خشونت سنگھ کی فکری و ادبی معنویت،مضمون نگار: مسعود احمد

February 3, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

ادیب دنیا میں جینے کا ایک خاص طریقہ خود منتخب کرتا ہے۔وہ صرف اپنے عہد کا مشاہدہ نہیں کرتا، اپنی ذہنی اپج،فکری افتاد اور قلم کو بھی اسی مشاہدے کے تابع کردیتاہے۔ہمارے ہاں ایسے ادیبوں میں خشونت سنگھ کا نام نمایاں ہے۔ان کی پوری ادبی اور صحافتی زندگی اس جملے کی عملی تفسیر بن کر سامنے آتی ہے۔وہ روایت کے بت کدے کے مکین ادیب نہیں تھے۔ انھوں نے زندگی کواپنے منفردطرزپرجیا۔ بھرپور قہقہے لگائے۔لوگوںکوہنسایابھی اوررلایابھی اوراپنے اصولوں پرقائم رہتے ہوئے اس دنیاکو خیرباد کہہ گئے۔ ان کا شماربیسویں صدی کے ان چند ہندستانی ادیبوں میں ہوتاہے جنھوںنے ادب کوتفریح اور جمالیاتی تجربے کے ساتھ سماجی ضمیر کی آواز بنادیا۔ان کی تحریروں میں تقدس کا مصنوعی لبادہ ملتا ہے نہ اخلاقی وعظ کی یک رنگی۔یہاںانسان اپنی تمام تر کمزوریوں، پیچیدگیوں، سچائیوں اور تضادوں کے ساتھ موجود نظر آتاہے۔
خوشونت سنگھ کی پیدائش 15اگست 1915کو پنجاب کے ہڈالی نامی گائوں میں ایک سکھ خاندان میں ہوئی۔ان کا پیدائشی نام خوشحال سنگھ تھا۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ اعلی تعلیم کے لیے لندن کا سفر کیا۔ وہ بچپن سے ہی بلا کے ذہین تھے۔ یہی ذہانت آگے چل کر ان کی تحریروں کا حصہ بنی ۔ اسی ذہانت نے ان کے قارئین اور سامعین کو سوچنے پر مجبور کیا۔ انھیں چونکایا اور بسا اوقات بے چین بھی کیا۔انھوں نے قانونی تعلیم حاصل کی۔ لاہور کی عدالت میں وکالت کا آغازبھی کیا۔تاہم انھیں جلد اس بات کا احساس ہو گیا کہ قانون کے رسمی ضابطے ان کی فکری تشنگی کو سیراب نہیں کر سکتے۔نتیجتاً وہ ادب اور صحافت کی جانب مائل ہوئے۔یہاں سوال اٹھانے کی آزادی قدرے زیادہ تھی۔ 1951میں وہ آکاش وانی سے منسلک ہو گئے۔
خوشونت سنگھ بیک وقت ادیب ، مورخ، صحافی اور وکیل تھے۔ان کا نام آتے ہی انسانی ذہن فوراً تقسیم ہند کے سانحے کی طرف چلاجاتاہے۔ اس موضوع کو انھوں نے اپنے شہرہ آفاق ناول’A Train to Pakistan'(پاکستان ایکسپریس) میں نہایت سادہ مگر دل دہلا دینے والے اسلوب میں پیش کیاہے۔تقسیم ہند ان کی زندگی کا سب سے گہرا اور فیصلہ کن تجربہ ثابت ہوئی۔ یہ ناول 1955میں لکھا گیا اور 1956میں پہلی بار شائع ہوا۔1998 میں اس ناول پر مبنی ایک فلم بھی ریلیزہوئی۔اس ناول میں نہ سیاسی نعرے ہیں نہ نظریاتی خطابت ۔اس میں خالص انسان ہے ۔خوف زدہ،الجھن کا شکار اور ٹوٹا بکھرا ہوا۔یہ رویہ البرٹ کامیو کے اس تصور سے ہم آہنگ ہے کہ ادیب کا کام فیصلہ سنانا نہیں بلکہ حالات کو سمجھنا ہے۔ ’اے ٹرین ٹو پاکستان‘ دراصل انسان کو سمجھنے کی ہی ایک کوشش ہے۔ وہ روایت کے پاسدار تھے نہ مصلحت پسند۔بلکہ جیسا سوچتے تھے اسے بعینہ ورق پر اتارنے کے دھنی تھے۔نیزاپنے لکھے ہوئے پر قائم بھی رہتے تھے۔اس انداز نے انھیں ہندوستانی انگریزی ادب کی اہم آواز بنا دیا۔ان کی سب سے نمایاں خصوصیت روایت شکنی ہے۔انھوں نے ادبی روایت کی اندھی تقلید نہیں کی۔ نہ ہی سماجی اقدار کو مقدس سمجھ کرانھیں سوال سے بالاتر رکھا۔مذہب، سیاست، جنس، بڑھاپا اور موت کوئی موضوع ان کے لیے ممنوع نہیں تھا۔انھوں نے خود لکھا کہ ادب کا مقصد قاری کو خوش فہمی میں مبتلا رکھنا نہیں بلکہ اسے آئینہ دکھانا ہے۔آئینہ ہمیشہ بے رحم ہوتا ہے۔ خوشونت سنگھ کا قلم بھی بے رحمی کی صفت سے مملو تھا۔
خوشونت سنگھ بر صغیر کے شاید واحد ایسے ادیب ہیں جنھوں نے پوری زندگی انگریزی میں لکھا۔لیکن انھیں ہندی اور اردو میں بھی ہمیشہ قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا ۔ مصنف کے طور پر وہ اپنی غیرجانب داری،مزاحیہ انداز ،سیکولرزم اور شاعرانہ انداز بیان کے لیے مقبول تھے۔ انھوں نے اپنی خود نوشت Truth,Love & a Little Maliceکے عنوان سے لکھی۔ یہ اٹھارہ ابواب پر مشتمل ہے۔اس کا اردو ترجمہ ’سچ،محبت اور ذرا ساکینہ ‘کے عنوان سے ہوا۔یہ خود نوشت ان کی ادبی دیانت داری کا بین ثبوت ہے۔انھوں نے خود کو فرشتہ یا معاشرے سے ماورا کوئی فرد بنا کر پیش نہیں کیا۔بلکہ اپنی تمام کمزوریوں اور لغزشوںکو مزے لے لے کر بیان کیا۔یہ خود نوشت دراصل ایک ادبی اعتراف نامہ ہے۔یہاں ادیب اپنے خود ساختہ اخلاقی بتوں کو توڑ دیتا ہے۔ اردو ادب کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ رویہ ہمیں سعادت حسن منٹو کے افسانوں میں جا بجا ملتا ہے۔ وہاں بھی سچ سب سے بڑی قدر کے طور پر ابھرتا ہے۔
خوشونت سنگھ کی صحافتی زندگی انگریزی اور اردو صحافت کی تاریخ میں ایک نمایاںمقام رکھتی ہے۔ انھوں نے بے باکی،سچائی،طنز،شگفتگی اور بے لاگ تنقید کو صحافت کا شعار بنا دیا۔ان کی صحافتی زندگی کا آغاز آزاد ہندوستان میں ہوا۔اس وقت قوم تعمیر نو کے ابتدائی مراحل میں تھی اور صحافت پر سنجیدہ اخلاقی ذمہ داریاں عائد تھیں۔انھوں نے اپنے صحافتی کیرئر کا آغاز آل انڈیا ریڈیو دہلی سے کیا تھا۔پھر وہ پرنٹ میڈیا کی طرف متوجہ ہوئے۔یہاں ان کی صلاحتیوں کو جلا ملی۔وہ The Illustrated weekly of India کے مدیر مقرر ہوئے۔ان کی ادارت میں اس جریدے نے ادبی و فکری صحافت کی مضبوط نیو رکھی۔اس کے بعد انھوں نےNational Herald اور Hindustan Times جیسے معتبر اخبارات میں بھی نمایاںخدمات انجام دیں۔ہندوستان ٹائمز میں شائع ہونے والا ان کا ہفتہ وار کالم With Malice Towards One and All بے حد مقبول ہوا۔اس کالم میںانھوںنے مختلف سیاسی، سماجی اورمذہبی مسائل کو موضوع بنایا۔وہ ہمیشہ طنز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے اور قاری کو سوچنے پر آمادہ کر دیتے تھے۔
خوشونت سنگھ کی صحافت کی سب سے نمایاں خصوصیت ’بے خوفی‘تھی۔وہ کسی جماعت،مذہبی گروہ یا طاقتور فرد سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ باوجود ا س کے ان کی تحریروں میں انسانی اقدار، جمہوریت اور آزادی اظہار سے وابستگی نمایاں رہی۔اسلوب کے اعتبار سے ان کی صحافت سادہ ،رواں اورشگفتہ تھی۔ وہ سنجیدہ موضوعات کو عام فہم زبان میں پیش کرتے تھے۔جس سے ان کی تحریریں عوام و خواص دونوں میں مقبول ہوئیں۔ان کی صحافت میں ذاتی مشاہدہ، تاریخی شعوراورسماجی حساسیت کاحسین امتراج ملتاہے۔انھوں نے صحافت کو محض خبر رسانی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سماجی احتساب اور فکری رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔معروف مورخ رام چندر گوہا کے مطابق
“Khushwant Singh belonged to a rare tribe of indian public intellectuals who spoke truth to power without fear”
خوشونت سنگھ کی تاریخ نگاری ان کی ہمہ جہت شخصیت کا ایک وقیع پہلو ہے۔تاریخ کے میدان میں انھوں نے کم طبع آزمائی کی۔باوجود اس کے انھیں منفرد مورخ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ان کی تاریخ نگاری روایتی معنوں میں محض واقعات کی ترتیب نہیں بلکہ انسانی تجربے،سماجی رویوں اور تہذیبی شعور کی عکاس ہے۔ان کی تاریخ نگاری کا سب سے نمایاں نمونہ ان کی شہرہ آفاق تصنیف A History of the Sikhs ہے۔یہ کتاب دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ اس میں انھوں نے سکھ مذہب کے آغاز سے لے کر بیسویں صدی کے وسط تک کی تاریخ کو نہایت تحقیق، توازن اور غیر جانب داری کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس تصنیف میں انھوں نے سیاسی واقعات، مذہبی افکار،سماجی ڈھانچے اور ثقافتی عوامل کو تاریخی تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب محض سکھ تاریخ ہی نہیں بلکہ برصغیر کی مجموعی تاریخ کی فہم کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
خوشونت سنگھ کی تاریخ نگاری میں سب سے اہم وصف ان کی حقیقت پسندی ہے۔ وہ تاریخ کو تقدیس کے پردے میں چھپا کر پیش کرنے کے قائل نہیں تھے۔انھوں نے تاریخی شخصیات اور تحریکوں کا تجزیہ کرتے ہوئے انسانی کمزوریوں ،تضادات اور عملی مسائل کو بھی واضح کیا۔ان کا ماننا تھا کہ تاریخ کا مقصد صرف فخرکے مواقع پیدا کرنا نہیں ،ماضی سے سبق حاصل کرنا بھی ہے۔اسی نقطہ نظر نے ان کی تحریروں کو فکری گہرائی عطا کی۔دوسرا نمایاں وصف اسلوب کی سادگی اور روانی ہے۔وہ بھاری بھر کم اصطلاحات کے استعمال سے شعوری اجتناب برتتے ہیں۔ان کی تحریریں تحقیقی بنیادوں پر قائم ہیں تاہم زبان و انداز ایسا ہے کہ عام قاری بھی ان سے مستفیض ہو سکتا ہے۔وہ خشک اور پیچیدہ علمی اسلوب سے گریز کرتے تھے ۔نیز تاریخ کو ایک جیتی جاگتی کہانی کی صورت میں بیان کرتے تھے۔اسلوب کی اسی دلکشی کی بدولت ان کی تاریخ نگاری اہل علم کے حصار سے باہر بھی اپنے پائوں پسارتی ہے۔غرض یہ کہ انھوں نے تاریخ کو ماضی کا بوجھ نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی رہنمائی کا ذریعہ بنایا۔
خوشونت سنگھ بہت ڈسپلنڈ شخص تھے۔وہ صبح چار بجے جاگتے تھے ۔رات کو آٹھ بجتے ہی بسترکا رخ کرتے تھے۔ انھوںنے اپنے گھرکے صدر دروازے پر یہ تختی لگا رکھی تھی کہ اگر آپ نے پہلے سے ملاقات کا وقت نہیں لیا ہے تو برائے مہربانی گھنٹی نہ بجائیں۔ ایک مرتبہ وہ سابق صدر جمہوریہ ہند گیانی ذیل سنگھ کے کسی پروگرام میںتھے۔شام کو آٹھ بجتے ہی انھوں نے بے تکلفی کے ساتھ صدر ہند سے کہا ’’گیانی میں چلتا ہوں‘‘اور پروگرام سے چلے آئے۔ سابق صدر اے پی جے عبدالکلام بھی ملاقات کی غرض سے ان کے گھر گئے تھے۔ خوشونت سنگھ کے مطابق انھیں اس امر کی بالکل توقع نہیں تھی۔عبدالکلام صاحب کے غیر متوقع دورے نے انھیں چونکا دیا ۔
بنجامن فرنکلن نے لکھا ہے
’’ اگر تم چاہتے ہو کہ مرنے اور گل سڑ جانے کے بعد تمھیں فراموش نہ کر دیا جائے تو پھر یا تو پڑھے جانے کے قابل چیزیں لکھو یا لکھے جانے کے قابل کام کرو۔ــ‘‘
یہ قول خوشونت سنگھ نے اپنی خود نوشت میں درج کیا ہے۔ انھوں نے اس پر عمل کرتے ہوئے ایسی تصانیف یادگار چھوڑیں جو انھیں تا قیامت زندہ رکھیں گی۔انھیںمکمل طور پر ناول نگار کہا جا سکتا ہے نہ محض صحافی ۔وہ دراصل ایک عہد ہیں، ایسا عہد جس میں ادب، صحافت، تاریخ اور ذاتی تجربہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتے ہیں۔ان کی تحریریں آج بھی زندہ ہیں۔ اس لیے کہ وہ سچی ہیں اور سچ کبھی پرانا نہیں ہوتا۔
خوشونت سنگھ نے بڑھاپے اور موت پر بھی غیرمعمولی سچائی سے لکھا۔98برس کی عمر میں وہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ اب انھیں مزید کتابیں لکھنے کا شوق نہیں۔اب وہ زندگی کو خاموشی سے دیکھنا چاہتے ہیں۔یہ اعتراف کمزور ادیب کا نہیں ایک مطمئن فکری مسافر کا ہے۔ان کے الفاظ ہیں۔
’’یوم آزادی 2012کو میں 98سال کا ہو گیا۔مجھے اپنی صحت کا بخوبی علم ہے۔مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ میں اس کے بعد کوئی دوسری کتاب نہیں لکھ سکوں گا۔۔۔سچ یہ ہے کہ اب میں مرنا چاہتا ہوں۔میں بہت لمبی عمر گزار چکا ہوں‘‘۔
خوشونت سنگھ کے خاندان کے لوگوں بالخصوص والدین نے طویل عمریں پائی تھیں۔ان کے والد کا انتقال88 برس کی عمر میں ہوا۔والدہ نے 94 برس کی عمر میں آخری سانس لی۔ خشونت سنگھ نے خود 99 برس کی عمر میں اس دنیا کو خیرباد کہا۔مختصر یہ کہ انھوں نے دنیا میں جینے کا جو طریقہ اختیار کیا وہ آسان نہیں تھا۔اس راستے میں تنقید بھی تھی ،تنہائی بھی اور بدنامی بھی ۔مگر وہ مرد آہن کی طرح ڈٹے رہے۔یہی ادیب کی پہچان ہے۔
مآخذ و مصادر
1 سنگھ ،خشونت،پاکستان ایکسپریس، ترجمہ،مسعود منور، موڈرن پبلشنگ ہائوس ،گولا مارکیٹ،دریا گنج،نئی دہلی،1996
2 سنگھ ،خشونت،سچ ،محبت اور ذرا سا کینہ،آپ بیتی، ترجمہ، محمد احسن بٹ،ایم ۔آر پبلی کیشنز،نئی دہلی،2018
3. Md Jakir hossain,Every place is a palimpsest, A critical reading of Khushwant singh,s Delhi- A Novel,http://museindia.com.
4. Suman Rani and Pawan kumar Sharma,A Critical study of the portrayal of staire in Khushwant Singh’s selected novels,International Journal of Advanced Academic Studies

Dr Masood Ahmed
Room No 12,First Floor
House No.402A/3, Pal dairy,Munirka
New Delhi-110067
Mob.9797303914

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

راجندر سنگھ بیدی — زندگی اور شخصیت

راجندر سنگھ بیدی، جیسا کہ انھوں نے خود اپنی پیدائش کے متعلق کہا ہے، یکم ستمبر 1915 کی سویر کو لاہور میں 3 بج کر 47 منٹ پر پیدا ہوئے۔بیدی

انجم مانپوری: صحافی، شاعر اور طنز و مزاح نگار،مضمون نگار:محمد جمیل اختر جلیلی

اردو دنیا،دسمبر 2025: انجم مانپوری کااصل نام ’نورمحمد‘ ہے،جب کہ قلمی نام ’انجم مانپوری‘ ہے۔ معروف اپنے قلمی نام سے ہی ہوئے، ان کی پیدائش 1300ھ مطابق 1881 میں ضلع

سجاد مہدی حسینی کی علمی شخصیت،مضمون نگار:سرفراز جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی 24اپریل 2021 کو سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ اپنے عزیز و اقربا کے خانہ ہائے دل میں گہرے رنج و ملال کی