پریس ریلیز
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور شعبۂ اردو، پٹنہ کالج، پٹنہ کے باہمی اشتراک سے یک روزہ سمینار بعنوان ’بہار کی علاقائی زبانوں سے اردو کا رشتہ‘ پٹنہ کالج کے تاریخی سمینار ہال میں منعقد ہوا جس میں ماہرینِ ادب، اساتذہ، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت معروف ادیب و ناقد پروفیسر اعجاز علی ارشد نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے کہا کہ اردو زبان کو وسعت دینے کے لیے ہمیں عربی و فارسی کے ساتھ دیگر زبانوں سے بھی الفاظ اخذ کرنے چاہئیں، انھوں نے اردو کو محبت، سیاست اور انقلاب کی زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بہار کی علاقائی زبانوں کے ساتھ اردو کا رشتہ نہایت گہرا اور فطری ہے، اور یہ رشتہ صدیوں کے لسانی و تہذیبی تعامل کا نتیجہ ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر ہم ان زبانوں کے باہمی تعلق کو سمجھیں تو اردو کے دائرے کو مزید مضبوط اور وسیع بنا سکتے ہیں۔
قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ڈائرکٹر ڈاکٹر شمس اقبال نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے کہا کہ عموماً اردو پر عربی و فارسی کے اثرات کی بات کی جاتی ہے، مگر علاقائی زبانوں کا اثر بھی اردو زبان پر اتنا ہی غیر معمولی ہے اس لیے علاقائی زبانوں کے ساتھ اردو کے رشتے کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ لسانی ہم آہنگی اور باہمی اشتراک کے بغیر زبانوں کی ترقی ممکن نہیں، اور ہمیں بغیر کسی امتیاز کے تمام زبانوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ انھوں نے نئی تعلیمی پالیسی (NEP-2020)اور انڈین نالج سسٹم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مادری زبانوں اور علاقائی زبانوں کو فروغ دینا دراصل علمی ترقی کی بنیاد ہے۔
کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے ممتاز مؤرخ پروفیسر امتیاز احمد (سابق ڈائرکٹر، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری) نے کہا کہ بہار میں میتھلی، مگہی اور دیگر علاقائی زبانوں نے اردو کو مالا مال کیا ہے اور اردو نے بھی انھیں بہت کچھ دیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ مختلف زبانوں سے ترجمے کے عمل کو فروغ دینا چاہیے تاکہ ہم ایک دوسرے کے ادب اور تہذیب سے واقف ہو سکیں۔انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لسانی و ادبی تبادلہ ہی علم کے دائرے کو وسیع کرتا ہے۔
مہمانِ خصوصی ڈاکٹر خالد انور (ممبر آف لیجسلیٹو کونسل، بہار) نے کہا کہ زبانوں کے باہمی لین دین پر سنجیدہ گفتگو ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ زبانوں کو الگ تھلگ رکھ کر ترقی ممکن نہیں، بلکہ کھلے ذہن کے ساتھ ہر زبان کے ادب کا استقبال کرنا ہوگا۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر انل کمار (پرنسپل، پٹنہ کالج) نے کہا کہ اردو ایک نہایت شیریں اور دلکش زبان ہے، جسے سن کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس زبان کی مٹھاس اور تہذیبی رنگ اسے دوسری زبانوں سے ممتاز بناتے ہیں۔
مہمانِ اعزازی ڈاکٹر اظفر شمسی (ممبر، بہار اسٹیٹ مائنارٹی کمیشن و پرنسپل، ڈی ایس ایم کالج، جھاجھا) نے کہا کہ اردو کے فروغ کے لیے زمینی سطح پر سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔انھوں نے قومی کونسل کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے اردو کے مستقبل کے لیے امید کی کرن ہیں۔
جناب پرمود کمار سنگھ (سب ایڈیٹر، دینک جاگرن) نے کہا کہ زبانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کے بجائے انھیں قریب لانے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ لسانی ہم آہنگی ہی ایک مضبوط اور متحد معاشرے کی بنیاد ہے۔
افتتاحی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر شاداب شمیم نے کی، جبکہ استقبالیہ کلمات ڈاکٹر نعمان قیصر نے پیش کیے اور کلماتِ تشکر ڈاکٹر بالمیکی رام نے ادا کیے۔
سمینار کا پہلا تکنیکی سیشن ’بھوجپوری اور انگیکا کا اردو سے رشتہ‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کی صدارت جناب مشتاق احمد نوری نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ بہار کی زبانیں اپنی زرخیزی اور وسعت کے اعتبار سے نہایت اہم ہیں۔ انھوں نے میتھلی کو ایک زرخیز اور ادبی اعتبار سے مضبوط زبان قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھوجپوری اگرچہ کثیر تعداد میں بولی جاتی ہے، مگر اس میں ادبی کام کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔انھوں نے بہار کی مختلف بولیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام زبانیں اردو کے ساتھ مضبوط رشتہ رکھتی ہیں۔
مہمانِ اعزازی ڈاکٹر محمد احسن (ریجنل ڈائرکٹر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، بھوپال) نے کہا کہ کسی بھی زبان کو زندہ رکھنے کے لیے اسے تعلیم سے جوڑنا ضروری ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اردو کے سمیناروں میں دیگر زبانوں اور علوم کو بھی شامل کرنا چاہیے تاکہ ایک جامع علمی ماحول پیدا ہو۔
اس سیشن میں ڈاکٹر نسیم احمد نسیم، ڈاکٹر آفتاب احمد منیری، ڈاکٹر عبدالباسط حمیدی، ڈاکٹر منہاج الدین، ڈاکٹر شبنم پروین اور ڈاکٹر شبیر عالم نے مقالے پیش کیے ۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر نعمان قیصر نے انجام دیے۔
دوسرا تکنیکی سیشن ’میتھلی اور مگہی کا اردو سے رشتہ‘ کے عنوان سے منعقد ہوا، جس کی صدارت پروفیسر ابوبکر رضوی (رجسٹرار، پاٹلی پترا یونیورسٹی) نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ میتھلی اور مگہی جیسی زبانیں اردو کے لسانی سرمائے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ان کے باہمی تعلق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ زبانیں صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں اور ان کا اشتراک ہماری مشترکہ تہذیب کی عکاسی کرتا ہے۔
مہمانِ اعزازی پروفیسر سورج دیو سنگھ (صدر شعبۂ اردو، پٹنہ یونیورسٹی) نے کہا کہ اردو اور علاقائی زبانوں کے درمیان تعلق کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ لسانی ہم آہنگی علمی ترقی کی بنیاد ہے۔
جناب محمد افضل (ممبر آف گورننگ کونسل ،این سی پی یو ایل) نے کہا کہ ہمیں حکومت ہند اور وزیر تعلیم کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ انھوں نے یہ موقع فراہم کیا جس کی وجہ سے ہم بہار کی علاقائی زبانوں سے اردو کا رشتہ پر گفتگو کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ اس طرح کے موضوعات پر بات کرنے سے دوسری زبانوں کے لوگ بھی اردو سے واقف ہوں گے اور یقیناً اس سے اردو زبان کا فروغ بھی ہوگا۔
اس سیشن میں ڈاکٹر نثار فیضی، ڈاکٹر عطا عابدی، ڈاکٹر زرنگار یاسمین، ڈاکٹر عبد الحی، ڈاکٹر اشہد کریم الفت اور ڈاکٹر نرجس فاطمہ نے مقالات پیش کیے۔
یہ سمینار مفید علمی و ادبی مباحث، مکالمے اور فکری تبادلے کے ساتھ کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس نے اردو اور بہار کی علاقائی زبانوں کے باہمی رشتے کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا۔
اس موقع پر صف سامعین میں ڈاکٹر ریحان غنی، پروفیسر عبدالواحد انصاری، پروفیسر صفدر امام قادری، پروفیسر جاوید حیات، ڈاکٹر افضل حسین، ڈاکٹر شہاب الدین، ڈاکٹر افشاں بانو، ڈاکٹر صبوحی عشرت، ڈاکٹر ا سنیہ لتا، ڈاکٹر شویتا کماری، ڈاکٹر سدھارتھ، ڈاکٹر اویناش، ڈاکٹر سمن کماری، ڈاکٹر نقی احمد جان اور ڈاکٹر انوارالہدیٰ، کے علاوہ سامعین کی بڑی تعداد موجود رہی۔
(رابطہ عامہ سیل)