تلخیص
منشی پریم چند اردو اور ہندی کے افسانوی ادب کی وہ قدآور شخصیت ہیں جن پر تحقیقی کام ان کی زندگی سے لے کر آج تک جاری ہے۔ لیکن ان کی ہمہ جہت شخصیت اور وسیع ادبی ذخیرے نیزپریم چند کے محققین کی سہل پسندی اور بے جا عقیدت مندی کے باعث نہ صرف بہت سی تحقیقی خامیاں راہ پاگئی ہیں بلکہ مطالعہ پریم چند کے بہت سے نئے گوشے اب بھی تشنہ تحقیق ہیں۔ زیرنظر مقالہ منشی پریم چند کی حیات اور ان کی ادبی تخلیقات پر تحقیق کے بنیادی اصولوں اور ناگزیر تقاضوں کا احاطہ کرتا ہے۔ پریم چندمحض ایک افسانہ نگار یا ناول نگار نہیں تھے بلکہ وہ اپنے عہد کے سماجی، سیاسی اور معاشی تغیرات کے بڑے عکاس تھے۔ لہٰذا ان پر تحقیق کے لیے درج ذیل لوازمات کو بنیاد بنانا ضروری ہے۔
متنی صحت اور تدوین متن: پریم چند کے ادب کا وافر سرمایہ مختلف رسائل وجرائد میں بکھرا ہوا ہے۔ تحقیق کا پہلا لازمہ ان کی تخلیقات کے اصل متن تک رسائی اور اردو-ہندی دونوں زبانوں میں شائع شدہ تراجم کے فرق کو واضح کرنا ہے۔
تقابلی مطالعہ: پریم چند کے ہم عصر عالمی اور مقامی ادیبوں کے ساتھ ان کے فن کا موازنہ کرنا تاکہ عالمی ادب میں ان کے مقام کا درست تعین ہوسکے۔
سماجی ولسانی تناظر: ان کے کرداروں کی نفسیات اور دیہی زندگی کی پیش کش کے ساتھ ساتھ ان کی زبان کے ڈھانچے کو سمجھنا بھی پریم چند تحقیق کے لوازمات میں شامل ہے۔
سوانحی حقائق کی چھان پھٹک: پریم چند کی حیات سے متعلق کئی واقعات میں مبالغہ آرائی یا ابہام پایا جاتا ہے۔ معتبر ذرائع اور ان کے خطوط کی روشنی میں ان کی زندگی کے مستند خدوخال واضح کرنا پریم چند تحقیق کا اہم حصہ ہے۔
اس مقالے کا مقصد پریم چند کے محققین کو ان راہوں کی نشاندہی کرنا ہے جن پر چل کرپریم چند کی ادبی خدمات کا حقائق پر مبنی نیا اور تازہ مطالعہ پیش کیاجاسکتا ہے۔
کلیدی الفاظ
تحقیق، ذولسانی، جلسہ، صدارت، انجمن ترقی پسند مصنفین، چھٹی پتری، سوانح عمری، فطرت نگار، خطوط، طبع آزمائی، ناگری، رسمِ خط، سرقہ، تلاش وجستجو
——
بین الاقوامی سطح پر ہندوستانی ادب کا ترجمان ہونے کا شرف شہنشاہِ ناول پریم چند کو حاصل ہے۔ بیشک پریم چند سے کہیں زیادہ تعداد میں ناول اور افسانوں کی تخلیق دیگر مصنفین نے کی مگر محض 13 ناول احاطۂ تحریر میں لانے والے پریم چند کیوں کر شہنشاہ ناول قرار دیے گئے، اس کی وجوہ تلاش کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔
پریم چند نے جس وقت طبع آزمائی شروع کی اس وقت پورے ماحول پر قصہ الف لیلیٰ،قصہ حاتم طائی ، طلسم ہو شر با وغیرہ متعدد قصے چھا ئے ہوے تھے اور پنڈت رتن ناتھ سرشار کے فسانۂ آزاد نے ماحول کو مزید اپنے پنجوں میں جکڑ لیا تھا۔ادھر ہندی ادبیات کا احاطہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ افسانوی ادب کے نام پر محض بنگال سے برآمد غیر فطری رومان ہی دلوں کو متحرک کر رہا تھا۔یہ پریم چند کا کمال تھا کہ موصوف نے افسانے کو تخیلی دنیا کی جادونگاریوں سے باہر نکال کر حقیقت کی ان پر خار راہوں سے روشناس کرایا جو ہماری زندگی کا جزو ہیں اور جن کے کردار ہمارے چہار طرف چلتے پھرتے،جیتے جاگتے نظر آتے ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ پریم چند کا افسانوی ادب ہندوستانی سماج کی دھڑکن ہے،سماج کا سچا آئینہ ہے اور تقریباً ایک صدی پرانا ہونے کے باوجود ہندوستانی سماج کی موجودہ خوبیوں اور برائیوں کو پوری شدت کے ساتھ نمایاں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مگر منشی پریم چند کی غیر معمولی شہرت نے ہماری نگاہ کو کسی قدر تنگ بنا دیا اور نتیجتاً سحر نگار پریم چند ہمارے سامنے رہ گیا اور مفکر پریم چند ہم سے دور ہوتے ہوتے کہیں گم ہو کر رہ گیا۔نیز ہم نے پریم چند کی ایک مورت بنائی اور فراموش کر دیا کہ پریم چند ہماری طرح ہی ایک جیتا جاگتا،چلتا پھرتا انسان ہے اور بعد ازاں ہم پریم چند کی اس مورت کی بڑے انہماک سے پرستش کرنے میں مصروف ہو گئے۔ہمارے اس عمل کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ نہ تو ہم پریم چند کی تخلیقات پر ضروری تحقیقی کام انجام دے سکے اور نہ ہی ان کی تخلیقات کو کلی طور پر یکجا کر سکے۔کسی شاعر نے سچ ہی کہا ہے:
جو یاد ہمیشہ رکھنی تھی اس بات کو اکثر بھول گئے
ہم لوگ کلش کے چکر میں بنیاد کا پتھر بھول گئے
معجزہ یہ بھی ہوا کہ پریم چند کا علم اشتراکی پارٹی کے اراکین نے محض اس بنا پر آگے بڑھ کر اٹھا لیا کہ منشی صاحب نے 1936 میں لکھنؤ میں منعقدہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے پہلے جلسے کی صدارت کی تھی۔ان حضرات نے پریم چند پر ایک طریقہ سے قبضہ جما لیا اور کسی دیگرنظریہ کے حامی شخص کے لیے پریم چند کے حلقہ میں داخل ہونے پر ممانعت عائد کر دی۔یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس اشتراکی پارٹی کی رہنمائی خود پریم چند کے چھوٹے بیٹے امرت رائے کر رہے تھے۔امرت راے نے ہی پریم چند کی ایسے آدمی کی تصویر بنا کر پیش کی جو بے حدمفلس تھا اور پھٹے ہوے جوتے پہنتا تھا، یہاں تک کہ جسے اپنے ہی شہر بنارس میں کوئی جانتا تک نہ تھا۔امرت راے نے پریم چند کے اخری سفر کا جو منظر پیش کیا ہے وہ دیکھنا بھی کچھ کم دلچسپ نہیں ہے،موصوف رقمطراز ہیں:
’’لمہی خبر پہونچی، برادری والے جٹنے لگے،ارتھی بنی،گیارہ بجتے بجتے بیس پچیس لوگ کسی گمنام ٓادمی کی لاش لیکر منیکرنکا کی اور چلے۔راستہ میں ایک راہ چلتے نے دوسرے سے پوچھا: ’’ کے رہل۔دوسرے نے جواب دیا: ’’ کوئی ماسٹر تھا۔‘‘ 1؎
مندرجہ بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر پریم چند کی رحلت کی خبر لمہی نہ پہنچتی اور ان کی برادری کے لوگ نہ جمع ہوتے تو شائد ان کو چار کاندھے بھی نصیب نہ ہو پاتے۔علاوہ ازیں یہ بھی عجیب معلوم ہوتا ہے کہ جس عالمی شہرت کے مصنف کو ایک راہ چلتا آدمی جانتا تک نہ تھا ،وہی آدمی تقریباً 15 سال قبل ماسٹری سے مستعفی ہو چکے ’ماسٹر‘ کو بخوبی جانتا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پریم چند نہ کہیں کے راجہ مہاراجہ تھے،نہ زمیندار اور نہ مہاجن مگر حق یہ بھی ہے کہ 1921 میں 120 روپیہ ماہوار کی سرکاری نوکری سے مستعفی ہونے کے بعد 1936 تک انہوں نے نہ صرف اپنے خاندان کی بخوبی پرورش کی بلکہ سرسوتی پریس کے نام سے اپنا نجی مطبع قائم کیا۔ہنس اور جاگرن کے ناموں سے دو پرچے نکالے اور سب سے بڑھ کر اپنے دو بیٹوں کو ہاسٹل میں رکھ کر تعلیم دلائی۔قابل غور یہ بھی ہے کہ 1925 میں اپنے ہندی ناول رنگ بھوم کے لئے موصوف کو 1250 روپیہ ایڈوانس رائلٹی بھی ملی تھی جو اس زمانہ میں ایک غیر معمولی رقم تھی۔صاف ظاہر ہے کہ پریم چند مفلس یا ’’گمنام‘‘ شخص نہ ہو کر متوسط طبقہ کے آدمی تھے اور ان کو مفلس کے طور پر پیش کرنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔
یہ امر تو تمام دنیا پر واضح ہے کہ پریم چند نے کامریڈ سجاد ظہیر کی قائم کردہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے زیرِ اثر 10 اپریل 1936 کو لکھنؤ میں منعقدہ پہلے جلسہ کی صدارت انجام دی تھی اور اسی جلسہ میں صدارتی خطبہ پڑھا تھا جس کو منشی دیا نرائن نگم نے زمانہ کے اپریل 1936 کے ہی شمارے میں ادب کی غرض و غایت کے عنوان کے تحت شائع کر دیا تھا اور جو بعد ازاں پریم چند نے اپنے ہندی ماہنامہ ہنس کے جولائی 1936 کے شمارے میں ساہتیہ کا ادیشہ کے عنوان سے شائع کر دیا تھامگر یہ جانے بغیر کہ پریم چند نے اس جلسہ کی صدارت کس مجبوری کے تحت قبول کی تھی اور اپنے صدارتی خطبہ میں وہ اشتراکیت سے کتنے دور ہیں،اشتراکی حضرات نے موصوف کے کمیونسٹ ہونے کا اعلان کرنے میں دیری نہیں کی۔ نیز پریم چند پر جبراً قبضہ کر لیا۔نتیجتاً جب ڈاکٹر کمل کشور گوئنکا نے پریم چند صد سالہ تقریبات میں سرگرمی سے کام شروع کیا تو اس میں معاونت کرنا تو درکنار،تمام اشتراکی حضرات ان کے خلاف کس قدر غیر معیاری زبان کا استعمال کرتے تھے،یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔دوسری جانب گوئنکا صاحب بھی کچھ کم نہ تھے،انھوں نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دینے میں مطلق تامل نہ کیا اور اس کشمکش میں پریم چند تحقیق پس پشت جاپڑی۔
پریم چند چونکہ ہندی اور اردو کے ذو لسانی مصنف تھے اس لیے اگر موصوف پر تاحال انجام دیے جا چکے تحقیقی کام کا جائزہ لینا ہو تو دونوں زبانوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا۔اگر بات اردو کی کریں تو عام طور پر اردو دنیا غالب اور اقبال کی حدود توڑتی نظر نہیں آتی، نتیجتاً پریم چند ہی کیا کوئی نثر نگار اردو محققین کی پہلی پسند نہیں بن پاتا۔مگر ہندی میں حالات کسی قدر مختلف ہیں.۔یہاں رام چرت مانس کے مشہور و معروف مصنف گوسوامی تلسی داس کے بعد سب سے زیادہ تحقیقی کام پریم چند پر ہی ہوا۔مگر افسوس کا مقام ہے کہ یونیورسٹی کی سطح پر تنقید کو ہی تحقیق کے نام سے منسوب کیا جانے لگا ہے اور پریم چند پر انجام دیا گیا کام بھی اسی نوعیت کا ہے۔
مگر صحیح معنی میں پریم چند پر تحقیقی کام انجام دینے والے محققین کی بات کی جائے تو ہندی اور اردو میں تاحال صرف چند محققین کے نام ہی سامنے آتے ہیں جن کے نام اور کام کا مختصراً جائزہ درج ذیل سطور میں پیش خدمت ہے۔
1منشی دیا نرائن نگم
1882 میں کانپور کے وکلا کے ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے اردو ماہنامہ زمانہ کے مشہور مدیر منشی دیا نرائن نگم پریم چند سے دو سال چھوٹے ضرور تھے مگر پریم چند ان کا احترام بڑے بھائی کے طور کرتے تھے۔اس کی وجہ شایدیہ تھی کہ نگم صاحب نے ہی پریم چند کو زمانہ کے صفحات میں جگہ دے کر مقبول عام بنا دینے کا کارِ نمایاں انجام دیا تھا۔نیز پریم چند کا قلمی نام بھی انہی کی تجویز پر اختیار کیا گیا تھا۔ 8 اکتوبر 1936کو پریم چند کا انتقال ہونے پر نگم صاحب نے زمانہ کا پریم چند نمبر شایع کرنے کا اعلان کر دیا تھا جو دسمبر 1937 تک تیار ہو پایا تھا۔اس ضخیم نمبر میں جہاں پریم چند کے عزیز دوستوں کے تاثراتی مضامین کثرت سے شامل کیے گئے ہیںوہیں دوسری جانب خود نگم صاحب نے چار مضامین تحریر کیے ہیں جن میں سے ’پریم چند کے خیالات‘ بطور خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ جس میں موصوف نے پریم چند کے تقریباً 50 خطوط کے حوالے سے پریم چند کے ذہن کی پرتیں کھول کر ایک نئی روایت کی داغ بیل ڈال دی۔ علاوہ ازیں ’زمانہ اور پریم چند‘ کے عنوان کے تحت زمانہ میں شایع پریم چند کی تخلیقات کی فہرست اور ’منشی پریم چند کی تصانیف‘ کے عنوان سے پریم چند کی ہندی اردو کتب کی فہرست پیش کر کے پریم چند پر باقاعدہ تحقیق کے دروازے بھی کھول دئیے۔
2امرت رائے
1921 میں گورکھ پور میں پیدا ہوئے ،پریم چند کے چھوٹے بیٹے امرت رائے نے پریم چند کی رحلت کے بعد موصوف کی گمشدہ تخلیقات کی تلاش و جستجو کا کام ہی عرق ریزی سے شروع نہیں کیا بلکہ ان کی سوانح حیات کی تخلیق کرنے کی جانب بھی رجوع ہوئے۔نتیجتاً 1962 میں جہاں پریم چند کی سوانح ’قلم کا سپاہی‘ کے عنوان سے منظر عام پر آئی وہیں پریم چند کی نایاب تخلیقات پر مبنی ’وودھ پرسنگ‘ (2 جلد)’گپت دھن‘ (2 جلد)’شب تار‘ ’منگلاچرن‘ اور’چٹھی پتری‘ (2جلد) شایع ہو کر ادبی دنیا کے ہاتھ میں آئیں۔تاہم صلاحیت اور مواقع ہونے کے باوجود امرت رائے 1962 کے بعد پریم چند تحقیق جاری نہ رکھ سکے۔
3مدن گوپال
پیشے سے انگریزی صحافی مدن گوپال 1919 میں ہانسی (ہریانہ) میں پیدا ہوئے۔آپ نے پریم چند کے عنوان سے 1944 میں مختصر کتابچہ اور 1964 میں ’’پریم چند: اے لٹریری بایوگرافی‘‘ عنوان سے پریم چند کی مفصل سوانح عمری انگریزی زبان میں شایع کرائیں اور بعد ازاں 1965 میں ہندی اور اردو میں قلم کا مزدور کے نام سے سوانح تحریر کی۔ 1968 میں پریم چند کے خطوط اور 2000 سے 2005 کے درمیان 24 جلدوں میں انتہائی ضخیم کلیات پریم چند ترتیب دی۔
4ڈاکٹر کمل کشور گوئنکا
کمل کشور گوئنکا کاشمار پریم چند کے ممتاز ومعروف محقق کے بطور ہوتا ہے۔بین الاقوامی سطح پر گوئنکاکی شناخت بطور ماہر پریم چند بھی ہے۔ڈاکٹر گوئنکا نے 1980 میں پریم چند صد سالہ تقریبات کے درمیان ملک اور غیر ممالک میں پریم چند نمائش کے ذریعے سے پریم چند کی شناخت بین الاقوامی سطح پر قائم کرنے میں جس سرگرمی سے حصہ لیاوہ اپنی مثال آپ ہے۔پریم چند کی حیات اور کارناموں پر ڈاکٹر گوئنکا 30 سے زائد کتابیں تحریر کر چکے ہیں جن کی ادبی حلقوں میںخاصی پذیرائی ہوئی ہے۔مگر موصوف کی تین کتابیں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں :1 ۔پریم چند وشو کوش (2 جلد)2 ۔پریم چند کا اپراپیہ ساہتیہ (2جلد) اور 3 ۔پریم چند ساہتیہ رچناولی (22جلدیں)۔مگر ڈاکٹر گوئنکا اردو سے قطعی نا بلد تھے۔ کاش کی وہ اردو پر بھی دسترس رکھتے تو پریم چند جیسے ذو لسانی مصنف پر اور زیادہ بہتر کام کرنے میں کامیاب ضرور ہوتے۔
5گوپال کرشن مانک ٹالا
1924 میں لاہور کے نزدیک باغبان پورا نامی قصبہ میں پیدا ہوے گوپال کرشن مانک ٹالا تقسیم ملک کے بعد بمبئی میں قیام پزیر ہوئے اور وہاں انہوں نے اپنی انڈسٹری قائم کی۔آپ اردو میں افسانہ نگاری کرتے تھے اور بطور افسانہ نگار ان کی شناخت تھی۔ 1980 میں پریم چند صد سالہ تقریبات کے درمیان لکھنؤ سے شایع ہونے والے کسی رسالہ میں پریم چند پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ وہ اسلام مخالف تھے،جس پر بمبئی کے ہی کالی داس گپتا رضا صاحب نے مانک ٹالا صاحب سے اصرار کیا کہ تحقیق کر کے اس الزام کی تردید کر کے ادبی دنیا کو حقیقت سے روشناس کریں اور نتیجتاً مانک ٹالاپریم چند تحقیق کے میدان میں داخل ہو گئے ۔مانک ٹالا نے پریم چند تحقیق کے میدان میں وہ کام انجام دیا جو بڑے بڑے ماہرین پریم چند بھی نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ کچھ معاملات میں تو موصوف نے حرفِ آخر کی حد کو بھی چھو لیا جو کہ تحقیق کے میدان میں مشکل سے ہی ممکن ہو پاتا ہے۔ مانک ٹالاکی جو تحقیقی کتب منظر عام پر آئیں، ان کے نام اس طرح ہیں:
1 ۔پریم چند اور تصانیف پریم چند: کچھ نئے تحقیقی گوشے
2 ۔پریم چند: کچھ نئے مباحث
3۔پریم چند: حیاتِ نو
4 ۔پریم چند کا سیکولر کردار اور دیگر مضامین
5 ۔توقیتِ پریم چند۔
مگر از حد افسوس کا مقام ہے کہ پریم چند پرمعیاری تحقیق کرکے حیرت میں ڈالنے والے اس محقق کے نام تک سے ہندی کی ادبی دنیا واقف نہیں ہے اور اسے پریم چند تحقیق کی بدنصیبی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
درج بالا پانچوں محققین کے علاوہ ادبی حلقوں میںپروفیسر قمر رئیس اور ڈاکٹر جعفر رضا کے نام بھی بطور ماہر پریم چند لیے جاتے ہیں۔ان میں سے پروفیسر قمر رئیس نے اردو میں پریم چند پر تنقیدی مطالعہ کی داغ بیل ڈالی اور موصوف کی تصنیف ’’ پریم چند کا تنقیدی مطالعہ : بحیثیت ناول نگار‘‘ کے ساتھ ہی پریم چند پر باقاعدہ تنقیدی مطالعے کا آغاز ہوا اور تقریباً 80 برس گزر جانے کے بعد بھی کوئی نقاد پروفیسر قمر رئیس کے معیار کو چھو پانے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔ڈاکٹرجعفر رضا کی محض دو کتابیں شائع ہوئیں:
1۔پریم چند کہانی کا رہنما
2۔ پریم چند : فن اور تعمیر فن۔
محض ان دو کتابوں کی بنیاد پر ڈاکٹر جعفر رضا کو ماہر پریم چند تسلیم کرنے میں تامل ہوتا ہے۔
مندرجہ بالا محققین کے علاوہ راقم الحروف نے بھی مطالعۂ پریم چند میں دلچسپی لی اور پریم چند کے اردو-ہندی متون کا تحقیقی وتقابلی مطالعہ پیش کرنے کی کوشش کی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں پریم چند تحقیق کے میدان میں کچھ نئے نکات تلاش کرنے میں کامیاب ہو پایا۔اپنی تحقیقی ریاضت اور مطالعۂ پریم چند میں خصوصی دلچسپی کے سبب ہی راقم الحروف یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہواکہ: 1۔پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ سوز وطن کبھی ضبط نہیں ہوا تھااور 2۔پریم چند نہ صرف ادبی سرقہ کے حامی تھے بلکہ موصوف نے اپنی کتاب ’’باکمالوں کے درشن‘‘کے دوسرے ایڈیشن میں تین تحریریں: ۔1۔اکبر اعظم (اسی عنوان سے زمانہ کے اکبر نمبر اکتوبر 1905میں شائع ہوا، مصنف محمد عزیز مرزا )،2۔ عبدالحلیم شرر( مولانا شرر مرحوم کے عنوان سے زمانہ کے جون 1927کے شمارے میں شائع ہوا مصنف خواجہ عبد الرئوف عشرت لکھنوی)،3۔مولانا وحید الدین سلیم (مولانا سلیم پانی پتی مرحوم کے عنوان سے زمانے کے اگست 1928کے شمارے میں شائع ہوا، مصنف سید عبد الودود درد بریلوی ) جو دیگرمصنفین کے قلم کا نتیجہ تھیں، اپنے نام سے شامل کر لی تھیں۔ تاحال پریم چند کے حوالے سے میری جو کتب منظر عام پر آ چکی ہیں وہ ہیں :۔ 1 ۔پریم چند کی شیش رچنائیں،2 ۔پریم چند کے کہانی سنکلن،3 ۔پریم چند کے اپنیاس،4 ۔سوز وطن: ضبطی کی سچائی،5 ۔آنکھوں دیکھے پریم چند،6 ۔پریم چند کے پتر: تتھی نردھارن کی سمسیا،7 ۔رام چرچا،8 ۔زمانہ: پریم چند وشیشانک،9 ۔پریم سوگ،10 ۔منشی پریم چند: ویکتیتو ایوم کرتیتواور 11۔ہنس: پریم چند اسمرتی انک۔علاوہ ازیں ہندی اور اردو میں میرے تقریباً 100 تحقیقی مقالات بھی شائع ہو چکے ہیں اور تاحال میں پریم چند کی متعدد نایاب تحریریں تلاش کرنے میں بھی کامیاب ہواہوں اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
تاہم کثیر تحقیقی سرمایہ اور کاوشوں کے باوجود بھی پریم چند تحقیق میں کچھ ایسے نکات ابھی باقی ہیں جن کی طرف محققین کی نگاہ نہیں جا سکی ہے۔آئندہ سطور میں چند ایسے نکات کی نشاندہی کرنے کی کوشش پیش خدمت ہے جن پر عمیق نظر سے تحقیق انجام دی جانی محض ضروری نہیں بلکہ لازمی ہے تاکہ پریم چند کے ساتھ انصاف کیا جا سکے۔
1۔پریم چند کی ابتدائی تحریریں:
اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی نو وارد مصنف کی تحریریں عموماً کسی نہ کسی غیر معروف رسالہ یا جریدے میں ہی شائع ہوا کرتی ہیںاور پریم چند بھی اس سے مستثنیٰ نہیںہیں۔تاحال دریافت ہوئی پریم چند کی پہلی تخلیق ایک مضمون ’’اولیور کرامویل‘‘ہے جو منشی گلاب چند شریواستو نادان بنارسی کی ادارت میں بنارس سے شائع ہونے والے ایک نامعلوم سے ہفتہ وار ’’آوازئہ خلق‘‘ کے یکم مئی 1903 سے 24 ستمبر 1903 تک کے شماروں میں شائع ہوا تھا۔مگر یہ ایک مختصر سا مضمون ہے۔ جیسا کہ امرت راے کی ادارت میں شائع ہونے والے مجموعے ’’وِوِدھ پرسنگ‘‘ میں شامل اس کے ہندی ترجمہ سے واضح ہے لہٰذا اس کا اتنے طویل عرصہ تک با اقسام شائع ہونا کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتامگر اس جریدہ کی متعلقہ فائل دستیاب نہ ہونے سے کچھ بھی یقینی طور پر کہنا ممکن نہیں ہے۔
مگردوسری جانب اپنی پہلی تحریر کے متعلق اطلاع فراہم کرتے ہوے خود پریم چند اپنے خط مورخہ 17 جولائی 1926 میں منشی دیا نرائن نگم صاحب کو لکھتے ہیں:
’’سنہ 1901 سے لٹریری زندگی شروع کی۔رسالہ زمانہ میں لکھتا رہا۔کئی سال تک متفرق مضامین لکھے۔‘‘ 2؎
علاوہ ازیں اپنے ماہوار رسالہ ’’ہنس‘‘ کے خودنوشت نمبر میں شامل اپنے مضمون میں بھی اس کی وضاحت کرتے ہوئے پریم چند رقمطراز ہیں:
’’میں نے پہلے پہل 1907 میں گلپیں(افسانے) لکھنی شروع کیں۔ڈاکٹر رابندر ناتھ کی کئی گلپیں میں نے انگریزی میں پڑھی تھیںاور ان کا اردو انوواد(ترجمہ) اردو پترکاؤں(رسائل) میں چھپوایا تھا، اپنیاس(ناول) تو میں نے 1901 ہی سے لکھنا شروع کیا۔میرا ایک اپنیاس 1902 میں نکلا اور دوسرا 1904 میںلیکن گلپ 1907 سے پہلے میں نے ایک بھی نہ لکھی۔‘‘ 3؎
جہاں تک رابندر ناتھ ٹھاکر کے افسانوں کے اثر کا تعلق ہے،اسے صاف طور پر قبول کرتے ہوئے پریم چند نے اپنے مکتوب مورخہ 26 دسمبر 1934 میں اندر ناتھ مدان کو تحریر کیا تھا:
’’جہاں تک کہانیوں کی بات ہے،شروع میں ان کی پریرنا(ترغیب) مجھے ڈاکٹر رابندر ناتھ سے ملی تھی۔‘‘ 4؎
اور اپنی ابتدائی تخلیقات کی نسبت پریم چند اپنے خط مورخہ 7 ستمبر 1934 کے زریعہ اندر ناتھ مدان کو پیشتر اطلاع دے چکے تھے، جس میں موصوف نے رقم کیا تھا:
’’میرا پہلا لیکھ(مضمون) سنہ 1901 میں اور میری پہلی کتاب سنہ 1903 میں چھپی………پہلے میں سمسامیک(ہم عصر) گھٹناؤں(واقعات) پر لکھتا تھا پھر اپنے ورتمان(حال) اور اتیت(ماضی) ویروں(باکمالوں) کے چرتروں(کرداروں) کے اسکیچ۔‘‘ 5؎
مندرجہ بالا تمام اقتباسات سے یہ واضح ہوتاہے کہ بقول خود پریم چند انھوں نے 1901 سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا اور ان کے مضامین اور افسانے اردو رسائل میں شائع ہوتے رہے،مگر تاحال 1903 سے قبل شائع پریم چند کی کوئی تحریر دریافت نہیں کی جا سکی ،مگر اتنا تو ضرور ہوا کہ مدن گوپال صاحب نے اس جانب اشارہ کرتے ہوے تحریر کیا:
’’ یہ کہانیاں ہیں-’دنیا کا سب سے انمول رتن کیا ہے؟ ’قارون کا خزانہ،’آب حیات‘، ’تاج خسرو‘، ’جام ہم‘، ’تخت طاؤس‘ اور’زر پرویز‘۔ 6؎
از حد حیرت کا مقام ہے کہ مندرجہ بالا اقتباس میں پیش کردہ عنوانات کے افسانوں کی تلاش کی کوئی کوشش مدن گوپال صاحب نے اس وقت بھی نہ کی جب وہ کلیات پریم چند ترتیب دے رہے تھے،مگر موصوف کے مذکورہ دعوے کی حقیقت جاننے کے لیے پریم چند کے افسانے ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ کے درج ذیل الفاظ کو بغور دیکھنا ضروری ہے:
’’آج تین دن سے یہ ستم رسیدہ شخص اسی پر خار درخت کے نیچے اسی وحشت ناک میدان میں بیٹھا سوچ رہا ہے کہ کیا کروں!دنیا کی سب سے بیش بہا شئے مجھ کو ملے گی! ناممکن! اور وہ ہے کیا!قارون کا خزانہ !آب حیات! تاج خسرو! جام جم! تخت طاؤس!زر پرویز!‘‘ 7؎
مندرجہ بالا دونوں اقتباسات کا موازنہ کرنے سے صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ مدن گوپال نے پریم چند کے ایک افسانے کے چند الفاظ کو موصوف کی ابتدائی کہانیوں کے عنوان بتا دینے میں مطلق تامل نہ کیا،مگر اس نوعیت کی گمراہ کن اطلاعات مستقبل کے محققین کو ایک ایسی اندھیری سرنگ میں پہنچا دیں گی جہاں سے راہ فرار کسی طور نہ مل سکے گی۔
لہٰذا از حد ضروری ہے کی 1901 سے 1903 کے درمیان شائع ہونے والے پریم چند کے تمام افسانوں اور مضامین کی تحقیق کر کے ادبی دنیا کے سامنے لایا جائے تاکہ پھر کوئی ایسی غلط اطلاع پیش کرنے کی جرأت نہ کر سکے۔
2۔زمانہ میں بغیر نام شائع تحریریں:
جیسا کہ پیشتر کہا جا چکا ہے کہ زمانہ پریم چند نمبر میں منشی دیا نرائن نگم کا ایک مضمون ’’زمانہ اور پریم چند‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس میں موصوف نے زمانہ میںشائع پریم چند کی 96 تحریروں کی فہرست حوالے کے ساتھ پیش کی تھی۔ فہرست کے ساتھ نگم صاحب نے ایک مختصر نوٹ درج کیا تھا جس کے کچھ اہم الفاظ ذیل میں نقل کئے جاتے ہیں:
’’1910کے پہلے تک پریم چند صاحب کے مضامین نواب رائے کے نام سے شائع ہوئے اس کے بعد پریم چند کا نام شروع ہوا۔ بعض نوٹ بلا نام بھی درج ہوئے مگر اس وقت ان کا انتخاب مشکل ہے۔پریم چند نے بعض اہم تنقیدیں بھی زمانہ کے لیے لکھیں جو کبھی ان کے نام سے اور کبھی بلا نام شائع ہوئیں۔‘‘ 8؎
اس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ زمانہ میں دو مستقل سلسلے شائع ہوا کرتے تھے،ایک تھا ’’علمی خبریں اور نوٹ‘‘ اور دوسرا تھا ’’رفتار زمانہ‘‘ اول الذکر میں ادبی دنیا کی تمام ہلچلوں اور رجحانات پر نوٹ درج کیے جاتے تھے جبکہ دوسرے سلسلے میں ملک کے سیاسی و سماجی ماحول پر وضاحتی نوٹ شائع ہوتے تھے اور درج بالا الفاظ میں نگم صاحب ان دونوں سلسلوں میں درج ہونے والے نوٹ کے ہی متعلق بات کر رہے ہیں۔ان کے متعلق ایک دشواری یہ بھی ہے کہ ان سلسلوں میں عموماً مصنف کا نام درج نہیں کیا جاتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ خود نگم صاحب پریم چند کے تحریر کردہ نوٹ کی نشاندہی نہ کر سکے تھے۔
قابل غور ہے کہ زمانہ اور پریم چند کے باہمی تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے گوپال کرشن مانک ٹالا رقمطراز ہیں:
’’ جون 1906 کے زمانہ کے سر ورق کے آخری صفحے پر ایک طویل اعلان ’آئندہ دو ماہ سے‘ کے عنوان کے تحت شائع ہوا تھا جس میں زمانہ میںنئے نئے دلچسپ سلسلے قائم کرنے کی تفصیل کے بعد آخر میں درج ذیل الفاظ ملتے ہیں:
’’ایڈیٹوریل اسٹاف میں علاوہ دیگر قابل حضرات کے مقبول مضمون نگار نواب رائے مستقل طور پر شامل کر لیے گئے ہیں‘‘۔ 9؎
واضح رہے کہ منشی پریم چند ماڈل اسکول الٰہ آباد سے منتقل ہو کر ڈسٹرکٹ اسکول کان پور میں 13مئی 1905 کو پہنچے اور وہاں 29 اپریل 1909 تک رہے۔یہ وہی زمانہ ہے جب وہ نگم صاحب کے عزیز ہوئے اور ما ہنامہ زمانہ کی ادارت سے وابستہ ہوئے۔واضح رہے کہ پریم چند کان پور سے تبادلہ ہو جانے کے بعد بھی زمانہ کے لیے نوٹ اور تنقیدیں لکھتے رہے جس کے متعدد اشارے ان کے خطوط میں موجود ہیں۔پریم چند کی ان تحریروں کی نشاندہی لسانیات کاکوئی ماہر لسانی اصولوں کی بنا پر ہی کر سکتا ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ کوئی ماہرلسانیات اس طرف توجہ دے اور پریم چند کی تخلیقات میں اضافہ کرنے میں کامیاب ہو سکے۔
3۔پریم چند کے فرضی نام:
پریم چند کا اصل نام دھنپت راے تھا اور اپنی لٹریری زندگی کے ابتدائی سالوں میں وہ متواتر نواب راے کے قلمی نام کے تحت لکھتے رہے۔پریم چند کے نام کے تحت ان کی سب سے پہلی کہانی ’’بڑے گھر کی بیٹی‘‘ہے جو زمانہ، دسمبر 1910 کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔مگر یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ پریم چند کا نام اختیار کرنے کے بعد بھی ان کی کچھ تخلیقات نواب رائے اور اصل نام دھنپت رائے کے نام سے بھی شائع ہوئی ہیں۔ادبی دنیا میں عام طور پر مشہور ہے کہ ’’سوز وطن‘‘ کے سانحے کی وجہ سے عائد کی جانے والی پابندیوں نے موصوف کو کچھ فرضی ناموں کے تحت لکھنے پر مجبور کیا،جب کہ حقیقت کچھ مختلف ہے ۔پہلی بات تو یہ کہ ’’سوز وطن‘‘ نہ تو ضبط کیا گیا اور نہ اس کی وجہ سے پریم چند پر کوئی پابندی عائد کی گئی۔ علاوہ ازیں اس سانحے سے قبل بھی فرضی نام کے تحت لکھنے کے شواہد موجود ہیں۔لہٰذا پریم چند کے فرضی ناموں پر مزید تحقیق انجام دی جانی از حد ضروری ہے۔ واضح رہے کہ تاحال د۔ر۔، د۔ر۔ز انبالہ،ن۔ر۔ افسانہ کہن،بمبوق وغیرہم ناموں کے تحت موصوف کی تخلیقات شائع ہونے کے شواہد دستیاب ہیں جن پر راقم الحروف اپنی کتاب ’’سوز وطن: ضبطی کی سچائی‘‘ میں صفحہ 48 تا 74 مفصل و مدلل بحث پیش کر چکا ہے۔مگر کچھ دیگر اشارے بھی ملتے ہیں، مثلاً پریم چند اپنے اگست 1910 کے خط میں منشی دیا نرائن نگم کو لکھتے ہیں:
’’اب کچھ روپیہ پیدا کرنے کی بات چیت۔ اب کی ’ایجوکیشنل گزٹ‘۔۔۔کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ کی طرف سے میں اس کے لیے کبھی کبھی مضامین لکھا کروں۔۔۔۔اگر آپ ا س میں کوئی امر خلافِ شان نہ سمجھیں تو میں کبھی کبھی ایک آدھ مضمون اردو اور ہندی میں لکھ کر آ پ کے پاس بھیج دوں اور آپ اسے اپنی جانب سے انسپیکٹر صاحب نارمل اسکول کے پاس بھیج دیں۔‘‘ 10؎
نگم صاحب نے اس خط کا کیا جواب دیا یہ تومعلوم نہیں ہوتا مگر یہ تحقیق کاایک ضروری موضوع ہے کہ کیا نگم صاحب کے نام سے بھی پریم چند کی کچھ تخلیقات شائع ہوئیں۔ نیز پریم چند جس وقت ہندی رسائل مریادا،مادُھری،ہنس اور جاگرن کی ادارت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس وقت انھوںنے کن کن فرضی ناموں کے تحت کیا کیا لکھا، اس کی نشاندہی کی جانی بھی ضروری ہے۔
4 فرضی پریم چند:
پریم چند کو اردو اور ہندی میں جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ا س کاایک اثر یہ بھی ہوا کہ کم صلاحیت کے متعدد حضرات اس نام کا بے جا فائدہ اٹھانے کے لئے سرگرم ہوگئے۔اس سلسلے میں پروفیسر قمر رئیس نے 1968 میں تحریر کیا تھا:
’’پنجاب کے بعض ناشروں نے ’پریم چند‘،’فطرت نگار پریم چند‘ اور ’منشی پریم چند‘ کے نام سے ایسی کتابیں کثرت سے شائع کی ہیں جن کا دھنپت رائے المعروف بہ پریم چند سے کوئی تعلق نہیں۔ان میں طبع زاد کتابیں کم، بیشتر بنگالی اور غیر ملکی ادیبوں کے ترجمے ہیں۔اگر اس بات کی دو ٹوک وضاحت نہ ہوئی کہ ان کتابوں کا منشی پریم چند (مصنف پریم پچیسی وغیرہ) سے کوئی تعلق نہیں تو مصنفین کے ادبی مؤرخوں اور محققوں کو بڑی دشواریوں کا سامنا ہوگا۔مجھے پریم چند (ثانی) کے نام سے شائع ہونے والی جو کتابیں اب تک دستیاب ہوئی ہیں ان کی فہرست درج ذیل ہے:
’’1۔مسافر،2 ۔کشمش،3 ۔دلہن،4 ۔عشق خاموش،5 ۔زلزلہ،6 ۔کپال کنڈلا، 7۔منورما،8 ۔ٹھوکر، 9۔طوفان،10 ۔خاموش محبت، 11۔لڑکی، 12۔چھٹکارا، 13۔عورت کی محبت، 14۔پربھات، 15۔کوچوان، 16۔طلسم مجاز، 17۔سپیرن، 18۔عشق کا راگ۔‘‘
یہ اٹھارہ کتابیں دہلی کے کتب خانوں میں مجھے دستیاب ہوئیں۔ ہو سکتا ہے ان کے علاوہ بھی ہوں۔ان میں ہر صفحے پر زبان و بیان کی جو کمزوریاں اور خامیاں ہیں وہ پکار پکار کر کہتی ہیں کہ میں کسی ادنیٰ صلاحیت کے پنجابی ادیب کی مخلوق ہوں،گئودان والے پریم چند سے میرا کوئی تعلق نہیں۔یہ داخلی ثبوت اتنا مضبوط ہے کہ پھر خارجی شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔تاہم اس کا اندیشہ بہرحال بنا رہتا ہے کہ چالیس پچاس سال بعد کوئی من چلا محقق ان کتابوں کو بھی دھنپت رائے عرف پریم چند کی تصنیف و تالیف ثابت کر دے‘‘۔ 11؎
مگر یہ دیکھنا افسوسناک ہے کہ ادبی دنیا عام طور پر تحقیق سے مستغنی بنی رہتی ہے۔پروفیسر قمر رئیس کے درج بالا الفاظ کا کسی نے نوٹس نہ لیا اور موصوف کی پیش کردہ فہرست کو مکمل کرنا تو دور، اس کے برعکس 1974 میں ساہتیہ اکادمی کے زیر اہتمام شائع The National Bibliography of Indian Literature میں بھی ایسی کتابوں کے اندراج راہ پا گئے ہیں۔ حتی کہ درج بالا فہرست میں درج ’’کوچوان‘‘کو بھی پریم چند کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔مزے کی بات یہ بھی ہے کہ یہ پریم چند کے نقال محض کتابوں تک ہی محدود نہ رہے بلکہ ان کی رسائی رسائل تک بھی تھی۔ابھی حال ہی میں بنارس ہندو یونی ورسٹی کے شعبۂ فارسی کے صدر پروفیسر سید حسن عباس کی نظر میں کراچی سے شائع سہ ماہی’’ بادبان‘‘ کے اکتوبر 1996سے جون 1997تک کے مشترکہ شمارے میں صفحہ 419سے 425 تک شائع ایک افسانہ بعنوان ’’ قاتل‘‘ آیا جس پر صاف طور پر چھپا ہے کہ یہ افسانہ موپاساں کے فرانسیسی افسانے کا ترجمہ ہے جس کے مترجم منشی پریم چند ہیں۔ موصوف نے از راہِ عنایت اس کی فوٹو مجھے ارسال کر دی،مگر اس کا مطالعہ کرنے سے مجھے ٹھیک ویسا ہی معلوم ہوا جیسا کہ پروفیسر قمر رئیس صاحب نے اپنے مندرجہ بالا اقتباس میں تحریر فرمایا ہے اور میں سمجھ گیا کہ یہ فرضی پریم چند رسائل تک میںپھیلے ہوئے تھے۔ یہاں یہ کہنا بھی موزوں ہوگا کہ رسالہ بادبان میں شائع اس کہانی پر یہ درج نہیں کیا گیا کہ اس کا مآخذ کیا ہے ۔علاوہ ازیں لاہور (پاکستان) کے سنگ میل پبلیکیشنز سے 2002 میں ڈاکٹر سلیم اختر کی ادارت میں ’’مجموعہ منشی پریم چند افسانے‘‘ شائع ہوا تو اس میں شامل 118 افسانوں میں کثیر التعداد افسانے ایسے ہیں جن کا دھنپت رائے عرف پریم چند سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہٰذا یہ تحقیق انجام دی جانی ضروری ہے کہ ایسے فرضی پریم چند کی تحریروں کی مستند طور پر نشاندہی کر نے کے ساتھ ہی ان کی تخلیقات بھی مع حوالہ پیش کر دی جائیں تاکہ مستقبل کا کوئی محقق ان سے گمراہ نہ ہو سکے ۔
5۔پریم چند کے خطوط کی تاریخوں کا تعین:
یہ اہم ہے کہ تاحال پریم چند کی تین سوانح عمریاں شائع ہو کر منظر عام پر آ چکی ہیں- قلم کا سپاہی،قلم کا مزدور اور پریم چند وشو کوش جلد اول- اور تینوں ہی میں پریم چند کے خطوط کا وسیع پیمانے پرحوالہ دیا گیا ہے۔پریم چند کی سوانح لکھنے میں ان کے خطوط کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے امرت رائے رقمطراز ہیں:
’’ایک کوش(خزانہ) پتروں(خطوط) کا ہوتا ہے، وہ بھی بہت کچھ نَشٹ(ضائع) ہو گیا کیونکہ پتروں کو سنبھال کر رکھنے کی عادت نہ ادھر منشی جی کو تھی نہ ادھر دوسروں کو، تو بھی جو کچھ چٹھیاں بھاگیہ وش(خوش قسمتی سے) بچی رہ گئیں، جن میں سب سے بڑا خزانہ’’ زمانہ‘‘ کے سمپادک(مدیر) منشی دیا نرائن نگم کو لکھی چٹھیوں کا ہے۔۔۔۔۔۔ ان کامیں نے پورا پورا استعمال کیا ہے۔‘‘ 12؎
امرت رائے مزید اطلاع فراہم کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:
’’جیونی(سوانح) لکھنے میں ان چٹھیوں سے میں نے کتنی مدد لی ہے یہ میرے کہنے کی چیز نہیں ہے، پڑھنے والے خود دیکھیں گے۔میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ اس خزانے کے بغیر اب میں جیونی کی کلپنا(تصور) بھی نہیں کر سکتا۔لکھی وہ شائد تب بھی جاتی لیکن لنگڑی ہوتی،بے جان ہوتی۔‘‘ 13؎
مگر پریم چند کے خطوط کے متعلق ایک دلچسپ حقیقت کا انکشاف کرتے ہوئے امرت رائے رقم کرتے ہیں:
’’اکثر چٹھیوں پر پوری پوری تاریخ نہ ڈالنے کی منشی جی کی عادت ہمارے لیے کافی الجھن کا کارن(سبب) بنی- مہینہ ہے تو تاریخ نہیں،تاریخ ہے تو مہینہ نہیں،مہینہ اور تاریخ ہیں تو سنہ نہیںاور ان چٹھیوں کا تو خیر ذکر ہی فضول ہے جن میں یہ تینوں ہی غائب ہیں۔کارڈوں میں تو یہ مشکل ڈاک کی مہر سے اسان ہو گئی۔کوشش کرنے پر لگ بھگ(تقریباً) سبھی ڈاک کی مہریں پڑھنے میں آ گئیں اور جہاں سے چٹھی چلی وہاں کی ڈاک مہر کو میں نے چٹھی کی تاریخ مان لیا،لیکن لفافہ کی چٹھیوں میں یہ سہارا بھی نہ رہا.۔۔۔۔میں نے بڑی بڑی مشکلوں سے چٹھی میں کہی گئی باتوں کا آگا پیچھا، تال میل ملا کر انومان(اندازہ) سے ان کی تتھی(تاریخ) کا سنکیت(اشارہ) دینے کا نشچیہ(فیصلہ) کیا۔ اس میں میں نے اپنی اور سے پوری ساودھانی(احتیاط) برتنے کی کوشش کی ہے لیکن اس میں غلطی کی سمبھاونا(امکان) برابر رہتی ہے۔‘‘ 14؎
از حد افسوس کا مقام ہے کہ 1962 میں تحریر کیے ہوئے امرت راے کے مندرجہ بالا الفاظ کا نوٹس لینے کی تکلیف کسی نے گوارا نہ کی جب کہ بقول امرت راے چٹھی پتری میں شائع خطوط کی تاریخیں اندازاً ہی درج کی گئی ہیں۔ معلوم ہو کہ میں نے منشی دیا نرائن نگم کے نام تحریر کردہ 50 خطوط کی تاریخیں محض داخلی شواہد کی بنا پر متعین کر کے 2017 میں’’ پریم چند کے پتر‘‘ عنوان کے تحت رامپور رضا لائبریری،رامپور سے شائع کرائی تھی۔مگر پریم چند کے تمام خطوط کی تاریخیں داخلی اور خارجی شواہد کی بنا پر متعین کرنے کے واسطے تحقیق انجام دی جانی از حد ضروری ہے۔
6۔تخلیقات کے ہندی-اردو روپوں میں پریم چند اور مترجم کی علاحدہ نشاندہی:
جب کوئی مصنف خود اپنی کسی تحریر کو دوسری زبان میں منتقل کرتا ہے تو وہ اس زبان میں اپنی چیز کو کسی حد تک دوبارہ تخلیق کرتا ہے۔ظاہر ہے کہ وہ کہیں اضافہ کرتا ہے،کہیں حذف کرتا ہے،کہیں واقعات میں تبدیلی کر دیتا ہے۔ مگر اس کے برعکس مترجم کو اصل تحریر کی حدود سے باہر نکلنے کی آزادی حاصل نہیں ہوتی۔پریم چند کی بیشتر کہانیاں اور ناول ہندی اردو دونوں ہی زبانوں میں شائع ہوئے ہیں۔موصوف کے ناول گئودان اور منگل سوتر کے اردو ترجمے تو پریم چند کے انتقال کے بعد ہی ہوئے،یہ تو ادبی دنیا پر واضح ہے مگر ان کے علاوہ ان کے افسانوں اور باقی ناولوں کی نسبت یہ تحقیق کی جانی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ کون سا کام پریم چند نے خود کیا اورکون سا کسی مترجم سے کرایا۔یہاں یہ امر بھی ملحوظ رکھا جانا ضروری ہے کہ بعض اوقات رسائل خود بخود ہی پریم چند کی کہانی کو منتقل کرا کر شائع کر لیتے تھے، چاہے ترجمہ معیاری ہو یا نہ ہو۔لہٰذا ایسی حالت میں بہت زیادہ محطاط ہو کر تحقیق کرنا واجب ہوگا۔
7۔پریم چند کی بیوی شورانی دیوی کے نام سے شائع افسانے:
ادبی دنیا بخوبی واقف ہے کہ ایک افسانہ ’’قاتل‘‘ پریم چند اور ان کی بیوی شورانی دیوی دونوں کے ہی نام سے شائع ہوا ہے۔ ادھر پریم چند کے بھتیجے کرشن کمار رائے صاحب نے ایک ملاقات میں مجھے بتایا تھا کہ شورانی دیوی کچھ پڑھی لکھی نہ تھیں اور دستخط بھی بمشکل تمام کر پاتی تھیں۔لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان کے افسانے اردو اور ہندی دونوں ہی زبانوں میں شائع ہوا کرتے تھے۔ایسی حالت میں اس نسبت شدید تحقیق انجام دی جانی ضروری ہے کہ آیا شورانی دیوی کے نام سے شائع افسانے کیا پریم چند کی طبع آزمائی کا نتیجہ ہیں یا نہیں۔
8 ۔ادبی سرقہ اور پریم چند:
ادبی دنیا میں سرقہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے اور پریم چند بارہا سرقے کے شکار ہوئے اور اس سے اکثر ناراض بھی ہوتے تھے۔ مگر اس کے برعکس خود پریم چند سرقہ کو قطعی برا بھی نہیں سمجھتے تھے۔واضح رہے کہ پریم چند منشی دیا نرائن نگم کو تحریر کئے گئے 16 دسمبر 1915 کے خط میں رقمطراز ہیں-
’’ ناگری پرچارنی میں ظرافت پر ایک بہت عالمانہ مضمون چھپا ہے،ترجمہ ہے۔کہیے تو زمانہ کے لیے کچھ نئے عنوان سے اسی پر لکھ دوں۔سرقہ باالجبر ہو یا بہ اجازت‘‘۔ 15؎
صاف ظاہر ہے کہ سرقہ چاہے باالجبر ہی کیوں نہ کیا جائے، پریم چند کے نزدیک کچھ غلط نہ تھا،اور اپنے اسی خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پریم چند نے اپنی کتاب ’’با کمالوں کے درشن‘‘ کے دوسرے ایڈیشن میں تین سوانح بعنوان1۔ اکبر اعظم، 2۔وحید الدین سلیم اور 3 ۔عبدالحلیم شررجو کہ زمانہ میں پیشتر تین دیگر مصنفین کے ناموں کے تحت شائع ہو چکی تھیں،اپنے نام سے منسوب کر کے شائع کرنے میں دریغ نہ کیااور مزید دلچسپی کی بات یہ کہ راقم الحروف پہلی بار یہ تحقیق کر کے اسے منظر عام پر لانے میں کامیاب ہوا مگر بعد ازاں کسی محقق نے ان تینوں تحریروں کو پریم چند ادبیات کے دائرہ سے باہر نکالنے کی مطلق کوشش نہ کی۔علاوہ ازیں کلیات پریم چند میں بھی متعدد تحریریں دیگر مصنفین کی راہ پا گئی ہیں اور میرے نشاندہی کرنے کے باوجود کوئی کوشش تصحیح کی انجام نہ دی جا سکی۔ لہٰذا مزید تحقیق انجام دے کر ان تمام تخلیقات کو جو پریم چند کے زور قلم کا نتیجہ نہیں ہیں،پریم چند ادبیات سے نکال باہر کر کے پریم چند کی مستند تخلیقات کو پاک صاف بنائے رکھنے کی جانب پیش قدمی کرنا ضروری ہے۔
9۔پریم چند کی نادر و نایاب تخلیقات کی تلاش و جستجو:
حالانکہ پریم چند کی نایاب تخلیقات کی تلاش کا سلسلہ موصوف کی رحلت کے فوراً بعد شروع ہو گیا تھا اور اس دشوار گزار میدان میں امرت رائے،ڈاکٹر کمل کشور گوئنکا،گوپال کرشن مانک ٹالا وغیرہ کی کاوشیں ادبی دنیا پر نمایاں ہیں اور ان حضرات کے کثیر التعداد کام کے باوجودمیں بھی کافی تعداد میں ایسی تخلیقات کی تلاش میں کامیاب رہا۔مگر یہ دیکھنا بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ وقتاً فوقتاً پریم چند کی کوئی نہ کوئی نایاب تخلیق منظر عام پر آتی رہتی ہے۔اس کے صاف معنی ہیں کہ تاحال پریم چند کی تمام تخلیقات تلاش نہیں کی جاسکیں۔لہٰذااس طرف بھی عمیق نظر سے تحقیق انجام دی جانی ضروری ہے تاکہ پریم چند کی جملہ تخلیقات ادبی دنیا کے سامنے آسکیں۔ اور اس تحقیق کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ضروری ہوگا کہ اولاً 1900 سے 1937 تک کے زمانے میں نکلنے والے ہندی اور اردو کے تمام چھوٹے بڑے رسائل و جرائد کی مکمل فہرست تیار کی جائے ،بعد ازاں ان تمام رسائل و جرائد کے تمام شماروں کی دستیابی کی اطلاعات جمع کر ان کی ورق گردانی کر کے پریم چند کی تمام تر تخلیقات کو مستند تحقیق کے ذریعہ یکجا کیا جائے۔یہاں یہ کہنا بھی غالباً غیر موزوں نہ ہوگا کہ اس قسم کے تحقیقی کام میں اشاریہ بہت مفید ثابت ہوتے ہیں۔اردو میں زمانہ اور مخزن جیسے بڑے رسائل کے اشاریے تو تاحال شائع ہو چکے ہیں لیکن مرقع اور کلیم جیسے چھوٹے رسائل کے اشاریے تیار کرنے کی جانب جناب جاوید اختر علی آبادی نے توجہ کی ہے اور موصوف سرگرمی کے ساتھ اس کام میں مصروف ہیں،مگر بدقسمتی سے ہندی کی ادبی دنیا اشاریہ سازی کے کام سے تاحال نا بلد ہے اور اسے ہندی دنیا کی بے توجہی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
10۔پریم چند کی تخلیقات کا زمانۂ اشاعت متعین کرنا:
پریم چند کی تخلیقات کا زمانۂ اشاعت کس اہمیت کا حامل ہے وہ ہندی کے مشہور و معروف مصنف اور پریم چند کے دوست جنیندر کمار کے درج ذیل الفاظ دے صاف طور پر واضح ہو جاتا ہے:
’’ان کی رچناؤں(تخلیقات) کو نرمانکال (زمانۂ تخلیق) کے انوکرم(حساب) سے دیکھنے پر اسپشٹتیہ(صاف طور پر) پتہ چلتا ہے کہ وہ آگے بڑھتے ہوے سمے(وقت) کا ساتھ دینے میں اپنے کو لانگھنے سے بھی نہیں چوکے ، کہیں وہ راہ میں ٹھہر نہیں گئے ،ساتھ دیتے ہی گئے ۔جو ان کی پہلی کہانیاں اور پہلے اپنیاس(ناول) ہیں وہ پچھلی کہانیاں اور پچھلے اپنیاس نہیں ہیں- اس کا کارن(سبب) یہی ہے کہ وہ پرگتی(ترقی) سے پچھڑنے کو تیار نہ تھے۔‘‘ 16؎
صاف ظاہر ہے کہ پریم چند کے ذہن کو کلی طور پر جاننے کے لیے اور ان کے ذہن کے ارتقا کی اصل وضاحت کرنے کے لیے موصوف کی تمام تخلیقات کا زمانۂ اشاعت متعین کرنا ضروری ہے۔ظاہر ہے یہ کام دیانتدارانہ تحقیق کے ذریعہ ہی ممکن ہے۔
11۔پریم چند ادبیات کا مستند اشاریہ:
اردو اور ہندی دونوں زبانوں کے ادیبوں کا خیال ہے کہ پریم چند نے اردو سے ہندی کی طرف ہجرت کی مگر تعجب کی بات ہے کہ کسی نے بھی یہ دیکھنے کی مطلق کوشش نہ کی کہ پریم چند متواتر دونوں زبانوں میں لکھتے رہے ،حتیٰ کہ موصوف کا آخری مضمون ہندی میں نہ ہو کر اردو ہی میں شائع ہوا ہے۔ علاوہ ازیں جہاں ایک جانب پریم چند کی تخلیق نہ ہونے پر بھی متعدد تحریریں ان کے نام پر درج کر دی گئی ہیں وہیں متعدد فرضی پریم چندوں کی تحریریں بھی پریم چند سے منسوب کر دی جاتی ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ مستند تحقیق انجام دے کر پریم چند کی مستند تخلیقات کا اشاریہ ترتیب دیا جائے۔
حواشی:
1 قلم کا سپاہی- امرت رائے،ایڈیشن، 1976الہ آباد،صفحہ 615
2 چٹھی پتری،جلد 1، صفحہ 161-162
3 جیون سار،ہنس،آتمکتھا انک،جنوری فروری 1932،صفحہ 164
4 چٹھی پتری،جلد 2،صفحہ 236
5 چٹھی پتری، جلد 2،صفحہ 234
6 قلم کا مزدور پریم چند،ہندی،1965،صفحہ 42
7 کلیات پریم چند،جلد 9،صفحہ 1
8 زمانہ پریم چند نمبر،1937،زمانہ اور پریم چند-منشی دیا نرائن نگم،صفحہ 117
9 توقیت پریم چند-گوپال کرشن مانک ٹالا،دہلی،2002،صفحہ 42
10 پریم چند کا اپراپیہ ساہتیہ- ڈاکٹر کمل کشور گوئنکا،جلد 2، اول ایڈیشن 1988، صفحہ 32
11 تلاش و توازن- قمر رئیس،اول ایڈیشن 1968،صفحہ 103-104
12 قلم کا سپاہی-امرت رائے، ایڈیشن 1976،صفحہ 12
13 چٹھی پتری جلد 1 – امرت رائے ،اول ایڈیشن 1962صفحہ 4-5 مقدمہ
14 چٹھی پتری جلد 1- امرت رائے، صفحہ 5-6 ،مقدمہ
15 چٹھی پتری جلد 1- امرت رائے صفحہ 51)
16 ہنس:پریم چند اسمرتی انک: پریم چند: میں نے کیا جانا اور پایا- جنین در کمار، اول ایڈیشن 2023, صفحہ 47
17 قلم کا سپاہی-امرت رائے،صفحہ 33
Dr. Pardeep Jain
46-B, Nai Mandi
Muzaffarnagar-251001
Mob: 9410063793
pradeepjain1880@gmail.com