عالمی کتاب میلہ، نئی دہلی2026

February 3, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

رپورٹ:

10جنوری،2026
قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیرِ اہتمام عالمی کتاب میلہ 2026 میں مطالعے کی اہمیت پر ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا۔ اس مذاکرے میں جناب معصوم مرادآبادی، ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر مشتاق عالم قادری اور ڈاکٹر ابراہیم افسر بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ پروگرام کی نظامت ڈاکٹر احسن ایوبی نے انجام دی۔ جناب معصوم مرادآبادی نے کہا کہ مطالعے کے بغیر کوئی بھی انسان باشعور نہیں ہو سکتا۔ اپنی سوچ میں وسعت اور تنوع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ نئی چیزوں سے آگاہی حاصل کرنے کے لیے مطالعہ ناگزیر ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ڈیجیٹل دور ہے اور لوگوں کے پاس وقت کی کمی ہے، لیکن آج کتابوں تک لوگوں کی رسائی پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور معیاری کتابوں کا مطالعہ گھر بیٹھے بھی ممکن ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ کتابیں انھیں موضوعات پر لکھی جانی چاہئیں جن کی واقعی ضرورت ہو، پامال موضوعات پر کتابیں لکھنا وقت کا ضیاع ہے۔ ڈاکٹر خالد علوی نے کہا کہ ماضی میں لوگوں میں مطالعے کی عادت ہوا کرتی تھی اور گھروں میں میزوں پر مختلف رسائل اور اخبارات رکھے رہتے تھے، جس کی وجہ سے گھر والوں میں مطالعے کا ذوق خود بخود پیدا ہو جاتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ کتاب کا کوئی نعم البدل نہیں ہے، جو شخص مطالعہ کرتا ہے وہ دوسروں سے آگے رہتا ہے۔ آگے بڑھنے اور زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مطالعہ ضروری ہے۔ کتابوں پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ آج اچھی اور معیاری کتابوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اچھے اور اہم موضوعات پر کتابیں لکھی جائیں۔ پروفیسر مشتاق عالم قادری نے کہا کہ کتاب اور مطالعہ لازم و ملزوم ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسٹ بک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ قاری اسے بار بار پڑھ سکتا ہے اور اہم نکات کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے، جو مطالعے کو مؤثر بناتا ہے۔ انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ موبائل فون اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے خاص طور پر نوجوانوں میں مطالعے کا رجحان کم ہوا ہے، تاہم اس کے باوجود کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم افسر نے کہا کہ مطالعہ جتنا زیادہ ہوگا، انسان کے اندر اتنا ہی اعتماد، شعور اور فکری پختگی پیدا ہوگی۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مطالعہ نہ صرف علم میں اضافہ کرتا ہے بلکہ انسان کی شخصیت کو بھی نکھارتا ہے۔
مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مطالعے کے فروغ کے بغیر ایک صحت مند اور باشعور معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں، اس لیے نئی نسل کو کتابوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


11جنوری،2026
قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل) کے زیر اہتمام عالمی کتاب میلہ، نئی دہلی کے دوسرے دن دو اہم ادبی مذاکروں بعنوان’نوجوان شاعروں سے ملاقات‘ اور ’شامِ افسانہ‘ کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں ادب سے وابستہ اہلِ قلم، طلبہ اور شائقینِ ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ’شامِ افسانہ‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں ڈاکٹر نگار عظیم، ڈاکٹر شبانہ نذیر، ڈاکٹر رخشندہ روحی مہدی اور ڈاکٹر شہناز رحمن بطور پینلسٹ شریک ہوئیں، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر ذاکر فیضی نے انجام دیے۔ مہمان مقررین نے افسانے کی تخلیق، اس کے فنی و فکری پہلوؤں اور عصری تقاضوں پر تفصیل سے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقعے پر ڈاکٹر نگار عظیم نے کہا کہ افسانہ زندگی کی علامت ہے اور اسے خانوں میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، البتہ وقت کے ساتھ اس کی تکنیک میں تبدیلی آئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ افسانہ خواہ علامتی، استعاراتی یا مابعد جدید تناظر میں لکھا گیا ہو، قاری پہچان لیتا ہے کہ کون سا افسانہ دیرپا ہے۔ نوجوان افسانہ نگاروں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ان کی تحریریں مجموعی طور پر تسلی بخش ہیں، تاہم عجلت پسندی سے بچنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ افسانہ اگر سماجی مسائل سے جڑا ہو تو عمر کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت کو معیار قرار نہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فن ایک عبادت ہے اور اس کا ثمرہ فوری طور پر حاصل نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر شبانہ نذیر نے کہا کہ افسانہ کئی اجزا کا مجموعہ ہے جس کے کسی ایک جز کو علاحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ عمدہ افسانہ وہی ہے جو قاری کے ذہن میں محفوظ رہ جائے۔ انھوں نے ذکیہ مشہدی کو ایک اہم افسانہ نگار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے افسانوں کے موضوعات اور پیشکش منفرد ہیں۔ سوشل میڈیا پر لکھے جانے والے افسانوں کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ہر افسانے کو ایک ہی زمرے میں رکھنا درست نہیں، خواہ وہ پرنٹ فارم میں ہو یا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر شیئر کیا گیا ہو۔ ڈاکٹر رخشندہ روحی مہدی نے کہا کہ موجودہ دور میں قارئین کی تعداد میں کمی ضرور آئی ہے لیکن اس سے زیادہ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے، مطالعے کے لیے اب بہت نئے پلیٹ فارم دستیاب ہیں اور اچھے قاری آج بھی موجود ہیں۔ انھوں نے اردو اور ہندی افسانوں کے موازنے سے احتراز پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر زبان کا اپنا اسلوب اور مزاج ہوتا ہے۔ ڈاکٹر شہناز رحمٰن نے کہا کہ غیر جانبدار اور معیاری تنقید ہی ادب کو آگے بڑھاتی ہے۔ان کے مطابق افسانے کی قدر و قیمت کا تعین ذاتی پسند و ناپسند کے بجائے فنی اور فکری پیمانوں پر ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ نئی نسل کے افسانہ نگاروں کو تنقید سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اسے تخلیقی ارتقا کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ مذاکرے کے اختتام پر تمام افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں سے منتخب اقتباسات بھی پیش کیے۔
اس سے قبل ’نوجوان شاعروں سے ملاقات‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں سالم سلیم، خوشبو پروین اور سفیر صدیقی نے شرکت کی، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب شمیم نے انجام دیے۔ اس موقعے پر سالم سلیم نے شاعری میں زبان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اچھی زبان کے بغیر معیاری شاعری ممکن نہیں۔ انھوں نے مشاعروں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشاعرے ماضی میں بھی اردو زبان و ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں اور آج بھی لوگوں کو اردو زبان و ادب سے قریب کر رہے ہیں۔ خوشبو پروین نے کہا کہ شاعری کا شوق انھیں بچپن سے تھا، جس کا آغاز مدرسے سے ہوا اور یونیورسٹی تک پہنچتے پہنچتے شاعری ان کی شناخت بن گئی۔ انھوں نے کہا کہ شاعری میں معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ سفیر صدیقی نے کہا کہ شاعری ایک فطری صلاحیت ہے اور موزونیت کے بغیر اچھی شاعری ممکن نہیں۔ انھوں نے غزل کو اپنی پسندیدہ صنف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ غزل میں ہی تجربات کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی مقبولیت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مقبول ہونا معیار کی ضمانت نہیں۔ مذاکرے کے اختتام پر نوجوان شاعروں نے اپنے منتخب اشعار بھی سنائے، جنھیں حاضرین نے بے حد پسند کیا۔


12جنوری،2026
عالمی کتاب میلہ، نئی دہلی میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیر اہتمام آج دو اہم ادبی پروگراموں کا انعقاد عمل میں آیا۔ پہلا پروگرام ’’اکیسویں صدی میں ہندوستانی تہذیب: اردو فکشن کے حوالے سے‘‘ جبکہ دوسرا پروگرام ’’بزمِ سخن‘‘ کے نام سے منعقد ہوا۔ دونوں پروگراموں میں ادبی شخصیات، محققین، طلبہ اور شائقینِ ادب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ’’اکیسویں صدی میں ہندوستانی تہذیب: اردو فکشن کے حوالے سے‘‘ کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر خالد اشرف، پروفیسر فاروق بخشی، پروفیسر ابو بکر عباد بطور پینلسٹ شریک ہوئے جبکہ ڈاکٹر عبدالرزاق زیادی نے اس مذاکرے کی نظامت کی۔ مذاکرے کے دوران مقررین نے اردو فکشن میں تہذیب و تمدن کی عکاسی، بدلتے سماجی رویوں اور عصری تقاضوں پر تفصیلی گفتگو کی۔ پروفیسر خالد اشرف نے تہذیب و تمدن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی تہذیب کی بنیادی خصوصیت اس کی ہمہ گیری، رواداری اور ”جیو اور جینے دو” کے جذبے میں مضمر ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی تہذیب نے وہ چیزیں بھی قبول کیں جو اس کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں تھیں اور یہی اس کی وسعت قلبی کی دلیل ہے۔ پروفیسر فاروق بخشی نے گلوبلائزیشن کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں اس کے کچھ فوائد ہیں وہیں سماج پر اس کے کچھ منفی اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں، اور خاص طور پر ہماری تہذیب اس سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق افسانوں اور فکشن میں ہماری تہذیبی شناخت آج بھی مختلف رنگوں میں جلوہ گر ہے۔ خورشید عالم، ابن کنول اور ثروت خان وغیرہ کے فکشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے یہاں ہندوستانی تہذیب اور ثقافت بھرپور انداز میں پیش کی گئی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو فکشن نے ہمیشہ تہذیبی قدروں کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پروفیسر ابو بکر عباد نے کہا کہ اگرچہ ایک وقت تھا جب ہندوستانی تہذیب مغربی تہذیب سے زیادہ متاثر نظر آتی تھی، لیکن موجودہ دور میں صورت حال کسی حد تک بدل رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پریم چند، راشد الخیری اور دیگر افسانہ نگاروں کے یہاں ہندوستانی تہذیب، رسوم، رسمیات اور سماجی اقدار واضح طور پر نظر آتی ہیں۔ انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ نئی نسل کے فکشن نگار ہندوستانی تہذیب کے حوالے سے سنجیدہ تخلیقی کارنامے انجام دے رہے ہیں۔
آج کا دوسرا پروگرام ’شام سخ‘ کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں جناب نعمان شوق، جناب احمد علوی، جناب شاہد انور، ڈاکٹر وسیم راشد، پروفیسر رحمن مصور، جناب ارشد ندیم، آلوک یادو شریک ہوئے۔ اس محفل میں شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا۔ پیش ہیں منتخب اشعار:
ایسے ملے نصیب سے سارے خدا کہ بس
میں بندگی کے زعم میں چلا اٹھا کہ بس
(نعمان شوق)
کہنا ہے ڈاکٹر کا کہ شوگر کے روگ میں
ہر طرح کی مٹھاس سے خطرے میں جان ہے

ہندی میں لکھ کے لاتا ہوں میں اس لیے غزل
رس گلے سے بھی میٹھی اردو زبان ہے
(احمد علوی)
فن عروض کی راہیں دکھا کے آئی ہوں
تمام عمر میں اردو پڑھا کے آئی ہوں
(ڈاکٹر وسیم راشد)
اک دل خراش زخم تری یاد کی طرح
رہتا ہے مرے ساتھ جو ہمزاد کی طرح
(ارشد ندیم)
نہ درد تھا نہ کرب تھا نہ پیاس بے مثال تھی
ترے بغیر زندگی کی کلپنا محال تھی
(رحمن مصور)
سانحہ ایک ہی لمحے کے لیے آتا ہے
عمرکٹ جائے گی وہ لمحہ بھلانے والے
(شاہد انور)
نئی نسلوں کے ہاتھوں میں بھی تابندہ رہے گا
میں مرجاؤں گا مٹی میں قلم زندہ رہے گا
(آلوک یادو)
ایک سفر روز مرے ساتھ لگا رہتا ہے
کیا بدن ہے جو صحرا میں پڑا رہتا ہے
(عمیر منظر)
اس شعری نشست کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عمیر منظر نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔


13جنوری،2026
عالمی کتاب میلہ، بھارت منڈپم میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اسٹال پر دو اہم اور عصری موضوعات پر مبنی مذاکروں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں صحافت اور ڈیجیٹل اظہار کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ دونوں مذاکروں میں اہلِ علم، صحافیوں اور اردو سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد موجودگی رہی۔ پہلا مذاکرہ ’ملک کی تعمیر و ترقی میں صحافت کا کردار‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں جناب شکیل شمسی، جناب شعیب رضا فاطمی اور ڈاکٹر مظفر حسین غزالی بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض جناب نایاب حسن نے انجام دیے۔ جناب شکیل شمسی نے کہا کہ صحافت کا رنگ و روپ تیزی سے بدل چکا ہے اور ڈیجیٹل و سوشل میڈیا کے فروغ سے صحافت میں ایک انقلاب برپا ہوا ہے، جس کے باعث اب بات زیادہ کھل کر کہی جا رہی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ صحافت کے بنیادی اصولوں سے واقفیت نہایت ضروری ہے اور ایک صحافی کو ایڈیٹوریل، کالم اور خبر کی ترتیب و اہمیت کا مکمل علم ہونا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ صحافی کا باکردار اور بااخلاق ہونا ازحد ضروری ہے اور پیشہ ورانہ فرائض سے کوتاہی کرنا صحافت کے وقار کے خلاف ہے۔ انھوں نے کہا کہ صحافت کے فنی اسرار و رموز سے واقفیت لازمی ہے اور جن افراد نے باضابطہ صحافتی تعلیم حاصل نہیں کی ہے، انھیں صحافت سے متعلق معیاری کتابوں کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔ جناب شعیب رضا فاطمی نے کہا کہ ماضی کے صحافی محض خبر نویس نہیں ہوتے تھے بلکہ وہ سیاسی اور سماجی میدان کے بھی شہسوار ہوا کرتے تھے۔ انھوں نے اردو مواد کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر دستیاب کروانے کے حوالے سے قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کی خدمات کو خاص طور پر سراہا۔ انھوں نے انٹرنیٹ کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج ہم اپنی بات اور خبریں بآسانی دور دراز علاقوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر مظفر حسین غزالی نے سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہاں سوشل میڈیا نے خبر رسانی کو آسان بنایا ہے وہیں غلط اور بے بنیاد خبروں کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ انھوں نے صحافت میں باریک بینی، تحقیق اور ذمے داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستند معلومات کے بغیر خبر کی اشاعت معاشرے کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل ’اردو میں بلاگ نویسی‘ کے عنوان سے ایک مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں جناب سہیل انجم، جناب جاوید رحمانی اور جناب توحید حقانی بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض جناب افضل حسین خان نے انجام دیے۔
جناب سہیل انجم نے کہا کہ ماضی میں اظہارِ خیال کے لیے اخبارات کا سہارا لینا پڑتا تھا، لیکن اکیسویں صدی میں انٹرنیٹ کے آنے کے بعد سوشل میڈیا اور بلاگنگ کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ انھوں نے بلاگنگ کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ہر فرد آزادانہ طور پر اپنی بات کہہ سکتا ہے، تاہم اس کا مثبت استعمال ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاگنگ انفرادی سطح پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے، جبکہ ادارہ جاتی سطح پر کئی پابندیاں ہوتی ہیں۔ انھوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ سوشل میڈیا کے فروغ کے بعد بلاگنگ کسی حد تک کمزور ہوئی ہے۔ جناب جاوید رحمانی نے کہا کہ آج بلاگنگ نے بڑی حد تک اخبارات کی جگہ لے لی ہے، کیونکہ اب لوگ اخبار کے انتظار کے بجائے بلاگ اور آن لائن پلیٹ فارم سے فوری طور پر خبریں اور معلومات حاصل کر لیتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ برصغیر کے مقابلے میں یورپ کے بلاگرز زیادہ متحرک اور فعال نظر آتے ہیں، جس سے ہمیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ جناب توحید حقانی نے بلاگنگ کو خیالات کے مثبت اظہار کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلاگ کو ذاتی ڈائری کی جدید شکل کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بلاگ کسی ایک زبان یا موضوع تک محدود نہیں بلکہ ہر موضوع پر اظہارِ خیال کی گنجائش رکھتا ہے۔ انھوں نے بلاگ اور وی لاگ کے فرق کو واضح کرتے ہوئے سیٹیزن جرنلزم پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارہ جاتی بلاگنگ زیادہ تر خبروں تک محدود رہتی ہے، جبکہ انفرادی بلاگ زیادہ مؤثر، آزاد اور بامعنی ہوتا ہے۔


14جنوری،2026
عالمی کتاب میلے کے پانچویں دن قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، نئی دہلی کے اسٹال پر دو اہم ادبی مذاکرے منعقد ہوئے۔ دونوں مذاکروں میں اہلِ علم و دانش نے شرکت کی اور موضوعات کے مختلف پہلوؤں پر قیمتی خیالات کا اظہار کیا۔ پہلا مذاکرہ ’کتاب میلوں کی علمی و ثقافتی اہمیت ‘کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں پروفیسر ارتضیٰ کریم، ڈاکٹر حفیظ الرحمن، جناب وجیہ الدین اور ڈاکٹر سفینہ بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض عذرا انجم نے انجام دیے۔ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کتاب میلوں میں مختلف موضوعات پر بیش قیمت اور اہم کتابیں ایک ہی جگہ دستیاب ہوتی ہیں۔ اگر کوئی قاری کتاب نہ بھی خریدے تو کم از کم اسے دیکھنے اور چھونے کا موقع ضرور ملتا ہے، جو کتاب سے ربط قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج مختلف شہروں میں کتاب میلے منعقد ہو رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ لوگوں میں آج بھی کتاب سے محبت باقی ہے۔ انھوں نے مصنوعی ذہانت (AI) پر گفتگو کرتے ہوئے اس کے ممکنہ خطرات اور نقصانات کی نشاندہی کی اور کہا کہ اس کے بڑھتے ہوئے استعمال سے نوجوان سہل پسندی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ڈیجیٹل دور میں ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اپنی تہذیب، ثقافت اور ادبی ورثے کو محفوظ رکھنے کے طریقوں پر غور کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل کتاب کبھی بھی مطبوعہ کتاب کا مکمل نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ انھوں نے کہا کہ اس قسم کے مذاکروں سے آگے بڑھنے اور عملی اقدام کی ترغیب ملتی ہے۔ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ کتاب میلوں کی علمی و تعلیمی اہمیت مسلم ہے۔ یہاں ادب، مذہب، سائنس، ٹیکنالوجی اور بچوں کے ادب سے متعلق اہم کتابیں بآسانی دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ایک ہی جگہ اتنی متنوع اور معیاری کتابوں کا مل جانا کسی نعمت سے کم نہیں۔ انھوں نے کہا کہ مطالعہ انسان کی فکری صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ عالمی کتاب میلوں میں بین الاقوامی اسٹالز بھی ہوتے ہیں، جہاں دنیا بھر کے موضوعات پر لکھی گئی کتابیں دستیاب ہوتی ہیں۔ جناب وجیہ الدین نے کہا کہ ٹیکنالوجی اگر مثبت انداز میں استعمال کی جائے تو بے حد فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے منفی استعمال نے نوجوانوں کو کتابوں سے دور کر دیا ہے۔ انھوں نے گھروں میں ذاتی لائبریری قائم کرنے اور بچوں کے لیے الگ گوشہ مخصوص کرنے کی تلقین کی، تاکہ بچوں میں مطالعے کا شوق پیدا ہو۔ انھوں نے کہا کہ اے آئی ایک کہانی تو لکھ سکتی ہے، لیکن اس میں وہ روح اور جذبہ نہیں ڈال سکتی جو ایک تخلیق کار اپنی محنت اور احساس سے پیدا کرتا ہے۔ ڈاکٹر سفینہ نے کہا کہ کتاب میلے میں لوگ عموماً دو وجوہات سے کتابیں خریدتے ہیں، ایک ضرورت کے تحت اور دوسرے شوقیہ۔ مختلف اسٹالز پر گھومتے ہوئے قاری کو کبھی کبھار ایسی نایاب اور معیاری کتابیں بھی مل جاتی ہیں جو اس کی علمی تشنگی کو دور کرتی ہیں۔
دوسرا مذاکرہ‘ادبِ اطفال کی تخلیق: مسائل اور امکانات’کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں جناب فیروز بخت احمد، جناب انیس اعظمی اور جناب طٰہٰ نسیم بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض محترمہ نہاں نے انجام دیے۔ جناب فیروز بخت احمد نے کہا کہ ادب کو آگے بڑھانے کے لیے اس کی جڑوں کو مضبوط کرنا بے حد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ادبِ اطفال کی صورتِ حال حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اگرچہ ماضی کی کہانیاں آج کے بچوں کے ذہنی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں رہیں، اس کے باوجود ان ادبی سرمایوں کو زندہ اور محفوظ رکھنا ناگزیر ہے، کیونکہ یہی کہانیاں ہماری تہذیبی اور لسانی شناخت کی بنیاد ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو زبان مر نہیں رہی بلکہ مسلسل پنپ رہی ہے، تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قارئین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں اور نوجوانوں کے لیے جدید اسلوب اور عصری موضوعات کے ساتھ معیاری ادب تخلیق کیا جانا چاہیے تاکہ مطالعے کا ذوق فروغ پا سکے اور اردو زبان و ادب کا مستقبل مزید مستحکم ہو۔ انیس اعظمی نے کہا کہ ادبِ اطفال بچوں کو پڑھنے، لکھنے اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کا حوصلہ دیتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ والدین کو چاہیے کہ بچوں کو اردو کتابیں اور رسائل پڑھنے کی ترغیب دیں تاکہ ان کی ذہنی نشوونما بہتر ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ گھریلو سطح پر اردو زبان کے استعمال سے بچے اپنی زبان اور تہذیب سے واقف ہو سکتے ہیں۔طٰہٰ نسیم نے کہا کہ ادبِ اطفال کی مانگ آج بھی برقرار ہے، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ بچوں کے ادب میں سائنسی اور جدید موضوعات کو شامل کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کی کتابوں کو رنگین کاغذ، خوبصورت طباعت اور دلکش تصاویر سے مزین کیا جائے تو بچے خود بخود ان کی طرف راغب ہوں گے۔


15جنوری،2026
عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اسٹال پر آج دو اہم ادبی موضوعات پر مذاکروں کا انعقاد ہوا، جن میں اہلِ علم و ادب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔’میرا تخلیقی سفر: مصنفین سے ملاقات‘ میں پروفیسر طارق چھتاری، ڈاکٹر خورشید اکرم اور جناب راجیو پرکاش ساحر بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ مذاکرے کی نظامت کے فرائض جناب مالک اشتر نے انجام دیے۔ پروفیسر طارق چھتاری نے اپنے تخلیقی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کا گھریلو ماحول تعلیمی تھا، گھر میں کتابوں کی موجودگی نے بچپن ہی سے مطالعے کی طرف مائل کیا۔ انھوں نے کہا کہ ابتدا ہی سے ان کا ذہن تخلیقی انداز میں سوچنے کا عادی رہا، مختلف موضوعات پر خیالات آتے رہے اور اسی عمل کے دوران مکالمے ذہن میں تشکیل پاتے گئے۔ انھوں نے اپنی پہلی کہانی کے پس منظر اور اس پر معروف افسانہ نگار سید محمد اشرف کی حوصلہ افزائی کا ذکر بھی بڑے دلچسپ انداز میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تخلیق ایک مسلسل عمل ہے جو تخلیق کار کے ذہن میں ہمہ وقت جاری رہتا ہے۔ انھوں نے سائنس سے اردو ادب کی طرف اپنے سفر اور رسائل میں تخلیقات کی اشاعت کے تجربات بھی تفصیل سے بیان کیے۔ ڈاکٹر خورشید اکرم نے کہا کہ افسانہ ان کا پہلا عشق رہا ہے۔ ابتدا میں رسائل میں کہانیاں پڑھتے رہے اور پھر تخلیق کی طرف راغب ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ ہر تخلیق اپنے الجھاؤ سے نکلنے کی کوشش کرتی ہے، اگر اسے خوبصورت راستہ مل جائے تو فکشن وجود میں آتا ہے اور اگر سرا نہ ملے تو شاعری کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ غزل سے مرعوب تھے، مگر اوزان و بحور کی پابندی نے انھیں نثری نظم کی طرف مائل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تخلیق اچانک نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے بہتر ماحول، اچھے دوست اور وافر مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ جناب راجیو پرکاش ساحر نے کہا کہ اردو سے محبت ہی نے ان کے اندر کے تخلیق کار کو بیدار کیا۔ انھوں نے بتایا کہ اردو انھیں وراثت میں نہیں ملی بلکہ انھوں نے محنت اور لگن کے ساتھ اردو زبان اور اس کا رسم الخط سیکھا۔ انھوں نے کہا کہ زندگی کے گہرے مشاہدے اور لکھنؤ کے ادبی ماحول نے ان کے تخلیقی سفر میں اہم کردار ادا کیا۔ مذاکرے کے اختتام پر تینوں تخلیق کاروں نے اپنی تخلیقات بھی پیش کیں، جنھیں حاضرین نے بے حد سراہا۔
اس سے قبل ’ڈیجیٹل میڈیا: چیلنجز اور مواقع‘ کے عنوان سے ایک مذاکرہ منعقد ہوا، جس میں محمد نسیم نقوی، اشرف بستوی، ڈاکٹر خالد رضا خان اور ڈاکٹر شگفتہ یاسمین نے بطور پینلسٹ شرکت کی، جبکہ نظامت ڈاکٹر مسعود احمد نے کی۔ محمد نسیم نقوی نے کہا کہ سوشل میڈیا اسی وقت مفید ثابت ہو سکتا ہے جب اس کا مثبت اور ذمے دارانہ استعمال کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ خبروں کی ترسیل میں تصدیق اور احتیاط بے حد ضروری ہے، ورنہ ڈیجیٹل میڈیا کے نقصانات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ اشرف بستوی نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے عام لوگوں کو اظہار کا پلیٹ فارم فراہم کیا ہے، تاہم غلط خبروں سے محتاط رہنے کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کی صحیح رہنمائی کریں۔ ڈاکٹر خالد رضا خان نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے معلومات تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے، مگر اس کے ساتھ توجہ کے انتشار اور وقت کے ضیاع کا خطرہ بھی موجود ہے۔ انھوں نے اردو کتابوں کو ڈیجیٹائز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر شگفتہ یاسمین نے کہا کہ سوشل میڈیا نے عام انسان کی آواز کو دور تک پہنچایا ہے، تاہم بچوں اور نوجوانوں کو اس کے بے جا استعمال اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے منفی اثرات سے بچانا ضروری ہے۔


16جنوری،2026
عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اسٹال پر کونسل کے زیرِ اہتمام آج تین اہم موضوعات ’اردو زبان اور نئی نسل‘، ’انڈین نالج سسٹم کے اردو تراجم‘ اور ’اردو میں یونانی طب: قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں‘ پر مذاکروں کا انعقاد عمل میں آیا، جن میں اہلِ علم و ادب، طلبہ اور شائقینِ اردو کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
’اردو زبان اور نئی نسل‘کے عنوان سے منعقدہ مذاکرے میں قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شمس اقبال،ڈاکٹر شمع افروز زیدی، ڈاکٹر اطہر فاروقی اور ڈاکٹر محبوب حسن بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت کے فرائض ڈاکٹر صائمہ ثمرین نے انجام دیے۔ اس موقعے پر قومی اردو کونسل کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ عموماً جب ہم نئی نسل کی بات کرتے ہیں تو فوراً نوجوان لکھنے والوں یا کسی مخصوص طبقے کی طرف توجہ چلی جاتی ہے، جبکہ اصل نئی نسل وہ ٹین ایجرز ہیں جن کے لیے الگ نوعیت کے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو ان کی عمر، ذہنی ساخت اور دلچسپی کے مطابق کتابیں فراہم کی جانی چاہئیں، نہ کہ یہ توقع کی جائے کہ وہ براہِ راست اعلیٰ سطح کی کلاسیکی نثر یا مشکل متون پڑھنے لگیں۔ ڈاکٹر شمس اقبال نے مزید کہا کہ زبان یا ادب یکایک نہیں سیکھا جاتا بلکہ یہ ایک تدریجی عمل ہے، جو مرحلہ بہ مرحلہ آگے بڑھتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نئی نسل کی نفسیات اور رجحانات کو سمجھیں اور اسی کے مطابق اردو میں دلچسپ، آسان اور عصری موضوعات پر مواد تیار کریں۔ انھوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم متحرک ہوں، نئے خیالات کے ساتھ آگے آئیں اور نئی نسل تک اردو کو جدید انداز میں پہنچائیں۔ اگر ہم وقت کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے منصوبہ بندی کریں تو اردو زبان نئی نسل کے لیے مزید پرکشش اور مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر شمع افروز زیدی نے کہا کہ بچوں اور نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے سب سے پہلے گھریلو ماحول سازگار بنانا ہوگا۔ گھر میں اردو زبان کا استعمال بے حد ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ انگریزی وقت کی ضرورت ہے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم اردو کو نظر انداز کر دیں۔ انھوں نے قومی اردو کونسل کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کونسل بچوں کے ذوق اور دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے معیاری کتابیں شائع کر رہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ڈاکٹر اطہر فاروقی نے کہا کہ جب تک گھروں میں کتاب نہیں پہنچے گی اور مطالعے کا ماحول نہیں بنے گا، نئی نسل اردو سے قریب نہیں ہوگی۔ انھوں نے اسکولی سطح پر اردو تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہر موضوع پر معیاری اردو کتابوں کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹر محبوب حسن نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ نوجوان نسل اردو کی طرف متوجہ ہو رہی ہے، تاہم اس رجحان کو مضبوط کرنے کے لیے مزید عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ جو زبان اپنے عہد کی ضروریات کو پورا نہیں کرتی، وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتی ہے۔
’انڈین نالج سسٹم کے اردو تراجم‘کے موضوع پر منعقدہ مذاکرے میں پروفیسر عزیزالدین، پروفیسر علیم اشرف، ڈاکٹر رحیل صدیقی اور ڈاکٹر ارشاد نیازی بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت ڈاکٹر ریحان نے کی۔ پروفیسر عزیزالدین نے کہا کہ اردو میں ہندوستانی ثقافت اور وراثت کے ترجمے کی روایت بے حد قدیم ہے اور اس کی بنیاد عہدِ اکبری میں رکھی گئی تھی جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ پروفیسر علیم اشرف نے کہا کہ زیادہ تر قدیم تراجم سنسکرت سے فارسی میں ہوئے اور بعد میں اردو میں منتقل ہوئے، مگر ان پر نظرِ ثانی اور جدید تقاضوں کے مطابق ایویلویشن کی شدید ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مترجم کے لیے زبان کے ساتھ ثقافت اور تہذیب سے واقفیت بھی لازمی ہے۔ ڈاکٹر رحیل صدیقی نے کہا کہ مترجم کو اپنی ذاتی فکر سے بالاتر ہو کر متن کے ساتھ انصاف کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ویدوں کے اردو میں کامیاب ترجمے ہوئے ہیں. انھوں نے مزید کہا کہ قومی اردو کونسل نے اصطلاح سازی کے میدان میں جو اہم کام کیا ہے، وہ لائقِ تحسین ہے۔ ڈاکٹر ارشاد نیازی نے کہا کہ ترجمے میں سب سے اہم مرحلہ لفظ کی تفہیم ہے، کیونکہ جب تک لفظ واضح نہ ہو، معنی اور مفہوم بھی واضح نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے ہندی سے اردو ترجمے میں تذکیر و تانیث کے مسائل کی طرف توجہ دلائی اور مذہبی صحائف کے تراجم کو عصری ضرورت قرار دیا۔
آج کا تیسرا اور آخری مذاکرہ ’’اردو میں یونانی طب: قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر سید احمد خاں، پروفیسر عبدالودود اور پروفیسر شبیر احمد بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ نظامت ڈاکٹر محمد فیصل نے کی۔ اس مذاکرے میں مقررین نے کہا کہ یونانی طب برصغیر کے علمی ورثے کا ایک اہم حصہ ہے اور اردو زبان اس علم کی ترسیل کا بنیادی ذریعہ رہی ہے۔
مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ یونانی طب سے متعلق قدیم اردو متون کو جدید سائنسی اور تعلیمی معیار کے مطابق ازسرِنو مرتب کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل اور طلبہ اس سے بخوبی فائدہ اٹھا سکیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر یونانی طب کو قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ادارہ جاتی سطح پر فروغ دیا جائے تو یہ نہ صرف اردو زبان کے استحکام کا سبب بنے گا بلکہ ہندوستانی طبی نظام کو بھی عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مددگار ثابت ہوگا۔


17جنوری،2026
قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام عالمی کتاب میلے میں آج تین مذاکرے منعقد ہوئے۔ پہلا پروگرام‘جتنے دور اتنے پاس ’نامی کتاب پر مذاکرہ تھا۔ اس کتاب کے مصنف دھریندرسنگھ جفا ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب انگریزی میں Death was’nt painfullکے نام سے تحریر کی تھی۔جس کا اردو ترجمہ جناب شاہد جمیل نے کیا ہے۔ اس کتاب میں مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان 1971 میں ہونے والی کشمکش اور ہندوستان کی مداخلت کے واقعات ایک فائٹر پائلٹ کی زبانی بیان کیے گئے ہیں۔ اس مذاکرے میں جناب کرنل طاہر مصطفی اور جناب سرت جفا بطور پینلسٹ شریک ہوئے جبکہ ڈاکٹر فیضان الحق نے اسے موڈریٹ کیا۔ جناب کرنل طاہر مصطفی نے ملک کی سرحد کی حفاظت کرنے والے فوجیوں کے جذبے اور حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں کا خصوصی ذکر کیا۔ فوج سے متعلق عالمی کتاب میلے کا تھیم منتخب کرنے کے لیے انھوں نے این بی ٹی انڈیا کو مبارکباد پیش کی۔انھوں نے زبان کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجیوں کو اس علاقے کی زبان ضرور جاننی چاہیے جہاں وہ ڈیوٹی کررہے ہیں۔ اس کے بغیر وہاں کے لوگوں سے کمیونی کیٹ کرنے میں دشواری پیش آئے گی۔
دوسرے پینلسٹ اور کتاب کے مصنف جناب دھیریندر سنگھ جفا کے صاحبزادے جناب سرت جفا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کتابوں کی اشاعت کے لیے قومی اردو کونسل قابل مبارکباد ہے۔یہ کتاب فوج کے وقار اور اپنے ملک ہندوستان کو جاننے اور سمجھنے کے حوالے سے بہت اہم ہے۔ اس طرح کی کتابوں سے ملک کی یوا پیڑھی کو ہندوستان کی فوجی طاقت اور عظمت کا بخوبی علم ہوگا۔ اس کتاب کے حوالے سے انھوں نے مزید کہا کہ چونکہ میرے والد ہندوستان۔پاکستان کی جنگ میں شامل تھے اور بطور فائٹر پائلٹ اس کا حصہ رہنے کے سبب قیدی بھی بنے تھے، کتاب میں انھوں نے اس سے متعلق اپنے تجربات اور خیالات تحریر کیے ہیں۔ مزید انھوں نے ہندوستانی زبانوںکی اہمیت پر بھی واضح انداز میں بات کی۔ انھوں نے کتاب کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ اس کے مطالعے سے فوجیوں کے مابین انسان دوستی اور ہمدردی کے جذبات کا بھی علم ہوتا ہے۔
دوسرا مذاکرہ ’مادری زبان اور قومی تعلیمی پالیسی 2020‘کے موضوع پر منعقد ہوا جس میں پروفیسر عذرا عابدی، پروفیسر جسیم احمد اور ڈاکٹر سید مبین زہرا بطور پینلسٹ شامل ہوئے۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاہد حبیب فلاحی نے انجام دیے۔ اس موقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر عذرا عابدی نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 پر گفتگو کے لیے یہ ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ مادری زبان میں تدریس وقت کی اہم ضرورت ہے۔یہ ان بچوں کے لیے بہت اہم ہے جو پچھڑے علاقوں میں رہتے ہیں۔ لسانی تنوع کے لحاظ سے ہندوستان ایک مثالی ملک ہے۔ یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم اپنے گھروں میں مادری زبان کی طرف بچوں کی توجہ دلائیں۔ پروفیسر جسیم احمد نے کہا کہ تعلیمی پالیسی میں مادری زبان کا خیال رکھنا ضروری ہے۔اسی لیے حکومت ہند نے نئی تعلیمی پالیسی 2020 میں اس پر خاص دھیان دیا ہے۔ بچوں کو پانچویں کلاس تک اور اگر ممکن ہو تو آٹھویں تک بھی مادری زبان میں تعلیم ضرور دی جائے۔ اس کے بعد ہائر ایجوکیشن کو بھی مادری زبان سے جوڑا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی بچوں کو وہ زبان بھی سیکھنا چاہیے جس میں روزگار کے مواقع زیادہ ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ہمیں مادری اور قومی زبان میں موازنے سے بچنا چاہیے۔ دونوں کی اپنی اپنی اہمیت ہے۔ ڈاکٹر سید مبین زہرا نے اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان میں تعلیم وقت کی ضرورت ہے۔ بچہ اس زبان کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتا ہے جو وہ ماں سے سنتا ہے۔ مادری زبان کی وجہ سے حاشیائی علاقوں میں تعلیم کی شرح بڑھی ہے۔ ہم ایجوکیشنسٹ کی ذمے داری ہے کہ ہم سبھی علاقوں کے بچوں کی ذمے داری کو سمجھیں۔ انھوں نے کہا کہ کسی بھی زبان کو فروغ دینے کے لیے گھر سے شروعات کرنی ہوگی، سرکار کا کام صرف پالیسی بنانا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سیلف لرننگ کو پرموٹ کرنے پر بھی زور دیا۔
تیسرا مذاکرہ ’اردو کے فروغ میں تھیٹر کا کردار‘ کے موضوع پر منعقد ہوا جس میں بحیثیت پینلسٹ جناب ایڈوکیٹ اے رحمن، پروفیسر محمد کاظم، پروفیسر دانش اقبال شامل ہوئے۔ مذاکرے کی نظامت جناب تحسین منور نے کی۔ جناب پروفیسر محمد کاظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اردو ڈرامے کی اصل شروعات شمالی ہند میں امانت کے اندرسبھا سے ہوئی۔ تھیٹر اور اردو لازم ملزوم ہیں۔ ڈرامہ واحد ایسی صنف ہے جو خواندہ اور ناخواندہ دونوں طبقے تک اردو زبان کی رسائی کو ممکن بناتی ہے۔ مذاکرے کے دوسرے پینلسٹ جناب ایڈوکیٹ اے رحمن نے کہا کہ ڈراموں کی وجہ سے زبان ترقی کرتی ہے۔ اردو زبان میں اچھی تعداد میں ڈرامے موجود ہیںاور ڈراموں کا ان کے تھیٹر پر پیش کیا جانا ضروری ہے۔ لوگ ادب عالیہ کی بات کرتے ہوئے ڈرامے سے گریز کرتے ہیں، جو درست نہیں۔ تیسرے پینلسٹ پروفیسر دانش اقبال نے ریڈیو ڈرامے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ رفیع پیر کا اس حوالے سے بہت اہم کام ہے۔ اس کے علاوہ ان کی دلچسپیوں اور کوششوں کے سبب ان کے بہت سے شاگردوں نے بھی اس بابت قابل ذکر خدمات انجام دی ہیں۔ چوتھے پینلسٹ جناب جاوید حسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈرامے کے فروغ میں اردو کا بہت اہم کردار ہے۔ مثلاً اگر غالب یا میر پر کوئی ڈراما تحریر کیا جائے تو ظاہر ہیکہ اس میں اردو الفاظ ہی استعمال ہوں گے۔ انھوں نے ریڈیو کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریڈیو ڈراما ایک طرح سے اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔


18جنوری،2026
آج عالمی کتاب میلے میں قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے زیرِ اہتمام ’ہندی صحافت پر اردو کے اثرات‘ کے عنوان سے ایک اہم مذاکرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں جناب پرتاپ سوم ونشی، پروفیسر رحمت اللہ اور مرزا عبدالباقی بیگ بطور پینلسٹ شریک ہوئے، جبکہ اس مذاکرے کی نظامت ڈاکٹر جاوید عالم نے کی۔ پرتاپ سوم ونشی نے کہا کہ اگر کسی زبان کو دور تک پہنچانا ہے اور اسے عام لوگوں میں مقبول بنانا ہے تو غیر ضروری اور مشکل الفاظ کے استعمال کو کم کرنا ہوگا، تاکہ وہ زبان سب کے لیے فائدہ مند بن سکے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندی اخبارات میں اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے الفاظ یکساں طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ہندی اور اردو کے امتزاج سے جو زبان بنتی ہے اسے ہندوستانی کہا جاتا ہے، اور یہی زبان عوام میں زیادہ سمجھی اور قبول کی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک ہندی اخبارات اور رسائل میں اردو کے الفاظ شامل نہیں ہوں گے، وہ مکمل طور پر مقبول نہیں ہو سکتے، کیونکہ خالص ہندی میں لکھی تحریریں عام قارئین کے لیے بعض اوقات دشوار ہوتی ہیں۔
پروفیسر رحمت اللہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے صحافتی سفر کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ ان کی صحافت کی ابتدا ہندی زبان سے ہوئی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ وہ اردو کی طرف مائل ہوتے گئے۔ انھوں نے کہا کہ آج کا موضوع صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ تاریخ اور تہذیب سے بھی اس کا گہرا تعلق ہے، کیونکہ ہندی اور اردو دونوں زبانیں اسی سرزمین پر پیدا ہوئیں اور پروان چڑھیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ آج ہندی اخبارات میں اردو اور ہندوستانی زبان کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ اگرچہ دونوں زبانوں میں لکھنے کا انداز الگ ہے، لیکن ان کی تاثیر ایک جیسی ہے۔ اردو کے استعمال سے ہندی زبان میں گہرائی اور وسعت پیدا ہوتی ہے، انھوں نے مزید کہا کہ اردو اور ہندی دونوں زبانیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔
مرزا عبدالباقی بیگ نے کہا کہ ہندی اور اردو دونوں زبانوں کے مصادر بنیادی طور پر ایک ہی ہیں، فرق زیادہ تر ناموں اور رسم الخط کا ہے۔ بول چال اور اظہار کے وقت اردو ایک خاص لطف اور مٹھاس پیدا کرتی ہے، اسی لیے اردو کو ’’میٹھی زبان‘‘ کہا جاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اردو میں ہندی کے الفاظ شامل کر دیے جائیں تو اس کا حسن دوبالا ہو جاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اردو شاعری کی اپنی ایک منفرد اہمیت ہے اس لیے اس میں دو مصرعوں میں گہری اور مؤثر بات کہہ دی جاتی ہے۔ انھوں نے بعض ایسے الفاظ کی نشاندہی بھی کی جو ہندی اور اردو دونوں میں مستعمل ہیں۔
مذاکرے کے اختتام پر مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہندی اور اردو کا باہمی رشتہ نہ صرف لسانی بلکہ تہذیبی اور ثقافتی سطح پر بھی مضبوط ہے، اور صحافت کے ذریعے اس رشتے کو مزید مستحکم کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

صوفی یوگ گرو: شیخ محمد غوث گوالیاریؒ مضمون نگار: سید محمد نیر رضوی

صوفی یوگ گرو: شیخ محمد غوث گوالیاریؒ  سید محمد نیر رضوی محققین نے ابتدائے تصوف اور اس کے ارتقائی مدارج پر مختلف نقطہ ہائے نظر سے غور و فکر کرنے

ہند اسلامی تہذیب و ثقافت اور فاروقی کا ناول ’کئی چاند تھے سرآسماں‘ – مضمون نگار :نورین علی حق

  اکیسویں صدی کے اوائل میں شائع ہونے والے ناول ’کئی چاندتھے سرآسماں‘ نے گزشتہ دوصدیوں یعنی اٹھارہویں اورانیسویں صدی کی ہندوستانی تہذیب وثقافت اورفکری نہج کواپنے پیمانے میں سمیٹ

اردو مرثیے کے ہیئتی مباحث مضمون نگار:۔ سید جعفر رضا

اردو مرثیے کے ہیئتی مباحث سید جعفر رضا اردو مرثیہ حق کی فتحِ مبین کا اعلامیہ ہے، جس سے جبر و تشدد کے سر نگوں ہونے اورظلم و استبداد کے