مثنویات میر میں مشترکہ ہندوستانی تہذیب ،مضمون نگار:افضل مصباحی

March 10, 2026 0 Comments 0 tags

اردو دنیا،مارچ2026:

مشترکہ ہندوستانی تہذیب‘سے مراد وہ تہذیب ہے جو مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان مشترک ہو۔ اسلامی تہذیب اور ہندو تہذیب کے اختلاط اور تاثیر و تاثر سے جو تہذیب معرض وجود میں آئی، وہ ہندوستانی مشترکہ تہذیب ہے۔ سب سے پہلی اور اہم چیز جس نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں ہم آہنگی کی فضا ہموار کی، وہ بھکتی اور تصوف کی تحریک تھی۔ مسلمان صوفیوں اور ہندو بھکتوں نے رواداری اور محبت کی جو روح پھونکی، اس سے جمالیاتی شعور میں تاثیر و تأثر کا ایک سلسلہ شروع ہوا،جسے اکبر، جہانگیر اور شاہ جہاں کی شعوری کوششوں نے اور تیز کر دیا۔ چنانچہ مغل دربار کے مرکز سے ایک مشترکہ تہذیب کا دائرہ پھیلنا شروع ہو گیا،جس نے ہندوستان کے بہت بڑے حصے میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے اعلیٰ طبقوں کی زندگی اور ان کی رسوم وروایات پراپنے غیرمعمولی اثرات ڈالنے شروع کیے۔
یہاں یہ بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ مشترک تہذیب کی جڑیں ایک مشترک زبان میں پیوست ہوتی ہیں۔ پہلے فارسی مشترک ہندوستانی تہذیب کی زبان تھی، جس کی جگہ بعد میں اردو نے لی۔ یہی وجہ ہے کہ اردو کی تمام شعری و نثری اصناف میں مشترکہ ہندوستانی تہذیب کی بھرپور موجودگی کا احساس ہوتا ہے۔ مذہبی رواداری، عوامی رسوم و رواج، عشق اور انسان دوستی کی آفاقیت، میلوں ٹھیلوں کا کلچر، ہولی، دیوالی، بسنت، عید، محرم، دیروحرم، درگاہوں، خانقاہوں، مقامی جانوروں، پرندوں، ندیوں، پہاڑوں، شہروں اور رسوم وروایات کے تذکرے، اردو کی شعری و نثری اصناف میں بھرپور انداز میں ہونے لگے۔ شادی بیاہ کی رسومات، مرد و خواتین کے ملبوسات، زیب و زینت کے سازو سامان، آپسی بولی ٹھولی اور رقص و سرود کی محفلوں کو اردو شاعروں اور ادیبوں نے اپنی تخلیقات میں جگہ دی۔ میر تقی میرکی شاعری میں بھی مشترکہ تہذیب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ میر کا جہان شاعری ایک سمندرکے مانندہے، جس میںجس قدرغوطہ لگائیں، لعل و گہر کی حصولیابیوں کاامکان اسی قدربڑھ جاتا ہے۔ غزل، قصیدہ، مثنوی، نظم، مرثیہ، رباعی، شہر آشوب، واسوخت، ہجو، تضمین اور شکار نامہ وغیرہ اصناف میں میرنے طبع آزمائی کی ہے اور مجموعی طور پر 30 ہزار سے زائد اشعار تخلیق کیے ہیں۔ شاعرانہ عظمت کے پیش نظر ہی میر کو خدائے سخن کا لقب بھی ملاہے۔ زیرنظرمقالے میں میر کی چند مثنویوں کو موضوع سخن بنایاگیاہے اوران میں ہندوستانی مشترکہ تہذیب کے عناصرکوتلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
مثنوی اردو کی ایک اہم صنف ہے جس میں عشقیہ داستان، اخلاقی سبق اور معاشرتی عکاسی یکجا ہوتی ہے۔ مثنوی کے بارے میں حالی کا یہ قول انتہائی اہم ہے:
’’مثنوی اصناف سخن میں سب سے زیادہ مفید اور بہ کار آمد صنف ہے، کیونکہ غزل اور قصیدہ میں اس وجہ سے کہ اول سے آخر تک ایک قافیہ کی پابندی ہوتی ہے۔ ہر قسم کے مضامین کی گنجائش نہیں ہو سکتی‘‘…
’’الغرض جتنی صنفیں فارسی اور اردو شاعری میں متداول ہیں، ان میں سے کوئی صنف مسلسل مضامین بیان کرنے کے قابل مثنوی سے بہتر نہیں ہے۔ یہی وہ صنف ہے جس کی وجہ سے فارسی شاعری کو عرب کی شاعری پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔ عرب کی شاعری میں مثنوی کا رواج نہ ہونے یا نہ ہو سکنے کے سبب تاریخ یا قصہ یا انحراف یا تصوف میں ظاہراً ایک کتاب بھی ایسی نہیں لکھی جا سکی جیسی فارسی میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں لکھی گئی ہیں۔ اسی لیے عرب ’شاہ نامہ ‘کو قرآن العجم کہتے ہیں اور اسی لیے مثنوی کی نسبت ’ہست قرآن در زبان پہلوی‘ کہاگیاہے۔‘‘ 1اردو مثنوی کی روایت امیر خسرو سے لے کر ملا وجہی اور دیگر شعرا تک پھیلی ہوئی ہے، لیکن میر تقی میرنے اس صنف کو نہ صرف فنی بلندی عطا کی ہے بلکہ اسے برصغیر کی تہذیبی عکاسی کا وسیلہ بھی بنایاہے۔ ان کی مثنویاں معاشرتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اس انداز میں پیش کرتی ہیں کہ ہندوستانی مشترکہ روایت کا بھرپور عکس ان میں نمایاںطورپر نظر آتا ہے۔خود میر کا مزاج بھی ایک حساس فنکار کا تھا اور وہ مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کے قائل نہیں تھے۔میر کی سرپرستی ہر مذہب کے امیروں اور راجاؤں نے کی ہے، اسی لیے اگر ایک نظم میر نے آصف الدولہ کی شادی پر کہی تو دوسری نظم بشن سنگھ کے بیاہ پربھی لکھی ہے، جو راجہ ناگر مل کا بیٹا تھا۔ ڈاکٹر گیان چند کے مطابق میر کی مثنویوں کی مجموعی تعداد 37 ہے۔ 2
البتہ ریختہ ڈاٹ کام پر35مثنویاںدستیاب ہیں۔ اور وہ یہ ہیں:
1 خواب و خیال، 2 معاملات عشق،3شعلہ عشق، 4 دریائے عشق، 5 جوش عشق، 6 اعجاز عشق، 7 دربیان ہولی، 8 در جشن ہولی وکد خدائی، 9دربیان کد خدائی نواب آصف الدولہ بہادر، 10در تہنیت کد خدائی بشن سنگھ، 11 دربیان کذب، 12دربیان دنیا،13 اژدرنامہ، 14 شکارنامہ دوم، 15 ساقی نامہ، 16 مور نامہ، 17 نسنگ نامہ، 18 درہجوے عاقل نام ناکے کہ بہ سگاں انے تمام داشت، 19مو ہنی بلی، 20 درہجو نا اہل مسمہ بہ زبان زد عالم، 21درحال مسافر جواں، 22 درحال عشق، 23 در تعریف سگ و گربہ ، 24 درہجو شخصے ہیچ مداں دعداے ہمادانی داشت، 25 در مذمت برشگال کہ باران دراں سال بسیار شدہ بود، 26 جنگ نامہ، 27 تنبیہ الجہال، 28 کپی کا بچہ، 29 درحال افغان پسر، 30 در مذمت آئینہ دار، 31 درہجوے اکول(پیٹو)، 32 دربیان بز، 33 دربیان مرغ بازاں، 34 مرثیہ خروس کے در خانہ فقیر بود، 35 در تعریف آغا رشید کہ خطاط بود و بہ فرمائش میاں ۔ 3
مذکورہ بیشتر مثنویوںکے موضوعات سے ہی مشترکہ تہذیب کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ میر تقی میراردو ادب کے ایسے شاعر ہیںجنھوں نے نہ صرف جذباتِ انسانی کی عمیق تصویر کشی کی ہے بلکہ ہندوستانی مشترکہ تہذیب کے رنگ بھی اپنی شاعری میں بکھیرے ہیں۔ مثنویوںمیں بالخصوص مثنوی دربیان ہولی، مثنوی درجشن ہولی و کد خدائی، مثنوی معاملات عشق، مثنوی شعلۂ عشق، مثنوی دریائے عشق، مثنوی جوش عشق، مثنوی اعجاز عشق، مثنوی دربیان کد خدائی نواب آصف الدولہ بہادر اور مثنوی در تہنیت کد خدائی بشن سنگھ وغیرہ میں مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ میر کی مذکورہ مثنویاں محض عشقیہ داستانیں نہیں ہیںبلکہ گنگا جمنی تہذیب (Composite Culture) کی نمائندہ ادبی دستاویزات ہیں۔ ان میں عشق کی آفاقیت، عوامی رسوم و رواج، لسانی امتزاج، مذہبی رواداری اور انسان دوستی جیسے عناصر نمایاں ہیں۔ میر نے اپنی تخلیقات میں برصغیر کی مشترکہ تہذیب کو شعری پیکر عطا کیاہے۔
ہولی کے موضوع پرمیر کی دو مثنویاں ہیں، جن میں وہ ہولی کے میلوں، رنگ و گلال، محبت و شوخی اور تہذیبی میل جول کو بیان کرتے ہیں۔ان مثنویوں میں ہولی کے موقع پر رنگوں کا چھڑکاؤ، خوشی و مسرت اور عاشق و معشوق کے درمیان دل لگی کا بیان کیاہی خوب ہے۔ ان مثنویوں میںہولی تہوارکی فضا، گانے بجانے اور سماجی ہم آہنگی کامنظربہت ہی کھل کرسامنے آگیا ہے۔ ان مثنویوں میںدہلی و اودھ کی مشترکہ تہذیب کاعکس بھی نمایاںہے۔یہ دونوں میر کی معروف مثنویاں ہیںجن میں ہولی کی رنگینیوں، گلی کوچوں کی چہل پہل اور تہذیبی میل جول کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔یہاں ہولی کو عاشق و معشوق کے درمیان ایک رومانوی کھیل کے طور پر دیکھایا گیا ہے۔خواب و خیال کی کیفیت میں رنگ و گلال کے چھینٹے محبوب کے وصل و فراق کا استعارہ بنتے ہیں۔ان مثنویوں میں ہولی کی سماجی اورتہذیبی فضا آشکار ہوجاتی ہے۔ جس میںعام لوگ، جوان، بچے اورعورتیں سب جشن میں شریک ہیں۔ راگ رنگ، ہنسی مذاق اور میل جول کو بڑی باریکی سے پیش کیا گیا ہے۔ ہولی کے کھیل میں لوگوں کی شرارتیں، جھگڑے اور ہنسی مذاق دلچسپ پیرائے میں بیان ہوئے ہیں۔’مثنوی دربیان ہولی‘ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
ہولی کھیلا آصف الدولہ وزیر
رنگ صحبت سے عجب ہیں خرد و پیر
جشن نوروزی اہل ہند سب
عطرمالی سے سبھوں میں گل کی باس
قمقمے جو مارتے بھر کر گلال
جس کے لگتا آن کر پھر منھ ہے لال
روشن الدولہ نے کی تھی روشنی
کب ہوئی تھی لیکن ایسی روشنی
وہ چراغاں گرچہ تھے درگاہ تک
تھے تماشائی گدا و شاہ تک
راہ میں ترپولیے مینار تھے
روشنی کے کوچہ و بازار تھے
تھا جہاں تک آب دریا کا بہاؤ
واں تلک تھا اس چراغاں کا دکھاؤ
کوچہ و بازار بام و در بنے
روشنی کے دونوں رستے گھر بنے
کشتیوں میں جو دیے بھر کر جلے
پانی میں شعلوں کے ریلے ہی چلے
نذر کو نواب کی اہل فرنگ
لے کے آتش بازی آئے رنگ رنگ
عرصہ گل ریزی سے گلشن ہوگیا
چرخ ان تاروں سے روشن ہوگیا
میر کی اس مثنوی میں غزل کا لطف بھی دو آتشہ ہو جاتا ہے۔ ملاحظہ :
لالہ کنار دریا نکلا ہے کیا زمیں سے
اٹھتی نہیں ہیں آنکھیں دیکھو ادھر کہیں سے
بالیدگی سے پہنچے گل آدمی کے سر تک
ہو واں تو رنگ ٹپکے جیب اور آستیں سے
منھ پر عبیر عاشق اصرار سے ملے ہیں
کب ہاتھ کھینچتے ہیں معشوق کی نہیں سے
صندل بھری جبیں سے کیا صبح چہرہ ہووے
اس قطعۂ چمن کے محبوب خوش نشیں سے
یک سو گلال منھ پر خوباں کے مل رہے ہیں الجھے ہیں ہاتھ یک سو گیسوے نازنیں سے
جب میرؔ جان دینا بوسے کے بدلے ٹھہرا
تب خوف کیجیے کیا پیشانیوں کی چیں سے
چنانچہ ہولی میںعام لوگوں کی شرکت، جشن نوروزی منانا، زعفرانی رنگ سے لباس کو رنگین کرنا، عطر سے خوشبو پھیلانا، گلال سے منہ کو لال کرنا، ندی کے کنارے چراغاں کرنا، کوچہ و بازاراور بام و درکا روشن ہونا، اہل فرنگ کا نواب کے لیے آتش بازی لانا، جیب اور آستیں سے رنگ کا ٹپکنا، عاشق کے منہ پر عبیر ملنا، صندل سے پیشانی کا صبح کی طرح روشن ہونا اور کسی کے چہرے پر شکن تک نہ آنا، مشترکہ تہذیب کے وہ عناصر ہیںجو میر کی مثنویوں کی معنویت کو دوبالا کر دیتے ہیں۔
مثنوی ’در جشن ہولی و کد خدائی ‘کے چنداشعارپر ایک نظر ڈالیں تو مشترکہ تہذیب کی بے شمار جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
آؤ ساقی شراب نوش کریں
شور سا ہے جہاں میں گوش کریں
آؤ ساقی بہار پھر آئی
ہولی میں کتنی شادیاں لائی
اور بازاری رنگ لائے ہیں
سارے رنگیں ستوں لگائے ہیں
گل کاغذ سے شہر ہے گلزار
توکہے آئی ہے بہار اے یار
زن رقاص پر نگاہ کریں
کسو سادے سے چل کے راہ کریں
کسو دلبر کے کھینچ لیویں ہاتھ
کسو محبوب کو اٹھالیں ساتھ
کسو خوش رو کے منھ پہ منھ رکھ لیں
کنج لب کا کہیں مزہ چکھ لیں
خوش تنوں سے کریں ہم آغوشی
کسو نازک بدن سے ہم دوشی
کہیں دو جام مے سے ہوں سرمست
جائیں گے تھوڑی دور دست بہ دست
جشن نوروز ہند ہولی ہے
راگ رنگ اور بولی ٹھولی ہے
ساقی کا شراب نوش کرنا، دنیا کے شور شرابے کو سننا، ہولی میں خوشیوں کی بہاریں آنا، بازاری رنگ لگانا، تمام ستونوں کو رنگین کرنا، ہر طرف معرکے کا منظر، شہر میں تماشے، عورتوں کا رقص، کسی دلبر کا ہاتھ کھینچ لینا، کسی محبوب کو اٹھا لینا، کسی خوبرو کے منہ پر منہ رکھنا، ہونٹوں کا بوسہ لینا،نازک بدن سے ہمہ تن گوش ہونا، جام پی کر مست ہونا، دھینگا مشتی کرنا، ہر طرف چراغاں کرنا، نوبت بجانا اورراگ رنگ کے مناظر مسرت کی فضاہموارکررہے ہیں۔اسی مثنوی میں ساقی، شراب، شاہ، گدا، وزیر، ہاتھی،ڈوم، حاجی،جوگی، دھوبی، فقیر، پیر، شاعر،بنیااور سپاہی وغیرہ کاتذکرہ بہت ہی دلچسپ اندازمیں کیاگیاہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
ہاتھی رنگے گئے پڑی ہے دھوم
جیسے ابر سیاہ آئے جھوم
کوئی جوگی کوئی فقیر بنا
کوئی ڈاڑھی لگا کے پیر بنا
کوئی بنیا بنا کوئی اوباش
نقل کرنی تھی ان سبھوں کی معاش
کوئی شاعر بنا نہ جس کی نظیر
جیسے مستغرق خیال تھا میرؔ
کچھ سپاہی بنے تھے کچھ تجار
کوئی زاہد ہوا کوئی خمار
عمدہ سب ساتھ ہیں وزیر سمیت
شاعراں مدح خواں ہیں میر سمیت
ہیں جو مہمان پادشاہ و گدا
حرص دونوں کی سیر ہے یکجا
آؤ ساقی غزل سرا بھی ہو
لذت شعر سے مزہ بھی ہو
میر کی مثنویوں کے بارے میں حالی تحریر کرتے ہیں:
’’اب تک اردو میں جتنی عشقیہ مثنویاں ہماری نظر سے گزری ہیں؛ ان میں سے صرف تین شخصوں کی مثنوی ایسی ہے جس میں شاعری کے فرائض کم و بیش ادا ہوئے ہیں۔ اول ’میر تقی‘ جنھوں نے غالباً سب سے اول چند عشقیہ قصے اردو مثنوی میں بیان کیے ہیں۔ جس زمانہ میں میر نے یہ مثنویاں لکھیں ہیں، اس وقت اردو زبان پر فارسیت بہت غالب تھی اور مثنوی کا کوئی نمونہ اردو زبان میں غالباً موجود نہ تھا اور ایک آدھ نمونہ موجود بھی ہو تو اس سے چنداں مدد نہیں مل سکتی۔ اس کے سوا اگرچہ غزل کی زبان منجھ گئی تھی مگر مثنوی کا رستہ صاف ہونے تک ابھی بہت زمانہ درکار تھا۔ اسی لیے میر کی مثنویوں میں فارسی ترکیبیں، فارسی محاوروں کے ترجمے اور ایسے فارسی الفاظ جن کی اب اردو زبان متحمل نہیں ہوسکتی، اس انداز سے جو آج کل فصیح اردو کا معیار ہے بلاشبہ کسی قدر زیادہ پائے جاتے ہیں۔ نیز اردو زبان کے بہت سے الفاظ و محاورات جو اب متروک ہو گئے ہیںمیرکی مثنوی میںموجودہیں۔ اگرچہ یہ تمام باتیں ’میر‘ کی غزل میں بھی کم و بیش پائی جاتی ہیں مگر غزل میں ان کی کھپت ہو سکتی ہے۔کیوں کہ غزل میں ایک شعر بھی صاف اور عمدہ نکل آئے تو ساری غزل کو شان لگ جاتی ہے۔ وہ عمدہ شعر لوگوں کی زبان پر چڑھ جاتا ہے اور باقی پر کن اشعار سے کچھ سروکار نہیں رہتا۔ لیکن مثنوی میں جستہ جستہ اشعار کے صاف اور عمدہ ہونے سے کام نہیں چلتا۔ زنجیر کی ایک کڑی بھی نا ہموار اور بے میل ہوتی ہے تو ساری زنجیر آنکھوں میں کھٹکتی ہے۔ پس ان اسباب سے شاید میر کی مثنوی آج کل کے لوگوں کی نگاہ میں نہ جچے۔ مگر اس سے میرکی شاعری میں کچھ فرق نہیں آتا۔ جس وقت میرنے یہ مثنویاں لکھی ہیں؛ اس وقت اس سے بہتر زبان میں مثنوی لکھنی امکان سے خارج تھی۔ با ایں ہمہ میر کی مثنوی اکثر اعتبارات سے امتیاز رکھتی ہے؛ باوجود دیہ کہ میر صاحب کی عمر غزل گوئی میں گزری ہے۔ مثنوی میں بھی بیان کے انتظام اور تسلسل کو انھوں نے کہیں ہاتھ سے نہیں جانے دیا ہے اور مطالب کو بہت خوبی کے ساتھ ادا کیا ہے۔ جیسا کہ ایک مشاق و ماہر استاد کر سکتا ہے۔ اس کے سوا صاف اور عمدہ شعر بھی میر کی مثنوی میں بمقابلہ ان اشعار کے جن میں پرانے محاورے یا فارسیت غالب ہے کچھ کم نہیں ہیں۔ صدہا اشعار میر کی مثنویوں کے آج تک لوگوں کے زبان زد چلے جاتے ہیں۔‘‘ 4
حالی کے اس اقتباس سے میر کی مثنویوں کی عظمت کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔
میر کی عشقیہ مثنویوںکی اگربات کریں تو ہم اس نتیجے پرپہنچتے ہیںکہ میرنے ان مثنویوںمیںعشق کا آفاقی اور صوفیانہ تصور پیش کیاہے۔ مثنوی معاملات عشق،شعلہ شوق، دریائے عشق، جوش عشق اور اعجاز عشق وغیرہ میں عشق کو تزکیۂ نفس اور روحانی ارتقا کا ذریعہ قرار دیا گیاہے۔یہ مثنویاںصوفیانہ اور بھکتی روایت کے امتزاج کی نمائندگی کرتی ہیں۔نثار احمد فاروقی تحریر کرتے ہیں:
’’کلیات میر میں 232اشعار کی ایک مثنوی ’شعلہ شوق ‘شامل ہے۔ اس کا ہیرو ایک ’جوان رعنا‘ پرس رام ہے اور ہیروئن اس کی بیوی ہے۔ یہ مثنوی عشق کی تعریف سے شروع ہوتی ہے:
محبت نے ظلمت سے کاڑھا ہے نور
نہ ہوتی محبت نہ ہوتا ظہور
محبت مسبب محبت سبب
محبت سے آتے ہیں کار عجب
تمہید میں میر نے 32 اشعار محبت کی تعریف میں لکھے ہیں۔‘‘ 5
شادی کے بعد پرس رام کو اپنی بیوی سے ایسی محبت ہوئی کہ اس نے ساتھ ساتھ جینے مرنے کا عہد کر لیا۔ ہندو دھرم میں شادی کا بندھن اٹوٹ مانا جاتا ہے۔شادی کا مطلب آخری سانس تک ساتھ نبھانا ہے۔ چنانچہ اس نظریے سے میر کی اس مثنوی کا مطالعہ کریں تو اس کا لطف دوبالاہو جاتا ہے۔ میر لکھتے ہیں:
کہ ناگہ وہ دلبر ہوا کد خدا
رہا اپنے عاشق سے چندے جدا
زن و شو سے اخلاص باہم ہوا
اس آشفتہ سے رابطہ کم ہوا
ہوا ربط چسپاں بہم اس قدر
کہ دشوار اٹھے ہم دیگر سے نظر
رہیں دونوں دست و بغل روز و شب
کبھو منہ پہ منہ ہو، کبھی لب پہ لب
وفا نے جو تکلیف کی ایک روز
گیا اپنے عاشق کے وہ دل فروز
کئی دن میں جا کر جو اس سے ملا
کیا اس نے حد سے زیادہ گلا
کہ اے نازنین آہ کن نے کہا
کہ تو حال سے میرے غافل رہا
کہا ان نے تھی کد خدائی میری
نہ تھی بے سبب یہ جدائی میری
پرس رام اپنے عاشق سے پوری بات بتا دیتا ہے کہ میری شادی ہو چکی ہے اور میں اپنی بیوی کا اسیر ہوچکا ہوں۔اب میں اپنی بیوی سے الگ نہیں ہوسکتا۔ بیوی کو بھی مجھ سے ایک دم کی جدائی برداشت نہیں ہے۔ اگر میں ذرا دیر کے لیے بھی گھر سے باہر نکلتا ہوں توواپس جا کر اسے نیم جان پاتا ہوں۔ اس منظر کو میر ؔکچھ اس طرح لکھتے ہیں:
نہ دیکھے جو مجھ کو تو مر جاوے وہ
وہیں جی سے اپنے گزر جاوے وہ
اس کے بعد پرس رام کی بیوی کا امتحان لیاجاتا ہے اور جھوٹی کہانی گڑھ کر اسے خبر پہنچائی جاتی ہے کہ پرس رام دریا میں ڈوب کر مر چکا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی اس کی بیوی بھی فوت ہو جاتی ہے۔ہندوخواتین کااپنے شوہروںکی موت کے بعد زندہ نہ رہنے کاعزم قدیم زمانے سے چلاآرہاتھا۔مثنوی میں بیوی کافوت ہوجاناستی کی رسم کادوسراروپ نظرآتاہے۔میر نے اس مثنوی میں سچی محبت کی داستان بیان کی ہے جو آفاقی ہے اور ہر ایک کے درمیان مشترک ہے۔ میر کی اس مثنوی میں کسی میلے یا تہوار یا اشنان کا ذکر تو نہیں ہے لیکن پرس رام کا عاشق جب یہ جھوٹی خبر بھجواتا ہے کہ پرس رام مر گیا تو خبر سنانے والا یہی کہتا ہے کہ وہ غرق ہو گیا۔ اسی لیے بعد میں اس کی بیوی کی روح ایک شعلہ بن کر دریا کے کنارے پکارتی پھرتی ہے۔
مثنوی دریائے عشق کی ابتدا عشق کی تعریف سے ہوتی ہے۔ میر کا تصور عشق عالمگیر ہے اور کارخانہ عالم اسی سے چل رہا ہے:
عشق ہی عشق ہے جدھر دیکھو
سارے عالم میں بھر رہا ہے عشق
میر کے نزدیک زندگی کا بہترین مصرف عشق میں اپنی زندگی کوختم کر دیناہے اور انسان کی معراج یہی ہے کہ عشق کے راستے میں وہ اپنے آپ کو فنا کر دے۔ ذکر میرمیں میرنے اپنے والد کی طرف عشق کے بارے میں یہ کلمات منسوب کیے ہیں:
’’بیٹا عشق کرو۔ عشق ہی اس کارخانہ ہستی کا چلانے والا ہے۔ اگر عشق نہ ہوتا تو نظام عالم قائم ہی نہ ہو پاتا۔ بغیر عشق کے زندگی وبال ہے۔ عشق میں جی جان کی بازی لگا دینا ہی کمال ہے۔ عشق ہی بناتا ہے، عشق ہی جلا کر کندن کر دیتا ہے۔جو کچھ ہے وہ عشق ہے، وہ عشق کا ظہور ہے، آگ میں سوزش اور پانی میں روانی عشق سے ہے، خاک میں عشق کا قرار ہے اور ہوا میں اس کا اضطرار ہے، موت عشق کی مستی اور زندگی اس کی ہوشیاری ہے۔ دن عشق کی بیداری اور رات اس کی نیند ہے۔ مسلمان عشق کاجمال اور کافر اس کا جلال ہے۔ نیکی عشق کا قرب اور گناہ اس سے دوری ہے۔ جنت اس کا شوق اور دوزخ اس کا ذوق ہے۔ عشق کا مقام و مرتبہ بندگی سے، زہد و عرفان سے، سچائی اور خلوص سے، اشتیاق اور وجدان سے بھی بلند و بالاتر ہے۔ کچھ لوگ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ آسمانوں کی یہ گردش بھی عشق کے ہی باعث ہے۔ یعنی وہ اپنے محبوب تک پہنچنے کی دھن میں برابر سرگرداں ہیں۔‘‘6
چنانچہ میر کی مثنویوں میں جو عشق کا تصور ابھر کر سامنے آتاہے، وہ انہی خیالات کی ترجمانی کرتا ہے۔ ’مثنوی دریائے عشق‘ کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
عشق ہے تازہ کار و تازہ خیال
ہر جگہ اس کی ایک نئی ہے چال
کہیں آنکھوں سے خون ہو کے بہا
کہیں سر میں جنون ہو کے رہا
دل میں جا کر کہیں یہ درد ہوا
کہیں سینے میں آہ سرد ہوا
کہیں رونا ہوا ندامت کا
کہیں ہنسنا ہوا جراحت کا
کسو چہرے کا رنگ زرد ہوا
کسو محمل کے آگے گرد ہوا
ایک عالم میں درد مندی کی
ایک محفل میں جا پسندی کی
کون محروم وصل یاں سے گیا
کہ نہ یار اس کا پھر جہاں سے گیا
مذکورہ مثنوی میں عشق کی جلوہ گری کسی قوم، سماج، مذہب، نسل، علاقہ اورفرقہ تک محدودنہیںہے، بلکہ ہرایک کااحاطہ کیے ہوئے ہے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق میر کی شاعری کے بارے میں تحریر کرتے ہیں:
’’میر صاحب کے کلام میں ایسے حیرت انگیز جلوے نظر آتے ہیں جس طرح بعض اوقات سمندر کی سطح دیکھنے میں معمولی اور بے شور و شر نظر آتی ہے لیکن اس کے نیچے ہزاروں لہریں موجزن ہوتی اور ایک کھلبلی مچائے رکھتی ہیں۔ اسی طرح اگرچہ میر صاحب کے اشعار کے الفاظ ملائم، دھیمے، سلیس اور سادہ ہوتے ہیں لیکن ان کی تہ میں غضب کا جوش یا درد چھپا ہوتا ہے۔ الفاظ کی سلاست اور ترکیب کی سادگی لوگوں کو اکثر دھوکہ دیتی ہے۔ وہ ان پر سے بے خبر گزر جاتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ شاعر نے ان سلیس الفاظ اور معمولی ترکیب میں کیا کیا کمال بھر رکھے ہیں۔‘‘ 7
میر کی مثنویوں کے بارے میں مولوی عبدالحق کی درج ذیل رائے بھی بہت اہم ہے:
’’ بعض ان میں سے (یعنی بعض مثنویاں)ایسی ہیں کہ اب بھی ان کا پڑھنا لطف سے خالی نہیں۔ مثلاً دو مثنویاں جو اپنے گھر کی خرابی اور برسات کی شکایت میں لکھی ہیں خوب ہیں۔ برسات میں اس مصیبت کا حال بہت ہی دردناک ہے، صحیح اور سچی واردات جو ایسی حالت میں واقع ہوتی ہے اس طرح لکھی ہے کہ آنکھوں کے سامنے بے سروسامانی کا نقشہ کھنچ جاتا ہے اور غربا پر جو اس موسم میں گزرتی ہے اس کی حقیقی تصویر اس سے بہتر کہیں نہیں ملتی۔ اس سے میر صاحب کی قوت مشاہدہ اور بیان واقعہ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے۔ عشقیہ مثنویوں میں قصے اور بیان کے لحاظ سے سب سے بہتر شعلۂ عشق ہے۔ یہ ایک سادہ اور مختصر سا قصہ ہے لیکن جس طرح انھوں نے اسے اٹھایا ہے اورآخر تک نبھایا ہے وہ قابل تعریف ہے۔ انجام اس کا نہایت پر دردہے۔آخرمیںجاکر قصے کی صورت ما فوق العادت ہو گئی ہے مگر وہ اس قدر صاف ہے کہ بہت آسانی سے اس کی توجیہ ہو سکتی ہے۔‘‘8
مثنوی ’شکارنامہ‘ کی اگر بات کریں توگرچہ اس میںانھوںنے نواب آصف الدولہ کے شکار کاحال بیان کیا ہے،لیکن جومنظرکشی کی ہے؛وہ مشترکہ تہذیب کے اردگردگھومتی ہے۔ میرنے اس میں جا بجاغزلیں بھی کہی ہیں۔ ان غزلوںکامعیاربہت ہی بلند ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
چلا آصف الدولہ بہر شکار
نہاد بیاباں سے اٹھا غبار
روانہ ہوئی فوج دریا کے لگ
لگا کانپنے ڈر سے شیر و پلنگ
طیور آشیانوں سے جانے لگے
وحوش اپنی جانیں چھپانے لگے
سن آواز شیران نر ڈر گئے
پلنگ و نمر خوف سے مر گئے
اسی لے میں پوری مثنوی میر نے تخلیق کی ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ اپنے ایک مقالے ’میر کی مثنویاں‘ میں تحریر کرتے ہیں:
’’میر کی مثنوی جوش عشق اور خواب و خیال میں ایک اپیل ہے مگر یہ دونوں مثنویاں مجذوب غزل گو شاعر کی آپ بیتی ہیں جس کے لیے غزل کے بجائے مثنوی کی وسعت تلاش کی گئی ہے اور وہی خیالات ہیں جو غزل میں اجمال سے بیان ہوئے ہیں۔ یہاں بیانیہ کی صورت میں تفصیلاً پیش کر دیے گئے ہیں۔ میرؔکی مثنویوں کا دوسرا بڑا موضوع اپنے ماحول اور خارجی کائنات کی ترجمانی ہے۔‘‘9
خدائے سخن میرتقی میر کی مثنوی ’موہنی بلی ‘بھی بہت ہی پرلطف ہے۔ اس مثنوی میںسماج اورماحول کی بھرپورعکاسی کی گئی ہے۔ملاحظہ فرمائیں:
ایک بلی ’موہنی‘ تھا اس کا نام
ان نے میرے گھر کیا آکر قیام
ربط پھر پیدا کیا میرے بھی ساتھ
دیکھتی رہنے لگی میرا ہی ہاتھ
چھیچھڑا ٹکڑا جو کچھ پایا کرے
فقر میرا دیکھ کر کھایا کرے
برسوں یاد آوے گی یہ پاکیزہ خو
آگے آئی ہی نہیں چلتے کبھو
چوہا چڑیاں ان نے کچھ کھایا نہیں
حج کو جانا اس کے تیں آیا نہیں
موہنی اور سوہنی ہے ان کا نام
پھرتی ہیں پھندنا سی دونوں صبح و شام
میرکی مثنویوںکے بارے میں مجنوں گورکھپوری اپنے ایک مقالے’میر اور ہم‘میں تحریر کرتے ہیں:
’’میر کے کلام کو اگر رک رک کر اور کافی غور سے پڑھا جائے تو اس کے اندر ان کے زمانے کی ایک عنا گیختہ فریاد کا احساس ہوتا ہے جو چیخ پکار کی صورت نہیں اختیار کر پاتی‘‘۔ 10
میر کی چھوٹی مثنویوں کا تعلق ان کی ذات سے ہے یا ان کے قریبی ماحول سے۔ مثلاً بلیوں کا حال جن کی پیاری پیاری میوں سے میر بہت محظوظ ہوتے ہیں۔ اسی طرح کتوں کا حال جن کی بعض عادات سے انھیں بڑی نفرت ہے:
چار آتے ہیں چار جاتے ہیں
چار عف عف سے کان کھاتے ہیں
اسی طرح اپنے گھر کا حال،کھٹملوں کا حال، سفر کا حال، برسات کی کہانی اوربکری کے متعلق مثنوی وغیرہ وغیرہ۔جھوٹ کی مذمت میں میر تقی میرنے جو مثنوی تحریر کی ہے، وہ سماج کے ایک بڑے طبقے کے احوال کوبیان کرتی ہے۔اس مثنوی میں اس عہد کی تہذیب پوری توانائی کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ چنانچہ ملاحظہ فرمائیں:
اے جھوٹھ آج شہر میں تیرا ہی دور ہے
شیوہ یہی سبھوں کا یہی سب کا طور ہے
اے جھوٹھ تو شعار ہوا ساری خلق کا
کیا شہ کا کیا وزیر کا کیا اہل دلق کا
اے جھوٹھ تجھ سے ایک خرابی میں شہر ہے
اے جھوٹھ تو غضب ہے قیامت ہے قہر ہے
اے جھوٹھ رفتہ رفتہ ترا ہوگیا رواج
تیری متاع باب ہے ہر چار سو میں آج
اے جھوٹھ کب ہے عرصہ میں تجھ سا حریف اب
تیرے ہی حکم کش ہیں وضیع و شریف اب
مجموعی طورپریہ کہاجاسکتاہے کہ میر کی مثنویاں فن اور تہذیب دونوں کا حسین امتزاج ہیں۔ان میں ہندوستانی مشترکہ روایت ایک زندہ حقیقت کے طور پر جلوہ گر ہے۔ میر نے ادب کے ذریعے اس تہذیب کو محفوظ کر کے آنے والی نسلوں تک منتقل کیاہے۔میر تقی میر کی مثنویاں برصغیر کی مشترکہ تہذیب کا آئینہ ہیں۔ ان میں انسان دوستی، صوفیانہ فکر، عوامی رسوم اور لسانی امتزاج وہ پہلو ہیں جو گنگا جمنی روایت کی اساس ہیں۔ میر کی مثنویاں نہ صرف ادبی کمالات کی حامل ہیں بلکہ ہندوستانی مشترکہ تہذیب کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔

حواشی
1 مقدمہ شعر و شاعری، صفحہ239-40۔
2 افکار میر،یم حبیب خان،انڈین بک ہاؤس علی گڑھ،سن اشاعت 1967 ء، صفحہ 364 کا حاشیہ۔
3 ریختہ ڈاٹ کام۔
4 مقدمہ شعر و شاعری، صفحہ 261-62۔
5 تلاش میر،نثار احمد فاروقی،مکتبہ جامعہ لمیٹڈ جامعہ نگر نئی دہلی،سن اشاعت1974ء،صفحہ 145-46۔
6 ایضاً،صفحہ 190۔
7 افکار میر، احمد حبیب خان، انڈین بک ہاؤس علی گڑھ،سن اشاعت 1967 ء،صفحہ 184۔
8 ایضاً، صفحہ191۔
9 ایضاً، صفحہ 374 ۔
10 ایضاً، صفحہ 181۔

Dr. Mohammad Afzal Husain Misbahi
Asstt. Prof. of Urdu
M.M.V, Banaras Hindu University
Varanasi, Uttar Pradesh
Mob.:9810358883
E-mail: afzalmisbahi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

غالب کی فارسی شاعری،مضمون نگار:ملک سلیم جاوید

اردو دنیا،دسمبر 2025: مرزا اسداللہ خاںغالب نہ صرف اپنے عہد کے سب سے بڑے شاعر تھے بلکہ وہ اس دور کی خاص شاعرانہ روایات کے بہترین ترجمان بھی ہیں۔ غالب

زاہدہ زیدی کی نظمیہ شاعری ،مضمون نگار:محمد شہنواز عالم

اردو دنیا،دسمبر 2025:   زاہدہ زیدی کو نظم اور غزل دونوں پر قدرت حاصل تھی۔ ان کے یہاں حقیقت کا رنگ بھی ہے، مجاز کی کیفیت بھی ہے۔ ان کی

قیصر الجعفری کی غزلیہ شاعری،مضمون نگار: محمد اویس سنبھلی

اردودنیا،جنوری 2026 اردو غزل کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو اپنی فکری وسعت، فنی مہارت اور اسلوب کی ندرت کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ ان ہی