اردودنیا،فروری 2026:
تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، تہذیبی اور سماجی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہوتی ہے۔ زبان اس تعلیمی عمل کی روح ہے، کیوںکہ زبان ہی کے ذریعے علم منتقل ہوتا ہے، فکر پروان چڑھتی ہے اور تہذیب آگے بڑھتی ہے۔ اردو زبان ہندستانی معاشرے میں صدیوں سے علمی، ادبی اور تہذیبی کردار ادا کرتی چلی آ رہی ہے۔ تاہم بدلتے ہوئے سماجی و تعلیمی حالات میں اردو تدریس کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں تعلیمی پالیسیوں سے بے توجہی، روزگار سے وابستگی کا فقدان اور جدید ٹیکنالوجی سے دوری شامل ہیں۔
ایسے وقت میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو زبان کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوتی ہے۔ یہ پالیسی مادری زبان میں تعلیم، کثیر لسانی نظام اور تعلیمی اختراع کو فروغ دیتی ہے، جو اردو تدریس کے لیے نہایت موزوں ہے۔
اردوکی تدریس کاآغازبرصغیرمیں مدارس، مکاتب اور بعد ازاں جدید تعلیمی اداروں سے ہوا۔ انیسویں صدی میں اردو نے ایک تدریسی زبان کے طور پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ آزادی کے بعد اگرچہ اردو کو آئینی تحفظ حاصل ہوا، لیکن تعلیمی سطح پر اس کی تدریس بتدریج محدود ہوتی چلی گئی۔ نصابی کمزوری، اساتذہ کی کمی اورانتظامیہ کی بے توجہی نے اردو تدریس کو متاثر کیا۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 اس تاریخی خلا کو پُر کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے، بشرطیکہ اردو کو محض ایک اختیاری زبان نہیں بلکہ فکری اور تعلیمی اثاثہ سمجھا جائے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی اساس ہندوستانی اقدار، عالمی تعلیمی رجحانات اور جدید تحقیقی نظریات پر قائم ہے۔ یہ پالیسی تعلیم کو:
• طلبا علم مرکوز
• اقدار پر مبنی
• کثیر لسانی
• اور ٹیکنالوجی دوست
بنانے پر زور دیتی ہے۔
NEP 2020 واضح طور پر کہتی ہے کہ ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جانی چاہیے، کیوںکہ یہی زبان بچے کی فکری بنیاد کومضبوط بناتی ہے (Government of India, 2020)
قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی سب سے نمایاں اور انقلابی شق مادری زبان یا علاقائی زبان میں ابتدائی تعلیم پر زور ہے۔ پالیسی کے مطابق کم از کم پانچویںجماعت تک اورجہاںممکن ہوآٹھویں جماعت تک، تعلیم مادری زبان میں دی جانی چاہیے۔ تعلیمی نفسیات اور جدید تحقیقی مطالعات اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیںکہ بچہ اپنی مادری زبان میں زیادہ بہتر انداز میں سیکھتا، سمجھتا اور تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے۔
اردو زبان ہندوستان میں کروڑوں افراد کی مادری زبان ہے۔NEP 2020 کے اس اصول کے تحت اردو کو ابتدائی تعلیم کی زبان بنانے کے وسیع امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اردو ذریعہ تعلیم نہ صرف تعلیمی فہم کو بہتر بناتا ہے بلکہ بچوں کو اپنی تہذیب، اقدار اور ثقافتی شناخت سے بھی جوڑتا ہے۔ اس طرح اردو محض ایک مضمون نہیں بلکہ علم کی ترسیل کا موثر وسیلہ بن سکتی ہے۔
مادری زبان میں تعلیم کا نفاذ اردو کے لیے ایک تاریخی موقع ہے، جس کے ذریعے اردو اسکولوں، مدارس اور سرکاری و غیر سرکاری تعلیمی اداروں میں معیاری اردو تعلیم کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 کثیر لسانی تعلیم (Multilingual Education) کو تعلیمی ترقی کا ایک لازمی جز قرار دیتی ہے۔ پالیسی اس تصور کو فروغ دیتی ہے کہ ایک طالب علم کو بیک وقت ایک سے زائد زبانوں سے واقفیت حاصل ہونی چاہیے، تاکہ اس کی فکری وسعت اور سماجی ہم آہنگی میں اضافہ ہو۔
اردو زبان اس کثیر لسانی نظام میں ایک مضبوط کردار ادا کر سکتی ہے۔ اردو کو ہندی، انگریزی اور دیگر علاقائی زبانوں کے ساتھ مربوط کر کے پڑھانے سے نہ صرف زبانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوگی بلکہ اردو کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں بھی دور ہوں گی۔ کثیر لسانی ماحول میں اردو طلبہ کے لیے ایک ثقافتی اور فکری پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔
NEP 2020 نصاب سازی میں لچک، تخلیق اور عصری تقاضوں کو بنیادی حیثیت دیتی ہے۔ پالیسی کے مطابق نصاب کو محض امتحان مرکوز نہیںبلکہ مہارت، فہم اور عملی زندگی سے جوڑا جانا چاہیے۔ اردو نصاب کو بھی اسی تناظر میں ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
اردو نصاب میں درج ذیل پہلوؤں کو شامل کیا جا سکتا ہے:
• عصری موضوعات اور سماجی مسائل
• میڈیا، صحافت اور ترجمہ
• تخلیقی تحریر اور تنقیدی فکر
• اردو زبان کا عملی استعمال
اس طرح اردو نصاب طلبہ کے لیے زیادہ مفید، دلچسپ اور روزگار سے ہم آہنگ بن سکتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں قومی تعلیمی پالیسی 2020 ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال پر خصوصی زور دیتی ہے۔ آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل مواد، ای-لرننگ پلیٹ فارمز اور ورچوئل کلاس روم اردو تدریس کے لیے نئے امکانات فراہم کرتے ہیں۔
اردو زبان میںڈیجیٹل نصابی مواد، آڈیو ویژول لیکچرز، ای-کتب اور آن لائن کورسز تیار کر کے اردو کو نئی نسل کے قریب لایا جا سکتا ہے۔ اساتذہ اور طلبہ کے لیے یہ ٹیکنالوجی اردو تدریس کو زیادہ موثر، دلچسپ اور قابلِ رسائی بنا سکتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 اساتذہ کو تعلیمی نظام کی بنیاد قرار دیتی ہے۔ اردو اساتذہ کی مسلسل تربیت، جدید تدریسی طریقوں سے واقفیت اور ٹیکنالوجی کی مہارت اردو تدریس کے معیار کو بلند کر سکتی ہے۔
اساتذہ کی تربیت میں درج ذیل امور کو شامل کرنا ضروری ہے:
• جدید تدریسی طریقے
• ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال
• تحقیقی و تنقیدی صلاحیت
• نصاب سازی اور تشخیص
یہ اقدامات اردو اساتذہ کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ بنا سکتے ہیں۔
زبان محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ کسی بھی قوم کی تہذیبی شناخت، فکری روایت اور تاریخی شعور کی امین ہوتی ہے۔اردو زبان ہندوستانی تہذیب کی ایک جامع علامت ہے، جس میں مختلف ثقافتوں، مذاہب اور تہذیبی عناصر کی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 زبان کو ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ کا ایک اہم وسیلہ قرار دیتی ہے، جو اردو کے لیے نہایت اہم ہے۔
اردو تدریس کے ذریعے طلبہ کو اپنی تہذیبی روایت، ادبی ورثے اور فکری سرمایے سے جوڑا جاسکتا ہے۔ ادب، تاریخ، اخلاقیات اور سماجی اقدار اردوزبان کے توسط سے نئی نسل تک منتقل ہو سکتی ہیں۔ NEP 2020 اردو کو صرف ایک لسانی مضمون کے بجائے ثقافتی شناخت کے تحفظ کا ذریعہ بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
عالمی سطح پر ترقی یافتہ ممالک اپنی مادری زبانوں میں تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ فن لینڈ، جاپان، جرمنی اور فرانس جیسے ممالک کی تعلیمی پالیسیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم قومی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 بھی اسی عالمی رجحان کی پیروی کرتی ہے۔
اردو زبان کو عالمی زبانوں کے ساتھ ہم آہنگ کر کے پڑھایا جا سکتا ہے۔ ترجمہ، بین الاقوامی ادب اور بین الثقافتی مکالمے کے ذریعے اردو کو عالمی سطح پر بھی مستحکم مقام دلایا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں اردوتدریس عالمی منظرنامے سے جڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اگرچہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو کے لیے متعدد امکانات فراہم کرتی ہے، لیکن عملی سطح پر کئی چیلنجز بھی درپیش ہیں۔ ان میںچند مندرجہ ذیل ہیں:
1 اردو اساتذہ کی کمی اور غیر معیاری تربیت
2 جدید اور معیاری نصابی مواد کا فقدان
3 ڈیجیٹل اردو مواد کی کمی
4 اردو کو روزگار سے جوڑنے میں دشواری
5 سماجی اور تعلیمی سطح پر اردو کے بارے میں غلط فہمیاں
ان چیلنجز کا حل منظم منصوبہ بندی اور سنجیدہ تعلیمی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔
NEP 2020 اردو تدریس کے لیے کئی عملی امکانات فراہم کرتی ہے، جن میں:
• اردو میڈیم اسکولوں کا فروغ
• کثیر لسانی نصاب میں اردو کی شمولیت
• آن لائن اردو کورسز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز
• اردو کو ہنر، ترجمہ اور میڈیا سے جوڑنا
• تحقیق اور اختراع کی حوصلہ افزائی
یہ امکانات اردو کو عصری تعلیم کے دھارے میں شامل کرنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اس مطالعے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو تدریس کے لیے ایک جامع اور امید افزا فریم ورک فراہم کرتی ہے۔ اگر اس پالیسی کو دیانت داری اور منصوبہ بندی کے ساتھ نافذ کیا جائے تو اردو زبان تعلیمی، ثقافتی اور فکری سطح پر ایک بار پھر مستحکم مقام حاصل کر سکتی ہے۔
اس تحقیق کی روشنی میں درج ذیل سفارشات پیش کی جاتی ہیں:
1 اردو کو مادری زبان کے طور پر فروغ دیا جائے
2 جدید اور عملی اردو نصاب تیار کیا جائے
3 اردو اساتذہ کی مستقل تربیت کا نظام قائم کیا جائے
4 اردو تدریس میں ٹیکنالوجی کولازمی جزبنایا جائے
5 اردو کو روزگار اور ہنر سے جوڑا جائے
یہ مقالہ اس امر کی کوشش ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے تناظر میں اردو تدریس کے امکانات کو ایک منظم، علمی اور تحقیقی انداز میں پیش کیا جائے۔ اردو زبان اگر جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو جائے تو وہ نہ صرف اپنی تہذیبی شناخت برقرار رکھ سکتی ہے بلکہ مستقبل کی تعلیمی ضروریات کو بھی پورا کر سکتی ہے۔
تعلیم میں زبان کاکردار محض معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں بلکہ یہ طالب علم کی ذہنی، جذباتی اور فکری نشوونما سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔ تعلیمی نفسیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچہ اپنی مادری زبان میں نہ صرف جلد سیکھتا ہے بلکہ اس کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتیں بھی بہتر طور پر پروان چڑھتی ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اسی نفسیاتی اصول کو بنیاد بنا کر مادری زبان میں تعلیم پر زور دیتی ہے۔
اردو زبان چونکہ کروڑوں ہندوستانیوں کی مادری زبان ہے، اس لیے اردو میں تدریس طلبہ کی ذہنی ساخت کو مضبوط کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ اردو تدریس کے ذریعے طلبہ میں اعتماد، خود اعتمادی اور فکری آزادی پیدا کی جا سکتی ہے، جو جدید تعلیم کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 نظام تعلیم کونوٹ کرسیکھنے کے بجائے طالب علم کو تنقیدی وتجزیاتی صلاحیتوں پرمرکوز نظام کی طرف لے جاتی ہے۔ اردو زبان و ادب اس مقصد کے حصول کے لیے غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ اردو ادب میں افسانہ، ناول، شاعری اور تنقیدی مضامین طلبہ کو سوال کرنے، غور و فکر کرنے اور مختلف زاویوں سے مسائل کو دیکھنے کی تربیت دیتے ہیں۔
اردو تدریس کو اگر محض نصابی حد تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اس میں مباحثہ، مکالمہ، تخلیقی تحریر اور تجزیاتی مطالعہ شامل کیا جائے تو یہ طلبہ کی فکری تربیت میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 اعلیٰ تعلیم میں کثیر لسانی نظام کو فروغ دیتی ہے۔ اس تناظر میں اردو کو اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کی زبان کے طور پر مستحکم کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اردو میں سوشل سائنسز، انسانی علوم، تاریخ، فلسفہ اور مذہبیات جیسے شعبوں میں معیاری تحقیق کی جا سکتی ہے۔
اگر یونیورسٹی سطح پر اردو میڈیم پروگرامز، ترجمہ بیوروز اور تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں تو اردو زبان علمی دنیا میں اپناموثر مقام دوبارہ حاصل کر سکتی ہے۔
اردو تدریس کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ اسے روزگار سے کم جوڑاجاتاہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ہنر مندی (Skill Development) کو تعلیم کا لازمی جز قرار دیتی ہے۔ اردو زبان کو ترجمہ، میڈیا، صحافت، مواد نویسی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور تدریس جیسے شعبوں سے جوڑ کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
اس طرح اردو محض ادبی زبان نہیں بلکہ عملی زندگی سے وابستہ ہوکر ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہے۔
NEP 2020 امتحان پر مبنی نظام کے بجائے مسلسل اور جامع جائزہ (Continuous and Comprehensive Evaluation) کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ اردو تدریس میں بھی اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے تخلیقی سرگرمیاں، پروجیکٹس، زبانی اظہار اور عملی سرگرمیوں کو شامل کریں۔
یہ طریقہ اردو زبان کے فطری مزاج سے ہم آہنگ ہے اور طلبہ کی ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بناتا ہے۔
اردو تدریس کے فروغ کے لیے تعلیمی اداروں، جامعات، مدارس اور سرکاری تنظیموں کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ادارہ جاتی خود مختاری اور اختراع کی حمایت کرتی ہے، جس سے اردو کے لیے نئے تعلیمی ماڈلز تشکیل دیے جا سکتے ہیں۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 تعلیم کو صرف معلومات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں بلکہ اقدارانسانی کی تشکیل کا وسیلہ قرار دیتی ہے۔ اس پالیسی کے مطابق تعلیم کا مقصد ایسے باشعور، بااخلاق اور ذمہ دار شہری تیار کرنا ہے جو معاشرے میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ اردو زبان و ادب اس ضمن میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اردو ادب میں اخلاقی اقدار، انسانی ہمدردی، رواداری، سماجی انصاف اور روحانی بالیدگی جیسے عناصر وافر مقدار میں موجود ہیں۔
اردو تدریس کے ذریعے طلبہ میں احترامِ انسانیت، برداشت، مکالمہ اور اخلاقی شعور پیدا کیا جاسکتا ہے۔ غالب، اقبال، پریم چند، شبلی اور حالی جیسے ادیبوں کی تخلیقات نہ صرف ادبی ذوق کو جلا بخشتی ہیں بلکہ اخلاقی اور سماجی شعور کو بھی بیدار کرتی ہیں۔ NEP 2020 کے اقدار پر مبنی تعلیمی تصور کے تحت اردو ادب ایک موثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 سماجی شمولیت، مساوات اور تعلیمی انصاف کو مرکزی اہمیت دیتی ہے۔ اردو زبان تاریخی طور پر ایک عوامی زبان رہی ہے، جس نے مختلف سماجی طبقات کو آپس میں جوڑنے کا کام کیاہے۔ اردوتدریس سماجی طورپرپسماندہ طبقات، اقلیتوں اور محروم طبقوں کے لیے تعلیمی مواقع فراہم کرسکتی ہے۔
اردو میڈیم اسکول اور ادارے ایسے طلبہ کے لیے تعلیم کو قابلِ رسائی بناتے ہیں جو دوسری زبانوں میں تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اس طرح اردو تدریس NEP 2020 کے سماجی انصاف اور مساوی تعلیم کے وژن کو عملی جامہ پہنا سکتی ہے۔
ہندوستان ایک کثیرثقافتی اور کثیر لسانی ملک ہے، جہاں قومی یکجہتی کا انحصار مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی پر ہے۔ اردو زبان اس ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 قومی اتحاد اور ثقافتی ہم آہنگی کو تعلیم کا بنیادی مقصد قرار دیتی ہے۔
اردو تدریس کے ذریعے مختلف تہذیبوں، مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان مکالمہ فروغ پا سکتا ہے۔ اردو زبان کی مشترکہ تہذیبی روایت طلبہ کو قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کاشعور عطاکرتی ہے، جو عصری ہندستان کی ایک اہم ضرورت ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 تخلیقی صلاحیت (Creativity) کو تعلیم کا مرکزی عنصر قرار دیتی ہے۔ اردو زبان اور ادب تخلیقی اظہار کے بے شمار مواقع فراہم کرتے ہیں۔ شاعری، افسانہ، ڈرامہ، مضمون نویسی اور ترجمہ اردو تدریس کے ایسے شعبے ہیں جو طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار سکتے ہیں۔
اگر اردو تدریس میں تخلیقی سرگرمیوں کو شامل کیا جائے توطلبہ زبان کو محض امتحانی مضمون نہیںبلکہ اظہار ذات کا ذریعہ سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ رجحان اردو زبان کے مستقبل کے لیے نہایت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 تحقیق کو اعلیٰ تعلیم کا بنیادی ستون قرار دیتی ہے۔ اردو زبان میں تحقیق کے فروغ کے لیے نئے تحقیقی موضوعات، بین الموضوعاتی (Interdisciplinary) مطالعات اور عصری مسائل پر تحقیق کی ضرورت ہے۔
اردو تحقیق کو اگر سماجیات، تعلیم، میڈیا، مذہب اور فلسفے جیسے شعبوں سے جوڑا جائے تو اردو زبان تحقیقی دنیا میں ایک مضبوط مقام حاصل کر سکتی ہے۔ NEP 2020 اردو تحقیق کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتی ہے۔
ڈیجیٹل دورمیںزبانوںکی بقااورفروغ کا انحصار ان کی ڈیجیٹل موجودگی پر ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 ڈیجیٹل ثقافت اور آن لائن تعلیم کو فروغ دیتی ہے۔ اردو زبان کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مضبوط بنانے کی اشد ضرورت ہے۔
آن لائن جرائد، ڈیجیٹل کتب خانے، یوٹیوب لیکچرز، پوڈکاسٹس اور ای لرننگ پلیٹ فارمز اردو تدریس کے لیے نئے افق کھول سکتے ہیں۔ یہ اقدامات اردو کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں بھی مددگار ثابت ہوں گے۔
مندرجہ بالا مباحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو تدریس کے لیے صرف ایک پالیسی دستاویز نہیں بلکہ ایک فکری و عملی منشور ہے۔ اردو زبان اگر اس پالیسی کے تحت دیے گئے مواقع سے بھرپور استفادہ کرے تو وہ نہ صرف تعلیمی میدان میں اپنی بقا کو یقینی بنا سکتی ہے بلکہ سماجی، ثقافتی اور قومی سطح پر بھی موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی2020تعلیم میںبین الموضوعاتی مطالعہ کو فروغ دیتی ہے، جس کے تحت مختلف مضامین کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے پڑھایا جاتا ہے۔ اردو زبان و ادب اس ضمن میں غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہے، کیونکہ اردو ادب میں تاریخ، سماجیات، فلسفہ، مذہب، نفسیات اور سیاسیات جیسے موضوعات وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔
اردو تدریس کو اگر بین الموضوعاتی انداز میں پیش کیا جائے تو طلبہ زبان کو محض ادبی متن کے طور پر نہیں بلکہ سماجی حقیقت کے آئینے کے طور پر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ طریقہ تدریس اردو کو عصری علوم سے جوڑنے میں نہایت معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ترجمہ نگاری اردو زبان کے فروغ اور علمی وسعت کا ایک اہم ذریعہ رہی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 مختلف زبانوں کے درمیان علمی تبادلے پر زور دیتی ہے۔ اردو ترجمہ نگاری کے ذریعے عالمی علوم، سائنسی تحقیق اور عصری نظریات کو اردو زبان میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔اردو تدریس میں ترجمہ کو ایک عملی مہارت کے طور پر شامل کرنے سے طلبہ کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس طرح اردو زبان علمی اور معاشی دونوں سطحوں پر مضبوط ہوسکتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے امتزاج پر زور دیتی ہے۔ اردو تدریس میں مشاعرے، مباحثے، ڈرامہ، تقریری مقابلے اور ادبی نشستیں طلبہ میں زبان سے رغبت پیدا کرتی ہیں۔غیر نصابی سرگرمیوں کے ذریعے اردو زبان زندہ اور متحرک شکل میں طلبہ کے سامنے آتی ہے، جو زبان سیکھنے کے عمل کو فطری اور دلچسپ بنا دیتی ہے۔
قومی تعلیمی پالیسی 2020 اساتذہ کو محض ایک تدریسی عملہ نہیں بلکہ تعلیمی رہنما(Educational Leaders) قرار دیتی ہے۔ اردو اساتذہ اگر تحقیقی، فکری اور انتظامی سطح پر قائدانہ کردار ادا کریں تو اردو تدریس کا معیار بلند ہو سکتا ہے۔اساتذہ کی قیادت اردو زبان کے فروغ میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے، خصوصاً تعلیمی پالیسیوں کے نفاذ میں۔
تعلیم ایک سماجی عمل ہے، جس میں کمیونٹی کی شراکت ناگزیر ہوتی ہے۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 مقامی برادری کی شمولیت کو تعلیمی ترقی کا اہم جز قرار دیتی ہے۔ اردو تدریس میں والدین، ادبی تنظیموں اور سماجی اداروں کی شرکت اردو زبان کے فروغ میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اگرچہ قومی تعلیمی پالیسی 2020 اردو تدریس کے لیے امید افزا امکانات فراہم کرتی ہے، لیکن پالیسی کے عملی نفاذ میں کئی رکاوٹیں درپیش ہیں، جیسے:
• وسائل کی کمی
• انتظامی پیچیدگیاں
• تربیت یافتہ اساتذہ کا فقدان
ان مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبہ بندی اور پالیسی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
اردو تدریس کا مستقبل قومی تعلیمی پالیسی 2020 کے موثر نفاذ سے وابستہ ہے۔ اگر اردو زبان کو تعلیمی پالیسیوں میں مرکزی حیثیت دی جائے تو آنے والے وقت میں اردو نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ ترقی بھی کرے گی۔
حواشی
1 کلیم، سلیم۔ (2018)۔ اردو تدریس کے جدید رجحانات۔ نئی دہلی: ایجوکیشنل پبلشرز۔
2 قریشی، احمد۔ (2019)۔ اردو زبان اور تعلیمی مسائل۔ اردو تحقیق، 12(2)، 45–60۔
3 فاروقی، شمیم حنفی۔ (2015)۔ اردو زبان اور تہذیبی شناخت۔ نئی دہلی: نیشنل کونسل فارپروموشن آف اردو لینگویج۔
4 سعیدی، اسلم۔ (2017)۔ اردو نصاب اور تدریسی مسائل۔ علی گڑھ: ایجوکیشنل بک ہاؤس۔
5 اقبال، محمد۔ (2012)۔ تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلام۔ لاہور: اقبال اکیڈمی۔
6 پریم چند۔ (2010)۔ منتخب افسانے۔ نئی دہلی: راج کمل پرکاشن۔
Dr. Mufti Sohail Nadwi
Principal, MESCO Junior College
Mesco Educational Complex
Mustaidpura, Karwan Road
Telangana-500006
Email: msanadvi93900@gmail.com