معاصر اردو غزل کی شعریات ،مضمون نگار:ڈاکٹرلیاقت علی

March 9, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا، مارچ2026:

انسان جب اپنے خارجی اور داخلی تجربات کو الفاظ کی گرفت میں لانے کی کوشش کرتا ہے، تو ایک نیا تخلیقی عمل جنم لیتا ہے جسے ہم ’’شاعری‘‘ یا پھر ’’نثر‘‘کے نام سے جانتے ہیں۔ لیکن ہم یہاں چونکہ شاعری کے حوالے سے بات کریں گے تو ہمارے سامنے پہلا سوال یہ ابھر کر آتا ہے کہ شاعری دراصل ہے کیا؟ کیا یہ ایک شعوری فن ہے یا محض غیر شعوری جذبوں کا بے ساختہ اظہارہے؟اس کے جواب میں مختلف تنقیدی دبستانوں نے اپنی اپنی ترجیحات کو شامل کیا ہے ،کسی نے اسے محض وجدان قرار دیا، تو کسی نے جمالیاتی حسن کی نمود۔ آسان زبان میں کہا جائے تو شاعری محض الفاظ کی بازیگری یا جذبات کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ انسانی وجود کے اُس لطیف پہلو کی ترجمان ہے جو محسوسات، مشاہدات اور تخیلات کے حسین امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔
پروفیسر کلیم الدین احمدکے مطابق:
’’شاعری انسانی کامرانی کی معراج اور انسانی تہذیب و تمد ن کے سر کا تاج ہے‘‘
( اردو شاعری پر ایک نظر،از کلیم الدین احمد،مشمولہ،مغربی و مشرقی شعریات،از وہاب اشرفی، ص 395، 2010)
امریکہ کے مشہور ماہر نفسیات پروفیسر جیمس نے ڈارون کے ایک بیان سے متاثر ہو کر کہا تھا کہ’’ ہر شخص کو کم سے کم دس منٹ روز شعروشاعری کے لیے وقف کر دینا چاہیے تاکہ جذبات مردہ نہ ہوپائیں‘‘۔ فطرتاً انسان شاعری سے لطف اندوز ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن بعض لوگ اس کوغیر سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ مسعودحسن رضوی لکھتے ہیں :
’’شاعری بے حس قوتوں کو چونکا تی ہے، سوتے احساس کو جگاتی ہے، مردہ جذبات کو جلاتی ہے، دلوں کو گرماتی ہے، حوصلوں کو بڑھاتی ہے، مصیبت میں تسکین دیتی ہے، مشکل میں استقلال دکھاتی ہے، بگڑے ہوئے اخلاق کو سنوارتی ہے اور گری ہوئی قوتوں کو اُبھارتی ہے۔‘‘
(ہماری شاعری، از سید مسعود حسن رضوی ادیب، محمد جواد نظامی پریس وکٹوریہ اسٹریٹ لکھنو، ص(5-6
دراصل انسانی جبلت میں تخلیق کی خواہش اور اظہار کی شدت ازل سے موجود ہے۔ یہی میلانات جب صورتِ کلام اختیار کرتے ہیں تو نثر بنتے ہیں، اور جب جذبہ، تخیل، تجربہ، مشاہدہ اور موسیقیت باہم مربوط ہو جائیں تو وہ شاعری میں ڈھلتے ہیں۔ تخیل وہ طاقت ہے جو معمولی کو غیر معمولی بنا دیتی ہے، اور مشاہدہ وہ آنکھ ہے جو کائنات کی جزئیات سے معنویت کشید کرتی ہے۔ تجربہ ان دونوں کے سنگم سے جنم لیتا ہے، اور یہی شاعری کی اصل متاع ہے۔ادبیات میں فن پاروں کی درجہ بندی خواہ وہ نثر ہو یا نظم، ہیئت و موضوع، ساخت و تکنیک اور اظہار و اسلوب کی بنیاد پر کی جاتی ہے، جسے ادبی اصطلاح میں ’’اصنافِ ادب‘‘ کہا جاتا ہے۔اس تناظر میں نثر کی متعدد صورتیں مثلاً داستان، ناول، افسانہ، انشائیہ، سفرنامہ، خاکہ، رپورتاژ وغیرہ اپنے ہیئتی و موضوعاتی امتیازات کے ساتھ الگ الگ اصناف میں شمار کی جاتی ہیں، جبکہ شاعری میں بھی اظہار کی مختلف صورتوں کو اصنافِ سخن کی حیثیت حاصل ہے۔ کلاسیکی اردو شاعری عمومی طور پر دو بڑے دائروں میں منقسم ہے: ایک ’’نظم‘‘ اور دوسری ’’غزل‘‘۔ اگر چہ ظاہراً یہ تفریق سادہ معلوم ہوتی ہے، لیکن جب ہم ان اصناف کی جزئیات اور ان کے لسانی، فکری اور ہیئتی تنوع میں داخل ہوتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ نظم اپنی موضوعاتی وسعت کے باعث بیشتر اصنافِ شعر کا احاطہ کرتی ہے، جبکہ غزل، اپنی مخصوص ہیئت کو تین صدیوں سے زیادہ عرصے سے قائم رکھے ہوئے ہے اور ’’نیم وحشی صنفِ سخن‘‘ کہلانے سے لے کر ’’اردو شاعری کی آبرو‘‘ تسلیم کیے جانے تک کا سفر طے کر چکی ہے۔غزل کلاسیکی دور میں عشق مجازی و تصوف کے رمزیہ اسلوب میں نکھری، جدید دور میں فرد کے داخلی کرب اور سماجی ناہمواریوں کی آواز بنی اور معاصر دور میں سیاسی، معاشرتی اور وجودیاتی سوالات کے اظہار کا وسیلہ بن کر نئی لسانی و فکری جہتوں سے ہمکنار ہوئی ہے۔ غزل نے فکری سطح پر اگرچہ متعدد کروٹیں لی ہیں، تاہم ہئیتی اعتبار سے اس نے اپنی مخصوص ساخت کو برقرار رکھا ہے؛ اگرچہ وقتاً فوقتاً اس کی ساخت میں کچھ تجربے بھی کیے گئے، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے اور جیسا کہ مظہر امام نے بجا طور پر کہا ہے: ’’غزل ایک جامد صنفِ سخن ہے، اس کی ایک مخصوص اور متعین ہیئت ہے اور اس میں کسی تبدیلی کی گنجائش نہیں۔‘‘ اسی ہیئتی استحکام کے ساتھ غزل معاصر دور میں داخل ہوتی ہے جس کی افہام و تفہیم کے لیے شعریات کے نئے پیرائے وضع ہوتے نظر آتے ہیں۔ شعریات دراصل کسی بھی صنفِ سخن کی فنی، فکری، لسانی اور جمالیاتی ساخت کو سمجھنے کا نام ہے۔ یہ صرف اسلوب یا تکنیک کا مطالعہ نہیںکرتی بلکہ یہ تخلیق کے محرکات، اسلوب کے رموز، زبان کی تشکیل، اور مفاہیم کی ترسیل و ابلاغ کو ایک کلی نظام میں دیکھنے کی کوشش ہے۔ ناقدین نے شعریات کو مختلف زاویوں سے دیکھا ہے۔ مولانا الطاف حسین حالی نے’’ مقدمہ شعرو شاعری‘‘ میں اسے اخلاقی، اصلاحی، فکری اور تہذیبی بنیادوں پر استوار کرنے کی کوشش کی۔
شمس الرحمٰن فاروقی نے اپنی کتاب ’’تنقیدی افکار‘‘ میں 96ایسے نکات درج کیے ہیں جن سے شعریات کے خدوخال واضح ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے اپنی کتاب ’’شعر، غیر شعر اور نثر ‘‘ میں بھی شعریات کے کچھ مسائل وضاحت کے ساتھ بیان کیے ہیں۔ شعریات محض فنّی بحث نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو ہمیں متن کے بطن میں داخل ہونے، اس کی تہوں کو سمجھنے، اور اس کے جمالیاتی و فکری نظام کو دریافت کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ غزل کی شعریات میں ربط، بندش، اسلوبِ بیان، تجانس، مناسبت اور نحوی صحت جیسے فنی عناصر اہم ہیں جو اس کے جمالیاتی نظام کی بنیاد ہیں۔ ہیئت، قافیہ و ردیف، بحور و اوزان، اور ایجاز و تمثیل جیسے عناصر اسی جمالیاتی نظام کے اجزا ہیں، جن کے بغیر کلاسیکی غزل کی روح مکمل نہیں ہو سکتی۔معاصر اردو غزل کی شعریات بھی اسی تناظر میں ہمیں ایک ایسے نظام سے روشناس کراتی ہے جہاں روایت اور تجدید، ذاتی تجربہ اور اجتماعی شعور، زبان اور معنی، سب ایک ساتھ متحرک نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا محقق اور نقاد اس بات پر زور دیتا ہے کہ غزل کی شعریات محض بیانیہ اصولوں یا تکنیکی سانچوں کی فہرست نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و تہذیبی نظام ہے، جس کے بغیر کسی بھی شعر کی قرأت ایک بے معنی عمل بن کر رہ جائے گی۔شعریات کی تفہیم کے ضمن میں شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
’’شعریات صرف ان اصولوں کا نام نہیں جن کی روشنی میں ہم کسی تحریر کو فن پارہ قرار دیتے ہیں، اس کی صنف متعین کرتے اور اس کی اچھائی برائی کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ شعریات ان اصولوں کا بھی نام ہے جن کی روشنی میں کوئی تحریر بامعنی ہوتی ہے۔‘‘
اگر ہم مختلف ادوار کی نمائندہ غزلوں کا مطالعہ نیز بین المتونی رشتوں کا تجزیہ کریںتو یہ حاصل ہوتا ہے کہ ہر دور میں غزل کی اندرونی ساخت و ہیئت کے اندر ایک نئی ساخت و ہیبت جنم لیتی رہی ہے۔ اس عمل کو ہم ساخت شکن، ساخت ساز یا پس ساختی تناظرات میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ولی دکنی، سراج اورنگ آبادی، میر، سودا،درد، غالب، ذوق، آتش اور مصحفی جیسے شعرا نے غزل کو کلاسیکی اسلوب، خیال آفرینی اور موضوعاتی گہرائی عطا کی۔جدید غزل میں یگانہ، اقبال، جوش، شاد عظیم آبادی، جگر، اصغر گونڈوی، حسرت موہانی، جمیل مظہری، فیض، مجاز، جذبی، مجروح، اور مظہر امام جیسے شعرا نے نئے فکری و جمالیاتی زاویے متعارف کرائے۔ جبکہ معاصر غزل میںناصر کاظمی، حسن نعیم، منیر نیازی، شجاع خاور، ظفر اقبال، احمد مشتاق،سلطان اختر،خورشید اکبر، خلیل الرحمن اعظمی، شکیب جلالی، شہر یار، عرفان صدیقی، اسعد بدایونی، شہپر رسول، عالم خورشید، عبدالاحد ساز، فرحت احساس، رفیق راز، شفق سوپوری، مہتاب حیدر نقوی اور راشد انور راشد وغیرہ کے یہاں غزل کی ساخت میں نہ صرف زبان، اسلوب اور رویّے کا تنوع ملتا ہے، بلکہ مضمون و معنی کے تخلیقی امکانات میں بھی وسعت نظرآتی ہے۔ معاصر اردو غزل کے شعریاتی تناظر میں نہ صرف اظہار کے نئے زاویے دریافت ہوئے ہیں بلکہ غزل نے اپنے قالب میں زندگی کے گوناگوں احساسات، تہذیبی کرب، سماجی ومعاشرتی اضطراب اور باطنی کشمکش کو بھی جذب کیا ہے۔ ظفر اقبال کی غزل اس تبدیلی کی علامت ہے، جہاں زبان کے سانچے توڑے گئے، لفظیات کو نئے معنی پہنائے گئے اور خیال کو ایسی ندرت عطا کی گئی جو مروجہ جمالیات کو چیلنج کرتی نظر آتی ہے۔ ان کی غزل میں معنی کی کئی پرتیں ایک ساتھ کھلتی ہیں، اور قاری کو نہ صرف لغوی سطح پر بلکہ کیفیاتی سطح پر بھی ایک گہری خلش کا سامنا ہوتا ہے۔ شان الحق حقی کی شاعری اپنی تہذیبی سادگی کے باوجود ایک گہرے شعور کی نمائندہ ہے۔ ان کے ہاں فنی چابکدستی، اظہار کی پاکیزگی اور روایت کی بازیافت ایک ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہی وہ امتزاج ہے جو ان کے کلام کو نہایت پرکار مگر سہل ممتنع بناتا ہے۔احمد شناس کی غزل ایک داخلی سفر کی روداد معلوم ہوتی ہے جہاں پنہائی، بیخودی اور سرشاری مل کر ایک نئی جمالیات کی تشکیل کرتی ہیں۔ ان کے اشعار قاری کو شعور و لاشعور کی سرحدوں پر لے جا کر سوالات کی دنیا میں داخل کرتے ہیں۔ سلیم کوثر اور محسن بھوپالی کی غزلوں میں جو حسیت ہے، وہ زمانے کے سفر کی غماز ہے۔ ان کے ہاں خارجی کائنات کے رنگ، ہجرت کے کرب، اور خوابوں کے شکستہ شیشے ایک ایسی کیفیت کو جنم دیتے ہیں جو فرد اور سماج کے بیچ ایک شفاف آئینہ رکھ دیتی ہے۔ ان کی غزل سفر کی روداد نہیں، بلکہ خود سفر بن جاتی ہے۔
معاصر غزل کی معنوی کروٹ کا ایک اور اہم موڑ مخدوم محی الدین اور جاں نثار اختر کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ یہ دونوں شعرا غزل کے ذریعے محض جذبات کا اظہار نہیں کرتے، بلکہ اسے اس مقام پر لے آتے ہیں جہاں غزل روایت سے بغاوت کرتے ہوئے بھی اس سے ایک رشتہ رکھتی ہے۔ ان کے لہجے میں جو تبدیلی ہے، وہ محض اسلوبیاتی نہیں بلکہ داخلی اور خارجی کشمکش کا اظہار ہے۔
ہم نے انسان کے دکھ درد کا حل ڈھونڈھ لیا
کیا برا ہے جو یہ افواہ اڑا دی جائے
(جاں نثار اختر)
زندگی موتیوں کی ڈھلکتی لڑی، زندگی رنگ گل کا بیان دوستو
گاہ روتی ہوئی، گاہ ہنستی ہوئی، میری آنکھیں ہیں افسانہ خواں دوستو
( مخدوم محی الدین)
یہ اشعار غزل کے بیانیے اور اس کے داخلی آہنگ کو ایک نئی سمت عطا کرتے ہیں۔ یہاں غزل صرف جذبے کا تخلیقی اظہار نہیں بلکہ ایک تاریخی مکالمہ معلوم ہوتی ہے۔
معاصر غزل میں جدید معاشرے کی نفسیات، یہی اثرات زبان کی مقامیت اور نئی تہذیبی آمیزش کا بھی اظہار ملتا ہے۔ شہری معاشرہ جو کبھی جدیدیت، ترقی اور شہری اخلاقیات کے تناظر میں اپنی الگ شناخت رکھتی تھی، اب دیہی تجربات سے متاثر ہو کر ایک نئی لسانی و تہذیبی ہئیت اختیارکر رہی ہے۔ ہر نوکری پیشہ یا ترقی یافتہ دیہی فرد جب شہر کا رخ کرتا ہے، تو وہ اپنے ساتھ اپنے علاقے کی تہذیب، زبان، اور رویے بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ جو بتدریج شہری ثقافت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ معاصر غزل میں مقامیت، دیہی زبان، محاوروں، لہجوں اور صوتیاتی اثرات کا بڑھتا ہوا رجحان دکھائی دیتا ہے۔ غزل کی زبان جو کبھی تہذیبی شائستگی، فکری بالیدگی اور جمالیاتی نرمی کی مظہر تھی، اب اس میں روزمرہ کی تلخی، تندی، بے باکی اور خودی کا اظہار نظر آتا ہے۔ نئی غزل نے محض لسانی تجربے کو نہیں اپنایا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ تہذیبی مظاہر، طبقاتی کشمکش اور تیز رفتار شہری زندگی کی ناہمواریوں کو بھی اپنے اظہار کا جزو بنا لیا ہے۔بشیر بدر کا یہ شعر:
رات کا انتظار کون کرے
آج کل دن میں کیا نہیں ہوتا
(بشیر بدر)
شاعرانہ اعتبار سے سادہ، یہاں تک کہ عام فہم اور روایتی فصاحت سے عاری نظر آتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایک مکمل نئی تہذیبی نفسیات کارفرما ہے ،جہاں دن رات کے مابین تفریق مٹ چکی ہے، اقدار کی تمیز ختم ہو چکی ہے، اور ایک ایسی زندگی معرض وجود میں آچکی ہے جو لمحہ بہ لمحہ اپنی شدت کے ساتھ انسان کو گرفت میں لے رہی ہے۔نشتر خانقاہی کے شعر:
دن نکلتا تھا کہ سارے شہر میں بھاگڑ پڑی
ان گنت خوابوں کے چہرے بھیڑ میں گم ہو گئے
(نشتر خانقاہی)
میں خواب اور بھیڑ جیسے دو متضاد استعارے ایک نئی شہری زندگی کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔ جہاں خواب، جو کبھی فرد کی داخلی دنیا کی علامت تھے، اب بھیڑ میںگم ہو چکے ہیں۔ یہ شعر آج کے انسان کی بے سمتی اور خوابوں کے انحلال کی ایک پراثر علامت ہے۔
معاصر اردو غزل میں ایک اور قابلِ غور پہلو تجربۂ ہجرت کا دل گرفتہ اظہار ہے۔ ہجرت، ترکِ وطن اور گھر کے اجڑ جانے کا المیہ اردو شاعری کی روایت میں کوئی نیا موضوع نہیں ہے۔ کلاسیکی شاعری میں یہ احساس کبھی جلاوطنی، کبھی محبوب سے فراق اور کبھی تہذیبی زوال کی صورت میں سامنے آتا رہا ہے، تاہم معاصر عہد میں اس موضوع نے ایسی نئی جہات اختیار کر لی ہیں جو اسے محض شخصی تجربے کے دائرے سے نکال کر ایک اجتماعی اور تہذیبی بیانیے میں تبدیل کر دیتی ہیں۔ آج کی غزل میں ہجرت صرف جغرافیائی نقل مکانی کا نام نہیں رہی بلکہ یہ شناخت، تہذیب یادداشت اور داخلی بے چینی کے گہرے تجربے کی علامت بن چکی ہے۔ عصری زندگی میں بہتر مستقبل، معاشی استحکام اور معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کی خواہش نے انسان کو مسلسل نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔ خصوصاً نوجوان نسل کے لیے بیرونِ وطن کے ترقی یافتہ معاشروں میں معاشی استحکام اور سماجی ارتقا کے امکانات ایک خواب ناک کشش کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ جو لوگ وہاں پہنچ جاتے ہیں وہ سماجی طور پر کامیاب سمجھے جاتے ہیں اور ان کی زندگی رشک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے، لیکن معاصر غزل اس ظاہری کامیابی کے پسِ پردہ موجود داخلی کرب کو بے نقاب کرتی ہے۔ یہ وہ خلا ہے جو اپنی مٹی، اپنے موسموں، اپنی زبان، اپنی تہذیب اور رشتوں سے کٹ جانے کے بعد پیدا ہوتی ہے اور جسے محض معاشی آسودگی کبھی پُر نہیں کر سکتی۔معاصر غزل کی شعریات میں اس تجربے کی پیش کش محض بیانیہ اندازمیں نہیں بلکہ علامت، استعارے اور تہہ دار معنویت کے ساتھ ہوتی ہے۔ شاعر بے گھری کو براہِ راست موضوع بنانے کے بجائے روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی علامتوں کے ذریعے قاری کے دل میں اتارتا ہے۔ مثلاً آنگن، گلی، ہوا، اندھیرا، سورج، خیمہ اور سفر جیسے الفاظ محض اشیا نہیں رہتے بلکہ پورے تہذیبی تجربے کی نمائندگی کرنے لگتے ہیں۔ اشتیاق حسین کا یہ شعرملاحظہ ہو:
مرے بچوں کو بے آنگن گھروں میں چین ملتا ہے
کھلے دلان کی خواہش ہماری نسل ہی تک ہے
اس شعر کی شعریات پر غور کیا جائے تو یہاں آنگن ایک جگہ نہیں بلکہ مشرقی تہذیب، مشترکہ خاندانی نظام اور کھلے دلوں والی زندگی کی علامت ہے۔ شاعر ایک گہری تہذیبی شکست کا نوحہ لکھتا ہے کہ نئی نسل بے آنگن گھروں میں تو چین پا رہی ہے، مگر وہ اجتماعی خوشی، کھلے دلوں کی روایت اور تہذیبی وسعت اب صرف ایک نسل تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ شعر معاصر غزل میں تہذیبی انقطاع (Cultural Displacement) کی نہایت بلیغ مثال ہے۔اسی طرح اشتیاق حسین کا دوسرا شعر دیکھیں:
بستیاں کرنے چلے ہیں نئی آباد مگر
سونی گلیوں کی ہوا خاک بسر آئے گی
غور سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو نئی بستیاں ترقی اور جدیدیت کی علامت ہیں، جب کہ سونی گلیوں کی ہوا ماضی، یادداشت اور اجڑی ہوئی تہذیب کا استعارہ ہے۔ شاعر اس خوش فہمی کو رد کرتا ہے کہ نئی آبادیاں مکمل مسرت فراہم کر سکتی ہیں۔ تخلیقی اعتبار سے یہ شعر ماضی اور حال کے تصادم کو ایک گہری علامتی سطح پر پیش کرتا ہے۔
معاصراردو غزل کو ایک دوسرے زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور وہ ہے صارفیت، معیشت اور فن کا تجارتی استعمال۔ یہ نئی دنیا، جس میں فکری و فنی قدریں غیر مرئی سرمایہ داری کی لپیٹ میں ہیں، وہاں شاعری کا منصب محض جمالیاتی یا داخلی کیفیات کا اظہار نہیں رہا بلکہ اب شاعر پر بھی وہی ’’برانڈ‘‘ بنانے کا دباؤ ہے جو کسی مارکیٹنگ ایجنسی کے پیشہ ورانہ تخلیق کار پر ہوتا ہے۔ موجودہ صادفی کلچر کی رو سے آج کے شاعر میں صرف تخیل، رمزیت یا تہذیبی شعور کا ہونا کافی نہیں، بلکہ اب اسے کاروباری شعور، سود و زیاں کا علم اور سامعین کو خوش رکھنے کے ہنر سے بھی لیس ہونا پڑ رہا ہے۔ یعنی شاعری اب ’’پروڈکٹ‘‘ بنتی جا رہی ہے جس کا مقصد ’’کنزیومر‘‘ یعنی قاری یا سامع کو متاثر کرنا ہے، انھیں محض مسرور کرنا نہیں بلکہ اپنے صارفی مقاصد کے تابع کرنا بھی ہے۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیے:
سب ملاقاتوں کا مقصد کاروبارِ زرگری
سب کی فطرت ایک جیسی، سب کی گھاتیں ایک سی
(منیر نیازی)
یہ شعر بڑی آساں مگر دلکش زبان میں انسانی رشتوں اور اخلاقی قدروں کے زوال، خود غرصی اور گہرے جزباتی و نفسیاتی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔
معاصر اردو غزل میں انفرادی تجربے کو اجتماعی شعور میں ڈھال کر برتا گیا ہے جس میں ذاتی کرب کو تاریخ، تہذیب اور مزاحمت کے استعاروں سے جوڑ کر ایک وسیع تر معنوی دائرہ بنایا گیا ہے۔ شعرا نے اپنے عہد کی المناکیوں کو کلاسیکی شعری روایت کے مستحکم استعاروں کے ذریعے معنی خیز بنایاہے۔ عرفان صدیقی کی شاعری میں ایسی بے شمار مثالیں مل جاتی ہیں جن میں آزادیِ ارادہ اور اخلاقی خود کفالت کا تصور نمایاں ہے۔’’شمعِ خیمہ‘‘ اور ’’زنجیر‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کر کے خانہ بدوشی اور جبر کے باہمی تصادم کو ظاہر کیا گیاہے، جبکہ’’درد کی دولت‘‘ کلاسیکی صوفیانہ تصورِ فقر و استغنا کی یاد دلاتی ہے۔ عرفان خارجی نصرت کے بجائے داخلی کرب کو اصل سرمایہ قرار دیتے ہیں، جو میر اور غالب کی روایت سے گہری مطابقت رکھتا ہے، جہاں دکھ محض اذیت نہیں بلکہ شعور کی بالیدگی کا وسیلہ بنتا ہے۔ افتخار عارف کی شاعری میں کلاسیکی اسلامی و تاریخی علامات دمشق، کوفہ، دشت، پیاس اور مشکیزہ نہایت بامعنی انداز میں برتی گئی ہیں۔ یہ علامات کربلا کے اس بیانیے سے جڑی ہیں جو اردو شاعری میں ظلم و مزاحمت، حق و باطل اور قربانی کی ایک مستقل علامت رہا ہے۔مثلاً:
شمعِ خیمہ کوئی زنجیر نہیں ہم سفراں
جس کو جانا ہے چلا جائے اجازت کیسی
پست تہی میں دولتِ نصرت کہاں سے لائے
عرفان تم یہ درد کی دولت کہاں سے لائے
(عرفان صدیقی)
معاصر شعری رویے کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان علامات کو ماضی کے ایک مقدس واقعے تک محدود نہیں رکھتا بلکہ انھیں حال کے سماجی، سیاسی اور وجودی تناظر میں منتقل کر دیتا ہے۔ یہ شاعری مرثیے کی اس بنیادی شعریات سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہے جہاں دکھ محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ اخلاقی موقف اور فکری استقامت کی علامت ہوتا ہے۔ دشت اور تشنگی یہاں صرف جسمانی اذیت کی نشان دہی نہیں کرتیں بلکہ ایسے حالات کا استعارہ بن جاتی ہیں جن میں سچائی، انصاف اور انسانی وقار مستقل طور پر آزمائش میں رہتے ہیں۔ اسی طرح پیادہ سفر خانہ بدوشی یا عارضی نقل مکانی کا محض منظرنامہ نہیں بلکہ ایک ایسے تاریخی تسلسل کی علامت ہے جس میں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہمیشہ سہولت سے محرومی کے ساتھ جڑا رہا ہے۔ کلاسیکی مرثیوں میں واقعہ کربلاکلیدی اورمرکزی حیثیت رکھتاہے۔ جبکہ معاصر شاعری میں یہ مرکزیت منتشر ہو جاتی ہے اورواقعہ کربلا ایک واحد مقام کے بجائے ایک مسلسل کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔ یوں سانحہ کربلا ایک تمثیل بن کر ہر اُس سماج میں منتقل ہو جاتا ہے جہاں جبر، خاموشی اور مصلحت انسانی ضمیر کو محصور کر لیتی ہے۔ یہ تبدیلی محض موضوعاتی نہیں بلکہ فنی سطح پر بھی معنی خیز ہے۔ معاصر شاعر مرثیے کے جذباتی آہنگ کے بجائے ایک محتاط، کم گو اور علامتی لہجہ اختیار کرتا ہے جو قاری کو جذباتی ابال کے بجائے فکری شرکت کی دعوت دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شاعری میں کرب اور مزاحمت کا اظہار نعرہ بننے کے بجائے سوال میں ڈھل جاتا ہے اور یہی سوال اسے محض مذہبی یا تاریخی شاعری کے خانے سے نکال کر جدید فکری تنقید کے دائرے میں داخل کر دیتا ہے۔ مثلاً یہ شعر دیکھیں:
کہیں نہ آب نہ برگ و گیاہ دور تلک
یہ پا پیادہ سرِ دشتِ تشنگی کا سفر
(محسن زیدی)
اس علامتی اور اخلاقی شعری روایت کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ایک طرف بعض شعرا نے کلاسیکی روایت، بالخصوص مرثیے کی شعریات کو عصری شعور کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے تو دوسری طرف نئی غزل کا ایک بڑا حصہ ایسی فضا میں بھی سانس لیتا نظر آتا ہے جو درباری اقدار اور تخلیقی سنجیدگی سے تو نکل آیا ہے، مگر مشاعراتی ماحول کے ایک نئے جبر میں گرفتار ہو گیا ہے۔ اس ماحول میں داد طلبی، لفاظی اور فوری تاثر کی خواہش نے غزل کو گہرے فکری اور اخلاقی سوالات سے بڑی حد تک دور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تصوف، جو کبھی اردو غزل کا بنیادی منبع اور اس کی فکری روح سمجھا جاتا تھا، رفتہ رفتہ عصری شعور سے کٹ کر خانقاہی تحفظات اور رسمی روحانیت تک محدود ہو گیا۔ وہ عرفانی لہجہ جو کبھی انسان، کائنات اور وجود کے باطنی ربط کو شعری زبان میں ڈھالتا تھا، معاصر غزل میں یا تو معدوم ہوتا دکھائی دیتا ہے یا محض چند روایتی استعاروں اور علامتی پیکروں تک سمٹ کر رہ گیا ہے۔ اس تناظر میں معاصر غزل کی ایک بڑی کمزوری یہی ہے کہ اس نے روحانی تجربے کو فکری سطح پر برتنے کے بجائے اسے جمالیاتی سجاوٹ میں بدل دیا ہے۔ معاصر اردو غزل میں ایسے شعرا بھی موجود ہیں جنھوں نے روایت کی تقلید محض کے بجائے اس کے ساتھ تخلیقی مکالمہ قائم کیا ہے اور نئی شعریات کو فکری شناخت عطا کی ہے۔ ان شعرا کے یہاں غزل نہ تو ماضی کی یادگار بن کر رہ جاتی ہے اور نہ ہی محض روایتی مشاعروں کا حصہ، بلکہ ایک ایسے ارتقائی نظام کی صورت اختیار کرتی ہے جہاں قدامت اورجدت ایک دوسرے سے ٹکراتے بھی ہیں اور ایک دوسرے کو معنی بھی عطا کرتے ہیں۔اسی لیے معاصر اردو غزل کے حوالے سے نہ کلی انحراف کی ضرورت ہے اور نہ اسے روایتی خوب صورتی کے گنبد میں قید کرنے کی۔ یہ صنف اپنی فطرت میں زندہ اور تغیر و تبدیلی کے فطری نظام کی تاب ہے۔ اس کی نبض میں نہ صرف اپنے عہد کی دھڑکن محفوظ ہے بلکہ اس میں آنے والے زمانے کے فکری امکانات کو محسوس کرنے اور ان کی پیش گوئی کرنے کی صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ یہی وصف معاصر اردو غزل کو محض ادبی اظہار کے بجائے ایک زندہ فکری بیانیہ عطا کرتا ہے۔

Dr. Liaqat Ali
Asst.Professor, Urdu
School of Humanities,
IGNOU, Maidan Garhi,
New Delhi-110068
Email: liaqatali@ignou.ac.in
M.No: +91-7051446156

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

ندافاضلی کی نظم نگاری،مضمون نگار:حبیب الرحمن

اردودنیا،جنوری 2026: اردونظم نے بیسویں صدی میں کئی فکری و جمالیاتی تجربات کا سامنا کیا اور ترقی پسند تحریک سے لے کر جدیدیت تک ایک طویل سفر طے کیا۔ اس

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب

اردو شاعری میں بنارس کی جھلکیاں ،مضمون نگار: رئیس انور

اردو دنیا،دسمبر 2025: دریائے گنگاکے کنارے سناتن دھرم کے تین تیر تھ استھان— ہری دوار، رشی کیش اور کاشی یا بنارس ہیں۔ ان کے علاوہ الہ آباد (پریاگ راج) ایک