سید نقی احمد ارشاد کی شاد شناسی،مضمون نگار: ناہید نظامی

February 5, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

سید نقی احمد ارشاد خاندان شاد عظیم آبادی کے ان روشن چراغوں میں سے تھے جنھوں نے نہ صرف اس خانوادے کی علمی و ادبی روایت کو سنبھالے رکھا بلکہ اپنے عہد کی سماجی اور انتظامی زندگی میں بھی وقار کے ساتھ اپنا مقام قائم کیا۔ وہ اردو کے نامور شاعر شاد عظیم آبادی کے اکلوتے فرزندسیدحسین خاں کے صاحبزادے تھے۔ نقی احمد ارشاد کی پیدائش 5جولائی 1920 کو آبائی مکان شاد منزل، پٹنہ سٹی میں ہوئی۔ ان کی والدہ حسن آرا بیگم تھی۔ ان کا انتقال نقی احمد کی ولادت کے دوسرے ہی دن ہو گیا۔ یوں ارشاد نے آنکھ کھولتے ہی ماں کی شفقت اور محبت سے محرومی کا دکھ جھیلا۔ دوسری طرف والد سید حسین خاں ضعفِ دماغی میں مبتلا تھے، اس لیے باپ کی توجہ اور سرپرستی بھی انھیں پوری طرح میسر نہ آ سکی۔
ایسے حالات میں شاد عظیم آبادی ہی ان کے لیے سراپا شفقت و محبت بن گئے۔ جب تک شاد با حیات رہے، ارشاد کو اپنی آغوش محبت میں رکھا۔ شاد کے انتقال کے وقت نقی احمد کی عمر محض دس برس تھی۔ گویا زندگی کے ابتدائی دس سال انھوں نے دادا کے سایہ شفقت میں گزارے۔ چونکہ ارشاد، شاد منزل ہی میں مقیم تھے، اس لیے شاد کی زندگی، عادات، علمی مشاغل اور خانگی حالات سے انھیں قریبی واقفیت حاصل رہی۔ اس دور میں معاشی حالت اس قدر ناگفتہ بہ تھی کہ روزمرہ کے خانگی اخراجات کی تکمیل بھی دشوار ہو گئی تھی۔ بعد ازاں ایسے حالات پیش آئے کہ نقی احمد کو شاد منزل چھوڑنے پر بھی مجبور ہونا پڑا۔ شاد عظیم آبادی کے انتقال کے وقت شاد منزل کی حالت نہایت خستہ ہو چکی تھی۔
سید حسین خاں کی وفات کے بعد سب سے بڑا مسئلہ نقی احمدکی تعلیم کا تھا۔ شاد عظیم آبادی کی شدید خواہش کے باوجود ان کے صاحبزادے اور خاندان کے دیگر بچے، جن میں شاد کے بھانجے سید نصیر حسین خاں خیال بھی شامل تھے، اسکولی تعلیم بھی مکمل نہ کر سکے۔ تاہم اس ضمن میں نقی احمد ارشاد نے سر فخرالدین اور عبدالعزیز کے احسان کا اعتراف کیا ہے، جن کی سرپرستی اور توجہ سے نقی احمد اور ان کے بھائی سلطان احمد کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملا۔ ارشاد نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ خان بہادر سید خیرات احمد کے صاحبزادے بیرسٹر سر سلطان احمد نے1931میں ان کے تعلیمی وظیفے کے لیے مسٹر فوکس، ڈائرکٹر پبلک ایجوکیشن، سے سفارش کی تھی، جو ان کی تعلیمی زندگی میں نہایت اہم موڑ ثابت ہوئی۔
تعلیمی میدان میں نقی احمدارشادنے اپنی غیر معمولی ذہانت اور محنت کا ثبوت دیا۔ انھوں نے 1936 میں پٹنہ سٹی ہائی اسکول سے میٹرک کا امتحان اول درجہ میں پاس کیا۔ اس کے بعد1938 میں پٹنہ کالج سے آئی اے کیا اور1940میں پٹنہ یونیورسٹی سے آنرز کی تعلیم مکمل کی۔ بالآخر1942میں پٹنہ یونیورسٹی ہی سے تاریخ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم مکمل ہوتے ہی1943 میں انھوں نے ملازمت اختیار کی اور سب ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے۔
ملازمت کے سلسلے میں نقی احمدارشاد صوبہ بہار کے مختلف شہروں میں تعینات رہے اور دیانت، وقار اور انتظامی صلاحیت کے باعث مختلف مناصب پرفائز ہوئے۔ اگرچہ کتاب ’’شاد کا عہد اور فن‘‘کے پہلے حصے میں ان کے سوانحی کوائف اجمالی طور پر درج کیے گئے ہیں اور اس کے مرتب اسمعیل حسنین نقوی نے تفصیلی طور پر ان کی جائے ملازمت کا ذکر نہیں کیا، تاہم ارشاد کی مختلف تحریروں میں موجوداشارات سے ان کی سرکاری خدمات کا نقشہ واضح ہو جاتا ہے۔
نقی احمد ارشاد نے مدھوبنی، دربھنگہ اور سنتھال پرگنہ میں مجموعی طور پر بارہ برس ملازمت انجام دی۔ 1952 سے 1959کے دوران وہ چھپرہ، سیوان اور مدھوبنی میں برسرکاررہے۔ ان کی اہم تعیناتیاں اس طرح رہیں: 1952میں فرسٹ کلاس جوڈیشیل مجسٹریٹ، چھپرہ؛۔ 1954میں جوڈیشیل مجسٹریٹ، سیوان؛1957میںڈپٹی مجسٹریٹ، مدھوبنی؛ 1960سے1964 تک سینئر ڈپٹی کلکٹر، دمکا (سنتھال پرگنہ)؛1964سے 1968 تک ایس ڈی او، مظفرپور؛ 1968میں ڈپٹی مجسٹریٹ، دربھنگہ؛ اورفروری 1971سے مئی 1976 تک ایڈیشنل کلکٹر، شاہ آباد (آرہ) نیز ڈپٹی ڈائرکٹر چکبندی کے عہدوں پر فائز رہے۔
اس عہد میں سرکاری ملازمت محض روزگار کا وسیلہ نہیں تھی بلکہ ہر لمحہ جان کے خطرے سے دوچار رہنے کا نام بھی تھی۔ ملک کے طول و عرض میں فرقہ وارانہ کشیدگی، فسادات اور کشت و خوں کا ایسا سلسلہ جاری تھا کہ کہیں بھی تعیناتی ہو، عدم تحفظ کا احساس مستقل طور پر ساتھ رہتا تھا۔ ایسے پرآشوب ماحول میں نقی احمد ارشاد کے سرپربیک وقت کئی ذمہ داریاں آن پڑی تھیں۔ ایک طرف انھیں اپنی سرکاری ملازمت کی ساکھ قائم رکھنی تھی، دوسری طرف کسی طرح ملازمت کو بچائے رکھنا بھی مستقل تشویش میں مبتلا رکھتا تھا، اور ساتھ ہی دل و دماغ میں شاد عظیم آبادی کے نام و کام کی بازیافت اور تحفظ کی دھن سوار رہتی تھی۔
ارشاد نے خود اپنے حالات کا نقشہ کھینچتے ہوئے نہایت کرب کے ساتھ لکھا تھا کہ1942میں ملازمت میں آ نے کے بعدچھ سال ملازمت کے دوران فرقہ وارانہ زمانے میںجیسے کٹے، اسے ان کادل ہی جانتا ہے۔ یہ بھی یقین نہ تھاکہ ملازمت رہتی ہے یاجاتی ہے، ہندوستان میں رہ پاتے ہیں یا نہیں۔ان کا یہ بیان محض ذاتی شکایت نہیں بلکہ اس پورے عہد کی اجتماعی بے یقینی اور اضطراب کا ترجمان ہے۔ ایک نو عمر افسر کے لیے، جس کے پاس نہ مضبوط خاندانی سہارا تھا اور نہ مالی آسودگی، یہ اندیشے کہیں زیادہ شدید تھے۔تاہم وقت کے ساتھ حالات کچھ سازگار ہوئے۔ ملازمت مستحکم ہوئی اور مالی حالت میں بھی بتدریج بہتری آنے لگی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب نقی احمد ارشاد نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ شاد عظیم آبادی کی تخلیقات کی تلاش، ان کی تدوین، اور شاد فہمی کے فروغ کے لیے وقف کر دیا۔ انھوں نے شاد کے کلام اور نثر کو محض محفوظ کرنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس کے تاریخی، تہذیبی اور خاندانی پس منظر کو بھی واضح کرنے کی کوشش کی۔ شاد کی کئی ایسی تحریریں، اشعار اور حوالے ہیں جو ارشاد کی مسلسل جستجو اور محنت کے بغیر اردو دنیا تک پہنچ ہی نہ پاتے۔
اپنی تحریروں میں نقی احمدارشادنے جابجا شاد منزل کے حالات، شاد کے شب و روز، ان کی نشست و برخاست، مزاج، اور نسب پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ یہ محض تحقیقی مواد نہیں بلکہ ایک چشم دید گواہ کی روایت ہے، جس نے بچپن ہی سے ان سب مناظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ شاد منزل کی فضا، وہاں کی علمی و ادبی محفلیں، اور شاد کی شخصیت کے مختلف پہلو ارشاد کی یادداشتوں میں اس طرح محفوظ تھے کہ شاد کا عہد ایک زندہ حقیقت کی صورت میں قاری کے سامنے آ جاتا ہے۔
بچپن سے جن حالات اور مشاہدات سے وہ گزرتے رہے، انھی کے باعث شاد عظیم آبادی سے ان کی دلچسپی محض خاندانی نسبت تک محدود نہ رہی بلکہ عمر بھر کی فکری اور تحقیقی وابستگی میں ڈھل گئی۔ یوں نقی احمد ارشادنہ صرف شادکے وارث تھے بلکہ ان کے معتبر راوی اور محافظ بھی ثابت ہوئے، جن کی کوششوں نے شاد کو محض ماضی کا شاعر نہیں رہنے دیا بلکہ اردو ادب کی زندہ روایت کا حصہ بنا دیا۔
نقی احمد ارشاد1978میں سرکاری ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔ سبکدوشی کے بعد بھی علمی و ادبی دلچسپی برقرار رہی، مگر2005کے بعد مسلسل علالت نے انھیں گھیر لیا۔ 4 مارچ 2008 کو پٹنہ میں ان کا انتقال ہوا۔ ان کی زندگی صبر، محنت، علم دوستی اور خاندانی روایت کی پاسداری کی ایک روشن مثال ہے، جو خاندان شاد عظیم آبادی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
شاد کی حیات کے ضمن میں شاد کی خود نوشت کے مرتب مسلم عظیم آبادی کی کتاب ’’شاد کی کہانی شاد کی زبانی‘‘ ایک اہم حوالہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ارشاد نے لکھا ہے کہ مسلم عظیم آبادی ’’شاد کی کہانی شاد کی زبانی‘‘ کے سبب مشہور ہو گئے۔ شاد کے ذریعے انھیں سوانح لکھوائے جانے کے برسوں بعد اس کی اشاعت ہوئی۔
’’جہاں تک مسلم عظیم آبادی کا سروکار ہے، شاد نے اپنی سوانح عمری ان کے حوالے1921 میں کی تھی اور یہ کتاب چالیس سالوں کے بعد 1960میں ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب کی عنایت سے شائع ہوئی، جن سے مسلم صاحب سے جامعہ ملیہ کی دوستی تھی۔ اس طویل عرصہ میں شاد کی تقریبا سبھی کتابیں شائع ہو چکی تھیں اور وہ غیر معروف ہستی نہ تھے جن کو مسلم صاحب کے قلم نے زندہ کیا۔ مسلم صاحب کی شہرت کی ضامن، شاد کی سوانح عمری ہوئی۔ پھر بھی مسلم صاحب لائق ستائش ضرور ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کام یہ تھا کہ میری بار بار استدعا پر انھوں نے جناب کلیم الدین صاحب کو کلیات شاد کی ترتیب اور اس پر مقدمہ لکھنے کے لئے راضی کر دیا۔‘‘1؎
لیکن شاد کے سلسلے میں ارشاد نے مسلم عظیم آبادی کی خدمات کی تعریف بھی کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ کلیات شاد کی اشاعت میں مسلم صاحب ایک متحرک قوت تھے۔انھوں نے کلیم الدین احمد کو اس کام کے لیے آمادہ کیا تھا کہ وہ کلیات شاد کو مرتب کرنے کا بیڑہ اٹھا لیں۔
’’ان(مسلم عظیم آبادی)کاخط میرے پاس غالبا 1973 میں آرہ کے پتے سے آیا کہ کلیم صاحب راضی ہو گئے اور کچھ عرصہ کے بعد بہار اردو اکیڈمی کے پہلے سکریٹری جناب فضا شمسی کا خط آیا کہ تم شاد کا شعری سرمایہ کلیم صاحب کے حوالے کر دو۔ میں نے ایسا ہی کیا۔‘‘2؎
اسی طرح جب حمید عظیم آبادی نے ’’فکر بلیغ‘‘ شائع کی تو اس میں کئی تنسیخ و ترمیم کر دی۔
’’میخانہ الہام‘‘کی اشاعت کے پہلے حمید عظیم آبادی نے’’فکر بلیغ‘‘جلد اول شائع کرائی تھی۔ جب کلیم صاحب کلیات مرتب کرنے لگے تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ حمید مرحوم کی شائع کردہ ’’فکر بلیغ کا اقتباس بھی شائع کر دیا جائے۔
’’میں نے حمید صاحب کی مرتبہ’’فکر بلیغ‘‘ دیکھی۔ میں نے پایا کہ حمید صاحب نے کثرت سے کتر بیونت کر کے فکر بلیغ کو شائع کرایا تھا۔ اس میں ’’باب المراثی‘‘ کے علاوہ ہندی شاعری کے نمونے نہ تھے۔ سب حذف کر دیے گئے تھے۔ حالانکہ شاد نے بعض بعض ہندی کے دوہوں کا ترجمہ اپنے کلام میں پیش کیا ہے۔‘‘ 3؎
یہ امر قابل غور ہے کہ ارشاد نے شاد کے ہندی کلام پر مضامین بھی لکھے اور مختلف کتابوں میں بھی اسے موضوع بنایا تھا۔ گویا یہ شاد کی شاعری کا ایک اہم جز تھا، جس سے چشم پوشی کی گئی۔ مزید یہ کہ دوسروں کے ذریعے شاد کی مرتب کردہ کتابوں یا مجموعوں میں کیا ترمیم و تنسیخ یا اضافہ ہے اس میں کسی کو کوئی دلچسپی نہ تھی، بجز ارشاد کے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ یہ چاہتے رہے کہ جو کچھ شاد کی زندگی، خاندان اور کلام کے سلسلے میں دنیا کو بتایا جائے وہ مبنی بر حقیقت رہے۔ایسا شاید ممکن ہی نہ تھا کہ شاد کے قلمی نسخوں، یا ان کی حیات میں شائع ہو چکی بوسیدہ کتابوں کی ورق گردانی کر کے کوئی نئی مرتب کردہ کتابوں کا موازنہ کرتا۔ اس لحاظ سے ارشاد نے یقیناً اہم کام کیا ہے۔
تاریخ کے معاملے میں کوتاہیاں یاغلطیاں تذکروں میں عام ہیں۔قدیم زمانوں کے بڑے بڑے اردو کے تخلیق کار کے یہاں بھی اس قسم کے تسامحات موجود ہیں۔ارشاد کا نکتہ یہ ہے کہ شاد کی جن تصانیف میں تاریخی اغلاط کی نشاندہی کی جاتی رہی ہے ان کی تصنیف کے وقت شاد کی عمر ستر سے زیادہ تھی۔ گھر کے معاملات بھی ابتر تھے۔ سرمایہ محدود تھا، وسائل محدود تھے۔ زیادہ تر تاریخی اندراجات حافظے پر بھروسہ کر کے رقم کیے گئے۔ ایسے میں غلطیوں کا امکان ہے اور یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے۔ اسی طرح کوئی بڑا فنکار اگر اپنی یا اپنے خاندان کی بڑائی بیان کرتا ہے تو اسے برائی پر محمول نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک خاص نفسیاتی الجھن کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ’’کلیات شاد‘‘ میں کلیم الدین احمد نے اس پہلو پر بخوبی روشنی ڈالی ہے۔ قاضی عبدالودود کے اعتراضات کی کھلے بندوں مخالفت کرنے کے بجائے کلیم صاحب نے نپے تلے لفظوں میں شاد کی نفسیات کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کی ہے کہ اس کے بعد قاضی صاحب کے اعتراضات ہی بے معنی ہو جاتے ہیں۔
’’شاد بھی اپنے فن کے بل پر ابھرے لیکن ان کے Complexes اتنے زیادہ اتنے پیچیدہ اور اتنے مضبوط تھے کہ وہ اس وہم کی دنیا سے کل آزادی حاصل نہ کر سکے۔ جہاں تک ان کی شاعری کا سوال ہے اور یہی ان کا طرہ امتیاز ہے وہ انھیں اس وہم کی دنیا سے نکال کر عرش نشیں بنادیتی ہے۔ لیکن شاعری کے علاوہ ان کی زندگی اسی World of phantasy میں بسر ہوئی۔ اس دنیا کی خوبی یہ ہے کہ ساری ناممکن چیزیں ممکن ہو جاتی ہیں، وہ خواہشیں، تمنائیں، امنگیں جوپوری نہ ہو پائی تھیں یہاں پھلتی پھولتی ہیں۔ اس دنیا اور ہماری روزمرہ کی دنیا میں کوئی مشابہت نہیں۔ یہاں دنیوی قوانین و احکام کا گزر نہیں۔ یہاں ممکن، نا ممکن، سیاہ سفید،بلندی پستی، سچ جھوٹ، غرض کسی تضاد کا گزر نہیں۔ نامکمن شے ممکن بن جاتی ہے، سیاہی سفیدی نظر آتی ہے، بلندی اور پستی ایک ہی سطح پر ہوتی ہیں۔ اور جھوٹ اور سچ کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ہرامید بر آتی ہے، ہر تمنا پوری ہو جاتی ہے،ہر مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔ یہ نفسیاتی حقیقت ہے۔‘‘4؎
یہ مکمل عبارت ایک ایسے پس منظر کی تشکیل کرتی ہے جس میں شاد کا وجود ہی مچلتا ہوا نظر آتا ہے۔ اردو ادب کی تاریخ میں یہاں شاد کے علاوہ کئی دوسرے اصحاب فن بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی پس منظر کے بیان کے بعد کلیم الدین احمد کہتے ہیں کہ:
’’اگر اس نفسیاتی حقیقت کو ہم دھیان میں رکھیں تو بہت ساری باتیں جوشاد سے متعلق اعتراضا ً کہی جاتی ہیں ہماری سمجھ میں آجائیں گی۔ میں نے کہا ہے کہ شاید عالی خاندان اور رئیس ہونا بڑا شاعر ہونے سے شاد کے خیال میں زیادہ اہمیت رکھتا تھا۔ اگریہ بات پیش نظر ہے تو پھر محمد مسلم صاحب کے استعجاب میں ہم شریک نہ ہو سکیں گے۔‘‘5؎
مسلم عظیم آبادی نے برسوں بعد شاد کی سوانح کو شائع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت تک ان کے ذہن کی جو روش تھی اس کے بارے میں ارشاد کے محولہ بالا بیان پر غور کرنا ہی کافی ہے۔ کلیم الدین احمد نے بھی مسلم عظیم آبادی کے اس ذہنی رجحان کی گرفت کی ہے۔ ان کے الفاظ ہیں کہ:
’’وہ (مسلم عظیم آبادی) لکھتے ہیں کہ ان (شاد) کی آرزو یہ تھی کہ ان کے آبا واجداد، دادا، دادی، نانا، نانی، چاروں کے کل کامل شجرے، خاندانی و تاریخی حالات اسی صراحت سے مذکور ہوں جیسی انھوں نے لکھ رکھی تھیں۔ پھر اپنی ریاست کی شان و شوکت، حکام رسی، وفاداری، سیاسی وسماجی کارگزاریاں، حکام رسی، وفاداری، میونسپل بورڈ اورٹکسٹ بک کمیٹی کی ممبری، کورٹ آف وارڈس کی مہتممی، آنریری مجسٹریٹی، خان بہادری اور حکام انگریزی کی قدر افزائی، تحسین سندات کا بیان بالتصریح ہو۔میں ایک اعلی درجہ کے شاعر اور ادیب کے لیے یہ تصریحات لایعنی سمجھتا تھا۔‘‘6؎
جبکہ شاد نے خود سوانح لکھوائی تو دیانتداری کا تقاضہ یہ تھا کہ شاد نے جو کہا یا لکھایا وہ بعینہ پیش کر دیا جاتا، اس میں تصرف نہیں کیا جاتا۔ لیکن جس طرح شاد کے انتخاب کلام میں حمید عظیم آبادی نے اپنے ذوق کو پیش نظر رکھا، اسی طرح مسلم عظیم آبادی نے کیا کہنا ہے کیا نہیں کے اپنے معیار کو سامنے رکھا۔ یہ سب ایسے نکات تھے جنھوں نے ارشاد کو اس کام کے لیے آمادہ کیا کہ شاد کی تشکیل نو کی جائے تا کہ اصل شاد کی شخصیت نمایاں ہو سکے۔اس معاملے میں ارشاد ہر لحاظ سے کامیاب ہوئے ہیں۔
’’یادگارشاد‘‘میں نقی احمدارشادنے شادکی تصانیف کی جو فہرست پیش کی ہے اس میں کئی ایسی تخلیقات ہیں جو طبع نہ ہو سکیں لیکن جنھیں ارشاد نے خود دیکھا اور پڑھا تھا۔ یہ تفصیل ایسی ہے جو ارشاد کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتی، اگر ملتی بھی ہے تو ارشاد کے حوالے سے ہی، یا ان کی نشاندہی کے مطابق ہی۔ایسی تخلیقات بھی ہیں جن کا علم کسی وسیلے سے ارشاد کو تھا، لیکن انھیں انھوں نے خود نہیں دیکھا تھا۔ مثلاً، لکھتے ہیں کہ:
شان اعظم: غیر مطبوعہ۔ یہ ایک نظم ہے جس میں شرح مسلم کے ابتدائی فقروں کی شرح کی گئی ہے۔ راقم نے نہیں دیکھاہے۔
حمریہ بن غارص: اصل قصیدہ عربی میں ہے۔ یہی پہلا قصیدہ عربی میں ہے۔ نعت جو بطور تلازمہ خمریات میں کہا (کذا) گیا تھا۔
علویہ: نظم غیر مطبوعہ۔ تین سو اشعار۔ راقم نے نہیں دیکھا ہے۔
ملفوظات رام: غیر مطبوعہ۔ مقدس رام کے بن باس ہونے کے وقت کا نقشہ اور رام کی تقریر نظم کی ہے۔ کتاب لاپتہ کر دی گئی۔
ملفوظات کرشن جی: گیتا کے کچھ حصوں کا ترجمہ۔ 1923 میں رائے برج راج کرشن صدر بہار اسمبلی کے یہاں پڑھی گئی تھی۔ اصل مسودہ غائب ہو گیا۔
نحو منظوم: غیر مطبوعہ اردو۔ وغیرہ۔7؎
واضح ہو کہ یہ تفصیلات وہاب اشرفی کی کتاب کی اشاعت سے بہت قبل پیش کی گئی تھیں۔ انھوں نے ارشاد کی ہی پیش کردہ تفصیلات کی بنیاد پر خدا بخش لائبریری میں شاد کے مخطوطوں کو دیکھا تھا۔ ارشاد کے لیے یہ امر تکلیف کا باعث رہا کہ شاد شناسی میں ان کی خدمات کا فائدہ تو سب نے اٹھایا لیکن ا س کا اعتراف کرنے میں لوگوں نے کوتاہی کا مظاہرہ کیا۔ بظاہر اس کا سبب یہ تھا کہ شاد کی ہی مانند وہ بھی سچے واقعات کو اس طرح لکھ جاتے تھے کہ لوگوں کی تیوریاں چڑھ جاتی تھیں۔
چونکہ وہ خانوادہ شاد کے روشن چراغ تھے، اس لیے شعر و ادب سے گہری ذاتی دلچسپی رکھتے تھے۔ دادا مرحوم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے انھوں نے بھی شعر و شاعری اور نثر نگاری کے ذریعے اپنے ادبی ذوق کا اظہار کیا۔ بنیادی طور پر وہ شاد شناسی کے ایک اہم اور موثر محرک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ شاد کی تحریروں کو نئی زندگی بخشنے کے ساتھ ساتھ خود بھی اپنے ذوق ادب کو مسلسل جلا بخشتے رہے۔ انھوں نے مرثیے بھی لکھے، غزلیں بھی کہیں، ترجمے کیے اور تنقیدی مضامین بھی قلم بند کیے۔ ان کے متعدد مضامین مختلف رسائل میں منتشر صورت میں موجود ہیں۔
عطاء الرحمن کاکوی، قاضی عبدالودود، اور وہاب اشرفی وغیرہ نے شاد کی تحریروں میں ارادی طور پر یا غیر ارادتاً لکھی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے۔ ان میں سے بعض یقیناً کوتاہیاں تھیں، تو بعض کے سلسلے میں غلط بیانات بھی دیے گئے۔ ان سب کی ابتدا دراصل قاضی صاحب کے ذریعے کلام شاد کی اشاعت پر شاد کے ردعمل اور پھر شاد کی کہانی کی اشاعت کے بعد ہوئی۔ ارشاد نے حتی الوسع یہ کوشش کی کہ شاد کا دفاع کر سکیں۔ اس خیال کے تحت انھوں نے جملہ اعتراضات میں سے ان اعتراضات کے جواب دیے جن کے لیے ان کے پاس مناسب شہادتیں تھیں، جن باتوں کو وہ رد نہیں کر سکے، ان کے بارے میں ارشاد کے یہاں خاموشی ملتی ہے۔ اس کا ذکر وہاب اشرفی نے بھی کیا ہے:
’’میں نے شاد کی ناول نگاری، سوانح نگاری، تذکرہ نگاری، مکتوب نگاری اور تاریخ نویسی کے باب میں بہت سارے ایسے گوشے روشن کیے ہیں جن سے شاد کی غلط بیانیاں ابھر جاتی ہیں۔ ان پر کچھ لکھنا جناب نقی ارشاد نے ضروری نہیں جانا۔کیا وہ ان تمام اعتراضات کو مان چکے ہیں جن کے بارے میں ایک لفظ بھی لکھنا انھوں نے پسند نہ کیا؟ افسوس یہ ہے کہ جناب نقی احمد ارشاد مجھے شاد کے سلسلے میں دفاعی وکیل تصور کرتے تھے اور میں صرف ایک محقق تھا۔‘‘8؎
گرچہ ارشاد نے تحقیقی دقت نظری کے شواہد پیش کیے ہیں، ان کے یہاں شاد کے سلسلے میں کبھی کبھی ہمدردانہ نقطہ نظر بھی ملتا ہے۔لیکن جن معاملات کے ان کے پاس شواہد موجود تھے ان کے ضمن میں گفتگو کے دوران ارشاد کا اندازبسااوقات جارحانہ بھی ہوجاتا ہے۔جب انھیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ تاریخی شواہد کی موجودگی کے باوجود محض مخالفت کی غرض سے شاد کی مخالفت کی جارہی ہے تو یہ ان کے لیے تکلیف کا باعث بن جاتا تھا۔ایسے میں انھیں یہ توقع بھی رہتی تھی کہ انھیں ان کا کوئی ہمنوا مل جائے۔ لیکن ایسا بہت کم ہوا۔ شاد کے مخالفین، معترضین، ناقدین کے سلسلے میں ان کا بیان ہے کہ:
’’چاہے آزاد ترجمہ ہو، یا سرقہ، چاہے جو بھی ہو، شاد کا مقصد ہی اور تھا۔ وہ ریفارم چاہتے تھے اور اردو کو نئے اسلوب سے آشنا کرنا چاہتے تھے۔ نہ انھوں نے تاریخ بحیثیت مورخ لکھی اور نہ ناول بحیثیت ناول نگار۔وہ ہر طرح سے قوم کی بہبودی اور فلاح چاہتے تھے۔لطف یہ ہے کہ جو مورخ ہیں، شاد کی تاریخ نگاری پر ناک بھوں چڑھاتے ہیں، جو ناول نگار ہیں یا افسانوی ادب سے دلچسپی رکھتے ہیں، وہ شاد کے ناولوں میں نئی تکنیک کی تلاش کرتے ہیں۔
شاد اول و آخر صرف ایک شاعر تھے اور مصلح قوم۔ صرف مورخ یا صرف ناول نگار نہ تھے۔ اصلاحی جذبے کے تحت ہر فن میں انھوں نے اپنے نقوش چھوڑے۔ اس سے زیادہ ان کا مقصد اور نہ تھا۔‘‘9؎
یہ بہر حال ایک حقیقت ہے کہ نقی احمد ارشاد نے اگر شاد کے کلام اور نثری تحریروں کو یوں دنیا کے سامنے پیش نہ کیا ہوتا تو آج شاد کی بہت سی تخلیقات گوشہ گمنامی میں پڑی رہتیں۔ اسی طرح شاد کے ذاتی احوال، ان کے خاندان کی تفصیلات، ان کے گھر کے انداز و اطوار، رہائش، خانگی معاملات، صحبتیں، مالی حالات وغیرہ سے واقفیت ارشاد کی تحریروں کے سبب ہی ہوئی ہے۔ وگرنہ صرف شاد کے مکتوبات بنام ہمایوں مرزا کی بنیاد پر شاد کی شخصیت اور روز وشب کی کہانیاں بیان کی جاتی رہیں۔ ہمایوں مرزا کے نام لکھے خطوط میں بھی ایسی کئی باتیں ہیں جنھیں ارشاد نے قطعیت کے ساتھ رد کیا ہے، اور ایک چشم دید کی مانند واقعات کا بیان کیا ہے۔
خود ارشاد جن حالات سے گزرے تھے، ان کے مدنظر یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں ہو سکتا کہ انھوں نے شاد کی ہی نہیں، اجداد شاد کی بھی علمی وراثت کو محفوظ رکھنے کا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے۔ لیکن انھیں اس کا صلہ کیا ملا، یہ ان کی ہی درج ذیل عبارت سے واضح ہے:
’’ قومی تنظیم، پٹنہ میں ایک مضمون شائع ہوا تھا کہ شاد نے جو کچھ خدمت کی وہ مسلم عظیم آبادی اور کلیم الدین احمد نے …(عبارت مبہم ہے۔ ممکن ہے جو لکھا گیا ہو اس کا مفہوم یہ ہو کہ مسلم عظیم آبادی اور کلیم الدین احمد نے شاد کی خدمات سے اردو والوں کو روشناس کیا)۔ ان دونوں بزرگوں کی کاوشیں یقیناً قابل ستائش ہیں۔ مگر سوال یہ پیداہوتا ہے کہ میں نے جو شاد کی پندرہ تصانیف اپنے خون جگر کو صرف کر کے تیار اور مرتب کر کے شائع کرایا، اس کے بارے میںکیاکہاجاتا ہے۔ اگر میں یہ تصانیف شائع نہ کراتا تو کیا کلیم صاحب یا کوئی اور صاحب کلیات کو مرتب کر سکتے تھے۔‘‘10؎
شاد کے نجی حالات کے ذکر میں نقی احمد ارشاد نے ایسی کئی باتیں قلمبند کی ہیں جنھیں اگر وہ نہ بتاتے تو کسی کو واقفیت نہ ہوتی۔ اس لحاظ سے گرچہ حمید عظیم آبادی کو شاد نے سوانح عمری کا راوی بنایا، حقیقت حال یہ ہے کہ ارشاد ہی صحیح معنوں میں ان کی حیات کے اصل نباض ثابت ہوئے۔وہ لکھتے ہیں کہ شاد دو کام کے بہت شوقین تھے۔ پہلا کام تھا گھر بنوانا۔ بار بار اس کی مرمت اور توسیع وغیرہ میں دلچسپی لیتے تھے۔ دوسرا شوق شعر و شاعری کا تھا۔
’’اس میں بھی ترمیم، توسیع، تنسیخ کا ہمیشہ ولولہ رہا۔ یہ کاوش گو ان کے یا ان کی اولاد کے کام نہ آئی، اردو ادب کے کام ضرور آئی۔.. ہمیشہ شب کو اساتذہ کے کلام پڑھتے تھے اور عروض و ادب کی کتابیں دیکھا کرتے تھے۔فارسی گو شعرا میں خسرو اور حافظ کے مطبوعہ دیوانوں کے حاشیے پر مہین مہین حرفوں میں نوٹ لکھ دیتے تھے۔ اردو گو شعرا میں مرزا داغ کے مطبوعہ جلوۂ داغ کے حاشیوں پر طویل طویل نوٹ تھے۔ یہ دیوان کچھ تو ان کی علالت کے زمانے میں غائب ہو گئے اور کچھ بعد کو جب والد مرحوم کی تیسری اہلیہ کا دور دورہ تھا، اس وقت غائب ہوئے۔‘‘11؎
یوں ارشاد نے بچپن میں جو کچھ مشاہدہ کیا اسے قلمبند کر دیا۔ یہ ایسے معاملات تھے جن کے بارے میں گھر کا فرد ہی بتا سکتا تھا۔
ارشاد نے اس حقیقت کا بیان اپنی بیشتر تحریروں میں کیا ہے کہ کلیم الدین احمد کے مرتب کردہ ’’کلیات شاد‘‘ کے لیے شاد کے کلام کی فراہمی میں ان کا کردار سب سے اہم رہا ہے۔خود کلیم صاحب نے ارشاد کی اس خدمت کا کھلے دل سے اعتراف کیا ہے۔ ارشاد کے لیے یہ معاملہ پریشان کن رہا کہ کلیم الدین احمد کے اعتراف کے باوجود اردو کے ناقدین و محققین اس سلسلے میں ان کی جانفشانی کا ذکر نہیں کرتے ہیں۔ یہی نہیں، وہ ان کا نام لینے سے بھی دامن بچا کر گزر جاتے ہیں۔ ایسے چند بیان ملاحظہ کیجیے:
’’کلیم صاحب نے البتہ کلیات کا مقدمہ بڑی دیدہ ریزی اور سخت محنت سے لکھا ہے۔ اس کا معاوضہ، چھ ہزار کی صورت میں ملا۔ میری تسلی اور تشفی یوں ہوئی کہ میرے دادا کا کل کلام چھپ گیا جن کو میں پچیس سالوں سے ڈھوتا پھرتا تھا اور جن کا بجز میرے کوئی پوچھنے والا نہ تھا۔ شاد کی وصیت تھی کہ کلام شاد کی اشاعت کے پہلے ان کی کتاب فکر بلیغ، جلد اول شائع کی جائے تاکہ لوگ ان کے اصول شاعری سے آگاہ ہوں۔ چنانچہ اپنی زندگی میں انھوں نے غزلیات ریاض عمر کے61 صفحے اور فکر بلیغ، جلد اول کے61 صفحے شائع کرائے تھے جس کا حوالہ جناب قاضی عبدالودود صاحب اپنے یہاں جلد دوم کلیات میں دیتے ہیں۔‘‘12؎
اس عبارت سے واضح ہے کہ ارشاد کی نگاہوں میں ان جانفشانیوں کی کتنی اہمیت تھی۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ان کے اس علمی تعاون کے بغیر شاد کا بہت سا قیمتی سرمایہ ضائع ہو گیا ہوتا۔
’’کلیات شاد‘‘کی تدوین کے سلسلے میں کلیم الدین احمد نے جن مآخذ کے لیے نقی احمد ارشاد کے تعاون اور معلومات کا صراحت کے ساتھ حوالہ دیا ہے، ان کی فہرست بذات خود اس حقیقت کی گواہ ہے کہ شاد عظیم آبادی کے کلام کی بازیافت اور تحقیق میں ارشاد کا کردار کس قدر بنیادی اور ناگزیر تھا۔ ان مآخذ میں ’’کلیات شاد(جلد سوم)‘‘، ’’دیوان اول‘‘، ’’ریاض عمر‘‘، ’’دیوان ہفتم‘‘، ’’شاد عظیم آبادی: کلام اور شرح کلام‘‘، ’’رباعیات شاد عظیم آبادی‘‘، ’’دیوان غزلیات شاد‘‘، ’’منظومات شاد عظیم آبادی‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔ یہ فہرست محض کتابوں کے نام کی نہیں بلکہ اس وسیع تحقیقی سرمائے کی طرف اشارہ کرتی ہے جس تک رسائی نقی احمد ارشاد ہی کے توسط سے ممکن ہو سکی۔
یہ حقیقت نہایت معنی خیز ہے کہ کلیم الدین احمد جیسے سخت گیر، بے لاگ اور اصول پسند نقاد کے لیے بھی نقی احمد ارشاد کی فراہم کردہ معلومات سند اور حوالہ کی حیثیت رکھتی تھیں۔ کلیم الدین احمد نے ’’کلیات شاد‘‘ کے غیر مطبوعہ مآخذ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے خاص طور پر نقی احمد ارشاد کے محفوظ کردہ سرمایۂ مخطوطات کا ذکر کیا ہے۔ ان کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاد عظیم آبادی کے سلسلے میں ارشاد کی فراہم کردہ تفصیلات محض ضمنی معلومات نہیں بلکہ تحقیق کی بنیاد اور متن کی صحت کا ضامن تھیں۔

مراجع
1 ارشاد، سید نقی احمد۔ ـ’کلیات شاد اور حقیقت حال‘۔زبان و ادب، اکتوبر تا دسمبر 2007، ص 11۔
2 ایضاً۔ص11۔
3 ایضاً۔ ص 10۔
4 احمد، کلیم الدین۔ (مرتب)۔ کلیات شاد۔ پٹنہ، بہار اردو اکادمی۔1975، ص 106۔
5 ایضاً۔ ص106۔
6 ایضاً۔ ص106۔
7 ارشاد، نقی احمد۔ یادگار شاد۔ پٹنہ۔1959، ص 94۔
8 اشرفی، وہاب۔’جناب نقی احمد ارشاد کے تبصرے کاجواب‘۔معیار و تحقیق۔ پٹنہ، ادارہ تحقیقات اردو۔1991، ص761۔
9 ارشاد، نقی احمد۔ شاد کا عہد اور فن (حصہ اول)۔(مرتب) اسمعیل حسنین نقوی۔ پٹنہ، شاد عظیم آبادی میموریل کمیٹی۔ 1982، ص 184۔
10 ـ’کلیات شاد اور حقیقت حال‘۔ ایضاً۔ ص 9۔
11 ارشاد، نقی احمد۔ ’شاد کی غنائیت اور جدت‘۔ زبان و ادب۔ فروری مارچ 1979، ص 43۔
12 ـ’کلیات شاد اور حقیقت حال‘۔ ایضاً۔ ص 10۔

Nahid Nizami
Research Scholar
Deptt. of Urdu
Jai Prakash University
Chhapra (Bihar)
Mob.:9572409023
wasinahid1@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ڈاکٹربشریٰ رحمن کی ادبی خدمات،مضمون نگار: ذاکر حسین ذاکر

اردودنیا،جنوری 2026: ڈاکٹربشریٰ رحمن(1940-2009) شہر گورکھپور کے ایک ایسے روشن خیال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جو عالمی شہرت کا حامل ہے۔ ان کے والد عبد القدوس

علامہ محوی صدیقی لکھنوی کی علمی، ادبی اور تعلیمی خدمات،مضمون نگار:محمد نعمان خاں

اردو دنیا،دسمبر 2025: محمد حسین محوی صدیقی نے 15 مئی 1891 کو لکھنؤ کے ایک متوسط علمی خانوادے میں آنکھیں کھولیں۔ ان کے والد حافظ حسین فوز عالم اور شاعر

راجندر سنگھ بیدی — زندگی اور شخصیت

راجندر سنگھ بیدی، جیسا کہ انھوں نے خود اپنی پیدائش کے متعلق کہا ہے، یکم ستمبر 1915 کی سویر کو لاہور میں 3 بج کر 47 منٹ پر پیدا ہوئے۔بیدی