ادب اطفال میں سوشل میڈیا کے اثرات ،مضمون نگار:کلدیپ راج آنند

March 9, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،مارچ2026:

انسانی تاریخ میں ابلاغ ہمیشہ سے تمدن کی بنیاد رہا ہے۔ابتدامیں انسان نے غاروں کی دیواروں پر تصویری نشان بنائے، پھر خط و کتابت، اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے معلومات کا تبادلہ ہونے لگا،البتہ جب انٹر نیٹ وجود میں آیا تو ابلاغ کے ذرائع میں انقلاب آ گیا،اسی انقلاب کی ایک بڑی پیداوار سوشل میڈ یا ہے۔ ادب اطفال ہمیشہ سے ہی بچوں کی کردار سازی،اخلاقی تربیت،تخیل کی پرورش اور لسانی ترقی کا ذریعہ رہا ہے۔ لیکن اکیسویں صدی میں ڈیجیٹل دور اور خصوصاً سوشل میڈیا کے ظہور نے بچوں کے مطالعے، سوچ اور تخلیقی ذوق پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ادب اطفال نے ٹیکنالوجی کے ساتھ نئے امکانات پیداکیے ہیں سوشل میڈیا نے ادب کو ہر بچہ کے ہاتھ تک پہنچا دیا ہے البتہ اس کے ساتھ اخلاقی اور تعلیمی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا نے بچوں کے ادب کو عالمی سطح پرروشناس کرانے میںاہم رول ادا کیا ہے اب کوئی بھی بچہ چاہے وہ کسی دور دراز علاقے میں ہو،انٹرنیٹ کے ذریعے کہانیاں،نظمیں اور تعلیمی موادبآسانی سن یا پڑھ سکتا ہے۔جیساکہ ڈاکٹر رؤف پاریکھ لکھتے ہیں :
’’سوشل میڈیا نے ادب اطفال کو پرنٹ سے نکال کر ڈیجیٹل دنیا میں زندہ کر دیا ہے،اب کہانی ہر بچے کے ہاتھ میں موبائل کی صورت میں ہے۔ سوشل میڈیا نے بچوں کو پڑھنے کے بجائے صرف دیکھنے اور سننے کا عادی بنادیاہے۔یہ تخلیقی سوچ کے لیے نقصان دہ رجحان ہے۔‘‘
(ڈاکٹر رؤف پاریکھ،مضمون ’’اردو ادب اطفال کی تشکیل و ارتقا ‘‘)
ادب اطفال اردو ادب کی وہ شاخ ہے جو بچوں کی ذہنی سطح،دلچسپی اور فطری پن کومرکزمیں رکھتی ہے۔ اس کا مقصد صرف تفریح طبع نہیں بلکہ اخلاقی تربیت، تخلیقی صلاحیت کی پرورش اورسماجی شعورکی بیداری ہے۔ ادب اطفال کو کسی بھی معاشرے کے فکری اور تہذیبی شعور کا پیمانہ کہا جا سکتا ہے،کیونکہ بچے ہی وہ بنیاد ہیں جن پر قوم کا مستقبل قائم ہوتا ہے۔ وہ تمام تحریری یا تخلیقی مواد، جو بچوں کے ذہنی،اخلاقی اور جذباتی معیار کے مطابق ہوں اس میں کہانیا ں، نظمیں، ڈرامے،کارٹون کہانیا ں، مز احیہ ادب اور معلوماتی تحریریں شامل ہیں۔
اردو میں ادب اطفال با قاعدہ ایک صنف کے طورپرانیسویں صدی میں سامنے آیا لیکن بچوں کے لیے اخلاقی و نصیحت آموز حکایات کا رواج دینی و اخلاقی ادب میں پہلے سے موجود تھا۔ ابتدائی دورمیں بچوں کے لیے الگ سے ادب تخلیق نہیں کیاجاتاتھاتاہم کہانیاں، لوک حکایات اور مذہبی قصے بچوں کو سنانے کی روایت عام تھی۔ مثلاً فارسی و عربی کی کتابیں،گلستاں، بوستاںکلیلہ و دمنہ اور طوطا کہانی اردو میں ادب اطفال کی بنیادیں قرار دی جا سکتی ہیں۔ ان کہانیوں میں اخلاقی سبق، نیکی کی جیت، بدی کی سزا اور جادوئی عناصر عام تھے جو بچوں کی تخیل آفرینی میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ محمد حسین آزاد،ڈپٹی نذیر احمد،محمد ہادی رسوا نے بچوں کے لیے تحریریں لکھیں، ڈپٹی نذیراحمد کے ’’مرآۃالعروس‘‘اور’’توبۃ النصوح‘‘نے بچوں اور نوجوانوں میں اخلاقی شعور پیدا کیا،پیام تعلیم 1912، ماہنامہ تعلیم و تربیت اور خاتون جیسے رسائل نے بچوں کے لیے تحریری ادب کو مقبول بنایا۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے اسماعیل میرٹھی، حالی، حفیظ جالندھری، شوکت صدیقی، فہمیدہ ریاض، ممتاز مفتی اور اشرف صبوحی جیسے مصنفین نے قابل قدر خدمات انجام دیں۔ سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک اور محمد حسین آزاد کی تحریریں اس سلسلے کی پہلی شعور ی کوشش تسلیم کی جا سکتی ہیں۔
اکیسویں صدی کا بچہ اب روایتی کتاب یا کہانی کے بجائے موبائل، ٹیبلیٹ یو ٹیوب یا ٹک ٹاک سے جڑا ہواہے۔سوشل میڈیا نے جہاں معلومات تک رسائی کوآسان تربنادیاہے، وہیں اس نے بچوں کے مطالعے، زبان،تخیل اور سماجی رویوں پر کئی منفی اور نفسیاتی اثرات بھی مرتب کیے ہیں۔ دنیا اس وقت تیزی سے ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکی ہے۔ انسان کی روزمرہ کی زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں بچا جو سوشل میڈیا کے اثر سے آزاد ہو۔ ایسے میں جب ہر عمر کے افراد سوشل میڈیاسے متاثر ہورہے ہیں توبچے بھی اس سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں ؟
ادب اطفال جو بچوں کی ذہنی،اخلاقی اور جمالیاتی تربیت کاوسیلہ ہے،اب نئے دور میں ہم دیکھیں گے کہ سوشل میڈیا نے ادب اطفال کی پر کیا اثرات ڈالے ہیں اس کے مثبت و منفی پہلو کیا ہیں اور آئندہ کے لیے کیا امکانات موجودہیں۔ سوشل میڈیا ڈیجیٹل دنیا کا ایک ایسا پلٹ فارم ہے جو لوگوں کو نہ صرف معلومات فراہم کرتا ہے بلکہ اظہار خیال،تخلیق اور رابطے کا موقع بھی دیتا ہے۔ فیس بک، یو ٹیوب،انسٹا گرام وغیرہ آج ذرائع ابلاغ کانیاچہرہ بن چکے ہیں۔ بچے کتابوں میں تحریری کہانیوں سے لطف اندوز ہوتے تھے لیکن اب وہ کہانی دیکھناپسندکرتے ہیںپڑھنانہیں۔ویڈیوز، تصویری کہانیاں اور اینی مٹد نظموں نے ان کی توجہ کے انداز کو محدود کر دیا ہے۔ مطالعہ کا رجحان کم ہوا ہے لیکن بصری تخیل میں اضافہ ہوا۔ یو ں کہا جا سکتا ہے سوشل میڈیا نے بچوں کے سیکھنے کے طریقے کو بدل دیا ہے۔ صورتحال اب یہ ہے کہ ادب صرف قلم سے نہیں بلکہ ڈیجیٹل آلات سے بھی تخلیق کیا جا رہا ہے۔ بچوں کے لیے کہانیاںویڈیوز،پوڈکاسٹی بکس،کھیل اور موبائل ایپس کی صورت میں تیار ہو رہی ہیں۔ مثلاً urdu studio kids یا toon urdu جیسے چیلنجز ادب اطفال کو دلچسپ انداز میں پیش کر رہے ہیںغرض کہ سوشل میڈیا نے ادب اطفال کو بین الاقوامی سطح تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
منفی اثرات: میرے تجزیے کے مطابق سوشل میڈیا نے ادب اطفال میں جہاں خوشگواراثرات چھوڑے ہیں وہی اس کے منفی اثرات بھی موجود ہیں، ظاہر ہے اس رائے سے ہر کوئی متفق نہ ہوگا۔ البتہ اس نے مطالعے،زبان و بیان،اخلاقی،نفسیاتی و سماجی غرض ان سبھی سطحوں پر اثر تو ڈالا ہی ہے۔ بچوں کو تصویری مواد اور ویڈیوز پر مبنی مواد کا عادی بنا دیا ہے۔ کتاب پڑھنے کا ذوق جو ادب اطفال کا اہم حصہ ہے کم ہو تا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ان کی کتب بینی کی عادت،تخیل کی صلاحیت اور زبا ن سے رشتہ جیسے عناصر معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر ہر شخص کو اپنی تحریر شائع کرنے کی آزادی حاصل ہے،اس آزادی نے اگر چہ اظہار خیال کو بڑھایا، تاہم اس نے معیار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔غیر تربیت یا فتہ اور کم علم افراد کی تحریریں بھی ادب اطفال کے طور پر پیش کی جاتی ہیں،جس سے ادبی ذوق اور تنقیدی معیار متاثر ہوتاہے۔ ادب اطفال کی اصل روح یعنی زبان کی شائستگی اور سلیقہ متاثر ہو رہا ہے جس میں غیر معیاری اور غیر اخلاقی مواد کی کثرت ہے۔ ظاہر ہے سوشل میڈیا پر موجود ہر مواد صرف غیر معیاری ہی نہیں ہوتا اس میں کچھ یقینی و اخلاقی بھی ہو سکتا ہے لیکن بچوں کو اس کی تمیز کیسے ہو کہ ہمارے لیے کیا مثبت ہے یا منفی۔ بچے سنجیدہ و مقصدی ادب کی شناخت نہیں کر پاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان میں تربیت،اخلاق یا کردار سازی کا پہلو نسبتاً کمزور ہے۔اس سے گہرے مطالعے اور تجزیاتی سوچ کی صلاحیت کم ہو گئی ہے ادب اطفال کا وہ مقصد جو تخیل اور اخلاقی تربیت سے منسلک ہے،متاثر ہو رہا ہے۔
سوشل میڈ یا نے زبان کو غیر سنجیدہ اور غیر معیاری اس معنی میں بنا دیا ہے کہ چیٹ لنگویج،غلط املا،اور غیرادبی اظہار عام ہو اہے۔ بچے الفاظ کے صحیح تلفظ اور معنوں سے ناواقف ہوتے جارہے ہیں۔ اردوکی معیاری کتابوں ا ور رسائل کا مطالعہ کم ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیاکے اثرات میں سے ایک اہم سماجی و نفسیاتی اثر ہے۔ جس میں بچہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا جا رہا ہے مثلاً ’’میرے کتنے فالوور ہیں؟‘‘،’’کتنے لائکس آئے؟‘‘ جیسے سوالات بچوں میں عدم اطمینان پیدا کرتے ہیں، ماہرین نفسیات کے مطابق،یہ رجحان جذباتی ونفسیاتی اضطراب،ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ والدین کی عدم موجودگی یا بے توجہی ادب اطفال کی تربیتی اہمیت کو مزید کم کر دیتی ہے ظاہر ہے بچے کی پیدائش سے لے کر سن بلوغ تک پرورش کی ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے بچے کے لیے اس کی پہلی درس گاہ والدین ہی ہوتے ہیں۔ یہ ضروری ہے والدین انھیں صحیح رویے اور اخلاق و آداب سکھا ئے۔
سوشل میڈیا نے ادب اطفال کے مواد کی رسائی کوعوامی ضروربنادیاہے البتہ اس کے ساتھ ادبی معیار، مطالعے کی سنجیدگی،تنقید کی گہرائی اور اخلاقی ذمہ داری کمزور ہوئی ہے، لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈ یا کو ادب کے فروغ کے مثبت پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جائے گویا تحقیقی،معیاری اور ذمہ دار ا نہ طرز تحریر کو فروغ دے کر اس کے منفی اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ادبی مواد کی فرا وانی کے باوجود معیار میں گر اوٹ آئی ہے۔ کوئی ادارتی نگرانی نہ ہونے کے سبب بچوں کے ذہن میں غیر معیاری ادب کی جگہ بن رہی ہے۔ روایتی فن پاروں میں جمالیاتی حسن اور فکری ربط ہوتا تھا،جب کہ سوشل میڈ یا کے اثر سے ادب اطفال میں یہ توازن بگڑ گیا۔
سوشل میڈیا نے جہاں ادب اطفال کے لیے نئے مواقع فراہم کیے وہیں اس نے کئی منفی رجحانات پیدا کیے۔ ایسے میں ان منفی رجحانات کو پوری طرح سے توختم نہیں کیا جا سکتاتاہم کم ضرورکیا جا سکتا ہے جس میں والدین اور اساتذہ کے لیے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پرنگرانی ضروری ہے مصنفین سوشل میڈیاپر معیاری و تعلیمی موادفراہم کریں۔ ضروری ہے کہ بچوں کے لیے ڈیجیٹل ادب کومعیاری بنایا جائے حکومت و تعلیمی ادارے مل کر ادب اطفال کا ڈیجیٹل کتب خانہ قائم کریں، بچوں کو کتاب اور سوشل میڈیا دونوں کے توازن کے ساتھ استعمال کی تربیت دی جائے تبھی سوشل میڈیا کے منفی اثرات کم کیے جا سکتے ہیں اور ادب اطفال کا اصل مقصد –یعنی بچوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت بحال کی جا سکتی ہے۔
مثبت اثرات: بچوں میں کتاب بینی کا رجحان تیزی سے کم ہواہے۔غیر معیاری و غیر اخلاقی مواد کی آسان دستیابی اور حقیقی مطالعے کے بجائے تفریح پر مبنی دلچسپی کا فروغ ایسے عناصرہیں جس نے منفی اثرات قائم کیے۔ باوجود ان خامیوں کے کچھ مثبت قدریں ہیں جن کا ذکر ضروری ہے، اب بچے دنیا کے کسی بھی کونے سے کہانیاں یا دوسرے موادکو سن اور دیکھ سکتے ہیں آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے ادب اطفال کے مقابلے اور سرگرمیاں زیادہ عام ہوئیں۔ غرض ادب اطفال ہی نہیں اردوکے فروغ میں سوشل میڈیانے ایک نئی روح پھونکی۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں والدین و اساتذہ کی ذمہ داریاں دوہری ہو گئی ہیں بچوں کو معیاری اور آن لائن ادب فراہم کرنا، مطالعے کی عادت برقرار رکھنا، وقت کی حد مقرر کرنا وغیرہ۔
سوشل میڈیا نے ادیب شاعر اور قارئین کے مابین رکاوٹیں ختم کر دی ہیں، شائع ہونے کے لیے اخبارات یا مادی سرمائے کی ضرورت کم ہوئی ہے۔ بہت سی نایاب کتابیں /نسخے ڈیجیٹل طورپر دستیاب ہوگئے ہیں۔ آن لائن میگزین اور بلاگز نے نئے لکھنے والوں کوپلیٹ فارم مہیاکیاہے۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے ادبی مواد کی رسائی کوغیرمعمولی طورپر بڑھایا ، نایاب اردو کہانیاں،نظموں اور بچوں کی کتب کو پی ڈی ایف ،ویڈیو یا سوشل میڈیاکے ذریعے گھر بیٹھے دستیاب کیا جا رہا ہے اس سے دور دراز کے علاقو ں کے بچے بھی جدید مواد تک پہنچ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے ابلاغ کا ایک نیا دور شروع کیا۔2010 کے بعد موبائل فون اورانٹرنیٹ کی فراہمی نے دنیاکے ہر طبقے کو ڈیجیٹل دنیا میں لاکھڑاکیا۔ اس تبدیلی نے ادب اطفال کو بھی متاثرکیاہے۔ بچوں کے لیے ریختہ بک کارنر، taleemghar،اور urdu kids stories جیسے چیلنجزنے ادب اطفال کو ڈیجیٹل سطح پر مقبول کیا ہے۔
عصرحاضر( یعنی اکیسویں صدی) میں ادب اطفال کے دائرے میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں بچوں کے لیے ادب صرف کتابوں تک محدودنہیں رہا، بلکہ مختلف ڈیجیٹل میڈیافارمز،یوٹیوب چینل،اینی میشن اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی دستیاب ہے۔ ان تبدیلیوں نے جہاں ادب اطفال کے اثرات کو وسیع کیا ہے،وہیں کئی فکری و اخلاقی چیلنجز بھی پیدا کیے ہیں۔ جدید ادب اطفال میں ماحولیات، سائنسی ترقی، خواتین کا کردار اور عالمی امن جیسے موضوعات شامل کیے جا رہے ہیں۔
حاصل کلام :بچوں کا ادب اب سادہ،براہ راست اور دلچسپ انداز میں پیش کیاجاتاہے۔ تاکہ بچے آسانی سے سمجھ سکیں جدید مصنفین جیسے منظر ایوبی،ناہید قریشی، اور شوکت صدیقی نے اس رجحان کو مستحکم کیا ہے۔ آج کا بچہ عالمی معلومات،مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے ایسے میں ادب اطفال کو صرف کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ کردار سازی،تنقیدی شعور اور اخلاقی رہنمائی کا ذریعہ بننا ہوگا۔ یہ ادب نئی نسل کو نہ صرف اردو زبان سے منسلک کرتا ہے بلکہ ثقافتی ورثے اور قومی تشخص کو بھی محفوظ رکھتا ہے۔ سوشل میڈ یا نے ادب اطفال کی فکری گہرائی اور فنی پختگی دونوں کو متاثر کیا ہے۔ظاہر ہے اب والدین،اساتذہ اور ادیب مل کر ایسا ماحول تیار کریں جہاں سوشل میڈ یا کو بچوں کی ذہنی اوراخلاقی تربیت کے لیے تعمیری طورپراستعمال کیا جاسکے تاکہ ادب اطفال کی فکری جہتیں اور فنی خوبیاں برقرار رہ سکیں۔ ادب اطفال سے وابستہ ایسے ادیب و مفکرین جو اس ادبی ورثے کو جدید زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش میں منہمک ہیں ان میں سے بعض نے سوشل میڈیا،آن لائن پلیٹ فارمز یا ڈیجیٹل خواندگی کے تناظر میں بھی کام کیاہے۔ اس ذیل میں ڈاکٹرخوشحال زیدی،حافظ کرناٹکی،مشرف علی فاروقی، صادقہ نواب سحر،خالد محمود،اور سراج عظیم کے نام قابل ذکر ہیں۔یہاں ادیب نہ صرف کتابی صورت میں بلکہ سوشل میڈ یا،رسائل اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی بچوں کے ادب کو فروغ دے رہے ہیں۔

Kuldeep Raj Anand
Room No.147, Brahmputra Hostel
JNU, New Delhi
Mob.:8210715459
E-mail:akuldeep888@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

دھرمیندر: مَداحِ اردو،مضمون نگار: محی الدین عبدالطیف

اردودنیا،جنوری 2026: مشہور اداکار دھرمیندر نے اپنی رومانی اداکاری مردانہ وجاہت، شفقت بھرے لہجے اور جذباتی انداز کے سبب پانچ دہائیوںتک شائقین کے دلوںپر راج کیا۔ ان کا اس دنیا

مستشرق اردو لغت نویس،مضمون نگار: مزمل سرکھوت

اردودنیا،فروری 2026:  ہمارےتعلیمی نظام میں شاعری اور نثر کی مختلف اصناف کے مطالعے اور تحقیق کا چلن تو موجود ہے ، مگرترجمہ اور اس کے انسلاکات، اصطلاح سازی، محاورات، ضرب

بالی وڈ اور اردو:زبان، ثقافت اور شناخت کا امتزاج،مضمون نگار: عبدالحفیظ فاروقی

اردودنیا،جنوری 2026: اردو زبان کی تاریخ محض ادبی ارتقا کی کہانی نہیں بلکہ مختلف تہذیبی اثرات کا حسین امتزاج ہے۔ اس کی بنیاد میں ہندی کی مٹھاس، فارسی کی نزاکت،