکر ظاہر کرتے ہیں، ان کو میری کہانیاں بڑی مشکل نظر آتی ہیں۔ ان کے سر پر سے گزر جاتی ہیں تاہم زعم میں جھومتے رہتے ہیں۔
کہانی ’ سفر‘ تصوف پر لکھی ہوئی ہے۔ اس کی شروعات کچھ اس طرح ہے کہ ایک شخص نیند سے بیدار ہوتا یعنی نیند غفلت کا استعارہ ہے، اور جب وہ بیدار ہوتا ہے تو اس کو اپنے اعمال اپنے بستر کی شکنوں کی شکل میں نظر آتے ہیں یعنی وہ اپنی زندگی میں اپنے اعمال سے غافل رہا۔ اچانک اسے اپنا ہر عمل یاد آتا ہے چنانچہ وہ گھر سے نکل جاتا ہے اس رات کی تلاش میں جسے شب قدر کہا جاتا ہے۔ پھر اس کی ملاقات ایک بزرگ سے ہوتی ہے ان سے وہ کہتا ہے کہ میں شب قدر کی تلا ش میں نکلا ہوں تب وہ اسے اپنے اعمال درست کرنے کی تر غیب دیتے ہیں چنانچہ اپنی درستگی کے لیے نکل پڑتا ہے۔ اور پھر وہ بزرگ سے ملنے کے لیے نکل جاتا ہے۔
م ا ع : آپ نے کبھی شاعری بھی کی ہے۔ کیونکہ آپ کی بعض کہانیوں میں کچھ نظمیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔؟
م ز خ: جی کبھی کبھی یہ کوشش کی ہے۔ دوسروں کے لیے زیادہ، اپنے لیے نہیں کے برابر۔ اور پھر شاعری بہت نزاکت چاہتی ہے۔ نئے نئے خیلات کی متحمل ہوتی ہے۔ لیکن آج کل بہت سی شعری محفلوں میں چند ایک کو چھوڑ کر کائیں کائیں کرتے نظر آتے ہیں۔ شاعری میں ہر لفظ کو بہت احتساب اور سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہئے۔ اب دیکھیے شمس الرحمان فاروقی جیسے معروف نقاد نے بھی شاعری کی ہے۔ انھوں نے مجھے اپنی کتاب ’’ آسمان محراب ‘‘ دی تھی۔ بہت اچھی شاعری تھی۔ ویسے مجھے شاعری کا ادراک نہیں ہے تاہم بہت پڑھتا ہوں۔ ان کی اس کتاب کا ایک شعر مجھے اس وقت یاد آرہا ہے ؎
سوارِ ابلق لیل و نہار دیکھوں گا
میں آنکھیں چیر کے پردے کے پار دیکھوں گا
اگر اس شعر میں آنکھیں چیر کر کہنے کے بجائے آنکھیں موند کر کہتے تو کتنی صوفیانہ بات ہوتی۔ اور یہی شاعری کا کمال ہے۔ نزاکت ہے کہ ایک ایک لفظ کائنات بن جائے اور دیر تک دور تک باقی رہے۔ اس لیے میں کبھی شاعری کی کوشش نہیںکرتا اور کرنا بھی نہیں چاہتا کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے اور نہ میں ایسی شاعر ی کرسکتا ہوں جیسی غالب، اقبال،بیدل وغیرہ نے کی ہے۔ چند ایک نظمیں یوں ہی لکھی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں ؎
ہوائیں مشتعل/آدمی پاگل
سارے موسم/ الٹے پاؤں
دھوپ ہے نہ چھاؤں/نہ شہر ہے نہ گاؤں
ہر طرف بس جانور ہی جانور
چلو مظہر/چل کر کسی
گنبد میں بیٹھتے ہیں۔
م ا ع : آپ کیسے ماحول میں کہانی لکھتے ہیں یعنی کیسا ماحول آپ کے کہانی لکھنے کی ’ آمد ‘ کے لیے سازگار ہوتا ہے۔؟
م ز خ: میں کسی بھی ماحول میں کہانی لکھ لیتا ہوں۔ جب موڈ آتا ہے نزول ہونے لگتا ہے، طبیعت لکھنے کے لیے بے چین ہوجاتی ہے تب لکھنے لگتاہوں۔ پھر بعد میں اسے ہر طرح سے دیکھتا ہوں کہ پوری ہوئی ہے یا کہیں سے اس میں جھول آیا ہے۔ یہ میرا خیال ہے۔
Md. Irshad Alam
Research Scholar
Telangana University
Nizamabad- 503322 (Telangana)
Mob.: 8978630112
mdirshadalam1199@gmail.com
یہ انٹرویو میں نے ماہ نامہ اردو دنیا ماہ جنوری پر پڑھا ۔بہت اچھا انٹرویو رہا ہے ۔ اس میں مظہر صاحب کا وہی اسلو ب چھلک کر سامنے آیا ہے جو ان کی کہانیوں کا خاصا ہے۔اللہ مظہر صاحب کو صحت مند رکھے ۔