مثنوی عکس کوکن ایک ادبی اور تاریخی کارنامہ،مضمون نگار: محمد دانش غنی

February 5, 2026 0 Comments 0 tags

اردودنیا،فروری 2026:

اردوشاعری کے ضمن میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسا کوئی بڑا رزمیہ وجود میں نہیں آیا جس کو ہم عالمی زبانوں کے ادب کے مقابلے میں رکھ سکیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اردو کا دامن کسی اعلیٰ رزمیے سے ابھی تک خالی ہے لیکن اس کو انیس و دبیر کے مرثیے اور حفیظ جالندھری کا شاہنامہ اسلام بڑی حد تک اور اردو کی بعض اہم مثنویاں اپنے محدود دائرہ اثر کے باوجود کسی حد تک پورا کر دیتی ہیں اور اس اعتبار سے ان مثنویوں کی اہمیت دوسری اصناف سخن کی بہ نسبت کہیں زیادہ ہے۔ اردو شاعری پر بہت سے الزامات کے ساتھ ایک الزام یہ بھی عائدکیاجاتاہے کہ اس میں تاریخی حقیقت نگاری کا فقدان ہے ۔ اس لحاظ سے اردو کی ان تاریخی مثنویوں کی اہمیت میں اور بھی اضافہ ہوجاتا ہے جس میں تاریخی اور تہذیبی حقائق اور مخصوص معاشرتی اور ثقافتی رجحانات و عوامل کی عکاسی کی گئی ہے ۔
اختر راہی کی مثنوی ’ عکس کوکن ‘ تاریخی اور تہذیبی حقائق اور مخصوص معاشرتی اور ثقافتی رجحانات و عوامل کی عکاس ہے جس کی علمی و ادبی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ زیر نظر مثنوی اردو کے معروف مرکزوں سے دور بیٹھ کر لکھی گئی ہے مگر اس میں بھی مواد اور ہیئت کے اعتبار سے وہ ساری ادبی خوبیاں موجود ہیں جو ایک اچھی مثنوی میں ہونی چاہیے۔ صاف ستھری، رواں دواں، تازگی اور توانائی سے معمور ایک ٹھنڈے اور میٹھے پانی کے چشمے کی طرح زبان استعمال کی گئی ہے۔ مثنوی ’’عکس کوکن ‘‘ میں خطہ کوکن کے حسن فطرت کی جلوہ گری قابل دید ہے ۔ خوبصورت پہاڑیوں کے دامن میں بحر عرب کے زرخیز ساحل پر سر سبز و شاداب کوکن کی سر زمین آم ، کاجو ، ناریل ، چیکو اور رنگین و دل نشیں خوشبو دار پھولوں کا ہی دیس نہیں ایک تیزی سے اٹھتا ہوا ترقی پذیر خطہ بھی ہے ۔ چاروں سمتوں میں اپنی راہیں کھولتا ہوا یہ ایسا خطہ ہے جہاں سے بہت سے مراٹھی اخبار ات تازہ ترین علاقائی اور ملکی خبروں کی پھواریں گھر گھر اور قریہ قریہ لے جاتے ہیں۔ خطہ کوکن مراٹھی کے علاوہ اردو زبان و ادب کی نشر و اشاعت میں بھی ایک خصوصی مقام رکھتا ہے ۔ خوب سیرتی اور خوبصورتی کے حامل اس خطے میں مسلم آبادی سکون و اطمینان کے ساتھ علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کی کیاریوں کو سینچ رہی ہے ۔
مثنوی ’عکس کوکن ‘ کی اشاعت1994 میں ثبات پبلی کیشنز ، ممبئی کے زیر اہتمام ہوئی عمل میںآئی ۔ کتاب کے شروع میں ’ مثنوی کی جاندار روایت ‘ کے عنوان سے علی سردار جعفری کا مختصر مگر جامع تبصرہ موجود ہے ، مقدمے کے طور پر عزیز قیسی کا لکھا ہوا مضمون ’’ عکس کوکن : عشق نامہ کوکن ‘ اور کئی ادیبوں کی آرا شامل ہیں ۔ سب نے مثنوی ’ عکس کوکن ‘ کو اختر راہی کا ایک شاندار ادبی اور تاریخی کارنامہ قرار دیا ہے۔ تقریباً دو ہزار اشعار پر مشتمل یہ مثنوی رزم و بزم کے ہر موضوع اور زبان و بیان کے محاسن کا مرقع ہے۔ اس طرح یہ مثنوی اپنی جگہ پر منفرد اور مختلف ہے جو اختر راہی کی خطہ کوکن سے شدید محبت کے نتیجے میں تخلیق کی گئی ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں ؎
ہے کوکن دل و جاں سے پیارا مجھے
بہاروں کی جس نے سنورا مجھے
ہے کوکن شجاعت کی جولان گاہ
رہی سرفروشی کی قربان گاہ
محبت کی خوشبو، اخوت کا نور
سکون نظر دل کا وجد و سرور
ہیں کوکن کے واسی سب انساں نواز
کہ انساں کا انساں ہے مہماں نواز
وفادار و دلدار کوکن کے لوگ
یہ ہنس مکھ ملنسار کوکن کے لوگ
فرشتوں کے ہاتھوں بسایا ہوا
گل و برگ و تر سے سجایا ہوا
خدا کا عجب نور کوکن میں ہے
کہ کوکن بزرگوں کے دامن میں ہے
سمائے رگ و پے میں کوکن کا نور
اتر آئے دل میں وطن کا سرور
یہی تو ہے میرا وطن باوقار
بہاروں کے موسم ہیں جس پہ نثار
مناظر میں پنہاں خدا کو وجود
جھکے سر بہ ہر گام بہر سجود
اختر راہی نے کوکن کے عکس کو مذکورہ بالا اشعار میں اتارا ہے ۔ وہ کوکن جس کے مشرق میں کوہ سیہادری کا سلسلہ ہے تو مغرب کی جانب بحر عرب کی موجیں اس کے کناروں سے ٹکراتی ہیں ۔ وہ کوکن جس کا حسن لاجواب شاعر کے ذہن پر نقش ہے ۔ وہ کوکن جس کا عکس شاعر کے آئینہ ادراک میں ہے ۔ وہ کوکن جو شاعر کے اشعار میں رگوں میں دوڑتے ہوئے لہو کی حرارت کی مانند ہے ۔ وہ کوکن جو شاعر کی بصارت بھی ہے اور بصیرت بھی ۔
زیر نظر مثنوی تین ابواب پر مشتمل ہے ۔ باب اول میں کوکن کی طبعی ساخت ، فطری مناظر ، آب و ہوا ، پیداوار ، شب و روز ، تہوار ، تہذیب و تمدن ، سماجی ، سیاسی اور ادبی ماحول کا ذکر کیا گیا ہے ۔ باب دوم میں اولیائے کرام ( حضرت مخدوم علی ماہمی ، حضرت دیوان شاہ )تاریخی واقعات و شخصیات ( نواب ریاست حبشاں، سردار سدی احمد خاں ، نواب معتبر خاں والیٔ کلیان اور بھیونڈی ، راجہ شیواجی مہاراج ، بال گنگا دھر تلک ، گوپال کرشن گوکھلے ، ویر ساورکر اور بیرسٹر بابا صاحب امبیڈکر )، تاریخ آثار (قلعہ جنجیرہ ، قلعہ ماہولی، سابق ریاست حبشاں اور ایلی فنٹا) اور تاریخی شہروں ( کلیان ، سوپارہ ، علی باغ ، ممبئی ، جنجیرا مروڈ رتناگری ، دابھول اور راجہ پور) کی بات کی گئی ہے۔ باب سوم کوکن کی اہم شخصیات سے متعلق ہے ۔ جن میں مصطفی فقیہ، معین الدین حارث، بیرسٹر عبدالرحمن انتولے، ڈاکٹر رفیق زکریا، حشمت خاں دلوائی، محمد عبداللہ پرکار عرف باغی بانکوٹی، یوسف حافظ، احمدزکریا، خان بہادر شہاب الدین قاضی ، اے قیس ، ڈاکٹر عبدالکریم نائیک ، اشرف خاں دلوائی ، ڈاکٹر عبدالرحیم انڈرے ، ڈاکٹر نذیر جوالے ، خان بہادر منیر خاں سرگروہ ، ایچ بی مقدم ، علی ایم شمسی ، محمود نائیک ، کیپٹن فقیر محمد مستری، ڈاکٹر عمر عبدالقادر دھنشے، ڈاکٹر ضمیر الدین خطیب ، صغیر احمد ڈانگے ، ڈاکٹر محمود عمر شیخ انجم ، محمد قاسم دلوی ، محمد علی سرکھوت ، عبدالسلام راول ، دائود خلفے ، نثار احمد لانبے ، فضل اے ماسٹر ، فلم اسٹار مقری ، اداکارہ انیسہ ندیم ( سریکھا ) ، قاسم گڈکری (کاتب ) ، ابراہیم فطرت ، بال پاٹنکر، عبدالشکور کوکاٹے ، ڈاکٹر نظام الدین گوریکر ، ڈاکٹر اے اے منشی ، ڈاکٹر محی الدین مومن ، ڈاکٹر یونس اگاسکر ، رشیدہ قاضی ، مہر مہسلائی ، قیصر رتناگیروی ، دائود غازی ، آدم نصرت ، ساحر شیوی ، بدیع الزماں خاور ،مشتاق مومن ، شرف کمالی وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔
’ عکس کوکن ‘ کا اسلوب منفرد خصوصیات کا حامل ہے ۔ مثلاً کئی مقامات پر زور بیان اتنا پر اثر ہے کہ قاری یا سامع اس میں خود کو شریک سمجھتا ہے ؎
حسینی اکھاڑہ، حسینی علم
دلوں کی توانائی سینوں کا دم
یہ ہاتھوں کی طاقت ، یہ بازوں کا کس
یہ تعلیم ہے بہر قلب و نفس
یہ تعلیم ہے ضبط کے نظم کی
یہ تنظیم ہے رزم کی بزم کی
رہے جو اکھاڑے میں دو چار سال
بنائے بدن کسرتی با کمال
ہے گرمی و چستی بدن کی اساس
انا کی بنا بانکپن کی اساس
سپر، تیغ، تلوار، برچھی کا وار
وہ بنوٹ، وہ بانا، بناٹھی کی مار
اگر کوئی پٹھا اکیلا چلے
ہجوم اک اچانک ہو حملہ کرے
نہ گھبرائے وہ تیر و تلوار سے
ہجومِ رقیباں کی یلغار سے
نکل جائے نرغے سے للکار کر
انھیں ان کے ہتھیار سے مار کر
یہ رزمیہ کا انداز ہے ۔ کوکن کی بزم کا انداز بھی دیکھیے ؎
کسی کو کسی سے شکایت ہوئی
تو بستی میں باہم جماعت ہوئی
وہیں پنچ بیٹھے کہ انصاف ہو
کدورت سے آلودہ دل صاف ہو
روایت یہ قائم ہے ہر گائوں میں
کہ زنجیر ہو گائوں کے پائوں میں
رہے گائوں میں آبرو گائوں کی
کچہری نہ جائے نہ قضیہ کوئی
درج ذیل اشعارکو ضرب المثل کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ ضرب الامثال محاوروں کی طرح مستعمل ہیں مگر محاوروں اور ضرب الامثال میں فرق یہ ہے کہ محاورے جملوں میں استعمال کیے جانے کے محتاج ہیں جب کہ ضرب المثل اپنے آپ میں مکمل ہے ۔زیر نظر مثنوی میں ایسے اشعار موجود ہیں جن میں کئی ضرب المثل شامل ہے۔ مثلاً ؎
رگوں میں لہو کے روانی ہے ایک
کہ ندیاں کئی اور پانی ہے ایک
عزیز جہاں سے یہ کسب کمال
کمال ایسا جس میں نہیں ہے زوال
یہی میرا آنگن ، یہی میرا گھر
جواں میں ہوا ہوں جہاں کھیل کر
محبت پہ تہذیب کی ہے اساس
محبت ہی آئی ہے دنیا کو راس
نظر پیار کے گیت گانے لگی
جواں شب بدن میں نہانے لگی
مذکورہ بالا شعروں میں ایسی معنویت اور غنائیت ہے کہ وہ ذہن میں محفوظ ہوجاتی ہیں۔ مثنوی ’ عکس کوکن‘ کے کئی شعر میرے ذہن میں محفوظ ہیں اور نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ موقع محل پر انھیں دوہراتابھی رہتا ہوں ۔ ضرب المثل اشعار کا مطلب بھی یہی ہے کہ وہ محاوروں اور کہاوتوں کی طرح زبان پر آجائیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ شعروں میںضرب المثل شامل ہو۔ ضرب المثل اشعار وہ ہیں جوخود ضرب المثل کی حیثیت حاصل کرلیتے ہیں ۔ بعض مصرعوں میں بھی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ ضرب المثل کی طرح استعمال ہوتے ہیں۔ زیر نظر مثنوی میں ایسے مصرعوں کی کثرت ہے۔ مثلاً ؎
محبت کی سوغات لے جائیے
پکارے نہ پھر آستیں کا لہو
لبوں کو کرے سرخِ مثلِ گلاب
علاقہ ہے کوکن کا جنت نشاں
یہاں قدر انساں کی ہے علم سے
نہ کالا نہ گورا بدن کا لہو
جوانی میں اک دن کے سلطان سب
زمیں پر ستاروں کی بارات ہے
اس قسم کے کئی مصرعے ضرب المثل بن سکتے ہیں جو اس مثنوی میں موجود ہیں ۔
زیر نظر مثنوی کے اسلوب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں رعایت لفظی بکثرت موجود ہے ۔سچ پوچھیے تو رعایت لفظی شعر کا حسن ہے، عیب نہیں۔ لیکن جہاں صرف الفاظ کی رعایت ہو اور معنی و مفہوم معدوم ہو ں تو وہاں یہ صنعت عیب بن جاتی ہے ۔اختر راہی نے اس صنعت کو بڑے ہی مناسب طریقے سے برتا ہے اور اس رنگ میں انھیں یدطولی حاصل ہے۔ رعایت لفظی کیا ہے ؟ الفاظ کی جادو گری ہے ۔ دیکھیے ؎
بتوں کی خدائی، خدائی کی شان
دھڑکتا ہے جس جا دل رفتگان
تبسم، تکلم، تڑپ، شوخیاں
لہو پتھروں کی رگوں میں رواں

ہے موہوم و موجود جلوہ نما
ہیں اوصاف معبود جلوہ نما
عیاں بھی نہاں بھی جمال ازل
لب سنگ پر میر کی ہے غزل
لب سنگ ہے زمزمہ آفریں
رگ سنگ میں ہیں شرر جا گزیں
رعایت لفظی اور صنائع و بدائع کا یہ اعلیٰ اور رواں انداز ہے ۔ تشبیہوں ، استعاروں اور محاوروں کے برجستہ استعمال سے مثنوی ’ عکس کوکن ‘ بیان کا ایک طلسم بن گئی ہے ۔
مثنوی ’ عکس کوکن ‘ میں اختر راہی نے منظر نگاری کے جوہر بھی دکھائے ہیں ۔ یوں بھی مثنویوں میں منظر نگاری کا ایک خاص ڈھنگ نظر آتا ہے ۔ مثنویوں میں محاکات کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ۔ محاکات دراصل شاعرانہ مصوری ہے جس میں انسان کے جذبات، واردات قلبی اور اطراف و اکناف کے حالات کی تصویریں پیش کی جاتی ہیں جسے نیچرل شاعری کا نام بھی دیاجا سکتاہے۔ اس کے تحت فطرت کی رعنائیاں اور رنگینیاں بیان کی جاتی ہیں ۔ خاص طور سے مثنویوں میں یہ مناظر اپنی بہار دکھاتے ہیں ۔ اردو مثنویوں میں ابتدا ہی سے اس طرح کی شاعری کے نمونے مل جاتے ہیں ۔ خصوصیت کے ساتھ ’ عکس کوکن ‘ کی منظر نگاری بھی خوب ہے ۔ یہاں کی طرز معاشرت ، عادات و اطوار ، زبان و بیان ، ساحل سمندر پر پہاڑوں ، ڈھلوانوں اور میدانوں سے عبارت سنگلاخ مگر قدرت کی فیاضیوں سے مالا مال انتہائی خوبصورت خطہ کوکن کی منظر کشی دیدنی ہے ۔ اس لیے مثنوی کا ہر شعر تکلف اور مبالغے سے مبرا ہونے کے باوجود جاندار معلوم ہوتا ہے ۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
پہاڑوں کے دامن میں آبادیاں
جہاں حسن لیتا ہے انگڑائیاں
سمندر کے پہلو میں آباد گانو
کہ دھوتی ہے موجیں مکانوں کے پانو
سمندر کے پر پیچ ساحل دراز
کسی شوخ کے جیسے کاکل دراز
کناروں پہ ہیں جھنڈ اشجار کے
ثمر جن کے تحفے نشاں پیار کے
پہاڑوں پہ ہیں بار آور شجر
نگاہوں کی راحت سکون نظر
اختر راہی نے اس مثنوی میں اکثر مقامات پر قدرت کی منظر نگاری پیش کرنے میں تشبیہات کا استعمال کیا ہے جو بہت خوبصورت ہے ۔
غرض کہ بلاغت و فصاحت کے جتنے بھی فراموش شدہ محاسن ہیں اس مثنوی میں جگہ جگہ ملتے ہیں ۔ بحر ، ردیف، قافیہ ، وزن و آہنگ، تشبیہ و استعارہ، صوری و بصری، سمائی اور محسوساتی پیکروں اور دیگر پیرایوں سے کہیں پر زور اور کہیں کمزور بیان کے ذریعے اس مثنوی میں شعریت کی تخلیق کی گئی ہے ۔ مثنوی کا آغازافسانوی رنگ لیے ہوئے ہے جو قاری کو ابتدا ہی سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور اختتامیہ بھی بے حد خوبصورت ہے۔ جس منطقی ربط و تسلسل اور تناسب و توازن کے ساتھ اختر راہی نے اس صنف کو اختیار کیا ہے اس کی تمام فنی شرائط کو پورا کرنے میں کوئی کمی بھی نہیں چھوڑی ہے ۔ بہر حال مثنوی ’ عکس کوکن ‘ اختر راہی کی معرکۃ الآرا مثنوی ہے جسے اردو کی اہم مثنویوں کے ساتھ رکھا جاسکتا ہے مگر جب ان کے آخری دن یاد آتے ہیں اور جب وہ سینٹ جارج اسپتال ، ممبئی میں داخل اور تعاون کے محتاج تھے تو شرمندگی ہوتی ہے کہ خود ستائی میں بڑی بڑی رقم خرچ کرنے والے ’’ عکس کوکن‘‘ کی تخلیق کرنے والے شاعر کی بر وقت مدد نہ کرسکے ۔

Dr. Mohd. Danish Gani
Dept. of Urdu
Gogate Jogalekar College (Autonomous)
Ratnagiri – 415 612
Mobile No. 7558600893, 9372760471

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

جدتِ خیال اور ندرتِ بیان کا شاعر: غالب،مضمون نگار:فیصل خان

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا غالب کی شاعری افکار ومعانی کا مخزن ہے جو زمان ومکان کی قید سے آزاد ہے۔ اس کی تفہیم وتعبیر کسی چیلنج سے کم نہیں جس

زاہدہ زیدی کی نظمیہ شاعری ،مضمون نگار:محمد شہنواز عالم

اردو دنیا،دسمبر 2025:   زاہدہ زیدی کو نظم اور غزل دونوں پر قدرت حاصل تھی۔ ان کے یہاں حقیقت کا رنگ بھی ہے، مجاز کی کیفیت بھی ہے۔ ان کی

غالب کی شاعری اور تمنا کا دوسرا قدم ،مضمون نگار:عبدالرزاق زیادی

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاں غالب (1797-1869) اردو شاعری کا وہ تابناک اور درخشاں ستارہ ہے جس نے اپنی تابانیوںسے نہ صرف انیسویں صدی کے شعری منظر نامے کو