ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا کی غزل گوئی،مضمون نگار: شیخ عمران

January 29, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،جنوری 2026:

سرزمین ودربھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے ایسے ہیرے پیدا کیے جو شایان زماں کے تاجوں کی زینت بنے اور لوگوںکے دلوں میں روشنی جگانے کا ذریعہ بھی۔ یہاں کے علم و ادب کے کئی چاند افق ادب پر طلوع ہوئے جن کی ضیاپاشیوں سے علم و ادب کی ایک دنیا روشن ہوئی ۔ان میں ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا کا نام قابل ذکر ہے۔ یوں تو ودربھ میں لا تعداد شخصیات ایسی رہیں جو اپنی پیدائش اور اس سرزمین سے اپنی وابستگی پر فخر کا اظہار کرتی رہیں۔لیکن ودربھ کی سرزمین نے خود ڈاکٹر منشا کو اپنے لیے باعث افتخار سمجھا۔ڈاکٹر منشا نے متعدد اردو اصناف میں کامیاب تخلیقی نمونے پیش کیے اورہر جگہ ان کی انفرادیت نے قاری کو اپنی جانب متوجہ کیاہے۔ہر انسان کی شخصیت اور افکار کی تعمیر اور نشوونما میں بہت سے محسوس اور غیر محسوس محرکات کار فرما رہتے ہیں۔ اسے وراثت میں جو کچھ ملتا ہے یا اپنے خاندانی ماحول میں وہ جو کچھ دیکھتا ہے یا جن بزرگوں کی آغوش تربیت میں آنکھ کھولتا ہے اْن کے اثرات سب سے زیادہ دیرپا، مثبت اور دور رس ہوتے ہیں۔شاعری ایک ایسا فن ہے جس کہ ذریعہ شاعر اپنے پوشیدہ جذبات و خیالات کا اظہار اپنے ذوق کی تسکین کے لیے کرتا ہے۔ اس کی اساس مطالعہ،مشاہدہ اور تجربے پر ہوتی ہے۔
ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا کی شخصیت بہت پہلودار تھی۔وہ ایک ذی علم اور روشن خیال آدمی تھے ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے ادیب، نقاد،غیر معمولی خطیب ،مبصر اور ایک بہترین اْستاد تھے۔ ان کی تحریر کی طرح تقریر میں بھی بلا کا جادو تھا۔وہ جتنا اچھا بولتے تھے اتنا ہی اچھا لکھتے تھے۔اردو کے علاوہ عربی و فارسی پر بھی انہیں کامل عبور حاصل تھا۔ڈاکٹر منشا کے قلم سے وجود میں آئی تحریریں اردو ادب کا بیش قیمتی سرمایہ ہیں۔وہ سماجی و ثقافتی صورت حال کا بھی بہتر شعور رکھتے تھے ۔جو ان کے ذوق ادب کی آبیاری میں کار گر محرک ثابت ہوا۔ڈاکٹر منشا سمندروں کو حباب میں قید کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ وہ رنگ قدیم ہو یا طرز جدید حرف کو گہر بنانے کے عمل سے بخوبی واقف تھے۔
اردوشاعری میں جس صنف کو انھوں نے اپنی فکر و نظر کا محور بنایا وہ غزل ہے۔یوں تو شاعری کے ہر میدان میں انہوں نے جوہر دکھائے لیکن غزل ان کی شہرت کا موجب ثابت ہوئی۔ڈاکٹر منشا کی غزل گوئی میں غزلیہ شاعری کی جملہ خصوصیات موجود ہیں۔جس کی بناء پر انہیں ایک کامیاب غزل گو شاعر کہا جاسکتا ہے۔غزل گوئی میں ایک نیا انداز انہوں نے پیدا کیا۔ان کے دور اوّل کلام کے مجموعے ’نوائے دل‘ اور ’آہنگ حیات‘ میں بطور خاص غزل گوئی اپنی بہار دکھاتی ہے۔نیز ’عکس دوراں‘کی غزلوں میں بھی ایک طرح کی متانت و سنجیدگی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ڈاکٹر منشا کے کلام میں فصاحت ،سادگی ،شوقی فکر کی بلندی خوبصورتی کے ساتھ پائی جاتی ہے۔ ان کے شاعرانہ مسلک کو سمجھنے کے لیے یہ اشعار پیش ہیں:
راگنی بن کے مرے لب پہ فغاں آتی ہے
ہر کسی شخص کو یہ بات کہاں آتی ہے
سچ بولنے کا ہنر جانتے ہیں ہم
لفظوں کو تولنے کا ہنر جانتے ہیں ہم
اردو شعری ادب میں کئی طرح کے شعرا پائے جاتے ہیں۔شعرا کی ایک قسم وہ ہوتی ہے جو صرف مشاعروں میں واہ واہ کو سب کچھ سمجھتے ہیں ۔جب تک ان کی آواز ہے وہ زندہ رہتے ہیں،ان کی آوازختم ہوتے ہی ان کی شاعری ختم ہوجاتی ہے۔کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نام و نمود کو ترجیح دیتے ہیں ۔صرف وہی شاعر اپنی اور اپنی شاعری کی اہمیت کو سمجھتا ہے جس میں تنقیدی شعور موجود ہوتا ہے ۔ڈاکٹر منشا ایسے ہی با شعور شعراء میں سے تھے۔ جنہوںنے شاعری کو محض شاعری نہیں سمجھا بلکہ اسے دلی جذبات و احساسات کے سرچشمہ سے تعبیر کیا۔ پروفیسر آل احمد سرور ڈاکٹر منشا کی غزل گوئی پر روشنی ڈالتے ہوئے’آہنگ حیات‘ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
’’منشاء الرحمن منشا خوش فکر ،خوش گو اور خوش ادا شاعر ہیں۔ وطن کا یہ پرستار، انسانیت کا یہ دوست، جدید فکر و نظر کا یہ محرم،نظمیں بھی کہتا ہے اور غزلیں بھی۔ مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ اس کی غزلیں، نظموں کے مقابلہ میں زیادہ پْر کیف ہیں۔غزلوں میں بڑی بے ساختگی اور روانی ہے۔
(آہنگ حیات،منشاء الرحمن خان منشا،1963،ناگپور،ص11-12)
منشاء الرحمن خان منشا جتنے بڑے شاعر تھے اتنے بڑے انسان بھی تھے ۔جو بھی ان سے ملتا ان کی عظمت اور بزرگی سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔وہ اردو کے ان چند با کمال اور صاحب دل شعراء میں سے تھے جنہیں زمانہ صدیوں بعد پیدا کرتا ہے۔ان کی علمیت ،قابلیت اور صلاحیت کا تو ایک زمانہ قائل تھا لیکن خلوص و ملنساری کی خوبیوں نے انہیں عوام و خواص میں بہت مقبول بنادیا تھا۔انہوںنے اپنی شہرت اور نام آوری کو کبھی خود پر مسلط نہیں کیا اور نہ ہی اس کا گمان کیا۔ ناگپور کے غزل گو شعراء میں موصوف کا ایک منفرد مقام ہے۔منشاء الرحمن خان منشا کے شاگردوں کی تعداد بہت زیادہ تھی ۔اور ان کے قدردان نہ صرف ناگپور بلکہ ملک بھر میں موجود تھے۔شعر پڑھنے کا ان کا اپنا ایک انداز تھا۔مشاعروں میںجب شرکت کرتے تو بہت سنجیدگی کا مظاہر کرتے۔ہر مشاعرے میں تازہ کلام سناتے۔ مشاعروں میں منشا صاحب نے جو غزلیں پڑھی ان میں نیا پن ہے۔اکثر شعر سناتے وقت وہ سراپا شعر ہوجاتے اور بہت ڈوب کر کلام سناتے ۔ایک اچھے سخنور کی یہی پہچان ہے کہ وہ موقع اور محل کی مناسبت سے اشعار نذر کرتا ہے۔شعر سنانے کا انہیں بے حد شوق تھا۔غزل صنف شاعری پر آپ نے خوب تجربے کیے ہیں ۔اپنے فکر و فن کے امتزاج سے نت نئے پیکر وضع کیے اور غزل کو تازگی عطا کی۔اس میں قوت بھی ہے اور عصری میلان بھی۔منشاء الرحمن منشا کی شاعری سنگ تراشی کا ایک خوبصورت نمونہ ہے۔یہ شاعری ایک حساس انسان کی شاعری ہے ۔غزل عاشقانہ طرز کلام کا نام ہے۔اسی لیے شاعر نے بھر پور کوشش کی ہے کہ وہ غزل کے اصل رنگ سے دور نہ جائے۔اشعار ملاحظہ ہوں:
ہم زیست کے ماروں کو جِلا کیوں نہیں دیتے
آپ اپنی مسیحائی دِکھا کیوں نہیں دیتے
بیمار کہیں باتوں سے اچھے بھی ہوئے ہیں
ہمدرد بنے ہوتو دوا کیوں نہیں دیتے
آتے ہیں ہمیں کام کڑے وقت پہ منشا
پھر شکوہ ہے ہم دادِ وفا کیوں نہیں دیتے
شاعر کے نزدیک شاعری صرف جذبات کی ترجمان نہیں بلکہ حکمت کی آئینہ دار بھی ہے اور جمالیات کی عکاس بھی ۔ڈاکٹر منشا اردو غزل کے مزاج داں اور نباض تھے۔در اصل غزل کا ایک مزاج اور اس کی کچھ خصوصیات اور اْصول ہیں جن کی پابندی ہر شاعر کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں اردو شعراء کے کلام میں بظاہر یکسانیت سی محسوس ہوتی ہے۔انہوںنے غزل کی تمام خصوصیات کو اپنے فن میںسمونے کی کوشش کی ہے۔ ان کے اشعار سادگی اور پْر کاری سے لیز ہیں۔مثلاََ
بہ فیض غم ہم اہل دل کے ہاتھوں
دو عالم کا خزینہ آگیا ہے
بھڑک اٹھتی ہے جس میں آگ دل کی
وہ ساون کا مہینہ آگیا ہے
غزل گو شعرا کی صف میں ڈاکٹر منشا نے اپنا ایک منفرد انداز پیش کیا۔انہوں نے اپنی غزلوں کے لیے مترنم بحریں تلاش لیں،دلچسپ ردیف و قوافی کا انتظام کیا اور اکثر طویل ردیفوں سے کام لے کر ترنم پیدا کرنے کی کوشش کی اور اپنے فن کی پختگی کا ثبوت فراہم کیا ہے۔اردو غزل کو انہوںنے جو مزاج دیا بعد آنے والے شعراء نے اس کی پیروی کی۔وہی محبوب پر فداکاری کا سرفروشانہ جذبہ،وہی نیاز مندانہ کیفیت ،وہی شکوہ شکایت میں محبت بھرا انداز،غم عشق کی رواں دواں کیفیتوں کی ترجمانی اور ساتھ ہی اخلاقی مضامین کی بھرمار ان کی غزلوں میں دیکھنے کو ملتی ہے۔معروف اردو شاعر ڈاکٹر شرف الدین ساحلؔ منشاء الرحمن خان منشا کی غزل گوئی کے متعلق لکھتے ہیں:
’’ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا نے یوں تو کئی صنف سخن میں اپنا زور فکر صرف کیا ہے لیکن غزل کے ساتھ انہوںنے جس احترام سے سلوک کیا ہے ۔دیگر اصناف میں ایسا احترام نہیں ملتا۔یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلیں ،منظومات ،قطعات اور رباعیات کے بالمقابل زیادہ پرکیف اور دلنشیں ہیں۔اْن میں جان بھی ہے اور توانائی بھی ،شائستگی بھی ہے اور نفاست بھی ،بے ساختگی بھی ہے اور روانی بھی ،غرض کہ ان میں ایک ایسی ایمائی قوت ہے جس کے سامنے ڈاکٹر منشا کی غزلوں کاقاری غیر ارادی طورپر اپنا سر خم کردیتا ہے۔انہوںنے اپنی غزلوں کے لئے مترنم بحریں تلاش کیں۔دلچسپ ردیف و قوافی کا انتخاب کیا۔اور اکثر طویل ردیفوں سے کام لے کرترنم پیدا کرنے کی کوشش کی اور اپنے فن کی پختگی کا ثبوت فراہم کیا۔طویل ردیفیں اگرخوبصورتی اور شاعرانہ شعور کے ساتھ استعمال نہ کی جائیں تو شعر کا حسن زائل ہوجاتاہے۔منشا صاحب نے اس پر خطر وادی کو سلاست و سادگی کے بل بوتے پر نہایت ہی آسانی کے ساتھ عبور کیا ہے۔موجودہ زمانے میں اس قسم کی مثالیں بہت کم سامنے آتی ہیں۔ڈاکٹر منشا روایت کی گود میں پلے ہیں۔بچپن سے جوانی اور جوانی سے کہولت کی منزلوں کو اسی کےآغوش میں گذارا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں کا ہر شعر روایت کا امین ہے۔‘‘
(حسب منشا،مرتب:عبدالرحیم نشتر،مشمولہ مضمون ’ڈاکٹر منشا کی غزل گوئی،ڈاکٹر شرف الدین ساحل،اگست 1983ء،ص 1)
ڈاکٹر منشاء الرحمن منشا کی غزلیات کا جائزہ بھی اس حقیقت کے اعتراف کے لئے کافی ہے کہ ان کا دائرہ فکر محدود نہیں بلکہ وسیع تر ہے۔انہیں غزل کی روایت سے کما حقہ آگاہی اور غزل کے اسلوب پر مکمل قدرت حاصل ہے۔ انہوں نے ہر قسم کے مضامین اور خیالات کو بڑی خوبی اور حسن نزاکت کے ساتھ غزل کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ان کی غزلیں صرف حسن و عشق کی فرسودہ داستانیں ہی نہیں سناتیں بلکہ زندگی کے بہت سے اہم پہلوئوں تک بھی ڈاکٹر منشا کی نگاہ دور رس تک پہنچتی ہے۔ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا نے زندگی کی نغمہ خوانی کی ہے اور خوب کی ہے۔ آپ کی غزلیں صرف محبوب کے دیار تک ہی محدود نہیں بلکہ سماج کے ان واقعات کی دنیا میں بھی پہنچتی ہے جہاں مظلوموں کی آہیں،بزرگوں کی شفقتیں، یتیم بچوں کی خواہشات کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔اپنی بیشتر غزلوں میں انہوںنے انسانی زندگی کی کشمکش اور رموز کو موثر پیرائے میں پیش کیا ہے۔ پروفیسر احتشام حسین ’نوائے دل‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں:
’’ کسی شاعر کے رنگ سے متاثر ہونے کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ طرز ادا،جذبات ،خیالات اور افکار میں سو فیصدی اس کی پیروی کی جائے لیکن اس رنگ کی ایک ہلکی سی تہ متاثر ہونے والے کے رنگ میں شامل ہوجاتی ہے جسے اس نے اپنےرنگ میں بسا رکھا ہے۔پروفیسر منشاء الرحمن منشا اس کو راز میں نہیں رکھتے کہ وہ جگرؔ کے شعلہ طور اور آتش گْل میں نور ہی نور دیکھتے ہیں پھر اگر اس نور سے وہ اپنا چراغ بھی جلا لیتے ہوں تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہوسکتی۔جو شخص بھی پروفیسر منشاء الرحمن منشا کی غزلوں کا مطالعہ کرے گا اسے اس حقیقت کو سمجھ لینے کے بعد کیف و لطف حاصل کرنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی۔کیونکہ غزل کی شاعری اگر غالبؔ یا اقبالؔ کی طرح ذہنی اور فکری نہ ہوتواْسے انسانی جذبات اور تجربات ،قلبی واردات اور کیفیات کے بیان سے بھی اْسی طرح دقیع اور جانداز ،پْرکیف اور پْر اثر بنایا جاسکتا ہے۔
جیسے ذہنی تجربات اور تصورات کے بیان سے ،یہ صورت حال پروفیسر منشا کی غزلوں میں بھی ملتی ہے۔
(نوائے دل،منشاء الرحمن خاں منشا،1963 حیدرآباد،ص 8-9)
اصناف اردومیں غزل نرم جذبوں کی ترجمانی کرتی ہے۔اس میں پر شکوہ لہجہ کے بجائے نرم و شریں اور دل میں اْترجانے والا لب و لہجہ پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔غنائیت ترنم اور موسیقیت سے اس کے حسن و اثر میں اضافہ ہوتا ہے۔ڈاکٹر منشا کی غزلوں میں بھی ہمیں یہ خوبی قابل قدر حد تک ملتی ہے۔ان کی غزل کے بعض اشعار میں موسیقیت اور غنائیت کی وجہ سے ساحرانہ کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔اشعار پیش ہیں:
عشق کا کام بخت سازی ہے
اس کی ہر بات امتیازی ہے
جس کو کہتے ہیں انقلاب حیات
اک جنوں کی کرشمہ سازی ہے
اس میں کیا آئے بو حقیقت کی
جو مجازی ہے وہ مجازی ہے
ان اشعار کی روشنی میں کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا نے شاعری خاص کر غزل کے اعلی و معیاری تقاضوں کو بہت ہوش مندی کے ساتھ نبھایا ہے۔ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا اردو غزل کی کلاسیکی روایت سے گہرا ربط رکھتے تھے۔اپنی غزلوں میںعشقیہ مضامین کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ باندھا ہے۔وہ پند و موعظمت ،حکمت و معرفت اور تصوف و اخلاق کے مضامین کو بھی رمزیت و ایمائیت،روانی و سلاست سے بیان کرنے کے ہنر سے واقف تھے:
لوگ کیا جانے کیوں رسم وفا بھْول گئے
جینے کے شوق میں مرنے کی ادا بھْول گئے
عیش و عشرت کی تمنّا میں کچھ ایسے اْلجھے
درد کا لطف ،تڑپنے کا مزہ بھول گئے
منشا آلام زمانہ پریشاں ہوکر
اچھے اچھے بھی تو آئین وفا بھْول گئے
سادگی،سلاست اور روانی ڈاکٹر منشا کے غزلوں کے نمایاں اوصاف ہیں۔ان کا کلام زبان کی پختگی کا حامل اور فنی عروضی عیوب سے پاک ہے۔ڈاکٹر منشا کے متعدد اشعار زبان زد خاص و عام ہوگئے ہیں ۔ان اشعار میں برجستگی ،صفائی ،لہجے کا حسن و انداز بیان کی سادگی پائی جاتی ہے۔ان میں سادگی بھی ہے اور پْر کاری بھی ،جلال بھی ہے اور جمال بھی واقفیت کا حسن بھی ہے ،حسن و عشق کے دلکش پیکر بھی ہیں اور روایات کی پاسداری بھی۔سادہ زبان میں شعر کہنا آسان کام نہیں۔سادگی میں ادبیت برقرار رکھنا اور اس میں فلسفہ کا عنصر پیدا کرنا اہم کام ہے۔ان کا یہی سب سے اہم کارنامہ ہے کہ انہوں نے نہایت عام فہم زبان میں شاعری کی ۔اشعار ملاحظہ ہوں:
کس طرح بسر ہوتے ہیں دن رات نہ پْوچھو
صورت ہی فقط دیکھ لو حالات نہ پْوچھو
جینے کا یہ سامان ہمیں بخشا ہے کس نے
ہے کس کی عطا درد کی سوغات نہ پْوچھو
اردو ادب کی حقیقت ہے کہ کسی فن کار کو خواہ وہ کتنا ہی بلند مرتبہ اور با صلاحیت کیو ں نہ ہو،اس کی حیات میں وہ مرتبہ نہیں ملتا جس کا وہ مستحق ہوتا ہے۔ ڈاکٹر منشا بہت خوش نصیب تھے۔ انہیں ان کی زندگی ہی میں کافی شہرت حاصل ہوئی اور سبھی نے ان کی شعری صلاحیت کا اعتراف کیا۔ڈاکٹر منشاء الرحمن خان منشا نے غزل میں وہ کمال حاصل کیا جو مشکل ہی سے کسی شاعر کو حاصل ہوتا ہے۔قدرت جن قلم کاروں پر مہر بان ہوتی ہے انہیں قوت قلم کے ساتھ عمر کی درازی بھی عطا کرتی ہے۔طویل عمراگر خدا کے فضل سے کسی قلم کار کو حاصل ہوتی ہے تو صفحہ قرطاس پر بے شمار تخلیقات پیش کی جاسکتی ہیں ۔ایسی صورت ڈاکٹر منشا کے ساتھ بھی پیش آئی ۔حیرت کی بات ہے کہ عمر کے ۸۶ سال میں انہوںنے ایک مشاعرے میں غزل پڑھی اور اس پر خوب داد حاصل کی تھی۔ڈاکٹر منشا نے تادم مرگ کام کیا،کبھی تھکے نہیں ایک طویل عرصہ تک اردو شاعری کی آبیاری کرتے رہے۔اردو غزل کے سرمائے میں ڈاکٹر منشا ءالرحمن خان منشا نے جو بیش قیمتی اضافے کیے اس کے لیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

Dr.Shaikh Imran
Assistant Professor & Research Guide Urdu
Vasantrao Naik Govt.Instt.of Arts & Social Sciences
Nagpur Maharashtra
Mob:9921986904

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب

اردو شاعری میں بنارس کی جھلکیاں ،مضمون نگار: رئیس انور

اردو دنیا،دسمبر 2025: دریائے گنگاکے کنارے سناتن دھرم کے تین تیر تھ استھان— ہری دوار، رشی کیش اور کاشی یا بنارس ہیں۔ ان کے علاوہ الہ آباد (پریاگ راج) ایک

اقبال کرشن کی غزلیہ شاعری کا تنقیدی جائزہ،مضمون نگار:معراج احمد معراج

اردو دنیا،دسمبر 2025: اقبال کرشن مغربی بنگال کے شعری وادبی افق پر ایک ایسے چاند بن کر نمودار ہوئے کہ اس کی روشنی نے اہلِ فکرو نظر کی آنکھوں کو