اردودنیا،جنوری 2026:
ناٹک اور ڈرامہ بنیادی طور پر ایک سکے کے دو پہلو ہیں یعنی ایسی کہانیاں یا قصے جو اداکاری کے ذریعہ پیش کیے جائیں۔ انھیں پیش کرنے کی چاہے جو بھی مختلف شکلیں ہوں ’’یعنی اسٹیج پر ہوں یا ریڈیو پر نشرکیا جائے یا پھر بصری انداز میں پیش کیا جائے‘‘۔ ناٹک کا لفظ عام طور پر برصغیر ہند وپاک میں استعمال ہوتا ہے۔ ڈرامہ ایک یونانی لفظ ہے جو ’دراما‘ سے نکلا ہے جس کا مطلب حرکت یا عمل ہے۔ خاص طور سے اس کا مقصد ناظرین کو تفریح سے لطف اندوز کرانا یا پھر کسی خاص واقعے یا نظریے سے روشناس کرانا ہوتاہے۔ ڈرامہ کی نمایاں خصوصیات یہ ہوتی ہیں کہ وہ بیانیہ کے بجائے عملی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ڈرامہ میںکوئی کہانی بیان نہیں ہوتی ہے بلکہ اشخاص کے روبرو کہانی کو عملی طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اس کے تمام کردار، افکار اور واقعات زندہ جاوید معلوم ہوتے ہیں۔اس سلسلے میں محمد اسلم قریشی نے بہت اچھی بات لکھی ہے:
’’ڈرامہ انسانی افعال کی ایسی نقل ہے جس میں الفاظ کی موزونیت اور نغمے کے ذریعے کرداروں کو محو گفتگو اور مصروف عمل ہوبہو ویسا ہی دکھایا جائے جیسے کہ وہ ہوتے ہیں۔ یا ان سے بہتر یا بدتر انداز میں پیش کیا جائے۔‘‘
(محمد اسلم قریشی ’ڈرامے کا تاریخی وتنقیدی پس منظر‘ص،76، لاہور، 1971)
قدیم زمانے میںہندوستان اور یونان ڈرامے کے مراکز سمجھے جاتے تھے۔سنسکرت میں ڈراموں کی بہتات ہے۔ صدیوں سے فن ناٹک کو ہندوستان میں بڑی اہمیت حاصل ہے۔ آج بھی اس فن کے گراں قدر نمونے موجود ہیں جن کے ذکر کے بغیر ڈرامے کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی لیکن رفتہ رفتہ ناٹک زوال پذیر ہوتا رہامگر یوروپ کی قومیں جب ہندوستان آئیں تو اپنے ساتھ ادبی، تہذیبی سرمایہ بھی لائیں جس کا اثر ہندوستانی علم وادب پر بھی پڑا اور ان ہی حالات کے پیش نظر اردو ڈرامے کا آغاز وارتقا ہوا۔
والیِ اودھ واجد علی شاہ کو فنون لطیفہ سے حددرجہ دلچسپی تھی۔ انھوں نے قیصر باغ میں ایک عالیشان عمارت تعمیر کروائی اور یہ عالیشان مکان رہسیہ کے لیے خاص کردیا گیا تھا۔عشرت رحمانی یوں رقمطراز ہیں:
’’ان رہسوں کی پیش کش کے دوران میں سلطان نے اپنی ایک مثنوی ’افسانۂ عشق‘ کو بھی اسی طرز پر تیار کرایا اور تمثیل کیا۔اس کا حوالہ شرح اندر سبھامیں سید امانت لکھنوی نے بھی دیا ہے جس میں رہسیہ کی شان وشوکت کا اظہار کیا ہے۔چونکہ اس سے پہلے اردوڈرامے کے کوئی نام ونشان کا کوئی پتہ نہیں ملتا۔اس لیے قرائن سے اندازہ کیا جاسکتاہے کہ اردو ڈراما کا پہلا نقش’افسانۂ عشق‘ تھا جو رہسیہ یا اوپیرا کی شکل میں پیش کیا گیا اور اس طرح اردو کے سب سے پہلے ڈرامہ نگارواجد علی شاہ تھے اور اس کے بعد امانت لکھنوی نے دوسرا نقش ’اندر سبھا‘ پیش کیا۔‘‘
(عشرت رحمانی’اردو ڈراما کا ارتقا‘ ص،46، ایجوکیشنل بک ہاؤس، مسلم یونیورسٹی مارکیٹ، علی گڑھ، 1978)
امتیاز علی تاج نے ڈرامے کے فن کو گہرائی اور توانائی بخشی۔اردو ڈرامہ کی تاریخ میں امتیازعلی تاج کا ڈرامہ ’انار کلی‘ کو شہرت دوام حاصل رہا۔ اس ڈرامہ کی حیثیت ہماری ادبی تاریخ میں سنگ میل کی ہے اور اگر دیکھا جائے تو ادبی اعتبار سے اس ڈرامہ نے قارئین کو اس قدر مسحور کیا کہ دیگر ڈرامے اس کے سامنے ہیچ تصور کیے جانے لگے۔اسی ڈرامہ کی بنیاد پر ایک شاہکار فلم ’مغل اعظم‘بنی۔ ’انارکلی‘ ایک رومانی موضوع پر لکھا گیا ڈرامہ ہے جو فنی اعتبار اور ادبی لحاظ سے ایک اعلیٰ کارنامہ ہے جسے اردو ڈرامہ کی تاریخ میں بلند درجہ دیا گیا ہے۔سید حیدر عباس رضوی لکھتے ہیں:
’’امتیاز علی تاج ادبی لحاظ سے ایک متنوع شخصیت کے مالک تھے۔ انھوں نے صنف ڈراما کی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔فلم کے لیے بھی انھوں نے کہانیاں لکھیں اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کی ادبی خدمات متنوع ہیں اور ان کی تصانیف کی فہرست قدرے طویل ہے۔لیکن ان کی لازوال ادبی شہرت کا انحصار ڈراما ’انار کلی‘ کے مصنف کی حیثیت سے ہے۔ یہ ڈراما تاج کے قلم کا شاہ کار ہے اور اس سے اردو ڈراما نگاری کی تاریخ کا اعتبار قائم ہے۔‘‘
(سید حیدر عباس رضوی’اردو ڈرامااور انار کلی‘ ص،50,51، بھوپال، بک ہاؤس،بدھوارہ، بھوپال، ایم پی، 1977)
ڈراما انار کلی اور فلم مغل اعظم کا بنیادی جزوعشق کی فتحیابی ہے جو بظاہر محبت کی ہارمعلوم ہوتی ہے مگر ایسا نہیں ہے بلکہ سچی محبت کی جیت دکھائی پڑتی ہے۔ڈراما انار کلی اور فلم مغل اعظم کی اگر بات کی جائے تو کہانی، کردار، واقعات وغیرہ کئی ایسے مقامات ہیںجہاں واضح طور پر فرق نظر آتاہے۔ انارکلی اور فلم مغل اعظم کے قصے کی بات کی جائے تو جس طرح ڈرامے میں کہانی کا آغاز محل کے شاہانہ ماحول، کنیزوں کی ہنسی تفریح، چھیڑ چھاڑ اور خوشگوار ماحول کو پیش کیا گیا ہے۔ مگر اس کے برعکس اگر فلم مغل اعظم کی بات کی جائے تو اس کی کہانی کی ابتدا محل سے نہیں ہوتی ہے بلکہ تپتے صحرا میں اکبر کے اس سفر سے ہوتی ہے جس میں لاولد بادشاہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ مزار پر منت مانگنے جاتا ہے اور بڑی منت سماجت اور مرادوں کے بعد ایک نونہال کی آمد ہوتی ہے۔ جس کی پرورش وپرداخت شاہی محل میں ہوتی ہے۔ رفتہ رفتہ عہد طفولیت سے گزرتے ہوئے وہ نوجوانی میں قدم رکھتاہے۔وہ حرم کی ایک کنیز پر فریفتہ ہوجاتاہے، ایک ادنی کنیز کی محبت اس کے رگ وپے میں ہلچل مچادیتی ہے اور وہ انار کلی کے لاکھ سمجھانے سے بھی با ز نہیں آتا۔ ادھر محل میں ایک اورکنیز دلآرام ہے جو ایک طرفہ سلیم کی محبت میں مبتلا ہوچکی تھی اور سلیم کو کسی کا ہوتے نہ دیکھ سکتی تھی۔ جب کہ انار کلی دلارام کے حسن کو پہلے سے ہی ماند کرچکی تھی۔ ایک رات دلارام نے اپنی آنکھوں سے باغ میں دونوں کے ملن کو دیکھ لیا تھا اور اس کے دل میں رشک وحسد کا جوالا مکھی پھوٹ پڑا تھا۔ وہ یہ چاہتی تھی کہ انار کلی اور اس کی محبت کو جلا کر راکھ کردے۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھی کہ یہ بات اکبر کے دل پر بجلی بن کر گرے گی۔ دلارام کو ایسا موقع نوروز پر ملا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انار کلی ظل الٰہی کے حکم سے سپرد زندان کردی گئی۔
انار کلی کی موت کے سبب اس ڈرامہ کو ایک طرح سے انارکلی کی ٹریجڈی بھی کہا جاسکتا ہے۔ چونکہ انار کلی کی موت سے دلی جذبات کو ٹھیس ضرور پہنچتی ہے لیکن دلارام کی موت اور اکبر کے انجام سے یقیناہمارے دل کو سکون ملتا ہے۔ اسی وجہ سے یہاں اکبر کو ٹریجڈی کا ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے۔چونکہ اکبر سے ہی وہ غلطیاں ہوئیں جس کی وجہ سے انار کلی کی موت واقع ہوئی۔یہاں اکبر اپنے مقاصد میں یکسر ناکام نظر آتا ہے اکبر کی اولین غلطی یہ ہے کہ وہ صرف شہنشاہیت کوہی ترجیح دیتا ہے اور اسے یہ گوارا نہیں تھا کہ ایک ادنیٰ کنیز مغلیہ سلطنت کی بہو بنے۔
اکبر اپنے فرزند کے جذبات وخواہشات کو شہنشاہ کے طور پر محسوس کرتارہا۔ اگر وہ سلیم کو باپ کی شفقت سے دیکھتا تو کہانی کا انجام کچھ اور ہی ہوتا۔ چونکہ اکبر نے ایک مستحکم ومنظم حکومت قائم کی تھی۔ اور وہ یہ چاہتا تھا کہ سلیم بھی اسی کی طرح کارنامے انجام دے۔ اس نے سلیم سے اپنے خواب وابستہ کر رکھے تھے اور وہ ہر حال میں ان خوابوں کی تکمیل چاہتا تھا۔
امتیاز علی تاج کے ڈرامہ ’انار کلی‘ پر دو فلمیں بنائی گئیں۔ پہلے نند لال خشونت لال نے انار کلی کے نا م سے پھر کے آصف نے ’مغل اعظم‘ کے نام سے۔ تاریخی نوعیت کے اس قصے کا اکبر اعظم یا مغلیہ تاریخ سے کوئی تعلق نہیں ہے بس یہ ایک قصہ ہے جو بہت مشہور ہے۔ دونوں فلموں میں اس بات کا اظہار نہیںکیا گیا کہ یہ فلم ’انار کلی‘ ڈرامے پر مبنی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ڈرامہ لکھے جانے سے قبل یہ قصہ مقبول اور عام ہوچکا تھا۔ مغل اعظم فلم کاراوی ہندوستان ہے جو اپنے ایک چاہنے والے بادشاہ اکبر اور اس کے بیٹے سلیم اور انارکلی کی کہانی بیان کرتا ہے۔ فلم انار کلی میں ایک غائب راوی ہے جو انارکلی کی محبت کی دردبھری کہانی بیان کرتا ہے۔ اس لیے مغل اعظم میں اکبر بادشاہ کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔دونوں فلموں کا آغاز انارکلی ڈراما جہاں سے شروع ہوا ہے اس سے کافی پہلے ہوتا ہے۔ انار کلی فلم میں سلیم کی محبوبہ ایک معمولی سپاہی سمجھ کر اس سے محبت کرتی ہے۔ مغل اعظم میں پیدائش سے جوانی تک کے واقعات دکھائے گئے ہیں جو ڈرامے میں نہیں ہیں۔ جہاں ڈرامے کی شروعات ہوتی ہے دونوں فلموں میں اس سے پہلے آدھے گھنٹے کی فلم گزر چکی ہوتی ہے۔ دونوں فلموںمیں انار کلی کو قید کرنے کے بعد اس کو سزائے موت دے دی جاتی ہے اور سلیم کو نظربند کردیا جاتا ہے۔ ڈراما یہیں پر ختم ہوجاتا ہے جب کہ دونوں فلموںمیں باقاعدہ جنگ ہوتی ہے جس میں اکبر فتحیاب ہوتاہے۔ پھر اس کے عدل وانصاف کا سلسلہ شروع ہوتاہے اور انارکلی کو سزائے موت تجویز ہوتی ہے۔ لیکن اکبر نے انار کلی کی ماں سے ایک بار وعدہ کیا تھا کہ اس کی زندگی میں ایک بار جو مانگو گی عطا کیا جائے گا۔ وہ انارکلی کی زندگی مانگ لیتی ہے اس طرح انارکلی کو ایک سرنگ سے نکلواکر سرحدوں سے باہر نکال دیا جاتاہے۔
مغل اعظم کو ماہرین نے ہندوستان کی ایک بہترین فلم قراردیا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ فلم ہو یا ڈراما ہر انسان کو متاثر ضرورکرتاہے۔ ڈرامے کی تقریباً ساری چیزیں دونوں فلموں میں شامل ہیں۔
کے آصف مغل اعظم میں انارکلی ڈراما کو پیش نہیں کررہے تھے بلکہ وہ انارکلی کو اپنے تصور کے لحاظ سے اس میں نئے رنگ وروغن بھرکر اس کی تخلیق نو کررہے تھے۔ اس فلم کے آرٹ ڈائریکٹر ایم کے سعید صاحب تھے۔ اسکرین پلے کی ذمہ داری امان نے سنبھالی۔ مکالمے اور ڈائیلاگ کمال امروہوی، احسان رضوی اور وجاہت مرزا نے لکھے۔ یہ فلم1960 میں بنی۔ اس موضوع پر 1953 میں نند لال جسونت لال نے انارکلی کے نام سے فلم بنائی تھی۔جب کہ انار کلی 1922 میں لکھی گئی اور مغل اعظم 1960 میں منظر عام پر آئی۔ ڈرامے میں انارکلی دیواروں میں چنوادی جاتی ہے اور اس کے برعکس فلم میں اسے سزا سنائی جاتی ہے۔ ڈرامے میں جنگ نہیں ہوتی جب کہ فلم میں بھرپور طریقے سے جنگ ہوتی ہے۔
مجموعی طورپر یہ بات بالکل درست ہے کہ کے آصف نے فلم ’مغل اعظم‘ میں اس قصے کو ہی نہیں بلکہ مغلیہ سلطنت کے جاہ وجلال، شان وشوکت، تہذیب وتمدن کو ہر کس و ناکس سے روبرو کرادیا۔اس فلم کی مقبولیت کا عوام پر اتنا گہرا اثر پڑا کہ ہر خاص و عام ان مکالموں کو روزمرہ کی گفتگو میں استعمال کرنے لگے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح ڈراما ’انارکلی‘ فنی پختگی کی حیثیت سے بقائے دوام کا درجہ رکھتا ہے اسی طرح کے آصف نے فلم ’ مغل اعظم‘ بناکر ناظرین کو لازوال اور حسین تحفہ دیا ہے۔
Dr. Waseem Ahmad
Ministry of Defence, Government of India
Office of JS & CAO
New Delhi- 110003
Mob.: 9958485519
wasim137@gmail.com