ہندوستان کے چند اہم مکتوب نگار صوفیا،مضمون نگار:محمد خبیب

March 30, 2026 0 Comments 0 tags

تلخیص

ہندوستان میں فارسی مکتوبات کا بڑا ذخیرہ صوفیاکے رشحات قلم کا رہین منت ہے ، صوفیا نے اپنے مریدین ، متوسلین اور منتسبین کی اصلاح کے لیے حسب موقع وضرورت مکتوبات ارسال کیے اور یہی مکتوبات مرتب ہونے کے بعد فارسی ادب کا عظیم سرمایہ بنے ۔ ان مکتوبات کے مطالعے کے بعد یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ یہ صرف رسمی اصلاح نامہ نہیں ہیں بلکہ ان میں ادب کی حلاوت وچاشنی بھی بدرجہ اتم موجود ہے ، علاوہ ازیں یہ مکتوبات اپنے عہد کے ترجمان ہیںکہ ان کے توسط سے اس وقت کے ہندوستان کی سیاسی، سماجی،معاشرتی اور اخلاقی صورت حال کا علم ہوتا ہے ، اس لیے ان مکتوبات کا مطالعہ جہاں تزکیۂ نفس وتصفیہ قلب کا سبب ہے وہیں ہندوستان کی قدیم تہذیب ومعاشرت سے واقفیت کا اہم وسیلہ بھی ہے۔ ان مکتوبات سے صرف نظرکرنا صدیوں پر محیط ایک مستند اصلاحی وتاریخی دستاویز کو دریا بر دکرنے کے مترادف ہوگا۔یوں تو مکتوب نگار صوفیا کی فہرست خاصی طویل ہے جن کا ذکر اس مختصرمضمون میں ممکن نہیں ہے اس لیے بخوف طوالت ان اہم مکتوب نگارصوفیا کے مکتوبات سے بحث کی گئی ہے جن کا اثر نہ صرف ان کے عہدکی مختلف علمی وتہذیبی سرگرمیوں پر ہوا بلکہ بعد کے ادوار میں بھی وہ مشعل راہ ثابت ہوئے ۔

کلیدی الفاظ
ہندستان، صوفیا، مکتوب نگاری، شیخ شرف الدین یحییٰ منیری،سید محمد حسینی گیسو دراز ،میر سید اشرف جہانگیر سمنانی،شیخ عبد القدوس گنگوہی،شیخ احمد سرہندی،شاہ کلیم اللہ دہلوی ،مرزا مظہر جان جاناں،مقرر نامہ، مکتوبات اشرفی،مکتوبات امام ربانی ، مکتوبات کلیمی۔
————
کائنات کی تمام مخلوقات میں صرف انسان کو ہی یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کی طاقت رکھتاہے، اسی لیے اسے حیوان ناطق کہتے ہیں،اس کے خیالات کے اظہار کا وسیلہ زبان ہے اور ہر علاقے کے با شعور لوگ اپنی ہی زبان میں اپنے مافی الضمیر کی ادائیگی کو اپنے لیے باعث افتخارسمجھتے ہیں لیکن جب انسان گو ناگوں عوامل کی بنا پر اپنے خیالات کی ادائیگی اورمافی الضمیرکا اظہار زبان سے ادا کرنے پر قادر نہیں ہوتا ہے تو تحریر کو بروئے کار لاتا ہے۔ یہی تحریر جب صفحۂ قرطاس پر زبان کی ترجمانی کرتی ہے تو اس کو مکتوب نگاری کا نام دیا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے بالاتفاق تمام ماہرین زبان وادب نے خط وکتابت کو آدھی ملاقات کہا ہے، مکتوب میں مکتوب نگار اپنے خیالات وجذبات کو قلم بند کرکے مکتوب الیہ کو بھیجتا ہے،جب کہ اس عمل میں پیغام رسانی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،محض ذاتی تسکین کے لیے اور وقت گذاری کے ارادے سے کچھ لکھ لینا اور اپنے پاس محفوظ کرلینا مکتوب نگاری کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔
خطوط نگاری نثر ی ادب کی ایک مستقل صنف ہے۔ مکتوبات نہ صرف کاتب اور مکتوب الیہ کے رازہائے دروں کو وا کرتے ہیں بلکہ دونوں کی شخصی زندگی پر بھی وافر مقدار میں روشنی ڈالتے ہیں، کاتب اور مکتوب الیہ کے وہ بہت سے اعمال وکردار جو پردۂ خفا میں رہتے ہیں ان مکتوبات کے ذریعہ وہ منصہ شہود پر جلوہ گر ہو جاتے ہیں، مزید بر آں وہ مکتوب نگاراور مکتوب الیہ کے تعلقات کی غمازی بھی کرتے ہیں اور ان کے درمیان کے رشتوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مکتوبات اپنے عہد کے ترجمان ہوتے ہیں۔ ان کے ذریعہ اس عہد کی صحیح تصویر سامنے آتی ہے۔ مکتوبات کے ذریعہ اس عہد کی سیاسی،سماجی معاشی، تعلیمی، معاشرتی، مذہبی اور فکری صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے کیونکہ مکتوبات کاتب کے جذبات کے ترجمان اور اس کے عہد کے اس کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کا ایک بیانیہ ہوتے ہیں۔
یوں تومکتوب نگاری کا فن آسان ہے اس کے لیے کسی طرح کی مہارت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں اور نہ کسی استاد سے مشورہ لینے کی۔ مکتوب نگاری کی صنف بہت حد تک فنی بندشوں سے آزاد ہے، اس میں ہر بات کی گنجائش ہو تی ہے۔ خطوط کے دائرے میں وہ تمام موضوعات شامل کیے جاسکتے ہیں جن کا تعلق انسان کی ذہنی کیفیت اور اس کے خارجی احوال وکوائف سے ہوتا ہے، نہ اس میں موضوع کا تعین شرط ہے اور نہ ہیئت کی خاص نوعیت لازم ہے۔ لیکن ایک مکتوب اسی وقت معنویت و قبولیت کی معراج طے کرتا ہے جب اس میں جذبات کی ترجمانی خون جگر کی آمیزش سے کی گئی ہو، جب قاری اس کو پڑھ کر خود اس میں اپنے آپ کو کھویا ہوا پاتا ہے،جب مکتوب الیہ خط پڑھنے کے دوران مکتوب نگار کو قلبی طورپرخودسے محو گفتگوپاتاہے اوروہ مکمل طورپرمکتوب نگارکے احساسات وجذبات کو سمجھنے کی استطاعت رکھتا ہے۔ صرف اور صرف خامہ فرسائی اور لفظوں کی بہتات خط کو ادبی مقام اور قبولیت سے ہمکنار نہیں کر سکتی۔ اس لیے یہ کہنا بے جانہ ہوگا کہ مکتوب نگاری کی صنف جتنی آسان ہے اتنی ہی نازک بھی ہے۔ لہٰذا یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص کا لکھا ہوا خط اہم ہو اور نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ہر عظیم مکتوب نگار کے خطوط ایک ہی درجہ کے ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت کم مکتوب نگار ایسے ہیں جن کو اس صنف میں لازوال شہرت ملی ہے اور گذرتے ہوئے وقت نے جن کے ان تحریری نقوش کو گرد آلود کرنے کے بجائے مزید اس کو جلا بخشی ہے۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس صنف میں ان ہی لوگوں نے شہرت کی معراج طے کی ہیں جنھوں نے سادگی وبے تعلقی کو اپنا طرۂ امتیاز بنایا ، فطری انداز تحریر اختیار کیا اورپیچیدہ تراکیب و صنعت سے اپنا تحریری دامن بچائے رکھا۔ لیکن یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ کسی مکتوب کی سادگی اور پیچیدگی کا معیار اس عہد کے اسلوب نگارش اور طرز تحریر کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔ ممکن ہے کوئی تحریر دور حاضر کے اعتبار سے ثقل کی حامل ہو لیکن اپنے زمانے وعہدکے لحاظ سے ادبیت کے اعلی مقام پر فائز ہو اور اس دور کے اسلوب نگارش کے نقطہ نظرسے اس میں سادگی کا عنصربھی بدرجہ اتم موجود ہو۔ اس لیے کسی مکتوب پر سادگی اور پیچیدگی کا فیصلہ محقق کو اپنے دور کے لحاظ سے نہیں بلکہ مکتوب نگار کے عہد کو سامنے رکھ کر کرنا چاہیے۔
مکتوب نگاری میں اپنے احساسات اور قلمی واردات کی ترجمانی جن قلم کاروں نے سب سے زیادہ سادہ ،تکلف سے عاری اور دلنشیں اسلوب میں کی ہے وہ صوفیاہیں۔ ہندوستان جیسے وسیع اور تکثیری ملک میں ان صوفیا نے ملک سے طبقاتی کشمکش کو فرو کرنے ، انسانیت کو فروغ دینے، امن وآشتی کوعام کرنے، لوگوں کو ادب ،تہذیب ، اخوت اور مساوات کا خوگر بنانے ،مردہ دلوںمیں حیات نو پیدا کرنے اور جسد بے روح میں روح تازہ پھونکنے کے لیے جہاں اپنی زبان کے ذریعہ سعی پیہم کی وہیںاپنے قلم کی طاقت کو بھی بروئے کار لائے۔ چنانچہ ان صوفیانے لوگوں کے قلوب سے اخلاق رذیلہ کو ختم کرنے اور ان میں اوصاف حمیدہ واخلاق حسنہ پیدا کرنے کے لیے جہاںوعظ وخطابت کا سہارا لیا، وہیں مکتوبات کی شکل میںصفحہ قرطاس پر اپنے درد دل کو خون جگر سے رقم بھی فرمایا۔ یقینا ہندستان میں صوفیاکے مکاتیب نے حقیقی تصوف کی تعلیمات کو عام کرنے اور انسانی اقدار کی نشو نما میںجو کارنامہ انجام دیا ہے وہ آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔چنانچہ ہم درج ذیل سطور میں ہندوستان کے ان چند اہم مکتوب نگار صوفیاکا تذکرہ کریں گے جن کے مکتوبات جہاں تزکیہ نفوس اور تصفیہ قلوب کا اہم وسیلہ ہیں ،وہیں فارسی ادب کاایک بیش قیمت خزینہبھی۔
حضرت شرف الدین احمدیحیی منیری (661ھ۔782ھ)
حضرت منیر ی ایک کثیر التصانیف بزرگ تھے ، ان کے قلم گہربار نے طالبین حق اور سالکین طریقت کیلیے بیش بہا قیمتی جواہر چھوڑے ہیں۔ آپ کی تصانیف میں ’’ ارشاد الطالبین ، ارشاد السالکین ، رسالہ مکیہ وذکر فردوسیہ ، شرح آداب المریدین ، فوائد المریدین ، لطائف اشرفی،عقائد اشرفی، اورادکلاں، اوراد اوسط، اوراد خورد، رسالہ اشارات ، رسالہ در ہدایت حال ، مراۃ المحققین، رسالہ وصول الی اللہ اور رسالۂ اجوبہ‘‘ شامل ہیں، آپ کے ملفوظات کے دس مجموعے ہیں:’’معدن المعانی ، خوان پر نعمت ، راحت القلوب ، مخ المعانی ، مونس المریدین ، گنج لایفنی، فوائد الغیبی، مغز المعانی ، بحر المعانی او ر تحفہ غیبی ‘‘وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ تا ہم آپ کے مکتوبات جو تصوف وسلوک کا بیش قیمت خزانہ ہیں ، زیادہ معروف ہیں ، ان مجموعوں کا نام ’’ مکتوبات صدی ، مکتوبات دوصدی، مکتوبات بست وہشت اور فوائد رکنی ہے۔1؎
مکتوبات صدی : مکتوبات کا یہ مجموعہ100مکاتیب پر مشتمل ہے جن کو حضرت شرف الدین احمد یحییٰ منیری کے مرید خاص اور کاتب مولانا زین بدر عربی نے جمع کیا ۔ حضرت شرف الدین یحییٰ منیری نے یہ مکتوبات اپنے ایک مرید خاص قاضی شمس الدین حاکم چوسہ کو ارسال کیے تھے جو اپنی بے پناہ مشغولیت اور فرائض منصبی کی انجام دہی کی وجہ سے آپ کے پاس حاضر نہ ہوسکتے تھے ، ان کے اصرار پر آپ نے یہ خطوط747ھ میں و قتاً فوقتاً تحریر کیے ، جامع مکتوبات دیباچہ میں ان مکتوبات کے رشتہ تحریر میں آنے کی وجہ یوں ذکر کرتے ہیں:
’’چون قاضی شمس الدین حاکم قصبہ چوسہ کہ یکی از مرید انست کرات ومرات عرائض رفع کردوغرض اصلی ومقصود کلی دران این بود کہ این بیچارہ از سبب موانع روزگار زمانہ عذار از حضور مجلس مخدومی دور افتادہ است واز ملازمت خدمت کہ موجب حصول علم دینی ودنیا وی است باز ماندہ واین عجز بدین التماس مقرون گردانید کہ در ہربابی از علم سلوک بر قدر فہم این بندہ اگر چیزی در قلم آیدحظی ونصیبی از ان بر گیرد بنا برین ضرورت چندگان سطر بر قدر حصول حاجت وبر آمدن سوال سائل بندگی مخدوم عظمہ اللہ از مراتب ومقامات سالکان واحوال ومعاملات مریدان از توبہ وارادت وتوحید ومعرفت وعشق ومحبت وگردش روش وکشش وکوشش وبندہ بودن وبندگی کردن وتجرید وتفرید وسلامتی وملامتی وشیخی ومریدی وآنچہ امثال اینست از ما یحتاج مریدان وسالکان وحکایت سلف بر مصداق وملائم آن وشمۂ از احوال واعمال ایشان بہ قلم شفقت در تحریر آورد وبہ اوقات مختلفہ از خطہ ٔ بہار صانہا اللہ تعالی عن البوار در شہور سنۃ سبع واربعین وسبعمائۃ در قصبہ ٔ مذکور برسائل مذکور فرستادن فرمود‘‘ ۔ 2؎
(ترجمہ) ’’جب قاضی شمس الدین ، حاکم قصبہ چوسہ نے جو مخدوم کے مریدوں میں سے ہیں، باربار درخواست ارسال کی جس کا مقصد اصلی یہ تھا کہ یہ ناچیز وقت کی مجبوریوں اور زمانے کی معذوریوں کے باعث اپنے مخدوم کی مجلس سے دور ہوگیا ہے اورپیر کے فیض صحبت سے محروم ہوگیا ہے جو علم دینی اور دنیاوی کے حصول کا سبب ہے۔ اس بناپر بڑی عاجزی کے ساتھ بندہ التماس کرتا ہے کہ علم سلوک کے ہر باب میں اس بندے کے موافق اگر کچھ تحریر کیا جائے تو فیض مخدوم سے کچھ حصہ میں بھی حاصل کرلوں۔ اس ضرورت کی بنا پر سائل کے سوال کو پورا کرنے اور ان کی حاجت روائی کے لیے مخدوم( اللہ ان کو عظمت عطا کرے) نے چند سطریں تحریر فرمائیں، جن میں سالک کے مراتب ومقامات، مریدوں کے احوال ومعاملات، توبہ وارادت، توحید ومعرفت، عشق ومحبت ، سلوک وطریقت، مجاہدہ وجذبہ، بندہ ہونا اور بندگی کرنا، تجرید وتفرید، سلامتی وملامتی، اور پیری و مریدی، وغیرہ کو مریدوںاور سالکوں کی ضرورت کے مطابق بزرگوں کے افعال واعمال اور ان کے واقعات سے مدلل کرکے پیش کیا۔ اورمختلف اوقات میں خطہ بہار سے ( اللہ تعالیٰ اس کو آفتوں اور ہلاکتوں سے محفوظ رکھے) 747 ھ میں سائل مذکور کو ارسال فرمایا‘‘۔
اس اقتباس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس میں تصوف کے تمام اہم مسائل کو مدلل انداز میں زیر بحث لایا گیا ہے ، یقینا مکتوبات کے مطالعے سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ قرآنی آیات واحادیث نبوی سے گفتگو کو مدلل کیا گیا ہے ، امہات کتب تصوف کے اقتباسات سے کلام کو مزین کیا گیا ہے اور بزرگوں کی حکایات سے بیان میں تاثیر پیدا کی گئی ہے ۔ یہ مکاتیب اگر چہ ظاہراً فرد واحد کے لیے سپرد قرطاس کیے گئے تھے لیکن ان کا ایک ایک لفظ اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ تحریر کے وقت حضرت مخدوم کے ذہن میں صرف فرد واحد کی اصلاح مقصود نہیں تھی بلکہ ہر سالک کے قلب کی آبیاری مطمح نظر تھی ۔ان مکتوبات کی زبان نہایت شستہ ،سادہ، رواں اور قابل فہم ہے، تصنع وتکلف کا دور دور تک شائبہ نہیں ، زبان کی بر جستگی، تمثیلات واستعارات کی موزوں آمیز ش اوراشعار کا بر محل استعمال عبارت میں ادبی حلاوت اور بلا کی تاثیر پیدا کردیتاہے ۔
مکتوبات دوصدی : مکتوبات صدی کے22 سال بعد سن769ھ میںمکتوبات دوصدی کی تکمیل ہوئی، اس کے مرتب کا نام مطبوعہ نسخوں میں مولانا زین بدر عربی ہے مگر خدا بخش لا ئبریری کے مخطوطے میں کا تب کانام محمد بن محمد عیسی البلخی المدعو بہ اشرف بن رکن ہے ۔3؎یہ کتاب دو بار طباعت کے مرحلے سے گذر چکی ہے اور دونوںمطبوعہ نسخوں میں 154 مکتوبات ہیں لیکن خدا بخش کے خطی نسخے میں 208 مکتوب ہیں ۔4؎
مکتوبات دو صدی میں شامل مکتوبات کسی ایک خاص مرید کے نام نہیں ہیں بلکہ حضرت منیری نے مختلف وقتوں اور متفرق موقعوں میں مریدین اور معتقدین کی علمی صلاحیت اور ان کے فہم ودرک کی رعایت کرتے ہوئے تحریر فرمائے ہیں۔ جو مریدین اور معتقدین آپ کی خانقاہ میںبوجہ دوری اور دیگر اعذار کی بنا پر حاضر ہونے سے مجبور تھے۔ انھوں نے درخواست کی تھی کہ رشد وہدایت، تسلی قلوب اور راہ سلوک میں پیش آنے والی دشواریوں کے حل کے لیے کچھ رہنما ہدایات تحریر فرمادیا کریں تاکہ اس دوری کی بنا پر جو نقصان ہورہا ہے اس کا کچھ مداوا ہوسکے ۔ چنانچہ حضرت منیری نے ان کی درخواست کو شرف قبولیت عطاکی اور ہر ایک کے حالات ، وقت اورضرورت کے لحاظ سے چند سطروں پر مشتمل مکتوب رقم فرماکر ارسال کرنے کا حکم دیتے تھے۔ اسی طرح اگر کبھی کسی کے بارے میں یہ اطلاع ملتی کہ اس کو کوئی حادثہ یا سخت مصیبت پیش آگئی ہے تو اس کی طرف بھی فوراً مکتوب ارسال کرتے تاکہ وہ شدت ابتلا سے مغلوب ہوکر حد شرع سے نہ گذر جائے۔
حضرت مخدوم کے تحریرکردہ ان خطوط سے یہ بھی واضح ہوتاہے کہ انھوںنے یہ مکتوبات تحریر کرتے وقت اپنی علمی شان اورمرتبے کو مد نظر نہیں رکھا بلکہ مکتوب الیہ کے فہم وادراک کا خیا ل کیا۔ مکتوب الیہ کی علمی سطح اور فہم کی صلاحیت جس درجہ کی ہوتی وہ اسی اعتبار سے گفتگو کرتے ، جہاں کسی مبتدی سے واسطہ پڑا ہے وہاں نہ عبارت آرائی ہے اور نہ ہی بلند پردازی۔ سیدھے سادھے انداز میں بات کو بیان کردیتے ہیں اور جہاں کہیں منتہی سے محو کلام ہوتے وہاںپرشکوہ الفاظ ، اعلی مضامین اور محققانہ انداز بیان اختیار کرتے۔ اسی بنا پر بعض مقامات میں عبارت اتنی سہل ہے کہ معمولی استعداد کا حامل شخص بھی سمجھ لے اور کہیںعبارت اتنی ادق ہے کہ زبان وادب کے ماہرین کے لیے بھی سمجھنا دشوار ہوجائے۔ مکتوب الیہم کی تعدادزیادہ ہونے کی وجہ سے بعض مقامات پر مباحث میں توارد وتکرار بھی نظر آجاتا ہے۔
فوائد رکنی : اس میںشامل مکتوبات حضرت مخدوم اپنے مرید خاص حضرت رکن الدین کے سفر حج کے زمانے میں تحریر فرمائے جنھوں نے حضرت سے درخواست کی تھی۔ جس پر آپ نے ان کے لیے اٹھارہ فوائد تحریر فرمائے ۔ ان کی تصانیف کی فہرست میں ان مکتوبات کوبھی شامل کیا جاتا ہے اور بعض محققین اس مجموعہ مکاتیب کو آپ کے رسائل میں بھی شامل کرتے ہیں ۔5؎
مکتوبات بست وہشت: یہ دو سو سے زائد مکاتیب تھے جو حضرت نے اپنے مریدخاص شیخ مظفر بلخی کو لکھے ، مگر مکتوب الیہ اس کو عوام سے پوشیدہ رکھنا چاہتے تھے شیخ مظفر کے مریدین نے کئی بار درخواست کی کہ اس کی نقل تیار کرلیں تاکہ وہ بھی اس سے استفادہ کرسکیں اور اس کے ذریعہ اپنے قدموںمیں استقامت پیدا کرلیں۔ مگر شیخ مظفر نے اپنی حیات میں کسی کو یہ خط نہیں دیے اور وفات کے وقت یہ وصیت کردی کہ یہ خطوط ان کے ساتھ قبر میں دفن کردیے جائیں ، چنانچہ ان کی وصیت کے مطابق ان کے ساتھ ہی دفن کردیے گئے تھے۔ مگر اتفاق سے صرف28 مکاتیب دفن ہونے سے بچ سکے تھے جو بعد میں کتابی شکل میںجمع کر دیے گئے ۔ ان مکتوبات میںعظمت انسانی کا ذکر، اخلاقی قدروں کی تعلیم ، نفس کو کچلنے کی تلقین ، فقرا ومساکین سے ہمدردی اور دل کو عشق نبی سے معمور رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مکتوبات بست وہشت کو مکتوبات جوابی کے نام سے بھی شائع کیا گیا ہے ۔
مخدوم جہانیاں جہاں گشت (707ھ ۔785ھ)
حضرت مخدوم جلال الدین جہانیاں جہاں گشت بخاری آٹھویں صدی ہجری کے مشہور عالم ، شیخ طریقت ، سیاح معرفت اور سہروردی سلسلے کے نامور اساطین میںسے تھے ۔ ان کے علم وعرفان کے قلزم سے نہ صرف برصغیر کے تشنگان معرفت سیراب ہوئے بلکہ بیرون ہند کے بھی تشنگان معرفت وحقیقت اس بحر زخارسے سیراب و شادکام ہوئے ۔آپ حضرت جلال الدین سرخ بخاری کے پوتے اور حضرت احمد کبیر کے فرزند تھے۔6؎ آپ کے دادا جان نے بخاری کی سکونت ترک کرکے اوچ کو اپنا مستقل مسکن بنالیا تھا ۔ اور یہیں حضرت مخدوم کی پیدائش بتاریخ 14شعبان المعظم 707 ھ مطابق 19 جنوری 1308 بروز جمعرات ہوئی 7؎ اور اسی جگہ ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بعدازاںانھوںنے ملتان کی طرف تحصیل علم کے لیے کوچ کیا اور یہاں تحصیل علم کے بعد حجاز مقدس کی سرزمیں پر پندرہ سال سے زائد تحصیل علوم ظاہری وباطنی میں منہمک رہے۔ خاص طور پر علوم قرآنی کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ اگر چہ حضرت مخدوم کی ظاہری وباطنی تربیت آپ کے والد محترم کی سرپرستی میں ہوئی لیکن آپ نے سلوک کے اعلیٰ مراحل حضرت شیخ رکن الدین ابو الفتح قریشی کے حلقہ ارادت میں داخل ہوکر طے کیے اور ان کے سایۂ تربیت میں یگانہ روزگار بنے۔ بحرزخار میں خزانہ جلالی اور سیر الاولیا کے حوالے سے مذکور ہے کہ آپ نے تین سوسے زیادہ مشائخ کے ہاتھوں سے خرقہ خلافت پہنا اور آخر میں اپنے دور کے ایک عظیم بزرگ حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی سے خلعت خلافت حاصل کی 8؎ ۔حضرت مخدوم کو سیروسیاحت سے بہت شغف تھا چنانچہ کئی بلاد اسلامیہ کی خاک چھان کرانھوںنے وہاں کے علمائے عظام اور صوفیائے کرام کے فیوض وبرکات سے اپنے دامن کو پر کیا۔ اسی بناپر ’’ جہاں گشت‘‘ کے لقب سے معروف ہوئے۔ سیر وسیاحت سے فراغت کے بعد اوچ شریف میں اپنے آبائی مدرسے میں باقاعدہ تدریس کا اہتما م فرمایا اور زندگی کی 87بہاریں دیکھنے کے بعد اوچ میں ہی 10 ذی الحجہ 785ھ/ 3فروری1384 کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے9؎۔ آپ نے اپنے دورحیات میں علاؤ الدین خلجی (ف 715) سے لے کر فیروز شاہ تغلق (ف 790) تک سات سلاطین دہلی کے ادوار دیکھے اور محمد تغلق کے عہد (725ھ تا 754ھ) میں شیخ الاسلام کے عہدے پر فائز ہوئے اور سیوستان کے علاقے میں چالیس خانقاہوں کا انتظام ان کے سپرد ہوا ۔10؎
تصانیف : آپ کی تصانیف میں شیخ قطب الدین دمشقی کے رسالے ’’ رسالہ مکیہ ‘ ‘ کا فارسی ترجمہ ، اربعین صوفیہ ، فوائد اعمال واشغال، مسافر نامہ اور ایک نا مکمل فارسی ترجمہ قرآن شامل ہے ۔ آپ کے ملفوظات کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے جن کے نام اس طرح ہیں : مناقب مخدوم جہانیاں، خلاصۃ الالفاظ جامع العلوم، خزانۂ جلالی ، جواہر جلالی ، مظہر جلالی ، فوائد المخلصین اور سراج الہدایہ 11؎
مقرر نامہ: مقرر نامہ حضرت مخدوم کے مکتوبات وہدایات کا مجموعہ ہے ،مخدوم جہانیاں نے یہ خطوط تاج الحق والدین احمد بن معین سیاہ پوش علوی کو مخاطب کرکے لکھے تھے اور مکتوب الیہ ہی نے776ھ/1374 میں ان خطوط کو مرتب بھی کیا ۔یہ خط وکتابت شیخ معز الدین کے ذریعہ ہوئی تھی، اس مجموعے میں کل 42 مکتوبات ہیں، ہر مکتوب ’’مقرر فرزندی باد ‘‘ کے لفظ سے شروع ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کا نام ’’مقر ر نامہ ‘‘ رکھا گیا ہے۔ کسی مکتوب میں تاریخ کا اندراج نہیں ہے اور نہ تخاطب کے الفاظ تحریر ہیں ، یہا ں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مصنف نے وقتًا فوقتًا مختلف موضوعات پر ایک کامل نصیحت نامہ مرتب کیا ہے اور ایک موضوع کے بعد دوسرا موضوع شروع کرتے وقت ’’ مقر ر فرزندی باد‘‘ کے الفاظ دہرائے ہیں۔ ایک دو مقامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ’’ مقررنامہ‘‘ قسطوں میں بھیجا گیا ہوگا۔ ان مکاتیب میں سے بعض مختصر ہیں اورصرف دس سطروں پر ہی محیط ہیں اور بعض طویل ہیں جوچار چار پانچ پانچ صفحات پر مشتمل ہیں۔مصنف نے مکاتیب کے اس مجموعے میں، فقر واستغنا، ادب واخلاق، ریاضت وعبادت کے متعلق آیات واحادیث، اقوال صوفیا وارشادات اکابر اور واقعات وحکایات سے استدلال کرکے مفید اور آزمودہ نصیحتیں لکھی ہیں اور عمل کرنے کی تاکید کی ہے ۔ مزید برآں علم وعمل کے اجتماع کی ضرورت ، پیر ومریدی کے آداب، مناظرہ ومباحثہ سے احتراز اور مراقبہ ومحاسبہ سے متعلق بھی رہنما ہدایات تحریر کی ہیں۔ مکاتیب کی زبان سادہ اور سلیس ہے ۔ جملوں میں طوالت اور پیچیدگی نہیں ہے۔
سید محمد حسینی گیسو دراز دہلوی(721ھ۔825ھ)
سید محمد حسینی گیسو دراز کے مکتوبات بھی فارسی ادب میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں ،حضرت گیسو دراز کو شمالی ہند میں سلسلہ چشتیہ اور سہروردیہ کے بزرگوں میں اولین مصنف ہونے کا بھی شرف حاصل ہے، آپ شیخ نصیر الدین محمود اودھی کے ممتاز اور بزرگ ترین خلفا میںسے تھے اوراپنے عہد کے عظیم مشائخ اور مایۂ ناز اولیا میں آپ کا شمار ہوتا تھا۔ آپ کی ولادت دہلی میں4 رجب721 ھ/1321 کو ہوئی۔ 12؎( اگر چہ سیر محمدی میں آپ کی ولادت 721 ھ درج ہے لیکن لطائف اشرفی میں 720 تحریر ہے اور اس کا حوالہ سیر محمدی کے محشی نے بھی دیا ہے ) لیکن چار برس کی ہی عمر میں اپنے والد مخدوم سید محمد یوسف معروف بہ شاہ راجو قتال کے ہمراہ سلطان محمد تغلق (1351-1325 )کے حکم پر دولت آبادمنتقل ہوگئے۔ اس زمانے میں دولت آباد کے صوبہ دار حضرت گیسو دراز کے ماموں ملک الامرا سیدابراہیم مستوفی تھے۔لیکن جب آپ کی عمر دس سال کی ہوئی تو والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ، جس کے بعد اپنے ماموں کے یہاں قیام پذیر رہے اور یہیں آپ نے اپنے نانا جان سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ پھر دوسرے اساتذہ سے مصباح اور قدوری پڑھیں۔ آپ کے والد اور نانا دونوں کو حضرت نظام الدین اولیاسے ارادت تھی اور یہ دونوں حضرات حضرت نظام الدین اولیا کے حالات وفضائل مستقل سنا یاکرتے تھے، جس سے زمانہ طفولت سے ہی صوفیائے کرام خاص طور پرانھیں خواجگان چشت سے عقیدت ہوگئی تھی۔ اس کے بعد جب آپ اپنی والدہ محترمہ کے ساتھ 736 ھ میں دہلی واپس لوٹے ، تو اسی سا ل صرف پندرہ سال کی عمر میں حضرت چراغ دہلوی کے دست مبارک پر بیعت کی اور اپنے مرشد کے زیر سایہ سلوک کے اعلی منازل طے کرتے رہے۔ علاوہ ازیں علوم ظاہری کی تکمیل اور اس میں رسوخ پیدا کرنے کے لیے معروف اساتذہ دہلی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ جن میں مولانا سید شرف الدین کیتھلی ، مولانا تاج الدین بہادر اور مولانا قاضی عبد المقتدر جیسے جبال علم شامل ہیں۔ 13؎ 14؎ضرت چراغ دہلوی(ف 757 ھ )نے اپنی وفات سے تین روز قبل حضرت گیسو دراز کو خلعت خلافت عطا کی ،اور ایک طویل مدت تک اس کے بعد آپ دہلی میں ہی مقیم رہے۔ امیر تیمور کے دہلی پریلغارکے بعد آپ نے 7 ربیع الثانی801 ھ کو دہلی سے کوچ کیااور بہادر پور، گوالیار ، بھاندیر، ایرچہ، چندیری، کھنبایت ، بڑودہ ، سلطان پور اور دولت آباد جیسے شہروں میں مختصر قیام کرتے ہوئے گلبرگہ پہنچ گئے ، جو اس وقت شاہان بہمنی کا پایہ تخت تھا ،یہاں سلطان وقت فیروز شاہ بہمنی نے بڑی عقیدت واحترام کے ساتھ آپ کا خیر مقدم کیا اور آپ نے پھر یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 22 سال یہاںرشد وہدایت کا چراغ روشن کیا اور لاکھوں لوگوں کو اپنے چشمۂ فیض سے سیراب کیا ،آخر کار16ذی قعدہ 825 ھ/1422 کو سلطان فیروز شاہ بن غیاث الدین محمد شاہ بن سلطان علاؤ الدین المعروف حسن کانگو بہمنی کے عہد میںجان ،جا ن آفریںکے سپرد فرمادی۔15؎
تصانیف: کثرت تصانیف کے لیے آپ کی شخصیت اہل علم وعرفان کے درمیان معروف ومشہور ہے۔ تقریبا 105 کتابیں آپ کے قلم سے منصہ شہود پر آئیں۔ علوم اسلامی کا کو ئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس پر آپ کے قلم نے جولانی نہ دکھائی ہو۔
مکتوبات: حضرت گیسو درازکے مکاتیب ان کے تبحر علمی اور میدان تصوف کے عظیم شہسوارہونے پر دال ہیں۔ ان مکاتیب میں اسرار تصوف ورموز شریعت کا بیان اوراہل دل کے لیے تزکیۂ نفس اور راحت قلب کا سامان بدرجہ اتم موجود ہے۔ اسلوب خطابانہ لیکن موثرہے۔ الفاظ میں روانی اور سلاست ہے ، سجع کی عام طور پر رعایت ہے لیکن کہیں بھی عبارت میں ثقل کا احسا س نہیں ہوتا ۔ اور جا بجا اشعار ومصرعوں کا بر محل استعمال عبارت میں جاذبیت اور کشش پیدا کردیتا ہے ۔ان مکتوبات کو مولانا رکن الدین ابو الفتح علاء قریشی نے 852 ھ میں جمع کرکے کتاب کی شکل میں مرتب کیا۔ ان مکتوبات کے مرتب مولانا رکن الدین اور ان کے والدحضرت علاء الدین گوالیری قدس سرہما سید گیسو دراز کے اجل خلفامیں سے ہیں بلکہ حضرت علاء پہلے بزرگ ہیں جن کو خلافت ملی تھی ’’مکتوبات خواجہ گیسو دراز‘‘ کے مجموعے میں حضرت مخدوم کے 66 مکتوبات ہیں ۔ان میں سے ایک مکتوب سلطان فیروز بہمنی بادشاہ گلبرگہ کے نام اور ایک مکتوب حضرت مسعود چشتی کے نام ہے ۔ بقیہ تمام مکاتیب مریدوں اور خلفا کو لکھے گئے ہیں ۔ علاوہ ازیں اس مجموعہ مکاتیب میں حضرت گیسو دراز کے بڑے فرزند سید محمد اکبر حسینی کے سات مکتوب، فرزند اصغر حضرت سید محمد اصغر حسینی کے چار مکتوب اور قاضی سراج الدین مرید حضرت گیسو دراز کا ایک مکتو ب بھی شامل ہے ۔ کتاب کے آخر میں تین خلافت ناموں کی نقلیں بھی شریک کی گئی ہیں۔ ایک خلافت نامہ حضرت شیخ علاء الدین کو،دوسراحضرت رکن الدین ابو الفتح کو اور تیسرا عام خلافت نامہ جو حضرت مخدوم نے لکھوا کر محفوظ کررکھا تھا۔ جب کسی مرید کو خلافت دیتے تو اس کی نقل کروا کر ان کا نام لکھ کر انھیں دے دیتے ۔16؎ ان مکتوبات کو مولوی سید عطا حسین نے مکتوبات کے خطی نسخوں کی کمیابی کے باوجود نہایت عرق ریزی سے اس کو ایڈٹ کیا اور ’’کمیٹی نشرو اشاعت تصانیف عالیہ حضرت خواجہ صاحب ‘‘ کے حسن سعی سے نواب محمد امیر علی خان بہادر صوبہ دار صوبہ گلبرگہ شریف کی سرپرستی میں1362 ھ میں یہ تمام خطوط طباعت کے مرحلہ سے گذرے۔
میر سید اشرف جہانگیر سمنانی(732ھ۔ 832ھ)
سید اشرف جہانگیر سمنانی کاشمار بھی کثیر التصانیف صوفیاکرام میں ہوتا ہے۔ان کی ولادت 732ھ میں شہر خراسان میں ہوئی۔ 17؎آپ کا سلسلہ نسب سیدنا امام حسین سے ملتا ہے۔ والد ماجدکا نام سلطان ابراہیم تھا ، جو سمنان (خراسان) کے بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عارف کامل اور صوفی با کمال بھی تھے۔ صرف بارہ سال کی عمر میں تخت سلطنت پر جلوہ افروز ہوئے لیکن کم سنی کے باوجود پوری مملکت میں عدل وانصاف کا دریا رواںدواں کردیا۔ ان کی والدہ بی بی خدیجہ حضرت سید احمد یسوی کی اولاد میں سے تھیں۔ بی بی خدیجہ بھی نہایت متقی اور پرہیزگار تھیں۔ وہ ہمہ وقت باوضو رہتیں اور ان کی زبان اللہ کے ذکر سے تر رہتی، قرأت قرآن اور ادائیگی نوافل میں ان کے شب وروز گذرتے، اکثر وبیشتر وہ دنوںکو صیام سے اور راتوں کو قیام سے آبا د رکھتیں۔ نماز کیا کبھی ان کی تہجد کی نماز بھی فوت نہ ہوئی، ایسے نیک اور متقی والدین کی اولاد کی صالحیت میں کیا تردد کی گنجائش ہے۔ چنانچہ عبد الرحمن چشتی کے بقول آپ مادر زاد ولی تھے اور علم لدنی کے دروازے آپ پر کشادہ تھے۔ صرف سات سال کی عمر میں قرأ ت سبعہ کے ساتھ قرآن مجید حفظ کیا اور صرف چودہ برس کی عمر میں تمام علوم عقلیہ اور نقلیہ پر کامل دسترس حاصل کرلینے کے بعد مسند درس پر جلوہ افروز ہوگئے اور جلد ہی آپ کی شہرت عراق کے اطراف واکناف میں پھیل گئی 18؎۔ لیکن ابھی عمر کی پندرہ بہاریں ہی دیکھی تھیں کہ ان کے والدنے دار بقا کو اپنا مسکن ابدی بنا لیا ۔ والد کے انتقال کے بعد آپ ان کی جگہ مسند آرائے سلطنت ہوئے اور اپنے عہد سلطنت میں شہر سمنان کو اپنے آب ِعدالت اور سحاب ِسخاوت سے ایسا گلزارکیا کہ شاہانِ اطراف اور خسروانِ اکناف رشک کناں رہ گئے۔
اشرف سمنانی نے فرمانروائی کے ساتھ ساتھ علوم باطنی کے حصول کی طرف توجہ مبذول کی جس کی بنیاد پہلے سے ہی آپ کے خمیر میں ہی رکھ دی گئی تھی۔ چنانچہ میر علاؤ الدین سمنانی اور دیگر مشائخ سمنان کی صحبت کیمیا سے آپ نے سلوک ومعرفت کی منازلیںطے کیں اور آخر کار عشق حقیقی کی آگ ان کے قلب وجگرمیں اس قدر فروزاں ہوئی کہ دام سلطنت سے خود کو آزادکردیا اور اپنے چھوٹے بھائی سلطان محمد کو امور سلطنت تفویض کرکے والدۂ محترمہ کی اجازت سے ہندوستان کا رخ کیا۔19؎ ۔ آپ اس سفر میں بخارا اور سمرقند کے راستے اوچ پہنچے اور یہاں جلال الدین حسین بخاری معروف بہ مخدوم جہانیان جہاں گشت سے ملاقات کی ، مخدوم جہانیان نے حضرت کاپرجوش خیر مقدم کیا اور فرمایا کہ :
’’بعد از مدتی بوئی طالب صادق بدماغ رسیدہ‘‘20؎
(ترجمہ)’’ایک مدت کے بعد طالب صادق کی خوشبو دماغ میں پہونچی‘‘۔
پھر یہاں سے منزل بہ منزل دہلی پہونچے اور دہلی سے بہار کے راستے بنگال کی سرزمین پر قدم رکھا جہاں شیخ علاؤ الدین پنڈوی پہلے سے ہی آپ کے منتظر تھے۔ شیخ علاؤ الدین نے آپ کو اپنے حلقہ ارادت میں داخل کیا ، یہاں بارہ سال کی طویل مدت تک شیخ کے زیر تربیت راہ سلوک کی منزلیں طے کیں اور ولی کامل بن کر شیخ سے جہانگیر کا خطاب پایا۔21؎یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جہانگیرتصوف کی اصطلاح میں قطب کوکہتے ہیں۔ مقام قطب پر فائز ہونے کے بعد شیخ نے رشد وہدایت کی شمع روشن کرنے کے لیے آپ کو شہر جونپور کی طرف روانگی کا حکم دیا ۔ شیخ کے حکم کی تعمیل میں آپ نے اپنے پیر ومرشد کو بادل ناخواستہ الوداع کہا اورمنزل مقصود کی طرف چل دیے۔ راستے میں منیر اور محمد آباد گہنہ (موجودہ اعظم گڑھ) میں مختصر قیام کرتے ہوئے ظفر آباد پہونچے ۔22؎ ظفرا ٓباد میں ایک مسجد کو آپ نے اپنی جائے قرار بنایا اور یہاں پہلے سے مقیم شیخ کبیر جیسے بڑے بزرگ آپ کے حلقہ ارادت میں داخل شامل ہوئے ۔بعدازاںجونپور روانہ ہوئے جو آپ کی منزل اصلی تھی۔ اس کے بعد آپ نے کچھوچھہ کا رخ کیا اور اس کا نام روح آباد رکھ کر اسے خانقاہ اور مرکز تبلیغ کے لیے منتخب فرمایا اور ہزاروں بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ ہدایت پر گامزن کرنے اور ایمان کے نور سے محروم سیکڑوں لوگوں کو ایمان کی روشنی سے منور کرنے کے بعد آپ نے بیرون ہند کے لئے رخت سفر باندھا ۔وسط ایشیا اور بر صغیر کا کوئی ایسا اہم گوشہ نہیں ہے جو آپ کے قدموں کی برکت سے محروم رہا ہو۔ میر سمنانی نے اپنے عصر کی نابغہ ٔ روزگار ہستیوں سے کسب فیض کی غرض سے کبھی مشرق کی خاک چھانی تو کبھی مغرب کی بادہ پیمائی کی اور تقریبا 190 صوفیاوشیوخ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرکے ان کے روحانی فیوض سے اپنے دامن علم کو پرکیا اور آخر کار کچھوچھہ کی سرزمیںپر تزکیہ نفس اور اصلاح باطن کی غرض سے پڑاؤ ڈالا اور یہیں زندگی کی سو بہاریں دیکھنے کے بعد28 محر م الحرام 832ھ کو دار فنا سے دار بقا کی طرف کوچ کرگئے ۔23؎
تصنیفات:سید اشرف جہانگیر سمنانی کے مبارک قلم سے صوفیانہ ادب اور دیگر مختلف علوم پر عدیم النظیر تصنیفات منظرعام پر آئیں۔ ان تصنیفات میں موجود تنوع اس بات کی طرف مشیر ہے کہ آپ جامع علوم وفنو ن تھے اور آپ کا مطالعہ نہایت عمیق وسیع تھا۔آپ کی جن تصانیف کا ذکر ملتا ہے ان کے نام کچھ یوں ہیں: اشرفیہ (رسالہ نحو عربی)، ہدایہ پر حاشیہ، اصول فقہ، شرح فصوص الحکم، بشارت الذاکرین،شرح عوارف المعارف ،فوائد العقائد ، بحر الانساب، رسالہ اشرف الفوائد ، فوائد الاشراف، اشرف الانساب، بحر الاذکار، تنبیہ الاخوان، رسالہ مناقب خلفائے راشدین، بشارت الاخوان، حجۃ الذاکرین، فتاویٰ اشرفیہ، نور بخشیہ( تفسیر قرآن)، زیچ سامانی،دیوان اشرف، اوراد اشرفیہ، مراۃ الحقائق( شرح کنز الدقائق) ، رسالہ غوثیہ، بشارت المریدین المعروف رسالہ قبریہ، رسالہ سماع، رسالہ وحدت الوجود،رسالہ مناقب صحابہ، رسالہ تجویزیہ، رسالہ حقیقت عشق۔ ان میں سے کچھ تصانیف دستیاب ہیںجبکہ بعض زمانے کی دستبرد سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ 24؎
شیخ عبد القدوس گنگوہی (861ھ۔945ھ)
شیخ عبد القدوس گنگوہی سلسلہ چشتیہ صابریہ کے ایک مایۂ ناز بزرگ اور وحدت الوجود کے پرزور داعیوں میں سے تھے ۔ آپ کی پیدائش قصبہ ردولی میں 861 ھ میں ہوئی ۔ والد ماجد کا نام شیخ اسمعیل اور جد امجد کا اسم گرامی شیخ صفی الدین تھا۔25؎ حضرت شیخ صفی الدین اپنی جلالت علمی کی بنا پر ابو حنیفہ ثانی کے لقب سے مشہور تھے اور شیخ شرف الدین جہانگیر سمنانی سے خلافت پائی تھی۔شیخ عبد القدوس نسبًا امام ابو حنیفہ کی اولاد میں سے تھے۔ بایں وجہ آپ نے ہر مکتوب میں اپنے اسم گرامی کے ساتھ ’’الحنفی‘‘ تحریر فرمایا ہے۔ آپ نے ردولی کے ایک عظیم بزرگ شیخ احمد عبد الحق کے پوتے شیخ محمد بن عارف کے ہاتھ پر بیعت کی اور ان سے سند خلافت بھی حاصل کی۔ لیکن آپ نے اپنی توجہ کا اصل مرکز شیخ احمد عبد الحق کو ہی بنایا۔ ان سے ہی روحانی فیض حاصل کیا اور ان کی باطنی تربیت سے اپنے آپ کو فیض یاب کیا۔مدارج سلوک طے کرنے کے بعد آپ نے ابتدائً ردولی میں ہی ارشاد وتربیت کا سلسلہ جاری کیا لیکن سلطان سکندر لودھی کے امیر اعظم عمر خان کاشی کی درخواست پر 896ھ/1490 میں اپنے اہل وعیال کے ساتھ ردولی سے کوچ کرکے شاہ آبا د کو اپنا مسکن بنایا ، قصبہ شاہ آباد دہلی کے نواح میں واقع ہے۔ یہاں آپ تیس سال سے زیادہ عرصے تک مسنددعوت وارشادپر جلوہ افروز ہوکر خلق خدا کوخدا سے ملاتے رہے لیکن 932 ھ میں جب بابر نے سلطان ابراہیم سکند لودھی کو پانی پت کے میدان میں شکست دے کر قتل کیا تو شاہ آباد پر افغانوں کا خاص علاقہ ہونے کی بنا پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ بابر نے افغانوں کو منتشر کرنے کے لیے شاہ آباد کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ شاہ آباد کی اس بربادی کے بعد آپ نے یہاں سے ترک سکونت کرکے مع اپنے متعلقین کے گنگوہ کی سرزمین کا رخ کیا اور اسی سرزمین کو پھر اپنی دعوت وسلوک کا مرکز بنالیا اور یہیں 23 جمادی الآخر945ھ/1537 میں84 سال کی عمر میںاپنی جان جان آفریں کے سپرد کی۔ 26؎
تصانیف : شیخ عبد القدوس کی عمر کا زیادہ ترحصہ عبادت وریاضت اور اصلاح وتربیت میں گذرا مگراس کے باوجود انھوں نے مختلف علوم وفنون میںپر مغز کتابیں تصنیف کی ہیں۔
ان تصانیف پر تبصرہ کرتے ہوئے شیخ بدہن بن رکن جونپوری المشہور بہ میاں خاں ابن قوام الملک مکتوبات قدوسیہ کے مقدمے میں تحریر فرماتے ہیں :
’’ کلمات وتصانیف بندگی حضرت مخدوم عالم ضیاء الاسلام درسیر سلوک کتابہا عجائب وغرائب ست ہر مشکلیکہ باشد در راہ سلوک از طریقت وحقیقت ومعرفت وذکر وذاکر ومراقبہ ومشاہدہ ومکاشفہ وتجلی وانوار وزہد وتقوی وتوبہ وانابت وپیر ومرید وسماع وصوفی وفقر وفنا وبقا ومانندان بسیار است آنجا معلوم کند ‘‘27؎
( ترجمہ )’’حضرت مخدوم عالم ضیاء الاسلام( شیخ عبد القدوس گنگوہی ) کی تصوف میں موجود تصانیف میں بڑی نادر کتابیں ہیں ، اس سلوک کے سفر میں طریقت ، حقیقت ، معرفت ، ذکر، ذاکر، مراقبہ، مشاہدہ ، مکاشفہ، تجلی، انوار ، زہد ، تقوی ، توبہ، انابت، پیر ، مرید ، سماع، صوفی، فقر، فنا ، بقا اور اس جیسی بہت سی چیزوں کے تعلق سے جو مشکلات پیش آتی ہیں ان سب کا حل یہاں موجود ہے‘‘ ۔


مکتوبات قدوسیہ
شیخ گنگوہی کے مکتوبات حقائق ومعارف لدنی ، اسرار ورموز کون ومکانی سے لبریز ہیں اور حد درجہ ذوق وشوق ، سوز وگداز ،ہجر وفراق،آہ وبکا اور نالہ وفریاد میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ شیخ گنگوہی کے اکثر مکتوبات ان کے مرید وخلیفہ کی طرف ارسال کردہ ہیں۔ علاوہ ازیں انھوںنے کچھ بادشاہوں اور امرا کو بھی خطوط تحریر فرمائے۔ شیخ کو لودھی افغانوں سے قلبی تعلق تھا کیونکہ وہ لودھیوں کو خصوصا سکندر لودھی کو اسلام کی سر بلندی کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اسی وجہ سے آپ سکند ر لودھی اور ان کے امرا اورسلاطین کوا پنے مکتوبات کے ذریعہ دین متین کی ترویج واشاعت کے لیے مستقل مہمیز کیا کرتے تھے ۔علاوہ ازیں آپ نے مغل بادشاہ بابر اور ہمایوں کو بھی بغرض اصلاح خطوط تحریر فرمائے یہاں تک کہ ہمایوں بادشاہ خود حقائق ومعرفت کے مسائل سمجھنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا28؎۔ان خطوط کے مرتب شیخ بدہن بن رکن جونپوری المعروف بہ میاں خان بن قوام الملک ہیں۔ ان خطوط کی ترتیب کے سلسلے میں وہ خود تحریر فرماتے ہیں :
’’بعضی اوقات کہ از آستانہ حضرت علیا صحیفہ ومکتوبی بہ جانب ومریدی ومرشدی ویا بہ جانب دوستی ومعتقدی صادر می شد این ضعیف نسخہ کردہ می گرفت بدین طریق چند صحیفہ ومکتوب جمع کردہ شدند‘‘۔29؎
(ترجمہ)’’ بعض اوقات حضرت علیا (شیخ عبد القدوس)کے آستانہ سے کوئی صحیفہ اورمکتوب کسی مرید ، مرشد ، دوست یا معتقد کی طرف ارسال کیا جاتا۔ یہ ضعیف اس کی ایک نقل کرکے اپنے پاس رکھ لیتا۔ اس طرح چند صحیفے اور مکتو ب ان کے پاس جمع ہوگئے‘‘۔
ان خطوط کے زبان وبیان کی سطح اگرچہ تھوڑی بلند ہے لیکن دقت نظر سے ان کا مطالعہ راہ حق کے جویا حضرات کے لیے مشعل راہ کا کام دیتا ہے۔ متداول مطبوعہ نسخوں میں مکتوبات قدوسیہ کی کل تعداد 193 ہے اس کے علاوہ آپ کے مزید6 مکتوبات کو بھی علیحدہ طورپر شائع شدہ مکتوبات کے ساتھ شامل کیا گیا ہے جو آپ کے فرزند اکبر شیخ حمید الدین کے کتب خانے سے حاصل ہوئے تھے ۔
حضرت شیخ احمد سرہندی(971ھ۔ 1034ھ)
صوفیائے کرام کے مکتوبات میں سے جن کو ملک وبیرون ملک سب سے زیادہ شہرت دوام حاصل ہوا وہ شیخ احمد سرہندی کے مکتوبات ہیں جو ’’مکتوبات امام ربانی‘‘ کے نام سے معروف ومتداول ہیں ۔ آپ کا اسم گرامی احمد،کنیت ابو البرکات، لقب’’بدر الدین ‘‘اور خطاب’’امام ربانی‘‘اور ’’مجدد الف ثانی‘‘ہے، آپ کی ولادت سرہند میں شب جمعہ14 شوال 971ھ/5 جون 1564 کو ہوئی، تاریخ ولادت لفظ’’ خاشع‘‘ سے نکلتی ہے30؎۔آپ کے والد بزرگوار کا نام نامی عبد الاحدہے اور’’ مخدوم‘‘کے خطاب سے مشہور ہوئے، اسی خطاب کی نسبت سے آپ کی اولاد کو مخدومی کہا جاتا ہے ، آپ کے سات صاحبزادے تھے،حضرت شیخ احمد سرہندی ان میں سے چوتھے صاحبزادے تھے۔جب وہ سن شعورکو پہنچے تو مکتب میں آپ کا داخلہ کرادیا گیا جہاں آپ نے قلیل عرصے میں ناظرہ وحفظ قرآن کی تکمیل کرلی،بعد ازاں علوم مروجہ کے حصول کی طرف متوجہ ہوئے ، ابتدائی درسی کتب آپ نے اپنے والد بزرگوار سے پڑھی پھر منتہی کتب پڑھنے کے لئے وطن سے کوچ کیا اور سیالکوٹ کی طرف رخت سفر باندھا جو اس وقت کا مدینۃ العلم تھا یہاں مولانا کمال کشمیری کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا جن کو منطق ، فلسفہ ، علم کلام اور اصول فقہ میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ ان سے معقولات کی چند مشکل کتب مثلا عضدی وغیرہ پڑھیں ۔ پھر دہلی کے طر ف حصول علم کے لیے رخ کیا اور یہاں مولانا یعقوب صرفی کشمیری سے حدیث کی بعض اہم کتب پڑھیں ،جوقطب وقت شیخ حسین خوارزمی کے خلیفہ اور امام ابن حجر مکی و امام عبد الرحمن بن فہد مکی کے علم حدیث میں شاگرد تھے۔ علاوہ از یں حضرت مجدد نے تفسیر واحدی ودیگر مصنفات واحدی مثلا بسیط، وسیط واسباب نزول،تفسیربیضاوی ودیگرمؤلفات بیضاوی مثلا منہاج الوصول، غایۃ القصوی وغیرہ۔ امام بخاری کی صحیح ودیگر تالیفات مثلاثلاثیات، الادب المفرد،افعال العباد وتاریخ وغیرہ۔ مشکوۃ المصابیح، شمائل ترمذی، سیوطی کی جامع صغیر اورشیخ سعید بوصیری کے قصیدہ بردہ کا درس عالم ربانی شیخ بہلول بدخشانی سے لیا۔ مذکورہ کتب اور حدیث مسلسل کی روایت واجازت بھی موصوف سے حاصل کی جنھیں ان کتابوں اور حدیث مذکورہ کی روایت واجازت شیخ عبد الرحمن بن فہد مکی سے حاصل تھی۔ شیخ عبدالرحمن کے خانوادے کو علم حدیث سے نہایت شغف تھا او ر اس فن میں وہ نہایت اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔31؎اس طرح حضرت مجدد نے علم وفن اپنے عہد کی نابغہ شخصیات سے حاصل کیا اور ان سے سند اجازت بھی پائی اور ابھی عمر کی صرف سترہ بہاریں دیکھی تھیں کہ تمام علوم عقلیہ ونقلیہ سے فارغ التحصیل ہوگئے۔ 1008 میں حضرت باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور محض دو تین ماہ میں ہی اعلی مدارج طے کر لیے اور اس کے بعد پوری زندگی اسی راہ سلوک کے مسافر کی حیثیت سے بسر کی۔
مکتوبات امام ربانی
شیخ احمد سرہندی کے مکتوبات کا مجموعہ ’’مکتوبات امام ربانی‘‘ کے نام سے اہل علم ودل کے یہاں معروف ومشہور ہے، یہ مکتوبات تین دفتروں میں ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
دفتر اول، موسوم بہ درالمعرفت ہے جو اس د فتر کا تاریخی نام ہے۔ اس دفتر کی تکمیل 1025ھ میں ہوئی۔ یہ کل313 مکتوبات پر مشتمل ہے۔ اس کے مرتب خواجہ یار محمد جدید بدخشی طالقانی ہیں جو حضرت مجدد صاحب کے مرید ہیں، دوسرے دفتر کے دیباچے میںدرج ہے کہ جب حضرت مجدد نے سنا کہ313 مکتوبات جمع ہوچکے ہیں تو ارشاد فرمایا کہ چونکہ 313 کا عدد ایک مبارک عدد ہے کیونکہ حضرات پیغمبر ان مرسلین علیہم السلام کا بھی یہی عدد ہے۔ اور حضرات صحابہ اہل بدر رضی اللہ عنہم کا بھی یہی عدد ہے اس لیے دفتر کو اسی مبارک عدد پر تیمناً ختم کردو32؎۔ دفتر اول کے مکتوبات میں تصوف کے تمام مقامات واحوال مثلا عروج وھبوط، فنا وبقا ، مراقبہ ومشاہدہ ، جذب وسلوک ، جلال وجمال، ذات وصفات حق تعالی، مقام عبدیت اور سیر الی اللہ کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
دفتر دوم، موسوم بہ نورالخلائق ہے۔ یہ تاریخی اسم 1028سے نکلتا ہے جو اس کے جمع ہونے کی تاریخ ہے۔ اس میںکل 99مکتوبات ہیںاس کے مرتب خواجہ عبدالحی ابن خواجہ چاکر حصاری مرید حضرت مجدد صاحب ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ مخدوم زادہ یعنی شیخ مجدالدین عرف خواجہ محمد معصوم (صاحبزادہ حضرت مجددصاحب) کے حکم سے میں نے ان مکتوبات کو جمع کیا ہے،33؎ تیسرے دفتر کے دیباچے میں درج ہے کہ جب 99عدد کے برابر مکتوبات جمع ہوگئے تو دوسرے دفتر کو تبرکاًاس پر ختم کردیا گیاکیونکہ اسمائے حسنیٰ کابھی یہی عدد ہے34؎۔ دفتر دوم کے مکتوبات میں اسلامی نظریات وعقائد اور ملت کی زبوں حالی اور آشفتہ سری کو قلمبند کیا گیا ہے۔
دفتر سوم : موسوم بہ معرفۃ الحقائق ہے۔ اس میں کل 124 مکتوبات ہیں ، دفتر دوم کے اختتام کے بعد دفتر سوم کی ترتیب وتدوین کا آغاز میر محمد نعمان نے کی۔ لیکن میر نعمان کو دکن جانا پڑا اور حضرت مجدد کو جہانگیر کے دربار میں حاضر ہونا پڑا جہاں سجدۂ تعظیمی نہ کرنے کی وجہ سے ماہ جمادی الاخریٰ 1028 ھ کو قلعہ گوالیار میں محبوس کردیا گیا جس کے سبب دفتر سوم کی تکمیل رک گئی۔ اس کے بعد جب حضرت مجدد کو رہائی نصیب ہوئی تو پھر مکتوب نویسی کا سلسلہ شروع ہوا اور1031 ھ میں ان مکتوبات کی جمع آوری کے لیے خواجہ محمد ہاشم کشمی کو منتخب کیا جنھوں نے اسی سال( 1031ھ) میں دفتر سوم کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ پہلے اس میں113 مکتوبات شامل کیے گئے تھے اور بعد میں ایک مکتوب کا اضافہ کرکے قرآنی سورتوں کے مطابق مکتوبات کی تعدا د114 رکھی گئی تھی۔ 35؎ اس دفتر کے مکتوبات میں مریدین کی خاص تربیت ، اسلام کی تبلیغ کی تعلیم ، امت کے تن مردہ میں حیات نو پیدا کرنے کا درس ملتا ہے۔
زبدۃ المقامات کی روایت کے مطابق دفتر سوم کے بعد دفتر چہارم کا آغاز کیا گیا لیکن ابھی 14 ہی مکتوبات ضبط تحریر میں آسکے تھے کہ حضرت مجدد صاحب کا انتقال ہوگیا اور ان 14 مکتوبات کو بھی دفتر سوم میں شامل کردیا گیا ۔36؎ اس اعتبار سے دفتر سوم کے مکتوبات کی تعداد 128 ہونی چاہیے لیکن مطبع منشی نول کشورسے شائع شدہ تمام نسخوں میںیہ تعد اد123 ہے۔ سوائے طبع ششم کے کہ اس میں مکتوبات کی تعداد122 ہے۔ اس کے بعد جب مولانا نور احمد امرتسری نے مکتوبات کو شائع کیاتو دفتر سوم میں مکتوبات کی کل تعدا د124 رکھی اور آخری مکتوب کے بارے میں حاشیہ میں تحریر کیا:
’’بدان کہ این مکتوب در بعضی نسخ خطیہ یافتہ شد فالحقناہ وجعلناہ خاتمۃ المکاتیب ۔ وحضرت خواجہ محمد معصوم قدس سرہ نسبت بہ این مکتوب فرمودہ اند کہ آن مکتوب داخل جلدھای مکتوب قدسی آیات نشدہ ‘‘ ۔37؎
(ترجمہ)’’ جان لیجیے کہ یہ مکتوب بعض خطی نسخوں میں موجود ہے لہذا ہم نے اس کو مکتوبات کے ساتھ لاحق کرکے اس کو خاتمۃ المکاتیب بنادیا۔ حالانکہ خواجہ محمد معصوم نے اس مکتوب کی نسبت فرمایا ہے کہ یہ مکتوب ،مکتوبات امام ربانی میں شامل نہیںہے‘‘
یہ عجیب بات ہے کہ مولانا نور احمد امرتسری خود لکھتے ہیں کہ خواجہ معصوم نے مکتوب124 کے بارے میں فرمایا ہے کہ یہ مکتوب مکتوبات امام ربانی کے دفاتر میں شامل نہیں ہے اور پھر اس کو شامل بھی کردیتے ہیں۔
الغرض مکتوبات کی کل تعداد536 ہے جن کے مکتوب الیہم192 ہیں ۔ ان میں 20مکتوبات وہ ہیں جو حضرت مجدد صاحب نے اپنے پیر کو لکھے ہیں۔ دو یا تین مکتوبات اپنی کسی مریدہ عورت کو بہ عنوان یکے از صالحات لکھے ہیں ،ایک خط سلطان وقت (غالباً سلطان نور الدین جہانگیر) کو ایک مکتوب ہردے رام کسی ہندو کو، بقیہ اپنے معاصرین ،معتقدین ومریدین کو لکھے ہیںان میں سے اکثر مکتوبات کی حیثیت آج کی اصطلاح میں مقالات کی سی ہے۔ یہ تمام کے تمام مکتوبات مختلف افراد کومختلف اوقات میں تحریر کیے گئے جن میں سے تقریبا دو تہائی مکتوبات آپ سے استفسار کیے گئے سوالات کے جوابات ہیں، ان مکتوبات کی جمع آوری کے بعد بہت جلد ہی ان کی نقلیں ایران، افغانستان، روم، بدخشاں اور دیگر مقامات پر بڑی تیزی سے پھیل گئیں۔
شاہ کلیم اللہ دہلوی(1060ھ۔ 1142ھ)
مکتوباتی ادب میں شاہ کلیم اللہ دہلوی کے مکتوبات ’’ مکتوبات کلیمی ‘‘ کے نام سے معروف ہیں ۔ آپ کی ولادت 24جمادی الآخر 1060ھ/24 جون1650 کو دہلی میں ہوئی38؎ ، ان کے آبا واجداد پیشے کے لحاظ سے ایک معمار تھے، لیکن اسی معمار خاندان میں ’’دلوں کے معمار‘‘ بھی پیدا ہوئے۔ جنھوں نے معاشرتی انحطاط اور اخلاقی زوال کے دور میں دلوں کی ایک نئی بستی کو آباد کیا۔ انھی میںسے ایک شاہ کلیم اللہ دہلوی ہیں۔ شاہ کلیم اللہ نے تعلیم کے تمام مراحل دہلی کی سرزمین پر ہی طے کیے ، دہلی کے اکابر علماسے استفادہ کیا اور ان کے علوم وفنون سے کامل سیرابی حاصل کی۔تکمیل علوم کے بعد مدینہ طیبہ کی طرف رخت سفر باندھا اور یہاں کے مشہور ولی اللہ ’’حضرت شیخ یحیی مدنی چشتی‘‘ سے بیعت اور خلعت خلافت حاصل کی ۔ بعد ازاں دہلی واپس آئے اور خانم بازار خانقاہ قائم کرکے سلسلہ درس وتدریس شروع کیا۔ اس خانقاہ کو ظاہری وباطنی دونوں علوم کا سرچشمہ ہونے کا شرف حاصل تھا۔ اس خانقاہ میں تشنگان معرفت بھی آتے اور طلبگار علم بھی قدم رنجاں ہوتے۔ شاہ کلیم اللہ اگر چہ خود دہلی میں مقیم رہے لیکن ہندوستان کی سیاست کا مرکز شمال سے جنوب منتقل ہونے کی بناپر دکن کو اپنی توجہ کا خاص مرکز بنایا اور دکن میں اپنی نیابت کے لیے اپنے عزیز ترین خلیفہ شیخ نظام الدین کو اپنا جانشیں بنا یا آپ کی عقابی نگاہیں دکن کی ایک ایک چیز پر تھیں اور معمولی امور پر وہ مرکز سے ہدایات روانہ کردیتے تھے۔ آخر عمر میں شاہ صاحب کو نقرس اور وجع المفاصل کے امراض لاحق ہوگئے تھے۔ بالآخر26ربیع الاول 1142ھ /17اکتوبر1729 کو آپ نے سانس اوپر کرلی ،روح پر فتوح نے جسم خاکی کو چھوڑا اور عالم بالا کی طرف پرواز کی اور اپنی ہی خانقاہ میں مدفون ہوئے۔39؎


مکتوبات کلیمی
یہ مکتوبات شاہ کلیم کے دل دردمند ،فطرت حساس،فکر راست اور حمیت دینی کے عکاس ہیں ۔ ان کے مطالعے سے شاہ صاحب کی تبلیغی سر گرمیوںکا پورا نقشہ ہماری نگاہوں کے سامنے محو رقص ہوجاتاہے۔ یہ مکتوبات دین متین کی سربلندی کے لیے ان کی مساعی جمیلہ ، سلسلہ چشتیہ کے فروغ کے لیے ان کی سعی پیہم اور خواص وعوام کی فکری اصلا ح اور باطنی تربیت کے لیے ان کی جہد مسلسل کا بین ثبوت ہیں۔ مزید برآں ان مکتوبات میں تصوف کے نام پر کی جانے والی خرافاتوں ، غیر اسلامی رسوم ورواج اور اخلاقی اور مذہبی ابتر ی کی شدید تردید ہے۔ یہ مجموعہ کل 132مکتوبات پر مشتمل ہے ، ان میں سو سے زائد مکاتیب شیخ نظام الدین اورنگ آبادی کے نام ہیں جو در حقیقت سارے مکاتیب کی جان ہیں ۔ ان مکتوبات کے مرتب مولوی محمد قاسم کلیمی ہیں اور یہ مطبع یوسفی دہلی سے1301ھ طبع ہوئے ۔
حضرت مرزا مظہر جان جاناں(1111/1113ھ ۔1195ھ)
مرزا مظہر جان جاناںکا تعلق سادات علوی کے خاندان سے ہے ، آپ کی ولادت 11 رمضان 1111ھ یا1113ھ بمقام کالا باغ ہوئی جو حدود مالوہ میں واقع ہے۔40؎ خاندان کا نام شمس الدین، لقب حبیب اللہ اور تخلص مظہر تھا ۔ والد کے زیرسایہ ہی تعلیم کا آغاز کیا اورحصول علم کے ابتدائی مراحل ان کے ہی زیر تر بیت طے کیے ۔ بعد ازاں علوم ظاہری وباطنی کی تحصیل کے لیے اپنے وقت کے جید علماکی جانب رخ کیا۔ سولہ سال کی عمر میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا ،لیکن آپ نے حصول علم سے اپنے قدموں کو پیچھے نہیں ہٹایا اور اپنے زمانے کے کئی بزرگوں سے کسب فیض کیا۔ آپ نے باقاعدہ خلافت شیخ محمد عابد سنامی سے حاصل کی ۔41؎مرزا مظہر جان جاناں صاحب دیوان بزرگ تھے ۔فارسی کے علاوہ اردو شاعری میں بھی طبع آزمائی کی بلکہ آپ نے بقول مصحفی اردو زبان کو سب سے پہلے نئے قالب میں ڈھالا ،آخر کار علم وفضل کا یہ درخشاں ستارہ شب عاشورہ1195ھ/1780 کو ہمیشہ ہمیش کے لیے غروب ہوگیا۔ 42؎لیکن اپنے پیچھے علم کی وہ میراث چھوڑ گیا جس سے ایک عالم تا صبح قیامت فیضیاب ہوتا رہے گا ۔


مکتوبات
مرزا مظہر جان جاناں نے اپنے دور میں مختلف شخصیات سے ربط وتعلق کو استور کرنے کے لیے خطوط تحریر کیے۔ ان خطوط میںسے بعض میں صوفیانہ اور شرعی مسائل کی توضیح ہے اور بعض خطوط میں اس زمانے کی ابتر صورتحال اور پر آشوب دور کی تصویر بھی سامنے آتی ہے ۔ آپ نے اپنے بزرگوں کی تقلید میں خود اپنے مکاتیب کا ایک مجموعہ مرتب کرایا۔ اس مجموعے میں23 مکاتیب شامل تھے۔ ’’مقامات مظہری ‘‘ میں حضرت شاہ غلام علی دہلوی نے آپ کے 24 مکاتیب شامل کیے ہیں۔ ’’ رقعات کرامت ‘‘ آپ کا سب سے اولین مجموعہ مکاتیب ہے جو منظرعام پرآیااورجس کے مرتب مولانا نعیم اللہ تھے۔ یہ مجموعہ 63 مکاتیب پر مشتمل ہے ۔ ’’ کلمات طیبات‘‘ میں آپ کے89 مکاتیب شامل ہیں۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی کے نام لکھے گئے مکاتیب کا ایک مجموعہ بھی زیور طبع سے آراستہ ہوچکا ہے جس کے مرتب عبد الرزاق قریشی ہیں۔ اس میں 147 مکاتیب شامل ہیں۔ ڈاکٹر غلام مصطفی خان نے ایک مجموعہ مکاتیب ’’لوائح خانقاہ مظہریہ ‘‘ کے نام مرتب کیا ہے جس میں حضرت مظہر اور اس سلسلے کے دیگر لوگوں کے مکاتیب شامل ہیں، اس مجموعے میں دو سو مکاتیب ہیں ۔
یہ چند اہم مکتوب نگار صوفیائے کرام کااجمالی تذکرہ ہے جن کے مکتوبات مرور زمانہ کے باوجودآج بھی ’’قوت القلوب‘‘ ہیں اورفارسی ادب کا ایک بیش قیمت خزانہ ہیں۔ جن سے بے اعتنائی عظیم ورثے کا ضیاع ہے۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ اب تک ان میں سے جو مکتوبات جدید سائنٹفک اصولوں کے تحت مدون نہیں ہوئے ہیں ان پر خصوصی توجہ مبذول کی جائے اور ا ن کو تدوین متن کے جدید اصولوں کے تحت مدون کرکے فارسی ادب کے اس عظیم ورثے کے تحفظ کا ادبی اور اخلاقی فریضہ انجام دیا جائے۔

حواشی:
1 نزہۃ الخواطر، جزء ثانی، ص 144
2 احمد، شرف الدین، ( منیری)، دیباچہ مکتوبات صدی،مطبع منشی نول کشور ، لکھنؤ ،1885، ص 3
3 احمد، شرف الدین، ( منیری)،مکتوبات دوصدی، مخطوطہ، خدا بخش پبلک اورینٹل لائبریری ، پٹنہ، کال نمبر1364، خط نستعلیق ، سن کتابت 14 رمضان 1264ھ ،کل صفحات218، سطر 20
4 ایضاً کلہ
5 احمد، شرف الدین، ( منیری) ، فوائد رکنی ، مترجم ، سید غلام صمدانی ،سیرت فاؤ نڈیشن ، لاہور2008 ،ص9
6 خزینۃ الاصفیاء ،ج 2، ص 57
7 نزہۃ الخواطر،جزء ثانی ،ص152
8 اشرف ،وجیہ الدین، مصحح: صفوی ، میدخت، آذر، بحر زخار ، مطبع مرکز تحقیقات فارسی ،علی گڑھ یونیورسٹی، با ھمکاری مرکز تحقیقات فارسی، رایزن فرھنگی جمہوری اسلامی ایران ، نئی دہلی،سن اشاعت 2011،ج 2،ص 346
9 مرآۃ الاسرار ،(اردو)ص974
10 اخبار الاخیار،ص 286
11 احمد، ظہور الدین (ڈاکٹر)، پاکستان میں فارسی ادب ، استقلال پریس، لاہو ر،ج۱، ص370-347
12 علی ،محمد ،سامانی، ( مولانا) ،سیر محمدی( مع ترجمہ معروف بہ تحفۂ احمدی )، مطبوعہ یونانی دوا خانہ پریس سبزی منڈی،الہ آباد ،1347ھ، ص3
13 ایضاً۔ ص13-12
14 عبد الرحمن ، صباح الدین،( سید )، بزم صوفیہ،دار المصنفین ، شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ ،2011، ص491۔
15 حسین، محمد(حافظ) مرادآبادی ، انوار العارفین ، مطبع صدیقی ، بریلی ،جمادی الآخر 1290ھ،ص 315
16 حسینی ، محمد ، سید ، گیسو دراز، مقدمہ مکتوبات خواجہ محمد حسینی ، بہ تصحیح واہتمام: حسین، عطا ، سید، برقی پریس ،حیدرآباد ، شوال 1362ھ ، ص 3-1
17 اشرف ، شمیم،( سید) ،اشرف سمنانی شخصیت وافکار، مطبع مخدوم اشرف کمیٹی ، درگاہ شریف ،فیض آباد،(حال امبیڈکر نگر)1981 ، ص 29
18 یمنی ، نظام الدین ، لطائف اشرفی فی بیان طوائف صوفی ، مطبع مکتبہ سمنانی ، فردوسی کالونی، کراچی، طبع دوم ،شوال 1419ھ؍ فروری 1999، ج 1، ص 91
19 بحر زخار ، ج ۱، ص505
20 لطائف اشرفی ،ج 2، ص 94
21 خزینۃ الاصفیاء ، ج1 ، ص 373-372
22 لطائف اشرفی ،ج 2، ص 101-100؛ج 1، ص 18
23 اشرف سمنانی شخصیت وافکار،ص87
24 ایضا، ص 86-85
25 نزھۃ الخواطر ،جزء رابع، ص 371
26 بخش ، محمود(حاجی) ، بستان معرفت۔،مطبع انوری ،لکھنؤ، 1330ھ،ص92
27 عبد القدوس ، شیخ ، گنگوہی ، مکتوبات قدوسیہ ، مطبع احمدی ،دہلی ،ص 6
28 مرآۃ الاسرار،( اردو) ص1190
29 مکتوبات قدوسیہ ،ص5
30 کشمی ، محمد ہاشم، خواجہ ، زبدۃ المقامات، مطبع محمود پریس ، لکھنؤ ،1302ھ، ص 127
31 زبدۃ المقامات ، ص 128
32 مجدد الف ثانی ،سرھندی ، حضرت شیخ احمد فاروقی ، مکتوبات امام ربانی ،مطبع ایچ ایم سعید کمپنی ،،کراچی ، پاکستان، 1977، دیباچہ دفتر دوم ،ص 5-4
33 ایضًا ،ص 5
34 ایضًا،دیباچہ دفتر سوم ،ص 274
35 ایضًا،دیباچہ دفتر سوم،ص 275
36 زبدۃ المقامات ،ص 232
37 مکتوبات امام ربانی، حاشیہ دفتر سوم ص 586
38 نظامی ، خلیق احمد، تاریخ مشایخ چشت،ص 72
39 ایضا،ص144
40 تذکرہ مشایخ نقشبندیہ، ص 391
41 غلام علی، شاہ،مقامات مظہریہ ،مطبع احمدی ،دہلی ،1299ھ،ص 38
42 ایضا،ص 89-88


Dr. Mohammad Khubaib
Subject Expert Department of Persian,
University of Lucknow, Lucknow- 226020(U.P.)
Mob:. (+91) 8081845499
Email: khubebsiddiqi@gmail.com

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Explore More

غالب کا شعری لہجہ ،مضمون نگار: ابوالکلام قاسمی

مرزا غالب کی شاعری کی تعبیر اور قدرو قیمت کے تعین کی خاطر جن تنقیدی معیاروں کو روبہ عمل لایا گیا ہے ان میں غالب کے بالواسطہ طرزِ تخاطب کو

اردو لغت نویسی کا تاریخی پس منظر،مضمون نگار:مسعود ہاشمی

لغت نویسی، یعنی الفاظ کے تحفظ اور ان کی تشریح و توضیح کے پس پشت کبھی مذہب کار فرما رہا ہے تو کبھی سیاست! اس سلسلے میں کبھی کبھی ادب

اصوات اور شاعری،مضمون نگار:مغنی تبسم

شاعری اور موسیقی فنکارانہ اظہار کے وہ ابتدائی طریقے ہیں جن سے زمانہ قدیم کے انسان نے اپنے جذبات کے نکاس اور ان کی بازیابی کا کام لیا۔ یہ دونوں