اٹھارہ سو ستاون، دہلی اوربیان غالب کا بین السطوری کلامیہ،مضمون نگار:ضیا ء اللہ انور

March 19, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

1857 کا سانحہ محض ایک سیاسی یا عسکری واقعہ نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی، لسانی اور فکری تاریخ کا ایک واقعہ تھا۔ دہلی جو صدیوں سے مشترکہ تہذیب، فارسی و اردو ادب اور درباری ثقافت کا مرکز رہی تھی، اس واقعے کے بعد ایک اجڑا دیار بن گئی۔ مرزا اسد اللہ خاں غالب اس بربادی کے عینی شاہد تھے، انھوں نے ایک ہنستے بستے شہر کو ویران ہوتا دیکھا تھا۔ لیکن افسوس یہ کہ وہ اس ویرانی کا براہ راست مرثیہ رقم نہ کر سکے۔ انھوں نے اپنی نثر میں بھی اس سانحے کو براہِ راست بیان کرنے کے بجائے اشارے و کنایے میں بات کی، جسے ان کی تحریروں کے بین السطورسے اخذ کیا جاسکتا ہے۔
غالب اپنی تحریروں میں ہمیں مصلحت اندیش تو ضرور دکھائی پڑتا ہے لیکن اسے چاپلوس یا برطانوی حکومت کا مداح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ میرا یہ مضمون غالب کی تحریروں کے بین السطوری کلامیے کو نشان زد کرتا ہے جس کا مفصل ذکر غالب سنگینیٔ وقت کی وجہ سے کرنے سے باز رہے لیکن اس کے اشاریے کو یکجا کیا جائے تو دلی کا مرثیہ اور برطانوی حکومت کے جبر کی کہانی رقم ہوتی ہے جس کا عینی شاہد غالب تھا۔

کلیدی الفاظ

1857، روزنامچہ، دستنبو، دہلی، قلعہ معلی، برطانوی فوج، پیراڈاکس، شاہجہان آباد، خطوط غالب، المیہ، شاہان تیموریہ، ملکہ وکٹوریہ، گورنر، بہادر شاہ ظفر، نواب یوسف مرزا، غدر، پنشن
————
1857 سے متعلق غالب کا روز نامچہ دستنبو اہمیت کاحامل ہے۔ غالب نے اپنے اس روزنامچہ میں 1857کی جزئیات اور اس سے وابستہ تفصیلات بیان کی ہیں۔ لیکن اس روز نامچہ کے پس پردہ غالب ایک مصلحت اندیش کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ اس عظیم سانحہ میں قلعہ معلی کے حالات اور ہندوستانیوں کی قربانیوں کا براہ راست بیان کرنے کے بجائے جس خوبصورتی سے خود کو انگریزوں کی نظروں سے بچا لے جاتا ہے،وہ اپنے آپ میں قابل داد ہے۔ غالب جیسا شخص روپ بدل کر، سوانگ رچا کر قاری کی نظروں میں کھب جاتا ہے۔ دستنبو کی قرأت سے ہمیں 1857 سے متعلق غالب کے ذہنی رویے کو سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔دستنبو جس کی بنیاد پر غالب کو انگریزوں کا حامی قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے متن کو دیکھ کر بظاہر تو یہی گمان گزرتا ہے کہ غالب نے اس میں انگریزوں کو فاتح قرار دے کر ان کی عظمت کا اعتراف کیا ہے،اور انگریزی حکومت کے گن گان کئے ہیں۔ لیکن اگرمتن کی کلوز ریڈنگ کی جائے تو اس کے بین المتون میں ہمیں غالب کا درد اوراس کا غم وغصہ نظر آتا ہے، جو مصلحت کی بنیاد پر صفحہ قرطاس پر نمودار ہونے سے رہ گیا۔ بعض دوستوں کی طرح غالب نے بھی ناساز گاری حالات کے سبب ذاتی تحفظ کو باقی تمام چیزوں پر ترجیح دی۔یہ ممکن ہے کہ غالب نے حالات کی نزاکت اور اپنی جان کے تحفظ کی خاطر اصل سرگزشت پر نظر ثانی کی ہو اور بعض جگہ کاٹ چھانٹ ضروری سمجھی ہو۔دستنبو کی قرأت کے دوران یہ بات ہمارے ذہن میں ہونی اشد ضروری ہے کہ یہ وہ دور تھا جب خود بقول غالب شہر دہلی کا ذرہ ذرہ مسلمانوں کے خون کا پیاسا تھا:
گھر سے بازار میں نکلتے ہوئے
زہرہ ہوتا ہے آب انساں کا
چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہے
گھر بنا ہے نمونہ زنداں کا
شہر دہلی کا ذرہ ذرہ خاک
تشنہ خوں ہے ہر مسلماں کا
اس طرح کے پر آشوب دور اور بلائے جان آفت کے سبب اچھے اچھوں کا ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ غالب کی کیفیت بھی’’ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر‘‘کی کشمکش کا آئینہ تھی۔ اور پھر غالب عمائدین شہر میں سے تھے۔ وہ سلطنت مغلیہ کے آخری چشم و چراغ سراج الدین بہادر شاہ ظفر کے درباری اور استاد تھے اور قلعہ معلی سے بسلسلہ ملازمت وابستہ رہے۔ اگرچہ وہ برطانوی حکومت کی اصلاحات کے مداح تھے اور کئی ایک انگریزوں کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم بھی تھے۔ لیکن ان کے بعض دوست بغاوت کے الزام میں زیر عتاب تھے۔ اس پرآشوب دور میں حکومت وقت سے غداری کا ذرا سا شائبہ یا بغاوت سے ذرا سی ہمدردی بھی ان کو سزا کا مستحق بنا سکتی تھی، اور یہ سزا مقتل تک لے جا سکتی تھی۔ جیسا کہ غالب کے کئی احباب سوئے مقتل جا چکے تھے۔ لیکن غالب ہوشیار تھا۔ اس نے اپنی جان کی حفاظت کی خاطرروپ بدلا، سوانگ رچایا اورخود کو ان مصائب سے بچا لے گیا۔ دستنبو کی طباعت کے مقاصد کے پیش نظرکتاب کا لہجہ تو ضرور بدلا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ غالب نے اپنی جاں بخشی کی خاطر ہر جگہ تملق ہی سے کام لیا ہو۔ کتاب میں ایسے کئی سیاق موجود ہیں جہاں غالب کا سوانگ پھیکا دکھائی دینے لگتا ہے۔ دہلی کی تباہی، سرفروشان آزادی کا سفاکانہ قتل اور اہل شہر بالخصوص مسلمانوں کی بے بسی اور دربدری پر غالب نے خون کے آنسو بہائے ہیں۔
علاوہ ازیں اہل شہر کی بے بسی و پریشانی کا نقشہ بھی غالب نے کھینچا ہے۔ شہریوں کی جرأت و ہمت کا ذکرکرنے کے علاوہ برطانوی فوج کے ظلم و ستم کو یوںہوشیاری سے بیان کیاہے:
’’با آنکہ کوچہ را در فراز کردہ اند ہنوز آن مابہ دلیری میگن جد کہ در میک شایند و میروند و سامان خورو آشام ھمی آورند۔ گفتم کہ ہر بران خشمگیں دمیکہ در شہر پا گذاشتہ اند کشتن بینوای چند و سوختن سرای چند روا داشتہ اند۔ آری در جایگاہی کہ آنرا بجنگ گیرند کاربر مردم ھمچنین تنگ گیرند۔‘‘1؎
غالب نے متن میں اشارہ و کنایہ کے ذریعہ جو بات کہنی چاہی ہے، بین المتون میں اس کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔علاوہ ازیں مقامی ریاستوں کی ہمت و دلیری اور ان کے خلوص اور بادشاہ دہلی کے تعاون کا اعتراف اور بیان بھی دستنبو میں ملتا ہے۔ ’’دہلی کی تباہی و بربادی، مسلمانوں کی سوختہ سامانی اور بیچارگی، سر برآوردہ افراد کی تباہ حالی، دربدری اور دہلی سے باہر لکھنؤ، مراد آباد اور بریلی میں جد وجہد آزادی کی بدلتی ہوئی کیفیتیں ، غرض یہ کہ کتاب میں اس پر آشوب تاریخی دور کی متعدد منتشر تصویریں ملتی ہیں اور کتاب کے مخصوص مصلحت آمیز طرز نگارش کے باوجود بعض اہم حقائق کی پردہ کشائی ہوتی ہے۔اور میرزا باغیوں کو لاکھ کوسیں قوم کی بربادی کے احساس نے ان کو بے چین اور مضطرب رکھا ہے۔‘‘2؎ دستنبو میں غالب جو چیزیں اشارۃً کہہ کر گزر جاتے ہیں اس کی کئی وضاحتیں اردو خطوط میں ملتی ہیں۔ خطوط کی طباعت کا معاملہ اس وقت غالب کے پیش نظر نہیں تھااور نہ ہی اسے انگریزوں کی خدمت میں پیش کیا جانا تھا، بایں ہمہ اس وجہ سے خطوط کی دنیا میں غالب کو ایک طرح کی آزادی حاصل تھی۔اور وہ یہاں اپنا حال دل بآسانی بیان کر جاتے ہیں۔ لیکن ان خطوط کے برعکس دستنبو میں غالب نے جس ہوشیاری سے ان اشارات کو جمع کیا ہے، وہ انھیں باغیوں کی صف میں شامل ہونے سے باز رکھتی ہیں۔دلی میں انگریزی افواج کے داخل ہونے کا بیان دیکھیں اور بین المتون کی تفہیم کا اندازہ لگائیں کہ غالب کیا کہنا چاہتے تھے اور حالات کے پیش نظر اس کو کیا روپ دیتے ہیں:
میں نے ابھی کہا کہ غضب ناک شیروں (انگریزوں) نے شہر میں داخل ہوتے ہی بے سروساماں لوگوں کو قتل کرنا اور مکانوں کو جلانا جائز سمجھا۔ ہاں جس مقام کو لڑ کر فتح کرتے ہیں لوگوں پر ایسی ہی سختیاں کی جاتی ہیں۔
اس غصے اور دشمنی کو دیکھ کر لوگوں کے منھ فق ہوگئے۔۔۔۔ میرے دل پر نہ خوف و دہشت کا اثر ہوا اور نہ پائے استقلال کو جنبش ہوئی۔ میں نے کہا کہ میں گناہ گار تو ہوں نہیں کہ سزا پاؤں۔ انگریز بے گناہوں کو قتل نہیں کرتے ہیں۔3؎
(اب) مکان کے ایک گوشے میں بے سروسامانی کے ساتھ بیٹھا ہوا ہوں(اس تنہائی میں) قلم میرا رفیق ہے۔ آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں اور قلم سے درد ناک الفاظ ٹپکتے ہیں۔ 4؎
آج کل ہم لوگ اپنے آپ کو قیدی سمجھ رہے ہیں اور حقیقت بھی یہ ہے کہ بالکل قیدیوں کی طرح زندگی گزاررہے ہیں۔ نہ تو کوئی آتا ہے کہ کوئی بات سننے کو ملے۔ نہ خود باہر جا (سکتے) ہیں کہ اپنی آنکھوں سے سارے واقعات دیکھیں۔ یقیناً ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے کان بہرے ہیں اور آنکھیں بے نور۔ اس کش مکش کے علاوہ نہ کھانے کو روٹی ہے نہ پینے کو پانی۔ 5؎
مذکورہ بالا اقتباسات میں آپ اس بات کا اندازہ لگاسکتے ہیں کہ غالب نے کس طرح حقیقت بیانی کو تلخ ہونے سے باز رکھا ہے۔ ان کے بین المتون کی ان کہی کہانی متن سے جھانکتی ہوئی معلوم ہوتی ہے، بس اسے سمجھنے کی ضرورت ہے جسے یکسر نظر اندازکردیا جاتا ہے۔’’ہاں جس مقام کو لڑ کر فتح کرتے ہیں لوگوں پر ایسی ہی سختیاں کی جاتی ہیں۔‘‘، ’’انگریز بے گناہوں کو قتل نہیں کرتے ہیں۔‘‘، ’’آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں اورقلم سے دردناک الفاظ ٹپکتے ہیں ۔‘‘،’’ہمارے کان بہرے ہیں اور آنکھیں بے نور۔ اس کش مکش کے علاوہ ’’کھانے کو روٹی ہے نہ پینے کو پانی۔‘‘ ان فقروں پر غور کرنے سے قاری کو بین المتون کی ساری کہانی سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ اور وہ باتیں جو لبوں پر آنے سے رہ گئیں اورشکایتیں گرفت میں نہ آسکیں وہ ان فقروں سے بر آمد ہو سکتی ہیں۔ غالب ایک استاد شاعر تھے۔ شاعری اشاروں،کنایوں کی زبان ہے۔ غالب اس کے ماہر تھے بایں ہمہ انھوں نے دستنبو میں بھی شاعری کا یہ اندازروا رکھا اور انگریزوں کی گرفت میں نہ آسکے۔
نہیں معلوم، کس کس کا لہو پانی ہوا ہوگا
قیامت ہے سرشک آلودہ ہونا تیری مژگاں کا
مذکورہ شعر میں جو فضا تشکیل دی گئی ہے وہ المناک ہے۔ دستنبو کے بین المتون سے بھی ایسا ہی المیاتی رنگ ظاہر ہوتا ہے۔ دہلی کے خوں آشام مناظر کی سیج پر انگریزوں کی مدح سرائی عجیب قسم کی آئرنی پیدا کرتی ہے۔ ایک پیرا ڈا کسیکل حالت کے بیان میں غالب نے کس خوبصورتی سے توازن قائم کیا ہے۔1857 کے بیان میں دہلی کے ساتھ ساتھ قلعہ معلیٰ کی تباہی اور خاندان مغلیہ کے وارثین کے قتل عام کے بیان سے غالب نے کس طرح اپنا دامن بچا لیا ہے۔ اس کی وضاحت میں نہ جاتے ہوئے انھوں نے اس پورے قصہ کو سرسری بیان کردیا ہے۔ لیکن اس سرسری بیان میں بھی انھوں نے کئی اشارے چھوڑ ے ہیں۔ اور ان کے بین المتون سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غالب مصلحت اندیشی کے سبب ان کی وضاحت سے باز رہے ہیں۔ اور انھوں نے ان کی وضاحت کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا رکھا ہے۔ غالب کا بیان ہے:
راقم حالات کے قلم کی جنبش (اس واقعے کے اثر سے) جو نیم مردہ چیونٹی کی رفتار کے برابر (سست ہے)ہے (صفحہ) کاغذ پر (اس حالت) کی کیا عکاسی کرسکتی ہے کہ نگاہیں اس کو دیکھ سکیں۔ شہزادوں کے متعلق اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ بعض کو گولی ماردی گئی۔۔۔کچھ کی گردن میں پھانسی کا پھندا ڈال دیا گیا۔۔۔۔ چند افسردہ دل قید خانے میں ہیں اور بعض (عالم غربت میں) آوارہ و پریشان پھر رہے ہیں۔ کمزور و ضعیف بادشاہ پر مقدمہ چل رہا ہے۔ 6؎
اور یہ جو بادشاہ اورشاہزادوں کے انجام کے متعلق میں نے کچھ نہیں لکھا(حالاں کہ ان واقعات کو) فتح شہر کی داستان کے دیباچے کے طور پر (آغاز ہی میں) لکھنا چاہیے تھا۔ اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اس تحریر کے سلسلے میں میرا سارا سرمایہ سخن ہائے شنیدہ ہیں اور ابھی بغیر سنی ہوئی باتیں بہت ہیں۔ یقیناً جب میں اس جائے تنگ سے باہر نکلوں گا جو باتیں اب تک نہیں سنی ہیں ادھر ادھر سے جمع کروں گا اور تب واقف کاروں کی طرح یہ راز کی باتیں لکھوں گا۔ 7؎
’’یہ راز کی باتیں‘‘ جن کے رقم کرنے سے غالب باز رہے ہیں ایسا نہیں کہ وہ فی الحقیقت ان باتوں سے واقف نہیں تھے بلکہ شعوری طور پر وہ ان سے گریز پا رہے ہیں کیونکہ اسی میں عافیت تھی۔ بایں ہمہ غالب نے ان باتوں کو پردہ خفا میں ہی رہنے دیا۔ انہوں نے شہزادوں کو گولی ماردینے، پھانسی دینے،قید میں ڈالنے اور ان کی دربدری کاذکر کیا ہے، حتی کہ آخری مغل بادشاہ کے لیے غالب کا یہ جملہ ’’کمزور و ضعیف بادشاہ پر مقدمہ چل رہا ہے۔‘‘ تاسف اور ہمدردی سے مملو ہے۔ یہ ہمدردی محض ایک شخص سے نہیں ہے بلکہ ایک قوم اورایک تہذیب سے ہے، جس کا حصہ غالب خود بھی ہیں۔
’’دستنبو‘‘ اور غالب کے اردو خطوط میں ایک طرح کی مناسبت پائی جاتی ہے کہ خطوط کا ایک بڑا حصہ1857 کے سانحہ سے متعلق ہے۔ ان خطوط میں بھی غالب ’’دستنبو‘‘ کی ہی طرح 1857 کے واقعات و سانحات کا ذکر کرتا ہے۔ لیکن ان کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں غالب مصلحت پسند کم نظر آتا ہے۔ یہاں اسے سوانگ رچانے کی ضرورت کم پڑی ہے کیونکہ یہ خطوط ملکہ وکٹوریہ یا حکومت برطانیہ کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے رقم نہیں کیے گئے تھے۔ یہ مکالمہ تھا جو غالب اور ان کے دوست و احباب کے درمیان خاص تھا۔ اس لیے یہاں غالب کو کچھ مراعات حاصل تھیں لیکن ایک خطرے کا اندیشہ ضرور تھا۔ کیونکہ حکومت کی جانب سے ان چیزوں پر بھی سخت نظر تھیں۔ بایں ہمہ غالب یہاں بھی کافی حد تک محتاط رہتے ہیں۔ لیکن وہ درد جو غالب کی روح میں اترتا چلا جا رہاتھا وہ ان کی روزن تحریر سے بارہا جھانکتا نظر آتا ہے۔
غالب کے اردوخطوط کا کینوس ’’دستنبو‘‘ سے وسیع ہے۔ دستنبو میں ہمیں محض 1857 کے آس پاس کا ہی ذکر ملتاہے جبکہ خطوط غالب کا کینوس اٹھارہ،بیس سالوں پر محیط ہے۔ ان میں ہمیں ماقبل اور مابعد 1857 کے روز و شب،تبدیلی زمان اور ذاتی و قومی مشکلات و پریشانی کا بیان ملتاہے۔ خطوط غالب میں1857 کے حوالے کو اگرنشان زد کیا جائے تو اسے تین بڑے زمروں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اول 1857 کے بعددلی کی تباہی وبربادی کا ذکر، دوم 1857کے بعد غالب کو پیش آنے والی ذاتی پریشانیوں کا بیان، سوم1857 کے سانحہ میں غالب کے شناساؤں اور دوست احباب کے قتل اور ان کی نقل مکانی کے واقعات ۔ یہ نکات مابعد 1857 غالب اور دلی کے رشتے پر روشنی ڈالتے ہیں۔ یہ وہ دلی ہے جس کاذکر غالب کے ہونٹوں پر یوں آتا ہے: کوئی ویرانی سی ویرانی ہے / دشت کو دیکھ کر گھر یاد آیا۔ شاہجہان آباد کی وہ چمک جو مغلوں کے ساتھ ساتھ ماند پڑ گئی تھی، غالب اس کا عینی شاہد تھا۔ وہ کوچہ و بازار جس کی ویرانی پر ایک دفعہ میر نے مرثیہ پڑھا تھا، غالب اسی کوچہ و بازار کے پتھروں کو یکجا کرتا دکھائی دیتا ہے۔ میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد/ سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد آیا۔ اس یاد آوری کے عمل سے1857 کے بعد غالب کو بارہا دوچار ہونا پڑا۔ اپنی حویلی کا دروازہ کھول کر غالب جب بھی دہلیز پار کرتے انہیں شاہجہان آباد کی رونقیں یاد آنے لگتیں، ان بوڑھی آنکھوں کی چمک شاہجہان آباد کی طرح ہی ماند پڑ گئی تھی۔ جو اپنی بے رونق آنکھوں سے دکھائی دینے والے مناظر کو اپنے احباب تک ان الفاظ میں پہنچاتا ہے:
۔۔۔ نہ وہ زمانہ رہا، نہ وہ اشخاص، نہ وہ معاملات، نہ وہ اختلاط، نہ وہ انبساط۔ بعد چند مدت کے ایک نیا جنم ہم کو ملا۔اگرچہ صورت اس جنم کی بعینہ مثل پہلے جنم کے ہے۔… لیکن ایک دوست اس جنم کے دوستوں میں سے نہیں پایا جاتا۔ واللہ ڈھونڈھنے کو مسلمان، اس شہرمیں نہیں ملتا، کیا امیر، کیا غریب، کیا اہل حرفہ۔ اگر کچھ ہیں تو باہرکے ہیں۔….امیرغریب سب نکل گئے۔ جو رہ گئے تھے، وہ نکالے گئے۔ جاگیردار، پنسن دار، دولت مند، اہل حرفہ کوئی بھی نہیں ہے۔ مفصل حال لکھتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ 8؎
غالب کا یہ ڈرمحض نئے دستور کا ڈر نہیں تھا۔ یہ خوف اس نئی تہذیب سے بھی تھا جس کے جلو میں ہند ایرانی تہذیب کی تباہی و بربادی تھی اورجس نے اسد اللہ خاں کو غالب بنایا تھا۔ وہ ہند ایرانی تہذیب جو صدیوں سے نکھرتی چلی آرہی تھی۔ نو آبادیاتی یلغار کی وجہ سے اس کا شیرازہ بکھرنے لگا۔ غالب ان بکھرے شیرازوں کو جمع کرنے کی کوشش نہیں کرتا کیونکہ وہ لاحاصل کام میں عمر نہیں گنواتا۔ وہ ان پر اپنی نظریں جما کرانھیں اپنی یادوں میں محفوظ کر لیتا ہے۔ اور پھر یادوں کے ذخیرے سے انھیں کھرچ کھرچ کر احباب کی نذر کرتا ہے۔انہیں اپنی یادوں کے خزینہ سے بہرہ ور کرتا ہے۔ اس یاد آوری کے عمل میں کبھی جھلاہٹ بھی سنائی دیتی ہے اور کبھی مایوسی دامن گیر ہوتی دکھائی پڑتی ہے:
کیا پوچھتے ہو؟ کیا لکھوں؟ دلی کی ہستی منحصر کئی ہنگاموں پر تھی۔ قلعہ، چاندنی چوک،ہر روزبازار جامع مسجد کا، ہر ہفتے سیر جمنا کے پل کی، ہر سال میلہ پھول والوں کا۔ یہ پانچوں باتیں اب نہیں۔ پھر کہو دلی کہاں؟ ہاں کوئی شہر قلمرو ہند میں اس نام کا تھا۔ 9؎
۔۔۔ اے میری جان! یہ وہ دلی نہیں ہے، جس میں تم پیدا ہوئے ہو، وہ دلی نہیں ہے جس میں تم نے علم تحصیل کیا ہے، وہ دلی نہیں ہے جس میں تم شعبان بیگ کی حویلی میں مجھ سے پڑھنے آتے تھے، وہ دلی نہیں ہے جس میں سات برس کی عمر سے آتا جاتا ہوں، وہ دلی نہیں ہے جس میں اکیاون برس سے مقیم ہوں، ایک کنپ ہے۔ 10؎
1857 کے سانحہ میں غالب کے دل اوردلی کی حالت سوگوار نظر آتی ہے۔ غالب کی بوڑھی آنکھیں دلی کا نقشہ تبدیل ہوتے دیکھ رہی تھیں۔ وہ چپ چاپ تماشائی بنا یہ محسوس کر رہا تھا: مضمحل ہوگئے قویٰ غالب/ اب عناصر میں اعتدال کہاں۔ اعتدال کا دامن چھوٹ چکا تھا۔ زمانہ نے ایسی کروٹ لی تھی کہ اندر باہر سب تلپٹ ہو گیا۔ غالب کا المیہ یہ تھا کہ وہ یہ منظر دیکھنے کے لیے زندہ تھا۔ ذوق یا مومن کی طرح ابدی نیند نہیں سویا تھا۔اس کی آنکھوں کو یہ خوں آشام مناظر دیکھنے تھے۔ جس نے اس کے ذہن و دماغ کو مضمحل کردیا تھا اور دل کی بربادی کا توکیا ہی مذکور تھا۔ یہ نگر تو کب کا لٹ چکا تھا۔ اس لٹی ہوئی بستی کا جغرافیہ تبدیل ہو رہا تھا۔ایک نئے شہر کی تعمیر ہو رہی تھی۔لیکن المیہ یہ تھا کہ اس نئے شہر کی بنیادیں پرانی تہذیب کے نشانات کو مٹا کررکھی جا رہی تھیں۔ اس کی بنیاد میں مٹی کی نرمی نہیں آہنی سختی تھی جس نے آبادکاروں کے دلوں کو بھی آہن بنا دیا تھا۔غالب اس آہنی تہذیب کی مخالفت نہیں کرتا، وہ زمانے کا مزاج شناس تھا۔ لیکن اسے تکلیف اس تہذیب کے مٹ جانے سے تھی، جس میں اس کی روح بسی ہوئی تھی۔ با یں وجہ اس نے اپنے خطوط کے ذریعہ اپنے کئی مصاحبوں کو اس درد میں شریک کیا ہے۔ دلی کے اس اجاڑپن کی جو تصویر غالب نے اپنے خطوط میں درج کی ہے وہ اس سانحہ کو ہماری تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ بنا دیتی ہے۔ دلی کی ویرانی کی چند تصاویر خطوط غالب سے پیش کی جاتی ہیں جن میں غالب کے دل سے اٹھنے والی ہوک کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، اور اس درد کو محسوس کیا جا سکتا ہے جو غالب کی روح کو بے چین کیے دے رہا تھا:
چوک میں بیگم کے دروازے کے سامنے حوض کے پاس جو کنواں تھا اس میں سنگ و خشت و خاک ڈال کر بند کردیا۔ بلی ماروں کے دروازے کے پاس کی کئی دکانیں ڈھا کر راستہ چوڑا کر لیا۔ شہر کی آبادی کا حکم، خاص و عام کچھ نہیں،پنسن داروں سے حاکموں کا کام کچھ نہیں۔ 11؎
مصیبت عظیم یہ ہے کہ قاری کا کنواں بند ہوگیا۔ لال ڈگی کے کنوئیں یک قلم کھاری ہو گئے۔۔۔کشمیری دروازے کاحال تم دیکھ گئے ہو۔ اب آہنی سڑک کے واسطے کلکتہ دروازے سے کابلی دروازے تک میدان ہو گیا۔ پنجابی کٹرا، دھوبی واڑہ، رام جی گنج، سعادت خاں کا کٹرہ، جرنیل کی بی بی کی حویلی، رام جی داس گودام والے کے مکانات، صاحب رام کا باغ، حویلی، ان میں سے کسی کا پتا نہیں ملتا، قصہ مختصر، شہر صحرا ہوگیا تھا۔ اب جو کنویں جاتے رہے اور پانی گوہر نایاب ہوگیا۔ تو یہ صحرا صحرائے کربلاہوجائے گا۔۔واللہ اب شہر نہیں ہے،کمپ ہے، چھاونی ہے۔ نہ قلعہ، نہ شہر، نہ بازار، نہ نہر۔ 12؎
چودھری عبد الغفور صاحب کو ایک خط میں دہلی کا حال یوں رقم کرتے ہیں:
یہاں شہر ڈھ رہا ہے۔ بڑے بڑے نامی بازار، خاص بازار اور اردو بازاراور خانم کا بازار کہ ہر ایک بجائے خود ایک قصبہ تھا، اب پتا بھی نہیں کہ کہاں تھے؟ صاحبان امکنہ اور دکاکین نہیں بتا سکتے کہ ہمارا مکان کہاں تھا اور دوکان کہاں تھی؟ 13؎
نواب انور الدولہ سعد الدین بہادر خاں شفق کولکھے خط میں بھی غالب نے دہلی کی تباہی اور قلعہ معلی کی ویرانی کو بیان کیا ہے۔ دہلی اور قلعے کی عمارتیں، حویلیوں کے ڈھانے کا ذکر اور اس دار البقا کا دار الفنا میں تبدیل ہو جانے کا استعارہ غالب کے ذہن کی وہ ساری کہانی بیان کر دیتے ہیں جو بین السطور میں متن کے ساتھ ساتھ سفر کرتی ہیں:
حضرت انہدام مساکن و مساجد کا حال کیاگزارش کروں؟ بانی شہر کو وہ اہتمام مکانات کے بنانے میں نہ ہوگا جو اب والیان ملک کوڈھانے میں ہے۔ اللہ اللہ۔ قلعے میں اکثر اور شہر میں بعض وہ شاہجہانی عمارتیں ڈھائی گئی ہیں کہ کدال ٹوٹ ٹوٹ گئے ہیں، بلکہ قلعے میں تو ان آلات سے کام نہ نکلا۔ سرنگیں کھودی گئیں اور بارود بچھائی گئی اور مکانات سنگین اڑادیے گئے۔ 14؎
جامع مسجد کے گرد پچیس پچیس فٹ گول میدان نکلے گا۔ دکانیں، حویلیاں ڈھائی جائیں گی۔‘‘دار البقا’’فنا ہوجائے گی۔ رہے نام اللہ کا۔ خان چند کا کوچہ، شاہ بولا کے بڑ تک ڈہے گا۔ دونوں طرف سے پھاوڑہ چل رہا ہے۔ باقی خیر و عافیت ہے۔ 15؎
نواب حسین مرزا کو رقم کیے گیے ایک خط کے ذریعہ یہ معلوم ہوتاہے کہ کس طرح انگریزوں نے دلی کی کوٹھیوں اور محلوں پر قبضہ جما لیا اور انہیں اپنے رنگ میں رنگنے لگے۔ کیا بادشاہ اور کیا عوام کسی کی ملکیت محفوظ نہیں تھی۔یہ خطوط غالب کے وہ بیانات ہیں جو ’’دستنبو‘‘ میں مصلحت کی نذر ہو گئے تھے، لیکن یہاں غالب حقیقت حال سے آہستہ آہستہ پردہ اٹھاتے نظر آتے ہیں:
مکانات کو حامد علی خاں کا کیوں کر لکھتے ہو؟ وہ تو مدت سے ضبط ہو کر سرکار کامال ہوگیا۔ باغ کی صورت بدل گئی تھی۔ محل سرا اور کوٹھی میں گورے رہتے تھے۔ اب پھاٹک اور سرتاسردکانیں گرادی گئیں۔ سنگ وخشت کو نیلام کر کے روپیہ داخل خزانہ ہوا۔ مگریہ نہ سمجھوکہ حامد علی خاںکے مکان کاعملہ بکاہے۔ سرکارنے اپنا مملوکہ و مقبوضہ ایک مکان ڈھا دیا۔ جب بادشاہ اودھ کی املاک کا وہ حال ہو تو رعیت کی املاک کو کون پوچھتا ہے؟۔۔۔۔ اب یوں سمجھ لوکہ نہ ہم کبھی کہیں کے رئیس تھے، نہ جاہ و حشم رکھتے تھے، نہ املاک رکھتے تھے، نہ پنسن رکھتے تھے۔ 16؎
ان تمام پریشانیوں اور آفات کے سبب جو نتیجہ سامنے آتا ہے،اس کا حال کچھ اس انداز کا دکھائی دیتا ہے کہ دل اور دلی کو ماتم کدہ بنا دیتا ہے۔اور ایک عجیب سی المیاتی فضا تشکیل دیتاہے:
شہر چپ چاپ، نہ کہیں پھاوڑا بجتا ہے، نہ سرنگ لگا کر کوئی مکان اڑایا جاتا ہے۔ نہ آہنی سڑک آتی ہے، نہ کہیں دمدمہ بنتا ہے۔ دلی شہر خموشاں ہے۔ 17؎
اس شہر خموشاں کی خاموشی کو غالب نے محسوس کیاہے اور اس کی سسکیوں کو اپنے کانوں سے سن کر اپنی تحریروں میں محفوظ کردیا ہے۔ خطوط غالب میں 1857 کے یہ حوالے تاریخی دستاویز ات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان دستاویزات کو یکجا کرنے پر شاہجہان آباد کی ویرانی کی داستان رقم ہوتی ہے۔ قلعہ معلی سے لے کر شہر کے گلی کوچے کی ایک نئی تعمیر غالب نے آپنی آنکھوںسے دیکھی تھی۔ یہ تعمیر پرانے نشانات کو مسمار کر کے اس جگہ پر ہو رہی تھی جس کی تعمیر میں مضمر تھی اک صورت خرابی کی۔ اس خرابی ٔ صورت نے دلی کانقشہ ہی بدل دیا تھا۔ گلی، کوچے، عمارتیں، کنویں سب کی تعمیر نو ہو رہی تھی۔ لیکن یہ تعمیر نو آبادکاروں کا دھوکا تھی۔غالب کی بوڑھی آنکھوں نے وہ مناظر دیکھے اور ان کا ماتم بھی کیا۔ یہ خوں آشام مناظر بیان کرتے ہوئے غالب کے لہجہ میں ایک جھلاہٹ کی کیفیت بھی دکھائی دیتی ہے۔ نواب یوسف مرزا کو 1859 کے ایک خط میں غالب دہلی کا حال یوں لکھتے ہیں:
آغا باقر کا امام باڑہ اس سے علاوہ کہ خداوند کا عزا خانہ ہے، ایک بناے قدیم رفیع مشہور۔ اس کے انہدام کا غم کس کو نہ ہوگا؟ یہاں دو سڑکیں دوڑتی پھرتی ہیں۔ ایک ٹھنڈی سڑک اور ایک آہنی سڑک۔ محل ان کا الگ الگ۔ اس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ گوروں کا پارک بھی شہر میں بنے گا اور قلعے کے آگے، جہاں لال ڈگی ہے، ایک میدان نکالا جائے گا۔ محبوب دکانیں، بھیلیوں کے گھر، فیل خانہ، بلاقی بیگم کے کوچہ سے خاص بازار تک، یہ سب میدان ہوجائے گا۔ یوںسمجھوکہ اموجان کے دروازے سے قلعہ کی خندق تک سوائیلال ڈگی اور دو چار کنووں کے آثارعمارت باقی نہ رہیں گے۔ آج جانثار خاں کے چھتّے کے مکان ڈھنے شروع ہوگئے ہیں۔ کیوں میں دلی کی ویرانی سے خوش نہ ہوں؟ جب اہل شہر ہی نہ رہے، شہر کو لے کے کیا چولھے میں ڈالوں؟ 18؎
ایک طرف دلی کے اجاڑپن کی بات تھی تو دوسری طرف نئے نظام حکومت اور حاکموں کی محتاجی تھی۔ پنشن کی صورت میں حاکم وقت کی نظر عنایت کا منتظر۔ جس کے سہارے غالب کی بقیہ زندگی گزرنے والی تھی۔اس کی ذمہ داری حکومت کے سر تھی۔ ایسی صورت میں غالب حکومت کے خلاف زبان پر کوئی حرف نہ لا سکتے تھے۔یہ حرف شکایت انہیں باغیوں کی صف میں شامل کر سکتا تھا اور غالب نے اپنی ننگی آنکھوں سے باغیوں کا حشر دیکھ رکھا تھا۔ وہ غالب جو نہ فوجی تھا نہ جان فروش، اس کے پاس مصالحت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ بایں ہمہ اس نے وقت اور حکومت سے مصالحت کرلی، جیسا کہ دستنبو کے ضمن میں بیان کیا گیاہے۔لیکن اس کے خطوط کے متن اور بین المتون میں اس کا غم و غصہ کبھی قومی سطح پر تو کبھی ذاتی بنیادوں پر اجاگر ہوتا رہاہے۔ خطوط غالب میں 1857 کے اہم موضوعات میں غالب کی ذاتیات کے پہلو بھی اہم ہیں۔ غالب کو پیش آنے والی ذاتی پریشانیاں اور مشکلات جو ہمیں خطوط کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں، غالب کی سوانح عمری کو مکمل کرتی ہیں۔1857 کے جلو میں غالب کا یہ ذاتی المیہ بھی ظہور پذیر ہوتا ہے۔
غالب کا ذاتی المیہ ان کے مالی بحران، گزران زندگی اور کشیدہ حالات کا ایک اہم سبب 1857 کا سانحہ تھا۔حکومت برطانیہ کی طرف سے ملنے والا وظیفہ جس کے لیے غالب نے کلکتہ تک کاسفرکیا تھا،1857کے سبب التوا میں پڑ گیا۔ غالب پر باغیوں کا ساتھ دینے کا الزام لگا۔ برطانوی حکام کے یہاں سے رسوائی ہاتھ آئی اور انھیں مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ پریشانیاں ایک غالب کی ذات تک ہی محدود نہیں تھیں بلکہ اس کی ذات سے وابستہ کئی زندگیوں کا سوال تھا جو غالب کے ساتھ ساتھ سفر کر رہی تھیں۔ غالب اپنے ایک خط میں رقم کرتے ہیں:
بھائی! میرا حال یہ ہے کہ دفتر شاہی میں میرا نام مندرج نہیں نکلا۔ کسی مخبر نے بہ نسبت میرے کوئی خبر بد خواہی کی نہیں دی۔ حکام وقت میرا ہونا شہر میں جانتے ہیں۔ فراری نہیں ہوں، روپوش نہیں ہوں، بلایا نہیں گیا ہوں، دارو گیر سے محفوظ ہوں۔ 19؎
غالب کے اس بیان سے متعلق خلیق انجم صاحب نے جو حاشیہ آرائی کی ہے، وہ بھی قابل دید ہے۔ خلیق صاحب کا کہنا ہے کہ غالب کایہ بیان کہ انھیں غدر سے متعلق کسی قسم کی باز پرس کے لئے برطانوی حکومت کی طرف سے نہیں طلب کیا گیا اور نہ مخبر نے کوئی خبر بد خواہی کی دی، سراسر غلط ہے۔ان کے تحشیہ کی عبارت یوں یہ ہے:
غالب کا یہ بیان درست نہیں کہ غدر کے دوران انھوں نے فتنہ و آشوب میں کسی مصلحت میں دخل نہیں دیا۔ غالب غدر کے دوران کئی بار نہ صرف دربار میں حاضر ہوئے بلکہ انھوں نے کم سے کم تین قصیدے بہادر شاہ ظفر کی خدمت میں پیش کیے۔ ان کا یہ خیال غلط ثابت ہوا کہ ان کے خلاف‘مخبروں کے بیان سے کوئی بات پائی نہیں گئی۔’ایک جاسوس گوری شنکر نے 19 جولائی1857کو انگریزوں کو اطلاع دی تھی کہ غالب نے ایک سکہ کہہ کر ظفر کی نذر کیا ہے۔ گوری شنکر کی اس رپورٹ نے غالب کو کافی پریشانی میں مبتلا کیا تھا۔ 20؎
خلیق صاحب نے اس سلسلہ میں ’’غالب اور شاہان تیموریہ‘‘ کو اپنا مرجع بنایا ہے۔ لیکن اگر غالب کے خطوط کا ہی مطالعہ بہ نظر غائر کیا جائے تو ہمیں اس میں کئی ایسے حوالے ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب کو1857 کے بعد کیا کیا اور کیسی کیسی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ غالب پر الزامات بھی لگائے گئے۔ان سے حکومت نے قطع تعلق بھی کیا اور غالب نے اپنی صفائی بھی پیش کی۔ اپنے ایک خط میں حکیم غلام نجف خاں کو ڈپٹی کمشنر کے یہاں اپنی طلبی کا معاملہ یوں لکھتے ہیں:
مجھ کو ڈپٹی کمشنر نے بلا بھیجاتھا۔ صرف اتنا ہی پوچھا کہ غدر میں تم کہاں تھے؟ جو مناسب ہوا، وہ کہا گیا۔ دو ایک خط آمد ولایت میں نے پڑھائے،تفصیل لکھ نہیںسکتا۔ 21؎
ان اقتباسات سے یہ واضح ہوتاہے کہ1857 کے جنگ کی پاداش میں غالب کو مالی و ذہنی اذیت سے دوچار ہونا پڑا۔ حکومت برطانیہ کی جانب سے وظیفہ موقوف کردیا گیا۔ جس کے سبب زندگی خطر میں پڑ گئی۔ 1857 کے شروعاتی مہینوں میں غالب کو اس پریشانی کا علم نہیں تھا۔ بایں وجہ غالب نے اپنے ایک خط میں لکھا کہ نہ انھیں کہیں طلب کیا گیا اور نہ ہی کسی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اصل معاملہ واضح ہوتا گیا۔ غالب کی پریشانی بڑھتی چلی گئی۔ حتی کے جنگ کے کئی سالوں بعد تک انہیں اپنی پنشن کے لئے تگ و دو کرنی پڑی۔ اور بالآخر پنشن حاصل بھی ہوئی تو پہلے کی بہ نسبت کم ہوتی چلی گئی۔ اس پر بھی تسلسل قائم نہیں رہا۔ پہلے ماہ بہ ماہ ملتی تھی۔ 1857 کے بعد ششماہی کی صورت میں ملنے لگی اور جنگ کے دوران تو سرے سے موقوف ہی ہو گئی۔ اس دوران غالب کو اپنے دوست، احباب اور شاگردوں سے مدد حاصل رہی۔ کتنے قرض لئے اور قرض کے بوجھ تلے غالب کی زندگی گھٹتی چلی گئی۔ غالب کے اس ذاتی المیہ کے کئی حوالے ان کے خطوط میں ملتے ہیں۔ ان میں محض مالی بحران کا ہی المیہ نہیں ہے۔اس میں ایک تخلیق کارکا المیہ بھی شامل حال ہے۔ ایک تخلیق کار کے لیے سب سے بڑا المیہ اس کے ذہن کے سوتے کا خشک ہو جانا ہے۔ 1857 کے بعد سے غالب کاذہن ماؤف ہونے لگتا ہے۔ایک طرف توعمر کاتقاضہ تھا، دوسری طرف گھریلو پریشانیاں۔ اس کشاکش میں غالب کی تخلیقیت دم توڑ رہی تھی۔یہی سبب ہے کہ1857 غالب کا شعری تجربہ نہیں بن سکا۔ اس کا احساس غالب کو بہت شدت سے تھا۔1857 کے بعد ایک دو مرتبہ ہی نہیں کئی دفعہ انھوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ ان کا ذوق شعر باطل ہو گیا ہے یا وہ پہلے کی طرح شعر کہنے پر قادر نہیں رہ گئے ہیں۔ مرزا ہر گوپال تفتہ، نواب علاالدین احمد خاں علائی، چودھری عبد الغفور سرور اور کلب علی خاں کو رقم کیے گئے اپنے متعدد خطوط میں غالب اس پر افسوس کااظہار کرتے ہیں۔ 1857 کے بعد غالب نے بہت کم شاعری کی ہے۔ اپنے ایک خط میں وہ اس کا اعتراف ان الفاظ میں کرتے دکھائی دیتے ہیں:
اس فتنہ و فساد کے بعد ایک قصیدہ یہ جو‘دستنبو’میں ہے اور ایک قصیدہ نواب لفٹنٹ گورنر بہادر غرب و شمال کی مدح میں اور ایک قصیدہ نواب لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب کی مدح میں اور دو بیت کا ایک قطعہ اور ایک رباعی، اس نظم کے سوا اگر کچھ لکھا ہو تومجھ سے قسم لیجیے۔ 22؎
غدر کے بعد غالب کی کل جمع پونچی یہی چند چیزیں ٹھہرتی ہیں جن کا ذکر غالب نے مذکورہ اقتباس میں کیا ہے۔ ایک طرف تو یہ صورت حال تھی اور دوسری طرف غالب کی عمرکا تمام سرمایہ جو اس کی تخلیق کی صورت میں ان کے دوست نواب ضیا الدین خاں اور نواب ناظر حسین مرزا کے پاس جمع تھے، وہ سب کے سب غدر میں تلف ہو گئے۔ غالب کو اپنے کلام کے تلف ہوجانے کا بڑا صدمہ تھا۔ انھوں نے اس بات کا ذکر اپنے کئی خطوط میں کیا ہے۔ ایک شاعر و ادیب کا سب سے بڑا سرمایہ اس کی تخلیق ہے۔ اس کی تخلیقات کا گم یا تلف ہو جانا اس کے لئے سب سے بڑا المیہ ہے۔ میر مہدی مجروح کو لکھے ایک خط میں اس اپنے دردکا اظہار غالب ان الفاظ میں کرتے ہیں:
بندہ پرور! میرا کلام، کیا نظم، کیا نثر، کیا اردو،کیا فارسی، کبھی کسی عہد میں میریپاس فراہم نہیں ہوا۔ دو چار دوستوں کو اس کا التزام تھا کہ وہ مسودات مجھ سے لے کر جمع کر لیا کرتے تھے۔ سو ان کے لاکھوں روپیے کے گھر لٹ گئے، جس میں ہزاروں روپیے کے کتاب خانے بھی گئے۔ اس میں وہ مجموعہ ہائے پریشاں بھی غارت ہوئے۔ میں خود اس مثنوی کے واسطے خون در جگر ہوں۔ ہائے کیا چیزتھی۔ 23؎
1857 کے زاویہ سے خطوط غالب کا تیسرا اہم عنصر دوست و احباب، رشتہ داروں اور شناساؤں کے بچھڑ نے کا غم ہے۔ اس معاملہ میں بھی غالب بد قسمت واقع ہوا ہے۔ اس نے غدر میں دل اور دلی کی بربادی کے ساتھ اپنے جگر گوشوں کی جدائی کاغم بھی بر داشت کیا ہے۔ ایک ایک کر کے وہ لوگ راہ اجل کو روانہ کردیئے گئے۔ کسی کو پھانسی دی گئی، کوئی قید میں ڈال دیاگیا۔ کتنے جلاوطن ہوئے،اور کتنے انگریزوںسے مقابلہ میں شہید ہوئے۔ کتنے امرا و شرفا کی املاک ضبط کی گئی اوربہتوں کی اور نہ جانے کتنوں کی اولادیں دھول پھانکتی ہوئی نظر آئیں۔ غالب چپ تماشائی بنا ان خوں آشام مناظر کو دیکھتا رہا۔ آخر وہ کر بھی کیا سکتا تھا؟ ’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘ وقت کی ڈور اس کے ہاتھ میں نہیں تھی۔ اس کا ذہن و دماغ ماؤف ہوگیاتھا۔ اس کی حالت’’حیراں ہوں دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کومیں‘‘کی مصداق تھی۔ غموں کا یہ انباراور ضعیفی کا عالم ایسی صورت میں زندگی کرنا دشوار کن ثابت ہوتا ہے۔ غالب ایسا سخت جان واقع ہوا تھا کے وہ اس بلائے جان سے بھی گزر گیا۔لیکن اس دورانیہ میں اس کی جو حالت ہوئی وہ یا تو خود سمجھ سکتا تھا یا اس کا خدا:
میرا حال سوائے میرے خدا اور خداوند کے کوئی نہیں جانتا۔ آدمی کثرت غم سے سودائی ہو جاتے ہیں۔ عقل جاتی رہتی ہے۔اگر اس ہجوم غم میں میری قوت متفکرہ میں فرق آگیا ہو تو کیا عجب ہے بلکہ اس کا باور نہ کرنا غضب ہے۔ پوچھو کہ غم کیا ہے؟ غم مرگ، غم فراق، غم رزق، غم عزت، غم مرگ میں قلعہ? نامبارک سے قطع نظر کرکے اہل شہر کو گنتا ہوں۔ مظفر الدولہ، میر ناصر الدین، مرزا عاشور بیگ میرا بھانجا، اس کا بیٹا احمد مرزا انیس برس کا بچہ، مصطفے خاں ابن اعظم الدولہ،اس کے دو بیٹے ارتضی خاں اور مرتضی خاں۔ قاضی فیض اللہ۔ کیا میں ان کو اپنے عزیزوں کے برابر نہیں جانتا… سجاد اور اکبر کا جب تصور کرتا ہوں، کلیجا ٹکڑے ٹکڑے ہوتا ہے۔ کہنے کو ہر کوئی ایسا کہہ سکتا ہے۔ مگر میں علی کو گواہ کرکے کہتا ہوں کہ ان اموات کے غم میں اور زندوں کے فراق میں عالم میری نظر میں تیرہ و تار ہے۔24؎
’’خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہا ہوگئیں‘‘ غدر نے دہلی اور باشندگان دہلی کو تخت و تاراج کردیا تھا۔ کیسے کیسے چندے آفتاب و چندے مہتاب چہرے خاک آلودہ پھرے۔ کل جو صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے آج ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔ جن کی املاک ہزاروں اور لاکھوں کی تھی وہ پائی پائی کے محتاج تھے۔ جھجر، بہادر گڑھ، بلب گڑھ، فرخ نگر وغیرہ کی لاکھوںکی ملکیت کی ریاستیں مٹ گئیں۔ ریاستوں کے زمین دار برباد ہوگئے۔ غالب ان کا عینی شاہد تھا۔ وہ محض اس بات سے پریشان نہ تھا کہ اپنے ہندوستانی احباب کی موت پر آنسو بہائے۔ غالب انسانیت پرست تھا۔ اس کے حلقہ احباب میں ہندوستانیوں کے علاوہ انگریزوںکی تعداد بھی خاطرخواہ تھی۔ وہ علم کا قدر داں تھا، انسانیت کا ہمدرد تھا۔ اس کے حلقہ ارادت میں جو بھی تھے وہ سب اس کے اپنے تھے۔غالب ایک ایسی شخصیت کا مالک تھا جس کو کسی سے بیر نہیں تھا۔ اس کے خیرخواہوں اور پرستاروں کی کوئی کمی نہیں تھی۔ اس کے مراسم ہندوستانیوںکے ساتھ ساتھ انگریزوںسے بھی تھے۔ ایک طرف وہ مغلیہ دربار سے وابستہ رہا تو دوسری طرف انگریز ی حکومت میں بھی باریابی پانے کی جدو جہد میں پریشان رہا۔ پنشن کے متعلق اس کے انگریزوں سے مراسم رہے۔ادبی اور ذاتی بنیادوں پر بھی اس کے کئی انگریزوں سے تعلقات تھے۔ اس غدر نے غالب سے اس کے چاہنے والے چھین لئے، جس کا صدمہ غالب کو تا دم حیات رہا۔ اور یہ ہونا ہی تھا۔اپنوں کو کھونے کا غم بڑا شدید ہوتا ہے۔ غالب نے یک بارگی رشتہ داراور دوست و احباب سب کو کھویا تھا۔ ایسی صورت میں وہ کیوں نہ غمگین ہو۔ کیوں نہ واویلا کرے، کیوں نہ خون کے آنسو بہائے:
یہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں، جو دکھ مجھ کو ہے اس کا بیان تو معلوم، مگر اس بیان کی طرف اشارہ کرتا ہوں: انگریز کی قوم میں سے،جو ان روسیاہ کالوں کی ہاتھ سے قتل ہوئے، اس میں کوئی میراا مید گاہ تھا اور کوئی میرا شفیق اور کوئی میرا دوست اور کوئی میرا یار اور کوئی میرا شاگرد۔ ہندوستانیوں میں کچھ عزیز، کچھ دوست، کچھ شاگرد، کچھ معشوق، سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے۔ ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہوتا ہے، جو اتنے عزیزوں کا ماتم دار ہو، اس کو زیست کیوں کر نہ دشوار ہو۔ ہائے! اتنے یار مرے کہ جو اب میں مروں گا، تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا۔ 25؎
کسی کا ماتم دار ہونا اوراپنے ماتم دار کے ہونے کا احساس ہونا، انسان کو ایک عجیب قسم کا سکون مرحمت کرتا ہے۔انسان کو اس بات سے خاصہ اطمینان حاصل ہوتا ہے کہ اس کے مرنے کے بعد اسے یاد کرکے کوئی رونے والا ہے۔ اس کی اچھائیوں کا ذکر کرکے اس کی یادوں کو سنجو کر رکھنے والے کے لیے انسان آخر عمر میں پریشان دکھائی دیتاہے۔ ایسی صورت میں اس کی آل اولاد ہی اس کا سہارااور باعث سکون ہوتی ہیں۔ غالب جو پوری زندگی بے اولاد رہا۔ اس کی اپنی اولادیں جن کی تعداد بقول غالب سات تھی، سب کی سب پیدائش کے بعد محض پندرہ مہینے کے اندر اندراس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔بایں ہمہ غالب کے لیے تو بس دوست یار ہی ماتم دار ہو سکتے تھے لیکن قدرت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ وہ بھی خاصی تعداد میں اس غدر کی نظر ہوگئے۔ جس کا ذکر غالب نے مذکورہ اقتباس میں اور دیگر کئی خطوط میں کیا ہے۔’’ہائے! اتنے یار مرے کہ جو اب میں مروں گا، تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا۔‘‘ غالب کے اس جملہ میں اس کا تاسف جھلکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
غالب کے انگریزوں سے مراسم کا معاملہ اس طر ح بھی خطوط میں دکھائی پڑتا ہے جہاں انہیں کتابیں دینے اور ان کی شان میں قصیدے رقم کرنے کا بیان ہے۔لفٹنٹ گورنر، کمشنر بہادر، چیف سکریٹری، گورنر جنرل بہادر کی شان میں غالب نے کئی قصیدے رقم کئے، اپنی کتابیں نذر کیں۔ ملکہ وکٹوریہ کی شان میں بھی غالب نے قصیدہ رقم کیا۔ ان کا ذکر غالب نے اپنے خطوط میں کئی مقامات پرکیا ہے۔اپنے ان چاہنے والوں سے حاصل ہونے والے القاب، اورقدر شناسی نے غالب کو اپنا گرویدہ کر لیا تھا۔ ایک جگہ اس کا ذکر یوں کرتے ہیں: ’’جب جناب لارڈکیننگ بہادر نے کرسی گورنری پر اجلاس فرمایاتو میں نے موافق دستور کے قصیدے ڈاک میں بھجوایا۔ اڈمنسٹن صاحب بہادر چیف سکرتر کا جو مجھ کو خط آیا تو انھوں نے باوجود عدم سابقہ معرفت میرا القاب بڑھایا۔ قبل ازیں’’خاں صاحب مشفق بسیار مہربان مخلصانہ‘‘لکھا۔ اب فرمایئے، ان کو کیوں کر اپنا محسن اور مربی نہ جانوں؟ کیا کافر ہوں جو احسان نہ مانوں؟‘‘26؎
1857 اور دہلی کے زاویے سے بیان غالب کا بین السطوری مطالعہ اس بات کی جانب توجہ دلاتا ہے کہ غالب مصلحت اندیش تو ضرور ہے لیکن انگریزوں کا پرستار نہیں ہے۔ اس نے 1857 کے متعلق اپنی تحریروں میں ایسے اشارات پیش کئے ہیں جن کی تفہیم غالب کی دلی اور دل کے المیہ کی روداد بن گئی ہے جس سے غالب کی شخصیت اور فکر کے متعدد زاویے سامنے آتے ہیں۔ 1857 کے متعلق بیان غالب کے نشانات ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گے اور ان کی قرآت سے ہمارے لیے آج بھی کئی پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔ لیکن قاری کے لیے ان کی قرأت کے دورانیہ میں بین السطور کی چیزیں سمجھنے کی صلاحیت ہونی ضروری ہے۔ مزید ان اشارات و کنایے کی تفہیم بھی ضروری ہے جس کو غالب بیان کی گرفت میں لانے سے قاصر رہے ہیں۔اس حیثیت سے بیان غالب کی اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

حواشی
1 دستنبو،غالب، اسد اللہ خاں، باہتمام عبد الشکور احسن،لاہور: مطبوعات مجلس یاد گار غالب، پنجاب یونیورسٹی، 1969، ص: 49
2 ایضا، دیباچہ، ص:15
3 دستنبو،مترجم خواجہ احمد فاروقی،نئی دہلی: ترقی اردو بیورو،2000، ص: 38
4 ایضا،ص:39
5 ایضا،ص:44
6 ایضا،ص:65
7 ایضاً،ص:60
8 غالب کے خطوط،ج اول، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص: 267
9 غالب کے خطوط،ج دوم، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص: 514
10 غالب کے خطوط،ج اول، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص: 384-383
11 غالب کے خطوط،ج اول، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص:500
12 غالب کے خطوط،ج دوم، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص: 525
13 ایضا، ص:607
14 غالب کے خطوط،ج سوم، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص:994
15 غالب کے خطوط،ج دوم، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص: 513
16 ایضا، ص:682
17 ایضا،ص: 533
18 ایضا، ص:772
19 غالب کے خطوط،ج اول، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص: 269
20 ایضاً، ص: 458
21 غالب کے خطوط،ج دوم، مرتبہ خلیق انجم، نئی دہلی: غالب انسٹی ٹیوٹ،2011، ص:628
22 ایضا، ص:601
23 ایضاً، ص:600
24 ایضاً،ص:776-775
25 ایضا، ص:281
26 ایضا،ص:705


Dr. Zeyaullah
Department of Urdu
Magadh University, Bodh Gaya
(Bihar)
Pin-824234
Mob.:8447416234

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

اردو لغت نویسی کا تاریخی پس منظر،مضمون نگار:مسعود ہاشمی

لغت نویسی، یعنی الفاظ کے تحفظ اور ان کی تشریح و توضیح کے پس پشت کبھی مذہب کار فرما رہا ہے تو کبھی سیاست! اس سلسلے میں کبھی کبھی ادب

غالب خستہ کے بغیر …مضمون نگار:قدوس جاوید

تلخیص دراصل غالب کی’ عصری معنویت ‘کی تفہیم و تعبیر کے لیے غالب کے دور اور عہد حاضر کو ایک صفحے پر رکھ کر غالب کی نئی قرات لازمی ہے۔

سفینۃ الاولیاء‘ کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ،مضمون نگار:محشر کمال

تلخیص سفینۃالاولیاء تذکرہ نویسی کے فن میں محمدداراشکوہ کی ایک شاہکار تصنیف ہے۔ اس تذکرے میں مجموعی طور پر 416 اولیائے کرام کے تذکرے ہیں۔ ان میں مصنف نے بغیر