تلخیص
یہ مضمون دراصل فارسی قصیدہ نگاری میں ہیئت، اسلوب اور موضوع کے تنوع کو دیکھنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ ہم اس بات کو تجزیاتی انداز میں بہتر طور پر سمجھ سکیں کہ اردو قصیدے نے ارتقا کی جو صورت اختیار کی ہے اس کے گہرے نقوش فارسی ادب میں پہلے سے موجود تھے۔ اردو قصائد میں مضامین و اسلوب کا جو طرز ہے اس کی بنیاد اگرچہ فارسی قصائد ہی ہیں، لیکن مثالوں کی مدد سے تجزیاتی اندازمیں اسے پیش کرنے سے گریز کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے اردو قصیدے پر فارسی قصائد کے رنگ واثرات نظروں سے پوشیدہ رہے۔ زیر مطالعہ مضمون انھی نکات کونمایاں کرتاہے اوراردو قصیدہ نگاری پر فارسی قصائدکے فکری وفنی اثرات کاتحقیقی وتجزیاتی مطالعہ پیش کرتاہے۔
کلیدی الفاظ
صنف، ہیئت، تشکیل، موضوع، خیال آفرینی، تعلّی، قصیدہ، روایت، امتیازات
————
قصیدے کی صنف— غزل ، مثنوی یارباعی کی طرح پہلے سے فارسی زبان میں موجود نہیں تھی۔ عربی شاعری کے اثرات جب فارسی زبان و ادب پر مرتب ہوئے تو قصیدے کی صنف بھی فارسی ادبیات میں شامل ہوگئی ۔ یہ صنف عربی زبان میں جن ہیئتی امتیازات ، ترتیب، اسلوب بیان اور موضوعی صفات کے ساتھ قائم تھی، کم و بیش انھیں اوصاف کے ساتھ فارسی شاعری میں منتقل ہوئی ۔ اس میں شک نہیں کہ فارسی شعرا نے اپنی تخلیقی قوت سے قصیدے کی صنف میں موضوع اور اظہار کے نئے امکانات پیدا کیے ۔ انھوں نے نہ صرف اس کی ظاہری ساخت میں اضافہ کیا بلکہ موضوع اور اظہار کی بہت سی نادر شکلیں بھی ایجاد کیں۔ قصیدے کی ہیئت میں فارسی شعرا نے جو اضافہ کیا اس کے متعلق ڈاکٹر ابو محمد سحرکی یہ بات قابل توجہ ہے کہ:
’’عربی کی قدیم شاعری ایسی نظموں پر مشتمل تھی جن کے پہلے شعر کے دونوں مصرعے اور بقیہ اشعار کے دوسرے مصرعے ہم قافیہ ہوتے تھے۔ ہیئت کے اعتبار سے یہی ایک صنفِ سخن تھی۔ مدح،ہجو اور مرثیہ وغیرہ کی تقسیم موضوع کی بنا پر تھی۔ ایران میں جب شاعری کا آغاز ہوا تو فارسی شعرا نے مدحیہ نظموں میں عربی شاعری کی اسی مروجہ ہیئت کو اپنایا۔ فرق بس اتنا ہوا کہ عربی میں صرف قافیہ تھا،فارسی شعرا نے اس پر ردیف کا اضافہ کردیا۔‘‘ 1؎
فارسی شاعروں نے قصیدے کے تشکیلی اجزا میں کوئی اضافہ نہیں کیا اور شاید یہ ممکن بھی نہیں تھا، اس لیے کہ یہ صنف عربی زبان میں اپنے تعمیری مراحل کے سارے امکانات طے کرنے کے بعد فارسی زبان میں داخل ہوئی۔ متاخرین عربی شعرا کی طرح فارسی شاعروں نے بھی اس صنف کو زیادہ تر بادشاہوں اور امرا کی مدح تک محدود رکھا۔ حالانکہ بعض قصائد میں مذہبی شخصیات کی مدح بھی ہے اور منقبت و نعتیہ مضامین بھی باندھے گئے ہیں۔ اس طرح دیکھیں تو جیسے عربی میں کسی بھی موضوع کے اظہار کے لیے صرف قصیدے کی ہیئت تھی ،کسی حد تک فارسی شاعروں نے بھی اس صنف میں موضوع کا یہ تنوع قائم رکھنے کی کوشش کی ہے اور یہی وجہ ہے کہ حمد، نعت، منقبت، پند و موعظت، رثائی مضامین ، شہروں کے متعلق شعرا کے جذباتی اظہار کی مثالیں اس صنف میں ملتی ہیں۔ البتہ خالص مدحیہ قصائد کے حوالے سے اس صنف سخن کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ تشبیب کے حصے میں شاعر کو موضوع کے انتخاب کی جو آزادی حاصل تھی اس سے فائدہ اٹھا کر فارسی قصیدہ نگاروں نے تشبیب کے حصے میں نئے نئے مضامین داخل کیے ہیں اور عربی شاعروں کی طرح انھوں نے بھی اپنے ماحول اور تہذیبی زندگی کے مختلف گوشوں کو فارسی قصیدے میں نظم کیا ہے۔
قصیدے کی صنفی تشکیل میں یوں تو اس کے سبھی اجزا (تشبیب، گریز، مدح، حسن طلب، دعا)کی اہمیت ہے لیکن فارسی کے بیشتر قصائد میں شعرا نے تشبیب، گریز، مدح ، دعا کے اجزاہی استعمال کیے ہیں۔ اور بعض قصیدے توصرف ’مدح ‘ اور ’دعا ‘پر ہی مشتمل ہیں ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فارسی شعرا نے اپنے قصائد میں اس صنف کے تمام اجزا کو یکساں طور پر پابندی کے ساتھ استعمال نہیں کیا ہے۔ لیکن یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ ان کے ذہن میں بطور صنف قصیدہ یہ تصورموجود تھا کہ ایک مخصوص ہیئت میں مدح کے مضامین کے بغیر قصیدے کی کوئی صنفی شناخت قائم نہیں ہوسکتی۔ قصیدے میں اس کے اجزا کے استعمال کی بنیاد پر ماہرین نے قصیدے کی دو قسمیں بیان کی ہیں۔ ڈاکٹر ابو محمد سحر لکھتے ہیں:
’’خارجی شکل کے اعتبار سے قصیدے کی دو قسمیں ہیں۔ایک تمہیدیہ اور دوسری خطابیہ۔ تمہیدیہ قصیدے میں تشبیب اور گریز کے اجزا ہوتے ہیں۔دراصل تشبیب، گریز، مدح اور دعا تمہید یہ قصیدے ہی کے اجزائے ترکیبی ہیں اور اسی کا زیادہ رواج تھا۔ خطابیہ قصیدے میں تشبیب اور گریز کے اجزا نہیں ہوتے بلکہ شروع ہی سے ممدوح کو خطاب کرکے تعریف کی جاتی ہے ۔ ‘‘2؎
قصیدے کی مذکورہ دو نوں قسموں کے وجود میں آنے کے اسباب اور ان کی فنی یا تہذیبی ضرورتوں پر قصیدے کے کسی نقاد نے کوئی روشنی نہیں ڈالی ہے۔ گمان ہے کہ یہ دونوں اقسام، شاعر کی طبیعت کی موزونیت یا پھر بادشاہ کی توجہ حاصل کرنے کی اغراض سے وجود میں آئیں۔ ایک اور چیز جو فارسی قصیدوں میں عام طور سے دکھائی دیتی ہے وہ یہ کہ ’مدح‘ کے مقابلے میں ’تشبیب‘ کا حصہ طویل ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں فارسی زبان کے معروف ادیب اور محقق پروفیسر نذیر احمد کا خیال ہے کہ ’’ اکثر شاعروں نے مدح کو بہانہ بناکر اپنا زور طبع قصیدے کی تشبیب پر صرف کیا ہے۔‘‘ 3؎ فارسی قصائد کے مطالعے سے پروفیسر نذیراحمد کی بات درست معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ فارسی قصیدہ نگاروں نے اپنی تخلیقی قوت کو جس قدر’تشبیب‘ کے حصے پر صرف کیاہے اس سے بہت کم توجہ ’مدح‘ پر کی ہے ۔ لیکن تشبیب کے حصے کو طول دینے کی یہ روایت ابتدائی فارسی شاعروں کے یہاں ہی نظر آتی ہے اور یہ ان کی کوئی طبع زاد اختراع نہیں ہے۔ ڈاکٹر ابو محمد سحر کی تحقیق کے مطابق فارسی شاعروں تک یہ روایت عربی قصائد کے ذریعہ پہنچتی ہے۔ لکھتے ہیں:
’’عربی میں بنو امیّہ کے زمانے میں تشبیب کا اس قدر رواج ہوگیا تھا کہ اس کے بغیر قصیدہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ رفتہ رفتہ اس رجحان نے یہاں تک ترقی کی تھی کہ تشبیب کے اشعار مدح کے اشعار سے کم ہونے لگے تھے۔‘‘4؎
قصیدے میں ’تشبیب‘ کے اشعار کا ’مدح‘ کے اشعار سے زیادہ ہونا فنی ضوابط کے لحاظ سے درست نہیں ہے 5؎ ۔ قصیدے کی بنیادی غرض و غایت ممدوح کی مدح سرائی ہے۔ لیکن اگر فارسی شعرا نے اپنے قصائد میں اس امر کے بر خلاف ’تشبیب‘ کے حصے کو اہمیت دی ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہی معلوم ہوتی ہے کہ مدحیہ مضامین کی یکسانیت سے نکل کر شاعر کو تشبیب کے حصے میں موضوع کے تنوع کے ساتھ اپنے تخلیقی اظہار کو پیش کرنے کاپورا موقع ملتا ہے ۔تشبیب میں مضمون کی پابندی نہ ہونے کے معنی یہ ہیں کہ شاعر مدحیہ مضامین کے مخصوص دائرے سے باہر نکل کر کسی بھی قسم کے مضمون کو نظم کر سکتا ہے جس میں روایت کی پابندی ضروری نہیں ۔ البتہ تخیل کی رفعت اور اظہار میں ندرت کی شرط اب بھی قائم رہتی ہے ۔ تشبیب کے مقابلے ’مدح‘ کے حصے میں شاعر کو مضامین کے انتخاب کی یہ آزادی حاصل نہیں ہوتی ۔اسے ممدوح کی تعریف میں انھی صفات کا ذکر کرنا ہوتا ہے جن کو روایتی طور پر ما قبل کے قصیدہ نگار بیان کرچکے ہیں۔یہاں شاعر کاتخیل بس اس قدر آزادہوتاہے کہ وہ ممدوح کی مخصوص صفات کو نئے فکری حوالوں کے ساتھ نظم کرسکتا ہے۔
فارسی شاعری میں ایک صنف سخن کے طور پر قصیدے کی اہمیت اور اس کے امتیازات کوفارسی ادب کے محقق نذیر احمد نے تفصیل سے بیان کیا ہے جن میں سے بعض اہم نکات درج ذیل ہیں:
1 اس صنف سخن کی وجہ سے فارسی شاعری کے موضوعات میں کافی اضافہ ہوا ہے ۔ سیاسی، سماجی، قومی، ملّی، اخلاقی، عرفانی، تاریخی ہر طرح کے مسائل قصیدے میں بیان ہوئے ہیں۔
2 شاعری کی یہی صنف ہے جس میں شعرا اپنی فنی، علمی اور ادبی صلاحیت کا اظہار کرتے ہیں۔ قصیدہ ہی وہ صنف ہے جس میں علوم و فنون کا سب سے زیادہ اظہار ملتا ہے۔
3 قصائد میں جتنا تنوع ہے اتنا تنوع کسی اور صنف سخن میں نہیں۔ فارسی شعرا کی ایک بیاض مونس الاحرار ہے۔ اس کا مصنف محمد شعیب بن بدرالدین جاجرمی ہے جس نے 741ھ میں یہ مجموعہ مرتب کیا۔ اس کی پہلی جلد تو محض قصائد پر مشتمل ہے اور دوسری جلد کا بھی بیشتر حصہ قصائد سے تعلق رکھتا ہے۔‘‘
نذیر احمد نے اس بیاض کے مندرجات کو اپنی کتاب ’’ فارسی قصیدہ نگاری ‘‘ میں نقل کیا ہے۔ نذیر صاحب کی اطلاع کے مطابق یہ بیاض اٹھائیس ابواب پر مشتمل ہے جن میں سے تیئس ابواب صرف قصیدے کی انواع /اقسام کے بارے میں ہیں۔ اس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ یہ صنف فارسی ادب میں کس قدر اہمیت کی حامل رہی ہے ۔
جاجرمی نے ابواب کی یہ تقسیم کہیں قصیدے کے موضوعات، کہیں اسلوب بیان اور کہیں قصیدے کے لیے استعمال ہونے والی مختلف ہیئتوں کی بنیاد پر کی ہے۔مثال کے طور پر چند ابواب کے عنوانات ذیل میں درج کیے جاتے ہیں:
باب اول: در توحید
باب دوم: در نعت
باب سوم: فی ذکرالحکمتہ والموعظتہ والنصیحتہ
باب چہارم: فی ذکر وصفیات
باب ہفتم: فی ذکر السوال و الجواب
باب ہشتم: فی ذکر التجنیسات
باب چہار دہم: فی ذکرالتشبیہات
باب پانزدہم: فی ذکرالاشعارالمقفی
باب شانزدہم: فی ذکرالاشعارالمردّف
باب ہفدہم: فی ذکرالترجیعات
باب ہیزدہم: فی ذکرالمراثی
ابواب کی اس تقسیم کے علاوہ بدرالدین جاجرمی نے باب چہارم ’’فی ذکر وصفیات‘‘ کے ضمن میں وصفیہ قصیدوں کی گیارہ ذیلی قسمیں درج کی ہیں جو بالترتیب وصف سین، وصف ہیت و نجوم، وصف بہار، وصف آئینہ، وصف شمع، وصف چنگ، وصف آفتاب، وصف تیغ، وصف خروس، وصف حمام، وصف اخشتہ، وصف شراب کے عنوان سے ہیں۔ 6؎
بیاض کی تفصیل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فارسی شعرانے قصیدے کی صنف کو مزید وسعت عطا کی اور اپنی تخلیقی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھوں نے بہت سے نئے پہلو اس میں داخل کیے جس کی وجہ سے اس صنف کا دائرہ اور بھی زیادہ وسیع اور متنوع ہوگیا۔
فارسی قصیدے کی روایت اور اس کے امتیازات کی نشاندہی کے لیے فارسی قصیدے کی ارتقائی صورتوں کا بغور مطالعہ ضروری ہے کہ اسی طرح ہم اس بات سے واقف ہو سکیں گے کہ فارسی شاعروں نے قصیدے کی صنف میں موضوع اور اظہار کے کون کون سے پہلو ایجادکیے ہیں۔
————
فارسی زبان میں رودکی وہ پہلا شاعر ہے جس نے قصیدے کو اس کے بنیادی صنفی تقاضوں کے مطابق فارسی زبان میں استعمال کیا اور اس طرح اسے فارسی شاعری میں قصیدہ گوئی کی روایت کا بنیاد گزار تسلیم کیا جاتاہے۔ رودکی نے دوسری شعری اصناف میں بھی طبع آزمائی کی ہے لیکن اس کے کلام میں قصیدے کا ایک بڑا حصہ موجود ہے۔ فارسی زبان و ادب کے ماہرین اور محققین کے نزدیک رودکی فارسی کا وہ پہلا شاعر ہے جس نے قصیدے کی صنف کو اس کی موجودہ ہیئت کے مطابق تشکیل دیا۔ فارسی قصیدے کی ہیئت اور اس کی داخلی تنظیم کے متعلق علامہ شبلی لکھتے ہیں :
’’قصیدے کا جو طریقہ رودکی نے قائم کیا آج تک قائم ہے یعنی ابتدا میں تشبیب یا بہاریہ وغیرہ، پھر بادشاہ کی مدح کی طرف گریز، جود و سخا، عدل و انصاف، شجاعت و دلیری کا ذکر، پھر دعائیہ۔‘‘7؎
فارسی شاعری کی حد تک رودکی یقیناً پہلا شاعر ہے جس نے قصیدے کی صنف کے تشکیلی عناصر کو سب سے پہلے استعمال کیا یاترتیب دیا۔ ورنہ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا، اس صنف کے ترکیبی اجزا، اسلوب بیان اور موضوعات کی بیشتر صورتیں عربی قصیدے میں پہلے سے موجودتھیں۔ اور متاخرین عربی قصیدہ نگاروں کے کلام میں تو فکر و اظہار کی وہ تمام نزاکتیں پیدا ہو چکی تھیں جنھیں ’خیال بندی‘ اور’ مضمون آفرینی‘ کے کمال کے طور پر فارسی شعرا کے یہاں دیکھااور تلاش کیاجاتا ہے۔
ذیل میں رودکی کے قصائد سے چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں جن میں بہاریہ تشبیب، فخریہ مضامین اور خیال آفرینی کے عناصر نمایاں طور پر موجود ہیں۔ ایک قصیدے میں رودکی اپنی جوانی کے ایام کو یاد کرتے ہوئے فخریہ انداز میں کہتا ہے :
مرا بسود و فرو ریخت ہرچہ دندان بود
نہ بود دندان لابل چراغِ تابان بود
سپید سیم زدہ بود و در و مرجان بود
ستارۂ سحری بود و قطرۂ باران بود 8؎
(ترجمہ: افسوس کہ میرے تمام دانت گھس گئے اور گرگئے، خوبصورتی اور چمک میں وہ دانت نہیں بلکہ روشن چراغ تھے۔ سفیدی ایسی کہ گویا چاندی مڑھی ہوئی تھی اور [تناسب و چمک میں گویا] مونگا اور موتی تھے، یا چمک میں کہہ سکتے ہیں کہ صبح کا ستارہ اور بارش کے قطرے تھے۔)
چونتیس اشعار کے اس قصیدے میں مدح کے صرف تین چار شعر ہی ملتے ہیں۔ باقی تمام اشعار میں رودکی نے اپنے جمال رفتہ کو یاد کرکے اس پر افسوس کیاہے۔ایک قصیدے میں اپنے ممدوح کی شجاعت اور عدل کی تعریف وہ اس طرح کرتا ہے:
خیال رزمِ تو گر دل عدو گردد
زبیمِ تیغِ تو بندش جدا شود از بند
ز عدلِ تست بہ ہم باز و صعوہ را پرواز
ز حکمِ تست شب و روز را بہ ہم پیوند9؎
(ترجمہ: تمھاری جنگجوئی کا خیال اگر دشمن کے دل میں آجائے تو تمہاری تلوار کے خوف سے ہی اس کے[جسم کے] بند دوسرے بند سے الگ ہوجائیں ۔یہ تمہارا عدل ہی ہے کہ باز اور ممولہ ایک ساتھ پرواز کرتے ہیںاور تمھارے حکم ہی سے رات اور دن کا ملاپ ہے۔)
رودکی کے قصائد کا عام طرز سادہ اور حقیقت پسندانہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ اس نے ممدوح کی تعریف کے لیے تخیل کی پروازسے کام نہ لیاہو۔مندرجہ بالا اشعار میں تخیل کی مبالغہ آرائی نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے جب وہ اپنے ممدوح کو مخاطب کرکے اس کی جنگجوئی اور عدل و انصاف کی تعریف کرتا ہے۔
فارسی قصائد کی تشبیب میں بہاریہ مضامین کی روایت بھی رودکی کے قصائدسے ملنے لگتی ہے ۔ ایک قصیدے کی تشبیب میں بہار کی تاثیر اور اس کے جوش نمو کا بیان رودکی نے بڑی ندرت کے ساتھ کیا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ اٹھارہ اشعار کے اس قصیدے میں پندرہ شعر تشبیب کے ہیں، ایک گریز اور باقی دو مدح کے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہیں ہے کہ ابتدائی فارسی قصائد میں شاعر کی توجہ ممدوح کی تعریف سے زیادہ اپنی تخلیقی قوت کے اظہار پر رہی ہے۔اشعار ملاحظہ کریں:
آمد بہار خرم با رنگ و بوئے طیب
با صد ہزار نزہت و آرائشِ عجیب
شاید کہ مردِ پیر بدین گہ شود جوان
گیتی بدیل یافت شباب از پے مشیب
لالہ میانِ کشت بخندد ہمی ز دور
چون پنجۂ عروس بہ حنّا شدہ خضیب
ہرچند نوبہارِ جہان است بہ چشم خوب
دیدارِ خواجہ خوب تر، آن مہترِ حسیب 10؎
فارسی قصیدہ نگاروں میں منو چہری کو بہاریہ تشبیب کہنے میں کمال حاصل ہے ۔ مناظر فطرت کا حسن اور اس کی دلکشی کو جزئیات کی تفصیل کے ساتھ جس خوبی سے منوچہری نے بیان کیا ہے اس کی مثال فارسی کے کسی دوسرے شاعر کے یہاں مشکل سے ملے گی ۔ شبلی کا خیال ہے کہ:
’’قدما اور متاخرین میں سے کسی نے منو چہری کی طرح نیچر کی تصویر نہیں کھینچی … وہ اور شعراکی طرح صرف گل و بلبل پر قناعت نہیں کرتا بلکہ ایک ایک پتے، پھول، پھل، شاخ، درخت، اور ان سب سے بڑھ کر جانوروں اور پرندوں کی حالت دکھاتا ہے۔‘‘11؎
نذیر احمد لکھتے ہیں کہ:
’’ منو چہری کے قصائد میں بہت سے پھولوں، چڑیوں، نغموں اور دوسری متعلق اشیا کے نام ایسے ہیں جو صرف فارسی لغت کا حصہ ہیں، انھیں مشاہدے کی دنیا میں تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ ‘‘12؎
نذیر احمد کے اس بیان سے جو بات واضح ہوتی ہے وہ یہ کہ منوچہری میں تخلیقی قوت بلاکی ہے اور کسی شاعر کا تخلیقی وفور ہی اس کے امتیازات اور اس کی انفرادیت کا ضامن ہوتا ہے۔منوچہری اپنے تخیل کی قوت اور لفظوں پر غیر معمولی قدرت کی مدد سے بہار کے بعض ایسے حیرت انگیز مناظر خلق کردیتا ہے جن کا ہماری حقیقی دنیا سے براہ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے باوجوداس کے خلق کردہ مناظرکو ہم حقیقی سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ حقیقت نہیں بلکہ التباس حقیقت ہے اور کسی بھی بڑے شاعر کے کمال کی دلیل یہی ہے کہ وہ ناموجود کو موجود دکھلادے۔
منو چہری نے وصف بہار، وصف شراب، اور نوروز وغیرہ پربھی کثرت سے قصیدے لکھے ہیں۔ فطرت کے حسن کو بیان کرنے کے لیے اس نے بڑی انوکھی اور نادر تشبیہیںاستعمال کی ہیں۔ قصیدہ ’’در وصف بہار و مدح خواجہ علی بن محمد‘‘ کے درج ذیل اشعار میں منو چہری کا تخیل بارش کے قطروں میں حسن کے جتنے پہلو تلاش کرتا ہے وہ قابل دید ہے۔
آن قطرۂ باران بین از ابر چکیدہ
گشتہ سر ہر برگ از آن قطرہ گہربار
آویختہ چون ریشۂ دستارچۂ سبز
سیمین گرہی بر سر ہر ریشۂ دستار
یا ہمچو زبرجد گون یک رشتۂ سوزن
اندر سر ہر سوزن یک لؤلؤ شہوار
وان قطرۂ باران کہ فرود آید از شاخ
بر تازہ بنفشہ، نہ بہ تعجیل بہ ادرار
گویی کہ مشاطہ ز بر فرق عروسان
ماورد ہمی ریزد، باریک بہ مقدار13؎
حکیم سنائی فارسی کا وہ اہم قصیدہ نگار ہے جس نے اپنے قصائد میںزیادہ تر ’حمد‘ اور ’نعت‘ کے موضوعات کو جگہ دی ہے۔ اس کے علاوہ تصوف کے موضوعات بھی اس کے کلام میں کثرت سے ملتے ہیں۔ حکیم سنائی کا بیشتر کلام نصیحت آمیز ہے ۔ فارسی قصیدہ نگاروں میں سنائی کی عظمت وانفرادیت کے متعلق نذیر احمد لکھتے ہیں:
’’اب میں ایک ایسے شاعر کا تعارف کرانا چاہتا ہوں جس کا کلام علم و حکمت، عرفان و تصوف، مذہب و اخلاق کا زبردست خزانہ ہے ۔ یہ شاعر حکیم سنائی غزنوی ہے جس کی مثنوی حدیقۃالحقیقہ مثنوی مولانا روم کا ماخذ رہی ہے۔ ‘‘14؎
گویا سنائی نے قصیدے کی صنف کو ممدوح کی تعریف و توصیف سے زیادہ پند و حکمت کے مضامین بیان کرنے کے لیے استعمال کیا ہے، اس لیے ان کے قصائد میں کسی بادشاہ یا امیر کی مدح سے زیادہ حکیمانہ اور اخلاقی باتیں ملتی ہیں۔ قصیدہ ’’در موعظہ و نصیحت ابنائے زمان‘‘ کی تشبیب کے چند اشعار ملاحظہ کریں:
کجایی ای ہمہ ہوشت بہ سوی طبل و علم
چرا نباری بر رخ ز دیدہ آب ندم
چرا غرور دہی تنت را بہ مال و بہ ملک
چرا فروشی دین را بہ ساز و اسب و درم
تمام شد کہ ترا خواجگی لقب دادند
کمال یافت ہمہ کار تو بہ باد و بدم
بہ ذات ایزد اگر دست گیردت فردا
غلام و اسب و سلاح و سوار و خیل و حشم15؎
(ترجمہ: ارے کہاںکھوئے ہوئے ہو کہ تمھاری ساری توجہ طبل و علم کی طرف ہے، تم آنکھوں سے اپنے چہرے پر شرمندگی و ندامت کے آنسو کیوں نہیں بہاتے۔تم اپنے جسم کو دولت و مملکت کے غرور میں کیوں پالتے ہو، کیوں دین کو ساز و سامان، گھوڑے اور درہم کے بدلے بیچ دیتے ہو۔ تمھاری مہم اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے کہ تمھیں بادشاہت کا لقب عطا کردیا گیا،تکبر و خود پسندی اور جنگ و جدال میں تمھارا ہر کام اپنے کمال کو پہنچ چکا۔خدا کی قسم اگر ذات باری نے کل قیامت کے دن تمھاری گرفت کرلی تو تمھارے غلام اور گھوڑے اور جنگی ساز و سامان اور تمھارا جاہ و حشم کچھ کام نہ آئے گا۔)
ذیل میں سنائی کے چند قصائد کے عنوانات نقل کیے جاتے ہیں جن سے سنائی کے طبعی رجحان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
1 در مقام اہل توحید، شمارہ:7
2 در توحید، شمارہ :9
3 در تواضع اہل حق، شمارہ :10
4 در نصیحت و ترک تملق از خلق گوید، شمارہ :14
5 درتعلیم طے طریق معرفت، شمارہ : 31
6 دل نہ بستن بہ مہر دنیا، شمارہ :34
قصیدہ ’’در مدح بہرام شاہ ‘‘میں سنائی نے عقل اور عشق کی صفات کا موازنہ کیا ہے اور یہ موازنہ بالکل اسی طرح ہے جیسا کہ اردو میں ہمیں علامہ اقبال کی شاعری میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :
عقل را تدبیر باید عشق را تدبیر نیست
عاشقان را عقل تر دامن گریبان گیر نیست
عشق بر تدبیر خندد زان کہ در صحرای عقل
ہر چہ تدبیرست جز بازیچۂ تقدیر نیست
عشق عیارست و بر تزویر تقدیرش چکار
عقل با حفظ ست کو را کار جز تدبیر نیست
علم خورد و خواب در بازار عقلست و حواس
در جہان عاشقی ہم خواب و ہم تعبیر نیست
فارسی قصیدہ نگاروں میں انوری کو خاص مقام حاصل ہے۔ ادب کے ناقدین انوری کو فارسی قصیدے کا امام قرار دیتے ہیں۔انوری نے قصائد کے موضوع اور اسلوب میں بڑی وسعت اور تنوع پیدا کیا۔ انوری کو اپنے عہد کے مروجہ علوم– منطق، موسیقی، ریاضی اور نجوم وغیرہ پر دسترس حاصل تھی جن کی اصطلاحات کو اس نے فلسفیانہ طرز فکر کے ساتھ اپنے قصائد میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ استعمال کیاہے ۔ اس کا کلام خیال بندی اور مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ درج ذیل اشعار ملاحظہ کریں جس میں بادشاہ کی صولت و ہیبت، اس کے عدل، سخاوت کی بیکرانی اور شخصیت کے دوسرے پہلوؤں کواس طرح بیان کیا ہے کہ ہر شے بادشاہ کی ذات اور اس کے وجود کے سامنے حقیر و بے رتبہ نظر آتی ہے۔
سپہر رفعت و کوہ وقار و بحر سخا
علاء دین کہ سپہریست از سنا و علا
ز باد صولت او خاک خواہد استعفا
ز تف ہیبت او آب گیرد استسقا
نہد رضا و خلافش اساس کون و فساد
دہد عتاب و نوازش نشان خوف و رجا
اگر نہ واسطہ عقد عالم او بودی
چہ بود فایدہ در عقد آدم و حوا
بہ درگہ تو فلک را گذر بہ پای ادب
بہ جانب تو قضا را نظر بہ عین رضا
بہ زیر سایہ عدل تو فتنہا پنہان
بہ پیش دیدہ وہم تو رازہا پیدا16؎
(ترجمہ: وہ کہ جس کی ذات آسمانوں جیسی بلند اور جس کا وقار پہاڑوں کی سی صلابت اور جس کی سخاوت سمندروںجیسی وسعت و بیکرانی رکھتا ہے ، وہ ذاتِ گرامی علاء الدین کی ہے کہ جس کے دائرے میں ساری پستی اور بلندی ہے۔ اس کی سختی اور رعب کی ہوا ایسی کہ مٹی چھٹکارا چا ہے، اور اس کے خوف کی گرمی ایسی کہ آب بھی پیاس بجھانے کو پانی مانگے۔اس کی رضااور مخالفت تعمیر و تخریب کی بنیاد گزار ہے۔ اس کی ناراضگی اور اس کی نوازش خوف و امید کا نشان ہیں۔دنیا کی مشکلات کے [حل کے] لیے اگر وہ نہ ہوتاتو آدم و حواکے عقد کا کیا فائدہ ہوتا۔تیرے دربار میں آسمان بھی آتا ہے تو نہایت ادب و احترام کے ساتھ، اور موت بھی [ہمیشہ] تیری رضامندی کی منتظر رہتی ہے۔تیرے انصاف کا سایہ ہے کہ بہت سے فتنے پوشیدہ رہتے ہیں اور تیری چشم وہم کے سامنے راز کی باتیں بھی نمایاں ہوجاتی ہیں۔)
انوری کے شاعرانہ امتیازات کے بارے میں علامہ شبلی نے لکھا ہے :
’’سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ اور شعرا کی طرح اس کا کلام مدح پر محدود نہیں، وہ ہرطرح کے واقعات اور معاملات ادا کرتا ہے جس سے زبان کو وسعت حاصل ہوتی ہے۔‘‘ 17؎
مدحیہ قصائد کے علاوہ انوری نے ہجو بھی کثرت سے کہی ہے، شبلی کے نزدیک ہجو یہ شاعری ہی انوری کا اصل امتیاز ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ اگر ہجو گوئی کوئی شریعت ہوتی تو انوری اس کا پیغمبر ہوتا۔‘‘ 18؎
قصیدہ ’’در تہنیت عید و مدح ناصرالدین طاہر‘‘ کی تشبیب میں انوری نے گھوڑے کی جو ہجو لکھی ہے وہ قابل دید ہے ۔ اس نے گھوڑے کی لاغری اور صورت حال کا ایسا نقشہ کھینچا ہے کہ قاری کی طبیعت میں گدگداہٹ پیدا ہونے لگتی ہے۔ قصیدے کے اشعار کا سارا حسن انوری کے تخیل اور بیان کی مبالغہ آرائی پر ہے ۔ یہ اشعار دیکھیں:
اسبی چنانکہ دانی زیر از میانہ زیر
وز کاہلی کہ بود نہ سک سک نہ راہوار
در خفت و خیز ماندہ ہمہ راہ عیدگا ہ
من گاہ زو پیادہ و گاہی برو سوار
نہ از غبار خاستہ بیرون شدی بہ زور
نہ از زمین خستہ برانگیختی غبار
راضی نشد بدان کہ پیادہ شوم ازو
از فرط ضعف خواست کہ بر من شود سوار
گہ طعنہ ای ازین کہ رکابش دراز کن
گہ بذلہ ای از آن کہ عنانش فرو گذار19؎
(ترجمہ: ایسا گھوڑا کہ بس سمجھو کہ[ اس کی پشت لاغری کے سبب] درمیان سے جھکی ہوئی تھی اور کاہلی میں ایسا تھا کہ نہ آڑا چلتا تھا اور نہ ہی دل کی چال ۔عید گاہ کے تمام راستے میں وہ سوتا جاگتا رہا، میں کبھی اس سے اتر کر پیدل چلتا اور کبھی اس پر سوار ہوجاتا۔ (اتنا آہستہ روکہ )اٹھنے والے غبارسے وہ اپنی طاقت کے زور سے کبھی باہر نہیں نکل سکا اور نہ ہی خستہ زمین سے اس کے قدموں کی ٹاپ گرد و غبار ہی اُڑا سکی۔وہ اس پر راضی نہیں تھاکہ میں اس کے ساتھ پیدل چلوں، حد سے بڑھے ہوئے ضعف و لاغری کے سبب وہ چاہتا تھاکہ مجھ پر سوار ہوجائے۔کبھی یہ طعنہ سننے کو ملتا کہ اس کی رکاب دراز کردو، اور کبھی کوئی بطور تضحیک کہتا کہ اس کی لگام چھوڑ دو۔)
انوری نے تشبیب کے موضوعات اور طرزاظہار میں بھی بڑی وسعت پیدا کی ہے۔ عنصری نے ’سوال و جواب‘ کا جو طرز ایجاد کیاتھا، اس کوانوری نے مزید ترقی دی اور تشبیہات کی ایک نئی دنیاآباد کی۔ تشبیب کے درج ذیل اشعار ملاحظہ کیجیے جس میں عشقیہ موضوع کو ہندو رسمیات اور فن جادوگری میں ہندوؤں کو جو کمال حاصل ہے ، اس کا لحاظ رکھتے ہوئے کیسی خیال آرائی کے ساتھ باندھا گیا ہے۔ انوری کا یہ قصیدہ ’’ صاحب سعید جلال الوزرا عمر بن مخلص ‘‘ کی مدح میں ہے۔
ہندوی کز مژگان کرد مرا لالہ قطار
سوخت از آتش غم جان مرا ہندووار
لالہ راندن بہ دم و سوختن اندر آتش
ہندوان دست ببردند بدین ہر دو نگار
ہندوانہ دو عمل پیش گرفت او یارب
داری از ہر دو عمل یار مرا برخوردار
عشق ہندو بہ ہمہ حال بود سوزان تر
کہ در انگشت بود عادت سوزانی نار
ہندوانہ عملی کرد وی و من غافل
دلم از سینہ برآوردہ و از فرق دمار
جادوی کردن جادو بچہ آسان باشد
نبود بط بچہ را اشنۂ دریا دشوار
چون بہ ناگاہ فرود آمد از آن حجرہ بہ شیب
ہمچو کبکی کہ خرامندہ شود از کہسار20؎
ڈاکٹر محمود الٰہی کے مطابق ’’انوری نے تشبیہ و استعارے کو قصیدہ کا لازمی جز بنا دیا تھا۔‘‘21؎
تشبیب میں ’ہلال‘ کو موضوع بنا کر تعریف و توصیف کے نئے پہلو بیان کرنے کا طریقہ بھی انوری ہی کے زمانے میں رائج ہوا ۔ فارسی قصیدے کے محققین کا خیال ہے کہ ظہیرؔفاریابی کو ایسی تشبیب کہنے میںکمال حاصل تھا۔ انوری کا ایک قصیدہ ’’ در صفت افلاک و بروج و مدح صاحب ناصرالدین ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ اس میںوہ ’ہلال‘ کو ممدوح کے دستورکے گھوڑے کی نعل کہتاہے:
گفتم آن نعل خنگ دستورست
قرت العین و فخرآل نظام
آسمان گفت کاشکی ہستی
کہ نہد خنگ اوبہ ما بر گام
فارسی قصیدے کو نئی تخلیقی جہتوں سے آشنا کرنے والے شعرا میں انوری کے فوراً بعد خاقانی کا نام لیا جاتا ہے۔ انوری کی طرح خاقانی نے بھی مختلف علوم و فنون کی اصطلاحات کو اپنے قصیدوں میں نظم کیا ہے۔ نجوم، طب، منطق، فلسفہ، ہیئت اور بعض دوسرے مروجہ علوم کی اصطلاحیں اس کے کلام میں ملتی ہیں۔22؎
خاقانی نے امیروں اور بادشاہوں کی مدح کے علاوہ نعتیہ، رثائی اور پند آمیز قصائد بھی کثرت سے کہے ہیں۔ شاعرانہ حسن و تاثیر کے لحاظ سے اس کے رثائی اور نعتیہ قصیدے بہترین کہے جا سکتے ہیں۔ امام محمد بن یحییٰ کی شان میں کہا گیا رثائی قصیدہ جوش و تاثیر کی عمدہ مثال ہے۔ چند شعر ملاحظہ فرمائیں :
آن مصر مملکت کہ تو دیدی خراب شد
و آن نیل مکرمت کہ شنیدی سراب شد
سرو سعادت از تف خذلان زگال گشت
و اکنون بر آن زگال جگرہا کباب شد
از سیل اشک بر سر طوفان واقعہ
خوناب قبہ قبہ بہ شکل حباب شد
چل گز سرشک خوںز بر خاک بر گذشت
لا بل چہل قدم زبر ماہتاب شد23؎
(ترجمہ: مصر کی وہ سلطنت جو تونے دیکھی تھی تباہ و برباد ہوگئی، اور وہ نیل کے دریا کی مانند لطف و مہربانی کے جو قصے تم سناکرتے تھے [اب] ختم ہوچکے ہیں۔ سعادت مندی کے سرو کا درخت عذاب کی گرمی سے کوئلہ ہوگیا، اور اب اس کوئلے پر لوگوں کے جگر کباب ہو گئے ہیں۔واقعے کے طوفان کی ابتدا میں ہی آنسوؤں کے سیلاب سے خوناب دائرہ در دائرہ بلبلہ کی شکل لے لیا ہے۔چالیس گز تک خون کے آنسوزمین پر بہہ گئے،نہیں بلکہ یہ کہ چالیس قدم ماہتاب پر مکمل ہوگئے۔)
ایک قصیدہ خاقانی نے ’’ خاقان کبیر ابوالمظفر اخستان‘‘ کی مدح میں کہا ہے اس کی تشبیب میں قنوطیت غالب ہے۔ اس کے بعض اشعار میں خاقانی نے مختلف علوم کی اصطلاحات کو نظم کیا ہے جس میں فلکیات کی اصطلاحوں کے ساتھ چوسر کی اصطلاحیں بھی نظم کی ہیں ۔ مثلاً:
چرخ آمدہ کعبتین بی نقش
کس نقش وفا از آن ندیدہ است
بر نیزۂ او سماک رامح
کمتر ز زحل سنان ندیدہ است24؎
(ترجمہ: آسماں بے نقش پانسے کی طرح آیا ہے، کسی نے آج تک اس (آسمان) میں وفاداری کا نقش نہیں دیکھا۔اس کے نیزے کی زد پر سماک رامح [ برجِ ماہی] رہتی ہے ، اور زمانے نے اس کے پاس برجِ زحل کی برچھی سے کمتر کوئی برچھی نہیں دیکھی ہے۔)
’تعلّی‘ یعنی اپنی تخلیقی عظمت اور فنی کمالات کا فخریہ اظہار بھی فارسی شعرا کا عام طریقہ رہا ہے ۔ان کا کلام تعلّی کی مثالوں سے بھرا ہوا ہے۔ حالانکہ مذہبی اور اخلاقی طور پر انانیت،خودپسندی اور خودستائی کو کبھی تحسین کی نگاہوں سے نہیں دیکھا گیااور نہ ہی معاشرتی اعتبار سے اس کی وکالت کی گئی۔ شریف حسین قاسمی نے اپنے مضمون ’’ فارسی شاعری میں تعلّی کی دلچسپ روایت‘‘ میں تعلّی کے اسباب کے مذہبی اور معاشرتی دونوں پہلوئوں کا ذکر کیا ہے۔مذہب کی رو سے اگر کوئی فرد/شاعر اپنی ان صفات کا بیان کرتا ہے جو اس میں واقعتا موجود ہیںتویہ جائز ہے25؎۔ اپنی انانیت کے بارے میں مولانا ابوالکلام آزاد کا یہ کہنا بھی کہ ’’ اگر اظہار خودستائی اور انا سرتاسر حقیقت حال کی ایک بے اختیارانہ چیخ ہے تو وہ قابل اعتراض نہیں۔‘‘26؎دراصل اپنی تعلّی کا مذہبی جواز فراہم کرنا ہے۔ شریف حسین قاسمی نے فارسی شعرا کے دو گروہوں کا ذکر کیا ہے جس میں سے ایک تعلّی کا حامی ہے اور دوسرا مخالف۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ فخریہ اشعار کہنا شعرا کی جبلت میں شامل ہے ۔27؎یہ بھی کہا گیا ہے کہ شعرا کی حق تلفی نے انھیں خودستائی پر آمادہ کیا ہے۔ تعلّی کے ذریعہ وہ اپنے وجود کو باقی رکھنے اور خود کو بہلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہر حال تعلّی فارسی کی شعری روایت کا ایک اہم حصہ ہے اور یہ تقریباً سبھی شاعروں کے کلام میں موجود ہے۔
خاقانی کا جو قصیدہ مثال میں پیچھے پیش کیا گیا، اس میں ممدوح کی تعریف کے ساتھ اس نے اپنی تعلّی کا بھی خوبصورت پہلو نکالا ہے۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ قصیدہ گوئی اور مدح سرائی میں آج تک کسی نے اس جیسا شاعر اور داستان مدحت کا ماہرنہیں دیکھا ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ کریں:
چون تو ملکہ نبود و چون من
کس شاعر مدح خوان ندیدہ است
من دانم داستان مدحت
کس زین بہ داستان ندیدہ است
آن دید ضمیرم از ثنایت
کز نیسان بوستان ندیدہ است
و آن بیند بزمت از زبانم
کز بلبل گلستان ندیدہ است28؎
(ترجمہ: (آج تک )تجھ جیسی ملکہ نہ ہوئی اور نہ ہی مجھ جیسا قصیدہ گو شاعر کسی نے دیکھا ہے۔ میں ہی مدح گوئی کی داستان بیان کرنا جانتا ہوں اورکسی نے آج تک اس سے بہتر داستان نہیں سنی ہے۔ تیری تعریف میں میرے ضمیر نے وہ چیزیں دیکھیں کہ نیسانِ بہار میں باغ نے نہیں دیکھی ہیں۔ اور تیری بزم، میرے بیان سے وہ دیکھتی ہے جسے بلبل نے (کبھی) باغ میں نہیں دیکھا ہے۔)
فخریہ شاعری کی اس مثال میںخاقانی نے اپنی برتری اور امتیاز کے کئی پہلو بیان کیے ہیں لیکن اسے جس بات پر سب سے زیادہ ناز ہے وہ اس کے تخیل کی تیزی اور زبان پر غیر معمولی دسترس ہے۔ وہ اپنی قوت متخیلہ سے ایسی داستانیں گڑھتا ہے، بہار کے ایسے مناظر پیش کرتا ہے اور بیان سے منظر کا ایسا سماں باندھتا ہے کہ سننے والا حیران رہ جائے۔یہی تخیلی قوت مشرق کی شاعری کا بنیادی امتیاز تھی اور شعرا کی عظمت کا پیمانہ بھی لیکن بڑی ہوشیاری کے ساتھ استعماری طاقتوں نے ہمیں تخیل کی اس لامحدود قوت سے متنفر کرکے حقیقت پسندی کی طرف دھکیل دیا۔ بہر حال خاقانی کے متعلق محمود الٰہی کی یہ رائے ملاحظہ کیجیے :
’’خاقانی کے قصائد بہت طولانی اور مفصل ہوتے ہیں۔ اس نے قصیدوں میں تجدید مطلع کا اچھا پیرایہ اختیار کیا ہے۔ وہ زیادہ تر لمبی بحروں میں قصیدے لکھتا ہے —- صبح کی منظر کشی میں وہ ید طولیٰ رکھتا ہے۔‘‘29؎
تعلّی کے مضامین کوعرفی نے بھی بڑے شد و مد کے ساتھ باندھا ہے ۔ ’’در فخر خود ‘‘ کے عنوان سے اس کے کلام میں تواتر سے قصیدے ملتے ہیں۔
سعدی شیرازی کو اگرچہ ان کی معروف ترین تخلیقات ’گلستاں‘ اور ’ بوستاں‘ کی وجہ سے نہ صرف فارسی ادب میں بلکہ عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ فارسی ادب کے ماہرین انھیں فارسی غزل کا امام قرار دیتے ہیں۔ حکیم سنائی کی طرح پند آمیز کلام سے انھوں نے بھی قصیدہ گوئی میں اپنی ایک خاص جگہ بنائی ہے۔اور یہ اسلوب ان کے کلام پر اس قدر حاوی ہے کہ وصف بہار اور شہروں کی تعریف میں کہے گئے قصیدے بھی پند و نصیحت کے مضامین سے خالی نہیں ہیں۔ امیروں اور بادشاہوں کی شان میںکہے گئے قصیدوں میں اکثر نصیحت کی باتیں ملتی ہیں۔ ’اتابک محمد‘ کی تعریف میں کہے گئے قصیدے کے آخری چار شعر ملاحظہ فرمائیں:
یکی پند پیرانہ بشنو ز سعدی
کہ بختت جوان باد و جاہت مجدد
نبودست تا بودہ دوران گیتی
بہ ابقای ابنای گیتی معود
مؤبد نمی ماند این ملک دنیا
نشاید بر او تکیہ بر ہیچ مسند
چنان صرف کن دولت و زندگانی
کہ نامت بہ نیکی بماند مخلد30؎
سعدی نے بادشاہوں کی مدح اور پند و حکمت کے مضامین کے علاوہ قصیدے میں حمد،نعت، موسم بہار کی لطافتوں اور شہر کے اوصاف بھی بیان کیے ہیں۔وصف بہار کے ضمن میں سعدی نے پیڑوں کی آراستگی ، شاخوں کی نزاکت ،پھلوں کی دلکشی کو خوبصورت تشبیہات کے ذریعہ بیان کیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کریں :
باد گیسوے درختان چمن شانہ کند
بوی نسرین و قرنفل بدمد در اقطار
ژالہ بر لالہ فرود آمدہ نزدیک سحر
راست چون عارض گلبوی عرق کردۂ یار
باد بوی سمن آورد و گل و نرگس و بید
در دکان بہ چہ رونق بگشاید عطار؟
خیری و خطمی و نیلوفر و بستان افروز
نقشہایی کہ درو خیرہ بماند ابصار31؎
(ترجمہ: ہوا چمن کے درختوں کی زلفوں میں کنگھی کر تی ہے اور قطاروں سے نسرین اور لونگ کی بو اٹھ رہی ہے۔ صبح کے وقت برفیلی شبنم کے قطرے گلِ لالہ سے بالکل ایسے ڈھلکتے ہیں جیسے محبوب کے گلابی گال پسینے سے تر ہوں۔ہوا چمیلی،گلاب، نرگس اور بید کی خوشبو اڑا لاتی ہے، تو ایسے میں بھلا کون سی رونق باقی رہ جاتی ہے کہ عطرفروش اپنی دوکان کھولے۔گلِ خیری اور خطمی اور نیلوفر چمنستان کی رونق بڑھاتے ہیں۔ ایسے نقش و نگار دیکھ کر آنکھ حیرانی میں انھیں پرجمی رہ جاتی ہے۔)
عرفی شیرازی نے قصائد میں انوری اور خاقانی کے اسلوب کی توسیع کرتے ہوئے فلسفیانہ مضامین کو کثرت سے باندھا ہے۔ قصیدے کی صنف یوں بھی خیال آرائی کی انتہائی صورتوں کا مظہر ہوتی ہے جس میں جذبات کی جگہ عقل و دانش کے تحرک کا سامان زیادہ ہوتاہے۔اس لیے عرفی کی شاعری قاری کی ذہانت کو خاصے امتحان میں ڈال دیتی ہے۔ عرفی کا تخیل بلا کا تیز ہے۔ وہ ہمیشہ نئے اور لطیف خیالات کو باندھتا ہے۔نازک خیالی، مضمون آفرینی اور تشبیہات کی جدت اس کے قصائد کی بنیادی صفات ہیں۔ موضوع کے لحاظ سے عرفی کے قصائد میں مدح کے علاوہ حمد، نعت،منقبت،شکایت فلک، شکایت روزگار کے مضمون ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ ’’ در فخر خود ‘‘ کے عنوان سے عرفی کے کلام میں فخریہ قصیدوں کی ایک طویل فہرست ہے ۔ عرفی کا ایک قطعہ اس کے مجموعۂ قصائد میں درج ہے جو گھوڑے کی ہجو میںہے۔ اس میں گھوڑے کی لاغری کو عرفی نے ایسے حوالوں سے بیان کیا ہے کہ قاری اس ہجویہ قصیدے کی داد دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔چند شعرملاحظہ کریں:
شاہنشہا حقیقت اسپے کہ دادۂ
بشنو ز لطف تابرسانم بہ عز غرض
درویش بی عصاش نگیرد ز من بہ لطف
طرار مفلسش نشاند زمن بہ قرض
پیرست و علتے بخوراکش فزودہ ام
آرے بود رعایت پیر و علیل فرض
مہمیز می زنم بوے از صبح تا بشام
تا نیم گام می رود آنہم بپائے عرض32؎
(ترجمہ: اے بادشاہ آپ نے جو گھوڑا عنایت کیا ہے اس کی حقیقت [کا ماجرا] لطف سے سنیں تا کہ میں اپنی عزت افزائی کی غایت تک پہنچ سکوں۔وہ فقیر بغیر ڈنڈے (کی مار)کے، لطف و مہربانی کے ساتھ مجھ سے کچھ نہیں لیتااوروہ چالاک مفلس میری طرف کوئی قرض باقی نہیں رکھتا۔چونکہ وہ بوڑھا ہے اس لیے اس کی خوراک میں نے بڑھا دی ہے، بے شک بوڑھے اور ضعیف کی رعایت تو فرض ہوتی ہے۔میں اسے صبح سے شام تک مہمیز لگا تا ہوں، تب جاکر وہ نصف قدم آگے بڑھتا ہے اور وہ بھی پیر[مہمیز] کی گزارش پر۔)
اسی طرح اکبر بادشاہ کی مدح میں کہے گئے قصیدے کی تشبیب میں ،عرفی اپنے تخیل کا کمال یوں دکھاتا ہے:
منادی ست ہرسو کہ اے خواص و عوام
مئے نشاط حلال و شراب غصہ حرام
فضائے عالم ہستی زغصہ تنگ آمد
مشابۂ دل عاشق مثال چشم لیام
بشاشت دل اطفال در شب نوروز
نشاط خاطر صائم بہ صبح عید صیام33؎
(ترجمہ: ہرطرف یہ اعلان ہو رہا ہے کہ اے خواص و عوام [آج کے دن] خوشی کی شراب حلال اور غصے کی شراب حرام ہے۔ [آج کے دن] عالم ہستی کی فضا غصے کے لیے ایسی تنگ ہو گئی ہے جیسے کہ عاشق کا دل اور بخیل کی آنکھ۔ نوروز کی رات، بچوں کے دل ایسے خوش ہیں جیسے روزے دارکا دل صبح عید کو کھل اٹھتاہے۔)
اب تک جن شاعروں کے حوالے سے فارسی قصیدے کی خصوصیات کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی، ان کے علاوہ بھی فارسی شعرا کی ایک طویل فہرست ہے جنھوں نے قصیدے کی صنف میں طبع آزمائی کی ہے ۔سبھی کا ذکر یہاں ممکن نہیں اور یوں بھی اس کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ یہاں انھی قصیدہ نگاروں کے کلام کا تجزیاتی مطالعہ مقصود ہے جن کے کلام نے فارسی قصیدے کی منہاج کو استوار کیا اور جس پر چل کر آئندہ قصیدہ نگاروں نے فارسی قصیدے کی ایک عظیم الشان روایت قائم کی۔ بعد میں جس کی پیروی اردو میں بھی ہوئی اور شعرائے اردو نے ہیئت ،اسلوب، مضامین و موضوعات سبھی میں ان فارسی شعرا کی تقلید کی۔
حواشی
1 ڈاکٹر ابو محمد سحر، اردو میں قصیدہ نگاری [2010] مکتبۂ ادب، بھوپال،ص:10
2 ڈاکٹر ابو محمد سحر، اردو میں قصیدہ نگاری [2010] مکتبۂ ادب، بھوپال، ص:26
3 نذیر احمد، فارسی قصیدہ نگاری[1991] ، ادارۂ علومِ اسلامیہ،علی گڑھ ،ص:63
4 ڈاکٹر ابو محمد سحر ، اردو میں قصیدہ نگاری[2010] مکتبۂ ادب، بھوپال، ص:24
5 ڈاکٹر ابو محمد سحر، اردو میں قصیدہ نگاری [2010] مکتبۂ ادب، بھوپال، ص: 23
6 نذیر احمد، فارسی قصیدہ نگاری[1991] ، ادارۂ علومِ اسلامیہ،علی گڑھ ، ص: 59-56
7 علامہ شبلی نعمانی،شعرالعجم حصہ اول[2010] دارالمصنفین ،اعظم گڑھ، ص:42
8 ganjoor.net، رودکی ،قصاید و قطعات ،شمارہ : 45
9 ganjoor.net ، رودکی ،قصاید و قطعات ،شمارہ :38
10 ganjoor.net، رودکی ،قصاید و قطعات ،شمارہ :10
11 علامہ شبلی نعمانی،شعرالعجم حصہ اول[2010] دارالمصنفین ،اعظم گڑھ، ص:170
12 نذیر احمد،فارسی قصیدہ نگاری [1991]، ادارۂ علومِ اسلامیہ،علی گڑھ ،ص:26
13 ganjoor.net ،منو چہری، دیوانِ اشعار، قصاید و قطعات ،شمارہ :29
14 نذیر احمد،فارسی قصیدہ نگاری[1991] ، ادارۂ علومِ اسلامیہ،علی گڑھ ،ص:30
15 ganjoor.net ، سنائی، دیوانِ اشعار، قصاید، شمارہ: 106
16 ganjoor.net ، سنائی، دیوانِ اشعار، قصاید، شمارہ: 27
17 ganjoor.net، انوری، دیوان اشعار، قصاید، شمارہ :1
18 علامہ شبلی نعمانی ،شعرالعجم حصہ اول[2010] دارالمصنفین، اعظم گڑھ، ص:238
19 علامہ شبلی نعمانی ،شعرالعجم حصہ اول[2010] دارالمصنفین، اعظم گڑھ، ص:242
20 ganjoor.net، انوری، دیوان اشعار، قصاید، شمارہ: 82
21 ganjoor.net، انوری، دیوان اشعار، قصاید، شمارہ: 81
22 محمود الٰہی ،اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ[2011]مکتبہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی ، ص:116
23 محمود الٰہی ، اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ[2011]مکتبہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی ، ص:119
24 ganjoor.net، خاقانی، دیوان اشعار، قصاید، شمارہ: 50
25 ganjoor.net، خاقانی، دیوان اشعار، قصاید، شمارہ: 33
26 رسالہ فکرونظر، جون 2020، جلد:57، شمارہ:2، ص: 102
27 رسالہ فکرونظر، جون 2020، جلد:57، شمارہ:2، ص: 102
28 رسالہ فکرونظر، جون 2020، جلد:57، شمارہ:2، ص: 102
29 ganjoor.net، خاقانی، دیوان اشعار، قصاید، شمارہ: 33
30 محمود الٰہی ، اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ[2011]مکتبہ جامعہ لمیٹڈ نئی دہلی، ص:120
31 ganjoor.net، سعدی، مواعظ، قصاید، شمارہ: 9
32 ganjoor.net، سعدی ،مواعظ، قصاید، شمارہ: 25
33 rekhta.org ،قصائد عرفی[1966]، مطبع نول کشور،لکھنؤ، ص: 128
34 rekhta.org، قصائد عرفی[1966]، مطبع نول کشور،لکھنؤ ، ص: 91
Dr. Laeeq Ahmad
Asstt. Prof. Deptt. of Urdu
Vasanta College for Women
Rajghat Fort, Varanasi (U.P.)
Pin-221001
Mob:9358463459
Email:ahmad.laeeq@gmail.com