خوشونت سنگھ اور ان کی فکشن نگاری ،مضمون نگار:نوشاد کامران

February 3, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

ہندوستان کی مٹی میں کچھ ایسی اعجا ز نمابات ہے کہ یہاں اتحاد و اتفاق، اخوت و ہمدردی کو تحفظ و فروغ دینے والی ہستیاں ہمیشہ رونما ہوتی رہی ہیں جنھوں نے اپنی تحریروں ، تقریروں اور عملی کوششوں کے ذریعے ملک کی سا لمیت اور امن و آشتی کوقائم رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔انھوں نے ملک کے مظلوم طبقے کے حق میں نہ صرف اپنی جنبش قلم کا استعمال کیا بلکہ ظلم و ناانصافی کے خلاف عملی اقدام بھی کیے۔ ہندوستان کے ایسے ہی جیالوں میں خوشونت سنگھ کا شمارہوتا ہے ۔
خوشونت سنگھ ایک کثیر الجہت انسان تھے۔ وہ بیک وقت ماہر قانون، بالغ النظر صحافی، ذی علم ادیب،کامیاب مدیر، مترجم اور تاریخ داں تھے لیکن انھوں نے خود کو سچا ہندوستانی کہلوانا پسند کیا۔ وہ ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کے زبردست حامی اور بہی خواہ تھے۔ انھوں نے اسی تہذیب کو اپنی تخلیقات میں زندہ کرنے کی کوشش کی۔
خوشونت سنگھ کی پیدائش 2فروری1914 کو ہڈالی، پاکستان میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اپنے گائوں سے حاصل کرنے کے بعدانھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور میں داخلہ لیا۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ ولایت گئے اور وہاں سے بیرسٹری کی تعلیم مکمل کی۔ خوشونت سنگھ تعلیم کے معاملے میں اوسط درجے کے طالب علم تھے۔ انھوں نے پرسار بھارتی میں دیے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ وہ اپنے دیگر بھائیوں کی نسبت پڑھنے لکھنے میں کمزور تھے وہ کہتے ہیں:
’’میرے پتاجی تو چاہتے تھے کہ میں وکالت میں جائوں، ہم چار بھائی ہیں۔وہ تین تو پڑھائی میں بہت تیز تھے، فرسٹ ڈویژن لاتے تھے اور ایک میں ہی ہوں جس کو امتحان پاس کرنے میں مشکل رہتی تھی ، تھرڈ ڈویژن ملا کرتے تھے۔انھوں (والد صاحب) نے کہا کہ بھئی ہماری اولاد میں سے یہی ایک نالائق ہے اور یہ بحث مباحثہ بہت کرتا ہے تو اسے وکیل ہی بنائیں تو انھوں نے مجھے ولایت بھیجا بیرسٹری کرنے کے لیے۔‘‘1؎
قانون کی تعلیم مکمل کرکے خوشونت سنگھ واپس ہندوستان آئے اور انھوں نے لاہور میں وکالت کی پریکٹس شروع کر دی لیکن ان کو اس میں کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ملی ۔ اسی دوران تقسیم ہند کا واقعہ پیش آیا۔ خوشونت سنگھ تقسیم کے بعد پاکستان سے دہلی آگئے ۔ ہندوستان آنے کے بعد وہ کچھ عرصے کے لیے وزارت خارجہ سے منسلک رہے ۔ اس زمانے تک ان کے اندر کا قلمکاران کی شخصیت پرغالب آچکاتھا۔چنانچہ انھوں نے وزارت خارجہ سے خود کو علاحدہ کر لیا اور پورے انہماک کے ساتھ تصنیف وتالیف میں سرگرم ہوگئے۔ انھوں نے ملک کے سربرآوردہ اخبارات و رسائل کی ادارت کی اور اپنی غیر معمولی ادارتی صلاحیت کی بنیاد پر ان جرائد کو نئی بلند یاں عطا کیں۔ ان کے زیر ادارت جریدوں میں السٹریٹیڈ ویکلی اور ہندوستان ٹائمز قابل ذکر ہیں۔خوشونت سنگھ کے ہفتہ وار کالم ملک ا ور بیرون ملک کے مختلف پرچوں کی زینت بنتے تھے۔ ان کا عمیق مطالعہ، وسیع مشاہدہ اور طبیعت کی ظرافت ان کی تحریروں کو پروقار اور لطیف بناتے تھے۔ان کے منفرد لب و لہجے اور اچھوتے انداز بیان کی وجہ سے خوشونت سنگھ کا قاری ان کی تحریرکاگرویدہ تھا۔
خوشونت سنگھ نے اگرچہ انگریزی کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا لیکن ان کی تحریروں پر اردو زبان کے اثرات صاف نظر آتے ہیں۔ خوشونت سنگھ اپنے موضوعات کی تشکیل میں ان عناصر کو شامل رکھتے ہیں جہاں سے اردو زبان و ادب کا خمیر تیار ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریریں اردو دنیا کے قارئین کو بھی بہت خوش آتی ہیں۔ خوشونت سنگھ نے متعدد ناول، افسانے،تاریخی کتابیں اور تراجم لکھے ہیں۔ ان میں ٹرین ٹو پاکستان(1956)، آئی شیل ناٹ ہیٔردانائٹ اینگل (1959)، دہلی (1990)، دا کمپنی آف ویمن(1999 )، دا سن سیٹ کلب (2005)ہسٹری آف سکھ اور تراجم شکوہ ،جواب شکوہ و غیرہ قابل ذکر ہیں۔
خوشونت سنگھ جتنے کامیاب ناول نگار ہیں اتنے عمدہ افسانہ نگاربھی۔ موضوعات کی نیرنگی، پر لطف انداز بیان اور ظرافت کی آمیزش ان کے افسانوں کو منفرد و ممتازبناتے ہیں۔’’جب دولت رام مرا‘‘، ’’کالی چمیلی‘‘، ’’صاحب کی بیوی‘‘، ’’تتلی‘‘، ’’ناستک‘‘ اور ’’مرنے کے بعد‘‘ وغیرہ ان کے بہترین افسانے ہیں۔ خوشونت سنگھ اگرچہ انگریزی زبان میں لکھتے تھے مگر اپنی تحریر کے لیے مضامین و موضوعات کا انتخاب وہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت سے کرتے تھے۔ انھیں اپنی تہذیب اوراپنے لوگوں سے بے پناہ محبت تھی۔اس کے باوجود انھوں نے کسی خامی یا نقص کو نظر اندازنہیں کیا۔ اپنے افسانوں کے ذریعے انھوں نے رجعت پسندی اور دقیانوسی مکتب فکر پر چوٹ بھی کی۔ ان کی اکثر کہانیوں کے کردار تہ دار ہوتے ہیں۔ یہ کردارشریف یا فرشتہ صفت نہیں ہوتے بلکہ ان میں وہ ساری برائیاں اور خصلتیں پائی جاتی ہیں جو موجودہ زمانے کے عام آدمی میں پائی جاتی ہیں۔ ان کے بعض کردار کثرت سے مے نوشی کرتے ہیں اور بیمار پڑتے ہیں،توبہ کرتے ہیں اور پھر پیتے ہیں۔ وہ بنرجی اور مارتھا جیسے کردار خلق کرتے ہیں جو عمر کے آخری حصے میں پہنچ کر بھی جنسی تعلقات قائم کرتے ہیں۔خوشونت سنگھ سر موہن لال جیسا انگریزی داں اور خود پسند کرداربھی تخلیق کرتے ہیں جو خود کو انگریزوں کے موافق بنانے کی کوشش کرتا ہے اور تیسرے درجے کے انگریزوں کے ذریعے دھتکار دیا جاتا ہے۔خوشونت سنگھ اپنے کرداروں کے عادات و اطوار کی تفصیل نہیں بتاتے بلکہ ان کے افعال کے ذریعے قاری کے ذہن پر مثبت و منفی نقش ثبت کرنے کی کو شش کرتے ہیں ۔ وہ اپنے افسانوں میں ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں کہ ان کا کردار گناہ کرنے کے باوجود گنہگارکے بجائے معصوم ومجبورمعلوم ہوتاہے۔ افسانوں کے اختتام پر قاری کے ذہن میں تادیر یہ قصہ باقی رہتا ہے کہ وہ کہانی کے کردار سے نفرت کرتا ہے یا ہمدردی رکھتا ہے۔کرتار سنگھ دگل لکھتے ہیں:
’’سب سے بڑی خوبی ان افسانوں کی یہ ہے کہ ان کے تخلیق کار کا دل سمندر جیسا وسیع ہے۔ جو ہمدردی ان افسانوں میں ایک ادیب کی اپنے کرداروں کے لیے مجھے محسوس ہوئی ہے وہ بہت کم ہمارے باقی ادب میں دکھائی دیتی ہے ۔ہمارے افسانوں ، ہمارے ناولوں کے برے لوگ صرف برے لوگ ہوتے ہیں ان میں کوئی خوبی دکھائی نہیں جاتی۔ اچھے لوگ صرف اچھے لوگ ہوتے ہیں، مجال ہے کہیں خواب میں بھی کوئی غلطی کر جائیں ۔۔۔بیمے کا ایجنٹ بڑا گھٹیا آدمی ہے، لیکن اس کو ایسا کہنے سے مصنف آخر تک کتراتا رہتا ہے۔ اس افسانے میں تخلیق کار کی اپنے کردار سے جو ہمدردی نظر آتی ہے، اس کی مثال مجھے ہندوستان چھوڑ دنیا کے دوسرے افسانوں میں بھی کہیں کہیں ہی دکھائی دیتی ہے۔‘‘2؎
اردو زبان میں تقسیم ہندکے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات اور فسادات کے موضوع پر ، اور انسان مر گیا، میرے بھی صنم خانے، سفینۂ غم دل، آگ کا دریا، خدا کی بستی، غدار،اداس نسلیں، آنگن، لہو کے پھول، ایوان غزل، آخر شب کے ہمسفر، بستی،زمین ، تذکرہ، دو گز زمین، خوابوں کا سویرا جیسے ناو ل لکھے گئے۔ انگریزی زبان میں لکھا گیا خوشونت سنگھ کا ناول ’’ٹرین ٹو پاکستان‘‘ بھی اسی نوعیت کا منفرد ناول ہے ۔ جس کی شہرت اور مقبولیت کے پیش نظر ڈاکٹرعرفان احمد نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا ۔
اس ناول میں خوشونت سنگھ نے سرحد پر واقع ایک گائوں کے لوگوں کے باہمی میل جول اور انتشار و افتراق کے درمیان محبت کی قوت کو ابھارنے کی کوشش کی ہے۔ تقسیم ہند کے زمانے میں جہاں پورا ملک منافرت اور عصبیت کے خوف و ہراس میں مبتلا تھا، پنجاب کا یہ گائوں اخوت و برادرانہ ہم آہنگی کی مثال بنا ہوا تھا ۔ لیکن کچھ ہی دنوں میں اس گائوں کو بھی فرقہ واریت کی نظر لگ گئی۔ البتہ گائوں کا ہی ایک بدمعاش جگت سنگھ عرف جگا اپنی جان کی بازی لگا کرمنوماجرا میں قتل و غارت ہونے سے بچا لیتا ہے۔
خوشونت سنگھ نے اس ناول میں جہاں یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ آدمی خواہ کتنا ہی برا ہو جائے اس کے اندر انسانیت کاشرارہ ضرور باقی رہتا ہے جسے ایک متناسب ہوا کاجھونکا کبھی بھی تابندہ کر سکتا ہے۔ یہ ناول اگر چہ بہت نازک اور سنجیدہ موضوع کو محیط ہے مگر خوشونت سنگھ نے ڈاک بنگلے کے واقعات، جیل خانے کے مناظر اور جگا اور نوراں کے معاشقے کے ذریعے ناول کی فضا کو بوجھل اور خشک ہونے سے بچائے رکھا ہے۔ ناول کو پڑھتے ہوئے جہاں غم کی زیریں لہریں طبیعت کو مغموم کرتی ہیں، وہیں لطف و انبساط کی نرم پھوار بھی محسوس ہوتی ہے اور قاری محبت ، درد،نفرت، حوصلہ مندی،غصہ ، رحم دلی،سازش، جرأت و شجاعت کی وادیوں کو سبک سری کے ساتھ پار کرتا چلا جاتا ہے۔ آزادی کے زمانے کے ہندوستانی گائوں کے حسین مناظر سادہ دل کسانوں کی روزمرہ زندگی ، گرودوارے کا کیرتن،ڈاک بنگلے کی رونق اور اسٹیشن کی گہماگہمی کی بہترین تصویریں ناول میں جگہ جگہ نظر آتی ہیں۔اس کی اہمیت اور معنویت کی بنا پر ہی 1998 میں پامیلا روکس نے اس ناول پر فلم بنائی جو بہت پسند کی گئی۔
خوشونت سنگھ کاایک اور ناول ’دہلی ‘ ہے جوایک نیم تاریخی ناول ہے۔ اردو میں فردوس بریں، لہو کے پھول، داراشکوہ، آگ کا دریا، اداس نسلیں، کئی چاند تھے سر آسماں‘ وغیرہ اسی قبیل کے بہترین ناول ہیں۔ خوشونت سنگھ نے اس ناول میں عہد وسطی اور عہد جدید کی دہلی کی تاریخ کو پیش نظر رکھا۔انھوں نے سات سو برس سے زائد عرصے پر مبنی دہلی کی تاریخ کو افسانوی قالب میں ڈھالا ہے۔اس ناو ل میں جہاں حکومتوں کے قائم ہونے اور تاراج ہوجانے کے درمیان سلاطین و امرا کاجاہ و جلال،تزک و احتشام نظر آتا ہے وہیںاس معاشرت کی مخدوش تصویریں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ اس تاریخی بیانیہ میں مختلف ادوار کی دہلی میں رائج امرد پرستی اور شہوانیت کو بھی ناول میں بے کم و کاست بیان کیا گیا ہے۔
اس ناول کو پڑھتے ہوئے قاری خود کو بھی اس عہد و ماحول کا حصہ سمجھتا ہے جہاںغیاث پور کے صوفی دربار لگاتے ہیں اور عوام کا ہجوم ہوتا ہے۔ ان کے پردہ فرمانے کے بعد امیر خسرو ان کے مزار پر پہنچتے ہیں تو لوگ یہ دیکھنے کے لیے جمع ہونے لگتے ہیں کہ اگر امیر خسرو ان کی قبر کے قریب گئے تو محبوب الٰہی وصیت کے مطابق اپنے عارف باللہ مرید کوگلے لگانے کے لیے مدفن سے باہر نکل آئیں گے۔ امیر خسرو آہ و زاری کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں مگر حضرت نصیر الدین چراغ دلی انھیں مضبوطی کے ساتھ گلے لگا لیتے ہیں۔ ناول میں اس طرح کے تاریخی واقعات افسانوی صورت میں جگہ جگہ موجود ہیں۔علاء الدین خلجی ، محمد بن تغلق ، شاہ جہاں، اورنگ زیب جیسی تاریخی ہستیاں اپنے کر و فر کے ساتھ نظر آتی ہیں۔ متعدد فرضی کردار بھی زیب داستان کے لیے خلق کیے گئے ہیں۔ان میں بھاگ متی کا کردار مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔
اس ناو ل میں شہر دہلی خود ایک جیتے جاگتے کردار کی طرح محسوس ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ تخریب و تعمیر کے مرحلے سے گزرتا ہے۔اسی بنتی بکھرتی دہلی میں ادبی سرگرمی بھی آب و تاب کے ساتھ نظر آتی ہے۔ عوام و خواص کی شعر و شاعری سے دلچسپی ، سلاطین و امرا کا شعری محفلیں قائم کرنا اور شعرا و ادبا کی سرپرستی قابل دید ہے۔ خوشونت سنگھ نے اس ناول میں اشعر الشعرا میرتقی میر کے حوالے سے پورا ایک باب قائم کیا ہے ۔ اس میں انھوں نے میر کی زندگی کی کہانی انھیں کی زبانی کہلوائی ہے۔ آگرے کی ادبی فضا اور ایک باصلاحیت نوجوان کی پروان چڑھتی شاعری ،ادبی حلقوں میں اس شہرت اور دیگر شاعروں سے ادبی چشمک کو ناول میں خوبصورتی سے بیان کیا گیاہے۔ چونکہ خوشونت سنگھ کامیاب مترجم بھی تھے لہٰذا انھوں نے میر کے کئی اشعار کا ترجمہ بھی بلا تکلف ناول میں شامل کیا ہے۔ میرتقی میر کا شعر ہے ؎
کچھ نہ دیکھا پھر بجز یک شعلۂ پر پیچ و تاب
شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا
اس شعر کا ترجمہ خوشونت سنگھ نے کیا ہے:
The Flam it saw,
But thereafter nothing besides the curving,
Leaping tonques of fire.
By the time its eyes were on the flame,
The moth was in the fire. ؎3
خوشونت سنگھ نے اس میںشعر کہانی کے بہائومیں نہ صرف مدد لی ہے بلکہ پروانہ سے ان کے ادبی چشمک کے ضمن میں اس شعر کو استعمال کرکے لطف کو دو آتشہ کر دیا ہے جو ان کی شعر فہمی اور حس مزاح پر د ال ہے۔ناول کے اس حصے کو پڑھتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی کے ناول ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘ کے اس حصے کی یاد آنا لازمی ہے جہاں انھوںنے نواب مرزا خان داغ دہلوی کا ذکر کیا ہے۔
خوشونت سنگھ کی دہلی محفل کی طرح متعدد بار سجتی ہے اور اجڑ جاتی ہے۔ انگریزوں کے زمانے میںبھی دہلی پر ستم ڈھائے جاتے ہیں۔ اس ناول کے ذریعے خوشونت سنگھ نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ بار بار منہدم ہونے کے باوجود شہر دہلی کی رونق روز افزوں ہے۔
اس ناول کے بارے میں خوشونت سنگھ کہتے ہیں کہ ناول لکھنے کا ان کا واحد مقصد یہ تھا کہ جس طرح وہ دہلی کو جانتے ہیں اپنے قاری کو بھی اس سے متعارف کر اسکیں اور جتنی شدید محبت ان کے دل میں دہلی کے لیے ہے ویسی ہی محبت اپنے قارئین کے دل میں بھی پیدا کر سکیں۔ ناول پڑھ کر بلا خوف تردید کہا جا سکتا ہے کہ خوشونت سنگھ اپنے قارئین کے دل میں دہلی اور ہندوستان کی محبت کو جاگزیں کرنے میں کامیاب ہیں۔
حواشی
1 htttps://www.youtube.com/watch?v=f_7Wk32j2HM
2 Delhi A Novel by Khushwant Singh Digital Edition 2011
3 ’’خوشونت سنگھ کے بہترین افسانے‘‘ از خوشونت سنگھ ترجمہ و ترتیب آصف نواز ۔ صفحہ 37 ، مکتبہ شعر و ادب ، لاہور

Dr. Naushad Kamran
Malik Mohammad Bharti Inter College
Jais, Amethi (U.P)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

سجاد مہدی حسینی کی علمی شخصیت،مضمون نگار:سرفراز جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: ڈاکٹر سجاد مہدی حسینی 24اپریل 2021 کو سفر آخرت پر روانہ ہوگئے۔ وہ اپنے عزیز و اقربا کے خانہ ہائے دل میں گہرے رنج و ملال کی

خشونت سنگھ کی فکری و ادبی معنویت،مضمون نگار: مسعود احمد

اردودنیا،فروری 2026: ادیب دنیا میں جینے کا ایک خاص طریقہ خود منتخب کرتا ہے۔وہ صرف اپنے عہد کا مشاہدہ نہیں کرتا، اپنی ذہنی اپج،فکری افتاد اور قلم کو بھی اسی

سید نقی احمد ارشاد کی شاد شناسی،مضمون نگار: ناہید نظامی

اردودنیا،فروری 2026: سید نقی احمد ارشاد خاندان شاد عظیم آبادی کے ان روشن چراغوں میں سے تھے جنھوں نے نہ صرف اس خانوادے کی علمی و ادبی روایت کو سنبھالے