غالب کے تخلیقی محرکات اور نظیر اکبر آبادی ،مضمون نگار: نفیس بانو

March 17, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص


زیرنظر عنوان کے تحت مقالہ لکھنے کی ترغیب و تحریک مجھے مخموراکبر آبادی کی کتاب ’’ روحِ نظیر‘‘ سے ملی۔ اس کتاب میں جا بجا غالب کے فکرو فن کو تعریض و تنقیص کا نشانہ بنایاگیا۔غالب کے مضامین اوران کے محاسن شعری کونظیر اکبر آبادی کے کلام کا ’چربہ‘ کہا گیا۔ مخمورکی کتاب ’’ روحِ نظیر‘‘ میںغالب کی فکر، ان کے تصور و تخیل پر نظیرکے گہرے اثرات بتائے گئے ۔مخمور اکبر آبادی کا کہنا ہے کہ: ’’بعض مقامات نظیر کے کلام میں ایسے نظر آتے ہیں کہ جنھیں بلا خو فِ تردید ، غالب کے تصور کاسرچشمہ کہا جاسکتا ہے‘‘ بہت سے مقامات پرغالب کی نسبت مخمور اکبرآبادی کا لہجہ خاصا ترش اور جارحانہ ہے۔ میں نے اپنے اس مقالے میںمثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ موضوع کی مماثلت ہر دور میں رہی ہے۔البتہ طرزِ اداکا حسن،اپنا مختلف اسلوب شاعر کو اپنی امتیازی حیثیت بخشتا ہے۔اس کے لیے میں نے اٹھارہویں، انیسویں اور بیسویں صدی کے شعرا کے کلام سے مثالیں پیش کی ہیں۔غالب کے تخلیقی محرکات پر روشنی ڈالنے اوراپنی بات کو وثوق سے کہنے کے لیے میںنے غالب کی شاعری سے متعلق ماہرینِ غالبیات کی بیش قیمت آرا سے استفادہ کیا ہے۔حسبِ ضرورت ضروری حوالوں کے ساتھ اقتباسات بھی پیش کیے ہیں۔


کلیدی الفاظ
مرزا غالب، نظیر اکبرآبادی، بزم ناز، قاصد، صوفی منش، کوہ کن، پیرزن،قاصد، رقیب،جبروقدر، تیشے،فلسفۂ تصوف، تنقیص، تعریض، خوشہ چینی
——
غالب اور نظیر میں زمانی بُعد تھا۔ یہاں غالب اور نظیر کا موازنہ ہرگز مقصود نہیں۔غالب جدت پرست ،نظیرروایت پرست ،غالب خواص پسند اور نظیر عوام پسند ۔نظیر میلے ٹھیلے ،جلسے جلوس کے شیدائی، نظیر کی ادنیٰ وپسماندہ طبقوں سے گہری وابستگی، سماج کی برگزیدہ علمی وادبی شخصیتوں 1؎سے غالب کی دلی وابستگی ،انگریز اعلیٰ حکام تک ان کی رسائی ۔غالب نا مساعد حالات میں بھی خواص میں اپنا بھرم قایم رکھنے میں سر گرداں، پیشۂ آبا کی سپہ گری پہ نازاں۔
ایک موقع پریوں تو کہنے کو غالب بادشاہِ وقت کے حضور بطورِ معذرت کہہ گئے ’’کچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے‘‘سچ تو یہ ہے کہ ان کے لیے شاعری بھی ذریعۂ عزت رہی ہے۔شہ کے مصاحب استاد ذوق سے پر خاش بے سبب تو نہ تھی۔
بڑاشاعر اپنے خاص اسلوب ،اپنی فکراور اپنے طرزِ اظہار سے پہچاناجاتا ہے۔خود نظیر اکبر آبادی اپنی مخصوص پہچان رکھتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ وہ خواص کی بے اعتنائیوں کا شکار ہوئے ۔طبقۂ اشرافیہ نے ان کے شعری اختصاص کوتحقیر آمیز نظروں سے دیکھا ۔ عہدِ غالب کیا اس کے بعد تک انھیں نظر انداز کیا جاتا رہا۔
پروفیسر عبد الغفورشہبازنے ’زندگانیِ بے نظیر ‘مرتب کرکے ایک اہم کارنامہ انجام دیا۔ میکش اکبر آبادی شہباز کی اس کاوش کو سراہتے ہوئے اپنی کتاب’آگرہ اور آگرے والے‘ میںشہباز کی اس کتاب کو اردو ادب پر احسان سے تعبیر کرتے ہیں۔جہاں کہیں مرتب اور کاتب کی لاپروائی کا احساس ہوا میکش نے اس کی نشان دہی بھی کردی 2؎۔’’ روحِ نظیر‘‘ کے مصنف مخمور اکبر آبادی نے بھی بعض مقامات پر شہباز کے تسامحات کی گرفت کی ۔مخمورکے اس اقدام کو سراہتے ہوئے میکش نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔بلا شبہ نظیر اپنے مخصوص تخلیقی میدان کے بے نظیرشہسوار ہیں۔
مخمور نے نکتہ سنجی، دقیقہ رسی اور تن دہی کے ساتھ کلامِ نظیر کو بے نظیر ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔مخمور نے نہایت وثوق کے ساتھ یقین دلانا چاہاہے کہ غالب کے تخلیقی رجحانات و میلانات فکری محرکات و تصورات نظیر سے ماخوذہیں۔مخمور نے’ معنوی توارد‘کی مثال میں دونوں کے اشعار پیش کیے ہیں۔فرماتے ہیں:
’’یہ ماننا پڑتا ہے کہ غالب پر نظیر کا گہرا پرتو پڑا ہے۔یہ کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اس نے نظیر کے فلسفیانہ کلام سے بیش از بیش استفادہ کیا ہے۔ ایک معنوی توارد ملاحظہ ہو‘‘
مخمور نے دونوں کے اشعار بطورِ مثال پیش کیے ہیں،نظیر کا شعر ہے:
اس مہرِ پُر انوار سے شبنم کی طرح ہم
گم ہوتے گئے ہم کو وہ جوں جوں نظر آیا
غالب کا درج ذیل شعر ہے:
پر توِ خور سے ہے شبنم کو فنا کی تعلیم
ہم بھی ہیں ایک عنایت کی نظر ہو نے تک
غالب کے اس شعر کو نظیر کے شعر کا چربہ کہتے ہوئے مخمور اکبر آبادی لکھتے ہیں:
’’ نظیر کا شعر غالب سے بہ مراتب بلند ہے ۔غالب عنایت کی نظر کا محتاج ہے اور نظیر اپنی نظر پڑتے ہی جمالِ مطلق میں جذب ہونا شروع ہو جاتا ہے ۔جوں جوں لکھ کر نظیر نے تسلسل و تواتر کا جو تصور پیش کیا ہے ، وہ غالب کے شعر سے پیدا نہیں ہوتا‘‘3؎
مخمور کا کہنا ہے کہ:
’’ نظیر کے غزلیہ کلام کاغالب کے رنگِ طبیعت پر گہرا اثر پڑا ہے ۔بعض مقامات نظیر کے کلام میں ایسے نظر آتے ہیں کہ جنھیں بلا خو فِ تردید ، غالب کے تصور کاسرچشمہ کہا جا سکتا ہے‘‘ 4؎
نقش نازِ بتِ طناز بہ آغوشِ رقیب
پائے طاؤس پیَ خامۂ مانی مانگے
غالب کے اس شعر پر مخمور نظیر کا اثر بتاتے ہوئے مثال کے طور پر نظیر کا درج ذیل شعر پیش کرتے ہیں:
گر وہ مژہ ہو مائلِ جنگِ پرِ طاؤس
تو سہم کے بے پر ہو ،خدنگِ پرِ طاؤس
غالب کا ایک مشہور شعر ہے:
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں
اس شعر سے متعلق مخمور کا کہنا ہے کہ نظیر کے شعر سے’’ غالب نے خام مواد ‘‘حاصل کیا ہے۔ وہ نظیر کے درج ذیل شعر سے مثال پیش کرتے ہیں:
سب کو نظیر ہونا ہے اک دن بہ زیر خاک
سنگِ مزار اس کے ہیں آئینہ دار ہا
ممکن ہے کہ غالب کے مذکورہ شعر کی تعمیر میںفارسی کے درج ذیل خوبصورت شعر نے بنیاد کے پتھر کا کام کیا ہو۔خود نظیر فارسی زبان پر گہری دسترس رکھتے تھے ،لہٰذا عین ممکن ہے کہ نظیر کی نظر سے یہ شعر گزر کر ان کے تحت الشعور کا حصہ بنا ہو۔فارسی شعر ہے:
اے گل چوں آمدی زِ زمیں ،گوچگونہ اند
آں روئے ہا کہ درتہہِ گردِ فنا شدند
یہی مضمون کچھ فرق کے ساتھ آتش کے یہاں مو جود ہے:
زیر زمیں سے آتا ہے جو گل سو زر بکف
قاروں نے راستے میں لٹایا خزانہ کیا
کہا جاسکتا ہے کہ آتش نے بھی اپنے اس شعر کے لیے ’’خام مواد‘‘نظیر سے لیا ہے۔اردو شاعری میں ایسی مثالیں بہت ملیں گی ۔خام مواد کہیں نہ کہیں سے ہمیشہ لیاجاتا رہا ہے۔ نظیر کا درج ذیل شعر ہے:
ہم پست نگاہوں کی نظر میں تو نظیر آہ
سب ارض وسما کی ہے گلستان تماشا
(روحِ نظیر ص180)
غالب کی ایک مشہور غزل کا مطلع ہے:
بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب وروز تماشا مرے آگے
غالب کے مذکورہ شعر سے متعلق بھی مخمور اکبر آبادی کا یہی خیال ہے۔ نظیر کا ایک شعر ہے:
زباں کی کر کے مقراض اور بنا دشنام کاغذ کا
ہمارے حق میں کیا کیا آپ نے کترے ہیں گل بوٹے
گل کترنے کا محاورہ غالب کے یہاںبہت خوبصورتی کے ساتھ استعمال ہوا ہے:
دیکھو تو دل فریبیِ اندازِ نقشِ پا
موجِ خرامِ یار بھی کیا گل کتر گئی
درج ذیل اشعار میں نظیر،میر اور غالب کے اشعار میں موضوع کی مما ثلت دیکھی جا سکتی ہے۔ نظیرکا شعر ہے:
کہا جو ہم نے ہمیں در سے کیوں اٹھاتے ہو
کہا کہ اس لیے تم یہاں جو غل مچاتے ہو
اٹھارہویں صدی کے میر اس موضوع کو یوں پیش کرتے ہیں:
کیا کہیں اس نے جو پھیرا اپنے در سے ہمیں
مرگئے غیرت سے ہم بھی، پر نہ اس کے گھر گئے
غالب کا شعر ہے:
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئی
اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
نظیر کے یہاں یہ موضوع محاکاتی فضا اور مکالماتی انداز میں ادا ہوا ہے۔طرزِ ادا میں شوخی کے ساتھ کھلنڈرا پن بھی بلا کا ہے ۔میر کے مذکورہ شعر سے عاشق کی خود داری تراوش کرتی ہے،لیکن غالب خود داری کو بالائے طاق رکھ کر اپنی طبعی شوخی کے ساتھ پاسباں کی قدم بوسی سے بھی باز نہیں آتے۔
معشوق کااپنی محفل میں عاشق کو در سے اٹھانے کا موضوع نیا نہیں ہے،لیکن بزمِ ناز میں عاشق نے جس طرح فرمان جاری کیاہے، اس میں جدت طرازی تو بہر حال ہے۔درج ذیل شعر کے مصرعِ اولیٰ میں عاشق جس رعونت کے ساتھ معشوق سے مخاطب ہے،مصرعِ ثانی میں اس کی ساری رعونت وتمکنت خاک میں مل جاتی ہے:
میں نے کہا بزمِ ناز غیر سے چاہیے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
(غالب)
اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے شعرا نے ہی اس قسم کے موضوع پر طبع آزمائی نہیں کی بلکہ بیسویں صدی بھی اس سے اچھوتی نہیں رہی۔یہ موضوع نظیر اور میر کے یہاں فطری سادگی، غالب کے یہاں قدرے حیرت اوربیسویں صدی میں حسرت موہانی کے یہاں ایک پختہ یقین کے ساتھ ادا ہوا ہے۔ حسرت کا شعر ہے:
تری محفل سے اٹھاتا غیرمجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تونے بھی اشارا کر دیا
کلاسیکی شاعری میں سلام و پیام کے لیے قاصد کا کردار بھی نظر آتا ہے۔ میر کے ہم عصر صوفی منش شاعرخواجہ میر درد کا ایک شعر ہے:
قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
(درد)
پیامبر نہ میسر ہوا تو خوب ہوا
زباِنِ غیر سے کیا شرحِ آرزو کرتے
(آتش)
تجھ سے توکچھ کلام نہیں لیکن اے ندیم
میرا سلام کہیو اگر نامہ بر ملے
(غالب)
موضوع تو تقریباً ایک ہی قسم کے ہیں لیکن ہر ایک کا طرزِ اظہارجدا ہے۔ غالب کے شعر میں’کلام‘ اور ’سلام ‘ کی لفظیات میں فنکارانہ ہنر مندی ، جدت پسندی اور معنویت ہے ۔ ’میرا سلام کہیو‘ کے ٹکڑے میںتہہ داری کا پوچھنا ہی کیا ۔
ادب میںر وایت پرستی اور روایت شکنی دونوں کی ہی مثالیں ملتی ہیں۔شیریں وفرہاد،کوہِ طور کی ہی تلمیحات کودیکھیں تو اس موضوع کوشعرا نے مختلف رنگ میں پیش کیا ہے۔ عموماًفرہاد کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اپنایا گیا ہے لیکن غالب فرہاد کی کار کردگی کو کبھی طنز و تعریض کا نشانہ بنا تے ہیںتو کبھی تمسخرانہ رویہ اپناتے ہیں اور کبھی اسے بھولابھالا،معصوم اور نادان گردانتے ہیں:
عشق و مزدوریِ عشرت گہہِ خسرو کیا خوب

ہم کو تسلیم نکو نامیِ فرہاد نہیں

تیشے بغیر مر نہ سکا کوہ کن اسد

سر گشتۂ خمارِ رسوم و قیود تھا

کوہ کن نقاشِ یک تمثالِ شیریں تھا اسد

سنگ سے سر مار کر ہووے نہ پیدا آشنا

دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیر زن کے پاؤں
کوہ کن کا اس طرح ایک پیر زن کے کہنے پر جان سے گزر جانا غالب کے نزدیک معصومیت سے بھری نادانی ہی تو ہے کہ جھوٹی خبر کی تحقیق کیے بغیرکہ شیریں مر گئی،اس نے یقین کر لیا ۔شدتِ غم سے مغلوب ہو کر تیشے سے اپنی جان ہی لے لی۔ پاسباں،قاصد،رقیب،اور نہ جانے کتنی لفظیات ہیں جوغالب کے یہاں معانی و مفہوم کا الگ ہی رخ پیش کرتی ہیں۔
فلسفۂ تصوف اردو کی کلاسیکی شاعری کا اہم موضوع رہا ہے۔ درج ذیل شعر میںجبرو قدر کے فلسفے کو نظیر نے خوبصورت تشبیہ کے ذریعہ پیش کیا ہے۔
نظیر کہتے ہیں:
پھر کے نگاہ چار سو ٹھہری اس کے رو برو
اس نے تو میری چشم کو قبلہ نما بنا دیا
میں ہوں پتنگ کاغذی ڈور ہے اس کے ہاتھ میں
چاہا اِدھر گھٹا دیا چاہا اُدھر بڑھا دیا
نظیرکے مذکورہ شعر میںپتنگ کاغذی‘ اور قبلہ نما کی لفظیات غالب کے یہاں دوسرے ہی معنی و مفہوم میں نظر آتی ہے :
نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا

کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

ہے پرے سرحدِ ادراک سے اپنا مسجود
قبلے کو اہلِ نظر قبلہ نما کہتے ہیں
نظیر کے بعد بھی کم وبیش ہر شاعر نے اس موضوع کو برتا ہے ۔ میرتقی میر،خواجہ میر درد، آتش اور دیگر شعرا کے یہاں یہ موضوع مختلف رنگ میںموجود ہے ، خود غالب کے یہاں بھی اس فلسفہ کی ضو فشانی ہے ۔غالب شاعری میں معنی آفرینی کے قائل ہیں، ان کے یہاںبیان اور طرزِبیان میں بھی انفرادیت ہے۔بیشتر شعرا نے ایک موضوع کو مختلف انداز میں پیش کیا ہے۔نظیرکے بعد کی نسل کے بیشتر موضوعات و لفظیات،تشبیہات و استعارات وہی ہیں لیکن ہر ایک کا مختلف انداز ایک امتیازی شان پیدا کرتاہے ۔ جبر و قدر کا فلسفہ اٹھارہویں صدی کے میر کے یہاں اس طرح پیش ہوا ہے:
ناحق ہم مجبوروں پر تہمت ہے مختاری کی
چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
غالب کا ایک خوبصورت شعر ہے:
آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں
اقبال نے اپنے درج ذیل شعر میںغالب کے موضوع سے خوشہ چینی کی ہے، اقبال کے یہاںاظہارِ بیان کی سادگی ہے اور توضیحی رنگ نمایاں ہے:
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدا ئے کن فیکون
یہ وہ اقبال ہیں جنھوں نے ’ہے پرِ مرغِ تصور کی رسائی تا کجا‘ اور ’محوِ حیرت ہے ثریا رفعتِ پرواز پر ‘ کہہ کر غالب کی فکر،ان کے تخیل وتصور کی رفعتِ پرواز کو خراجِ تحسین ادا کیاتھا۔ سید عابد علی عابدتخیل کو’’ شاعری کی جان‘‘ کہتے ہیں۔ان کا کہنا ہے:
’’بہر صورت ہم کالرج اور شیلے کے ہم زبان ہو کر کہہ سکتے ہیں کہ شاعری تخیل کی زبان ہے۔‘‘
آگے سید عابد علی عابدلکھتے ہیں کہ:
’’مشرق اور مغرب کے نکتہ طراز اس بات پر متفق ہیں کہ تخلیق کے عمل میں جو چیز محرک کے طور پر عمل پیرا ہوتی ہے وہ تخیل ہی ہے۔تخیل پیکر تراشتا ہے،تمثال ہائے خیالی پیدا کرتا ہے۔۔۔۔۔ ‘‘5؎
غالب جیسا انا پسند شاعربیدل، امیر خسرو اور میر کو اس طرح خراجِ تحسین پیش کرتا ہے:

طرزِ بیدل میں ریختہ کہنا

اسد اللہ خاں قیامت ہے

غالب مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہو

پیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں

ریختے کے تم ہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا
یہی نہیں میر کے کلام کو غالب گلشنِ کشمیر سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ پروفیسر آل احمد سرور نے میر اور غالب پر اپنی بیش بہا رائے کا اظہار کرتے ہوئے ایک جگہ لکھا تھا:
’’ میرخدائے سخن ہے ۔وہ جذبے کی روح لفظ میں کھینچ لاتا ہے۔وہ پیچیدگی کو بھی سادگی بنا کر پیش کرتا ہے ،اس کے یہاں فکر بھی جذبہ بن جاتی ہے اور یہ بہت بڑی بات ہے۔مگر انصاف یہ ہے کہ غالب میر سے زیادہ ترقی یافتہ اور sophisticatedذہن رکھتے ہیں۔ ان کے یہاںتخلیقی عمل جذبے کواور جذبہ فکر کو تب وتاب دیتا رہتا ہے۔۔۔۔۔‘‘ 6؎
آگے سرور صاحب اپنی بات کی توثیق میںمیر اورغالب کے ایک ایک شعرپیش کرتے ہیں۔میر کا شعر ہے:
اٹھتی نہیں پلک سے تا ہم تلک بھی آویں
پھرتی ہیں وے نگاہیںپلکوں کے سائے سائے
کم وبیش غالب کے شعر میں موضوع وہی ہے لیکن اندازِ بیان مختلف ہے :
وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یارب دل کے پار
جو مری کوتاہیِ قسمت سے مژگاں ہوگئیں
غالب نے اگر شعری رنگ و آہنگ نظیر سے سیکھا تویقیناً غالب ان سے اکتساب ِفیض کا اعتراف بھی کر تے۔ نظیرسے استفادہ تو ان کے بعد کی نسلوں نے ضرور کیا ہوگا۔ اگر غالب کے یہاں استفادے کی جھلک ملتی بھی ہے تو یہ دیکھنا ضروری ہو جاتا ہے کہ آخر ایسا کیا ہے،جس پر غالب کے انفراد و امتیاز کی اساس ہے۔ کسی ایک خیال کو شعر۱ اپنے اپنے انداز سے پیش کرتے آئے ہیں۔ چکبست کا شعر ہے:
زباں کو قید کریں یا مجھے اسیر کریں
مرے خیال کو بیڑی پہنا نہیں سکتے
فیض اسی خیال کو اس طرح پیش کرتے ہیں:
وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گری
فضا میں اور بھی نغمے ابھرنے لگتے ہیں
مضمون تو ایک ہی ہے لیکن اظہار کی صورت الگ ہے۔بلا شبہ چکبست ہمارے محترم قومی شاعر ہیں لیکن جس بات کو انھوں نے سیدھے سپاٹ لہجے میں کہا اسی بات کو فیض مزید خوبصورت انداز میں کہہ رہے ہیں ۔چکبست کے اس شعر میں بیان کی سلاست ہے تو فیض کے یہاں تشبیہ و استعارے کی رنگت ہے ۔ فیض کا شعر زیادہ پُر کشش محسوس ہوتا ہے اورہمیں اپنی طرف راغب کرتا ہے۔شعر وادب میں یہ سلسلہ چلتا آیا ہے اور چلتا رہے گا۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ حد سے بڑھی ہوئی یہی چیزیں سرقہ وتوارد کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
شایدغالب کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے تحت مخمور نے صرف غالب کو ہی نشانہ بنایا ، ورنہ نظیر کے موضوعات، تشبیہات و استعارات غالب سے پہلے بھی شعرا اپنے اپنے طور سے استعمال کرتے آئے ہیں۔ ادب میں استفادہ اور فکر وخیال کی روایت ہمیشہ رہی ہے۔رنج وغم،مسرت و انبساط غیظ و غضب،نفرت و محبت،حیرت و استعجاب،حسن و عشق اور ہجر و وصال سے متعلق ہر انسان کے دل میں جذبات کی ہنگامہ خیزی ہوتی ہے۔ان عمومی جذبوں کی ہنگامی کیفیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔یہ وہ عام جذبے ہیں،جن سے کم و بیش ہر انسان گزرتا ہے۔البتہ ان جذبوں کا شعری اظہارمختلف پیرائے میں ہوتا آیا ہے،جسے طرزِ ادا اور مخصوص اسلوب کا نام دیا جاتا ہے۔ خلیل الرحمن اعظمی لکھتے ہیں :
’’اس عمومیت میں خصوصیت پیدا کر لینا اور ان اجتماعی محسوسات پر انفرادیت کی مہر لگانا فن کا سب سے اہم سوال ہے‘‘7؎
بلا شبہ کہنا پڑے گا کہ غالب نے اس عمومیت میںخصوصیت پیدا کی ہے اور ’ اجتماعی محسوسات پر انفرادیت کی مہر‘ لگاکر فن کو ارفع و اعلی مقام پر پہنچا دیا۔
ڈاکٹریوسف حسین خاں لکھتے ہیں:
’’وہ( غالب) اپنے اسلوبِ بیان کے خود موجد ہیں اور انھیں پر وہ ختم بھی ہو گیا۔ ان کے مضامین اور استعاروں کا اچھوتا پن ان کی شاعرانہ بصیرت کو ظاہر کرتاہے۔بعض جگہ قدمااور متوسطین کے مضامین میںحیرت انگیز نزاکتیںپیداکردی ہیں۔در اصل کوئی شاعرانہ مضمو ن کسی کی ملکیت نہیں ہوتا،جو اس کودل نشیں اندازمیںباندھ دے وہ اسی کا ہو جاتا ہے‘‘8؎
معروف ترقی پسندنقاد پروفیسراحتشام حسین کا کہنا ہے:
’’غالب نے اپنی فنی اور فکری راہیں تلاش کرنے میں ذہنی آزادی اور ذاتی تجربے کو اپنا رہبر بنایا، عقل سے روشنی مانگی اور تخیل کی مدد سے جذبہ اور عقل ،وجدان اور شعور کو ملا کر شعر کی تخلیق کی۔انھوں نے نشاطِ فن کی سر مستی اور سر شاری میں بھی فردکو یاد رکھا ہے‘‘ 9؎
غیر شعوری طور پر تو نظیر کے فوراًبعد آنے والی نسل کے یہاں بھی نظیرکی لفظیات و موضوعات، تشبیہات و استعارات اور تلمیحات بہ اندازۂ دیگر مل جائیںگی۔ شعرو ادب میں چراغ سے چراغ بھی جلتا آیا ہے، کبھی کوئی چراغ جھلملا کے رہ جاتا ہے ،کوئی وقت کی آندھی کی نذر ہو جاتاہے اورکبھی وہ شعلہ بن کر بھڑک اٹھتا ہے۔
غالب کے سلسلے میں مخمور اکبر آبادی کا رویہ خاصہ جارحانہ ہے۔مخمور نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ:
’’ فارسی تراکیب بنانے کا اسلوب غالب نے نظیر سے سیکھا‘‘
فارسی زبان پر خود غالب کو دسترس حاصل تھی۔فارسی میں ان کی کئی نثری تصانیف بھی ہیں10؎۔ فارسی شاعری پر تو انھیں ناز ہی تھا ،ان کے شعری مزاج میں فارسیت تھی ۔ان کے تخلیقی و فکری تصورات کی اساس میں فارسی شعرو ادب کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔لہٰذا کہا جاسکتا ہے کہ فارسی تراکیب بنانے کا اسلوب غالب نے فارسی کے کلاسیکی شعرا سے سیکھا ہوگا اور کیا تعجب نظیر نے بھی فارسی شاعری سے اکتسابِ فن کیا ہو۔ نظیر خود کئی زبانوں سے آشنا تھے ۔
ابتدا میں غالب نے فارسی میںہی طبع آزمائی کی ۔اپنے فارسی کلام کو نقش ہائے رنگ رنگ سے تعبیر کرتے ہیں اور اپنے اردو کلام کو بے رنگ کہہ دیتے ہیں:
فارسی بیں تا بہ بینی نقش ہائے رنگ رنگ
بگزر از مجموعۂ اردو کہ بے رنگ من است
اسی بے رنگ اردو کلام کو رشکِ فارسی بھی کہہ دیتے ہیں:
جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسی
گفتہ ٔ غالب ایک بار پڑھ کے اسے سنا کہ یوں
آخر کچھ تو کلامِ غالب میں ہے کہ غالب شکنی کی ہزارہا کوششوں کے بعد بھی غالب پسندی میں کمی نہ آئی۔غالب شکنی کے سلسلے میںیاس یگانہ،نیاز فتحپوری اورغالب پسندی میں بجنوری ہی نہیںہیں اور بھی بہتوں کے نام تحسین و تنقیص ا ورتعریض کی فہرست میں آتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ کتا بیں بھی غالب پر لکھی جاتی رہی ہیں ۔غالب کے نام پر اکیڈمیاں اور انسٹی ٹیوٹ بھی قایم کیے گئے ہیں۔ اردو کے بڑے بڑے نامی گرامی ،مایہ ِ ناز مصنفین نے غالب پر لکھا اور خوب لکھا۔ کئی برگزیدہ شخصیات ما ہرِغالبیات کہلائیں ۔تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔
غالب (پ،27 دسمبر1797)کے عہد تک آتے آتے نظیر کے عہد کی زبان وبیان کا ا لھڑ پن پختگی و بالیدگی میں بدل چکاتھا۔لہجے میں متانت اورشائستگی بڑھ رہی تھی۔ عہد نظیر کی لفظیات وموضوعات، فنی،تخلیقی اور فکری نظریات وتصورات بھی وہ نہ رہے ۔ البتہ فطری سادگی پر تصنع کا رنگ بھی چڑھ رہاتھا۔نئی نسل اپنی پیش رو نسل کی معترف بھی ہوتی ہے اورمنحرف بھی۔ رد و قبول کی منزلوں سے گزرتی ہوئی اپنی انفرادی شناخت بھی قایم کرنا چاہتی ہے۔پروفیسر احتشام حسین لکھتے ہیں:
’’ہر ادبی نسل کے یہاں ایک نیا شعور اور نیا وجدان ملتا ہے،زندگی کے بدلتے ہوئے تقاضوں کی نئی تفسیریں ملتی ہیں۔ایمر سن نے شاید انھیں باتوں کو پیش نظر رکھ کر کہا تھا’’ہر دور اپنے شاعر کا انتظار کرتا ہے‘‘بعض اوقات تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر دور کی آفاقیت اور نصب العین جداگانہ ہوتاہے۔اسے عصریت ہی کی اصطلاحوںمیں بیان کیا جا سکتا ہے کیوں کہ وہی اصطلاحیں اپنے دور کی قوتِ فہم اور قوتِ احساس سے ہم آہنگ ہوتی ہیں۔زبان،علامت ،لہجہ، استعارہ اور تلمیحات کی تبدیلی میں یہی راز ہے۔جسے نظر انداز کر دینے کی وجہ سے آفاقیت اور عصریت کابنیادی رشتہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔‘‘ 11؎
ڈاکٹرفرمان فتح پوری ادب میں اختلافِ رائے سے متعلق لکھتے ہیں:
’’تخلیقی ادب میں اختلافِ رائے کا جنم دیا ہوا کوئی نتیجہ کبھی مردہ نہیں ہوتا ،بلکہ ہر نتیجے کو ایوانِ ادب میں ایک روشن چراغ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے، اس ایک چراغ سے دوسرا ،دوسرے سے تیسرا اور تیسرے سے چوتھا چراغ ،غرض کہ چراغ سے چراغ جلتا رہتا ہے ،لیکن کبھی کوئی چراغ کبھی پوری طرح گُل نہیں ہوتا بلکہ ادب کے کسی نہ کسی جُزیا گوشے کو منور رکھتا ہے ،جس طرح اعلی درجے کا ادب یا اس کا کوئی جز کبھی مرتا نہیں ہے،بلکہ ایک زندہ حقیقت کی حیثیت سے انسانی روح اور ذہن دونوںکی سیرابی کا سامان فراہم کرتا رہتا ہے ،با لکل اسی طرح اختلافِ رائے کا نتیجہ بھی ادب میں بے جان نہیں ہوتا ،بلکہ ادب کو ایک نیا رخ اور نئی سمت دینے کا وسیلہ بنتاہے۔‘‘
اپنے اسی مضمون میں فرمان فتح پوری نے مغربی ناقدین کی مختلف آرا کا ذکر کیا ہے۔ شعرو ادب سے متعلق افلاطون،ڈرائیڈن ،ورڈزورتھ، میتھو آرنلڈ،والٹر پیٹر،ہربرٹ ریڈ اورآخر میں ٹی۔ایس ایلیٹ کی اختلافِ را ئے کا ذکر کرتے ہوئے آگے لکھا ہے کہ:
’’ اس طرح کی اور نہ جانے کتنی رائیں ،اختلافِ آرا کے نتائج کے طور پر ادبیات کے صفحات پر بکھری پڑی ہیں ۔۔۔۔ادبی مسائل میں اختلافِ رائے کی نوعیت ،سخت اور قطعی نہیں بلکہ لچک دار اور نرم ہونی چاہیے ۔ جو لوگ ادبی مسائل میں اختلاف رائے کے ذریعے فیصلے صادر کرتے ہیں ،اپنی رائے کے آگے دوسروں کی رائے کو مہمل گر دانتے ہیں اور اپنے نتائج کو قطعی اور اٹل خیال کرتے ہیں ،وہ ادب اور ادیب دونوں کے منصب سے نا آشنا ہیں۔ ‘‘
اپنی بات ختم کرتے ہوئے آگے ٖفرمان فتح پوری لکھتے ہیں:
’’مجھے یقین ہے کہ اپنی رائے پر بے جا اصرار ادب کا تو کچھ نہ بگاڑ سکے گا،لیکن ایسے ادیبوں کو ضرور لے ڈوبے گا‘‘12؎
بلا شبہ نظیر اکبر آبادی کا اپنا الگ مقام اور مرتبہ ہے۔غالب اور نظیر دونوں اپنی الگ انفرادی شان رکھتے ہیں۔ دونوں کی ترجیحات الگ،دونوں کے عہد کے شعری رجحانات بھی مختلف۔ حتی الامکان غالب مروجہ شعری روایات سے گریز پا۔غالب کے یہاں معانی و مفاہیم کی تہہ داری وکرشمہ سازی نے کتنے قد آور قلم کاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ تفصیل میں جانے کی گنجائش نہیںکہ اردو کے بڑے بڑے نامی گرامی اورمایہ ناز مصنفین نے غالب پر لکھا اور خوب لکھا۔ کئی برگزیدہ شخصیات ماہرغالبیات کہلائیں۔معترفین غالب کو غالب کی شاعری میںمستقبل کے روشن امکانات نظر آئے۔ غالب کے یہاں جذبے اور فکر کی ہم آہنگی میں دلکشی،دل نشینی،معنی آفرینی اور غورو فکر کی زیریں لہر، بالخصوص ان کے طرزِاظہار اور مخصوص اسلوب نے غالب کو انفرادیت کے اعلی وارفع مقام پر پہنچادیا۔
حواشی:
1 مفتی صدرالدین خاں آزردہ، امام بخش صہبائی ،مولانافضل حق خیر آبادی، نواب مصطفیٰ خاںشیفتہ وغیرہ۔
2 میکش اکبر آبادی:آگرہ اور آگرے والے۔(مرتب سید حیدر علی شاہ رنداکبر آبادی)اشاعت 2002،ایم ۔آر ۔پریس دہلی
3 مخمور اکبربادی:روحِ نظیر ۔ ص192 دوسرا ایڈیشن2003 اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ
4 مخمور اکبربادی:روحِ نظیر ۔ ص192 ،دوسرا ایڈیشن2003 اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ
نوٹ: (’روحِ نظیر ‘ کا پہلا ایڈیشن 1922 میں شایع ہوا ۔1946میں دوسرے ایڈیشن کی اشاعت ہوئی،جیسا کہ مخمور اکبر آبادی کے دیباچہ سے ظاہر ہے۔ 2003کے ایڈیشن میں پروفیسر محمد حسن کا پیش لفظ بحیثیت چیر مین اتر پردیش اردو اکادمی، مورخہ23 فروری1978شامل ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تیسرا ایڈیشن ہوا ۔لیکن مذکورہ کتاب پر دوسرا ایڈیشن 2003 چھپا ہے)
5 سید عابد علی عابد: اسلوب ، ص161،طبع اول1976 ۔مطبع اسرار کریمی پریس الہٰ آباد
6 پروفیسر آل احمد سرور:پہچان اور پرکھ ،ص115،دسمبر1990۔پہلا ایڈیشن۔مکتبہ جامعہ دہلی
7 بحوالہ علی گڑھ میگزین 1979-82
8 ڈاکٹر یوسف حسین خاں:غالب اور آہنگِ غالب ،ص295۔اشاعت اول1968۔ ناشر غالب اکیڈمی بستی حضرت نظام الدین ،نئی دہلی
9 بحوالہ پروفیسر علی احمد فاطمی: سید احتشام حسین۔ذکر وفکر ، ص54۔طبع اول2013۔ پہچان پبلیکیشنز، الہٰ آباد)
10 نوٹ : نثری تصانیف میں مہرِ نیم روز (بادشاہ ظفر کے کہنے پر خاندانِ تیمور کی تاریخ لکھ رہے تھے کہ1957میں غدر ہو گیا۔کتاب مکمل نہ ہوسکی۔)دستنبو، سبدِ چین،پنچ آہنگ،قاطع برہان (مولوی محمد حسین تبریزی کی بُرہانِ قاطع جو فارسی لغت سے متعلق تھی،اس کے جواب میں غالب نے لکھی تھی )در فشِ کاویانی،نکاتِ غالب،نادراتِ غالب۔
11 پروفیسر احتشام حسین:عکس اور آئینے۔ ص225 ۔ناشر ادارہ فروغِ اردو امین آباد لکھنؤ،بارِ دوم اکتوبر1977
12 فرمان فتح پوری: ادبی تنقید میں اختلافِ رائے کی اہمیت ‘ مشمولہ روزنامہ ’انقلاب‘ مورخہ16 ستمبر 2018

Dr Nafees Bano
Ex Head Deptt of Urdu,
Vasanta College for women Rajghat,Varanasi-221001
(Affiliated to Banaras Hindu University)
Contact:6390850063

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

منتخب فرانسیسی ڈراموں کے اردو تراجم کا تنقیدی مطالعہ،مضمون نگار:محمد ریحان

تلخیص فرانسیسی ڈراما نگاری کی شاندار اور طویل روایت ہے، جس نے صدیوں سے تھیٹر کی دنیا کو اپنی تخلیقی جہات سے متاثر کیا ہے۔ فرانسیسی ڈرامے کا آغاز قرونِ

استادشاعرمرزا محمد فاخر مکین اوران کے ہندو تلامذہ ،مضمون نگار:عرشی بانو

تلخیص اس مقالے کا موضوع ’استادشاعر مرزا فاخر مکین اور ان کے ہندو تلامذہ ہے‘ جس میں استاد الشعرا مرزا فاخر مکین کے غیر مسلم شاگردوں کا ذکر ہے اور

اردو تحقیق و تدوین اورعلی گڑھ،مضمون نگار: صبا نسیم

تلخیص اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی میں علی گڑھ ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ویسے تو یہ ریاست اترپردیش کا ایک شہر ہے لیکن عالمی سطح پر