اردودنیا،فروری 2026:
پہیلیاں صدیوں سے انسانی تہذیب و ثقافت کا اہم حصہ رہی ہیں۔ تفنن طبع کے لیے کہی جانے والی پہیلیاں ہمیں تفکرو تفہم کی طرف لے جاتی ہیں۔ پہیلیاں زبانی ادب کی روایتی شکل میں نسل درنسل تہذیبی و ثقافتی اقدار اور عقائد کی عکاسی کرتی رہی ہیں۔ اسی طرح سے پہیلیوں کی لسانی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ پہیلی لفظی کھیل کی ایک قسم ہے جس میں استعاراتی زبان، علامتی انداز یا ذو معنی الفاظ (پن) کے استعمال سے ایسے جملے وضع کیے جاتے ہیں جن میں ہم قافیہ و ہم وزن الفاظ آہنگ پیداکرتے ہیں۔ جس کے سبب انھیں بہ آسانی یاد بھی کیا جاسکتاہے۔
پہیلی ایسا بیانیہ ہوتی ہے جس میں ایک سوال معمّہ کی شکل میں ہوتا ہے۔ سننے یا پڑھنے والے کے لیے اس کا حل تلاش کرنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔ پہیلی تجسس کی کیفیت پیدا کرتی ہے ۔ پہیلیوں کے حل کرنے کی عادت سے معلومات کا تجزیہ کرنے ، منطقی طورپر سوچنے اور مسائل کے تخلیقی حل تلاش کرنے کے لیے تنقیدی سوچ کی نشوونماہوتی ہے۔ مختلف طریقوں اور حکمت عملیوں پر غور وفکر کرنے کی صلاحیت کو جلا ملتی ہے،تخیل کو پرواز ملتی ہے ، پہیلیاں افکارکے ارتکازاور یادداشت کو بہتر بنانے میں معاون ہوتی ہیں۔
پہیلیاں زبانی لوک ادب کا حصہ تھیں اورسینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھیں۔ امیر خسرو کا یہ بہت بڑا کارنامہ ہے کہ انھوں نے پہیلیوں کو تحریری شکل میں پیش کیا۔ (محققین میں اختلاف ہے کہ یہ پہیلیاں امیر خسرو کی ہیں یا ان سے منسوب کی گئی ہیں) یہ ان کی خصوصیت و انفرادیت ہے کہ انھوں نے پہیلی کو ایک صنف کا درجہ عطا کیا اور بہت سی خوبصورت اور دلچسپ پہیلیاں تخلیق کیں۔ جن کا مطالعہ پہلے تو قاری کو متجسّس کرتا ہے اورجب وہ منطقی استدلال کے ساتھ پہیلی کا حل تلاش کرلیتا ہے تو حظ و طمانیت سے مسرور ہوجاتا ہے۔
پہیلیوں کا تعلق زبان کے تخلیقی استعمال سے ہے۔ اس مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ امیر خسرو کی پہیلیاں کیسے طلبا اور زبان کے نئے سیکھنے والوں کے لیے نئے نئے الفاظ ‘ ان کے اندرپوشیدہ معنوی جہتوں کو سمجھنے اور سیکھنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ اس طرح ان کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافہ ہوتا ہے اور اسے تقویت حاصل ہوتی ہے۔
.1 لفظی کھیل (ورڈپلے)
پہیلیاں لفظوں کاکھیل ہیں۔ اس لفظی کھیل سے بچوں کو سکھایا جاسکتا ہے کہ الفاظ کے کیسے ایک سے زیادہ اور مختلف معنی مرادلیے جاسکتے ہیں۔ سیاق و سباق کے لحاظ سے کیسے معنی بدلتے ہیں۔ ذو معنی الفاظ والی پہیلیوں کے ذریعے لفظ کی معنوی جہتوں کو تلاش کرنے کے گُر سکھائے جاسکتے ہیں جیسے یہ پہیلی دیکھیں :
کھیت میں اُپجے ہر کوئی کھائے
گھر میں ہووے گھر کھاجائے
اس پہیلی کا جواب ’پھوٹ‘ ہے ۔ کھیت میں اگنے والی چیز پھوٹ (ککڑی کی ایک قسم ہے) ہے جسے ہر کوئی کھاتا ہے۔ پھوٹ کے ایک اور معنی ’نا اتفاقی‘، ’تفرقہ‘ ہے جس سے فتنہ فساد پھیلتا ہے۔ پھوٹ جب گھر میں ہوتی ہے تو گھر کے لوگوں میں اتحادو اتفاق باقی نہیں رہتاوہ آپس میں لڑائی جھگڑاکرتے ہیں جس سے گھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ گھر صرف عمارت نہیں ہوتا بلکہ اس میں رہنے والے لوگوں کے آپسی پیار ومحبت ، عزت و احترام اور اتحاد و اتفاق سے گھر بنتا ہے۔ جب نااتفاقی ہوگی تو گھر بکھر جائے گا۔ بھائیوں میں گھر کا بٹوارہ ہوجائے گا۔ پھوٹ گھر کو کھاجائے گی۔ یہاں ’کھاجانا‘ محاورہ ہے،کسی چیز کو ختم کردینے یا برباد کردینے کے معنوں میں اس کا استعمال ہوتاہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں فلاں شخص کو بیٹے کا غم کھا گیا۔ اس کے معنی ہیں اس شخص کو بیٹے کی جدائی کے سبب جو دکھ ہوا ہے اس سے وہ بیمار اور ضعیف و لاغر ہوگیا ہے اور اسی غم میں مرگیا ۔ گویااس غم نے اسے ختم کردیا۔
’ذومعنی‘ لفظ کی ایک پہیلی دیکھیے:
جل کر بنے جل میں رہے
آنکھوں دیکھا خسرو کہے
اس پہیلی کا جواب’ کاجل‘ ہے ۔
اس پہیلی کا کلیدی لفظ جل ہے جو ذو معنی لفظ ہے ۔ جل کر بنے، کاجل لکڑی یا کوئلہ کو جلا کر اس کے دھویں سے بنایا جاتا ہے ۔ خواتین اسے آنکھوں کے بنائو سنگھار کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ لہٰذا جل کر بنے تو حل ہوگیا۔ جل میں رہے کو حل کرناہے۔ سائنس کے مطابق آنکھوں میں ہمیشہ پانی رہتا ہے جو آنکھوں کی سطح کو نمی فراہم کرتاہے۔ یہ نمی آنکھوں کو خشکی اور خارش سے بچاتی ہے۔ آنکھوں میں پانی کی موجودگی آنکھوں کو صاف رکھنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ پانی آنکھوں میں جمع ہونے والی گندگی اور ذرات کو صاف کرتا ہے۔ آنکھوں میں پانی کی مقدار مختلف عوامل پر منحصر ہوتی ہے جیسے کہ آنکھوں کی صحت ، موسم اور آنکھوں کا استعمال، عام طور پر آنکھوں میں پانی کی مقدار 2.1 ملی لیٹر کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ واضح ہوگیا کہ آنکھوں میں پانی رہتا ہے اور پانی کو جل بھی کہتے ہیں۔ اس طرح پہیلی حل ہوگئی کہ وہ کاجل ہے جو جل کر بنتا ہے اور جل میں رہتاہے۔
.2 ہم صوت اور ہم آواز الفاظ کو سمجھانا
بہت سی پہیلیاں ہم صوت (وہ الفاظ جو ایک جیسے لگتے ہیں لیکن مختلف معنی رکھتے ہیں) پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اس قسم کی پہیلیوں کو حل کرنے سے طلبا میں اس بات کی گہری سمجھ پیدا ہوگی کہ زبان کیسے کام کرتی ہے۔ کیسے ایک جیسے لکھے جانے والے الفاظ کے معنی مختلف و منفرد ہوتے ہیں نیزایک جیسے لکھے جانے والے الفاظ پر الگ الگ طرح سے اعراب لگاکر پڑھا جائے تو ان کا تلفظ اور معنی دونوںبدل جاتے ہیں۔ جیسے شاعری کی صنعت تجنیس میں ہوتاہے۔
فارسی بولی آئی نہ
ترکی ڈھونڈی پائی نہ
ہندی بولوں آرسی آئے
خسرو کہے کوئی نہ بتائے
اس پہیلی کا جواب آئینہ ہے ۔ آئی نہ ۔ اس طرح لکھا جائے تو کسی کے نہ آنے کا ذکر ہے جو کہ ایک فعل ہے ۔ اس کو ملا کر لکھا جائے تو آئینہ مراد ہوگا۔ وہ شیشہ جس میں عکس نظر آتاہے۔آئینہ کو ہندی میں آرسی کہا جاتا ہے۔
اسی نوع کی ایک اور پہیلی دیکھیے:
کھڑا بھی لوٹا پڑا بھی لوٹا
ہے بیٹھا اور کہیں ہے لوٹا
خسرو کہے سمجھ کا ٹوٹا
اس پہیلی کا جواب لوٹا ہے ۔ اردو میں لفظ لوٹا کے چار مختلف معنی ہیں۔پہلا۔لوٹا (اسم ) ٹوٹی کا برتن ، آفتابہ کوکہتے ہیں جس میں پانی بھر کر استعمال کرتے ہیں۔ دوسرا۔لوٹا (فعل) کے معنی ہیں زمین پر لیٹنا یا تڑپنا ، لڑھکنا وغیرہ اور تیسرے اور چوتھے میں اسے تلفظ کے فرق کے ساتھ اسے لُوٹا(فعل) پڑھیں گے تو اس کے معنی ہیں دوسرے کا مال زبردستی چھین لینا، کسی کے مال پر قبضہ کرنے کے ہیں، ایک اور طرح سے پڑھا جائے تو لَوٹا (فعل) واپس آنے کے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔
مترادف الفاظ
بہت سی پہیلیاں مترادفات یعنی ایک ہی معنی کو پیش کرنے والے مختلف الفاظ یا ملتے جلتے معنی والے الفاظ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اس سے طلبا یہ سیکھیں گے کہ کس طرح مختلف الفاظ کو ایک دوسرے کے بدلے یا نئے سیاق و سباق میں استعمال کیاجاسکتا ہے ۔ جیسے ذیل کی پہیلی میں رین، اور رات جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں دونوں کے معنی شب کے ہی ہیں یعنی ایک ہی ہیں۔
رین دنا وہ آوے جاوے
یہی جنم سے کام بناوے
بوجھ فکر سے اتنی بات
کس پر بندھے دن اور رات
اس پہیلی کاجواب سورج ہے، اس کے مترادف الفاظ ہیں آفتاب، شمس، خورشیدوغیرہ۔ مترادفات لکھنے والے میں زبان کی ایسی قابلیت پیداکرتے ہیں کہ وہ ایک پھول کے مضمون کو سو ڈھنگ سے باندھ سکتا ہے۔نثر و ہو یا نظم ایک ہی بات کو مختلف انداز میں بیان کرنے کے ہنرسے طلبا میں ادبی تخلیقیت کو جلا ملے گی۔
استعارہ اور علامت کا استعمال
زبان میں استعاروں او رعلامتوں کی بھی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ استعارہ میں لفظ لغوی معنوں کے بجائے مجازی اور مُراد لیے گئے معنوں میں استعمال ہوتاہے۔ جیسے اس پہیلی میں تھال اور موتی استعارے ہیں۔ تھال آسمان کے لیے اور موتی تاروں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔
ایک تھال موتیوں سے بھرا
سب کے سر پر اوندھا دھرا
چاروں اور وہ تھال پھرے
موتی اس سے ایک نہ گرے
قافیہ /ہم وزن الفاظ
قافیہ ایسے الفاظ کو کہتے ہیں جن میں ایک طرح کی صوتی مماثلت ہوتی ہے۔ الفاظ ہم وزن ہونے کی وجہ سے آہنگ پیدا ہوتا ہے۔ جیسے اس پہیلی میں رنگ اورسنگ قافیے ہیں۔
ایک ناری کے دو بالک دونوں ایک ہی رنگ
ایک پھرے ایک ٹھارارہے پھر بھی دونوں سنگ
اس پہیلی کا جواب چکی ہے۔ چکی کے دو پاٹ ہوتے ہیں دونوں ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ اناج پیستے وقت اوپر کا پاٹ لکڑی کے کھوٹے کے ذریعے گھمایا جاتا ہے۔اس طرح اوپر والا پاٹ گھومتا ہے نیچے والا ٹھہرا رہتاہے۔ لیکن رہتے دونوں ساتھ ہی ہیں۔
کچھ او رپہیلیوں سے مثالیں دیکھیے:
بالا تھا جب سب کو بھایا
بڑھا ہوا کچھ کام نہ آیا
خسرو کہہ دیا اس کا نائوں
ارتھ کرو نہیں چھوڑو گائوں
(دیا)
اس پہیلی میں بھایا ، آیا اور نائوں اور گائوں قوافی ہیں۔
اک ناری کے سر پر نار
پی کے لگن میں کھڑی لاچار
سیس دُھنے اور چلے نہ زور
رو رو کروہ کرے ہے بھور
(شمع)
درج بالا پہیلی میں نار اور لاچار، زور اور بھور قوافی ہیں۔ اس پہیلی میں امیر خسرو نے لفظوں کے ذریعے بے حد خوبصورت پیکر تراشے ہیں۔ شمع کی مناسبت سے اس کے لیے ناری (عورت) کو استعارے کے طورپر استعمال کیاہے ۔ شمع کے سر پر جو آگ ہے اس کی اصل وجہ بیان نہ کر کے حسن تعلیل کے ذریعے یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے محبوب کے ہجر میں جل رہی ہے۔ اور شمع جلتی ہے تو موم پگھلتاہے جسے اس کے آنسو قرار دے رہے ہیں ۔ شمع چوں کہ رات کو جلائی جاتی ہے اور صبح تک جلتی رہتی ہے تو اس امر کو رات کو رو رو کر صبح کردینا سے تعبیر کیا ہے گویا امیرخسرونے غزل کی عشقیہ رسومیات کو پیش نظر رکھ کر یہ پہیلی کہی ہے۔
ذیل میں امیر خسروکی کچھ اورپہیلیاں پیش کی جارہی ہیں جن میں زبان کے ذریعے محاکات نگاری کے ہنر دکھائے گئے ہیں۔ اس پہیلی میں متحرک تصویریں زبان میں موجود مصورانہ استعداد سے روشناس کراتی ہیں۔
اپنے سمے اک پنچھی آئے
ٹک دِکھے اور پھر چھپ جائے
بوجھ کے اٹھیو قسم ہے تم پر
آگ بنا اُجیارا دُم پر
(جگنو)
دھوپوں سے وہ پیدا ہووے چھائوں دیکھ مُرجھاوے
(پسینہ)
اے ری سکھی میں تجھ سے پوچھوں ہو الگے مر جاوے
ان پہیلیوں کے ذریعے طلبا کو سکھایاجاسکتاہے کہ الفاظ کے ذریعے کسی بھی منظرکی تصویر کشی کیسے کی جاتی ہے ۔مناظرکو قارئین کے سامنے کیسے ہوبہو پیش کیاجاسکتاہے۔
غرض کہ اردو زبان کی تدریس میں امیر خسرو کی پہیلیوں کو ایک تعلیمی ٹول کے طورپر استعمال کیاجاسکتاہے۔یہ نہ صرف تفریحی ہیں بلکہ زبان سیکھنے اورمسائل حل کرنے کی لیاقت وصلاحیت کو پروان چڑھانے میں مدد کرسکتی ہیں۔پہیلیاں زبان سیکھنے کے مرحلے کو پُر لطف بنا تی ہیں جو طلبامیں سیکھنے کے جذبے اور دلچسپی کو برقرار رکھتی ہیں۔ نیزتخلیقی اورتخیلاتی انداز میں زبان کا استعمال زبان میں مہارت کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کرتاہے۔ نیزپہیلی میں دیے گئے قرینوں سے جواب تک پہنچنے کے لیے طلبا میں غور و خوض کرنے ،لفظ ومعنی کے رشتے کوسمجھنے،اور کڑی سے کڑی جوڑکر حل تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔اس طرح کی پہیلیوں کو حل کرنے سے منطقی اور استدالی طرز فکر کو فروغ ملے گا۔
Dr. Bi Bi Raza Khatoon
Deptt. of Urdu
MANUU
Hyderabad